Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 17

سورة مومن

اَلۡیَوۡمَ تُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ؕ لَا ظُلۡمَ الۡیَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۷﴾

This Day every soul will be recompensed for what it earned. No injustice today! Indeed, Allah is swift in account.

آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا آج ( کسی قسم کا ) ظلم نہیں ، یقیناً اللہ تعالٰی بہت جلد حساب کرنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

This Day shall every person be recompensed for what he earned. This Day no injustice (shall be done to anybody). Truly, Allah is swift in reckoning. Here Allah tells us of His justice when He judges between His creation; He does not do even a speck of dust's weight of injustice, whether it be for good or for evil. For every good deed He gives a tenfold reward and for every bad deed He gives recompense of one bad deed. Allah says: لاَا ظُلْمَ الْيَوْمَ (This Day no injustice (shall be done to anybody)). It was reported in Sahih Muslim from Abu Dharr, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah said that Allah said: يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا إلى أن قال يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا عَلَيْكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَه "O My servants, I have forbidden injustice for Myself, and made it unlawful for you, so do not commit injustice to one another ..." up to: "O My servants, these are your deeds, I record them for you then I will recompense you for them. Whoever finds something good, let him give praise to Allah, and whoever finds something other than that, let him blame no one but himself." ... إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ Truly, Allah is swift in reckoning. means, He will bring all His creation to account as if He is bringing just one person to account. This is like the Ayah: مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ The creation of you all and the resurrection of you all are only as a single person, (31: 28) وَمَأ أَمْرُنَأ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ And Our commandment is but one as the twinkling of an eye. (54:50)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 اس لئے کہ اسے بندوں کی طرح غورو فکر کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢] ظلم کی ممکنہ صورتیں :۔ ظلم کی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ مثلاً پہلی یہ کہ کسی نے ظلم نہ کیا ہو لیکن اسے خواہ مخواہ سزا دے دی جائے۔ دوسری یہ کہ جرم تو تھوڑا ہو مگر اسے سزا زیادہ دے دی جائے۔ تیسری یہ کہ آدمی مستحق تو اجر کا ہوگا مگر اسے سزا دے دی جائے۔ چوتھی یہ کہ جرم تو زید نے کیا ہو مگر اس کی سزا بکر کو دے دی جائے پانچویں یہ کہ آدمی جتنے اجر کا مستحق ہو اسے اس سے کم دیا جائے۔ چھٹی یہ کہ آدمی سزا کا مستحق ہو مگر اسے سزا نہ دی جائے اور مظلوم منہ دیکھتا رہ جائے۔ غرضیکہ ظلم کی جتنی بھی صورتیں ممکن ہیں ان میں کسی بھی صورت کا ظلم اللہ کی عدالت میں ہونے نہ پائے گا۔ [٢٣] فیصلہ میں دیر لگنے کی وجہ :۔ اللہ تعالیٰ کو ساری مخلوق کا حساب چکانے اور فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اس لئے کہ دیر لگنے کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ انصاف کے تقاضے پورے نہ ہورہے ہوں جیسے یہاں دنیا کی عدالتوں میں ہوتا ہے کہ کبھی مدعی حاضر نہیں ہوتا اور کبھی مدعا علیہ، کبھی گواہ غیر حاضر ہوتے ہیں اور بار بار کے نوٹسوں کے باوجود عدالت میں حاضر ہی نہیں ہوتے اور اس طرح انصاف کے تقاضے پورے کرتے کرتے ہی سالہا سال لگ جاتے ہیں۔ اللہ کی عدالت میں یہ بات نہ ہوگی۔ وہاں مدعی، مدعا علیہ اور گواہ سب موجود اور اللہ کے علم میں ہونگے اور جس کی ضرورت ہوگی وہ فوراً حاضر ہوجائے گا یا حاضر کرلیا جائے گا۔ دیر کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں قاضی ایک وقت میں ایک ہی مقدمہ کی سماعت کرسکتا ہے لیکن اللہ کے ہاں یہ معاملہ نہیں۔ وہ جس طرح بیک وقت ہر ایک کو دیکھتا، ہر ایک کی سنتا، ہر ایک کی داد رسی کرتا اور ہر ایک کو رزق دے رہا ہے۔ اسی طرح وہ بیک وقت اپنی تمام مخلوق کے مقدمات کی سماعت بھی کرسکتا ہے اور ان کے فیصلے بھی کرسکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) لاظلم الیوم : آج کسی قسم کا ظلم نہیں ہوگا کہ کسی کا ثواب کم کردیا جائے ، یا کسی کو اس سے زیادہ عذاب دیا جائے جس کا وہ مستحق ہے۔ (٢) ان اللہ سریع الحساب : اللہ تعالیٰ کو تمام جن و انس کا حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگتی، اس کے لئے تمام انسانوں کا حساب ایسے ہی ہے جیسے ایک آدمی کا حساب لینا، کیونکہ اسے ہر چیز کا علم ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ مخلوق کی طرح عاجز نہیں کہ ایک وقت میں ایک ہی مقدمہ سن سکے، یا اصل حقیقت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے جلدی فیصلہ نہ کرسکے۔ انسان اپنے نہیں کہ ایک وقت میں ایک ہی مقدمہ سن سکے، یا اصل حقیقت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے جلدی فیصلہ نہ کرسکے۔ انسان اپنے عجز کی وجہ سے فیصلے میں دیر کرتا ہے، جب کہ فیصلے میں دیر بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ہر طرح کے عجز سے پاک عجز کی وجہ سے فیصلے میں دیر کرتا ہے، جب کہ فیصلے میں دیر بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ہر طرح کے عجز سے پاک عجز کی وجہ سے فیصلے میں دیر کرتا ہے، جب کہ فیصلے میں دیر بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ہر طرح کے عجز سے پاک ہے، اس لئے وہ ایک ہی وقت میں سب کا حساب کر کے جنت والوں کو جنت میں اور جہنم والوں کو جہنم میں بھیج دے گا، فرمایا ہے، اس لئے وہ ایک ہی وقت میں سب کا حساب کر کے جنت والوں کو جنت میں اور جہنم والوں کو جہنم میں بھیج دے گا، فرمایا ہے، اس لئے وہ ایک ہی وقت میں سب کا حساب کر کے جنت والوں کو جنت میں اور جہنم والوں کو جہنم میں بھیج دے گا، فرمایا :(ماخلقکم ولابعثکم الا کنفس واحدۃ) (لقمان : ٢٨) ” نہیں ہے تمہارا پیدا کرنا اور نہ تمہارا اٹھانا مگر ایک جان کی طرح۔ “ اور فرمایا :(وما امرنا الا واحدۃ کلمح بالبصر) (القمر : ٥٠)” اور ہمارا حکم تو صرف ایک بار ہوتا ہے، جیسے آنکھ کی ایک جھپکے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلْيَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍؚبِمَا كَسَبَتْ۝ ٠ۭ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ۝ ٠ۭ اِنَّ اللہَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۝ ١٧ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کت ہے ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو ۔۔۔۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں سرع السُّرْعَةُ : ضدّ البطء، ويستعمل في الأجسام، والأفعال، يقال : سَرُعَ ، فهو سَرِيعٌ ، وأَسْرَعَ فهو مُسْرِعٌ ، وأَسْرَعُوا : صارت إبلهم سِرَاعاً ، نحو : أبلدوا، وسَارَعُوا، وتَسَارَعُوا . قال تعالی: وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] ، وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ( س ر ع ) السرعۃ اس کے معنی جلدی کرنے کے ہیں اور یہ بطا ( ورنگ گردن ) کی ضد ہے ۔ اجسام اور افعال دونوں کے ( ان کے اونٹ تیز رفتاری سے چلے گئے ) آتے ہں ۔ جیسا کہ اس کے بالمقابل ایلد وا کے معنی سست ہونا آتے ہیں ۔ سارعوا وتسارعو ایک دوسرے سے سبقت کرنا چناچہ قرآن میں ہے : وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] اور اپنے پروردگار کی بخشش ( اور بہشت کی ) طرف لپکو ۔ وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] اور نیکیوں پر لپکتے ہیں ۔ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] اس روز زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور جھٹ جھٹ نکل کھڑے ہوں گے ۔ حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] ( ح س ب ) الحساب کے معنی گنتے اور شمار کرنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ حسبت ( ض ) قرآن میں ہے : ۔ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] اور برسوں کا شمار اور حساب جان لو ۔ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آج کسی پر ظلم نہ ہوگا یعنی کسی کی نیکیوں میں سے کچھ کمی نہ کی جائے گی اور نہ ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ جب حساب لینا شروع فرمائیں تو بہت جلد حساب لینے والے ہیں یا یہ کہ جس وقت سزا دیں تو پھر سخت سزا دینے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧ { اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ } ” آج ہر جان کو وہی بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا۔ “ { لَا ظُلْمَ الْیَوْمَط اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ } ” آج کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ یقینا اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28 That is, "None shall be wronged in any way whatever today." It should be noted that in respect of recompense, injustice can have several forms; ( 1) A person may deserve a reward but he is not given it; (2) he is given a lesser reward than what was due to him; (3) he is given a punishment although he is not liable to any punishment; (4) the one who is liable to punishment is not given any punishment; (5) the one who is liable to a lesser punishment is given a greater punishment; (6) the oppressor goes Scot-free; and (7) one is seized for the sin committed by another. What Allah means to say is that none of these different kinds of injustices will be allowed to take place in His Court. 29 It means: "It will take Allah no time to do the reckoning. Just as He is providing for every creature of the miverse simultaneously and He is not so occupied in providing for one that He may have no time to provide for others, and just as He is seeing everything in the universe simultaneously, and hearing everything simultaneously, is managing every small and big affair simultaneously, and nothing absorbs His attention so completely that He may be unable to give . attention to others, at the same time, so He will subject to reckoning every single individual simultaneously and the hearing of one case will not make Him so occupied as to render Him unable to hear other countless cases at the same time. Then in His Court no delay also will be allowed to take place due to any difficulty in the investigation of the facts of the case and the availability of the witnesses. The Judge of the Court will Himself be aware of all the facts directly. Each party in every case will stand completely exposed before Him, and clear. undeniable evidence of the events and deeds, with each minor detail, will come forward without any delay. Therefore, each case will be settled and decided instantaneously.

سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :28 یعنی کسی نوعیت کا ظلم بھی نہ ہو گا ۔ واضح رہے کہ جزاء کے معاملہ میں ظلم کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ آدمی اجر کا مستحق ہو اور وہ اس کو نہ دیا جائے ۔ دوسرے یہ کہ وہ جتنے اجر کا مستحق ہو اس سے کم دیا جائے ۔ تیسرے یہ کہ وہ سزا کا مستحق نہ ہو مگر اسے سزا دے ڈالی جائے ۔ چوتھے یہ کہ جو سزا کا مستحق ہو اسے سزا نہ دی جائے ۔ پانچویں یہ کہ جو سزا کا مستحق ہو اسے زیادہ سزا دے دی جائے ۔ چھٹے یہ کہ مظلوم کا منہ دیکھتا رہ جائے اور ظالم اس کی آنکھوں کے سامنے صاف بری ہو کر نکل جائے ۔ ساتویں یہ کہ ایک کے گناہ میں دوسرا پکڑ لیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ ان تمام نوعیتوں میں سے کسی نوعیت کا ظلم بھی اس کی عدالت میں نہ ہونے پائے گا ۔ سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :29 مطلب یہ ہے کہ اللہ کو حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگے گی ۔ وہ جس طرح کائنات کی ہر مخلوق کو بیک وقت رزق دے رہا ہے اور کسی کی رزق رسانی کے انتظام میں اس کو ایسی مشغولیت نہیں ہوتی کہ دوسروں کو رزق دینے کی اسے فرصت نہ ملے ، وہ جس طرح کائنات کی ہر چیز کو بیک وقت دیکھ رہا ہے ، ساری آوازوں کو بیک وقت سن رہا ہے ، تمام چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملات کی بیک وقت تدبیر کر رہا ہے ، اور کوئی چیز اس کی توجہ کو اس طرح جذب نہیں کر لیتی کہ اسی وقت وہ دوسری چیزوں کی طرف توجہ نہ کر سکے ، اسی طرح وہ ہر ہر فرد کا بیک وقت محاسبہ بھی کر لے گا اور ایک مقدمے کی سماعت کرنے میں اسے ایسی مشغولیت لاحق نہ ہو گی کہ اسی وقت دوسرے بے شمار مقدمات کی سماعت نہ کر سکے ۔ پھر اس کی عدالت میں اس بنا پر بھی کوئی تاخیر نہ ہو گی کہ واقعات مقدمہ کی تحقیق اور اس کے لیے شہادتیں فراہم ہونے میں وہاں کوئی مشکل پیش آئے ۔ حاکم عدالت براہ راست خود تمام حقائق سے واقف ہو گا ۔ ہر فریق مقدمہ اس کے سامنے بالکل بے نقاب ہو گا ۔ اور واقعات کی کھلی کھلی ناقابل انکار شہادتیں چھوٹی سے چھوٹی جزئی تفصیلات تک کے ساتھ بلا تاخیر پیش ہو جائیں گی ۔ اس لیے ہر مقدمے کا فیصلہ جھٹ پٹ ہو جائے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:17) الیوم تجزی ۔۔ سریع الحساب۔ آج ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ ملے گا۔ آج ذرا ظلم نہیں ہوگا۔ بیشک اللہ بہت جلد حساب لے ڈالنے والا ہے۔ (جواب کا ضمیمہ ہے) اس سوال و جواب کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ سوال و جواب ساری مخلوق کے مرنے کے بعد اور دوبارہ پیدا کرنے سے پہلے ہوگا۔ اور سوال کرنے والا اور جواب دینے والا خود اللہ کی ذات ہوگی۔ جب ہر چیز فناء ہوجائے گی اور کوئی شے باقی نہ رہے گی۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ للّٰہ الواحد القھار۔ (2) یہ سوال و جواب اس وقت ہوگا جب ساری مخلوق زندہ ہو کر خدا کے حضور کھڑی ہوگی اور ہر شخص کا ظاہرہ و باطن اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہوگا۔ اور یہ امر شک وشبہ سے بالاتر ساری مخلوق کے ذہن نشین ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ سوال کریگا کہ۔ دنیا میں مارنے والو ! اب بتاؤ کہ آج کس کی حکومت ہے ؟ ہر شخص حقیقت حال ست آگاہ ہوگا۔ اس لئے کوئی جواب نہ دے سکے گا۔ تو پھر اللہ تعالیٰ خود ہی جواب میں فرمائے گا۔ للّٰہ الواحد القھار ۔۔ الخ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ سائل اللہ تعالیٰ یا فرشتگان ہوں گے۔ اور جواب دینے والے حشر میں جمع لوگ ہوں گے ۔ لیکن کلام الیوم تجزی ۔۔ سریع الحساب بندوں کی زبان سے نہیں ہے۔ فھذا یقضی ان یکون المنادی ھو المجیب (کشاف) یعنی یہ عبارت اس بات کی مقتضی ہے کہ سوال کرنے والا خود ہی جواب دینے والا ہو۔ (4) بعض کے نزدیک یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الیوم تجزی ۔۔ سریع الحساب تمتہ جواب نہیں ہے بلکہ سوال و جواب کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہو۔ تجری مضارع مجہول واحد مؤنث غائب ۔ مؤنث کا صیغہ نفس کے لئے ہے جزاء (باب ضرب) مصدر۔ جزی مادہ۔ اس کو جزاء دی جائے گی۔ اس کو بدلہ دیا جائے گا۔ کل نفس۔ مفعول مالم یسم فاعلہ، ہر نفس ، ہرجان۔ سریع الحساب۔ مضاف مضاف الیہ ۔ حساب کو بہت جلدی کرلینے والا۔ سریع ۔ سرعۃ سے بروزن فعیل بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بہت جلدی سے کرلینے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یعنی کسی کا ثواب کم نہ کیا جائے گا اور نہ کسی کے عذاب میں، جس کا وہ واقعی مستحق ہے، اضافہ کیا جائے گا ۔12 یعنی اللہ تعالیٰ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی کیونکہ اسے ہر چیز کا علم ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ ) (آج کے دن ہر جان کو اس کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ اس نے کسب کیا) یعنی جو کچھ کمایا یا خیر ہو یا شر ہو اس کا بدلہ دیا جائے گا (لاَ ظُلْمَ الْیَوْمَ ) (آج کے دن کوئی ظلم نہیں) نہ کسی کی کوئی نیکی ضائع جائے گی اور نہ کسی کے اعمالنامے میں کسی برائی کا اضافہ کیا جائے گا جو اس نے نہ کی ہو (اِِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) (بلاشبہ اللہ جلد حساب لینے والا ہے) وہ سب کا حساب بیک وقت لینے پر قادر ہے ایسا نہیں ہے کہ ترتیب وار حساب لینے کی ضرورت ہو اور ایک کا حساب لینا دوسرے کے حساب سے مانع ہو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ ” وانذرھم “ ” یوم الازفۃ “ سے قیامت کا دن مراد ہے۔ ” الازفۃ “ کا موصوف محذوف ہے۔ والازفۃ صفۃ لمحذوف تقدیرہ یوم الساعۃ الازفۃ او الطامۃ الازفۃ (بحر ج 7 ص 456) ۔ ” الازفۃ القریبۃ “ جیسا کہ سورة معارج رکوع 1 میں ارشاد ہے۔ ” انہم یرونہ بعید او نراہ قریباہ کا ظمین “ شدید رنج و غم اور درد و کرب میں مبتلا ہوں گے اور ان کا پیمانہ غیظ لبریز ہوگا۔ کا ظمین ای مکروبین والکاظم الساکت حال امتلائہ غما وغیظا (کبیر ج 7 ص 311) ۔ یہ حکمانہ الٰہی سے متعلق تخویف اخروی ہے، ان کو اس قریب ہی آنے والی ہولناک آفت (قیامت) سے خبردار کر دو جب شدت خوف سے منکرین کے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے اور وہ غم واندوہ میں گھٹ رہے ہوں گے وہ اس ہولناک دن کی آفتوں سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اس حکمنامے کو مان لیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(17) آج کے دن ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا آج کسی پر کچھ ظلم نہیں ہوگا بیشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کردینے والا ہے۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک ماہ کا سفرکرکے عبداللہ ابن انیس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا ایک حدیث آپ کے پاس قصاص کے بارے میں ہے وہ سننے کے لئے آیا ہوں انہوں نے کہا فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہ قیامت کے دن غیر ختنہ شدہ اور بےسرو سامان اٹھائے جائیں گے پھر سب کو اللہ تعالیٰ آواز دے کر کہے گا اور اس آوازکو سب سنیں گے وہ قریب ہوں یا دور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں اور میں انصاف کرنے والا ہوں اہل دوزخ اور اہل جنت دونوں ٹھہر جائیں جب تک میں حقوق کا بدلا نہ دلوادوں تب تک کوئی شخص دوزخ اور جنت میں نہ جائے پھر جو حق کسی نے کسی کا دبایا ہوگا یا کسی پر ظلم کیا ہوگا اس کا بدلا دلوایا جائے گا۔ میں نے پوچھا وہ کیونکر ہوگا عبداللہ بن انیس (رض) نے فرمایا ظالم کی نیکیاں چھین کر مظلوم کو دلوائی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو برائیاں مظلوم کی ظالم پر ڈالی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ حساب میں جلدی کرنے والا ہے یعنی یہ کہ بیک وقت سب سے حساب لے لیگا اس کا حساب لینا ایک سے دوسرے سے حساب لینے کو بیک وقت مانع نہ ہوگا۔ اس کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی۔ الیوم وتجزی کل نفس بما کسبت لا ظلم الیوم ان اللہ سریع الحساب۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں گناہ تین قسم کے ہیں ایک قسم وہ جو بخش دئیے جائیں گے دوسری قسم وہ جو نہیں بخشے جائیں گے تیسری قسم وہ جن میں سے کچھ چھوڑا نہیں جائیگا جن گناہوں کی بخشش ہوجائے گی وہ گناہ وہ ہیں جن کے کرنے والے نے توبہ کرلی ہوگی۔ جو نہیں بخشا جائے گا وہ گناہ شرک ہے اور جو نہیں چھوڑا جائے گا وہ حقوق کا گناہ ہے جو پورا دلوایا جائے گا ظالم سے مظلوم کو غاصب سے مغصوب کو اگر کسی نے ناحق کسی کو طمانچہ مارا ہے تو اس کا بھی بدلا دلوایا جائے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تاکید فرمایا کرتے تھے کہ جس پر کسی کا کوئی حق ہو تو وہ اس کو اس سے دن پہلے پہلے معاف کرالے جس دن درہم و دینار نہ ہوں گے بلکہ حقوق اعمال سے ادا کرائے جائیں گے۔