Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 93

سورة النساء

وَ مَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیۡہَا وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾

But whoever kills a believer intentionally - his recompense is Hell, wherein he will abide eternally, and Allah has become angry with him and has cursed him and has prepared for him a great punishment.

اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، اس پر اللہ تعالٰی کا غضب ہے ، اسے اللہ تعالٰی نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell to abide therein; and the wrath and the curse of Allah are upon him, and a great punishment is prepared for him. This Ayah carries a stern warning and promise for those who commit so grave a sin that it is mentioned along with Shirk in several Ayat of Allah's Book. For instance, in Surah Al-Furqan, Allah said, وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَـهَا ءَاخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِى حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ And those who invoke not any other god along with Allah, nor kill such person as Allah has forbidden, except for just cause. (25:68) Allah said, قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْياً Say: "Come, I will recite what your Lord has prohibited you from: Join not anything in worship with Him. (6:151) There are many Ayat and Hadiths that prohibit murder. In the Two Sahihs, it is recorded that Ibn Mas`ud said that the Messenger of Allah said, أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاء Blood offenses are the first disputes to be judged between the people on the Day of Resurrection. In a Hadith that Abu Dawud recorded, Ubadah bin As-Samit states that the Messenger of Allah said, لاَا يَزَالُ الْمُوْمِنُ مُعْنِقًا صَالِحًا مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا فَإِذَا أَصَابَ دَمًا حَرَامًا بَلَّح The believer will remain unburdened in righteousness as long as he does not shed prohibited blood. When he sheds forbidden blood, he will become burdened. Another Hadith, states, لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِم The destruction of this earthly life is less significant before Allah than killing a Muslim man (or woman). Will the Repentance of those who Commit Intentional Murder, be Accepted Ibn Abbas held the view that; the repentance of one who intentionally murders a believer, will not be accepted. Al-Bukhari recorded that Ibn Jubayr said, "The people of knowledge of Al-Kufah differed on this subject, I traveled to Ibn Abbas to ask him about it. He said, `This Ayah, وَمَن يَقْتُلْ مُوْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاوُهُ جَهَنَّمُ (And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell) was the last revealed (on this subject) and nothing abrogated it."' Muslim and An-Nasa'i also recorded it. However, the majority of scholars of the earlier and later generations said that; the killer's repentance can be accepted. If he repents, and goes back to Allah humbly, submissively, and performing righteous deeds, then Allah will change his evil deeds into good deeds and compensate the deceased for his loss by rewarding him for his suffering. Allah said, وَالَّذِينَ لاَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا اخَرَ (And those who invoke not any other god along with Allah), until, إِلاَّ مَن تَابَ وَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلً صَالِحًا (Except those who repent and believe, and do righteous deeds). (25:68-70) The Ayah we just mentioned should not be considered abrogated or only applicable to the disbelievers (who become Muslim), for this contradicts the general, encompassing indications of the Ayah and requires evidence to support it. Allah knows best. Allah said, قُلْ يعِبَادِىَ الَّذِينَ أَسْرَفُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُواْ مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ Say: "O My servants who have transgressed against themselves! Despair not of the mercy of Allah. (39:53) This Ayah is general, covering all types of sins, including Kufr, Shirk, doubt, hypocrisy, murder, sin, and so forth. Therefore, everyone who repents sincerely from any of these errors, then Allah will forgive him. Allah said, إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاء Verily, Allah forgives not that partners should be set up with Him (in worship), but He forgives except that (anything else) to whom He wills. (4:48) This Ayah is general and includes every sin except Shirk, and it has been mentioned in this Surah, both after this Ayah and before it, in order to encourage hope in Allah, and Allah knows best. It is confirmed in the Two Sahihs, that; an Israeli killed one hundred people then he asked a scholar, "Is it possible for me to repent?" So he replied, "What is there that would prevent you from repentance?" So he told him to go to another land where Allah was worshipped. He began to emigrate to it but died on the way, and the angel of mercy was the one to take him. Although this Hadith is about an Israeli, it is even more suitable for the Muslim community that their repentance be accepted. Indeed, Allah relieved Muslims from the burdens and restrictions that were placed on the Jews, and He sent our Prophet with the easy Hanifiyyah way (Islamic Monotheism). As for the honorable Ayah, وَمَن يَقْتُلْ مُوْمِنًا مُّتَعَمِّدًا (And whoever kills a believer intentionally), Abu Hurayrah and several among the Salaf said that; this is his punishment, if Allah decides to punish him. And this is the case with every threat that is issued for every sin. For instance, there could be good deeds that this person has done that would prevent him from being punished for that, and Allah knows best. Even if the murderer inevitably enters the Fire -- as Ibn Abbas stated because his repentance was not accepted, or he did not have good deeds to save him, he will not remain there for eternity, but only for a long time. There are Mutawatir Hadiths stating that the Messenger of Allah said, إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَان Whoever has the least speck of faith in his heart shall ultimately depart the Fire.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

93۔ 1 یہ قتل عمد کی سزا ہے۔ قتل کی تین قسمیں ہیں۔ (1) قتل خطا (جس کا ذکر ماقبل کی آیت میں ہے) (2) قتل شبہ عمد جو حدیث سے ثابت ہے۔ (3) قتل عمد جس کا مطلب ہے ارادہ اور نیت سے کسی کو قتل کرنا اور اس کے لیے وہ آلہ استعمال کرنا جس سے فی الواقع عادتاً قتل کیا جا رہا ہے جیسے تلوار، خنجر وغیرہ۔ آیت میں مومن کے قتل پر نہایت سخت وعید بیان کی گئی ہے مثلا اس کی سزا جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا نیز اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اور عذاب عظیم بھی ہوگا۔ اتنی سخت سزائیں بیک وقت کسی بھی گناہ کی بیان نہیں کی گئیں۔ جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ایک مومن کو قتل کرنا اللہ کے ہاں کتنا بڑا جرم ہے احادیث میں بھی اس کی سخت مذمت اور اس پر سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ (3) مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے یا نہیں ؟ بعض علما مزکورہ سخت وعیدوں کے پیش نظر قبول توبہ کے قائل نہیں۔ لیکن قرآن و حدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ خالص توبہ سے ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے (الا من تاب واٰمن وعمل عملا صالحا) (الفرقان۔ 70) اور دیگر آیات توبہ عام ہیں۔ ہر گناہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا یا بہت بڑا توبۃ النصوح سے اس کی معافی ممکن ہے یہاں اس کی سزا جہنم جو بیان کی گئی ہے اس کا مطلب ہے کہ اگر اس نے توبہ نہیں کی تو اس کی یہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ اس جرم پر اسے دے سکتا ہے اسی طرح توبہ نہ کرنے کی صورت میں خلود (ہمیشہ جہنم میں رہنے) کا مطلب بھی مکث طویل (لمبی مدت) ہے۔ کیونکہ جہنم میں خلود کافروں اور مشرکوں کے لیے ہی ہے علاوہ ازیں قتل کا تعلق اگرچہ حقوق العباد سے ہے جو توبہ سے بھی ساقط نہیں ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے بھی اس کی تلافی اور ازالہ فرما سکتا ہے اس طرح مقتول کو بھی بدلہ مل جائے گا اور قاتل کی بھی معافی ہوجائے گی۔ (فتح القدیر و ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٨] قتل خطا کے کفارے کی مختلف صورتیں اور توبہ کا طریقہ تو بیان کردیا گیا مگر کسی مومن کا قتل عمدً انتہائی شدید جرم ہے جس کا اس دنیا میں کفارہ ممکن ہی نہیں۔ قتل ناحق کسی غیر مسلم کا ہو تو وہ بھی شدید جرم ہے پھر اگر مومن کا ہو تو مزید شدید جرم بن جاتا ہے۔ نیز جرم بیان کرنے کے بعد اللہ کا غضب اور اس کی لعنت کے الفاظ سے اس جرم کی شدت واضح ہوجاتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ ایسے مجرم کی توبہ بھی قبول ہے یا نہیں ؟ تو اگرچہ اس میں علماء کا اختلاف موجود ہے تاہم سیدنا ابن عباس (رض) اسی بات کے قائل ہیں کہ ایسے مجرم کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے جہاں یہ بات واضح ہوتی ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے۔ ١۔ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ نے (اپنے خطبہ حجۃ الوداع) میں فرمایا && اللہ نے تم پر ایک دوسرے کے خون، مال اور آبرو اسی طرح حرام کردی ہیں جس طرح تمہارے اس دن (یوم النحر) کی تمہارے اس شہر (مکہ) کی اور تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) کی حرمت ہے۔ نیز فرمایا کہ میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا۔ && (بخاری، کتاب الحدود۔ باب ظہر المومن حمی الافی حد او فی حق) ٢۔ قتل ناحق اور قتل عمد :۔ سیدنا ابوبکر (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا && جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ && میں نے کہا && اے اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل تھا، مقتول کا کیا قصور ؟ && فرمایا && اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل کے درپے تھا۔ && (بخاری، کتاب الدیات۔ باب قول اللہ و من احیاھا ) ٣۔ سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا && تین آدمیوں پر اللہ (قیامت کے دن) سب سے زیادہ غضب ناک ہوگا۔ (١) حرم میں الحاد کرنے والا، (٢) اسلام میں طریقہ جاہلیت کا متلاشی اور (٣) ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب۔ && (بخاری، کتاب الدیات۔ باب من طلب دم امری بغیر حق) ٤۔ سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا && قیامت کے دن قاتل کی پیشانی کے بال اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوگا اور اس کے گلے کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا اور اللہ سے فریاد کرے گا کہ اے میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا تھا یہاں تک کہ عرش کے قریب لے جائے گا۔ راوی کہتا ہے کہ لوگوں نے ابن عباس (رض) کے سامنے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہی آیت پڑھی اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہے اور نہ بدلی گئی۔ پھر اس کی توبہ کیسے قبول ہوسکتی ہے ؟ (ترمذی، ابو اب التفسیر) ٥۔ سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ یہ آیت اخیر زمانہ میں نازل ہوئی (لہٰذا محکم ہے) اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا) قتل خطا کا حکم بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں قتل عمد ( قصداً قتل کرنے) کا حکم بیان فرمایا ہے، اس کا ایک حکم تو بیان ہوچکا ہے یعنی اس صورت میں قصاص یا دیت واجب ہے، یا مقتول کے وارث کچھ معاف کردیں۔ (دیکھیے البقرۃ : ١٧٨) یہاں صرف اس کے گناہ اور وعید کا ذکر ہے۔ متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس جرم کو اشراک باللہ کے ساتھ ذکر کیا ہے، یہاں فرمایا کہ اس کی جزا جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہے اور اللہ تعالیٰ اس پر غصے ہوگیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے عذاب عظیم تیار کیا ہے۔ اتنی سخت سزائیں یکجا ذکر کرنے سے اس گناہ کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے اور بظاہر یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مومن کو قصداً قتل کرنے والا ابدی جہنمی ہے اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔ مگر سورة فرقان (٦٨) میں قتل عمد کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے۔ اب بعض مفسرین کا کہنا تو یہ ہے کہ جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرنے کی توبہ اس وقت قبول ہے جب اس نے حالت کفر میں یہ قتل کیا ہو، مسلمان ہونے کے بعد کسی مسلم کو قتل کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں، بلکہ ” خالداً فیہا “ کے الفاظ سے اس کا ابدی جہنمی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ابن عباس (رض) کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ [ بخاری، التفسیر، سورة الفرقان : ٤٧٦٢ ] مگر اکثر سلف اس کی توبہ قبول ہونے کے قائل ہیں، کیونکہ 1 شرک باللہ سے بڑا کوئی گناہ نہیں، وہ توبہ سے معاف ہوسکتا ہے تو یہ بھی معاف ہوسکتا ہے۔ 2 اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ وہ آگ میں ہمیشہ رہے گا، فرمایا بلکہ ہے (کہ یہ جرم اتنا بڑا ہے) کہ اس کی جزا جہنم میں خلود ہے، باقی اللہ معاف کرنا چاہے تو توبہ کے بعد یا توبہ کے بغیر بھی معاف کرسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚ ) [ النساء : ٤٨ ] ” بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔ “ لہٰذا یہ اللہ کی مشیت پر ہے چاہے تو سزا دے کر معاف کر دے، چاہے تو ویسے ہی معاف کر دے۔ خصوصاً توبہ کے بعد تو واضح بشارت موجود ہے : ( لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ ) [ الزمر : ٥٣ ] ” اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، بیشک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ “ (3) بنی اسرائیل کا وہ مسلمان جس نے سو آدمی قتل کیے تھے، اس کا واقعہ بھی قتل عمد کی توبہ کے قبول ہوسکنے کی دلیل ہے۔ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء : ٣٤٧٠ ] بعض اہل علم نے فرمایا کہ وہ قاتل عمد ابدی جہنمی ہے جو اس عمل کو جائز سمجھے، کیونکہ شریعت کے حرام کام کو حلال سمجھنا کفر ہے اور جنت کی نعمتیں کفار پر حرام ہیں، فرمایا : ( اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ) [ الأعراف : ٥٠ ] ” بیشک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔ “ بیشک اللہ تعالیٰ نے (جنت کا پانی اور رزق) دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔ مگر اس صورت میں اس کے ہمیشہ جہنم میں رہنے کا باعث قتل عمد نہیں بلکہ کفر ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۗؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَيْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِيْمًا۝ ٩٣ عمد العَمْدُ : قصد الشیء والاستناد إليه، والعِمَادُ : ما يُعْتَمَدُ. قال تعالی: إِرَمَ ذاتِ الْعِمادِ [ الفجر/ 7] ، أي : الذي کانوا يَعْتَمِدُونَهُ ، يقال : عَمَّدْتُ الشیء : إذا أسندته، وعَمَّدْتُ الحائِطَ مثلُهُ. والعَمُودُ : خشب تَعْتَمِدُ عليه الخیمة، وجمعه : عُمُدٌ وعَمَدٌ. قال : فِي عَمَدٍ مُمَدَّدَةٍ [ الهمزة/ 9] وقرئ : فِي عَمَدٍ ، وقال : بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ، وکذلک ما يأخذه الإنسان بيده مُعْتَمِداً عليه من حدید أو خشب . ( ع م د ) العمد کے معنی کسی چیز کا قصد کرنے اور اس پر ٹیک لگانا کے ہیں اور العماد وہ چیز ہے جس پر ٹیک لگائی جائے یا بھروسہ کیا جائے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِرَمَ ذاتِ الْعِمادِ [ الفجر/ 7] جو ارم ( کہلاتے تھے اتنے ) دراز قد ۔ میں العماد سے وہ چیزیں مراد ہیں جن پر انہیں بڑا بھروسہ تھا محاورہ ہے ۔ عمدت الشئی کسی چیز کو سہارا دے کر کھڑا کرنا عمدت الحائط دیوار کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور العمود اس لکڑی ( بلی ) کو کہتے ہیں جس کے سہارے خیہا کو کھڑا کیا جاتا ہے اس کی جمع عمد آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ فِي عَمَدٍ مُمَدَّدَةٍ ، [ الهمزة/ 9] ( یعنی آگ کے ) لمبے لمبے ستونوں میں ۔ اور ایک قرات میں فی عمد ہے نیز فرمایا : ۔ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ستونوں کے بغیر جیسا کہ تم دیکھتے ہو ۔ نیز العمود ہر اس لکڑی یا لوہے کو کہتے ہیں جس پر سہارا لگا کر انسان کھڑا ہوتا ہے جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔ غضب الغَضَبُ : ثوران دم القلب إرادة الانتقام، ولذلک قال عليه السلام : «اتّقوا الغَضَبَ فإنّه جمرة توقد في قلب ابن آدم، ألم تروا إلى انتفاخ أوداجه وحمرة عينيه» «2» ، وإذا وصف اللہ تعالیٰ به فالمراد به الانتقام دون غيره : قال فَباؤُ بِغَضَبٍ عَلى غَضَبٍ [ البقرة/ 90] ، وَباؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ [ آل عمران/ 112] ، وقال : وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي [ طه/ 81] ، غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ المجادلة/ 14] ، وقوله : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ [ الفاتحة/ 7] ، قيل : هم اليهود «3» . والغَضْبَةُ کالصّخرة، والغَضُوبُ : الكثير الغضب . وتوصف به الحيّة والنّاقة الضجور، وقیل : فلان غُضُبَّةٌ: سریع الغضب «4» ، وحكي أنّه يقال : غَضِبْتُ لفلان : إذا کان حيّا وغَضِبْتُ به إذا کان ميّتا «5» . ( غ ض ب ) الغضب انتقام کے لئے دل میں خون کا جوش مارنا اسی لئے آنحضرت نے فرمایا ہے اتقو ا الغضب فانہ جمرۃ توقدئی قلب ابن ادم الم ترو الی امتقاخ اوداجہ وحمرتۃ عینیہ کہ غصہ سے بچو بیشک وہ انسان کے دل میں دہکتے ہوئے انگارہ کی طرح ہے تم اس کی رگوں کے پھولنے اور آنکھوں کے سرخ ہوجانے کو نہیں دیکھتے لیکن غضب الہیٰ سے مراد انتقام ( اور عذاب ) ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَباؤُ بِغَضَبٍ عَلى غَضَبٍ [ البقرة/ 90] تو وہ اس کے ) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہوگئے ۔ وَباؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ [ آل عمران/ 112] اور وہ خدا کے غضب ہی گرمحتار ہوگئے ۔ وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي [ طه/ 81] اور جس پر میرا غصہ نازل ہوا ۔ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ المجادلة/ 14] اور خدا اس پر غضب ناک ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ [ الفاتحة/ 7] نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا ۔ میں بعض نے کہا کہ مغضوب علیھم سے یہود مراد ہیں اور غضبۃ کے معنی سخت چٹان کے ہیں ۔ المغضوب بہت زیادہ غصے ہونے والا یہ سانپ اور تزر مزاج اونٹنی پر بھی بولا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ فلاں غضبۃ کے معنی ہیں فلاں بہت جلد غصے ہونے والا ہے ۔ بعض نے بیان کیا ہے کہ غضیت لفلان کے معنی کسی زندہ شخص کی حمایت میں ناراض ہونا ہیں اور غضبت بہ کے معنی کیس مردہ شخص کی حمایت کے لئے غضب ناک ہونا ۔ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔ عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) اونٹوں کے سوادیت کی ادائیگی امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ دیت اونٹوں دراہم، ودینار کی صورت میں ادا کی جاسکتی ہے درہموں کی مقدار دس ہزار اوردینار کی ایک ہزرا ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک دیت صرف اونٹوں اور سونے یا چاندی کی صورت میں ادا کی جاسکتی ہے ۔ امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے کہ سونے کی مقدار ایک ہزار دینار ہے اور چاندی کی مقدار بارہ ہزار درہم ہے امام مالک کا قول ہے کہ اہل شام اور اہل مصر سونے والے اور اہل عراق چاندی والے ہیں اور صحراؤں میں رہنے والے اونٹوں والے ہیں۔ امام مالک کا یہی بھی قول ہے کہ دیت میں اونٹوں والوں سے صرف اونٹ ، چاندی والوں سے صرف چاندی اور سونے والوں سے صرف سونا قبول کیا جائے گا، امام ابویوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ چاندی کی صورت میں دی جانے والی دیت کی مقدار دس ہزار درہم سونے کی ایک ایک ہزار دینار اور اونٹوں کی ایک سواونت ہیں جن لوگوں کے پاس گائیں ہوں گی وہ دوسوگائیں جن کے پاس بکریاں ہوں گی وہ دوہزار بکریاں اور جن کے پاس کپڑوں کے جوڑے ہوں گے وہ دوسویمنی جوڑے ادا کریں گے۔ دیت کے اندر بکریوں اور گایوں میں صرف وہی جانور قبول کیے جائیں گے جو ثنی ہوں یعنی گائے دو سال کی اور بکری ایک سال کی ، یا اس سے زائد عمر کے ہوں گے اور کپڑوں کے جوڑوں کی صورت میں صرف یمنی جوڑے قبول کیے جائیں گے جس میں ہرجوڑے کی قیمت پچاس یا اس سے زائد درہم ہوگی۔ ابن ابی لیلی سے مروی ہیے انہوں نے شعبی سے روایت کی ہے انہوں نے عبیدہ سلمانی سے انہوں نے حضرت عمر سے کہ آپ نے سونے والوں پر ہزار دینار ، چاندی والوں پر دس ہزار درہم گائے والوں پر دوسوگائیں بکری والوں پر دوہزار بکریاں کپڑے والوں پر دوسوجوڑے اور اونٹ والوں پر ایک سواونٹ مقرر کیے تھے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دیت درحقیقت جان کی قیمت ہے اور تمام کا اس پر اتفاق ہے کہ اس کی ایک متعین مقدار ہے جس پر نہ اضافے کی گنجائش ہے اور نہ ہی کمی کی ، نیز اسے اجتہاد رائے کے حوالے سے نہیں کیا گیا ہے، جس طرح تلف شدہ اشیاء کی قیمتوں اور مہرمثل کی مقدار کے تعین میں اجتہاد رائے سے کام لیا گیا ہے دس ہزار درہم کے اثبات پر سب کا اتفاق ہے اور اس سے زائد میں اختلاف ہے اس لیے دس ہزار سے زائد کا اثبات صرف توقیف کے ذریعے جائز ہوسکتا ہے۔ ہیشم نے یونس سے انہوں نے حسن سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے دیت میں دیے جانے والے سواونٹوں کی قیمت فی اونٹ بارہ سو کے حساب سے بارہ ہزار درہم لگائی تھی جب کہ حضرت عمر سے دیت میں دس ہزار درہم کی روایت موجود ہے یہ ممکن ہے کہ جن لوگوں نے آپ سے بارہ ہزار کی روایت نقل کی ہے انہوں نے دس درہم کو چھ مثقال کے ہم وزن لیا ہے ، جو دس درہم سات مثقال کے ہم وزن ہونے کی صورت میں دس ہزار درہم بن جاتے ہوں۔ حسن نے اس روایت میں ذکر کیا ہے حضرت عمر نے چاندی کی صورت میں دی جانے والی دیت کا مقدار کا حساب اونٹوں کی قیمت سے لگایا ہے لیکن اس بنا پر نہیں کہ دیت میں اونٹ اصل ہوتے ہیں۔ اس روایت کے علاوہ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے دیت کو چاندی کی صورت میں مقرر کیا تھا، یعنی دیت میں چاندی یادرہم ادا کرنے کا حکم دیا تھا، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ سے دیت کے سلسلے میں دس ہزار درہم کی روایت کی ہے۔ اگر کوئی شخص اس روایت سے استدلال کرے جسے محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے کہ حضور نے فرمایا، دیت کی رقم بارہ ہزار درہم ہے ، یا اس روایت سے جسے ابن ابی نجیح نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے دیت میں بارہ ہزار درہم کا فیصلہ سنایا تھا۔ نافع بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے اور شعبی نے حارث سے اور انہوں نے حضرت علی سے اسی طرح کی روایت کی ہے ان روایات کے سلسلے میں یہ جواب دیاجائے گا، کہ عکرمہ کی حدیث کو ابن عیینہ وغیرہ عمرو بن دینار سے ، وہ عکرمہ سے اور وہ حضور سے روایت کرتے ہیں اس سلسلہ روایت میں حضرت ابن عباس کا ذکر نہیں ہے اس طرح یہ روایت مرسل ہوگی۔ کہاجاتا ہے اس حدیث کو موصول قرار دینے میں ایک راوی محمد بن مسلم سے غلطی ہوئی ہے علاوہ ازیں اگر یہ ساری روایتیں درست بھی ہوجائیں تو اس میں یہ احتمال موجود ہے کہ بارہ ہزار درہم اس حساب سے بنتے ہوں کہ دس درہم چھ مثقال کے ہم وزن ہوں جب یہ احتمال پیدا ہوجائے تواحتمال کی بنا پر اضافے کا اثبات جائز نہیں ہوتا اور دس ہزار کا اثبات ہوجائے گا جس پر سب کا اتفاق ہے ۔ نیز سب کا اس پر اتفاق ہے کہ دینار کی صورت میں دیت کی مقدار ایک ہزار ہے دوسری طرف شریعت میں ہر دس درہم کو ایک دینار کی قیمت بنایا گیا ہے آپ نہیں دیکھتے کہ زکوۃ بیس مثقال سونے اور دوسودرہم میں واجب ہوتی ہے۔ اس طرح دوسودرہموں کو بیس دینار کے بالمقابل نصاب قرار دیا گیا ہے گویا ہر دس درہم ایک دینار کے بالمقابل ہوگئے اس لیے یہ چاہیے کہ دیت کے اندر بھی ہر دینار کے بالمقابل دس درہم رکھے جائیں۔ امام ابوحنیفہ نے تین اوصاف یعنی اونٹ ، سونا، اور چاندی کے علاوہ کسی اور جانور یا چیز کو دیت کے لیے مقرر نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دیت جان کی قیمت ہوتی ہے اور قیاس کا تقاضا تھا کہ اس کی روایت درہم ودینار کی شکل میں کی جائے جس طرح تمام دوسری تلف شدہ اشیاء کی قیمتیں ان سکوں میں ادا کی جاتی ہیں لیکن جب حضور نے جان کی قیمت اونٹوں کی شکل میں ادا کرنے کا حکم دیا تو امام ابوحنیفہ نے اس روایت پر عمل پیرا ہوکر ان کے سوا کسی اور صورت میں دیت کی ادائیگی کو واجب نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔ اہل کفر کی دیتیں امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد، زفر، عثمان البتی ، سفیان ثوری اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ کافر کی دیت ، مسلمان ، یہودی ، عیسائی ، معاہد اور ذمی کی دیت کی طرح ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ اہل کتاب کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے مجوسی کی دیت آٹھ سودرہم ہے اور ان کی عورتوں کی دیت اس کا نصف ہے امام شافعی کا قول ہے کہ یہودی اور عیسائی کی دیت ایک دیت کا تہائی ہے مجوسی کی دیت آٹھ سودرہم ہے اور عورتوں کی دیت اس سے آدھی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دیتوں میں مسلمانوں کے ساتھ ان کی مساوات کی دلیل یہ قول باری ہے (ومن قتل مومنا خطا ف تحریر رقبۃ ۔۔ تا۔۔۔۔ ان یصدقوا۔۔۔ تا۔۔۔ قول باری (وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق فدیۃ مسلمۃ الی اھلہ) دیت مال کی ایک معلوم مقدار کا نام ہے جو ایک آزاد کی جان کے بدل کے طور پر اد ا کی جاتی ہے۔ اسلام سے پہلے اور اسلام آنے کے بعد دیتیں لوگوں میں متعارف اور معلوم تھیں مومن کو خطا قتل کردینے کی صورت میں قول باری کے اندر کلام ان ہی دیات کی طرف راجع ہوا پھر جب قول باری (وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق فدیۃ مسلمۃ الی اھلہ) کا اس پر عطف ہوا تودیت سے مراد بھی وہی دیت ہوئی جس کا ابتداء میں ذکر ہوا تھا کیونکہ یہ اگر مراد نہ ہوتی تو یہ دیت نہ کہلاتی اس لیے کہ دیت جان کے بدل کی ایک معلوم مقدرا کا نام ہے جس میں نہ اضافہ ہوسکتا ہے نہ کمی۔ لوگ اس سے قتبل ہی دیتوں کی مقدار کے متعلق جانتے تھے انہیں مسلمان اور کافر کی دیتوں کے درمیان کسی فرق کا علم نہیں تھا، اس لیے یہ ضروری ہوگیا کہ کافر کے لیے جس دیت کا ذکر ہے یہ وہی دیت ہو جس کا مسلمان کے لیے ذکر ہوا ہے اور قول باری (فدیۃ مسلمۃ الی اھلہ) اس کی طرف راجع ہو جس طرح مسلمان کے لیے دیت کے ذکر سے یہ سمجھا گیا تھ ا کہ اس سے مراد ہی دیت ہے جو لوگوں کے درمیان معلوم ومتعارف تھی۔ اگر بات اس طرح نہ ہوتی توپھریہ لفظ مجمل ہوتا اور اسے بیان وتفصیل کی ضرورت ہوتی جب کہ اس کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اگریہ کہاجائے کہ قول باری (فدیۃ مسلمۃ الی اھلہ) اس پر دلالت نہیں کرتا کہ کافر کی دیت مسلمان کی دیت کی طرح ہوتی ہے جس طرح اس کی اس پر بھی دلالت نہیں ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہوتی ہے اور یہ بات عورت کو اس حکم سے خارج نہیں کرتی کہ اس کی بھی پوری دیت ہو۔ اس اعتراض کے جواب میں کہاجائے گا کہ معترض نے جو نکتہ اٹھایا ہے وہ دو وجوہ کی بنا پر غلط ہے اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں صرف مرد کا ذکر کیا ہے چناچہ ارشاد ہے ، (ومن قتل مومنا خطا) پھر فرمایا (وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق فدیۃ مسلمۃ الی اھلہ) ۔ جس طرح اس ارشاد کا تقاضا ہے کہ مسلمان کے لیے پوری دیت ہو اسی طرح یہ معاہد کے لیے بھی کمال دیت کا مقتضی ہے کیونکہ لفظ کے لحاظ سے دونوں ایک جیسے ہیں ، اور اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ لوگوں میں دیت کی مقدار متعارف ومعلوم تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عورت کی دیت پر دیت کے اسم کا اطلاق نہیں ہوتا اس کو دیت کا لفظ علی الاطلاق شامل نہیں ہوتا کہ بلکہ مقید صورت میں شامل ہوتا ہے آپ نہیں دیکھتے کہ عورت کی دیت کے لیے مطلق لفظ دیت صرف اس دیت پر محمول ہوتا ہے کہ جو لوگوں میں معلوم ومتعارف تھی اور وہ تھی پوری دیت اگر یہ کہاجائے کہ قول باری (وان کان من قوم بینکم بینھم میثاق) میں یہ احتمال ہے کہا اس سے وہ مومن مقتول مراد ہو جس کا تعلق مسلمانوں سے معاہدہ رکھنے والی قولم سے ہو، یہاں ایمان کا اس لیے ذکر نہیں کہ اس سے پہلے دوقسم سے مقتولوں کے سلسلے میں اس کا ذکر ہوچکا تھا اسلیے تیسرے قسم کے مقتول کے لیے اسے ضروری سمجھانہ گیا اور پہلے دو کے ساتھ اس کے ذکر پر اکتفا کرلیا گیا۔ اس کے جواب میں یہ کہاجائے گا کہ کئی وجوہ کی بنا پر یہ تاویل غلط ہے اول یہ کہ خطاب کی ابتدا میں خطا قتل ہونے والے مومن اور اس کے حکم کا ذکر ہے ۔ اس میں جو عموم ہے وہ تمام اہل ایمان کی شمولیت کا مقتضی ہے الایہ کہ کسی دلیل کی بنا پر بعض صورتیں مخصوص ہوجائیں اس لیے آیت کے سیاق میں اس حکم کے لیے مومن کے ذکراعادہ درست نہیں ہے جب کہ آیت کا اول حصہ اسے اورا سکے غیر دونوں کو شامل ہے۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ یہاں وہ مومن مراد نہیں ہے جس کا تعلق اس قوم سے ہو جس کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہو، دوم یہ کہ جب اس مقتول کو ایمان کے ذکر سے مقید نہیں کیا گیا تو سب کے لیے اس کے حکم کا اجر واجب ہوگیا یعنی اہل ایمان اور ہم سے معاہدہ کرنے والی قوم کے کفار سب اس میں شامل ہوگئے۔ اس لیے دلالت کے بغیر اس حکم کو صرف اہل ایمان کے ساتھ خاص کردینا اور اہل کفر کو اس میں شامل نہ کرنا درست نہیں ہے، سوم یہ کہ علی الاطلاق یہ کہا گیا ہے کہ مقتول کا تعلق معاہدین سے ہو جو اس بات کا مقتضی ہے کہ مقتول بھی اپنی قوم کی طرف ایک کافر معاہدہوگا۔ آپ نہیں دیکھتے جب کوئی شخص کسی کے متعلق یہ کہے کہ فلاں شخص کا تعلق اہل ذمہ سے ہے جو اس سے جو مفہوم سمجھ میں آئے گا وہ یہی ہوگا کہ یہ شخص بھی اہل ذمہ جیسا ذمی ہے۔ ظاہر قول باری (وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق) اس مفہوم کا موجب ہے کہ مقتول بھی اپنی قوم جیسا معاہد ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس مقتول کا حکم بیان فرماناچاہا جو مومن ہونے کے ساتھ ساتھ مشرکین کا رشتہ دار بھی ہو تو فرمایا (فان کان من قوم عدولکم وھو مومن ف تحریر رقبۃ مومنۃ) اگر مقتول کا تعلق تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو ایک مومن غلام آزاد کرنا ہوگا) ۔ یہاں مقتول کے ذکر کو لفظ سے مقید کردیا گیا ، اسے اگر مطلق رکھاجاتاتو اس سے یہی مفہوم ہوتا کہ مقتول اپنی قوم جیسا کافر شخص ہے۔ چہارم یہ کہ اگر معترض کی تاویل درست ہوتی تو اس صورت میں مقتول کے خاندان کو دیت حوالے کرنا درست نہ ہوتا کیونکہ اس کے اہل خاندان کافر ہوتے جو اس کے وارث نہیں بن سکتے تھے اس طرح مذکورہ بالاتمام وجوہ معترض کی اس تاویل کے فسادات اور دیت کی مساوات کی مقتضی ہیں۔ ہمارے اصحاب کے قول کی صحت پر وہ روایت بھی دلالت کرتی ہے جسے محمد بن اسحاق نے داؤد بن الحصین سے ، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جب قول باری (فان جاوک فاحکم بینھم) تاآخر آیت کا نزول ہواتو اس وقت صورت حال یہ تھی کہ اگر بنونضیر بنوقریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتے تونصف دیت ادا کرتے اور اگر بنوقریظہ بنونضیر کے کسی شخص کو ہلاک کردیتے تو پوری دیت ادا کرتے ، حضور نے دیت کے حکم میں ان سب کو یکساں قرار دے دیا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ روایت کے الفاظ ، ادوالدیۃ، (دیت ادا کردیتے) نیز سوی بینھم فی الدیۃ) آپ نے دیت کے حکم میں ان سب کو یکساں قرار دے دیا) میں اس دیت کی طرف اشارہ ہے جو پہلے سے معلوم تھی اور جس کے ذکر کے ساتھ کلام کی ابتداء کی گئی تھی ، یعنی پوری دیت اگر حضور نے بنوقریظہ کو نصف دیت کی طرف لوٹادیا ہوتا تو روایت کے الفاظ یہ ہوتے کہ آپ نے نصف دیت کے حکم میں ان دونوں قبیلوں کو یکساں قرار دے دیا۔ دیت میں یکساں قرار دینے کے الفاظ نہ ہوتے۔ اس پر حضور کا یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے کہ (فی النفس مائۃ من الابل) یہ حکم کافر اور مسلمان دونوں کو عام ہے مقسم نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ حضور نے قبیلہ بنوعامر کے دومقتولوں کی دیت دوآزاد مسلمانوں کی دیت کے برابر ادا کرنے کا حکم دیاجب کہ یہ دومقتول مشرک تھے۔ محمد بن عبدوس نے روایت بیان کی ہے کہ انہیں علی بن الجعد نے انہیں ابوبکر نے یہ سنایا کہ میں نے نافع کو حضرت ابن عمر کے واسطے سے حضور سے یہ روایت کرتے سنا ہے کہ آپ نے ایک ذمی کی دیت ایک مسلمان کی دیت کے برابر ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ دونوں روایتیں مسلمان اور کافر کی دیتوں کی مساوات کی موجب ہیں کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ حضور نے مذکورہ بالا مقتولین کی دیت کی ادائیگی کا حکم آیت (وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق فدیۃ مسلمۃ الی اھلہ) کے بموجب دیا ہوگا۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ دیت مسلمان کی دیت کی طرح تھی اور چونکہ آیت میں دیت کی مقدار بیان نہیں ہوئی ہے اس لیے حضور کا یہ اقدام آیت میں مذکورہ دیت کے لیے بیان اور وضاحت کی حیثیت کا حامل ہوگا اور یہ اصول ہے کہ جب حضور کا کوئی فعل کسی وارد حکم کے بیان اور وضاحت کی حیثیت کا حامل ہوتوا سے وجوب پر محمول کیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ نے ہیثم سے ، انہوں نے ابوالہیثم سے روایت کی ہے کہ حضور ، حضرت ابوبکر ، حضرت عمر، اور حضڑت عثمان سب کے سب اس بات کے قائل تھے کہ معاہد کی دیت کی تعداد وہی ہے جو ایک آزاد مسلمان کی دیت ہے۔ ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب زہری سے روایت کی ہے حضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت عثمان یہودیوں اور نصرانیوں کی دیت جب وہ معاہدے ہوتے مسلمان کی دیت کے برابر قرار دیتے تھے۔ سعید بن ایوب نے بیان کیا ہے کہ انہیں یزید بن ابی حبیب نے روایت کی ہے کہ انہیں جعفر بن عبداللہ بن الحکم نے خبردی ہے کہ رفاعہ سموء ل نامی یہودی شام میں قتل ہوگیا حضڑت عمر نے اسکی دیت میں ایک ہزار دینار دینے کا حکم دیا تھا۔ محمد بن اسحاق نے ابان بن صالح سے ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے حضرت ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ اہل کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت کی طرح ہے علقمہ، ابراہیم نخعی ، مجاہد، عطاء، اور شعبی کا بھی یہی قول ہے۔ زہری نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے ایک مسلمان نے ایک کافر معاہدہ کو قتل کردیا ، حضرت عثمان نے اس پر ایک مسلمان کی دیت کے برابر دیت کے لزوم کا فیصلہ دیا۔ یہ تمام روایات اور سلف کے مذکورہ بالا اقوال جو ظاہر آیت کے موافق ہیں دیتوں کے مسئلے میں مسلمان اور کافروں کے درمیان مساوات کے موجب ہیں سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا تھا، یہودی اور نصرانی کی دیت کی مقدار چار ہزار درہم ہے اور مجوسی کی دیت کی مقدار آٹھ سودرہم ہے۔ سعید کا قول ہے کہ حضرت عثمان نے معاہد کی دی ت کی مقدار کے سلسلے میں چارہزار درہم کا فیصلہ دیا تھا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دیتوں کے سلسلے میں ان حضرات سے اس کے خلاف بھی روایات منقول ہیں جن کا ہم نے ذکر کردیا ہے۔ اس مسئلے میں ہم سے اختلاف رکھنے والے حضرات کا اس روایت سے استدلال ہے جو عمرو بن شعیب نے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے کی ہے کہ جب حضور فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں داخ (رح) ہوئے تو آپ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کافر کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے ۔ اسی طرح اس روایت سے بھی استدلال ہے جو عبداللہ بن صالح نے بیان کی ہے انہیں ابن لہیعہ نے یزید نے ابی حبیب سے ، انہوں نے ابوالخیر سے ، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر سے کہ حضور نے فرمایا (دیۃ المجوس ثمان مائۃ ، مجوسیوں کی دیت کی رقم کی مقدار آٹھ ہزار ہے) ۔ ان کے جواب میں کہاجائے گا کہ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ مکہ مکرمہ میں حضور کے خطبے کو وہ صحابہ کرام بھی سن رہے تھے جن سے ہم نے دیت کی مقدار کی روایت کی ہے ، اگر مذکورہ بالا روایت کی بات درست ہوتی تو ان صحابہ کرام کو بھی یہ ضرور معلوم ہوتی جس کے نتیجے میں یہ حضرات اس بات کو چھوڑ کر کسی اور بات کو قبول نہ کرتے۔ نیز حضور سے مروی ہے کہ معاہد کی دیت مسلمان کی دیت کی طرح ہے ، نیز آپ نے بنوعامر کے دومقتولوں کی دیت دوآزاد مسلمانوں کی دیت کے برابر ادا کرنے کا حکم دیا تھا، یہ روایت اولی ہے کہ کیونکہ اس میں ایک زائد بات کا اظہار ہے۔ جب دوروایتوں میں تعارض ہوجائے تو ایسی صورت میں وہ بات اولی ہوگی جس کا ظاہر کتاب اللہ مقتضی ہوگا اور جس کی موافقت میں حضور سے تواتر کے ساتھ روایتیں نقل کی گئی ہوں گی، اور وہ یہ ہے کہ (الدیۃ مائۃ من الابل) اس میں مسلمان اور کافر کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے اس لیے دیتوں میں ان دونوں کا یکساں ہوناواجب قرار پایا۔ رہ گئی حضرت عقبہ بن عامر سے منقول روایت جو مجوسیوں کی دیت کے متعلق ہے تو اس کے جواب میں یہ کہاجائیگا کہ اس کے ایک راوی ابن لہیہ کی بنا پر یہ روایت انتہائی ضعیف ہے اور اس جیسی روایت قابل استدلال نہیں ہے ابن لہیعہ سے عبداللہ بن صالح نے جو روایتیں کی ہیں وہ خصوصی طور پر انتہائی ضعیف ہیں۔ اس سلسلے میں ابوعیاض سے جو روایت ہے وہ حضرت ابن عباس سے منقول روایت جیسی ہے قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ مسلمان ہے جو کافروں کے درمیان رہتاہو اور اسے کوئی مسلمان قتل کردے اور قاتل کو اس کے متعلق کوئی علم نہ ہو، اس صورت میں ایک غلام آزاد کیا جائے گا اور دیت واجب نہیں ہوگی، یہ بات اس صورت پر محمول ہے کہ وہ شخص دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے قتل ہوجائے۔ مغیرہ نے ابراہیم سے اس آیت کے متعلق روایت کی ہے کہ اس سے مراد وہ مومن ہے جو قتل ہوجاتا ہے اور اس کی قوم مشرک ہوتی ہے اور حضور کے ساتھ ان کا کوئی معاہدہ نہیں ہوتا، ایسی صورت میں قاتل ایک غلام آزاد کرے گا، اگر حضور کے ساتھ ان کا معاہدہ ہو تو اس صورت میں قاتل اس کی دیت ان رشتہ داروں کو اداکرے گاجوحضور کے ساتھ معاہدے میں شریک ہوں گے۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ یہ ایک بےمعنی تاویل ہے اس کی وجہ یہ ہے مقتول کے رشتہ دار کافر ہونے کی بنا پر اس کے وارث نہیں ہوسکیں گے تو وہ اس کی دیت کیسے لے سکیں گے اور اگر اس کی قوم اہل حرب یعنی مسلمانوں سے برسرپیکار ہو اور یہ خود دارالاسلام کا باشندہ ہو تو اس صورت میں اس کی دیت بیت المال کے لیے واجب ہوگی ، جس طرح ایک مسلمان دارالاسلام میں قتل ہوجائے اور اس کا کوئی وارچ نہ ہوتوایسی صورت میں اس کی دیت بیت المال کو ادا کی جائے گی۔ ایک مسلمان دارلحرب میں رہتا ہو اورہماری طرف ہجرت کرنے سے پہلے قتل ہوجائے اس کے متعلق فقہاء امصار کے درمیان اختلاف رائے ہے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف کا مشہور روایت کی رو سے ۔ نیز امام محمد کا قول ہے کہ ایک حربی اگر مسلمان ہوجائے اور ہماری طرف ہجرت کرنے سے پہلے دارالحڑب میں امن لے کرجانے والے کسی مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوجائے تو قتل خطا کی صورت میں قاتل پر کفارہ کے سوا اور کوئی چیز عائد نہیں ہوگی۔ اگردو مسلمان امن لے کردارلحرب میں داخل ہوجائیں اور ایک کے ہاتھوں دوسراقتل ہوجائے تو قتل عمد اور قتل خطا دونوں صورتوں میں قاتل پر دیت عائد ہوگی اور قتل خطا کی صورت میں کفارہ بھی ادا کرنے پڑے گا، اگر یہ دونوں قیدی بن کر دارلحرب پہنچ جائیں اور پھر ایک کے ہاتھوں دوسرا قتل ہوجائے تو اس صورت میں امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق قتل خطا میں قاتل پر صرف کفارہ لازم آئے گا۔ امام ابویوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ قاتل پر قتل خطا اور عمد دونوں میں دیت لازم ہوگی، بشر بن الولید نے امام ابویوسف سے روایت کی ہے کہ ایک حربی دارالحرب میں مسلمان ہوجاتا ہے اور ہماری طرف آنے سے پہلے کسی مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوجاتا ہے توقاتل پر استحسانا دیت لازم ہوگی۔ اگر وہ نومسلم مسلمان کے کھودے ہوئے کنویں میں گر کریا اس کے بنائے ہوئے پرنالے کے نیچے دب ک رہلاک ہوجاتا ہے تو ان صورتوں میں وہ کوئی تاوان ادا نہیں کرے گا، لیکن یہ روایت نہ صرف امام ابویوسف کے مشہور قول کے خلاف ہے بلکہ خلاف قیاس بھی ہے ، امام مالک کا قول ہے کہ جب کوئی شخص دارالحرب میں مسلمان ہوجائے اور پھر ہمارے ملک میں انے سے پہلے قتل ہوجائے تو قتل خطا کی صورت میں قاتل پر دیت اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔ امام مالک کا قول ہے کہ آیت (فان کان من قوم عدولکم وھو مومن ف تحریر رقبۃ مومنہ) کا تعلق اس صلح کے ساتھ ہے جو حضور اور اہل مکہ کے درمیان ہوئی تھی کیونکہ جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ وارث قرار نہیں پاتا۔ لوگ ہجرت کی بنا پر ایک دوسرے کے وارث قرار پاتے تھے ، ارشاد باری ہے (والذین امنواولم یھاجروا مالکم من ولایتھم من شئی حتی یھاجرو، جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی توجبتک وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے) ۔ اسی طرح ہجرت نہ کرنے والے مسلمان کے کوئی ورثاء نہ ہوتے جو اس کی وراثت کے مستحق قرار پاتے اس لیے مقتول ہونے کی صورت میں اس کی دیت واجب نہ ہوتی) ۔ پھریہ حکم قول باری (والوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب الل) کی بنا پر منسوخ ہوگیا ۔ حسن بن صالح کا قول ہے کہ جو شخص دشمن کی سرزمین میں مقیم رہے خواہ اس نے دین اسلام کیوں نہ قبول کرلیاہو، لیکن قدرت کے باوجود وہ مسلمانوں کے علاقے کی طرف نقل مکانی نہیں کرتا تو اس کے بارے میں احکامات وہی ہوں گے جو مشرکین کے متعلق ہیں۔ اور جب کوئی حربی مسلمان ہوکراہل حرب کے علاقے میں مقیم رہے جبکہ اسے نقل مکانی کی قدرت حاصل ہوتویہ مسلمان نہیں کہلائے گا، اور اس کی جان ومال پر وہی احکام نافذ ہوں گے جو اہل حرب کی جان ومال پر نافذ ہوتے ہیں۔ حسن کا قول ہے جب کوئی مسلمان دارالحرب میں چلاجائے تو خواہ وہ اسلام سے ارتداد اختیار نہ بھی کرے ، دارالاسلام کی سکونت ترک کرنے کی بنا پر وہ مرتد شمار ہوگا، امام شافعی کا قول ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی مسلمان کو جنگ یاحملے کے دوران دارالحرب میں قتل کردے اور اسے اس کے اسلام کے متعلق کوئی علم نہ ہوتوایسی صورت میں قاتل پر نہ تودیت لازم آئے گی، اور نہ ہی قصاص ۔ البتہ اسے کفارہ ادا کرنا ہوگاخواہ وہ مسلمان قیدی کی صورت میں وہاں ہویا امن لے کر وہاں گیاہویاوہاں مسلمان ہوگیا ہو لیکن اگر قاتل کو اس کے مسلمان ہونے کا علم ہو اورپھروہ اسے قتل کردے تو اس صورت میں اس سے قصاص لیاجائے گا۔ فقہاء کے ان اقوال پر تبصرہ کرتے ہوئے ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث آیت میں مقتول سے مراد یا تو وہ حربی ہے جو دارلحرب میں مسلمان ہوجاتا ہے اور پھر ہماری طرف ہجرت کرکے چلے آنے سے پہلے ہی قتل ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ہمارے اصحاب کا قول ہے یا اس سے مراد وہ مسلمان ہے جس کی اہل حرب کے ساتھ رشتہ داریاں ہوں اس لیے کہ قول باری (فان کان من قوم عدولکم) میں ان دونوں معانی کا احتمال موجود ہے ، یعنی یہ مقتول اہل دارلحرب سے بھی ہوسکتا ہے اور دارلحرب کا رشتہ دار بھی ہوسکتا ہے۔ اگرہم ظاہر آیت کوا سکی اصلی حالت پر رہنے دیتے ہیں تو اس مسلمان مقتول کی دیت ضرورساقط کردیتے جودارالاسلام میں قتل ہوتا اور دارلحرب میں اس کے رشتہ دار موجود ہوتے اس لیے کہ ظاہری آیت کا یہی تقاضا ہے لیکن چونکہ اہل اسلام کا ا س پر اتفاق ہے کہ ایسا شخص اگر دارالاسلام میں قتل ہوجائے تودارالحرب میں اس کے رشتہ داروں کی موجودگی اس کی دیت یاقصاص کے سلسلے میں عائد ہونے والے حکم کو ساقط نہیں کرتی۔ اس لیے آیت سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ اس سے مراد وہ مسلمان مقتول ہے جو دارالحرب کا باشندہ ہو اورا بھی تک ہجرت کرکے ہمارے علاقے میں پہنچ نہ گیا ہو۔ اس کے قاتل پر قتل خطا کی وجہ سے کفارہ لازم آئے گا، دیت لازم نہیں آئے گی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے مقتول کے سلسلے میں کفارہ واجب کیا ہے دیت واجب نہیں کی۔ کیونکہ کسی نص میں کسی اور نص کے بغیر اضافہ جائز نہیں ہوتا اس کی وجہ یہ ہے کہ نص میں اضافہ اس کے نسخ کا موجب ہوتا ہے۔ اگریہ کہاجائے کہ اپ نے قول باری (ومن قتل مومنا خطا) کی بنا پر دیت کیوں واجب نہیں کی تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ زیر بحث آیت میں مذکورہ اس مومن سے مراد وہ مومن لیناہرگز درست نہیں ہے جس کا ذکر آیت کی ابتداء میں ہوا ہے۔ اس لیے کہ اس میں دیت اور غلام کی آزادی دونوں کا ایجاب ہے اس لیے اس پر عطف کرکے یہ شرط لگانا ممتنع ہے کہ وہ اہل دارالحرب میں سے ہو پھر اس میں ہم غلام آزاد کرنا واجب کردیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے اول خطاب میں شروع ہی سے دیت کے ساتھ اسے بھی واجب کردیا ہے۔ نیز قول باری (فان کان من قوم عدولم وھو مومن) نئے سرے سے ایک کلام کی ابتداء ہے جس کا خطاب میں پہلے ذکر نہیں گزرا ہے اس لیے یہ کہنادرست نہیں ، اعط ھذارجلا وان کان رجلا فاعطفہ ھذا) یہ چیز کسی آدمی کودے دو ، اور اگر آدمی ہوتویہ چیز اسے دے دو ) یہ ایک فاسد کلام ہے جسے کوئی حکم اور دانا انسان اپنی زبان سے ادا نہیں کرسکتا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ زیر بحث آیت میں مذکورہ مومن جسے پہلے مومن پر معطوف کیا گیا ہے وہ خطاب کے اول حصے میں داخل نہیں ہے۔ اس پر سنت کی جہت سے بھی دلالت ہورہی ہے ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی انہیں ابوداؤد نے ، انہیں ہناد بن السری نے ، انہیں ابومعاویہ نے اسماعیل سے ، انہوں نے حضرت جریر بن عبداللہ سے کہ حضور نے قبیلہ خثعم کی طرف مسلمانوں کی ایک فوج روانہ کی ان میں سے کچھ لوگوں نے سجدہ میں پڑکر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی لیکن انہیں قتل کرنے کا سلسلہ تیز رہا۔ یہ بات حضور کو جب پہنچی تو آپ نے ان مقتولین کی آدھی آدھی دیتیں ادا کرنے کا حکم دیا، اور ساتھ ہی فرمایا (انا بری من کل مسلم یقیم بین اظھر المشرکین ، میں ہراس مشرکین سے بری الذمہ ہوں جس نے مشرکین کے درمیان سکونت اختیار کررکھی ہو) ۔ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ، وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا لاتری نارھما) مسلمان اور مشرک کے گھروں میں جلنے والی آگ کی روشنی ایک دوسرے کو نظر نہ آئے، گویا جب فاصلہ اتنا ہوگا توسمجھا جائیگا کہ مسلمان مشرک کے ساتھ اقامت گزیں نہیں ہے۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں محمد بن علی بن شعیب نے ، انہیں ابن عائشہ نے ، انہیں حماد بن مسلمہ نے حجاج سے، انہوں نے اسماعیل سے ، انہوں نے قیس سے ، انہوں نے حضرت جریر بن عبداللہ سے کہ حضور نے فرمایا : (من قام مع المشرکین فقد برات منہ الذمہ اوقال لاذمۃ لہ، جو مسلمان مشرکین کے ساتھ قیام پذیر ہو اس سے ہم بری الذمہ ہیں یایوں فرمایا اس سے ہماری ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اس حدیث کے ایک راوی بن عائشہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو مسلمان ہوجانے کے بعد بھی مشرکین کے ساتھ قیام پذیرہوتا ہے اگر ان مشرکین پر مسلمانوں کے حملے کے دوران وہ قتل ہوجائے تو اس کی دیت نہیں ہوگی، اس لیے حضور کا ارشاد ہے ، اس سے ہماری ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اس روایت کے الفاظ (انابری منہ) اس پر دلالت کرتے ہیں کہ ایسے آدمی کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے جس طرح اہل حرب کے خون کی مسلمانوں پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی، حضور نے پہلی روایت کے بموجب آدھی دیت ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یاتوہوسکتی ہے جس مقام پر ان لوگوں کو قتل کیا گیا تھا، اس کے متعلق یہ شک تھا کہ آیایہ دارالسلام کے علاقے کے اندر ہے یادارالحرب کے یا یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ حضور نے تبرع اور نیکی کے طور پر ایسا کرنے کا حکم دیا اس لیے اگر پوری دیت واجب ہوتی تو آپ نصف دیت ادا کرنے کا ہرگز حکم نہ دیتے۔ ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی، انہیں عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ، انہیں شیبان نے ، انہیں سلیمان بن المغیرہ نے ، انہیں حمید بن ہلال نے کہ میرے پاس ابوالعالیہ اور میرے ایک دوست دونوں آئے ہم اٹھ کر بشیر بن عاصم لیثی کے پاس پہنچے ابوالعالیہ نے ان سے خطاب کر کے فرمایا کہ ان دونوں کو حدیث سنائیے۔ اس پر بشیر نے کہا مجھے یہ روایت عقبہ بن مالک لیثی نے سنائی ہے ان کا تعلق بشر کے خاندان سے تھا، روایت یہ ہے کہ حضور نے ایک دستہ روانہ کیا، اس نے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ اس گروہ میں سے ایک آدمی الگ ہوگیا، مسلمانوں کے دستے کا ایک آدمی تلوار لے کر اس کے پیچھے چل پڑا، جب اس نے تلوار لہرائی تو پیچھے رہ جانے والاشخص کہنے لگا کہ میں مسلمان ہوں۔ لیکن اتنی دیر تک مسلمان کی تلوار کی وار اس پرپڑچ کی تھی، چناچہ وہ قتل ہوگیا، یہ بات حضور کے علم میں لائی گئی تو آپ نے سخت کلمات فرمائے، قاتل نے یہ سن کر عرض کیا اس نے صرف قتل سے بچنے کے لیے یہ الفاظ کہے تھے ، حضور نے یہ سن کر کئی مرتبہ اس شخص کی طرف سے اپناچہرہ مبارک دوسری طرف کرلیا، اس وقت چہرے پر ناگواری کے آثار واضح طور پر نظر آرہے تھے اور پھر فرمایا، ان اللہ ابی علی ان قتل مومنا، اللہ تعالیٰ نے اس بات سے انکار کردیا ہے کہ میرے ہاتھ سے کوئی مسلمان قتل ہوجائے) آپ نے یہ فقرہ تین بار دہرایا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس روایت میں حضور نے مقتول کے ایمان کی خبر دے دی لیکن قاتل پر دیت واجب نہیں کی اسلیے کہ مقتول حربی تھا اس نے اسلام لانے کے بعد ہماری طرف ہجرت نہیں کی تھی۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ہے انہیں ابوداؤد نے ، انہیں حسن بن علی اور عثمان بن ابی شیبہ نے ان دونوں کو یعلی بن عبید نے اعمش سے ، انہوں نے ابوظبیاں سے ، انہیں حضرت اسامہ بن زید نے بتایا کہ حضور نے قبیلہ جہینہ کے علاقے کے ایک مقام حرقات کی طرف ہمیں ایک دستے کے ساتھ روانہ کیا۔ دشمنوں نے ہمارے مقابلے کی ٹھانی لیکن بھاگ کھڑے ہوئے ہمیں ان کا ایک آدمی ہاتھ آگیا جب ہم نے اسے قابو کرلیاتو اس نے کلمہ پڑھنا شروع کردیا لیکن ہم نے اسے مار مار کر ہلاک کردیا۔ جب میں نے حضور سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا، قیامت کے دن اس مقتول کے پڑھے ہوئے کلمہ ، لاالہ الا اللہ کا تمہاری طرف سے کون ذمہ اٹھائے گا) ۔ میں نے عرض کیا کہ اس نے ہمارے ہتھیاروں سے ڈر کر یہ کہا تھا، آپ نے یہ سن کر فرمایا پھر تم نے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہیں دیکھا تمہیں معلوم ہوجاتا کہ اس نے اپنے بچاؤ کی خاطر یہ کہا تھا یابچاؤ کی خاطر نہیں کہا تھا، قیامت کے دن اس کے لاالہ الا اللہ کا تمہاری طرف سے کون ذمہ دار ہوگا) ۔ حضور یہ کلمات بار بار دہراتے رہے حتی کہ میری تمنایہ ہوئی کہ کاش، میں آج ہی مسلمان ہواہوتا، یہ روایت بھی ہمارے قول پر دلالت کرتی ہے کہ کیونکہ نبی کریم نے حضرت اسامہ پر کوئی چیز واجب نہیں کی تھی۔ یہ روایت امام شافعی پر حجت ہے ان کا قول ہے کہ اگر مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو دارالحرب کے اندر یہ جانتے ہوئے قتل کردے گا کہ وہ مسلمان سے ، اس پر قصاص واجب ہوگا، اس حدیث میں مذکورہ واقعہ اس قول کے خلاف ہے، اس لیے کہ حضور نے اس مقتول کے مسلمان ہونے کی خبر دی لیکن حضرت اسامہ پر نہ تودیت واجب کی اور نہ ہی قصاص ، رہ گیا امام مالک کا یہ قول کہ آیت (فان کان من قوم عدولکم ) میں اس شخص کا ذکر ہے جس نے مسلمان ہونے کے بعد ہجرت نہ کی ہو اور اب یہ حکم قول باری (واولوالارحام بعضھم اولی ببعض ) کی وجہ سے منسوخ ہوچکا ہے۔ تویہ کسی دلالت کے بغیر قرآن کے ایک ثابت حکم کے نسخ کا محض دعوی ہے ، جبکہ ہجرت کی بنا توارث کے حکم کی منسوخی اور رشتہ داری کی بنا پر اس کا اثبات اس حکم کے نسخ کا موجب نہیں بن سکتا بلکہ یہ حکم ازخود ثابت وقائم ہے، میراث کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں ہجرت کی بنا پر توارث کے حکم کے نافذ العمل ہونے کے دوران ایسے رشتہ دار بھی ہوتے تھے جو ہجرت نہ کرنے کے باوجود بھی ایک دوسرے کے وارث بن جاتے تھے۔ ہجرت صرف مہاجر اور غیر مہاجر کے درمیان میراث کے خاتمے کا عمل کرتی تھی، رہ گئے وہ لوگ جو ہجرت کرکے نہیں آئے تھے وہ دوسرے اسباب کی بنا پر ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ اگرصورت حال امام مالک کے قول کے مطابق ہوتی تو پھر مقتول کی دیت اس کے ان رشتہ داروں کو ادا کرنا واجب ہوتا جو ہجرت کرکے نہیں آئے تھے کیونکہ یہ بات تو واضح ہے ، کہ جو لوگ ہجرت کرکے نہیں آئے تھے، ان کی میراث یونہی بےکاری پڑی رہنے نہیں دی جاتی تھی ، کہ اس کا مستحق ہی کوئی نہ ہو۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہجرت سے قبل قتل ہوجانے والے کی دیت نہ تو اس کے مہاجر رشتہ داروں کو دیناواجب کیا اور نہ ہی غیر مہاجر رشتہ داروں کو تو اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ مقتول ابھی تک اہل حرب کے حکم میں تھا، اور اس لیے اس کے خون کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ قول باری (فان کان من قوم عدولکم) سے بھی یہی بات معلوم ہورہی ہے کہ جب تک وہ ہجرت کرکے تمہارے پاس نہ آجائے اس وقت تک اس کا شمار اہل حرب میں سے ہوگا، اور وہ اپنے پہلے حکم پر باقی رہے گا، جو یہ ہے کہ اس کے خون کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ اگرچہ اس کا خون بہانا ممنوع ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے خون کی بےقیمت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کافروں اور مشرکوں کی طرف اس کی نسبت بعض دفعہ اس طرح درست ہوجاتی ہے کہ وہ ان کے علاقے کا ہوتا ہے خواہ ان کے ساتھ اس کی کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی لیکن ایک شہر یا ایک گاؤں یا ایک گوشہ ان سب کے یکجا ہونے کا سبب بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اسلام لانے کے بعد بھی اس شخص کی نسبت ان ہی لوگوں کی طرف کی اس لیے کہ وہ ان کے علاقے کا باشندہ تھا، اور اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ اس کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ حسن بن صالح کا یہ قول کہ مسلمان جب دارلحرب میں چلاجائے تو وہ مرتد ہوجاتا ہے کہ کتاب اللہ اور اجماع امت کے خلاف ہے اس لیے کہ ارشاد باری ہے (والذین امنواولم یھاجروا مالکم من ولایتھم من شئی حتی یھاجرو) اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو دارالحرب میں مقیم رہنے کے باوجود اسلام لانے پر مسلمان قرار دیا، اور ہم پر ان کی نصرت واجب کردی ۔ چنانچہ فرمایا (وان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر، اور اگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد کے طلب گار ہوں توت مپران کی مدد ضروری ہے اگر حسن بن صالح کی بات درست ہوتی تو مسلمان تاجروں کے لیے امان لے کردارلحرب میں داخل ہوناجائز نہ ہوتا اور اگر وہ داخل ہوجاتے تومرتد قرار پاتے حالانکہ یہ کسی اہل علم کا قول نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اس روایت سے استدلال کرے جو ہمیں عبدالباقی بن قانع نے بیان کی انہیں اسماعیل بن الفضل اور عبدون المروزی نے انہیں قتیبہ بن سعید نے انہیں حمید بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت جریر سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ (اذا ابق العبد الی المشرکین فقد حل دمہ، جب کوئی غلام بھاگ کر مشرکین کے پاس چلاجائے تو اس کا خون حلال ہوجائے گا) توہم کہیں گے ہمارے نزدیک یہ روایت اس صورت پر محمول ہے جب کوئی غلام اسلام سے ارتداد اختیار کرکے مشرکین سے جاملے۔ اس لیے کہ غلام کا اپنے آقا کے پاس سے بھاگ کھڑا ہونا اس کے خون کو مباح نہیں کرتا، اور دارالحرب میں جانکلنا ایساہی ہے جس طرح کوئی مسلمان تاجر امان کے ساتھ وہاں داخل ہوجائے۔ اس لیے دارالحرب میں جانکلنا اس کے خون کو مباح نہیں کرے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ جو مسلمان دارالحرب میں کسی مسلمان کو قتل کردے اور اسے مقتول کے متعلق کچھ علم نہ ہو تو اس پر کچھ لازم نہیں ہوگا، اور اگر ا سے مقتول کے مسلمان ہونے کا علم ہوگاتو اس سے قصاص لیاجائے گا، امام شافعی کے اس قول میں تناقض ہے کیونکہ جب یہ بات ثابت ہوجائے گی، کہ ایسے شخص کے خون کی قیمت ہے تو قتل عمد اور قتل خطا کے حکم میں اس لحاظ سے فرق نہیں ہوگا کہ دونوں صورتوں میں اس کے خون کا بدل واجب ہوگا یعنی عمد کی صورت میں قصاص اور خطا کی صورت میں دیت۔ لیکن جب خطا کی صورت میں قاتل پر کوئی چیز عائد نہیں ہوگی توپھرعمد کا حکم بھی یہی حکم ہوگا۔ گزشتہ سطور میں ہم نے جو دلائل بیان کیے ہیں ان سے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اسلام لانے کے بعد دارالحرب میں قیام پذیر انسان کے خون کی ہماری طرف ہجرت کرکے آجانے سے پہلے کوئی قیمت نہیں ہوتی اور وہ اس حرب کے حکم پر باقی رہتا ہے اگرچہ اسکے خون بہانے کی ممانعت ہوتی ہے۔ اس بنا پر ہمارے اصحاب نے ایسے شخص کو حربی جیسی حیثیت دے دی یعنی اس کے مال کو تلف کرنے والا کوئی تاوان نہیں بھرے گا، اس لیے کہ اس کی جان تلف کرنے والے پر کوئی تاوان نہیں تو اس کا مال تلف کرنے والے پر بطریق اولی کوئی تاوان نہیں ہوناچاہیی اور اس جہت سے اس کا مال حربی کے مال کی طرح ہوگا۔ اسی بنا پر امام ابوحنیفہ نے ایسے شخص سے اس طریقے پر لین دین کو جائز قرار دیا ہے جس طریقے پر دارالحرب میں حربی سے لین دین کیا جاتا ہے یعنی ایک درہم کے بدلے دودرہم وغیرہ۔ دارالحرب میں قید کے اندر پڑے ہوئے شخص کو امام ابوحنیفہ نے اس شخص جیسا قرار دیا ہے جو وہاں مسلمان ہوکر ہجرت کرنے سے پہلے رہتا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں قیدی کی امامت امان کے تحت نہیں ہوتی بلکہ وہ وہاں مقہور و مغلوب ہوتا ہے۔ جب یہ دونوں اس جہت سے یکساں ہوگئے تو اس کے قاتل سے تاوان کے سقوط کا حکم بھی یکساں رہے گا، اور ان دونوں کے لحاظ سے اس حکم میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم قتل کی قسمیں اور ان کے احکامات ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قتل کی چار قسمیں ہیں ، واجب ، مباح، ممنوع، اور وہ جو نہ واجب ہو نہ مباح ہو، اور نہ ہی ممنوع۔ پہلی قسم ہے جس کا تعلق ہمارے خلاف برسرپیکار اہل حرب کے اس قتل سے ہے جو میدان جنگ میں ان کے گرفتار ہونے یا امان حاصل کرنے یا معاہدہ ہونے سے قبل وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اس قتل کا دائرہ صرف مردوں تک محدود ہوتا ہے اس میں وہ عورتیں نہیں آتیں جو جنگوں میں حصہ نہیں لیتی ہیں اور نہ ہی بچے آتے ہیں جن میں ہتھیار اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہوتی اسی طرح ان لوگوں کو قتل کرنا بھی واجب ہے جو مسلح بغاوت پر اترآئیں اور قتل وغارت گری شروع کردیں اور پھر توبہ کرنے سے پہلے امام المسلمین کے ہاتھ آجائیں۔ اسی طرح باغیوں کو جب وہ مسلمانوں سے برسرپیکار ہوجائیں قتل کرنا واجب ہے نیز اس شخص کا قتل بھی ہم پر واجب ہے جو کسی بےگناہ انسان کو جان لینے کے درپے ہوجائے۔ اسی طرح جادوگر کا قتل ، محصن زنا کار کا رجم کے ذریعے قتل اور ہراس شخص کا قتل جو حد اور سزا کے طور پر تمام صورتیں واجب قتل کے تحت آتی ہیں۔ مباح قتل کی صورت وہ قتل ہے جو کسی مقتول کے ولی کے حق میں قصاص لینے کی بنیاد پر ہو واجب ہوتا ہے ولی کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ قاتل کو یاتوقتل کردے یا اسے معاف کردے ، اس صورت میں قتل مباح ہوتا ہے واجب نہیں ہوتا، اسی طرح اہل حرب اگر ہمارے قابو میں آجائیں تو امام المسلمین کو اختیار ہوتا ہے کہ انہیں تہ تیغ کردے یا ان کی جان بخشی کردے اسی طرح دارالحرب میں داخل ہونے والاشخص جسے کسی حربی کو قتل کردینایا اسے گرفتار کرلینا ممکن ہو وہ اسے قتل بھی کرسکتا ہے اور اگر چاہے توگرفتار بھی کرسکتا ہے۔ ممنوع قتل کی کئی صورتیں ہیں، ایک صورت وہ ہے جس میں قصاص واجب ہوتا ہے اگر کوئی شخص دارالاسلام میں کسی مسلمان کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لے اورس میں کوئی شک وشبہ نہ ہو کہ اس نے عمدا اس فعل کا ارتکاب کیا ہے تو اس میں قاتل پر قصاص واجب ہوتا ہے دوسری صورت وہ ہے جس پر قصاص واجب نہیں ہوتا بلکہ دیت واجب ہوتی ہے یہ قتل شبہ عمد ہے۔ نیز باپ کا اپنے بیٹے کو قتل کردینا، اسی طرح امن لے کردارالسلام مین آنے والی حربی کا نیز معاہد کا اور شبہ کی بنیاد پر کسی کا قتل بھی اس میں شامل ہے قتل کی ان تمام صورتوں میں قصاص ساقط ہوجاتا ہے اور دیت واجب ہوجاتی ہے تیسری صورت وہ ہے جس میں کوئی چیز واجب نہیں ہوتی اگر دارالحرب میں کوئی شخص مسلمان ہوجائے اور ہماری طرف ہجرت کرکے آنے سے پہلے قتل کردیاجائے توقاتل پر نہ قصاص واجب ہوتا ہے اور نہ دیت۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق اگر دارالحرب میں کوئی مسلمان قیدی قتل ہوجائے توقاتل پر کوئی چیز عائد نہیں ہوتی ، اگر کوئی آقا اپنے غلام کو قتل کردے تو اس کا بھی یہی حکم ہے ۔ قتل کی یہ تمام صورتیں ممنوع ہیں اور ان میں قاتل پر تعزیر کے سوا اور کوئی چیز واجب نہیں ہوتی۔ قتل کی چوتھی قسم جو نہ واجب ہوتی ہے نہ مباح، اور نہ ہی ممنوع، اس کی صورتیں یہ ہیں کہ کوئی کسی کو غلطی سے قتل کردے ، یا بھول کر اس کی جان لے لے یا کوئی دیوانہ یابچہ کسی کو ہلاک کردے یا نیند کی حالت میں کوئی کسی کو مارڈالے، قتل کی اس چوتھی قسم کا حکم ہم نے سابق میں بیان کردیا ہے۔ قول باری (وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق فدیۃ مسلمۃ الی اھلہ، اگر مقتول کا تعلق اس قوم سے ہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو تو اس کے وارثوں کو خون بہادیاجائے گا اور ایک مومن غلام آزاد کرنا ہوگا۔ حضرت ابن عباس ، شعبی، قتادہ ، اور زہری کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ ذمی ہے جو خطا قتل ہوجائے اس کے قاتل پر دیت اور کفارہ دونوں چیزیں واجب ہوں گی، یہی ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے ابراہیم، حسن اور جابر بن زید کے قول کے مطابق آیت سے مرادیہ ہے اگر قتل ہوجانے والامسلمان اس قوم سے تعلق رکھتاہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہوتودیت ادا کی جائے گی اور غلام آزاد کیا جائے گا۔ یہ حضرات ذمی کے قاتل پر کفارہ کے وجوب کے قائل نہیں ہیں، امام مالک کا یہی مسلک ہے ہم نے گذشتہ صفحات میں واضح کردیا ہے کہ ظاہر آیت اس بات کا مقتضی ہے کہ اس میں مذکور مقتول سے وہ کافر شخص مراد ہے جس کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہو نیز یہ کہ اس مقام پر کسی دلالت کے بغیر ایمان کی شرط کو مضمر کرنا درست نہیں ہے۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اہل دارالحرب میں سے کسی مومن کے قتل کا حکم بیان کرنا چاہاتو ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (فان کان من قوم عدولکم وھو مومن ف تحریر رقبۃ مومنہ) ۔ اللہ تعالیٰ نے ا س مقتول کو ایمان کے وصف سے متصف بیان کیا اس لیے کہ اگر اس مقتول کے ذکر کو ایمان کی شرط سے مطلق رکھاجاتا تواطلاق کا تقاضا یہ ہوتا کہ مقتول کافر ہو اور اس کا تعلق ہماری دشمن قوم سے ہو۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ کافر معاہدے کے قاتل پر دیت واجب ہوتی ہے یہ بات آیت سے اخذ ہوتی ہے اس بنا پر ضروری قرار پایا کہ زیر بحث آیت میں مقتول سے کافر معاہد مراد لیاجائے۔ واللہ اعلم کیاقتل عمد میں کفارہ واجب ہوتا ہے ارشاد باری ہے (ومن قتل مومنا خطا ف تحریر رقبۃ مومنہ) اس آیت میں قتل خطا میں کفارہ کے ایجاب کا حکم منصوص ہے ، قتل عمد کا ذکر اس قول باری (کتب علیکم القصاص فی القتلی) میں ہوا۔ نیز فرمایا (النفس بالنفس ) اور اس حکم کو قتل عمد کے ساتھ خاص کردیا، جب قتل عمد اور قتل خطا دونوں میں ہر ایک بعینہ ذکر ہو اورہر ایک کے حکم کو نصا بیان کردیاگیا تواب ہمارے لیے اس منصوص حکم کے دائرے سے باہر نکل کر اس میں کسی قسم کا اضافہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی ، کیونکہ منصوص احکامات کو ایک دوسرے پر قیاس کرنا بالکل درست نہیں ہے۔ ہمارے تمام اصحاب کا یہی قول ہے لیکن امام شافعی کا قول ہے کہ قتل عمد کے مرتکب پر کفارہ بھی لازم ہے ظاہر ہے کہ قتل عمد میں کفارہ کے اثبات سے نص کے حکم میں اضافہ لازم آتا ہے جبکہ نص کے حکم میں صرف ایسے حکم کے ذریعے اضافہ ہوسکتا ہے جو خود بھی منصوص ہو اور اس میں پہلے حکم کو منسوخ کردینے کی صلاحیت ہو۔ نیز کفارات کے احکامات کا قیاس کے ذریعے اثبات جائز نہیں ہے ان کے اثبات کا ذریعہ یاتوتوقیف ہے یا اتفاق امت ہے نیز جب اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے مقتولوں میں سے ہر ایک کا حکم منصوس طریقے سے بیان فرمادیا اور حضور نے بھی فرمادیا (من ادخل فی امرنا مالیس منہ فھورد) ۔ جوشخص ہماری شریعت میں ایسی چیز داخل کردے گا جو اس میں سے نہ ہو، اس چیز کو ٹھکرا دیاجائے گا) اسی بنا پرجوشخص قتل عمد کے مرتکب پر کفارہ واجب کرے گا وہ ایسی چیز داخل کرنے والا قرار پائے گا جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگریہ کہاجائے کہ قتل خطا میں کفارہ واجب ہے تو قتل عمد میں بطریق اولی واجب ہونا چاہیے اس لیے کہ قتل خطا کے مقابلے میں قتل عمد زیادہ گھناؤنا فعل ہے تو اس کے جواب میں کہاجائے گا، کہ اس کفارہ کالزوم اور استحقاق گناہ کی بنا پر نہیں ہوا تھا، کہ اس میں گناہ کی شدت کا اعتبار کیا جاتا کیونکہ قتل خطا کا مرتکب گناہ گار نہیں ہوتا۔ اس لیے اس کفارہ میں گناہ کا اعتبار ساقط ہے۔ نیز حضور نے بھول جانے والے پر سجدہ سہو واجب کردیا ہے اور عامد یعنی جان بوجھ کر خلاف نماز حرکت کرنے والے پر سجدہ سہو واجب نہیں ہے حالانکہ دوسرے کی حرکت پہلے کی حرکت کے مقابلے میں زیادہ سخت ہے۔ اگرشوافع اس حدیث سے استدلال کریں جسے ضمرہ نے ابراہیم بن ابی عیلہ نے عریف بن الدیلی سے اور انہوں نے حضرت واثلہ بن الاسقع سے روایت کی ہے کہ حضور ہمارے پاس ایک قتل کے سلسلے میں تشریف لائے تھے جس کا ارتکاب ہمارے ایک آدمی نے کیا تھا، اور اس طرح اپنے لیے جہنم کی آگ واجب کرلی تھی۔ آپ نے ہم سے فرمایا تھا قاتل کی طرف سے غلام آزاد کرواللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے قاتل کے ایک عضوکو جہنم کی آگ سے آزاد کردے گا، اس کے جواب میں یہ کہاجائے گا کہ اس حدیث کی ابن المبارک اور ابراہیم بن ابی عیلہ کے بھائی ہانی بن عبدالرحمن نے بھی ابوعیلہ سے روایت کی ہے لیکن اس میں ، اوجب بالقتل) یعنی آدمی کو قتل کرکے اپنے لیے جہنم کی آگ واجب کرلی تھی) کے الفاظ نہیں ہیں۔ مذکورہ بالا راوی ضمرہ بن ربیعہ کے مقابلے میں فن روایت کے لحاظ سے اثبت ہیں۔ علاوہ ازیں اگر اس حدیث کا ثبوت ضمرہ کی روایت کے مطابق ہوجائے پھر بھی مخالف کے قول کے حق میں اس کی دلالت نہیں ہوگی۔ ایک وجہ تو یہ ہے روایت کے الفاظ ، اوجب النار بالقتل، دراصل راوی کے وضاحتی الفاظ ہیں اس لیے کہ راوی نے اس مفہوم کو ان الفاظ میں ادا کیا ہے یعنی بالقتل حضرت واثلہ کی مراد یہ ہے کہ اس شخص نے ایک آدمی کو قتل کرکے اپنے لیے جہنم کی آگ واجب کرلی تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر حضور اس غلام سے کفارہ قتل کے سلسلے میں آزاد کیا جانے والاغلام مراد لیتے تو آپ مومن غلام، فرماتے ، جب آپ نے غلام میں ایمان کی شرط نہیں لگائی تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ اس کی آزادی کا کفارہ قتل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیز آپ نے قاتل کے رشتہ داروں کو اس کی طرف سے غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جبکہ اس بارے مٰں کوئی اختلاف نہیں کہ رشتہ داروں پر اس کی طرف سے غلام آزاد کرنا واجب نہیں ہوتا، نیز کفارہ میں کسی غیر کا قاتل کی طرف سے غلام آزاد کرنا قاتل کے کفارہ کے لیے کفایت نہیں کرتا۔ قول باری ہے (فتحریررقبہ مومنۃ) اللہ تعالیٰ نے قتل کے کفارہ میں آزاد کیے جانے والے غلام کو ایمان کی صفت سے متصف کیا ہے ، اس لیے اس میں اختلاف نہیں ہے کہ اسی صفت سے موصوف غلام ہی کفارہ قتل کے لیے درست ہوگا۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ مومن غلام کافر غلام کی بہ نسبت افضل ہوتا ہے کیونکہ ایمان کی صفت فرض کفارہ کی ادائیگی میں شرط بن گئی ہے اس طرح اگر کسی نے مومن غلام آزاد کرنے کی نذر مانی ہو تو اس کے لیے کافر غلام آزاد کرنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ نذر ماننے والے اپنی نذر کو ایسی صفت کے ساتھ مقرون کرلیا ہے جو تقرب الٰہی کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ اس میں یہ دلیل بھی موجود ہے کہ مسلمانوں کو صدقہ دینا کافر ذمیوں کو صدقہ دینے سے افضل ہے خواہ یہ نفی صدقہ کیوں نہ ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کفارہ قتل کے روزوں میں تتابع یعنی مسلسل روزہ رکھنے کو ایک زائد صفت قرار دیا ہے اس لیے اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ امکانی حد تک اس صفت کے بغیر رکھے جانے والے روزے کفارہ کے لیے کفایت نہیں کریں گے۔ اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جس شخص نے اپنے اوپر ایک مہینے کے مسلسل روزے واجب کرلیے ہوں کے لیے ناغہ کرنا درست نہیں ہوتا، کیونکہ اس نے ان روزوں کو ایسی صفت کے ساتھ واجب کرلیاتھاجس میں قربت یعنی تقرب الٰہی کا پہلو تھا، اس لیے یہ روزے اس صفت کے ساتھ واجب ہوگئے جس کے ساتھ اس نے ان کی نذر مانی تھی۔ قول باری ہے (فمن لم یجد فصیام شھرین متتابعین) جسے یہ میسر نہ ہو کہ وہ دومہینوں کے مسلسل روزے رکھے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ فقہاء کا اس بارے میں کوئی اختلا ف رائے نہیں ہے ، کہ جب کوئی شخس چاند کے حساب سے روزے رکھے گا تو اس میں دنوں کی کمی کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا، یعنی مہینہ خواہ انتیس کا ہو یا تیس کا اس کے دوماہ پورے ہوجائیں گے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (صوموالرویتہ وافطروا الرویتہ فان غم علیکم فعدواثلاثین) چاند دیکھ کر روزہ شروع کرو اورچاند دیکھ کر روزہ ختم کرو، اگر چاند نظر نہ آئے توتیس دن شمار کرلو، آپ نے چاند کے حساب سے مہینے کا اعتبار کا حکم دیا اور چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن کے حساب کا امر فرمایا ہے۔ اگر کسی نے کفار کے روزے کے مہینے کے درمیان سے اتبداء کرلی ہو تو وہ دوسرے مہینے کا چاند کے حساب سے اعتبار کرے گا، اور پہلے مہینے کے بقیہ دنوں کا گنتی کے حساب سے اعتبار کرکے تیس دن پورے کرے گا، امام ابوحنیفہ ، امام ابویوسف، امام محمد، کا یہی قول ہے امام ابویوسف نے امام ابوحنیفہ سے ایک روایت کی ہے کہ چاند کے حساب سے مہینے کا اس وقت ہی اعتبار درست ہوگاجب روزہ رکھنے والامہینی کی ابتداء سے چاند دیکھ کر روزہ رکھناشروع کرے گا۔ حسن بصری سے بھی اسی قسم کی روایت ہے لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ قول باری (فسیحوافی الارض اربعۃ اشھر، مشرکو زمین میں چار مہینوں تک چلو پھرو، کی تفسیر میں مروی ہ یکہ ان چار مہینوں سے ذوالحجہ کے باقی ماندہ دن محرم، صفر، ربیع الاول اور ربیع الثانی، کے باقی دن مراد تھے۔ اس میں تین مکمل مہینوں کا چاند کے حساب سے اعتبار کیا گیا اور نامکمل مہینے کا دنوں کے حساب سے اعتبار کیا گیا۔ قول باری (فصیام شھرین متتابعین) کے سلسلے میں یہ بات واضح ہے کہ ہمیں حسب امکان تتابع کا مکلف بنایا گیا ہے دوسری طرف عادۃ یہ بات موجود ہے کہ عورت کا کوئی مہینہ حیض کے بغیر نہیں گزرتا، اسی لیے حضور نے حمنہ بنت جحش سے فرمایا، (تحیضی فی علم اللہ ستا اوسبعا کماتحیض النساء فی کل شھر۔ اپنے آپ کو اللہ کے علم کے مطابق ہر ماہ چھ یاسات دن حائضہ سمجھو، اور جس طرح ہر ماہ عورتیں حیض کے دوران عورتیں طریقہ اختیار کرتی ہیں تم بھی وہی طریقہ اختیار کرو) آپ نے یہ بتایا کہ عورتوں کو ہر ماہ ایک حیض گزارنے کی عادت ہوتی ہے۔ جب صوم تتابع کے سلسلے میں ہمیں حسب امکان مکلف بنایا گیا اور اگر عورت کے لیے دوماہ کے مسلسل روزے رکھنے کی ضرورت پیش آجائے تو یہ بات اس کی طاقت سے باہرہوگی کہ وہ ایسے دوماہ مسلسل روزے رکھے جس میں حیض نہ آئے، اس صورت میں ایام حیض کا حکم ساقط ہوجائے گا لیکن تتابع کا حکم منقطع نہیں ہوگا، اور اس کے ایام حیض کی وہی حیثیت ہوگی جو روزوں کے دوران راتوں کو ہوتی ہے کہ ان کی وجہ سے تتابع منقطع نہیں ہوتا۔ امام شافعی کا یہی قول ہے ابراہیم سے مروی ہے اس صورت میں عورت نئے سرے سے روزے شروع کرے گی، ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر روزہ رکھنے والادومہینوں کے دوران بیمار پڑجائے گا اور روزہ نہیں رکھے گا توا سے نئے سرے سے روزرہ رکھنا ہوگا۔ امام مالک کا قول ہے کہ ایسی صورت میں وہ روزے جاری رکھے گا اور یہ روزے اس کے لیے کافی ہوجائیں گے ہمارے فقہاء نے حیض اور مرض کے درمیان کے درمیان فرق رکھا ہے کہ مرد کے لیے عادۃ مرض کے بغیر دوماہ مسلسل روزہ رکھنا ممکن ہے جبکہ عورت کے لیے عادۃ حیض کے بغیر دوماہ مسلسل روزہ رکھنا ممکن نہیں ہے ایک اور وجہ سے ان دونوں صورتوں میں فرق ہے وہ یہ کہ مرض کا پیدا ہونا روزہ چھوڑنے کا موجب نہیں ہوتا، بلکہ یہ کام خود روزہ دار اپنے فعل اور ارادے سے کرتا ہے جبکہ حیض روزے کے منافی ہوتا ہے ا س میں عورت کے اپنے فعل کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس لیے حیض روزے کے دوران آنے والی رات کے مشابہ ہوگیا، اور جس طرح رات کی وجہ سے تتابع منقطع نہیں ہوتا، اسی طرح حیض کی وجہ سے تتابع منقطع نہیں ہوگا۔ قول باری ہے (توبۃ من اللہ، یہ اللہ سے اس گناہ پر توبہ کرنے کا طریقہ ہے اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ الہ سے توبہ کرنے کے لیے وہ کام کرو جو اللہ نے واجب کیے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے سے ان گناہوں کی توبہ قبول کرلے جن کا تم نے ارتکاب کیا ہے ایک قول یہ ہے کہ آیت قتل کے فعل کے ساتھ خاص ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں، یہ اللہ کی طرف سے اس کی رحمت اور کشادہ دلی کا مظاہرہ ہے جس طرح ایک اور مقام پر فرمایا (فتاب علیکم وعفاعنکم ) اس کا مفہوم ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے کشادگی پیدا کردی اور تمہیں سہولت بخشی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٣) یہ آیت مقیس بن صبابہ کے بارے میں نازل ہوئی، اس نے اپنے بھائی ہشام بن صبابہ کی دیت وصول کرنے کے بعد رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد فہری شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے بعد دین اسلام سے مرتد ہو کر مکہ مکرمہ چلا گیا، اس پر دیت وصول کرنے کے بعد اپنے بھائی کے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرنے پر اللہ تعالیٰ کا غصہ اور لعنت ہے اور اس دلیری اور شرک پر اللہ کی جانب سے زبردست عذاب ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ومن یقتل مومن ا “۔ (الخ) ابن جریر (رح) نے بواسطہ ابن جریج عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک انصاری شخص نے مقیس بن صبابہ کے بھائی کو قتل کردیا، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دیت دے دی، اس کے بعد اس نے اپنے بھائی کے قاتل (کی بجائے کسی اور) کو قتل کردیا۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اس شخص کو حل وحرم میں سے کسی مقام پر بھی امن نہیں دوں گا چناچہ (کیونکہ یہ شخص، قاتل، بدعہد اور فتنہ گر ہے اسے مہلت دینا دیگر انسانوں کو معرض ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے، اور فتنہ کے متعلق فرمایا (آیت) ” والفتنہ اشدا من القتل “۔ (فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر جرم ہے) (مترجم) فتح مکہ کے دن اس کو قتل کردیا گیا، ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ اسی کے بارے میں آیت کریمہ نازل ہوئی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب آگے قتل عمد کے قانون کے متعلق تفصیلات کا ذکر ہے ۔ آیت ٩٣ (وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیْہَا) (وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ۔ ) جیساکہ آغاز سورة میں ذکر ہوا تھا کہ حرمت جان اور حرمت مال کے تصور پر معاشرے کی بنیاد قائم ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کا قتل کردینا اللہ کے ہاں ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورة المائدہ (آیت ٣٢) میں قتل ناحق کو پوری نوع انسانی کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قاتل نے حرمت جان کو پامال کر کے شجر تمدّن کی گویا جڑ کاٹ دی ‘ اور اس کا یہ فعل ایسے ہی ہے جیسے اس نے پوری انسانی نسل کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ ہمارے ہاں ایمان واسلام کتنا کچھ ہے اور انسانی جان کی قدر و قیمت کیا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں قتل عمد کے واقعات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں اور انسانی جان مچھر مکھی کی جان کی طرح ارزاں ہوچکی ہے۔ اب اگلی آیت کو سمجھنے کے لیے عرب کے ان مخصوص حالات کو نظر میں رکھیں جن میں مسلمان اور غیر مسلم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے ‘ مختلف علاقوں میں کچھ لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہوچکے تھے اور کچھ ابھی کفر پر قائم تھے اور کوئی ذریعہ تمیز بھی ان میں نہیں تھا ‘ جگہ جگہ معرکے بھی ہو رہے تھے۔ اب فرض کریں کسی علاقے میں لڑائی ہو رہی ہے۔ مسلمان مجاہد سمجھا کہ سامنے سے کافر آ رہا ہے ‘ مگر جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے بڑھاتو اس نے آگے سے کلمہ پڑھ کر دعویٰ کیا کہ وہ مسلمان ہے۔ اس صورت حال میں ممکن ہے سمجھا جائے کہ اس نے جان بچانے کے لیے بہانہ کیا ہے۔ اس بارے میں حکم دیا جا رہا ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اوپر قتل خطاکا ذکر تھا اس آیت میں قتل عمد کا ذکر ہے قتل عمد وہ ہے جس میں ایسی چیز سے قصدًا کسی کو ہلاک کیا جائے جس چیز سے بطور عادت کے آدمی مرسکتا ہو قتل عمد میں قاتل کو قصاص میں قتل کیا جاتا ہے اور اگر مقتول کے وارث قصاص معاف کردیں تو خون بہا لیا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ تفصیل مسئلہ کی بڑی کتابوں میں ہے ١۔ ابن جریر وغیرہ نے عکرمہ کی روایت سے شان نزول یہاں بیان کی ہے کہ مقیس بن مہابہ کنانی اور اس کا بھائی ہشام یہ دونوں شخص مسلمان ہوگئے تھے۔ ایک روز مقیس نے اپنے بھائی ہشام کو بنی نجار قبیلہ کی سرحد میں مقتول پایا اور حضرت سے اس کا قصہ کا تذکرہ کیا آپ نے بنی نجار سے سو اونٹ اس کے بھائی کے خون بہا کے مقیس کو دلائے اس نے یہ سوا اونٹ بھی لئے اور موقع پاکر ایک آدمی بنی نجار کا قتل کر کے مرتد ہو کر مکہ کو چلا گیا۔ اور مشرکوں میں جا ملا۔ فتح مکہ پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عام امن میں سے اس کو واجب القتل قرار دے کر قتل کرایا۔ اسی مقیس کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ٢۔ بعض مفسروں نے اس آیت کو سورة فرقان والذین لا یدعون مع اللہ الہھا اخر ( ٢٥۔ ٢٨) سے منسوخ کیا ہے یہ قول صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ آیت ناسخ کی یہ شرط ہے کہ منسوخ سے اس کا نزول بعد میں ہونا چاہیے۔ حالانکہ زید بن ثابت (رض) کی روایت سے ابو داؤد اور نسائی میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یہ سورة فرقان کی آیت سے چھ سات مہینے بعدنازل ہوئی ہے ٣۔ پھر وہ سورة فرقان کی مقدم آیت اس متاخر آیت کی ناسخ کیونکر ہوسکتی ہے اس لئے بعض مفسروں کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ یہ آیت ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک (٤١۔ ١١٩/٤٨) سے منسوخ ہے کس لئے کہ ناسخ منسوخ امرونہی میں ہوا کرتا ہے خبر میں نہیں ہوا کرتا۔ کیونکہ ایک بخیر دیکھ کر پھر اس کو رد کرنا پہلی خبر کو گویا جھٹلانا ہے۔ حس سے اللہ تعالیٰ کی شان پاک ہے۔ اور یہ آیت خبر کی قسم میں سے ہے انشاء میں سے نہیں پھر اس میں ناسخ منسوخ کیسا اس سبب سے صحیح مذہب وہی معلوم ہوتا ہے جس کو بعض مفسرین نے اختیار کیا ہے کہ یہ آیت مطلق ہے اور سورة فرقان کی آیت کی توبہ کی قید اس آیت میں بھی لگانی چاہیے اس صورت میں آیت کے وہی معنی ہوں گے جو یہ پہلے آیت ان اللہ لا یغفر کے تحت میں بیان ہوچکے کہ مسلمان کے قاتل کی توبہ قبول ہے اگر وہ بلا توبہ مرجائے تو اس کی بخشش اللہ کی اختیار اور اللہ کی مرضی پر ہے چاہے وہ مقتول کو کچھ معاوضہ دے کر راضی کردے اور قاتل کو بلا مواخذہ بخشش دے چاہے قاتل سے مواخذہ کرے یہی مذہب جمہور سلف و خلف نے اختیار کیا ہے اور یہی مذہب آیت { وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌلِمَنْ تَابَ } ( ٢٠۔ ٨٢) اور احادیث صحیحہ کے موافق ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) اور جمہور کے مذہب میں جو اختلاف تھا وہ حافظ ابن کثیر (رح) نے قول کے حوالہ سے اوپر رفع کیا جا چکا ہے ١ اس صورت میں قاتل کے ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا ذکر یا تو قتل کے جرم سے ڈرانے کے لئے ہے یا اس صورت کے لئے ہے کہ مسلمان مقتول کی مسلمانی کو کسی سبب سے مانع قتل نہ ٹھہرایا جائے کہ یہ درجہ کفر کا ہے یہ حالت ایسی ہے جس طرح محلم بن ٢ جثامہ کا قصہ آئندہ کی آیت کی تفسیر میں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:93) متعمدا۔ تعمد (تفعل) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ عمدا جان بوجھ کر ۔ خالدا۔ ہمیشہ رہے گا اس میں ۔ اعد۔ اس نے تیار کیا۔ اعداد (افعال) تیار کرنا۔ عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں۔ اعداد کے معنی کسی چیز کے اس طرح تیار کرنے کے ہیں کہ شمار کی جائے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 قتل خطا کا حکم بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں قتل عمہد قصد قتل کرنے کا حکم بیان کیا ہے اس کا ایک حکم تو بیانب ہوچکا ہے یعنی اس صورت میں قصاص یا دیت واجب ہے۔ (یکھئے سورت بقرہ آت 17) یہاں صرف اس کے گناہ ارر وعید کا ذکر ہے متعدد آیات میں قرآن نے اس جرم کو شرباللہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہاں فرمایا کہ ایسے شخص اللہ تعالیٰ کا غضب اور لعنت ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے جس میں سہ ہمیشہ رہے گا۔ اس بنا پر بعض علما نے سلف سے منقول ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی مگر اکثر علمائے سلف کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ توبہ تو مشرک کی بھی قبول ہوجاتی ہے لیکن یہ توبہ اس وقت ہے جب اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کردے۔ (شوکانی) حدیث میں ہے کسی مسلمان کا خون صرف تین صورتوں میں سے ایک حلال ہے اس نے کسی کو قتل کردیا ہو اس کے بدلہ میں قتل کیا جائے یا شادی شدہ ہونے کے بعد جرم زنا کا ارتکاب کرے یا وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوجائے (بخاری) مزید دیکھئے سورت الفرقان آیت 68)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ لیکن اللہ کا فضل ہے کہ یہ اصلی سزا جاری نہ ہوگی بلکہ ایمان کی برکت سے آخر کو نجات ہوجائے گی تمام اہل حق متفق ہیں کہ بجز کفر و شرک کے کوئی امروجب خلود فی النار نہیں۔ 3۔ اور قتل مومن پر سخت وعید فرمائی ہے آگے یہ فرماتے ہیں کہ احکام شرعیہ کے جاری ہونے میں مومن کے مومن ہونے کے لیے صرف ظاہری اسلام کافی ہے جو شخص اسلام کا اظہار کرے اس کے قتل سے دستکش ہوجانا واجب ہے قرائن سے باطن کی تفتیش کرنا اور احکام اسلامیہ کے جاری کرنے میں اس کے ثبوت کا منتظر رہنا جائز نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنے کی سزا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک موقع پر بیت اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ کے گھر ! تیرا احترام و اکرام اور جلالت و منزلت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن کی عزت تجھ سے بڑھ کر ہے۔ [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الفتن، باب حرمۃ دم المؤمن ومالہ ] ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے راستے میں ایک جگہ پڑاؤ فرمایا۔ کچھ صحابہ کرام ” وَنْ “ کے درختوں پر چڑھ کر پیلو توڑ رہے تھے جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود بھی شامل تھے۔ آپ کے ساتھ کھڑا ایک صحابی عبداللہ بن مسعود (رض) کی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر مسکرانے لگا۔ یہ صورت حال دیکھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مومن کی شان کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ یہ پنڈلیاں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہیں۔ [ مسند احمد : کتاب مسند العشرۃ المبشرین بالجنۃ، باب مسند علی (رض) ] اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک ایمان اور کلمے کی اتنی قدر ہے کہ آپ سے حضرت مقداد بن اسود نے استفسار کیا اگر میری کسی کافر کے ساتھ مڈھ بھیڑ ہو اور وہ تلوار سے میرا ہاتھ کاٹ دے۔ جب میں اس پر وار کروں تو وہ درخت کی اوٹ میں جان بچانے کے لیے کلمۂ شہادت پکاراُٹھے تو ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ آپ نے فرمایا تجھے اپنا ہاتھ روکنا ہوگا۔ بیشک اس نے تجھے زخمی کیا ہے اگر تو نے اس پر حملہ کیا۔ تو تو اس کے مقام پر کھڑا ہوگا یعنی وہ مظلوم اور تو ظالم ہوگا۔ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب شھود الملائکۃ بدرا ] قرآن مجید کے اس فرمان میں مومن کو عمداً قتل کرنے والے کی پانچ سزاؤں کا بیان ہوا ہے : (١) جہنم میں داخلہ (٢) اس میں ہمیشگی (٣) اللہ کا غضب (٤) اللہ کی لعنت (٥) عذاب عظیم۔ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (سِبَابُ الْمُسْلِم فُسُوْقٌ وَقِتَالُہٗ کُفْرٌ) مومن کو گالی دینا اللہ کی نافرمانی اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان ‘ باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ ] مسائل ١۔ بلاوجہ مومن کو قتل کرنے والے پر اللہ کا غضب، اس کی لعنت اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کسی مومن کو قصداً قتل کرنے کا گناہ عظیم قتل خطا کے احکام بتانے کے بعد اس آیت میں قصداً قتل کرنے والے کی اخروی سزا کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو شخص کسی مومن کو قصداً قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا اس کو غضب ہوگا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار فرمایا ہے۔ کسی مومن کا قتل درحقیقت بہت ہی بڑا گناہ ہے حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ پوری دنیا کا ختم ہوجانا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان آدمی کے قتل کے مقابلے میں معمولی چیز ہے۔ (رواہ الترمذی و النسائی و وقفہ بعضہم و ہواصح ورواہ ابن ماجہ عن البراء بن عازب کمافی المشکوٰۃ صفحہ ٣٠٠) حضرت ابو سعید (رض) روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمام آسمان و زمین والے کسی مومن کے خون میں شریک ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو اوندھے منہ کرکے دوزخ میں ڈال دے گا۔ (رواہ الترمذی کمافی المشکوٰۃ صفحہ ٣٠٠) حضرت ابو سعید (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ امید ہے اللہ ہر گناہ کو معاف فرما دے گا مگر جو شخص مشرک ہوتے ہوئے مرگیا اور جس نے کسی مومن کو قتل کردیا ان کی مغفرت نہیں ہے۔ (رواہ ابوداؤد و النسائی عن معاویہ کمافی المشکوٰۃ صفحہ ٣٠١) اتنی سخت وعیدیں ہوتے ہوئے دنیا میں قتل و خون کی گرم بازاری ہے اسلام کا نام لینے والے اور اپنے کو مسلمان سمجھنے والے آپس میں لسانی، قومی، قبائلی وطنی اور صوبائی عصبیتوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں قوم اور برادری اور ملک و وطن سب یہیں دھرے رہ جائیں گے۔ قتل مومن کا گناہ کبیرہ ساتھ لے کر قبر میں جانے والوں کو اپنی آخرت کا فکر نہیں دوزخ میں داخل ہونا اور اس میں سزا پانا، آگ میں جلنا معمولی سی بات سمجھ رکھا ہے۔ جاہلی عصبیتیں پھر ابھر آئی ہیں، دشمنوں کے ورغلانے اور بھڑکانے سے آپس میں کٹا چھنی ہے۔ دشمنوں کو تقویت پہنچا رہے ہیں اور اپنا اتحاد پاش پاش کر رہے ہیں۔ انصار کے دونوں قبیلے اوس اور خزرج حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ منورہ تشریف لے جانے پر متحد ہوگئے تھے۔ پرانی لڑائیاں جو صدیوں سے جاری تھیں بند ہوگئی تھیں۔ اسلام نے سب کو متحد کردیا تھا ایک مرتبہ بعض یہودیوں کے ابھارنے سے پھر لڑائی کی فضا بن گئی تو آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو رفع دفع کیا اور اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت شریفہ (وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا وَ کُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَا) نازل فرمائی جس کی تفسیر اور واقعہ کا تذکرہ اسی آیت کے ذیل میں گزر چکا ہے۔ دشمن تو ہمیشہ مسلمانوں کو لڑانا ہی چاہتے ہیں ان کا اتحاد و اتفاق انہیں گوارا نہیں مسلمان ہیں کہ آپس میں قتال و قتل کر کے اپنی دنیا و آخرت دونوں تباہ کرتے ہیں اور ایک جماعت کے آدمی دوسری جماعت کے لوگوں کو محض اس وجہ سے قتل کرتے ہیں کہ وہ ہماری جماعت کا آدمی نہیں ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دسویں ذوالحجہ کو حجۃ الوداع کے موقعہ پر جو خطبہ دیا تھا اس میں فرمایا تھا لا ترجعوا بعدی کفاراً یضرب بعضکم رقاب بعض (میرے بعد کافر مت ہوجانا جس کی وجہ سے ایک دوسرے کی گردن مارو) ۔ (رواہ البخاری صفحہ ١٠٤٨: ج ٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے دنیا ختم ہونے سے پہلے ایسا دن ضرور آئے گا کہ قاتل کو بھی پتہ نہ ہوگا کہ میں نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو بھی پتہ نہ ہوگا کہ میں کیوں قتل ہوا کسی نے عرض کیا ایسا کیوں ہوگا فرمایا فتنہ کی وجہ سے ایسا ہوگا قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں ہوں گے۔ (رواہ مسلم) حضرت ابوبکر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر آمنے سامنے آجائیں تو وہ دونوں دوزخ والوں میں سے ہیں ایک شخص نے عرض کیا کہ ان میں سے جو قتل کردے اس کا دوزخ میں جانا سمجھ میں آتا ہے جو قتل ہوگیا وہ دوزخ میں کیوں جائے گا ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انہ قد اراد قتل صاحبہ کہ مقتول بھی تو یہی ارادہ کیے ہوئے تھا کہ میں اس شخص کو قتل کر دوں لہٰذا وہ اپنی نیت کی وجہ سے دوزخ میں گیا۔ نیت تو دونوں ہی کی ایک دوسرے کو قتل کرنے کی تھی یہ بات اور ہے کہ ایک کا داؤ لگ گیا۔ (رواہ البخاری صفحہ ١٠٤٩: ج ٢) فائدہ : جمہور اہل سنت کا یہی مذہب ہے کہ قاتل مومن عمداً کی بالآخر بخشش ہوجائے گی جیسے دوسرے گناہوں کا حکم ہے۔ البتہ حضرت ابن عباس (رض) کا مشہور قول یہ ہے کہ اس کی مغفرت نہ ہوگی اور ان سے اس کے خلاف بھی منقول ہے۔ قال سعید بن جبیر اختلف فیھا (ای فی الایۃ) اھل الکوفۃ فر حلت فیھا الی ابن عباس فسالتہ عنھا فقال نزلت ھذہ الایۃ و من یقتل مومنا فجزاء ہ جھنم خالدا فیھاھی آخر مانزل وما نسخھا شیء (رواہ البخاری صفحہ ٢٦٠) قال البیضاوی قال ابن عباس (رض) عنھما لا تقبل توبۃ قاتل المومن عمدا ولعلہ اراد بہ التشدید اذ روی عنہ خلافہ والجمھور علی انہ مخصوص بمن لم یتب بقولہ تعالیٰ وانی لغفار لمن تاب ونحوہ او المراد بالخلود المکث الطویل فان الدلائل متظاھرۃ علی ان عصاۃ المسلمین لا یدوم عذابھم اوھو محمول علی المستحل (اھ بحذف) مسئلہ : جو شخص قصداً وارادۃً قتل کر دے اس میں اول تو بہت بڑا گناہ ہے جیسا کہ اوپر آیت میں گزرا اور قصاص بھی ہے جس کی کچھ تفصیل سورة بقرہ رکوع ٢٢ میں گزر چکی ہے اور کچھ انشاء اللہ سورة مائدہ کے رکوع ٧ کی تفسیر میں آئے گی۔ قصاص وارثوں کا حق ہے وہ چاہیں تو معاف کردیں اور چاہیں تو قصاص میں قتل کردیں کسی بھی بادشاہ یا صدر یا وزیر یا کسی بھی چھوٹے بڑے حاکم کو معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ (کماذ کرنا من قبل) مسئلہ : جو شخص اپنے کسی مورث کو قتل کر دے (جس سے میراث پانے والا تھا) تو قاتل میراث سے محروم کردیا جائے گا (اس نے چاہا کہ اپنے مورث کو قتل کر کے جلدی میراث پالے۔ لہٰذا شریعت نے اسے میراث سے بالکل محروم کردیا) ۔ مسئلہ : شبہ عمد میں بھی میراث سے محروم ہوجاتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 اور جو شخص کسی مسلمان کو قصد اً جان بوجھ کر مار ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے اور یہ سزا بھی اس طور پر کہ وہ اس جہنم میں ہمیشہ پڑا رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اپنی خاص رحمت سے اس کو دور کردیا اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ابن عباس نے فرمایا کہ اگر مسلمان قصد کر کے مسلمان کو مار ڈالے وہ دوزخی ہوچکا اس کی توبہ قبول نہیں باقی اور علماء نے کہا کہ سزا اس کی یہی ہے جو یہاں مذکور ہوئی آگے اللہ مالک ہے لیکن اگر قصاص میں مارا گیا تو سب کے قول میں پاک ہوا۔ (موضح القرآن) غالباً یاد ہوگا کہ ہم اوپر کئی دفعہ اہل سنت کا یہ مسلک بیان کرچکے ہیں کہ ان کے نزدیک فاسق مسلمان ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا اور کوئی گنہگار جو گناہ کو گناہ سمجھ کرتا ہے وہ کافر نہیں ہوتا۔ جب تک کسی گناہ کی حلت کا قائل نہ ہو اور اس کو حلال سمجھ کر نہ کرے البتہ شرک کا مرتکب ہمیشہ جہنم میں رہنے والا ہے اور اہل سنت کا یہ عقیدہ بکثرت آیات قرآنی اور احادیث نبوی سے ثابت ہے اہل سنت کے اس مشہور عقیدے کے خلاف معتزلہ اس کے قائل ہیں کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور خوارج اس کے قائل ہیں کہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہوجاتا ہے خواہ وہ اس گناہ کو حلال نہ سمجھے مختصر یہ کہ معتزلہ مرتکب کبیرہ کے خلود فی النار ہونے کے قائل ہیں اور خوارج تو کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر ہی کہتے ہیں۔ آیت زیر بحث میں چونکہ قصداً مسلمان کو قتل کرنے کی جزا خلود فی النار اور لالہ کی لعنت اور غضب اور عذاب عظیم فرمائی ہے اس لئے اس آیت سے ایک طرف معتزلہ نے اور دوسری طرف خوارج نے اپنے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے۔ حالانکہ ہم کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ معتزلہ اور خوارج فرق باطلہ میں سے ہیں اور ان کے عام استدلال ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کوئی ڈوبتا ہوا آدمی تنکے کا سہارا تلاش کیا کرتا ہے۔ بہرحال جہاں تک فرق باطلہ کے استدلال کا تعلق ہے وہ اس قدر قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ بیشمار نصوص صریحہ اور احادیث صحیحہ کے خلاف تاویلات رکیکہ کے خوگر ہیں البتہ اس آیت میں جو چیز زیادہ اہم ہے وہ حضرت عبداللہ بن عباس کا وہ مشہور قول ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ اور عبد اللہ بن عمرو اور ابو سلمہ اور عبد بن عمیر وغیرہ کو عبداللہ ابن عباس کا ہم خیال بتایا ہے اور جو آیت سورة فرقان میں آئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور قتل نفس اور زنا سب کی سزا خلود فی النار فرمائی ہے اور سزا کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے۔ الامن تاب وامن و عمل عملا صالحاً الی آخرۃ ۔ اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس کا خیال یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور ومن یقتل مئومناً کی آیت مدنی ہے اس لئے یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول بھی ہے کہ وہ حکم تو ابتداً دیا گیا تھا جب لوگ جاہل تھے اور کفر و شرک اور قتل و زنا وغیرہ میں مبتلا ہوجاتے تھے اب چونکہ لوگ شریعت کو سمجھ چکے تھے اور گناہ کی خرابیوں سے واقف ہوچکے تھے اس لئے ان کو بتایا گیا کہ جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے گا ۔ اس کی توبہ قبول نہ ہوگی یہ ان اقوال کا خلاصہ ہے جو حضرت عبداللہ بن عباس کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں … حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اس بارے میں مناظرہ بھی کیا ہے زید بن ثابت کا قول ہے کہ سورة فرقان کی آیت نازل ہوئی تو ہم لوگ اس کو سخت اور تغلیظ سمجھنے لگے۔ زید بن ثابت کا دوسرا قول یہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم لوگ بہت ڈرے اس کے بعد سورة فرقان کی آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ عباس سے سعید بن عبیدہ نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ وہ قاتل مومن کی توبہ کے قائل تھے جیسا کہ صاحب روح المعانی نے ابن حمید کی روایت سے نقل کیا ہے اسی طرح سعید بن منصور اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے ان کی خدمت میں آ کر عرض کیا کہ میں نے اپنا ایک حوض پانی سے بھرا تھا اور اپنے مویشیوں کا منتظر تھ کہ وہ میرے مویشی اس حوض سے پانی پئیں گے مگر ایک شخص نے اپنی اونٹنی کو اس حوض سے پانی پلایا اور حوض کو توڑ دیا اور اس کا سارا پانی بہا دیا میں نے اس شخص کو تولار سے قتل کردیا۔ عبداللہ بن عباس نے یہ واقعہ سن کر اس سے فرمایا، اللہ کی جناب میں توبہ کر سعید بن منصور نے سفیان بن عنیہ سے نقل کیا ہے کہ اہل علم کا یہ طریقہ تھا کہ جب کوئی شخص ان سے سوال کرتا تھا۔ تو وہ کہتے تھے قاتل مومن کی توبہ نہیں اور جب کوئی مبتلا ہوجاتا تھا اور وہ مبتلا یہ دریافت کرتا تھا تو جواب دیتے تھے کہ توبہ کر۔ صاحب روح المعانی نے ایک اور واقعہ عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کسی دریافت کرنے والے سے فرمایا تھا کہ قاتل مومن کی توبہ نہیں۔ لوگوں نے ان سے کہا اے ابن عباس آپ نے اس کو اپنے پہلے فتویٰ کے خلاف کیوں فتویٰ دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا مجھ کو ایسا معلوم ہوا کہ وہ غصہ میں کسی شخص کو قتل کرنا چاہتا ہے اس لئے میں نے اس سے ایسا کہا۔ چناچہ لوگوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہی بات تھی صاحب تفسیر مظہری نے تیسیر سے خود حضرت عبداللہ بن عباس کا قول نجزاء کے جہنم کی تشریح میں نقل کیا ہے۔ لو جازاہ اللہ لکنہ یتفضل علیہ ولا یخلدہ لایمانہ۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ اس کو جزا دے تو اس کی جزا جہنم ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ایمان کی وجہ سے اس پر فضل فرمائے گا اور اس کو ہمیشہ جہنم میں نہیں رکھے گا۔ یہی وہ توجیہہ ہے جو حضرت شاہ صاحب نے اپنے فیہہ میں ذکر کی ہے اوز ابن کثیر نے ابن مردویہ سے ایک غیر صحیح سند کے ساتھ مرفوعاً بھی اس توجیہہ کو نقل کیا ہے اور بہت ممکن ہے کہ عبداللہ بن عباس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ توجیہہ سنی ہو۔ بہرحال ان روایات مذکورہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس کا بھی وہی مسلک تھا جو جمہور کا مسلک ہے یعنی قاتل مومن کی توبہ قبول ہوسکتی ہے اور وہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا اب رہی یہ بات کہ وہ کسی کو توبہ کا حکم دیتے اور کسی سے توبہ کا انکار فرماتے۔ ایسا کیوں کرتے تھے تو اس کا ایک جواب تو ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ ابتداء سوال کرنے کو اس وجہ سے نہ بتاتے ہوں کہ مبادا کسی کو کرے اور اس کے فضل سے امید رکھے صاحب تفسیر مظہری اور ابن کثیر نے یوں کہا ہے کہ قاتل مومن پر خدا کا بھی حق ہے اور اپنے بھائی مومن کا بھی حق ہے جیسا کہ ہم اوپر اس بات کو کہیں واضح کرچکے ہیں کہ گناہ جو حقوق اعلباد سے تعلق رکھتا ہے اس کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہوتا ہے اللہ کا حق اس بنا پر کہ اس کی نافرمانی کی اور بندے کا حق اس بنا پر کہ اس کو نقصان پہنچایا بس توبہ کا ہونا تو اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا حق معاف فرما دے گا اور توبہ کا نہ ہونا اس بنا پر ہے کہ بغیر قصاص کے وہ معاف نہیں ہوگا تو اس کی توبہ کیسے ہوسکتی ہے وہ تو قیامت میں صاحب حق اگر معاف کر دے یا اللہ تعالیٰ اس کو راضی کر کے معاف کرا دے تب ہی معاف ہوسکتا ہے۔ (واللہ اعلم) اور وہ جو زید بن ثابت سے دونوں روایتیں منقول ہیں اگر ان دونوں کی اسناد صحیح ہوں تو اس کی توجیہہ بعض حضرات نے اس طرح کی ہے کہ اول سورة فرقان کی آیت ویخلد فیہ مھانا تک نازل ہوئی جس میں شرک کے ساتھ قتل اور زنا کا ذکر فرمایا اس کے بعد صرف قتل کے سلسلے میں سورة نساء کی آیت نازل ہوئی۔ جب لوگ اس وعید کو سن کر پریشان ہوئے تو الامن تاب کی قید نازل ہوئی اسی طرح یہ آیت بھی الامن تاب کے ساتھ مقید ہوگی اس کو صاحب خازن نے اختیار کیا ہے (واللہ اعلم) خلاصہ یہ کہ جمہور علمائے سلف اور خلف کا مسلک یہی ہے کہ سوائے شرک و کفر کے کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جس کی سزا خلود فی النار ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم میں متعدد جگہ ارشاد ہے ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء اور شرک با اللہ کے علاوہ دوسرے گناہوں کے متعلق یہ آیت کافی ہے قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لاتقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا اور کسی گناہگار کا توبہ کرنا اور اللہ کی جانب رجوع ہونا اور اللہ تعالیٰ کا اس کی توبہ کا قبول فرمانا بہت سی آیتوں میں مذکور ہے ان میں سے یہ آیت کافی ہے۔ وانی لغفار لمن تاب و امن و عمل صالحاً ثم اھتدی بعض اہل علم نے آیت زیر بحث کی توجیہہ اور اس کا مطلب اور متعدد طریقفوں سے بیان کیا ہے مثلاً اس آیت میں جو وعید بیان فرمائی ہے وہ اس کافر کی ہے جو مسلمان کو قصداً قتل کرے جیسا کہ شان نزول کا مشہور مورد یہی ہے، یہ آیت مقیس بن ضبایہ کندی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مقیس کے بھائی ہشام کو کسی نامعلوم شخص نے قتل کردیا تھا اس کی لاش بنی بخار کے قبیلے کے پاس پڑی ہوئی ملی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی بخار کو حکم دیا کہ اگر تم کو قاتل معلوم ہے تو اس کو پیش کردو تاکہ اس سے قصاص لیا جائے اور اگر قاتل معلوم نہ ہو تو مقیس کو خوں بہا ادا کرو۔ چناچہ بنی بخار کے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ قاتل تو ہم کو معلوم نہیں البتہ خوں بہا حاضر کردیں گے۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد کو جو قبیلہ فہر کا باشندہ تھا سو اونٹ دے دیئے جو اس فہری نے مقیس کے حوالے کردیئے اور دونوں مدینے کو واپس روانہ ہوئے راستے میں مقیس کی نیت خراب ہوئی اس نے خیال کیا اپنے بھائی ہشام کے بدلے میں تو میں فہری کو قتل کر دوں اور خوں بہا لے کر چل دوں۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا فہری کو قتل کردیا اور اونٹ لے کر مکہ بھاگ گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی لہٰذا مقیس نے جو حرکات کی تھیں قتل لوٹ ارتداد یہ اس خاص شخص کی جزا بیان کی گئی ہے ۔ شان نزول کے سلسلے میں ہم کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ شان نزول کے خاص مورد ہونے سے اس کی عمومیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بعض نے یہ تو جیہہ بیان کی ہے کہ جو شخص قتل مومن کو حلال سمجھتے ہوئے قتل کرے اس کی جزا یہ ہے۔ کسی نے کہا کسی مومن کو اس کے ایمان کی وجہ سے قتل کرے تو اس کی جزا یہ ہوگی کسی نے کہا خلود کے معنی تابید کے نہیں بلکہ مکث طویل ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ شاہ صاحب نے جو راہ اختیار کی ہے وہ بہت صحیح ہے اور اس کو ابو مجلز اور حضرت عبداللہ بن عباس کی رائے اور ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث کی تائید بھی حاصل ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ ایسے شخص کی اصلی جزا تو یہی ہے کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس پر اصلی جزا جاری نہ ہوگی بلکہ اس کے ایمان کی برکت سے نجات حاصل ہوجائے گی۔ اور ہم نے جو رحمت خاص سے دور ہنے کا ذکر کیا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ جس رحمت سے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے مستفیض ہوں گے یہ قاتل اس خاص رحمت سے محروم رہے گا بہرحال جہاں تک آیت کے مطلب کا تعلق ہے ہم نے اپنی وسعت کے موافق واضح طور پر بیان کردیا ہے اور یہ بات صاف کردی ہے کہ معتزلہ اور خوارج کے استدلال کے لئے آیت میں کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن جہاں تک ایک مسلمان کو ناحق قتل کرنے کا معاملہ ہے وہ نہایت سنگین اور سخت خطرناک اور بہت بڑا گناہ ہے حدیث شریف میں آتا ہے سب سے پہلے قیامت کے دن لوگوں کے مابین جس چیز کا فیصلہ ہوگا وہ خون کا مقدمہ ہوگا۔ حضرت عبادہ بن صامت سے ابو دائود نے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ مومن ہمیشہ آزاد شدہ اور صالح رہتا ہے جب تک وہ کسی ناجائز خون کا مرتکب نہیں ہوتا اور جب اس سے کسی حرام خون کا ارتکاب ہوا تو وہ ہلاک ہوا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کا زوال کسی مسلمان کے قتل سے آسان ہے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اگر کسی شخص نے قتل مسلم پر کسی کی مدد کی خواہ اس نے آدھی بات ہی کہی ہو تب بھی وہ قتل مسلم کی تائید کرنے والا قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہے۔ حضرت بریدہ سے نسائی نے نقل کیا ہے کہ اگر کسی مومن کے خون میں آسمان والے اور زمین والے دونوں مشترک ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کا طواف فرما رہے تھے اور کعبہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے تھے تو کیسا اچھا ہے اور تیری خوشبو کتنی اچھی ہے اور تو کیسی عظمت والا ہے اور تیری حرمت کیا ہی بڑی ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میں میری جان ہے ایک مومن کی جان اور اس کے مال کی حرمت تیری حرمت سے بہت بڑی ہے۔ (ابن ماجہ) اب آگے اسی قتل مومن کے سلسلے میں اور ایک امر بیان فرماتے ہیں کہ کسی مومن کے مومن سمجھنے اور اس کے قتل سے بچنے کے لئے اس کا ظاہری اسلام کافی ہے جو شخص اپنے اسلام کا اظہار کرے اور اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرے اس کے قتل سے بچنا واجب ہے ۔ جیسا کہ ایک خاص واقعہ میں بعض صحابہ سے اس قسم کی غلطی واقعہ ہوئی تھی لہٰذا اس پر تنبیہ کی گئی اور اس سلسلے میں ایک مستقل ضابطہ فرمایا جو صدہا دفعات کو شامل ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)