Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 98

سورة النساء

اِلَّا الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الۡوِلۡدَانِ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ حِیۡلَۃً وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿ۙ۹۸﴾

Except for the oppressed among men, women and children who cannot devise a plan nor are they directed to a way -

مگر جو مرد عورتیں اور بچےّ بے بس ہیں جنہیں نہ تو کسی چارۂ کار کی طاقت اور نہ کسی راستے کا علم ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Except the weak ones among men, women and children who cannot devise a plan, nor are they able to direct their way. is an excuse that Allah gives for this type of people not to emigrate, because they are unable to free themselves from the idolators. And even if they did, they would not know which way to go. This is why Allah said, لااَ يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلااَ يَهْتَدُونَ سَبِيلاً (Who cannot devise a plan, nor are they able to direct their way), meaning, they do not find the way to emigrate, as Mujahid, Ikrimah and As-Suddi stated. Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

98۔ 1 یہ ان مردوں، عورتوں اور بچوں کو ہجرت سے مستثنیٰ کرنے کا حکم ہے جو اس کے وسائل سے محروم اور راست سے بھی بیخبر تھے۔ بچے اگرچہ شرعی حکام کے مکلف نہیں ہوتے لیکن یہاں ان کا ذکر ہجرت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے کہا گیا ہے بچے تک بھی ہجرت کریں یا پھر یہاں بچوں سے مراد قریب البلوغت بچے ہونگے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٥] ہجرت نہ کرسکنے والے :۔ جو مسلمان فی الواقع کمزور تھے اور ہجرت کرنے کی کوئی راہ انہیں نظر نہیں آرہی تھی۔ مستضعفین یا کمزور سے مراد وہ لوگ ہیں جو فی الحقیقت معذور ہوں جیسے بیمار، بچے، بوڑھے، عورتیں اور کافروں کی قید میں پڑے ہوئے مسلمان۔ اور وسائل محدود ہونے سے یہ مراد ہے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی سواری کا بندوبست ہو اور نہ وہ پیدل سفر کی مشقت اٹھانے کے قابل ہوں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا گروہ سے مستثنیٰ قرار دیا، اور ان کے ہجرت نہ کرنے کے قصور کی معافی کا وعدہ فرمایا۔ چناچہ سیدنا ابن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے کہ && میں اور میری ماں ایسے ہی لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے معذور رکھا۔ && (بخاری، کتاب التفسیر) نیز ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کئی دوسرے ناتواں مسلمان بھی تھے جن کی نجات کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں رکوع کے بعد دعا فرمایا کرتے && (بخاری، کتاب الادب، باب تسمیۃ الولید)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ ۔۔ : اس آیت میں ان لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو واقعی بےبس اور معذور تھے اور ہجرت نہیں کرسکتے تھے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ” میں اور میری والدہ ان لوگوں میں سے تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا۔ “ [ بخاری، التفسیر : ٤٥٨٨ ] ان لوگوں میں عیاش بن ابی ربیعہ اور سلمہ بن ہشام وغیرہ بھی شامل ہیں جن کے حق میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کے پنجے سے نجات کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔ [ بخاری، التفسیر : ٤٥٩٨ ] 2 ابن عباس (رض) کی والدہ ام الفضل بنت الحارث (رض) ہیں اور ان کا نام لبابہ ہے، جو ام المومنین میمونہ بنت الحارث کی بہن تھیں۔ ” بنات حارث “ نو بہنیں تھیں، ان میں ایک اسماء بنت عمیس، خثعمیہ تھیں جو ماں کی طرف سے میمونہ کی بہن تھیں اور جعفر بن ابی طالب (رض) کی بیوی۔ جعفر (رض) کے بعد ابوبکر صدیق (رض) نے ان سے نکاح کرلیا اور ابوبکر (رض) کے بعد علی (رض) کے نکاح میں آگئیں۔ (قرطبی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَۃً وَّلَا يَہْتَدُوْنَ سَبِيْلًا۝ ٩٨ۙ رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] النساء والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کا ٹ لئے تھے ۔ الاستطاعۃ . وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] ( ط و ع ) الطوع الاستطاعۃ ( استفعال ) یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجہ ہونا ۔ اور استطاعت قدرت سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔ ( حيلة) مصدر سماعي لفعل حال يحول بمعنی احتال، وزنه فعلة بکسر فسکون، وفيه إعلال بالقلب أصله حولة، جاءت الواو ساکنة بعد کسر قلبت ياء . اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٨۔ ٩٩) البتہ کمزور بچے، بوڑھے اور عورتیں جو کہ ہجرت کرنے پر قادر نہ ہوں کوئی تدبیر کرسکتے ہوں اور نہ راستہ ہی سے واقف ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ان سے غلطی ہوئی اور اس پر انہوں نے توبہ کی تو اپنے کرم سے اس کو معاف فرما دیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٨ (اِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآء والْوِلْدَانِِ ) جن لوگوں کو کمزور سمجھ کر دبالیا گیا ہو ‘ واقعتا زنجیروں میں جکڑ کر گھروں میں بند کردیا گیا ہو ‘ ان کا معاملہ اور ہے۔ یا پھر کوئی عورت ہے جس کے لیے تنہا سفر کرنا ممکن نہیں۔ ویسے تو ایسی عورتیں بھی تھیں جنہوں نے تنہا ہجرتیں کیں ‘ لیکن ہر ایک کے لیے تو ایسا ممکن نہیں تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:98) المستضعفین۔ جو در حقیقت مجبور و معذور تھے۔ مستضعفین۔ کمزور۔ ناتواں ضعیف لوگ۔ لا یستطیعون حیلۃ۔ کسی حیلہ و چارہ کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ولا یھتدون سبیلا۔ اور نہ (باہر نکلنے کی) کوئی راہ تلاش کرسکتے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اس آیت میں ان لوگوں کو مستثنی ٰ قرار دیا ہے جو واقعی بےبس اور معذور تھے اور ہجرت نہیں کرسکتے تھے۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں میں اور میر والدہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہے اور ان لوگوں میں عیاش بن ابی ربیعہ ابن ہشام وغیر ہم بھی شامل ہیں جن کے حق میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کے پنجے نجات کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔ (قرطبی، ابن کثیر) فائدہ حضرت ابن عباس (رض) کی والدہ ام الفضل بنت حارث ہیں اور ان کا نام لبابہ ہے جو میمود (رض) بنت حارث ام المومنین کی بہن تھیں حارث نو بہنیں تھیں جن کے حق میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے الا خوات المو منات فرمایا تھا، ان میں اک اسما بنت عمیس خثمیہ تھیں جو ماں کی طرف سے میمونہ (رض) کی بہن تھیں اور جعفر (رض) بن ابی طالب کی بیوی۔ جعفر (رض) کے بعد حضرت ابوبکر (رض) نے ان سے نکاح کرلیا اور حضرت ابوبکر (رض) کے حضرت علی (رض) کے نکاح میں آگئیں (رض) (قرطبی) ہجرت کے ساتھ فی سبیل اللہ کا ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہجرت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے سوا اور کچھ نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جس شخص ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہے اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہے یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہے تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی (بخاری ومسلم )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (اِلاَّالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ ) اس میں یہ بتایا کہ جو مرد اور عورتیں اور بچے کافروں میں پھنس جائیں وہاں مغلوب ہوں ہجرت سے عاجز ہوں کوئی تدبیر سامنے نہ ہو اور رستہ بھی معلوم نہ ہو کہ کہاں جائیں اور کیا کریں تو ایسے لوگ مواخذے سے مستثنیٰ ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ میں اور میری والدہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے معذورقرار دیا۔ (صحیح بخاری صفحہ ٦٦٠) ان کے علاوہ اور متعدد صحابہ تھے جو مکہ مکرمہ میں پھنسے ہوئے تھے اور وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہ تھی اور کافروں کے ماحول میں مصیبت میں پڑے ہوئے تھے۔ ان کے لیے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قنوت نازلہ میں دعا کیا کرتے تھے ان میں سے عیاش بن ربیعہ اور سلمہ بن ہشام اور ولید بن ولید کے اسماء گرامی روایات میں آتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 یقینا جب فرشتے ایسے لوگوں کی جان قبض کرتے ہیں جو باوجود استطاعت کے ہجرت نہ کر کے اپنے حق میں برا کر رہے ہیں تو اس وقت وہ فرشتے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ تم لوگ کس حالت میں تھے اور کیا کام کیا کرتے تھے وہ جواب دیتے ہیں ہم اس سر زمین میں محض عاجز و بےبس تھے وہ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع اور کشادہ نہ تھی کہ تم اس زمین میں ترک وطن کر کے چلے جائو اور یہاں سے نکل جائو لہٰذا ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ دوزخ بہت بری بازگشت اور پھر جانی کی بری جگہ ہے ۔ مگر ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے واقعی ایسے بےبس ہوں کہ نہ تو وہ کوئی تدبیر کرسکتے ہوں اور نہ راستے سے واقف ہوں۔ (تیسیر) شاید یاد ہوگا ہم ن اس صورت کی تمہید میں عرض کیا تھا کہ مسلمان مدینہ میں جس قدر ترقی کرتے جاتے تھے اور ملک میں ان کا اقتدار بڑھتا جاتا تھا اسی قدر نئی نئی ضروریات پیش آتی جاتی تھیں اور ان ضروریات کے متعلق احکام نازل ہوتے رہتے تھے مکہ کی زندگی میں مجبوریاں ہی مجبوریاں تھیں ، ہجرت کے بعد ایک ایسی سر زمین نصیب ہوئی جہاں مسلمان بےخوف و خطر احکام اسلامی پر عمل کرنے کے قابل ہوئے لہٰذا جو لوگ مکہ میں باقی رہ گئے تھے وہ بےبس کی زندگی بسر کر رہے تھے ان کے لئے ضروری ہوا کہ وہ آزاد سر زمین پر چلے جائیں اسی طرح اگر آس پاس کی بستی میں کوئی مسلمان ہوگیا اور وہاں کفار کے غلبہ کی وجہ سے آزادانہ احکام اسلامی پر عمل نہ کرسکتا ہو تو اس کو بھی حکم ہوا کہ وہ آزاد سر زمین کی طرف ہجرت کر کے نکل آئے۔ یہاں تک کہ ابھی ہم نے کچھ اوپر عرض کیا تھا کہ ہجرت کلمہ توحید کے قائم مقام قرار دی گئی ہجرت کر کے دار الاسلام میں چلا آنا توحید و رسالت کا اقرار شمار ہوتا تھا اور جو شخص ہجرت کر کے نہ آئے اس کی ولایت اور نصرت کی ممانعت کی گئی اور جس طرح جہاد عام مفاد انسان کے لئے فرض کیا گیا اسی ہجرت خاص مفاد کے لحاظ سے فرض کی گئی ۔ جہاد سے عام انسانوں کو امن دینا اور امن کی زندگی بسر کرنے کا موقع دینا ہوتا ہے کہ اصل اشاعت اسلامی یہی ہے تو ہجرت میں شخصی امن اور شخصی عافیت اور آزادی کے ساتھ احکام اسلامی پر عمل مقصود ہوتا ہے اور چونکہ ترک وطن ایک مشکل اور سخت کام ہے اس لئے لوگ وطن کے لالچ میں بےبسی کی زندگی پر قناعت کرتے تھے ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے وعید نازل کی کیونکہ ہجرت کی قدرت اور استطاعت کے ہوتے ہوئے ہجرت نہ کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے دین پر عمل نہ کرنے اور تمام احکام کے بجا نہ لانے پر رضا مند ہو اس لئے تارکین ہجرت پر وعید فرمائی اور یہاں اس وعید کا ایک مخصوص طریقہ اختیار کیا کہ جو لوگ باوجود قدرت و استطاعت کے تارک ہجرت ہوں اور ترک ہجرت کی وجہ سے گناہ گارہوں جیسا کہ فرض کا تارک گناہگار ہوتا ہے تو اس کی جان نکالتے وقت اس سے فرشتے سوال کرتے ہیں فیم کنتم یعنی تم کس حال میں تھے یعنی کیا تم مسلمان تھے جیسا کہ تم اپنی زبان سے کہا کر تھے یا تم کافر تھے، جیسا کہ تمہارا مقام ظاہر کرتا ہے اور بلا عذر کفار کے ساتھ تمہاری موافقت اور ان کے ساتھ تمہارے رہن سہن سے ظاہر ہوتا ہے یا یہ مطلب کہ تم دین کے کیا کیا ضروری کام کیا کرتے تھے اور کون کون سے کام چھوڑے بیٹھے تھے یا یہ مطلب کہ تم قوت وضعف کی کس حالت میں تھے، سوال چونکہ تو بیخا ہوگا اس لئے بعض لوگوں نے یہ مطلب بیان کیا کہ تم کچھ بھی نہیں تھے اور تمہارا کوئی دین نہیں تھا وہ جواب میں اپنی بےبسی کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم اس سر زمین میں مغلوب تھے یعنی کفار کے دبائو کی وجہ سے تمام ضروریات دین پر عمل نہ کرسکتے تھے وہ جواب دیں گے کہ کیا خدا کی زمین کشادہ نہیں ہے تم کو کسی اور ایسی جگہ چلا جانا چاہئے تھا جہاں تم تمام ضروریات دین پر عمل کرسکتے اور آزادی کے ساتھ احکام اسلامی کو بجا لاتے اور فرائض کو ادا کرتے فرشتوں کی اس بات کو سن کر یہ کوئی جواب نہ دیں گے اور ان پر چونکہ جرم ثابت ہوجائے گا تو اس کی جزا بیان فرمائی۔ آگے ان لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا جو واقعی بےبس اور ہجرت کے قابل نہیں۔ استنثیٰ متصل ہو تو ماواھم کی ضمیر سے استثنا ہوگا اور اگر استثناء منقطع ہے تو مطلب ظاہر ہی ہم نے ترجمہ اور تیسیر دونوں کی رعایت رکھی ہے۔ جن مردوں کی جانب اشارہ فرمایا ہے ان سے وہ مرد مراد ہیں جو بوڑھے ہوں یا اپاہج ہوں یا صاحب عیال ہوں پیدل چل نہ سکتے ہوں سواری کی استطاعت نہ ہو رہی عورتیں تو وہ کمزور و ناتواں ہوتی ہی ہیں۔ رہے بچے تو باوجود مکلف نہ ہونے کے ان کا ذکر مبالغہ کی غرض سے فرمایا کہ جب غیر مکلف کا بھی ذکر ہے تو جو لوگ مکلف ہیں ان کا کیا حال ہوگا یا یہ مطلب ہو کہ بچے اگرچہ گناہ نہ ہوں لیکن یہ ترک ہجرت کا فعل تو انتہائی برا ہے اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ بچوں کا ذکر اس لئے فرمایا تاکہ یہ بات معلوم ہو سکے کہ وہ شخص مستثنیٰ ہوسکتا ہے جو بچوں کی طرح مجبور ہو یا اس لئے ذکر فرمایا کہ ہجرت کی اہمیت معلوم ہو کہ اگرچہ ان پر اس وقت واجب نہیں۔ لیکن بالغ ہونے کے بعد واجب ہوجائے گی اس سے بچ نہیں سکیں گے۔ اگر باوجود بچہ ہونے کے بھی ان کو بالواسطہ یا بلاواسطہ قدرت حاصل ہوجائے تو ان کو ہجرت کر لینی چاہئے یا ان کے اولیاء پر اس امر کو ظاہر کرنا ہوگا کہ اگر قدرت حاصل ہوجائے تو بچوں کو بھی دارالفکر میں نہیں چھوڑنا چاہئے ان کو ہمراہ لے کر نکلنا چاہئے۔ (واللہ اعلم) آگے ان کمزوروں کی صفت بیان فرمائی کہ نہ کوئی حیلہ کرسکتے ہیں اور نہ راستے سے واقف ہیں۔ حیلہ سے مراد اسباب ہجرت ہیں یعنی اسباب ہجرت کا فقدان اسباب عام ہیں ینی جو صورت بھی ہجرت کو ممکن بنا دے اس میں سے کسی پر قادر نہیں۔ دوسرے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ راستے سے ناواقف ہیں جیسا کہ بعض مہاجرین کے ساتھ ایسا ہو بھی چکا تھا کہ وہ راستہ نہ جاننے کی وجہ سے ٹکراتے پھرے اور مکہ کے کافران کو پھر پکڑ کرلے گئے یہ ہوسکتا ہے کہ آیت کا نزول کسی خاص واقعہ کے متعلق ہو جیسے قیس بن الکنالہ اور قیس بن الولید وغیرہ کہ ان لوگوں کو باوجود مسلمان ہونے کے کفار مکہ اپنی بھیڑ بڑھانے کو میدان جنگ میں لے جاتے تھے۔ بہرحال ! جن لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا تھا آگے ان کی معافی کا اعلان فرمایا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے (تسہیل)