Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 88

سورة النساء

فَمَا لَکُمۡ فِی الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِئَتَیۡنِ وَ اللّٰہُ اَرۡکَسَہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا ؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَہۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰہُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ سَبِیۡلًا ﴿۸۸﴾

What is [the matter] with you [that you are] two groups concerning the hypocrites, while Allah has made them fall back [into error and disbelief] for what they earned. Do you wish to guide those whom Allah has sent astray? And he whom Allah sends astray - never will you find for him a way [of guidance].

تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو؟ انہیں تو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے اوندھا کر دیا ہے ۔ اب کیا تم یہ منصوبے بنا رہے ہو کہ اللہ تعالٰی کے گمراہ کئے ہوؤں کو تم راہ راست پر لا کھڑا کرو جسے اللہ تعالٰی راہ بھُلا دے تُو ہرگز اس کے لئے کوئی راہ نہ پائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Censuring the Companions for Disagreeing over the Hypocrites who Returned to Al-Madinah Before Uhud Allah says; فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِيَتَيْنِ ... Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites! Allah criticizes the believers for disagreeing over the hypocrites. There are conflicting opinions over the reason behind revealing this Ayah. Imam Ahmad recorded that Zayd bin Thabit said that; Messenger of Allah marched towards Uhud. However, some people who accompanied him went back to Al-Madinah, and the Companions of the Messenger of Allah divided into two groups concerning them, one saying they should be killed and the other objecting. Allah sent down, فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِيَتَيْنِ (Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites). The Messenger of Allah said, إِنَّهَا طَيْبَةُ وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيد She (Al-Madinah) is Taybah, and she expels filth, just as the billow expels rust from iron. The Two Sahihs also recorded this Hadith. Al-Awfi reported that Ibn Abbas said that; the Ayah was revealed about some people in Makkah who said they embraced Islam, yet they gave their support to the idolators. One time, theses people went out of Makkah to fulfill some needs and said to each other, "If we meet the Companions of Muhammad, there will be no harm for us from their side." When the believers got news that these people went out of Makkah, some of them said, "Let us march to these cowards and kill them, because they support your enemy against you." However, another group from the believers said, "Glory be to Allah! Do you kill a people who say as you have said, just because they did not perform Hijrah or leave their land. Is it allowed to shed their blood and confiscate their money in this case?" So they divided to two groups, while the Messenger was with them, and did not prohibit either group from reiterating their argument. Thereafter, Allah revealed, فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِيَتَيْنِ (Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites). Ibn Abi Hatim recorded this Hadith. Allah said, ... وَاللّهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُواْ ... Allah has cast them back because of what they have earned. meaning, He made them revert to, and fall into error. Ibn Abbas said that, أَرْكَسَهُم (Arkasahum), means, `cast them' . Allah's statement, بِمَا كَسَبُواْ (because of what they have earned), means, because of their defiance and disobedience to the Messenger and following falsehood. ... أَتُرِيدُونَ أَن تَهْدُواْ مَنْ أَضَلَّ اللّهُ وَمَن يُضْلِلِ اللّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلً Do you want to guide him whom Allah has made to go astray! And he whom Allah has made to go astray, you will never find for him a way. meaning, there will be no path for him, or way to guidance. Allah's statement,

منافقوں سے ہوشیار رہو اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب میدان احد میں تشریف لے گئے تب آپ کے ساتھ منافق بھی تھے جو جنگ سے پہلے ہی لوٹ آئے تھے ان کے بارے میں بعض مسلمان تو کہتے تھے کہ انہیں قتل کر دینا چاہیے اور بعض کہتے تھے نہیں یہ بھی ایماندار ہیں ، اس پر یہ آیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ شہر طیبہ ہے جو خود بخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے ۔ ( بخاری و مسلم ) ابن اسحاق میں ہے کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا ، عبداللہ بن ابی سلول تین سو آدمیوں کو اپنے ہمراہ لے کر واپس لوٹ آیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پھر سات سو ہی رہ گئے تھے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مکہ سے نکلے ، انہیں یقین تھا کہ اصحاب رسول سے ان کی کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی کیونکہ بظاہر کلمہ کے قائل تھے ادھر جب مدنی مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو ان میں سے بعض کہنے لگے ان نامرادوں سے پہلے جہاد کرو یہ ہمارے دشمنوں کے طرف دار ہیں اور بعض نے کہا سبحان اللہ جو لوگ تم جیسا کلمہ پڑھتے ہیں تم ان سے لڑو گے؟ صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے گھر نہیں چھوڑے ، ہم کس طرح ان کے خون اور ان کے مال اپنے اوپر حلال کر سکتے ہیں؟ ان کا یہ اختلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوا آپ خاموش تھے جو یہ آیت نازل ہوئی ( ابن ابی حاتم ) حضرت سعید بن معاذ کے لڑکے فرماتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جب تہمت لگائی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کوئی ہے جو مجھے عبداللہ بن ابی کی ایذاء سے بچائے اس پر اوس و خزرج کے درمیان جو اختلاف ہوا اس کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے ، ان کی ہدایت کی کوئی راہ نہیں ۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ سچے مسلمان بھی ان جیسے گمراہ ہو جائیں ان کے دلوں میں اس قدر عداوت ہے ، تو تمہیں ممانعت کی جاتی ہے کہ جب تک یہ ہجرت نہ کریں انہیں اپنا نہ سمجھو ، یہ خیال نہ کرو کہ یہ تمہارے دوست اور مددگار ہیں ، بلکہ یہ خود اس لائق ہیں کہ ان سے باقاعدہ جہاد کیا جائے ۔ پھر ان میں سے ان حضرات کا استثنا کیا جاتا ہے جو کسی ایسی قوم کی پناہ میں چلے جائیں جس سے مسلمانوں کا عہد و پیمان صلح و سلوک ہو تو ان کا حکم بھی وہی ہو گا جو معاہدہ والی قوم کا ہے ، سراقہ بن مالک مدلجی فرماتے ہیں جب جنگ بدر اور جنگ احد میں مسلمان غالب آئے اور آس پاس کے لوگوں میں اسلام کی بخوبی اشاعت ہو گئی تو مجھے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ ہے کہ خالد بن ولید کو ایک لشکر دے کر میری قوم بنو مدلج کی گوشمالی کے لئے روانہ فرمائیں تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میں آپ کو احسان یاد دلاتا ہوں لوگوں نے مجھ سے کہا خاموش رہ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے کہنے دو ، کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ میری قوم کی طرف لشکر بھیجنے والے ہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ ان سے صلح کرلیں اس بات پر کہ اگر قریش اسلام لائیں تو یہ بھی مسلمان ہو جائیں گے اور اگر وہ اسلام نہ لائیں تو ان پر بھی آپ چڑھائی نہ کریں ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے کہنے کے مطابق ان کی قوم سے صلح کر آؤ پس اس بات پر صلح ہو گئی کہ وہ دشمنان دین کی کسی قسم کی مدد نہ کریں اور اگر قریش اسلام لائیں تو یہ بھی مسلمان ہو جائیں پس اللہ نے یہ آیت اتاری کہ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جیسے وہ کفر کرتے ہیں پھر تم اور وہ برابر ہو جائیں پس ان میں سے کسی کو دوست نہ جانو ، یہی روایت ابن مردویہ میں ہے کہ تم بھی کفر کرو جیسے وہ کفر کرتے ہیں پھر تم وہ برابر ہو جاؤ پس ان میں سے کسی کو دوست نہ جانو ، یہی روایت ابن مردویہ میں ہے اور ان میں ہی آیت ( اِلَّا الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَھُمْ مِّيْثَاقٌ اَوْ جَاۗءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُھُمْ اَنْ يُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ يُقَاتِلُوْا قَوْمَھُمْ ) 4 ۔ النسآء:90 ) نازل ہوئی پس جو بھی ان سے مل جاتا وہ انہی کی طرح پر امن رہتا کلام کے الفاظ سے زیادہ مناسبت اسی کو ہے ، صحیح بخاری شریف میں صلح حدیبیہ کے قصے میں ہے کہ پھر جو چاہتا ہے کہ کفار کی جماعت میں داخل ہو جاتا ہے اور امن پالیتا ہے جو چاہتا ہے مدنی مسلمانوں سے ملتا اور عہد نامہ کی وجہ سے مامون ہو جاتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ اس حکم کو پھر اس آیت نے منسوخ کر دیا کہ ( فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ) 9 ۔ التوبہ:5 ) یعنی جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین سے جہاد کرو جہاں کہیں انہیں پاؤ ۔ ایک دوسری جماعت کا ذکر ہو رہا ہے جسے مستثنیٰ کیا ہے جو میدان میں لائے جاتے ہیں لیکن یہ بیچارے بےبس ہوتے ہیں وہ نہ تو تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ تمہارے ساتھ مل کر اپنی قوم سے لڑنا پسند کرتے ہیں بلکہ وہ ایسے بیچ کے لوگ ہیں جو نہ تمہارے دشمن کہے جاسکتے ہیں نہ دوست ۔ یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ان لوگوں کو تم پر مسلط نہیں کیا اگر وہ جاہتا تو انہیں زور و طاقت دیتا اور ان کے دل میں ڈال دیتا کہ وہ تم سے لڑیں پس اگر یہ تمہاری لڑائی سے باز رہیں اور صلح و صفائی سے یکسو ہو جائیں تو تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت نہیں ، اسی قسم کے لوگ تھے جو بدر والے دن بنو ہاشم کے قبیلے میں سے مشرکین کے ساتھ آئے تھے جو دل سے اسے ناپسند رکھتے تھے جیسے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کو منع فرما دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ انہیں زندہ گرفتار کر لیا جائے ۔ پھر ایک اور گروہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو بظاہر تو اوپر والوں جیسا ہے لیکن دراصل نیت میں بہت کھوٹ ہے یہ لوگ منافق ہیں حضور کے پاس آکر اسلام ظاہر کر کے اپنے جان و مال مسلمانوں سے محفوظ کرا لیتے ہیں ادھر کفار میں مل کر ان کے معبودان باطل کی پرستش کر کے ان میں سے ہونا ظاہر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں تاکہ ان کے ہاتھوں سے بھی امن میں رہیں ، دراصل یہ لوگ کافر ہیں ، جیسے اور جگہ ہے اپنے شیاطین کے پاس تنہائی میں جا کر کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں یہاں بھی فرماتا ہے کہ جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو جی کھول کر پوری سرگرمی سے اس میں حصہ لیتے ہیں جیسے کوئی اوندھے منہ گرا ہوا ہو ۔ فتنہ سے مراد یہاں شرک ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بھی مکہ والے تھے یہاں آ کر بطور ریا کاری کے اسلام قبول کرتے تھے وہاں جا کر ان کے بت پوجتے تھے تو مسلمانوں کو فرمایا جاتا ہے کہ اگر یہ اپنی دوغلی روش سے باز نہ آئیں ایذاء رسانی سے ہاتھ نہ روکیں صلح نہ کریں تو انہیں امن امان نہ دو ان سے بھی جہاد کرو ، انہیں بھی قیدی بناؤ اور جہاں پاؤ قتل کردو ، بیشک ان پر ہم نے تمہیں ظاہر غلبہ اور کھلی حجت عطا فرمائی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

88۔ 1 یہ استفہام انکار کے لئے ہے یعنی تمہارے درمیان ان منافقین کے بارے میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان منافقین سے مراد وہ ہیں جو احد کی جنگ میں مدینہ سے کچھ دور جا کر واپس آگئے تھے، ہماری بات نہیں مانی گئی (صحیح بخاری سورة ، نساء صحیح مسلم، کتاب المنافقین) جیسا کہ تفصیل میں پہلے گزر چکی ہے۔ ان منافقین کے بارے میں اس وقت مسلمانوں کے دو گروہ بن گئے، ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ہمیں ان منافقین سے (بھی) لڑنا چاہئے، دوسرا گروہ اسے مصلحت کے خلاف سمجھتا تھا۔ 88۔ 2 کَسَبُوا (اعمال) سے مراد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت اور جہاد سے اعراض ہے۔ ارکَسھُمْ ۔ اوندھا کردیا یعنی جس کفر و ضلالت سے نکلے تھے، اسی میں مبتلا کردیا، یا اس کے سبب ہلاک کردیا۔ 88۔ 3 جس کو اللہ گمراہ کر دے یعنی مسلسل کفر وعناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دے، انہیں کوئی راہ یاب نہیں کرسکتا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢١] منافقوں کے بارے میں دو گروہ :۔ اس آیت کا شان نزول درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے : && زید بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ : جب نبی اکرم احد کی طرف نکلے تو کچھ لوگ (منافقین) آپ کو چھوڑ کر مدینہ واپس آگئے۔ ان واپس ہونے والوں کے بارے میں صحابہ کے دو گروہ ہوگئے۔ ایک کہتا تھا کہ ہم ان سے (بھی) لڑائی کریں گے اور دوسرا کہتا تھا کہ ہم ان سے لڑائی نہ کریں گے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ && (بخاری، کتاب التفسیر، نیز کتاب المغازی، باب غزوہ احد۔۔ مسلم، کتاب صفۃ المنافقین) [١٢٢] یعنی ان منافقوں نے واپس جا کر اپنی منافقت کا ثبوت مہیا کردیا ہے۔ اب اگر تم یہ چاہو کہ ہمیں ان سے لڑائی نہ کرنی چاہیے شاید کہ وہ راہ راست پر آجائیں تو یہ بات تمہارے بس میں نہیں۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے منافقین واجب القتل ہیں کیونکہ حقیقتاً ان کے ارادے یہ ہیں کہ تمہیں بھی اپنے جیسا بنا کے چھوڑیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یعنی تم ان منافقین کے بارے میں دو گروہ کیوں ہوگئے، تمہیں تو ان کے متعلق ایک رائے پر متفق ہونا چاہیے۔ زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوۂ احد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ کر راستے ہی سے واپس ہوگئے، ان کے بارے میں مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے، ایک گروہ کہنے لگا، آپ انھیں قتل کریں اور دوسرا گروہ اس کے خلاف تھا، تو یہ آیت اتری : ( فمالکم فی المنافقین فئتین ) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ طیبہ ہے، یہ گند کو اس طرح دور کردیتا ہے جیسے آگ چاندی کے گند کو۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب : ( فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنٰفِقِيْنَ ۔۔ ) : ٤٥٨٩ ] شوکانی (رض) نے فرمایا، یہ حدیث اس آیت کے اسباب نزول میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The verses quoted above describe three groups of people about whom two injunctions have been given. The following narrations clarify events surrounding these groups: 1. ` Abdullah ibn Hamid has narrated from Mujahid that some disbelievers of Makkah came to Madinah. They pretended to have become Muslims and claimed to have come there as emigrants. Later, they turned into apostates. They went to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، told him about their plan to go to Makkah to buy merchandise from there. Having made their false excuse, they departed for Makkah and never returned. There arose a difference of opinion about their behaviour among the Muslims of Madinah. Some said that they were believers. It was in verse-88 فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْ (So what is the matter with you that you have become two groups about the hypocrites) where Allah Almighty declared that they were disbelievers and should be killed. Maulana Ashraf ` Ali Thanavi (رح) has explained the Qur&anic word, &munafiq& (hypocrite) by saying that they were hypocrites when they claimed to have become Muslims - they had never believed in their hearts. The fact was that hypocrites were not killed because they concealed their inner disbelief. But, the case of these people was different as their apostasy had come out in the open. As for those who took them to be Muslims, they may have, perhaps, taken a benign view of their action under some interpretation. However, this interpre¬tation was based on sheer opinion not supported by any proof from the Shari’ ah. That is why no reliance was placed on it. 2. Ibn Abi Shaybah has narrated from Hasan that Suraqah ibn Malik al-Mudlaji visited the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) after the events of Badr and Uhud and requested him to make peace with his tribe, Bani Mudlaj. Thereupon, he sent Sayyidni Khalid (رض) to them to conclude a peace treaty. The terms of the treaty were as follows: |"We will not support anyone against the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . If the Quraysh become Muslims, We too shall become Muslims. All tribes who enter into alliance with us, they too shall become a party with us in this treaty.|" Thereupon, this verse: وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُ‌ونَ (اِلٰی قَولہ) إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ -- (They wish that you disbelieve like they have disbelieved) was revealed. 3. It has been narrated from Sayyidna ibn ` Abbas (رض) that the people mentioned in the verse: سَتَجِدُونَ آخَرِ‌ينَ (You will find others who want to be secure from you) are those belonging to the tribes of Asad and Ghitfan who, when they came to Madinah, professed Islam outwardly, but to their own people they would confide that they had really believed in monkeys and scorpions while before Muslims they would piously declare that they were followers of their faith. However, Dahhak ascribes this conduct to the tribe of ` Abd al-Dar according to a report from Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) . The first and the second narration appears in Ruh al-Ma&ani, while the third narration can be seen in Ma’ alim. Maulana Ashraf Thanavi (رح) likens the state of those mentioned in the third narration as that of the first one since it proves that they were no Muslims to begin with, therefore, they fall under the injunc¬tion governing disbelievers in general, that is, &do not fight them in the presence of a peace treaty - otherwise, do.& Thus, regarding those mentioned in the first narration, the second verse (89): فَإِن تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ (then if they turn away, sieze them and kill them) carries the injunction that they be arrested and killed, while the statement in the third verse (90): إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ (except those who join a group with whom you have a treaty) gives them a clear exemption in the event of peace, a situation which finds mention in the second narration. This exemption has been emphasised once again in فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ (if they stay away from you) later in the same verse (90). Regarding those mentioned in the third narration, it has been said in the fourth verse (91): سَتَجِدُونَ آخَرِ‌ينَ (you will find others ....) which means that should these people refuse to leave you alone and insist on fighting, then do fight against them. From this, it can be deduced that in the event they make peace, there should be no fighting against them. (Bayan al-Qur&an) In short, the three groups mentioned here are: 1. Those who do not emigrate despite their ability to do so in a period of time when emigration was a pre-requisite of faith in Islam. Or, after having emigrated, they go out of the new abode of Islam (Dar al-Islam) and return to the abode of disbelief (Dar al-Kufr). 2. Those who themselves enter a no-war pact with Muslims or those who join hands with those entering into such a pact. 3. Those who make peace to buy time and once there comes an occasion to fight a war against Muslims, they would readily join the enemy camp throwing all treaty obligations to winds. The injunction governing the first group is similar to that which governs the disbelievers in general. The second groups is exempted from being arrested and killed. The third group deserves the same punishment as fixed for the first. These verses yield a total of two injunctions, that is, fighting in the absence of peace; and not fighting in the event of peace.

خلاصہ تفسیر تین مختلف گروہوں کا بیان اور ان کے احکام پہلے فرقہ کا بیان :۔ (جب تم ان مرتدین کی حالت دیکھ چکے) پھر تم کو کیا ہوا کہ ان منافقین کے باب میں تم (اختلاف رائے کر کے) دو گروہو ہوگئے (کہ ایک گروہ ان کو اب بھی مسلمان کہتا ہے) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو (ان کے علانیہ کفر کی طرف) الٹا پھیر دیا ان کے (بد) عمل کے سبب (وہ بدعمل اور تداداً دارالسلام کو باوجود قدرت کے چھوڑ دینا ہے، جو کہ اس وقت نہ ہوئے تھے اور اسی وجہ سے ان کو منافق کہا) کیا تم لوگ (اے وہ گروہ جن کو اس ترک دارالاسلام کا علامت کفر ہونا معلم نہیں) اس کا ارادہ رکھتے ہو کہ ایسے لوگوں کو ہدایت کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے (جبکہ ان لوگوں نے گمراہی اختیار کی) گمراہی میں ڈال رکھا ہے (جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ عزم فعل کے وقت اس فعل کو پیدا کردیتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ غیر مومن میں گمراہ کو جو ہدایت یافتہ مومن کہتے ہو یہ تمہارے لئے جائز نہیں) اور جس کو ان لوگوں کو مومن نہ کہنا چاہئے اور بھلا وہ خود کیا مومن ہوں گے ان کے غلوفی الکفر کی تو یہ حالت ہے کہ) وہ اس تمنا میں ہیں کہ جیسے وہ کافر ہیں تم بھی (خدا نہ کرے) کافر بن جاؤ، جس میں تم اور وہ سب ایک طرح ہوجاؤ سو (ان کی جب یہ حالت ہے تو) ان میں سے کسی کو دوست مت بنانا (یعنی کسی کے ساتھ مسلمانوں کیساتھ ایسا برتاؤ مت کرنا، کیونکہ دوستی کے جواز کے لئے اسلام شرط ہے) جب تک وہ اللہ کی راہ میں (یعنی تکمیل اسلام کے لیے) ہجرت نہ کریں (کیونکہ اس وقت ہجرت کا وہ حکم تھا جو اب اقرار بالشہادتین کا ہے اور تکمیل اسلام کی قید اسلئے ہے کہ خالی دارالسلام میں آنا کافی نہیں، یوں تو کفار اہل تجارت بھی آجاتے ہیں، بلکہ اسلامی حیثیت سے آویں، یعنی اسلام بھی ظاہر کریں، تاکہ جامع اقرار و ہجرت کے ہوجاویں اور رہی قلبی تصدیق تو اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوسکتا ہے مسلمانوں کو اس کی تفتیش ضروری نہیں) اور اگر وہ (اسلام سے) اعراض کریں (اور کافر ہی رہیں) تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جس جگہ ان کو پاؤ (یہ پکڑنا یا تو قتل کے لئے ہے یا غلام بنانے کے لئے) اور نہ ان میں کسی کو دوست بناؤ اور نہ مددگار بناؤ (مطلب یہ کہ کسی حالت میں ان سے کوئی تعلق نہ رکھو، نہ امن میں دوستی نہ خوف میں استعانت بلکہ الگ تھلگ رہو۔ ) دوسرے فرقہ کا بیان :۔ مگر (ان کفار میں) جو لوگ ایسے ہیں جو کہ (تمہارے ساتھ مصالحت سے رہنا چاہتے ہیں، جس کے دو طریقے ہیں ایک تو یہ کہ بواسطہ صلح ہو یعنی) ایسے لوگوں سے جاملتے ہیں (یعنی ہم عہد ہوجاتے ہیں) کہ تمہارے اور ان کے درمیان عہد (صلح) ہے، (جیسے بنو مدلج، کہ ان سے صلح ہوئی تو ان کے ہم عہد بھی اس استثناء میں آگئے تو بنو مدلج بدرجہ اولی مستثنی ہوئے) یا (دوسرے طریقہ یہ ہے کہ بلا واسطہ صلح ہو اس طرح سے کہ) خود تمہارے پاس اس حال سے آویں کہ ان کا دل تمہارے ساتھ اور نیز اپنی قوم کے ساتھ بھی لڑنے سے منقبض ہو (اس لئے نہ تو اپنی قوم کے ساتھ ہو کہ تم سے لڑیں اور نہ تمہارے ساتھ ہو اپنی قوم سے لڑیں بلکہ (ان سے بھی صلح رکھیں اور تم سے بھی، پس دونوں طریقوں میں جس طریق سے کوئی مصالحت رکھے وہ حکم مذکور پکڑنے اور قتل سے مستثنی ہیں) اور (تم ان لوگوں کی) درخواست صلح میں اللہ تعالیٰ کا احسان مانو کہ ان کے دل میں تمہاری ہیبت ڈال دی ورنہ) اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط (اور لدیر) کردیتا پھر وہ تم سے لڑنے لگتے (مگر اللہ تعالیٰ نے تم کو اس پریشانی سے بچا لیا) پھر اگر (صلح کر کے) وہ تم سے کنارہ کش رہیں یعنی تم سے نہ لڑیں اور تم سے معاملہ سلامت روی کا رکھیں (ان سب الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ صلح سے رہیں کوئی لفظ تاکید کے لئے فرما دیئے) تو (اس حالت صلح میں) اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر (قتل یا قید وغیرہ کی) کوئی راہ نہیں دی (یعنی اجازت نہیں دی) تیسرے فرقہ کا بیان :۔ بعضے ایسے بھی تم کو ضرور ملیں گے (یعنی ان کی یہ حالت معلوم ہوگی) کہ (براہ دھوکہ) وہ یہ (بھی) چاہتے ہیں کہ تم سے بھی بےخطر ہو کر رہیں اور اپنی قوم سے بھی بےخطر ہو کر رہیں (اور ساتھ ہی اس کے) جب کبھی ان کو (صریح مخالفین کی طرف سے) شرارت (و فساد) کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے (یعنی ان سے مسلمانوں سے لڑنے کے لئے کہا جاتا ہے) تو وہ (فوراً ) اس (شرارت) میں جاگرتے ہیں (یعنی مسلمانوں سے لڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور وہ دھوکہ کی صلح توڑ دیتے ہیں) سو یہ لوگ اگر (صلح توڑدیں اور) تم سے (یعنی تمہاری لڑائی سے) کنارہ کش نہ ہوں اور نہ تم سے سلامت روی رکھیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو (تمہارے مقابلہ سے) روکیں (سب کا مطلب مثل سابق کے ایک ہی ہے کہ صلح توڑ دیں) تو تم (بھی) ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں ان کو پاؤ اور ہم نے تم کو ان پر صاف حجت دی ہے (جس سے ان کا قتل کرنا ظاہر ہے اور وہ حجت ان کا نقص عہد ہے) معارف و مسائل مذکورہ آیات میں تین فرقوں کا بیان ہے، جن کے متعلق دو حکم مذکور ہیں، واقعات ان فرقوں کے مندرجہ روایات سے واضح ہوں گے۔ پہلی روایت :۔ عبد بن حمید نے مجاہد سے روایت کیا کہ بعض مشرکین مکہ سے مدینہ آئے اور ظاہر کیا کہ ہم مسلمان اور مہاجر ہو کر آئے ہی، پھر مرتد ہوگئے اور حضرت رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسباب تجارت لانے کا بہانہ نہ کرے کے پھر مکہ چل دیئے اور پھر نہ آئے ان کے بارے میں مسلمانوں کی رائے مختلف ہوئی، بعض نے کہا یہ کافر ہیں بعض نے کہا یہ مومن ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا کافر ہونا آیت فما لکم فی المنفقین فئتین میں بیان کردیا اور ان کے قتل کا حکم دیا۔ حضرت حکیم الامت تھانوی نے فرمایا کہ ان کا منافق کہنا بایں معنی ہے کہ جب اسلام کا دعویٰ کیا تھا جب بھی منافق تھے دل سے ایمان نہ لائے تھے اور منافقین گو قتل نہ کئے جاتے تھے لیکن جب تک ہی کہ اپنا کفر چھپاتے تھے اور ان لوگوں کا ارتداد ظاہر ہوگیا تھا اور جنہوں نے مسلمان کہا شاید حسن ظن کی وجہ سے کہا ہو، اور ان کے دلائل ارتداد میں کچھ تاویل کرلی ہوگی اور اس تاویل کی بنیاد رائے محض ہوگی جس کی تائید دلیل شرعی سے نہ ہوگیا اس لئے معتبر نہیں رکھی گئی۔ دوسری روایت :۔ ابن ابی شیبہ نے حسن سے رایت کیا کہ سراقہ بن مالک مدلجی نے بعد واقعہ بدر و احد کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضور میں آ کر درخواست کی کہ ہماری قوم بنی مدلج سے صلح کرلیجئے، آپ نے حضر خالد کو تکمیل صلح کے لئے وہاں بھیج دیا، مضمون صلحیہ تھا : ” ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کسی کی مدد نہ کریں گے اور قریش مسلمان ہوجائیں گے تو ہم بھی مسلمان ہوجائیں گے اور جو قومیں ہم سے متحد ہوں گی وہ بھی اس معاہدہ میں ہمارے شریک ہیں۔ “ اس پر یہ آیت ودوالوتکفرون الی قولہ الا الذین یصلون الخ نازل ہوئی۔ تیسری روایت :۔ حضرت ابن عباس سے روایت کیا گیا کہ آیتہ ستجدون اخرین الخ میں جن کا ذکر ہے مراد ان سے قبیلہ اسد اور غطفان ہیں کہ مدینہ میں آئے اور ظاہراً اسلام کا دعویٰ کرتے اور اپنی قوم سے کہتے کہ ہم تو بندر اور عقرب (بچھو) پر ایمان لائے ہیں اور مسلمانوں سے کہتے کہ ہم تمہارے دین پر ہیں۔ اور ضحاک نے ابن عباس سے یہی حالت بنی عبدالدار کی نقل کی ہے، پہلی اور دوسری روایت روح المعانی اور تیسری معالم میں ہے۔ حضرت تھانوی نے فرمایا کہ اس تیسری روایت والوں کی حالت مثل پہلی روایت والوں کے ہوئی، کہ دلیل سے ان کا پہلے ہی سے مسلمان نہ ہونا ثابت ہوگیا، اسی لئے ان کا حکم مثل عام کفار کے ہے، یعنی مصالحت کی حالت میں ان سے قتال نہ کیا جائے اور مصالحت نہ ہونے کی صورت میں قتال کیا جائے، چناچہ پہلی روایت والوں کے باب میں دوسری آیت یعنی فان تولو فخذوم واقتلوھم میں گرفتار کرنے اور قتل کا حکم اور تیسری آیت الا الذین یصلون الخ میں مصالحت میں ان کا استثناء موجودہ جن کی مصالحت کا ذکر دوسری روایت میں ہے اور تاکید استثناء کے لئے پھر فان اعتزالوکم کی تصریح کردی۔ اور تیسری روایت والوں کے باب میں چوتھی آیت یعنی ستجدون اخرین الخ میں بیان فرما دیا کہ اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کش نہیں ہوتے بلکہ مقاتلہ کرتے ہیں تو تم ان سے جہاد کرو، اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اگر وہ صلح کریں تو ان سے قتال نہ کیا جائے۔ (بیان القرآن) خلاصہ یہ کہ یہاں تین فرقوں کا ذکر فرمایا گیا : ١۔ جو ہجرت کہ شرط اسلام کے زمانہ میں باوجود قدرت کے ہجرت نہ کریں یا کرنے کے بعد دارالاسلام سے نکل کر دارالحرب میں چلے جائیں۔ ٢۔ مسلمانوں سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ خود کرلیں یا ایسا معاہدہ کرنے والوں سے معاہدہ کرلیں۔ ٣۔ جو دفع الوقتی کی غرض سے صلح کرلیں اور جب مسلمانوں کے خلاف جنگ کی دعوت دی جائے تو اس میں شریک ہوجائیں اور اپنے عہد پر قائم نہ رہیں۔ پہلے فریق کا حکم عام کفار کی مانند ہے، دوسرا فریق قتل اور پکڑ دھکڑ سے مستثنی ہے، تیسرا فریق اسی سزا کا مستحق ہے جس کا پہلا فریق تھا، ان آیتوں کے کل دو حکم مذکور ہیں، یعنی عدم صلح کے وقت قتال اور مصالحت کے وقت قتال نہ کرنا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنٰفِقِيْنَ فِئَتَيْنِ وَاللہُ اَرْكَسَھُمْ بِمَا كَسَبُوْا۝ ٠ۭ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَہْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللہُ۝ ٠ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِيْلًا۝ ٨٨ نِّفَاقُ ، وهو الدّخولُ في الشَّرْعِ من بابٍ والخروجُ عنه من بابٍ ، وعلی ذلک نبَّه بقوله : إِنَّ الْمُنافِقِينَ هُمُ الْفاسِقُونَ [ التوبة/ 67] أي : الخارجون من الشَّرْعِ ، وجعل اللَّهُ المنافقین شرّاً من الکافرین . فقال : إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145] نفاق جس کے معنی شریعت میں دو رخی اختیار کرنے ( یعنی شریعت میں ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے نکل جانا کے ہیں چناچہ اسی معنی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145] کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجہ میں ہوں گے ۔ فئة الفَيْءُ والْفَيْئَةُ : الرّجوع إلى حالة محمودة . قال تعالی: حَتَّى تَفِيءَ إِلى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فاءَتْ [ الحجرات/ 9] ، وقال : فَإِنْ فاؤُ [ البقرة/ 226] ، ومنه : فَاءَ الظّلُّ ، والفَيْءُ لا يقال إلّا للرّاجع منه . قال تعالی: يَتَفَيَّؤُا ظِلالُهُ [ النحل/ 48] . وقیل للغنیمة التي لا يلحق فيها مشقّة : فَيْءٌ ، قال : ما أَفاءَ اللَّهُ عَلى رَسُولِهِ [ الحشر/ 7] ، وَما مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ [ الأحزاب/ 50] ، قال بعضهم : سمّي ذلک بِالْفَيْءِ الذي هو الظّلّ تنبيها أنّ أشرف أعراض الدّنيا يجري مجری ظلّ زائل، قال الشاعر أرى المال أَفْيَاءَ الظّلال عشيّة «2» وکما قال : 361- إنّما الدّنيا كظلّ زائل «3» والفِئَةُ : الجماعة المتظاهرة التي يرجع بعضهم إلى بعض في التّعاضد . قال تعالی: إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] ، كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً [ البقرة/ 249] ، فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتا[ آل عمران/ 13] ، فِي الْمُنافِقِينَ فِئَتَيْنِ [ النساء/ 88] ، مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ [ القصص/ 81] ، فَلَمَّا تَراءَتِ الْفِئَتانِ نَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] . ( ف ی ء ) الفیئی والفیئۃ کے معنی اچھی حالت کی طرف لوٹ آنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى تَفِيءَ إِلى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فاءَتْ [ الحجرات/ 9] یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس جب وہ رجوع لائے ۔ فَإِنْ فاؤُ [ البقرة/ 226] اور اسی سے فاء الظل ہے جس کے معنی سیایہ کے ( زوال کے بعد ) لوٹ آنے کے ہیں اور فئی اس سایہ کو کہا جاتا ہے ۔ ( جو زوال کے ) بعد لوت کر آتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَتَفَيَّؤُا ظِلالُهُ [ النحل/ 48] جنکے سائے ۔۔۔۔۔۔ لوٹتے ہیں ۔ اور جو مال غنیمت بلا مشقت حاصل ہوجائے اسے بھی فیئ کہا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ ما أَفاءَ اللَّهُ عَلى رَسُولِهِ [ الحشر/ 7] جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو ۔۔۔۔۔ دلوایا ۔ مِمَّا أَفاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ [ الأحزاب/ 50] جو خدا نے تمہیں ( کفار سے بطور مال غنیمت ) دلوائی ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ مال غنیمت کوئی بمعنی سایہ کے ساتھ تشبیہ دے کر فے کہنے میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ دنیا کا بہترین سامان بھی بمنزلہ ظل زائل کے ہے شاعر نے کہا ہے ( اما دی المال افیاء الظلال عشیۃ اے مادی ماں شام کے ڈھلتے ہوئے سایہ کیطرح ہے ۔ دوسرے شاعر نے کا ہ ہے ( 349 ) انما الدنیا اظل زائل کہ دنیا زائل ہونے والے سایہ کی طرح ہے ۔ الفئۃ اس جماعت کو کہتے ہیں جس کے افراد تعاون اور تعاضد کے لئے ایک دوسرے کیطرف لوٹ آئیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] جب ( کفار کی ) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو ۔ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً [ البقرة/ 249] بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے ۔۔۔۔۔ بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ۔ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتا[ آل عمران/ 13] دو گر ہوں میں جو ( جنگ بدد میں ) آپس میں بھڑ گئے ۔ فِي الْمُنافِقِينَ فِئَتَيْنِ [ النساء/ 88] کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گر وہ ۔ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ [ القصص/ 81] کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی فَلَمَّا تَراءَتِ الْفِئَتانِ نَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] جب یہ دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آر ہوئیں ۔ ركس الرَّكْسُ : قَلْبُ الشیء علی رأسه، وردّ أوّله إلى آخره . يقال : أَرْكَسْتُهُ فَرُكِسَ وارْتَكَسَ في أمره، قال تعالی: وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِما كَسَبُوا[ النساء/ 88] ، أي : ردّهم إلى كفرهم . ( ر ک س ) الرکس کے معنی کسی چیز کو اس کے سر پر الٹا کردینا اس کے اول سرے کو موڑ کر پچھلے سرے کے ساتھ ملا دینا کے ہیں محاورہ : ۔ ارکستہ میں نے اسے الٹا کردیا اور رکس اس کا مطاوع آتا ہے ۔ اور ارتکس فی امرہ کے معنی کسی معاملہ میں الجھ جانے کے ہیں ( یعنی کسی مصیبت سے رہائی کے بعد اس میں پھنس جانا ) قرآن میں ہے : ۔ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِما كَسَبُوا[ النساء/ 88] حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر کفر میں پلٹا دیا ہے كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کت ہے ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو ۔۔۔۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ ( ضل)إِضْلَالُ والإِضْلَالُ ضربان : أحدهما : أن يكون سببه الضَّلَالُ ، وذلک علی وجهين : إمّا بأن يَضِلَّ عنک الشیءُ کقولک : أَضْلَلْتُ البعیرَ ، أي : ضَلَّ عنّي، وإمّا أن تحکم بِضَلَالِهِ ، والضَّلَالُ في هذين سبب الإِضْلَالِ. والضّرب الثاني : أن يكون الإِضْلَالُ سببا لِلضَّلَالِ ، وهو أن يزيّن للإنسان الباطل ليضلّ کقوله : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، أي يتحرّون أفعالا يقصدون بها أن تَضِلَّ ، فلا يحصل من فعلهم ذلك إلّا ما فيه ضَلَالُ أنفسِهِم، وقال عن الشیطان : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] ، وقال في الشّيطان : وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] ، وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] ، وإِضْلَالُ اللهِ تعالیٰ للإنسان علی أحد وجهين : أحدهما أن يكون سببُهُ الضَّلَالَ ، وهو أن يَضِلَّ الإنسانُ فيحكم اللہ عليه بذلک في الدّنيا، ويعدل به عن طریق الجنّة إلى النار في الآخرة، وذلک إِضْلَالٌ هو حقٌّ وعدلٌ ، فالحکم علی الضَّالِّ بضَلَالِهِ والعدول به عن طریق الجنّة إلى النار عدل وحقّ. والثاني من إِضْلَالِ اللهِ : هو أنّ اللہ تعالیٰ وضع جبلّة الإنسان علی هيئة إذا راعی طریقا، محمودا کان أو مذموما، ألفه واستطابه ولزمه، وتعذّر صرفه وانصرافه عنه، ويصير ذلک کالطّبع الذي يأبى علی الناقل، ولذلک قيل : العادة طبع ثان «2» . وهذه القوّة في الإنسان فعل إلهيّ ، وإذا کان کذلک۔ وقد ذکر في غير هذا الموضع أنّ كلّ شيء يكون سببا في وقوع فعل۔ صحّ نسبة ذلک الفعل إليه، فصحّ أن ينسب ضلال العبد إلى اللہ من هذا الوجه، فيقال : أَضَلَّهُ اللهُ لا علی الوجه الذي يتصوّره الجهلة، ولما قلناه جعل الإِضْلَالَ المنسوب إلى نفسه للکافر والفاسق دون المؤمن، بل نفی عن نفسه إِضْلَالَ المؤمنِ فقال : وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] ، فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ، وقال في الکافروالفاسق : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ، وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] ، كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] ، وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] ، وعلی هذا النّحو تقلیب الأفئدة في قوله : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] ، والختم علی القلب في قوله : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وزیادة المرض في قوله : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] . الاضلال ( یعنی دوسرے کو گمراہ کرنے ) کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کا سبب خود اپنی ضلالت ہو یہ دو قسم پر ہے ۔ (1) ایک یہ کہ کوئی چیز ضائع ہوجائے مثلا کہاجاتا ہے اضللت البعیر ۔ میرا اونٹ کھو گیا ۔ (2) دوم کہ دوسرے پر ضلالت کا حکم لگانا ان دونوں صورتوں میں اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کی پہلی کے برعکس ہے یعنی اضلال بذاتہ ضلالۃ کا سبب بنے اسی طرح پر کہ کسی انسان کو گمراہ کرنے کے لئے باطل اس کے سامنے پر فریب اور جاذب انداز میں پیش کیا جائے جیسے فرمایا : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کرچکی تھی اور یہ اپنے سوا کسی کو بہکا نہیں سکتے۔ یعنی وہ اپنے اعمال سے تجھے گمراہ کرنے کی کوشش میں ہیں مگر وہ اپنے اس کردار سے خود ہی گمراہ ہو رہے ہیں ۔ اور شیطان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا رہوں گا ۔ اور شیطان کے بارے میں فرمایا : ۔ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا ۔ وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] اور شیطان تو چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے ۔ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکادے گی ۔ اللہ تعالیٰ کے انسان کو گمراہ کرنے کی دو صورتیں ہی ہوسکتی ہیں ( 1 ) ایک یہ کہ اس کا سبب انسان کی خود اپنی ضلالت ہو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف اضلال کی نسبت کے یہ معنی ہوں گے کہ جب انسان از خود گمرہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں اس پر گمراہی کا حکم ثبت ہوجاتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخرت کے دن اسے جنت کے راستہ سے ہٹا کر دوزخ کے راستہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ ( 2 ) اور اللہ تعالٰ کی طرف اضلال کی نسببت کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے انسان کی جبلت ہی کچھ اس قسم کی بنائی ہے کہ جب انسان کسی اچھے یا برے راستہ کو اختیار کرلیتا ہے تو اس سے مانوس ہوجاتا ہے اور اسے اچھا سمجھنے لگتا ہے اور آخر کا اس پر اتنی مضبوطی سے جم جاتا ہے کہ اس راہ سے ہٹا نایا اس کا خود اسے چھوڑ دینا دشوار ہوجاتا ہے اور وہ اعمال اس کی طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں اسی اعتبار سے کہا گیا ہے کہ عادت طبعہ ثانیہ ہے ۔ پھر جب انسان کی اس قسم کی فطرت اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے اور دوسرے مقام پر ہم بیان کرچکے ہیں کہ فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف بھی ہوسکتی ہے لہذا اضلال کی نسبت اللہ تعالیٰ کیطرف بھی ہوسکتی ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہکر دیا ور نہ باری تعالیٰ کے گمراہ کر نیکے وہ معنی نہیں ہیں جو عوام جہلاء سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اللہ تعالیٰ کی طرف گمراہ کرنے کینسبت اسی جگہ کی ہے جہاں کافر اور فاسق لوگ مراد ہیں نہ کہ مومن بلکہ حق تعالیٰ نے مومنین کو گمراہ کرنے کی اپنی ذات سے نفی فرمائی ہے چناچہ ارشاد ہے ۔ وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] اور خدا ایسا نہیں ہے کہ کسی قومکو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کردے ۔ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ان کے عملوں کر ہر گز ضائع نہ کریگا بلکہ ان کو سیدھے رستے پر چلائے گا ۔ اور کافر اور فاسق لوگوں کے متعلق فرمایا : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ان کے لئے ہلاکت ہے اور وہ ان کے اعمال کو برباد کردیگا : وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو ۔ كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] اسی طرح خدا کافررں کو گمراہ کرتا ہے ۔ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] اور ہم ان کے دلوں کو الٹ دیں گے ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے انکے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ان کے دلوں میں ( کفر کا ) مرض تھا خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کردیا ۔ میں دلوں کے پھیر دینے اور ان پر مہر لگا دینے اور ان کی مرض میں اضافہ کردینے سے بھی یہی معنی مراد ہیں ۔ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

منافقین کے بارے میں رویہ قول باری ہے (فمالکم فی المنافقین فئتین واللہ ارکسھم بماکسبوا، پھر یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دورائیں پائی جاتی ہیں ، حالانکہ جو برائیاں انہوں نے کمائی ہیں ان کی بدولت اللہ انہیں الٹا پھیر چکا ہے) ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس نے مکہ میں اسلام کا اظہار کیا تھا لیکن یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی امدا د کرتے تھے قتادہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے حسن اور مجاہد کا قول ہے کہ ایت کا نزول ایک گروہ کے بارے میں ہوا تھا، جس نے مدینہ منورہ پہنچ کر اسلام کا اظہار کیا تھاپھرم کہ واپس جاکر شرک کا اعلان کردیا تھا۔ زید بن ثابت کا قول ہے یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جو جنگ احد میں حضور کے ساتھ نہیں گئے تھے اور پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے یہ کہا تھا اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ کوئی جنگ ہونے والی ہے توہم تمہارے ساتھ چلتے۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ سلسلہ آیت میں اس آخری تاویل کے خلاف دلالت موجود ہے اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ لوگ مکہ کے رہنے والے تھے کیونکہ قول باری ہے (فلاتتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ ) جب تک یہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ) ۔ قول باری (ارکسھم ) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا قول ہے ، ردھم (اللہ نے انہیں پھیر دیا) قتادہ کا قول ہے کہ اللہ نے انہیں ہلاک کردیا، دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوندھا یعنی ذلیل کردیا کسائی کا قول ہے ، ارکسھم اور رکسھم دونوں ہم معنی ہیں اور مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے انہیں کفر کے حکم یعنی ذلت و رسوائی کی طرف واپس کردیا۔ ایک قول ہے کہا نہیں گرفتاری اور قتل کی طرف لوٹا دیا کیونکہ انہوں نے نفاق پر رہنے کے بعد ارتداد کا اظہار کیا تھا، اسلام سے ارتداد کے اظہار کے باوجود انہیں نفاق کی صفت سے اس لیے موصوف کیا گیا کہ انہیں دراصل اس بات کی طرف منسوب کیا گیا جس پر وہ پہلے سے قائم تھے یعنی انہوں نے اپنے دلوں میں کفر چھپارکھا تھا، اس تفسیر کی روایت حسن کی گئی ہے نحویوں کا قول ہے کہ ایک چیز کو حرف تعریف یعنی الف اور لام کے ساتھ معرفہ کی صورت میں اس حالت کے ساتھ موصوف کرنا درست ہوتا ہے جس پر چیز کبھی تھی ، مثلا آپ یہ کہتے ہیں کہ ھذہ العجوزھی الشابہ، تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بڑھیا وہ ہے جو کبھی جوان تھی، اس موقعہ پر ھذہ شابہ، کہنا درست نہیں ہوگا۔ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے گروہ منافقین کے احوال مسلمانوں کے سامنے کھول کر رکھ دیے کہ یہ لوگ تمہارے سامنے تو اسلام کا اظہار کرتے ہیں لیکن جب اپنے لوگوں میں جاتے ہیں تو کفر اور ارتداد کا اعلان کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے متعلق حسن ظن رکھنے اور ان کے دفاع میں، جھگڑنے سے منع کردیا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٨۔ ٨٩) مسلمانو ! تم ان مرتدین کے باب میں دو گروہ کیوں ہوگئے، ایک گروہ تو ان کے اموال اور خون کو حلال سمجھتا ہے اور دوسرا گروہ اس کو حرام کہتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے نفاق اور نیت کے فتور کی وجہ سے کفر کی طرف واپس پھیر دیا ہے۔ کیا تم ایسے گمراہوں کو دین الہی کی طرف ہدایت کرنا چاہتے ہو، جس کو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال بد کے سبب گمراہ کر دے اس کو نہ پھر کوئی دین ملتا ہے اور نہ کوئی دلیل ، (اللہ تعالیٰ جسے گمراہ کردے، یعنی اللہ گمراہ اسے ہی کرتا جو ہدایت کے باب میں اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اپنی بدکرداری وبداعمالی کے سبب ضائع کردے۔ فرمایا (سو جب ان کے دل ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا) (مترجم) وہ منافق تو اس تمنا میں ہیں کہ تم بھی ان کے ساتھ شرک میں شرک ہوجاؤ، ان میں سے دین اور مدد میں کوئی دوستی مت کرنا تاوقتیکہ دوبارہ ایمان نہ لے آئیں اور راہ اللہ میں ہجرت نہ کریں۔ شان نزول : (آیت) ” فمالکم فی المنافقین “۔ (الخ) امام بخاری (رح) ومسلم (رح) وغیرہ نے زید بن ثابت سے روایت کیا ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کے لیے تشریف لے گئے کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ روانہ ہوئے تھے، وہ واپس لوٹ گئے تو ان لوٹنے والوں کے بارے میں صحابہ کرام کی دو جماعتیں ہوگئیں، ایک جماعت کہتی تھی کہ ہم ان کو قتل کریں گے اور دوسری جماعت ان کے قتل کی منکر تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی پھر تمہیں کیا ہوا، کہ ان منافقین کے بارے میں تم میں اختلاف رائے ہوا۔ سعید بن منصور اور ابن ابی حاتم نے سعد بن معاذ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) کے درمیان خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھے تکلیف دیتا ہے اس کی کون سرکوبی کرے گا، یہ سن کر حضرت سعد بن معاذ (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اگر وہ قبیلہ اوس سے ہوگا تو ہم اس کی گردن اڑا دیں گے اور اگر ہمارے بھائیوں خزرج سے ہوگا تو آپ حکم دیں ہم آپ کی اطاعت کریں گے، یہ سن کر سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور بولے ابن معاذ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت میں کیا باتیں کررہے ہو، میں تمہارا مقصد جان چکا ہوں، پھر اسید بن حضیر کھڑے ہوئے اور فرط جذبات میں بولے ابن عبادہ (رض) تم منافق ہو اور منافقین سے محبت رکھتے ہو ، اس کے بعد محمد بن سلمہ نے کھڑے ہو کر کہا، لوگو ! خاموش ہوجاؤ ہمارے درمیان رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں، آپ جیسا حکم دیں گے، ہم وہ کریں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ، اور امام احمد نے عبدالرحمن بن عوف (رض) سے روایت کیا ہے کہ مدینہ منورہ میں عرب کی ایک جماعت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اسلام قبول کیا ان کو مدینہ منورہ کی آب وہوا سے بخار چڑھ گیا، وہ بیعت توڑ کر مدینہ منورہ سے چلے گئے، صحابہ کرام (رض) کی ایک جماعت نے ان کا تعاقب کیا اور ان سے لوٹنے کا سبب دریافت کیا وہ بولے ہمیں مدینہ منورہ کی وباء لگ گئی ہے، صحابہ کرام (رض) نے فرمایا کیا تمہارے لیے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات بابرکت میں بہترین نمونہ موجود نہیں، غرض کہ ان لوگوں کے بارے میں حضرات کا اختلاف ہوگیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی کہ تم لوگ دو گروہ کیوں ہوگئے۔ اس روایت کی سند میں تدلیس اور انقطاع ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٨ (فَمَا لَکُمْ فِی الْْمُنٰفِقِیْنَ فِءَتَیْنِ وَاللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط) بات آگے واضح ہوجائے گی کہ یہ کن منافقین کا تذکرہ ہے ‘ جن کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان دو رائیں پائی جاتی تھیں۔ اہل ایمان میں سے بعض کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ نرمی ہونی چاہیے ‘ آخر یہ ایمان تو لائے تھے نا ‘ اب نہیں ہجرت کرسکے۔ جبکہ کچھ لوگ اللہ کے حکم کے معاملے میں ان سے سخت رویہ اختیار کرنے کے حق میں تھے۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ اے مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ان کے بارے میں دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہو ؟ (وَاللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط) ۔ ان کا ہجرت نہ کرنا درحقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ الٹے پھیر دیے گئے ہیں۔ یعنی ان کا ایمان سلب ہوچکا ہے۔ ہاں کوئی مجبوری ہوتی ‘ عذر ہوتا تو بات تھی۔ (اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَہْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط) جن کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہے۔ (وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِیْلاً ) جس کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے آخری مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہو اس کے لیے پھر کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

116.The problem of the hypocrites is discussed here. They had outwardly embraced Islam in Makka and in other parts of Arabia, but instead of migrating to the Domain of Islam they continued co live among their own people who were unbelievers, taking part in all their hostile machinations against Islam and the Muslims. It was not easy for the Muslims to decide how to deal with such people. Some were of the opinion that since they professed Islam, performed Prayers, fasted and recited the Qur'an they could not be treated as unbelievers. Here God pronounces His judgement on this issue. Unless the following is made clear at this point, the reader is likely to miss the real object of not only this verse but of all those verses in which believers who have failed to migrate are characterized as hypocrites. The fact is that after the Prophet (peace be on him) migrated to Madina the Muslims came to possess a piece of territory where they could fulfil the dictates of their faith. At that time all Muslims who suffered from the pressures and constraints imposed on them by the unbelievers, and who did not enjoy the freedom to practise their religion, were directed to migrate to Madina, the Domain of Islam. It was in these circumstances that all those believers who were in a position to migrate to Madina, but who failed to do so because their hearth and home, kith and kin, and their material interests were dearer to them than Islam, were declared hypocrites. Those who were not really in a position to migrate were reckoned as 'feeble' (see verse 98 below). It is obvious that Muslims living in non-Islamic territories can be called hypocrites only when the Domain of Islam either extends a general invitation to all of them or at least leaves its doors open to them. In such circumstances, all Muslims who are neither engaged in trying to transform the non-Islamic territory into a Domain of Islam nor inclined to migrate to the latter despite their ability to do so, will be deemed hypocrites. But if the Domain of Islam neither invites them nor even keeps its doors open for them, then they obviously cannot be declared hypocrites merely because of their failure to migrate. Such persons would be considered hypocrites only if they did something too outrageous to be consistent with true faith. 117. God has returned them whence they came because of their duplicity, their excessive hankering after their material interests, and their preference for the good of this world over that of the Next. Those people had indeed tried to extricate themselves from the grip of unbelief and to advance towards Islam. To be a true Muslim calls for single-mindedness. It requires a willingness to sacrifice all interests and advantages that are in conflict with the interests of Islam. It requires a faith in the Hereafter strong enough to enable a man to cheerfully sacrifice all worldly advantages for the sake of his eternal happiness. Since those people lacked these qualities they retraced their steps. Could there be any doubt about the stuff they were made of?

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :116 یہاں ان منافق مسلمانوں کے مسئلہ سے بحث کی گئی ہے جو مکہ میں اور عرب کے دوسرے حصوں میں اسلام تو قبول کر چکے تھے ، مگر ہجرت کر کے دارالاسلام کی طرف منتقل ہونے کے بجائے بدستور اپنی کافر قوم ہی کے ساتھ رہتے بستے تھے ، اور کم و بیش ان تمام کارروائیوں میں عملاً حصہ لیتے تھے جو ان کی قوم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کرتی تھی ۔ مسلمانوں کے لیے یہ مسئلہ سخت پیچیدہ تھا کہ ان کے ساتھ آخر کیا معاملہ کیا جائے ۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ کچھ بھی ہو ، آخر یہ ہیں تو مسلمان ہی ۔ کلمہ پڑھتے ہیں ، نماز ادا کرتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں ، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ۔ ان کے ساتھ کفار کا سا معاملہ کیسے کیا جا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اسی اختلاف کا فیصلہ فرمایا ہے ۔ اس موقع پر ایک بات کو واضح طور پر سمجھ لینا ضروری ہے ، ورنہ اندیشہ ہے کہ نہ صرف اس مقام کو ، بلکہ قرآن مجید کے ان تمام مقامات کو سمجھنے میں آدمی ٹھوکر کھائے گا جہاں ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں کو منافقین میں شمار کیا گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی اور ایک چھوٹا سا خطہ عرب کی سرزمین میں ایسا بہم پہنچ گیا جہاں ایک مومن کے لیے اپنے دین و ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنا ممکن تھا ، تو عام حکم دے دیا گیا کہ جہاں جہاں ، جس جس علاقے اور جس جس قبیلےمیں اہل ایمان کفار سے دبے ہوئے ہیں اور اسلامی زندگی بسر کرنے کی آزادی نہیں رکھتے ، وہاں سے وہ ہجرت کریں اور مدینہ کے دارالاسلام میں آجائیں ۔ اس وقت جو لوگ ہجرت کی قدرت رکھتے تھے اور پھر صرف اس لیے اٹھ کر نہ آئے کہ انہیں اپنے گھر بار ، اعزہ و اقربا اور اپنے مفادات اسلام کی بہ نسبت عزیز تر تھے ، وہ سب منافقین قرار دیے گئے ۔ اور جو لوگ حقیقت میں بالکل مجبور تھے ، ان کو ” مُسْتَضْعَفِین“ میں شمار کیا گیا ، جیسا کہ آگے رکوع ۱٤ میں آرہا ہے ۔ اب یہ ظاہر ہے کہ دارالکفر کے رہنے والے کسی مسلمان کو محض ہجرت نہ کرنے پر منافق صرف اس صورت میں کہا جاسکتا ہے جبکہ دارالاسلام کی طرف سے ایسے تمام مسلمانوں کو یا تو دعوت عام ہو ، یا کم از کم اس نے ان کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوں ۔ اس صورت میں بلاشبہ وہ سب مسلمان منافق قرار پائیں گے جو دارالکفر کو دارالاسلام بنانے کی کوئی سعی بھی نہ کر رہے ہوں ، اور استطاعت کے باوجود ہجرت بھی نہ کریں ۔ لیکن اگر دارالاسلام کی طرف سے نہ تو دعوت ہی ہو اور نہ اس نے اپنے دروازے ہی مہاجرین کے لیے کھلے رکھے ہوں ، تو اس صورت میں صرف ہجرت نہ کرنا کسی شخص کو منافق نہ بنا دے گا بلکہ وہ منافق صرف اس وقت کہلائے گا جبکہ فی الواقع کوئی منافقانہ کام کرے ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :117 یعنی جس دو رنگی اور مصلحت پرستی اور ترجیح دنیا بر آخرت کا اکتساب انہوں نے کیا ہے اس کی بدولت اللہ نے انہیں اسی طرف پھیر دیا ہے جس طرف سے یہ آئے تھے ۔ انہوں نے کفر سے نکل کر اسلام کی طرف پیش قدمی کی تو ضرور تھی ، مگر اس سرحد میں آنے اور ٹھیرنے کے لیے یکسو ہو جانے کی ضرورت تھی ، ہر اس مفاد کو قربان کردینے کی ضرورت تھی جو اسلام و ایمان کے مفاد سے ٹکراتا ہو ، اور آخرت پر ایسے یقین کی ضرورت تھی جس کی بنا پر آدمی اطمینان کے ساتھ اپنی دنیا کو قربان کرسکتا ہو ۔ یہ ان کو گوارا نہ ہوا اس لیے جدھر سے آئے تھے الٹے پاؤں ادھر ہی واپس چلے گئے ۔ اب ان کے معاملہ میں اختلاف کا کونسا موقع باقی ہے؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

53: ان آیتوں میں چار قسم کے منافقین کا تذکرہ ہے، اور ان میں سے ہر قسم کا حکم الگ بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت۸۸ میں منافقین کی پہلی قسم کا ذکر ہے، یہ مکہ مکرَّمہ کے کچھ لوگ تھے جو مدینہ منوَّرہ آئے اور ظاہری طور پر مسلمان ہوگئے، اور مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرلی، کچھ عرصے کے بعد انہوں نے حضور اقدس ﷺ سے تجارت کے بہانے مکہ مکرَّمہ جانے کی اجازت لی، اور واپس چلے گئے۔ ان کے بارے میں بعض مسلمانوں کی رائے یہ تھی کہ یہ سچے مسلمان تھے، اور بعض انہیں منافق سمجھتے تھے۔ لیکن جب وہ مکہ مکرَّمہ جاکر واپس نہ لوٹے توان کا کفر ظاہر ہوگیا، کیونکہ اس وقت مکہ مکرَّمہ سے ہجرت کرنا ایمان کا لازمی حصہ تھا، اور جو شخص قدرت کے باوجود ہجرت نہ کرے، اسے مسلمان قرار نہیں دیا جاسکتا تھا، لہٰذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اب جبکہ ان کا نفاق ظاہر ہوچکا ہے، توان کے بارے میں کسی اختلاف رائے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(88 ۔ 91) ۔ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل میں جو شان نزول آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جنگ احد میں ہزار آدمیوں میں سے سو آدمی جب عبد اللہ بن ابی منافق کے ساتھ لشکر اسلام سے جدا ہو کر مدینہ کو چلے آئے تو سات سو آدمی جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہ گئے تھے ان کے دو فرقے ہوگئے تھے ایک فرقہ تو یہ کہتا تھا کہ یہ تین سو آدمی عین وقت پر لشکر اسلام کا ساتھ چھوڑ کر ایک منافق کے بہکانے سے گھر جا بیٹھے اس واسطے اب وہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ اب موقع پڑے تو ان کا قتل کرنا لازم ہے اور دوسرافرقہ یہ کہتا تھا کہ نہیں وہ ہمارے بھائی مسلمان ہیں نہ ہم ان سے لڑیں گے اور نہ ان کو قتل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا آپس کا اختلاف رفع ہوجانے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی ١۔ اور فرمادیا کہ وہ لوگ جب تک تمہارا پورا ساتھ نہ دیں ان کو مسلمان نہ شمار کرنا چاہیے۔ اور ضرورحسب موقع ان کو قتل کرنا چاہیے اوپر جو شان نزول بیان کی گیا اس کے علاوہ اور شان نزول بھی ان آیتوں کی سلف سے منقول ہے۔ چناچہ بعض روایتوں میں یہ ہے کہ کچھ عرینہ کے لوگ مدینہ میں آن کر داخل اسلام ہوگئے تھے اور پھر مدینہ کی آب و ہوا کے ناموافق ہونے سے مکہ چلے گئے اور مشرکو سے بھی مل گئے اور مسلمانوں کو بھی لکھا ہم تمہارے دین پر ہیں ١۔ بعض روایتوں میں یہ ہے کہ کچھ لوگ مکہ میں تھے جنہوں نے ظاہری اسلام قبول کرلیا تھا۔ لیکن مشرکوں کی مدد کو تیار تھے۔ اور ہجرت پر آمادہ نہ تھے۔ لیکن یہ سب منافقوں کی قسمیں ہیں اس لئے ان روایتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔ حاصل مطلب یہ شان نزول کا یہ ہے کہ اوپر کی صحیح روایت کے موافق منافقوں کی ایک خاص قسم کی شان نزول میں یہ آیتیں نازل ہوئیں اور جتنے منافق ہیں ان سب پر آیتوں کا مطلب صادق آتا ہے ارکسہم کے معنی پچھلے قدموں ہٹا کر پہلی حالت پر لانا حاصل مطلب یہ ہوا کہ ان کی نیت کے فساد کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو حالت اسلام سے نکال کر حالت نفاق میں ڈال دیا ہے۔ ان کے اسلام کا خیال غلط ہے۔ بلکہ وہ تو اے مسلمانوں تم کو بھی اپنا سا کرلینے کی آرزو کرتے ہیں اس لئے نہ ایسے لوگوں سے میل جول رکھنا چاہیے نہ ان کی مدد کی خواہش کرنی چاہیے پہلی شان نزول کی بنا پر حتی یھاجروا کے معنی مفسرین نے یہ کئے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھ جب تک احد کی لڑائی کے دھوکے سے باز نہ آئیں گے اور خالص نیت سے لشکر اسلام کا ساتھ نہ دیں گے اور اس ساتھ رہنے کے لئے گھر چھوڑ کر لڑائی کے میدانوں میں نہ جائیں گے تو نہ ان کا شمار مسلمانوں میں ہوسکتا ہے۔ نہ ان کے جان و مال کی خیر مسلمانوں کے ہاتھ سے ہوسکتی ہے۔ اب ان منافقوں میں سے دو طرح کے لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا ہے۔ ایک صالح والوں کے عہد کو وہ بھی بالواسطہ صلح میں داخل ہیں جس طرح مثلاً صلح کے بعد صلح والے قریش اور ان کے ہم عہد بنومد لج دوسرے وہ لوگ جو لڑائی سے عاجز ہو کر اس بات پر قائم ہیں کہ نہ اپنی قوم کی طرف سے مسلمانوں سے لڑیں گے نہ مسلمانوں کی طرف سے کسی سے لڑیں گے۔ جس طرح قبیلہ بنو مد لج کہ نہ مسلمانوں سے لڑتے تھے۔ نہ قریش سے۔ پھر فرمایا جب تک یہ لوگ اس حالت پر قائم رہیں تو یہ اللہ کی ایک مصلحت ہے اس نے ان کو تمہاری لڑائی سے روک رکھا ہے۔ ان کے قریب ایک فرقہ فرمایا جگہ جو اپنی جان اور اپنا مال بچانے کے لئے ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ مگر درحقیقت وہ مشرک ہیں تفسیر سدی وغیرہ میں ہے کہ فتنہ کے معنی یہاں شرک کے ہیں ١ ان کا حکم یہ فرمایا کہ ” اگر وہ صلح پر قائم نہ رہیں تو ان کو قید کرلو۔ اور ماروا جہاں پاؤ کیوں کہ ان کی حالت اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک سند ٹھہرادی ہے۔ بعض مفسروں نے آیت فان اعتزالوکم کو آیت فاقتلوا الْمُشْرِکِیْنَ سے منسوخ کہا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر یہ لوگ عہد صلح پر قائم بھی رہیں تو ان سے لڑنا چاہیے۔ لیکن عہد و صلح والوں کا حکم مستثنیٰ کے طور پر اوپر گذر چکا ہے۔ اس لئے آیت مستثنیٰ کے حکم میں داخل ہے۔ منسوخ نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

فمالکم۔ کیوں تم میں۔ فی المنافقین۔ منافقوں کے بارے میں۔ فئتین۔ دو گروہ۔ یعنی کیا وجہ ہے کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہوں میں ہوگئے ہو۔ بعض لوگ جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا وہ دنیاوی مفاد یا باہمی معاشرتی یا خانگی تعلقات کی وجہ سے مکہ سے یا دیگر مقامات سے ہجرت سے باز ہے۔ بعض انہی وجوہ کی بناء پر مدینہ ہجرت کرنے کے بعد وہاں سے ناسازگی آب و ہوا یا دیگر بہانہ سازی سے واپس اپنے علاقوں کو چلے گئے۔ اور وہاں کم و بیش اپنی کافر قوم کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف ان کی کاروائیوں میں حصہ لیتے رہے۔ مسلمانوں کی رائے ان کے بارے میں مختلف تھیں۔ ایک گروہ ان کو خارج از اسلام گردانتا تھا۔ جب کہ دوسرا گروہ ان کو مسلمان ہی گردانتا تھا۔ کہ کلمہ پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں نماز پڑھتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو حقیقت میں بالکل مجبور تھے ۔ اور ہجرت نہ کرسکتے تھے۔ اور ان پر ان کے کافر و مشرک افراد طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھاتے تھے قرآن حکیم میں ان کو مستضعفین شمار کیا گیا ہے۔ ارکسھم۔ ماضی واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ارکاس سے (اللہ نے) ان کو سر کے بل اوندھا گرا دیا ہے۔ ای ردھم الی الکفر۔ ان کو کفر کی طرف الٹا پھیر دیا ہے۔ ارکس اور نکس ہم معنی ہیں۔ اتریدون ان ۔۔ اضل اللہ۔ یعنی مستضعفین کے علاوہ جو اپنی مرضی سے وہیں کفار میں رہ گئے۔ یا آکر واپس چلے گئے انہوں نے دنیاوی مفاد کو اسلام پر ترجیح دی اور کفر کی طرف لوٹا دئیے گئے۔ اب اس میں اختلاف کا کونسا موقع ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یہ آیات کب اتریں اور ان میں منافقین سے مراد کون لوگ ہیں اس بارے میں صحابہ (رض) کرام سے مختلف روایات ہیں حضرت زید (رض) بن ثابت سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ احد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ چھوڑ کر راستہ ہی سے واپس ہوگئے (ابن ابی اور ان کے ساتھی) اس کے بارے میں میں مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے ایک گروہ کہنے لگا کہ ہم انہیں قتل کریں اور دسرا گروہ اس کے خلاف تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہو (بخاری ومسلم) امام شوکانی فرماتے ہیں ؛ نزول کے اسباب میں یہ روایت سب سے اصح ہے۔ دوسری روایت حضرت عبدالرحمن (رض) بن عوف سے ہے کہ عرب کے کچھ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے پھر وہ بیمار ہو کر واپس چلے گئے۔ ان کے بارے میں مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے ایک گروہ انہیں منافق قرار دیتا تھا اور دوسرا مسلمان سمجھتا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (مسند احمد) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مکہ میں کچھ لوگ اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے لیکن مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں مسلمانوں کی دو رائیں ہوگئی تھیں لہذا اس آیت میں ان منافقین کے مسلمان قرار پانے کے لیے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا بطور شرط ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے ابن جریر اور بعض دوسرے مفسرین نے حضرت ابن عباس (رض) کی تفسیر کی بقہ تمام تفا سیر پر تر جیح دی ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ اہل افک کے بارے میں نازل ہوتی ہے (ابن کثیر، کبیر) آیت میں فئنین منصوب علی الحال ہے اور استفہام انکاری ہے۔ ( شوکانی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

اسرار و معارف آیات نمبر 88 تا 91 ۔ فمالکم۔۔۔ مبینا۔ مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا کہ منافقین کے بارے نرم رویہ اختیار کریں بلکہ حق کو ضرور حق کہا جائے گا۔ ایسے ہی باطل جب ظاہر ہوگیا تو کسی تاویل کی ضرورت نہیں اسے باطل کہنا ہوگا کچھ افراد ایسے تھے جو بظاہر مسلمان ہو کر ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے مگر یہاں رہ نہ سکے اور کچھ عرصہ بعد مکہ پلٹ گئے اور مرتد ہوگئے یعنی اسلام لانے کے بعد کافر ہوئے تو مرتد ہوگئے مگر اللہ نے انہیں منافق کہا ہے۔ غالبا اس لیے کہ وہ شروع سے ایمان لائے ہی نہ تھے بلکہ ممکن ہے اہل مکہ کے بھیجے ہوئے ہوں کہ مدینہ کے حالات سے باخبر رکھیں گے مگر وہ یہاں نہ ٹھہر سکے واپس بھاگے اور ان کا کفر ظاہر ہوگیا۔ اب مسلمان تو بہت نرم دل تھے۔ بعض نے کہا بیچارے گھر بار کی قربانی برداشت نہ کرپائے ہوں گے یا بیوی بچوں سے جدائی کا بوجھ نہ سہار سکے ہوں گے اس لیے پلٹ گئے۔ دوسروں نے کہا ہرگز نہیں یہ منافق تھے اور بھاگ گئے۔ اللہ کریم کو دوسروں کی نہ صرف رائے پسند آئی بلکہ تائید بھی فرمائی اور ساتھ وجہ بھی ارشاد فرما دی کہ بھئی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہم نے خود انہیں بھگا دیا۔ واللہ ارکسھم بما کسبوا۔ ترجمہ : اللہ نے ان کو الٹ دیا بسبب ان کے اعمال کے۔ تو ایک بہت بڑا قانون واضح ہوگیا کہ نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت وہ محبت جو نرا دعوی نہ ہو جو غلامی پر مجبور کردے جو آپ کے قدموں میں جھکا دے جو دنیا تو دنیا ہے آخرت بھی اس شرط پہ قربان کرنا پڑے کہ جنت سے ہاتھ اٹھا لو تب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رخِ انور کو دیکھ سکوگے تو ہاتھ اٹھا دے۔ یہ محبت ایمان عطا کرتی ہے۔ عزت و وقار عطا کرتی ہے اور اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وفا نہیں تو آدمی سب کچھ بن سکتا ہے ایماندار نہیں رہ سکتا کہ اللہ کریم پردہ چاک فرما دیتے ہیں اور فرماتے ہیں اب جنہیں اللہ نے اس محفل پاک سے بھگا دیا کوئی بھلا اسے واپس لا بھی سکتا ہے ہرگز نہیں۔ بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو جو تیرے آستاں سے اٹھتا ہے۔ اب انکے اس جرم کی سزا کے طور پر اللہ نے ہی ان سے ہدایت چھین لی تو بعض مسلمانوں کی نرم دلی سے بھلا یہ سزا ٹل سکتی ہے اگر وہ خود بےوفائی نہ کرتے تو وہاں کی عطایا کا تو شمار نہیں بلکہ اس بار تو عجب مشاہدہ یا تجربہ ہوا چند روز پہلے ہم بھی وہیں موجود تھے۔ صبح اجازت چاہنے کے لیے اور سلام عرض کرنے کے لیے جالی پاک کے سامنے حاضر ہوئے تو چھوٹا بچہ جو سات سال کا ہے ساتھ تھا وہ ذکر بھی کرتا رہتا ہے۔ کبھی کبھی انوارات وغیرہ کی باتیں بھی۔ مگر کبھی ایسی پرواہ نہیں کی تو میں نے کہا آنکھ بند کرکے سلام عرض کرو اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سامنے تشریف رکھتے ہیں۔ کوشش کرو زیارت کرلو تو کہنے لگا ! تو پنڈلیوں تک پاؤں مبارک نظر آ رہے ہیں مگر اتنے روشن ہیں جیسے روشنی ہی سے بنے ہوں میں نے کہا تمہاری قوت برداشت اس سے آگے تمہارا ساتھ نہ دے سکی مگر وہاں کتنا خیال رکھا جاتا ہے۔ دوبئی میں ایک بیٹی کو روحانی بیعت کرائی تو باقی باتیں تو رہنے دیں وہ مجھ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چشم ہائے مبارک کے حسن پہ بات کر رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ بچی امریکہ میں پیدا ہوئی پلی بڑھی ، پڑھا ملازمت کی ، شادی کی ، آج کل میاں بیوی دوبئی ہیں بس اللہ اللہ شروع کردی ۔ پتہ نہیں کس خلوص سے آئی ہے کہ اتنے پیار سے اپنائی گئی ہے تو بھئی ایمان کی بقا اور ہدایت کی بنیاد ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خلوص جیسے اس میں کمی آئی آدمی بھگا دیا جاتا ہے۔ اور جس کو اللہ بھگا دے بھلا اس کی واپسی کا کوئی امکان ہے یا پھر کوئی اسے واپس لاسکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ تم ان کو واپس لانے کی سوچ رہے ہو اور وہ اس فکر میں ہیں کہ تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دیں اور معاذ اللہ واپس کفر میں لے آئیں۔ جیسے وہ خود کافر ہوچکے ہیں اور ایک بات ضرور عرض کرتا چلوں کہ آج پھر خلوص کی کمی نے ہمیں منافقت میں مبتلا کرکے تباہ کردیا ہے۔ تقریریں ، جلسے اور ماہنامے وغیرہ ہا ، سب کچھ ہورہا ہے۔ ہر شہر دینی مدرسوں سے اٹا پڑا ہے۔ درس و تدریس کا کام پہلے سے بہت زیادہ ہورہا ہے مگر عملی زندگی انحطاط پذیر ہے اور دینی اعتبار سے ہم دن بدن پیچھے جا رہے ہیں۔ شاید ہمارے دلوں سے وفا اٹھ گئی ہے اور ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہ خلوص نچھاور کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ خدا نخواستہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر جب تک ہمارے قلوب میں خلوص پیدا نہیں ہوجاتا ہدایت نصیب ہونا مشکل ہے۔ نیک عمل نصیب ہونا مشکل ہے ہاں نیکی کی ایکٹنگ سے تو شاید کوئی نہیں روکے گا اور نیک عمل اس لیے مشکل ہے کہ اللہ جن سے توفیق عمل چھین لیتا ہے پھر ان کو عملی راستہ پر لگانے یا چلانے کی کوئی سبیل کوئی راہ باقی نہیں رہتی۔ لہذا جب تک یہ لوگ واقعی اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں ان سے دوستی اور میل جول تک مت رکھو ہاں اگر ہجرت کرلیں۔ سب کچھ قربان کرکے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غلامی پہ راضی ہوجائیں تو پھر دوستی کے قابل ہیں ورنہ ہرگز نہیں یاد رہے یہ فتح مکہ سے پہلے کی بات ارشاد ہو رہی ہے۔ اور جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لاہجرۃ بعد الفتح کہ مکہ کی فتح کے بعد اب ہجرت ختم ہوئی۔ مگر یہ تو اسباب ظاہر مال و دولت یا گھر بار سے ہجرت تھی۔ سوچ اور عمل ، آرزو اور کردار سے تو ہجرت ویسے ہی فرض ہے جیسے تب تھی۔ اور اگر کوئی یہ سفر اختیار نہیں کرتا تو اس سے دوستی آج بھی جائز نہیں۔ نہ ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی اجازت ہے جو اپنے اختیار سے ہو ورنہ ملازمت میں دفتر میں کسی بھی قسم کے انسان کے ساتھ بیٹھ کر کام کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ جو لوگ ہجرت کو قبول نہ کریں ان کے ساتھ قتال کرو۔ ارشاد ہے فخذوھم پکڑو انہیں واقتلوھم اور انہیں قتل کرو جہاں مل جائیں انہیں مت چھوڑو اور ایسے منافقوں سے کوئی معاہدہ بھی نہ کیا جائے نہ ان کی سفارش کی جائے۔ نہ ان سے دوستی رکھو نہ کوئی مدد لینے کی کوشش کرو۔ اور یہ امیر کے لیے ضروری ہے۔ قانون ہر آدمی تو ہاتھ میں نہیں لے سکتا مگر امیر کا حق ہے کہ قبول اسلام کے بعد اگر کوئی ارکان اسلام کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو اسے سزا دے اگر جرم کرے تو اسے سزا دے اور اگر احکام اسلام کا انکار کرے تو اس کے ساتھ جنگ کرے ، قتال کرے ، جیسے امیر المومنین خلیفۃ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے منکرین زکوۃ سے اعلان جنگ فرما دیا تھا۔ ہاں مگر کچھ لوگ جو اگرچہ کافر ہیں مگر مفسد نہیں یعنی ان منافقوں کی طرح فتنہ پروری نہیں کرتے بلکہ جنگ سے بیزار ہیں وہ نہ مسلمانوں سے لڑنا چاہتے ہیں نہ کافروں سے ، ایسے لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ سبحان اللہ کیا کرم ہیں۔ ارشاد ہوا اگر اللہ چاہتا تو انہیں کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ تم سے ضرور لڑتے۔ اب اگر وہ ایک طرف ہوجائیں نہ صرف یہ کہ تم سے لڑنے سے باز رہیں بلکہ صلح سے رہنا چاہیں تو مسلمانوں کو انہیں گرفتار کرنے یا قتل کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اللہ نے تمہیں اس کی ہرگز اجازت نہیں دی۔ یعنی ایک قسم کے کافر سہی مگر صلح کرلیتے ہیں۔ شرائط طے ہوجاتی ہیں۔ جب تک وہ معاہدہ کی پاسداری کرتے ہیں انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ دوسرے وہ کافر جو نہ آپ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں نہ کسی معاہدے کی رو سے آپ سے مل کر کسی اور سے یعنی سرے سے جنگ ہی نہیں کرنا چاہتے اور صلح سے رہنا چاہتے ہیں انہیں تنگ کرنے یا ان سے لڑنے کا بھی کوئی جواز نہیں۔ ایک تیسری قسم بھی ہے یہ در اصل وہی پہلی قسم ہے جس کی بحث پہلے سے آ رہی ہے کہ آپ لوگ انہیں اس حال میں پائیں گے کہ آپ لوگوں سے بھی بچ کر رہنا چاہتے ہیں اس لیے اظہار ایمان کرتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی لڑنا نہیں چاہتے۔ اس لیے ان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اپنے آپ کو بڑا پر امن شہری ظاہر کرتے ہیں مگر مسلمانوں کے خلاف موقع ہواتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جیسے کوئی بہانہ ہاتھ فساد کھڑا کردیتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ اگر اپنی حرکات سے باز نہ آئیں۔ صلح اور امن سے نہ رہیں اور اپنے ہاتھوں کو نہ روکیں تو پھر ان کا علاج قتل ہے کہ انہیں قطعاً کوئی رعایت نہ دی جائے۔ ان پر فوج کشی کی جائے اور جو جہاں ملے قتل کردیا جائے ایسے لوگوں کے لیے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اللہ کریم کی طرف سے کھلی اجازت ہے بلکہ انہیں سزا نہ دینا بےانصافی شمار ہوگی۔ اور ایسا امیر کبھی امن قائم نہیں کرسکے گا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 88-90 لغات القرآن : مالکم، تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ فئتین، وہ جماعتیں۔ ارکس، الٹ دیا۔ یصلون، وہ ملتے ہیں۔ حصرت، رک گئی، رک گئے۔ اعتزلوا، وہ علیحدہ ہوگئے۔ السلم، صلح۔ تشریح : جس زمانے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت فرمائی اس زمانے میں ہر مسلمان کو حکم تھا کہ جو مسلمان جہاں کہیں بھی ہے بشرط طاقت مدینہ کی طرف ہجرت کر جائے۔ ورنہ اس کا شمار منافقین میں ہوگا۔ ان میں ایک طبقہ تو وہ تھا جو جانے کے لئے مالی اور دوسری استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ وہ تمام مظلومیت کے باوجود مجبوراً اپنی جگہ رہ گیا۔ ان کا شمار مستضعفین میں ہوا۔ دوسرا طبقہ وہ تھا جو اپنے دنیاوی مفاد کی خاطر ہجرت سے گریز کرتا تھا۔ یہ لوگ بظاہر اسلام میں داخل ہوچکے تھے۔ نماز روزہ وغیرہ بھی کرتے تھے لیکن کافروں کے ساتھ مل کر اسلام کے خلاف ان کی ہر کوشش اور کاوش میں شریک رہتے تھے۔ اس دوسرے طبقہ کے متعلق مسلمانوں میں دورائے ہوگئی تھیں ایک مکتب خیال کہتا تھا کہ یہ مسلمان ہیں۔ ہم ان کے خلاف کیسے قدم اٹھا سکتے ہیں۔ دوسرا مکتب خیال کہتا تھا کہ یہ منافق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں دوسرے مکتب خیال کا ساتھ دے کر صاف صاف اعلان کردیا کہ یہ منافقین ہیں۔ ان کی قسمت ہی میں گمراہی لکھی ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ ان سے دوستی اور محبت حرام ہے۔ جہاں ملیں ان کو پکڑ لو۔ یا قتل کردو کیونکہ ایسے لوگوں کا کفر و ارتداد ظاہر ہوگیا تھا اور نہ منافقین تو قتل نہیں کئے جاتے تھے۔ ان آیات میں کچھ دوسرے منافقین کا ذکر بھی ہے کہ وہ بظاہر ہجرت کرکے مدینہ آگئے ہیں لیکن وہ اسلام کے وفا دار نہیں ہیں۔ وہ اس لئے آگئے ہیں کہ کفر و اسلام کی مسلسل لڑائیوں سے ان کے مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اور ان کی قوم جیت نہیں رہی ہے۔ اگر ان کی قوم لڑائی میں غلبہ پاتی تو یہ منافقین اپنی قوم کی طرف سے لڑتے۔ اب اگر مجبوراً وہ پرسکون اور پر امن ہیں تو ان پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ منافقین کی تیسری قسم وہ ہے جن کا تعلق ایسی قوم سے ہے جس کے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ جب تک وہ امن سکون سے ہیں ان کے خلاف بھی ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ جب تک مکہ فتح نہیں ہوا تھا مومنین کو ہجرت کا حکم تھا۔ مومن بننے کے لئے ہجرت اور ایمان دونوں کی شرط تھی۔ صرف ہجرت یا صرف ایمان مستضعفین کے سوا کسی کے لئے کافی نہ تھا۔ علماء جمہور کے نزدیک فتح مکہ کے بعد ہجرت کے لئے یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے اور پوری امت کا اسی پر اجماع ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ وہ بدعمل ارتداد دائر الاسلام کو باوجود قدرت کے چھوڑ دینا ہے جو کہ مثل ترک اقرار بالاسلام کے علامت کفر کی تھی اور واقع میں وہ پہلے بھی مسلمان نہ ہوئے تھے اور اسی وجہ سے ان کو منافق کہا۔ 6۔ مطلب یہ کہ تم گمراہ کو مومن کہتے ہو حالانکہ وہ مومن ہے جس میں ایمان ہو اور ان میں وقت تک ایمان ہے نہیں تو کیا اب ایمان پیدا کرو گے جو ان کو مومن کہہ سکو، اور یہ محال ہے۔ پس ان کا مومن و مہتدی ہونا معلق لاملا ہے، اس لئے ان کو مومن کہنا مثل حکم بالمحال کے ہے۔ 7۔ پس ان لوگوں کو مومن نہ کہنا چاہئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منافق مسلمانوں میں بزدلی اور انتشار پیدا کرتے ہیں ‘ جس سے مسلمانوں کو چوکنا اور بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ مکہ معظمہ اور اس کے گردونواح میں ایسے لوگ اور قبائل موجود تھے جو دنیاوی اغراض اور تعلق داری کی بنا پر کفار کے ساتھ مسلمانوں سے بھی ہمدردی کا اظہار کرتے تھے۔ جب ہجرت کا فیصلہ کن حکم آیا کہ دارالکفر کو چھوڑ کر سب مسلمان دارالاسلام مدینہ میں جمع ہوجائیں تاکہ طاقت مجتمع، مرکز مضبوط، اور دین پر عمل کرنے کیلئے بہتر ماحول پاسکیں تو انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو ترجیح دینے کی بجائے کفار کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ مدینہ میں رہنے والے منافقین کی حالت بھی یہی تھی کہ جب کبھی فیصلہ کا وقت آتا تو ان کی ہمدردیاں کفار اور یہود و نصاری کے ساتھ ہوا کرتی تھیں۔ جس کا مظاہرہ وہ غزوۂ احد کے وقت کرچکے تھے۔ جو نہی مسلمانوں سے مشکل وقت گزر جاتا تو یہ لوگ قسمیں کھا کر اپنی صفائی پیش کرتے جس سے کئی سادہ لوح مسلمان متاثر ہو کر ان کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے حق میں اپنے ساتھیوں سے بحث کرتے تھے۔ اس صورت حال سے مسلمانوں کے درمیان فکری انتشار ہی نہیں بلکہ دو جماعتیں بننے کا خطرہ پیدا ہوگیا جس پر یہ کہہ کر توجہ دلائی گئی ہے کہ مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم منافقین کے بارے میں آپس میں ایک رہنے کے بجائے دو ہوتے جارہے ہو۔ کیا منافقین کی خاطر باہمی محبت کمزور اور اتحاد کو پارہ پارہ کرلو گے ؟ حالانکہ انہوں نے تمہارے مقابلے میں کفار کو ترجیح دی ہے۔ تم انہیں مخلص سمجھتے ہو جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اندرون خانہ تمہیں گمراہ کرنے اور نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ کیا تم ایسے لوگوں کو ہدایت دینا چاہتے ہو جو ہدایت حاصل کرنے کے بجائے تمہیں بھی اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں ؟ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں گمراہی میں زیادہ کردیا اور انہیں اسی طرف پھیر دیا ہے جدھر وہ رہنا اور جانا پسند کرتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اسے کوئی بھی ہدایت پر نہیں لاسکتا۔ مسائل ١۔ مسلمانوں کو منافقوں کی حمایت کرنا جائز نہیں۔ ٢۔ منافق کو اس کے کردار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ الٹا کردیتا ہے۔ ٣۔ جسے اس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٨٨ تا ٨٩۔ یہ لوگ کون تھے ان کے بارے میں کئی روایات آتی ہیں جن میں سے دو روایتیں اہم ہیں ۔ امام احمد (رح) نے بہز ‘ شعبہ ‘ عدی ابن ثابت ‘ عبداللہ ابن زید (رض) کی سند سے زید ابن ثابت (رض) سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف نکلے ‘ کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے وہ واپس ہوگئے ‘ ان کے بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی دو گروہوں میں بٹ گئے تھے ۔ ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ ان لوگوں کو قتل کردیا جانا چاہئے اور ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ قتل تو جائز نہیں ہے ‘ اس لئے کہ وہ مومن ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (٤ : ٨٨) اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ پاک ہے اور یہ ناپاک لوگوں کو اس طرح نکال پھینکے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو نکال دیتی ہے ۔ (صحیحین نے اسے شعبہ سے روایت کیا ہے) ۔ عوفی نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بظاہر مسلمان ہوگئے تھے اور مکہ میں مشرکین کی امداد بھی کرتے تھے ۔ یہ لوگ مکہ سے اپنی کسی ضرورت کے لئے نکلے ۔ وہ دل میں کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی مل گئے تو ہمیں ان کا کوئی ڈر نہ ہوگا ‘ جب مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ہوئی کہ یہ لوگ سفر پر ہیں تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے یہ کہا کہ نکلو اور ان بزدلوں کو قتل کر دو اس لئے کہ یہ لوگ ہمارے دشمن مشرکین کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن مسلمانوں کے ایک دوسرے گروہ نے کہا : سبحان اللہ “ (یا جس طرح انہوں نے کہا) کیا تم ایسے گروہ کو قتل کرتے ہو کہ انہوں نے وہ الفاظ ادا کئے جو تم نے ادا کئے ہیں ؟ محض اس لئجے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے وطن کو نہیں چھوڑا ہم ان کی جان ومال کو حلال کرلیں ۔ اس طرح اس مسئلے پر مسلمانوں کے دو فریق بن گئے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود تھے ۔ آپ نے دونوں میں سے کسی کی رائے کی تردید نہ کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (٤ : ٨٨) (روایت ابن ابو حاتم) اب سلمہ ‘ عکرمہ ‘ مجاہد اور ضحاک (رض) اجمعین وغیرہ سے ایسی ہی روایات منقول ہیں ۔ اگرچہ سند اور روایت کے اعتبار سے پہلی روایت زیادہ قوی ہے ‘ لیکن ہم دوسری روایت کے مضمون کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ منافقین مدینہ کے خلاف کسی وقت بھی قتال کا حکم صادر نہیں ہوا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ ان کے ساتھ جنگ کی ہے اور نہ انہیں قتل فرمایا ہے ۔ ان کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک دوسرا منصوبہ تھا ۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کی جائے اور خود مدینہ کی اسلامی سوسائٹی کو یہ موقعہ دیا جائے کہ وہ ان کو اگل کر رکھ دے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ مدینہ کے اردگرد منافقین کے جو رابطے تھے انہیں کاٹ دیں ۔ مثلا یہودی جو ان منافقین کو ورغلاتے تھے اور ان کے حامی تھے ان کو مدینہ اور پھر پورے جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا جائے ۔ رہی آیت زیر بحث تو اس میں تو حکم دیا جارہا ہے کہ زیر بحث منافقین کو قید کیا جائے جہاں ملیں انہیں قتل کردیا جائے ‘ لہذا یہ مناقین مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے علاوہ کوئی اور گروہ ہوگا ۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کی پکڑ دھکڑ کا ہجرت تک موقوف ومشروط ہے کیونکہ آیت میں ہے ۔ (آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم “۔ (٤ : ٨٩) ” لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ ہجرت سے منہ موڑیں تو ان کو پکڑو اور جہاں بھی ان کو پاؤ قتل کرو “۔ یہ تہدید ان لوگوں کے حق میں اس لئے آئی تاکہ وہ اس صورت حال سے نکل آئیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے حالات سے نکل آئے ہوں ‘ اس لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بارے میں یہ حکم نافذ نہیں فرمایا تھا لیکن (یھاجروا) کے لفظ سے یہ بات تو قطعا ثابت ہوجاتی ہے کہ زیر بحث منافقین اہل مدینہ سے نہ تھے ۔ مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ مدینہ کو ہجرت کر کے آجائیں ۔ یہ واقعہ لازما فتح مکہ سے پہلے کا ہوگا اور ہجرت تھی بھی فتح مکہ سے پہلے کیونکہ ہجرت کی تعریف یہ ہے کہ دارالکفر سے داراسلام کی طرف ہجرت کی جائے ۔ لوگ تحریک اسلامی سے آکر ملتے رہیں اور اسلامی نظام کے تحت آتے رہیں ۔ ورنہ ان کی زندگی یا تو کفر گزرے گی یا نفاق میں ۔ اسی سورت میں اس سبق کے بعد دوسرے سبق میں ایسے لوگوں پر سخت تقید وارد ہے جو ابھی تک مکہ کے دارالکفر میں مقیم تھے بغیر کسی عذر یا ضعف کے اور تھے مسلمان ۔ اس وقت ان کے لئے مکہ دارالکفر اور دارالحرب تھا اگرچہ وہ ان کا اصلی وطن تھا اور وہ اس میں مقیم تھے ۔ یہ ہیں وہ وجوہات جن کی بنا پر ہم دوسری روایت کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ کہ منافقین کا گروہ زیر بحث مکہ میں مقیم تھا ‘ یا مکہ کے اردگرد کسی آبادی میں تھا ۔ یہ لوگ اپنے منہ سے تو اسلام کا اقرار کرتے تھے اور اپنے عمل سے کافروں کی حمایت کرتے تھے ۔ غرض آیت زیر بحث کو ایک بار پھر پڑھئے : (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین واللہ ارکسھم بما کسبوا اتریدون ان تھدوا من اضل اللہ ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (٨٨) ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآء فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم ولا تتخذوا منھم ولیا ولا نصیرا “۔ (٨٩) (٤ : ٨٨۔ ٨٩) ” پھر تم کو کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہو رہے ہیں ‘ اور اللہ نے تو ان کو ان کے اعمال کے سبب الٹ دیا ہے ‘ کیا تم ان لوگوں کو راہ پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے اور جس کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کے لئے کوئی راہ نہ پاؤ گے ‘ ۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ‘ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ ‘ لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرلیں ‘ پھر اگر یہ اس شرط کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو ‘ مار ڈالو ‘ جہاں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ۔ “ ” ان آیات میں اس بات پر سخت نکیر ہے کہ منافقین کے بارے میں اختلاف رائے واقعہ کیوں ہوا اور ان کے بارے میں یہ حیرت انگیز موقف ہر فریق نے کیوں اپنایا ؟ اس لئے کہ اس موقف میں ایک فریق کی جانب سے بہت نرمی تھی اور اس بات کا اظہار ہو رہا تھا کہ ابھی مسلمانوں کا شعور اسلام کے بارے میں پختہ نہیں ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے یہ کہا کہ تم ایسے لوگوں کو قتل کرتے ہو جنہوں نے وہی الفاظ ادا کئے ہیں جو تم نے ادا کئے ہیں اور محض اس لئے کہ انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت نہیں کی ؟ کیا یہی بات ان کی مال وجان کو مباح کرنے کے لئے کافی ہے ؟ ان لوگوں کا تصور اسلام پختہ اس لئے نہ تھا کہ وہ صرف یہ بات پیش نظر رکھ رہے تھے کہ منافقین زیر بحث نے بھی اسی طرح کلمہ پڑھا ہے جس طرح ہم نے پڑھا ہے حالانکہ اس گروہ منافقین کے خلاف شواہد موجود تھے ۔ ایک تو ان کا اپنا قول کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ہمیں کچھ بھی نہ کہیں گے ‘ دوسرے یہ کہ اہل ایمان کے ایک گروہ نے بھی ان کے بارے میں یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے دشمنوں کی امداد کرتے ہیں ۔ ان شواہد کے باوجود ان لوگوں کا موقف ان منافقین کے بارے میں کمزور موقف تھا حالانکہ انہیں فیصلہ کن اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہئے تھا اس لئے کہ زبانی طور پر کلمہ شہادت پڑھنا اور عملا کفار کی امداد کرنا منافقت کی بین دلیل تھی ۔ ایسے لوگوں کے ساتھ کسی نرمی اور چشم پوشی کی ضرورت ہی نہ تھی ۔ یہ معمولی غلطی نہ تھی بلکہ اس سے تصور اسلام میں کمزوری کا اظہار ہو رہا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے اندر سخت تعجب کا اظہار کیا گیا اور سخت تنبیہ کی گئی ۔ رہے مدینہ کے منافقین تو ان کے بارے میں مسلمان فکری طور پر بالکل یکسو تھے کہ یہ منافق ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ چشم پوشی اس لئے اختیار کی گئی تھی کہ ایک خاص منصوبے کے تحت ایسا ہو رہا تھا ‘ وہ یہ کہ ان کے ظاہری حالات پر ہی ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے اور ایک وقت ایک انہیں مہلت دی جائے ۔ لیکن یہ ایک دوسری صورت حال تھی کہ اہل اسلام میں سے ایک گروہ ان کی طرف سے اس لئے مدافعت کر رہا تھا کہ انہوں نی بھی وہی کلمہ پڑھا ہے جو ہم نے پڑھا ہے اور زبان سے انہوں نے بھی شہادت دی ہے کہ اللہ ایک ہے اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں حالانکہ یہ لوگ مسلمہ طور پر دشمنان اسلام کے امداد کندہ تھے ۔ مسلمانوں کی اس فکری کمزوری کی وجہ سے اور ان کے درمیان اختلاف رائے کی وجہ سے (جبکہ منافقین کا نفاق بالکل واضح تھا) اس آیت میں شدید تنبیہ کی گئی ۔ اور پھر تنبیہ کے بعد اس بات کی وضاحت بھی کردی گئی کہ ۔ (واللہ ارکسھم بما کسبوا) (اللہ نے ان کو ان کے اعمال کی وجہ سے الٹ دیا ہے) تم ان کے بارے میں جھگڑتے ہو اور اللہ نے انکی بداعمالیوں اور ان کی بدنیتی کی وجہ سے انہیں ایسے حالات میں ڈال دیا ہے جن میں وہ الٹے نظر آرہے ہیں ۔ اللہ کی جانب سے انکے خلاف یہ گواہی ہے کہ وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل کی وجہ سے ناقابل رشک صورت حال میں پڑے ہیں۔ اس تنبیہ کے بعد ایک دوسری تنبیہ یہ کہ گئی ۔ (آیت) ” اتریدون ان تھدوا من اضل اللہ ) (کیا تم ان لوگوں کو راہ پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے) یعنی مسلمانوں میں سے جو فریق ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر رہا ہے اس کی منشا یہ تھی کہ انہیں راہ راست پر آجانے کا موقعہ دیا جائے تاکہ یہ منافقانہ رویہ اختیار کرنا چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے موقف کو نامناسب سمجھا اور منافقین کو ایسے حالات میں ان کے اعمال اور برے ارادوں کی وجہ سے ڈال دیا ہے لہذا ان کے ہدایت پانے کی امید فضول ہے ۔ (آیت) ” ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ ” جن کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کے لئے کوئی راہ نہ پاؤ گے “۔ اور اللہ لوگوں کو گمراہ اس لئے کردیتا ہے کہ وہ اپنی نیت و ارادے سے گمراہی کی راہ اپناتے ہیں ۔ پھر وہ گمراہی کے لئے سعی کرتے ہیں اور اس راستے میں بہت ہی دور چلے جاتے ہیں ۔ اتنے دور کہ ان کے لئے راہ ہدایت بند ہوجاتی ہے کیونکہ انہوں نے الٹ راہ اختیار کی ہوتی ہے اور ہدایت کے لئے اللہ کی امداد کے وہ طالب ہی نہیں رہے اور انہوں نے نشانات راہ کو گم کردیا ۔ اب ایک قدم آگے چلئے ! ان منافقین کے اصل موقف کا اظہار یوں ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ خود گمراہ ہوگئے ہیں اور اپنی نیت اور عمل کی وجہ سے وہ اس پوزیش کے مستحق ہوگئے ہیں جس میں وہ پڑے ہیں بلکہ وہ تو خود اہل اسلام کے بارے میں یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ بھی کفر ہی کا راستہ اختیار کرلیتے تو اچھا ہوتا ۔ (آیت) ” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآئ “۔ (وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ۔ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ) بیشک انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کرلیا ہے اگرچہ انہوں نے بھی وہی کلمہ پڑھا ہے جو مسلمان پڑھتے ہیں اور انہوں نے دونوں باتوں کی شہادت دے دی ہے لیکن ان شہادت کو انکا عمل جھٹلاتا ہے جس کے ذریعے یہ لوگ دشمنان اسلام کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن وہ اس حد پر بھی بس نہیں کرتے اس لئے کہ جو شخص کفر کو اپناتا ہے وہ کسی حد پر نہیں رکتا ۔ وہ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھتا جب تک اس پورے کرہ ارض پر سے اسلام اور مسلمان مٹ نہیں جاتے ۔ اس مذموم مقصد کو لئے وہ سعی مسلسل میں مصروف رہتا ہے ۔ وہ اس مقصد کے لئے جدوجہد کرتا ہے ‘ سازشیں کرتا ہے تاکہ موجودہ اہل اسلام بھی لوٹ کر کافر ہوجائیں اور اس طرح تمام لوگ برابر ہوجائیں ۔ زیر تبصرہ منافقین کے اس موقف کی یہ پہلی وضاحت ہے اور یہ وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ اس سے ان کے بارے میں اہل اسلام کی سوچ سے ہر قسم کی جھول دور ہوجاتی ہے ۔ یہ سوچ ان کے قول وعمل کی واضح شہادت پر قائم ہوجاتی ہے اور اب یہ سوچ تضاد سے خالی ہوتی ہے ۔ زبانی اظہار اسلام کی حقیقت کچھ نہیں رہتی جب تمام قرائن یہ بتاتے ہوں کہ ان لوگوں کا موقف منافقانہ ہے ۔ قرآن کریم مسلمانوں کے شعور کو ایک چٹکی بھرتا ہے جس سے ان کے شعور میں ایک خوفناک احساس ابھرتا ہے اور یہ احساس قرآن کے ان الفاظ سے ابھرتا ہے۔ (آیت) ” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآئ “۔ (وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ۔ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ) ‘ ۔ یہ خوف اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ اہل اسلام نے حال ہی میں کفر کو ترک کر کے اسلام کا مزہ چکھا تھا ‘ اور ابھی تک انہیں اس بات کا شعور تھا کہ ان کی زندگی میں کس قدر عظیم تبدیلی پیدا ہوئی ہے ۔ ان کا شعور کس قدر بلند ہوا ‘ ان کی عام سطح کس قدر بلند ہوئی اور جاہلیت کے مقابلے میں ان کی سوسائٹی کو اسلام میں کس قدر سربلندی نصیب ہوئی ۔ یہ فرق و امتیاز ‘ انکے شعور میں بھی تھا اور حقیقت واقعہ میں بھی ‘ اور یہ اشارہ ہی کافی تھا کہ وہ اس شخص کے دشمن بن جائیں جو انہیں دوبارہ ان سابقہ پستیوں کی طرف لے جانے کی تدابیر کر رہا تھا ۔ یعنی اس جاہلیت کی پستیوں کی طرف جس سے انہیں اسلام نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا تھا ۔ پھر انہیں ایک عام سطح پر ہی نہ چھوڑ دیا تھا بلکہ انہیں عمومی ترقی کے ذریعے بلند ترین چوٹی پر پہنچا دیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنی نظام تربیت اس حقیقت کا سہارا لے کر خطرناک حالات کے مقابلے میں اور آگے بڑھنے کے حالات میں مسلمانوں کو دشمن سے اس طرح خبردار کر کے سخت تاکیدی احکام دیتا ہے ۔ (آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم ولا تتخذوا منھم ولیا ولا نصیرا “۔ (٨٩) (٤ : ٨٩) ”‘ لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرلیں ‘ پھر اگر یہ اس شرط کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو ‘ مار ڈالو ‘ جہاں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ۔ “ اللہ تعالیٰ نے یہاں جو یہ کہا کہ ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ ‘ تو اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان خاندانی ‘ قبائلی روابط اور تعلقات باقی تھے ‘ اور مسلمانوں کے دلوں میں ان روابط کی وقعت تھی اور ہوسکتا ہے کہ یہ روابط ابھی تک بعض اقتصادی مفادات کی خاطر بھی ہوں ۔ اسلام کا یہ طریقہ تربیت جاہلیت کے تمام رہے سہے آثار وروابط کو بھی پوری طرح جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا ۔ اور جس طرح قرآن کریم تطہیر افکار کر رہا تھا اسی طرح امت مسلمہ کے لئے بین الاقوامی روابط کے اصول بھی طے کر رہا تھا ۔ قرآن کریم امت کو بتا رہا تھا کہ کوئی امت کبھی بھی صرف خاندانی اور قبائلی روابط پر وجود میں نہیں آسکتی اور خون اور رشتے کے روابط ‘ ایک ہی ملک اور علاقے میں رہائش کے روابط ‘ تجارتی اور دوسرے اقتصادی مفادات کے روابط کی اساس پر کوئی امت وجود میں آسکتی ہے ۔ امت ہمیشہ ایک مخصوص نظریہ حیات اور اس نظریہ حیات کی اساس پر اٹھنے والی سوسائٹی اور اجتماعی نظام کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ داراسلام کے باشندوں اور دارالحرب کے باشندوں کے درمیان دوستی اور ولایت کے تعلقات قائم نہیں رہ سکتے ۔ اس وقت درالحرب مکہ تھا جو مہاجرین کا وطن اصلی تھا اس لئے مکہ کے لوگوں حتی کہ زبانی طور پر اسلام کا اقرار کرنے والوں اور مدینہ کے مسلمانوں کے درمیان بھی دوستی اس وقت تک نہ ہو سکتی تھی جب تک وہ ہجرت نہ کرتے جو صرف اللہ کے لئے اور اللہ کی راہ میں ہو اور اس کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لئے نہ ہو ‘ یعنی صرف ایسے معاشرے کے قیام کے لئے ہو جو اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی گزار رہا ہو اور اس کے سوا کوئی غرض نہ ہو ۔ نہایت ہی پاک ‘ نہایت ہی فیصلہ کن اور نہایت ہی متعین مقصد کے ساتھ ‘ جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو ‘ کوئی خلط ملط نہ ہو ‘ اسلامی نظام حیات کے سوا کوئی ہدف نہ ہو اور نہ کوئی اور مصلحت ہو ۔ اگر یہ زبانی طور پر کلمہ اسلام پڑھنے والے پر شرط پوری کردیں ‘ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ دیں ‘ اپنے ملک اور مصلحتوں کو خیر باد کہہ دیں اور دارالاسلام کی طرف ہجرت کر آئیں تاکہ یہاں وہ اسلامی نظام کے تحت زندگی بسر کریں ‘ جو اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہے ‘ جس کے اندر اسلامی شریعت جاری ہے تو پھر وہ اسلامی معاشرے کے ممبر بن جائیں گے ۔ وہ امت مسلمہ کے ہم وطن ہوں گے ۔ اگر وہ یہ شرط تسلیم نہ کریں ‘ ہجرت کا انکار کردیں تو پھر انہوں نے زبانی طور پر جو کلمہ پڑھا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ اگر وہ یہ شرط قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (فخذوھم) انہیں پکڑ کر قید کر دو اور جہاں بھی تمہیں ملیں انہیں ۔ (واقتلوھم) قتل کر دو اور ان میں سے کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ مددگار ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ دو احکام جو دیئے ہیں ‘ یہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ لوگ مدینہ کے منافقین نہ تھے ‘ اس لئے کہ مدینہ کے منافقین کے ساتھ اسلامی انقلاب نے بالکل مختلف پالیسی اختیار کی تھی ۔ اسلام کی یہ پالیسی ہے کہ وہ اسلام کے مخالف عقائد رکھنے والے لوگوں کے ساتھ نہایت ہی فیاضانہ پالیسی اختیار کرتا ہے ۔ اسلام مخالف اسلام لوگوں کو ہر گز اس امر پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیں بلکہ اسلام مخالف اسلام مذاہب کے پیروکاروں کو یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے عقائد کا اظہار کریں ‘ اسلام کے بارے میں اپنے مخالفانہ نظریات کا بھی اظہار کریں اور خود دارالاسلام میں ایسا کریں ۔ ہاں ان کو یہ اجازت نہ ہوگی کہ وہ مسلمانوں کے اندر اپنے نظریات پھیلائیں یا اسلام کو برا بھلا کہیں ۔ اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ مسلمان اہل کتاب کو برا بھلا نہ کہیں ۔ لہذا یہ بات شک وشبہ سے بالا ہے کہ اسلام خود دارالاسلام کے اندر موجود اقلیتوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ خود اسلام کے بارے میں لعن طعن کریں ۔ اگرچہ ہمارے دور کے بعض لوگوں نے اس قدر توسع اور ڈھیل سے کام لیا ہے کہ وہ مخالف اسلام لوگوں کو دارالاسلام میں اسلام پر لعن طعن کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں ۔ بہرحال اسلام کی یہ بھی بڑی فیاضی ہے کہ وہ انہیں اسلامی نظریہ حیات قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا اور دارالاسلام میں ان کو جان ومال اور آبرو کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے ۔ انہیں اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ عمومی نظام (Civil code) کے علاوہ اپنے مخصوص معاملات میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلے بھی کریں۔ اسلام اپنے مخالفین کو کھلے بندوں اپنے نظریات پر قائم رہنے کی اجازت دیتا ہے ‘ لیکن اسلام یہ رعایت منافقین کو نہیں دیتا جو زبانی طور پر تو اظہار اسلام کرتے ہیں لیکن ان کا عمل اسلام کے مخالف ہوتا ہے ۔ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتتا جو اللہ کی توحید کے قائل تو ہیں ‘ اور کلمہ شہادت پڑھتے ہیں ‘ لیکن ان کے بعد اللہ کی خاص صفت ‘ صفت حاکمیت میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتے ہیں ‘ مثلا عوام کو حق قانون سازی دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے احبارو رہبان اور حضرت مسیح کو اللہ کے سوا رب بنایا ہے اس لئے نہیں کہ وہ ان لوگوں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ انہوں نے ان کو حلال و حرام مقرر کرنے کے اختیارات دے رکھے ہیں اور یہ اہل کتاب اس معاملے میں ان کی مکمل اطاعت کرتے ہیں ۔ نیز اسلام منافقین کے اس گروہ کے ساتھ بھی رواداری نہیں برتتا جو یہ شہادت دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے ‘ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور اس کے بعد وہ دارالکفر اور دارالحرب میں مقیم ہیں اور مسلمانوں کے دشمنوں کی امداد بھی کرتے ہیں ۔ یہ بات رواداری نہ ہوگی بلکہ یہ بدکرداری ہوگی ۔ اسلامی نظریہ حیات راواداری کا نظریہ ہے لیکن وہ بدکرداری اور عدم حمیت کا نظریہ نہیں ہے ۔ یہ ایک سنجیدہ تصور حیات اور ایک سنجیدہ نظام حیات ہے اور سنجیدگی اور حقیقت پسندی اور رواداری میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ البتہ حقیقت پسندی اور بدکرداری کے درمیان تضاد ضرور ہے ۔ یہ نکتے پہلی تحریک اسلامی کے لئے بھی قابل توجہ اور قابل غور تھے اور آج بھی ان میں تحریک اسلامی کے لئے اہم پیغام ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

منافقوں اور دشمنوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے روح المعانی صفحہ ١٠٧: ج ٥ میں مجاہد سے نقل کیا ہے کہ یہاں ان لوگوں کا بیان ہے جو مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ ہم مہاجر ہیں پھر وہ مرتد ہوگئے اور انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی کہ ہم مکہ معظمہ جاکر اپنا تجارتی سامان لے آئیں تاکہ تجارت کیا کریں، مسلمانوں کا آپس میں ان کے بارے میں اختلاف ہوا ایک جماعت نے کہا کہ یہ منافق ہیں دوسری جماعت نے کہا کہ یہ مومن ہیں۔ اللہ جل شانہٗ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کا نفاق کھول کر بیان فرما دیا۔ اور ان کو قتل کرنے کا حکم دیا، اور ضحاک سے نقل کیا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جو مکہ معظمہ ہی میں رہ گئے تھے انہوں نے اپنے ایمان کا اعلان تو کیا لیکن ہجرت نہیں کی ان کے بارے میں حضرات صحابہ کرام (رض) کا اختلاف ہوا کچھ لوگوں نے ان سے میل محبت باقی رکھی اور کچھ لوگوں نے ان سے بیزاری ظاہر کردی اور کہنے لگے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہ آئے اور ہجرت نہیں کی لہٰذا ان سے ہماری بیزاری ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اس آیت میں بتادیا کہ وہ لوگ منافق ہیں اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب تک وہ ہجرت کرکے نہ آئیں اس سے دوستی نہ رکھیں۔ ان دو روایتوں کے بعد صاحب روح المعانی نے بحوالہ بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی و احمد یوں نقل کیا ہے کہ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ احد کے موقعہ پر جب احد کی طرف روانہ ہوئے تو آپ کے ساتھ روانہ ہونے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے ان واپس ہونے والوں کے بارے میں حضرات صحابہ (رض) میں اختلاف ہوا ایک جماعت کہتی تھی کہ ان کو قتل کردیں اور دوسری جماعت کہتی تھی کہ قتل نہ کیے جائیں اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث صفحہ ٦٦٠: ج ٢ پر ہے اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کو کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو جماعتیں بن گئے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے اعمال بد کی وجہ سے واپس لوٹا دیا، اور ان کو گمراہ فرما دیا جسے اللہ نے گمراہ کردیا کیا تم ارادہ کرتے ہو کہ اس کو ہدایت دو ؟ اور فرمایا کہ جسے اللہ گمراہ فرما دے اس کے لیے تم کوئی صحیح راستہ پا ہی نہیں سکتے۔ اس کے بعد ان منافقین کے عزائم اور اردوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَآءً ) کہ یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجاؤ جیسا کہ انہوں نے کفر اختیار کیا اور اس طرح سے وہ اور تم برابر ہوجاؤ ایسے نالائقوں کو دوست نہ بناؤ ہاں اگر فی سبیل اللہ ہجرت کرلیں جس سے ان کا ایمان متحقق ہوجائے تو ان سے دوستی کی جاسکتی ہے۔ ہجرت کو لفظ فی سبیل اللہ کے ساتھ مقید فرمایا کیونکہ جو ہجرت اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو دنیاوی اغراض کے لیے ہو وہ ہجرت معتبر نہیں ہے۔ (آیات کا پورا مضمون سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات تینوں قسم کے منافقین کے بارے میں نازل ہوئیں لیکن تمام احکام سب کے بارے میں نہیں ہیں کیونکہ مدینہ منورہ میں جو منافقین تھے ان کو قتل نہیں کیا گیا۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

63 چوتھا حکم سلطانی :۔ راستہ میں مدینہ منورہ سے باہر جو منافق تمہیں ملے اسے بھی قتل کر ڈالو البتہ جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے اور غیر جانبدار ہیں ان کو قتل نہ کرو) یہاں سے منافقین کے دو گروہوں کا حکم بیان کیا گیا ہے ایک وہ منافقین جو مدینہ سے دوسرے شہروں میں نکل گئے تھے دوم وہ جو ایسے کافروں کے پاس جا کر پناہ گزین ہوگئے تھے جن کے اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ ہوچکا تھا۔ اس آیت میں المنافقین سے منافقین کا پہلا گروہ مراد ہے ان کے قتل کے بارے میں مسلمان دو فریقوں میں بٹ گئے ایک فریق نے کہا وہ منافق ہیں انہیں قتل کرنا چاہیے دوسرے فریق نے ان کے قتل میں توقف کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو زجر و توبیخ کے طور پر فرمایا کہ تم ان منافقین کے بارے میں دو فریق کیوں ہوگئے حالانکہ ان کے کرتوت اس بات کے متقاضی تھے کہ تم ان کے قتل میں ذرّہ برابر تامل نہ کرتے یہ ان کی بد عملی اور خباثت باطن ہی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان سے ہٹا کر کفر کی طرف دھکیل دیا۔ اَرْکَسَھُمْ رَدَّھُمْ اِلی الکفر (روح) ۔ یعنی اللہ نے ان کو کفر کی طرف الٹا دیا اور دھکیل دیا۔ وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ الخ۔ لَوْ مصدریہ ہے اور یہ ان منافقین کی ایک بہت بڑی خباثت کا بیان ہے۔ وہ بظاہر تو مسلمان ہیں اور مسلمان کہلاتے ہیں مگر ان کے دلوں میں وہی کفر و شرک ہے اور وہ دل سے چاہتے ہیں کہ جو لوگ خلوص دل سے ایمان لا چکے ہیں وہ پھر سے کافر ہوجائیں اور کفر و ضلالت میں ان کے ساتھ یکساں ہوجائیں۔ جو لوگ کفر اور گمراہی میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں تم ان کی رعایت مت کرو اور وہ جہاں بھی تمہیں مل جائیں بلا تامل ان کو قتل کرو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 پھر اے مسلمانو ! تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم ان منافقین کے بارے میں جو مدینہ کو چھوڑ کر مکہ والوں سے جا ملے یعنی دار السلام کو چھوڑ کر دارالکفر میں چلے گئے باہم اختلاف رائے رکھتے ہو اور وہ دو گروہ بن گئے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ان منافقوں کو ان کی کمائی کی وجہ ہے اور ان کے بد اعمالی کے سبب سے الٹا پھیر چکا ہے اور ان کو کفر میں لوٹا چکا ہے۔ کیا تم اے مسلمانو ! یہ ارادہ رکھتے ہو اور تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے لوگوں کو ہدایت کرو اور ایسے لوگوں کو راہ پر لے آئو جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے محروم کر رکھا ہے اور ان کی گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے محروم کر دے اور راہ سے ہٹا دے اور گمراہی میں چھوڑے رکھے تو اے مخاطب تو اس کے لئے مومن ہونے کی کوئی راہ نہ پائے گا۔ (تیسیر) رکس اور نکس ہم معنی ہیں کسی چیز کو پلٹ دینا اوندھا کردینا پائوں پکڑ کر الٹا لٹکا دینا۔ یہاں ظاہری اسلام سے حقیقی کفر کی طرف پھیر دینا مراد ہے۔ شان نزول کے متعلق چند روایتیں منقول ہیں لیکن ان سب میں ایک چیز نمایاں ہے وہ یہ کہ ایک ایسی جماعت کے متعلق مسلمانوں میں رائے کا اختلاف ہوا جو اپنے کو مسلمان کہتے ہوئے اور اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہوئے مدینہ آئی حالانکہ وہ مسلمان نہیں تھی مسلمانوں سے میل جول پیدا کیا۔ مسلمان اس کو مسلمان سمجھتے رہے پھر کس خاص بہانے سے مدینہ چھوڑ کر چلی گئی اور مکہ میں جا کر کفار سے مل گئی۔ بعض لوگوں کا خیال ہوا کہ وہ لوگ مسلمان ہیں محض اپنی ضرورت کے لئے مکہ گئے ہیں۔ بعض کی رائے یہ تھی کہ نہیں وہ کافر ہوگئے اور دارالسلام کو چھوڑ کر بلا کسی مجبوری کے دارالکفر میں چلے گئے اس لئے اب ان کے کافر ہونے میں کوئی شبہ نہ ہونا چاہئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس معاملہ میں خاموش رہے اسی اختلاف رائے کو دور کرنے کی غرض سے یہ آیتیں نازل ہوئیں اور اس بات کو واضح کیا گیا کہ جب یہ پارٹی آئی تھی اس وقت بھی مسلمان اس کی بد اعمالی کے باعث الٹا پھیر دیا تب تو اس کا کھلا ارتداد ظاہر ہوگیا اور ایسی حالت میں جب کہ ان کا ارتداد کھل گیا تو اب تم ان کے بارے میں اختلاف رائے کر رہے ہو تو کیا جن لوگوں کو ان کی بد اعمالی کے باعث اللہ تعالیٰ بےراہ کرچکا تم کو ان کی ہدایت کا خیال ہے اور تم یہ چاہتے ہو کہ جن کو خدا نے گم کردہ راہ کردیا ہے تم ان کو سیدھی راہ پر لے آئو اور کیا تم نہیں جانتے کہ جس کو خدا بےراہ رکھے تو اس کو راہ سے لگانے والا تم کو کوئی بھی نہیں مل سکتا۔ لہٰذا اس جماعت کے کفر میں تم کو باہم اختلاف نہیں کرنا چاہئے یہ اس آیت کا خلاصہ ہے جو ہم نے عر ض کردیا۔ اور یہ جو فرمایا بما کسبوا تو بظاہر اس موقعہ پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ان کا بلا ضرورت اور بلا مجبوری دار الاسلام کو چھوڑ کر دارالکفر میں چلا جانا ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ ان کی اور بد کرداریاں مراد ہوں جو عام طور سے کافر کیا کرتے ہیں۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ یہاں منافق فرمایا ہے ان لوگوں کو جو بظاہر میں بھی مسلمان نہ تھے لیکن حضرت کے ساتھ محبت اور ملاپ جتاتے تھے اس غرض سے کہ ان کی فوج ہماری قوم پر جاوے تو ہماری جان و مال بچ رہے جب مسلمان خبردار ہوئے کہ ان کی آمد و رفت اسی غرض کو وہ دل کی محبت سے نہیں تو بعضے کہنے لگے ان سے صحبت و ملاقات ترک کر یئے تاکہ ایک طرف ہوجاویں اور بعضوں نے کہا ملے جائیے اس میں شاید ایمان لادیں۔ اللہ نے فرمایا ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ ہے اس کا فکر تم کو کیا ضرور باقی ایسوں سے جو معاملت چاہئے سو آگے فرما دی۔ (موضح القرآن) ابن کثیر نے بہت اقوال نقل کئے ہیں مثلاً زید بن ثابت کا قول ہے کہ یہ لوگ وہ ہیں جو احد میں حضرت کے ساتھ نکلے تھے پھر پھرگئے کچھ لوگ کہتے تھے ان کو قتل کرو کچھ لوگ کہتے تھے ان کو چھوڑ دو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ یہ لوگ عبداللہ بن ابی کے ہمراہی ہیں جو لو لعلم قتالاً لا تبعنکم کو کہہ کر غزوہ احد سے لوٹ آئے تھے۔ حضرت عبدا للہ بن عباس کا قول بعض الفاظ کے فرق سے وہی ہے جو شاہ صاحب نے اختیار کیا ہے اس میں اتنا اور ہے کہ وہ بظاہر کلمہ اسلام پڑھتے تھے اور کافروں کی مدد کرتے تھے مکہ سے کسی کام کو نکلے تھے ان کے بارے میں مسلمانوں کی دورائیں ہوگئیں تھیں کچھ چاہتے تھے ان کو قتل کریں انہوں نے ہجرت نہیں کی کچھ کہتے تھے کہ یہ لوگ ہماری طرح کلمہ اسلام پڑھتے ہیں حضور اس بارے میں خاموش تھے مجاہد نے جو کچھ کہا وہ بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ اس کے قریب ہے اور ہم نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی کو اپنی تیسیر کا مبنی قرار دیا ہے اور مجاہد کے قول پر ان کو منافق کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے مدینے آ کر اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا اس وقت بھی وہ مسلمان نہ تھے بلکہ منافق تھے اور مدینہ میں منافقوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا اس لئے ان کو بھی کچھ نہیں کہا گیا اور چونکہ اس وقت غیر معذور بن پر ہجرت فرض تھی یہ ہوسکتا ہے کہ دار الاسلام کو چھوڑ کر دارالکفر کی جانب جانا ہی کفر ہو، جیسا کہ لحوق بدار الحرب کا اب بھی یہی حکم ہے۔ اسی بنا پر بعض مسلمان ان کو کافر کہتے ہوں اور بعض جو ان کو مسلمان کہتے تھے وہ یا تو اس مسئلے سے واقف نہ ہوں گے اور یا ان کے ترک کو ترک نہ سمجھتے ہوں گے بلکہ یہ خیال کرتے ہوں گے یہ لوگ اپنی تجارتی ضروریات کے باعث یا اپنا سامان وغیرہ لینے مکہ گئے ہوں گے انہوں نے مدینہ کو چھوڑا نہیں ہے۔ بہرحال ان آیتوں کے نزول نے ان کے کفر کو ظاہر کردیا۔ اب آگے ان مرتدین کی ایک اور تمنا کا ذکر فرماتے ہیں جس کا کفر ہونا بالکل ہی ظاہر ہے کیونکہ اس تمنا سے یہ معلوم ہوا کہ ان کو کفر میں غلو ہے اور وہ تم کو بھی اپنا ہی جیسا دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی اس تمنا کے بعد ان کی سزا اور ان سے ترک تعلقات وغیرہ کا حکم دیتے ہیں چناچہ ارشد ہوتا ہے۔ (تسہیل)