Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 28

سورة مومن

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ ٭ۖ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَکۡتُمُ اِیۡمَانَہٗۤ اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ یَّقُوۡلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَ قَدۡ جَآءَکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ اِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ ۚ وَ اِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ کَذَّابٌ ﴿۲۸﴾

And a believing man from the family of Pharaoh who concealed his faith said, "Do you kill a man [merely] because he says, 'My Lord is Allah ' while he has brought you clear proofs from your Lord? And if he should be lying, then upon him is [the consequence of] his lie; but if he should be truthful, there will strike you some of what he promises you. Indeed, Allah does not guide one who is a transgressor and a liar.

اور ایک مومن شخص نے ، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھاکہا کہ کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وہ سچا ہو ، تو جس ( عذاب ) کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے اس میں کچھ نہ کچھ تو تم پر آپڑے گا ، اللہ تعالٰی اس کی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے اور جھوٹے ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Musa was supported by a believing Man from Fir`awn's Family Allah says, وَقَالَ رَجُلٌ مُّوْمِنٌ مِّنْ الِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلً أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ... And a believing man of Fir`awn's family, who hid his Faith said: "Would you kill a man because he says: `My Lord is Allah,' The well-known view is that this believing man was a Coptic (Egyptian) from the family of Fir`awn. As-Suddi said, he was a cousin (son of the paternal uncle) of Fir`awn. And it was said that he was the one who was saved along with Musa, peace be upon him. Ibn Jurayj reported that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said, "No one from among the family of Fir`awn believed apart from this man, the wife of Fir`awn, and the one who said, يَا مُوسَى إِنَّ الْمَلَاَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ ("O Musa! Verily, the chiefs are taking counsel together about you, to kill you.")" (28:20) This was narrated by Ibn Abi Hatim. This man concealed his Faith from his people, the Egyptians, and did not reveal it except on this day when Fir`awn said, ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى (Leave me to kill Musa). The man was seized with anger for the sake of Allah, and the best of Jihad is to speak a just word before an unjust ruler, as is stated in the Hadith. There is no greater example of this than the words that this man said to Fir`awn: ... أَتَقْتُلُونَ رَجُلً أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ... Would you kill a man because he says: `My Lord is Allah, Al-Bukhari narrated a similar story in his Sahih from `Urwah bin Az-Zubayr, may Allah be pleased with him, who said: "I said to `bdullah bin `Amr bin Al-`As, may Allah be pleased with him: `Tell me, what was the worst thing the idolators did to the Messenger of Allah?' He said, `While the Messenger of Allah was praying in the courtyard of the Ka`bah, Uqbah bin Abi Mu`it came and grabbed the shoulder of the Messenger of Allah and started twisting his garment so that it strangled him. Abu Bakr, may Allah be pleased with him, came and grabbed (Uqbah's) shoulder and pushed him away from the Prophet, then he said, أَتَقْتُلُونَ رَجُلً أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ Would you kill a man because he says: `My Lord is Allah,' and he has come to you with clear signs from your Lord."' This was recorded by Al-Bukhari. Allah's saying; ... وَقَدْ جَاءكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ ... and he has come to you with clear signs from your Lord, means, "how can you kill a man just because he says, `My Lord is Allah,' and he brings proof that what he is saying is the truth" Then, for the sake of argument, he went along with them and said, ... وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ... And if he is a liar, upon him will be (the sin of) his lie; but if he is telling the truth, then some of that (calamity) wherewith he threatens you will befall on you. meaning, `if you do not believe in what he is saying, then it is only common sense to leave him alone and not harm him; if he is lying, then Allah will punish him for his lies in this world and in the Hereafter. If he is telling the truth and you harm him, then some of what he is warning about will happen to you too, because he is threatening you with punishment in this world and in the Hereafter if you go against him. It is possible that he is telling the truth in your case, so you should leave him and his people alone, and not harm them.' Allah tells us that Musa asked Fir`awn and his people to leave them in peace, as Allah says: وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَأءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ وَإِن لَّمْ تُوْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ And indeed We tried before them Fir`awn's people, when there came to them a noble Messenger, saying: "Deliver to me the servants of Allah. Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust. And exalt not yourselves against Allah. Truly, I have come to you with a manifest authority. And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me. But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone." (44:17-21) Similarly, the Messenger of Allah told the Quraysh to leave him alone and let him call the servants of Allah to Allah; he asked them not to harm him, and to uphold the ties of kinship that existed between him and them, by not harming him. Allah says: قُل لاَّ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبَى Say: "No reward do I ask of you for this except to be kind to me for my kinship with you." (42:23) meaning, `do not harm me, because of the ties of kinship that exist between me and you; so do not harm me, and let me address my call to the people.' This was the basis of the truce agreed upon on the day of Al-Hudaybiyyah, which was a manifest victory. ... إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Verily, Allah guides not one who is a transgressor, a liar! means, `if the one who claims to have been sent by Allah is a liar, as you say, this would be obvious to everyone from his words and deeds, for they would be inconsistent and self-contradictory. But we can see that this man is upright and what he says is consistent. If he was a sinner and a liar, Allah would not have guided him and made his words and actions rational and consistent as you see them.' Then this believer warned his people that they would lose the blessings Allah bestowed upon them and that the vengeance of Allah would befall them:

ایک مرد مومن کی فرعون کو نصیحت ۔ مشہور تو یہی ہے کہ یہ مومن قبطی تھے ( رحمہ اللہ تعالیٰ ) اور فرعون کے خاندان کے تھے ۔ بلکہ سدی فرماتے ہیں فرعون کے یہ چچا زاد بھائی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی حضرت موسیٰ کے ساتھ نجات پائی تھی ۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں ۔ بلکہ جن لوگوں کا قول ہے کہ یہ مومن بھی اسرائیلی تھے ۔ آپ نے ان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ اسرائیلی ہوتے تو نہ فرعون اس طرح صبر سے ان کی نصیحت سنتا نہ حضرت موسیٰ کے قتل کے ارادے سے باز آتا ۔ بلکہ انہیں ایذاء پہنچاتا ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے آل فرعون میں سے ایک تو یہ مرد ایمان دار تھا اور دوسرے فرعون کی بیوی ایمان لائی تھیں ۔ تیسرا وہ شخص جس نے حضرت موسیٰ کو خبر دی تھی کہ سرداروں کا مشورہ تمہیں قتل کرنے کا ہو رہا ہے ۔ یہ اپنے ایمان کو چھپاتے رہتے تھے لیکن قتل موسیٰ کی سن کر ضبط نہ ہو سکی اور یہی درحقیقت سب سے بہتر اور افضل جہاد ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے انسان کلمہ حق کہہ دے ۔ جیسے کہ حدیث میں ہے ، اور فرعون کے سامنے اس سے زیادہ بڑا کلمہ کوئی نہ تھا ۔ پس یہ شخص بہت بلند مرتبے کے مجاہد تھے ۔ جن کے مقابلے کا کوئی نظر نہیں آتا ۔ البتہ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ایک واقعہ کئی روایتوں سے مروی ہے جس کا ماحاصل یہ ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک مرتبہ پوچھا کہ سب سے بڑی ایذاء مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پہنچائی ہے؟ آپ نے فرمایا سنو ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ کو پکڑ لیا اور اپنی چادر میں بل دے کر آپ کی گردن میں ڈال کر گھسیٹنے لگا جس سے آپ کا گلا گھٹنے لگا ۔ اسی وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دوڑے دوڑے آئے اور اسے دھکا دے کر پرے پھینکا اور فرمانے لگے کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس دلیلیں لے کر آیا ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ قریشیوں کامجمع جمع تھا جب آپ وہاں سے گذرے تو انہوں نے کہا کیا تو ہی ہے؟ جو ہمیں ہمارے باپ دادوں کے معبودوں کی عبادت سے منع کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں میں ہی ہوں ۔ اس پر وہ سب آپ کو چمٹ گئے اور کپڑے گھسیٹنے لگے ۔ حضرت ابو بکر نے آ کر آپ کو چھڑایا اور پوری آیت اتقتلون کی تلاوت کی ۔ پس اس مومن نے بھی یہی کہا کہ اس کا قصور تو صرف اتنا ہی ہے کہ یہ اپنا رب اللہ کو بتاتا ہے اور جو کہتا ہے اس پر سند اور دلیل پیش کرتا ہے ۔ اچھا مان لو بالفرض یہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اللہ سبحان و تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں سزا دے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ستایا دکھ دیا تو یقینا تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا جیسے کہ وہ کہہ رہا ہے ۔ پس عقلاً لازم ہے کہ تم اسے چھوڑ دو جو اس کی مان رہے ہیں مانیں ۔ تم کیوں اس کے درپے آزار ہو رہے ہیں؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون اور قوم فرعون سے یہی چاہا تھا ۔ جیسے کہ آیت ( وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِيْمٌ 17؀ۙ ) 44- الدخان:17 ) تک ہے یعنی ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم کو بھیجا ۔ اس نے کہا کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سونپ دو ۔ میں تمہاری طرف رب کا رسول امین ہوں ۔ تم اللہ سے بغاوت نہ کرو ۔ دیکھو میں تمہارے پاس کھلی دلیلیں اور زبردست معجزے لایا ہوں ۔ تم مجھے سنگسار کر دو گے اس سے میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں ، اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے چھوڑ دو ، یہی جناب رسول آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف مجھے پکارنے دو تم میری ایذاء رسانی سے باز رہو ۔ اور میری قرابت داری کو خیال کرتے ہوئے مجھے دکھ نہ دو ۔ صلح حدیبیہ بھی دراصل یہی چیز تھی جو کھلی فتح کہلائی ۔ وہ مومن کہتا ہے کہ سنو مسرف اور جھوٹے آدمی راہ یافتہ نہیں ہوتے ۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت نہیں ہوتی ۔ ان کے اقوال و افعال بہت جلد ان کی خباثت کو ظاہر کر دیتے ہیں ۔ برخلاف اس کے یہ نبی اللہ اختلاف و اضطراب سے پاک ہیں ۔ صحیح سچی اور اچھی راہ پر ہیں ۔ زبان کے سچے عمل کے پکے ہیں ۔ اگر یہ حد سے گذر جانے والے اور جھوٹے ہوتے تو یہ راستی اور عمدگی ان میں ہرگز نہ ہوتی ، پھر قوم کو نصیحت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں بھائیو! تمہیں اللہ نے اس ملک کی سلطنت عطا فرمائی ہے ۔ بڑی عزت دی ہے ۔ تمہارا حکم جاری کر رکھا ہے ۔ اللہ کی اس نعمت پر تمہیں اس کا شکر کرنا چائے اور اس کے رسولوں کو سچا ماننا چاہئے ۔ یاد رکھو اگر تم نے ناشکری کی اور رسول کی طرف بری نظریں ڈالیں ۔ تو یقیناً عذاب اللہ تم پر آ جائے گا ۔ بتاؤ اس وقت کسے لاؤ گے ۔ جو تمہاری مدد پر کھڑا ہو اور اللہ کے عذاب کو روکے یا ٹالے؟ یہ لاؤ لشکر یہ جان و مال کچھ کام نہ آئیں گے ۔ فرعون سے اور تو کوئی معقول جواب بن نہ پڑا کھسایانہ بن کر قوم میں اپنی خیر خواہی جتانے لگا کہ میں دھوکا نہیں دے رہا جو میر اخیال ہے اور میرے ذہن میں ہے وہی تم پر ظاہر کر رہا ہوں ۔ حالانکہ دراصل یہ بھی اس کی خیانت تھی ۔ وہ بھی جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ اللہ کے سچے رسول ہیں ۔ جیسے فرمان باری ہے ( لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا ١٠٢؁ ) 17- الإسراء:102 ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرمایا اے فرعون تو خوب جانتا ہے کہ یہ عجائبات خاص آسمان و زمین کے پروردگار نے بھیجے ہیں ۔ جو کہ بصیرت کے ذرائع ہیں اور آیت میں ہے ( وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ 14۝ۧ ) 27- النمل:14 ) ، یعنی انہوں نے باوجود دلی یقین کے از راہ ظلم و زیادتی انکار کر دیا ۔ اسی طرح اس کا یہ کہنا بھی سراسر غلط تھا کہ میں تمہیں حق کی سچائی کی اور بھلائی کی راہ دکھاتا ہوں ۔ اس میں وہ لوگوں کو دھوکا دے رہا تھا اور رعیت کی خیانت کر رہا تھا ۔ لیکن اس کی قوم اس کے دھوے میں آ گئی اور فرعون کی بات مان لی ۔ فرعون نے انہیں کسی بھلائی کی راہ نہ ڈالا ۔ اس کا عمل ہی ٹھیک نہیں تھا اور جگہ اللہ عزوجل فرماتا ہے فرعون نے اپنی قوم کو بہا دیا اور انہیں صحیح راہ تک نہ پہنچنے دیا نہ پہنچایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو امام اپنی رعایا سے خیانت کر رہا ہو وہ مر کر جنت کی خوشبو بھی نہیں پاتا ۔ حالانکہ وہ خوشبو پانچ سو سال کی راہ پر آتی ہے ۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ الموفق للصواب

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28۔ 1 یعنی اللہ کی ربوبیت پر وہ ایمان یوں ہی نہیں رکھتا، بلکہ اس کے پاس اپنے اس موقف کی واضح دلیلیں ہیں۔ 28۔ یہ اس نے بطور تنزل کے کہا کہ اگر اس کے دلائل سے تم مطمئن نہیں اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اس سے تعرض نہ کیا جائے اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی اسے اس جھوٹ کی سزا دنیا و آخرت میں دے دے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ایذائیں پہنچائیں تو پھر یقینا وہ تمہیں جن عذابوں سے ڈراتا ہے تم پر ان میں سے کوئی عذاب آسکتا ہے۔ 28۔ 3 اس کا مطلب ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہوتا جیسا کہ تم باور کراتے ہو تو اللہ تعالیٰ اسے دلائل معجزات سے نہ نوازتا جب کہ اس کے پاس یہ چیزیں موجود ہیں دوسرا مطلب ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی اسے ذلیل اور ہلاک کر دے گا تمہیں اس کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٨] اپنے ایمان کو چھپانے والا مرد مومن :۔ کہتے ہیں کہ یہ شخص فرعون کا چچا زاد بھائی تھا۔ یا کوئی اور بھی ہو تو کم از کم فرعون کے درباریوں اور قریبی لوگوں میں سے تھا۔ اور وہ سیدنا موسیٰ پر ایمان لاچکا تھا۔ بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ موسیٰ سے جب ایک قبطی مارا گیا تھا تو اسی شخص نے سیدنا موسیٰ کو اطلاع دی تھی کہ تمہارے قتل کے منصوبے ہو رہے ہیں لہذا جلد از جلد یہاں سے بھاگ جاؤ۔ اس وقت اگرچہ موسیٰ نبی نہیں تھے اور اس وقت آپ پر ایمان کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ تاہم وہ سیدنا موسیٰ کے اخلاق و عادات سے متاثر تھا اور اسی لئے آپ کا ہمدرد بھی تھا اس جملہ سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ فرعون کی سخیتوں کے باوجود سیدنا موسیٰ کی دعوت اندر ہی اندر پھیل گئی تھی۔ حتیٰ کہ فرعون کے ایوانوں تک پہنچ گئی تھی۔ اور دوسری یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی ایماندار شخص کافر معاشرہ کے دباؤ کی وجہ سے اپنے ایمان کو ظاہر نہ کرے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ [٣٩] فرعون اور مرد مومن کا مکالمہ :۔ جب فرعون نے بھرے دربار میں یہ بات کہی تو اس مرد مومن سے ضبط نہ ہوسکا اور فوراً بول اٹھا کہ جس شخص کو تم قتل کرنے کے درپے ہو آخر اس کا جرم کیا ہے۔ جس کی بنا پر تم اسے قتل کرتے ہو ؟ کیا اس کا یہی جرم نہیں کہ وہ تمہیں پروردگار کی طرف بلاتا ہے۔ پھر اس کے پاس واضح دلائل موجود ہیں، جنہیں تم بھی جانتے ہو، کہ وہ اپنے قول میں سچا ہے۔ کیا یہ ایسا ہی جرم ہے کہ اسے مستوجب قتل قرار دیا جائے ؟ [٤٠] اس مرد مومن نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کی دعوت کے متعلق دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے قول میں جھوٹا ہو۔ اس صورت میں تم اتنی فکر کیوں کرتے ہو ؟ جھوٹ کے پاؤں کہاں ہوتے ہیں وہ جلد یا بدیر اپنی موت آپ ہی مرجائے گا۔ اور اگر وہ سچا ہوا اور تم نے اسے قتل کردیا تو پھر سمجھ لو کہ تمہاری خیر نہیں۔ پھر تو جس عذاب کی وہ تمہیں دھمکی دیتا ہے وہ لازماً تم پر نازل ہو کے رہے گا۔ لہذا میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ تمہاری بھلائی اسی میں ہے۔ [٤١] یہ جملہ جو اس مرد مومن نے بولا یہ جیسے سیدنا موسیٰ پر فٹ آتا تھا ایسے ہی فرعون پر آتا تھا۔ یعنی اگر موسیٰ (علیہ السلام) نعوذ باللہ جھوٹ سے کام لے رہے ہیں کہ اس کام میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ تم سیدنا موسیٰ کو قتل کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہو تو یاد رکھو اللہ ایسے شخص کو کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا اور وہ سچا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جھوٹے تم ہو اور جھوٹا ہونے کے باوجود اس حد تک آگے بڑھے جارہے ہو کہ اسے قتل کرنا چاہتے ہو تو پھر تمہارا بیڑا غرق ہو کے رہے گا۔ عقبہ بن ابی معیط کا آپ کا گلا گھونٹنا :۔ بالکل ایسا ہی ایک واقعہ دور نبوی میں پیش آیا۔ ایک بدبخت مشرک عقبہ بن ابی معیط نے آپ کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ اتفاق سے سیدنا ابوبکر صدیق (رض) موقعہ پر پہنچ گئے تو انہوں نے بھی اس موقعہ پر یہی آیت پڑھی تھی۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ صبن عمرو بن عاص سے پوچھا : && مجھے بتاؤ کہ مشرکین مکہ نے نبی اکرم کو سب سے زیادہ جو تکلیف دی وہ کیا تھی ؟ وہ کہنے لگے کہ : && ایک دفعہ رسول اللہ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط آگے بڑھا، آپ کے مونڈھے کو پکڑا پھر آپ کی گردن میں کپڑا ڈال کر مروڑا دیا اور اتنی زور سے گلا گھونٹا (جیسے مار ہی ڈالے گا) اتنے میں ابوبکر صدیق (رض) آگئے، انہوں نے عقبہ کا مونڈھا تھاما اور آپ سے اس کو پرے دھکیل دیا اور فرمایا : && کیا تم اس شخص کو صرف اس لئے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے && (بخاری۔ کتاب التفسیر)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وقال رجل مومن من ال فرعون … موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر متکبر سے اللہ کی پناہ مانگی جو یوم حساب پر ایمان نہ رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرماتے ہوئے ان کی حمایت میں ایکس ایسے آدمی کو کھڑا کردیا جو فرعون کی آل میں سے تھا، جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا۔ اس نے بہت اچھے طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا دفاع کیا اور فرعون کو ان کے قتل سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ فرعون کے اپنے لوگوں میں سے ہونے کی وجہ سے اس نے بات کی جرأت کی اور اسی وجہ سے فرعون نے اس کی بات کے بعد اپنی قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کی، ورنہ اس کے دربار میں کسی اسرائیلی کی نہ یہ جرأت تھی اور نہ ہی اسکی برداشت تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا معاملہ اس کے سپرد کیا تو اس نے وہاں سے حمایت کروا دی جہاں سے وہم و گمان تک نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ” رجل مومن “ فرمایا ہے، یعنی وہ مرادنگی اور ایمان دونوں سے متصف تھا۔ اس کے مرد کامل اور مومن کامل ہونے کی دل یل یہ ہے کہ اس نے افضل جہاد کیا۔ ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(افضل الجھاد کلمۃ عدل عند سلطان، جائر اوامیر جائر) (ابو داؤد، الملاحم، باب الامر والنھی : ٣٣٣٣)” افضل جہاد ظالم بادشاہ یا ظالم امیر کے سامنے عدل کی بات کہتا ہے۔ “ بعض کہتے ہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے اس سے پہلے فرعون کی مجلس میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے مشورہ کی خبر انہیں پہنچاتی تھی، جس پر وہ ہجرت کر کے مدین چلے گئے تھے، مگر اس بات کی تصدیق کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں، البتہ اس میں شک نہیں کہ وہ بھی مرد کامل تھا۔ دیکھیے سورة قصص (٢٠) ۔ مفسر رازی نے اپنا تجربہ لکھا ہے کہ میں نے اپنی ذات پر گزرنے والے حالات میں تجربہ کیا ہے کہ جب بھی کسی شیریر نے میرے متعلق شرکا ارادہ کیا اور میں نے اس سے تعرض نہیں کیا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے پر اکتفا کیا تو اللہ سبحانہ ایسے لوگوں کو م یرے دفاع کے لئے مقرر فرما دیاج نہیں میں بالکل نہیں جانتا تھا اور جنہوں نے حد سے بڑھ کر اس شر کو دور کرنے کی کوشش کی۔ (٢) یکتم ایمانہ : اس جملے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرعون کی سختیوں کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت ہر جگہ پہنچ گئی تھی، حتیٰ کہ فرعون کے خاندان کے کچھ لوگ بھی اس سے متاثر ہوچکے تھے، اگرچہ اظہار نہیں کرسکتے تھے۔ چناچہ یہ مرد ممون بھی اس سے پہلے ایمان چھپاتا تھا، مگر جب بات موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل تک پہنچ گئی تو اس کے ایمان نے اسے خاموش نہیں رہنے دیا۔ اس نے بات کا آغاز تو ایک غیر جانبدار آدمی کی طرح کیا، مگر آخر میں اس نے اپنے ایمان کا صاف اظہار کردیا اور اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سرپد کردیا، جیسا کہ آگے آرہا ہے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھا ہے۔ اب تک ایمان چھپائے رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اسے مومن فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ مجبوری میں ایمان چھپانے کے باوجود آدمی مومن رہتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة نحل (١٠٦) (٣) اتقتلون رجلاً ان یقول ربی اللہ …: اس جملے میں اس مرد مومن نے تین حقیقتیں بیانا کردیں، پہلی یہ کہ رب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چناچہ اس نے ہا کہ کیا تم ایک آدمی کو اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب (میرا پالنے والا مالک) صرف وہ پاک ذات ہے جس کا نام اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی وہ فرعون کو اپنا رب نہیں مانتا، بلکہ اس کو مانتا ہے جس نے فرعون اور اس کے باپ دادا کو اور زمین و آسمان سمیت ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے، تو اس پر اسے دادا دینی اور اس کی تعظیم و تکریم کرنی چاہیے یا اسے قتل کردینا چاہیے ؟ دوسری حقیقت صوقد جآء کم بالبینت) یہ بیان فرمائی کہ وہ تمہارے پاس اپنے اللہ کی طرف سے بھیجے جانے کی واضح دلیلیں لے کر آیا ہے، جنہیں جھٹلانے کا تمہارے پاس کوئی جواز ہی نہیں، پورے ملک کے جادوگر اس کے مقابلے میں ناکام ہو کر اس کے حق پر ہونے کا اعتراف کرچکے ہیں اور اس پر ایمان لا چکے ہیں۔ تیسری حقیقت (من ربکم) یہ کہ اسے جس مالک کی طرف سے پیغام پہنچانے کے لئے بھیجا گیا ہے وہ تمہارا بھی رب ہے، یہ تمہاری جہالت ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کو اپنا رب بنائے بیٹھے ہو۔ (٤) موسیٰ (علیہ السلام) کو جس قسم کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا اور جو جو حالات پیش آئے ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اسی قسم کے ہے، یہ تمہاری جہالت ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کو اپنا رب بنائے بیٹھے ہو۔ (٤) موسیٰ (علیہ السلام) کو جس قسم کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا اور جو جو حالات پیش آئے ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس قسم کے حالات پیش آئے۔ ان واقعات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے تسلی کا سامان ہے کہ آپ ہی کو نہیں، پہلے پیغمبروں کو بھی ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ (٥) مفسر ابن کثیر (رح) نے فرمایا :” فرعون کے سامنے یہ کہنا ” اتقتلون رجلاً ان یقول ربی اللہ “ (کیا تم ایک آدمی کو اس لئے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے) بہت بڑی بات ہے (اس سے بڑی دلیری ہو ہی نہیں سکتی) ۔ ہاں، بخاری رحمتہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں ابوبکر کا جو واقعہ بیان کیا ہے وہ اس سے بھی بڑی بات ہے۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے کہا کہ مشرکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ جو ایذا پہنچائی وہ مجھے بتائیں، تو انہوں نے فرمایا :(بینا رسول اللہ صلیا للہ لعیہ وسلم یصلی بفناء الکعبۃ اذ اقبل عقبۃ بن ابن معیط فاخذ بمنکب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ولوی ثوبۃ فی عنقہ فخنقہ حنقاً شدیداً ماقبل ابوبکر فاخذ بمنکبہ و دفع عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و قال :(اتقتلون رجلاً ان یقول ربی اللہ وقد جآء کم بالبینت من ربکم) (بخاری، التفسیر، سورة المومن : ٣٨١٥)” ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہغے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا، اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھا پکڑ لیا اور اپنا کپڑا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گلے میں ڈال کر اسے بہت سختی کے ساتھ گھونٹ دیا، تو ابوبکر (رض) آئے اور اسے کندھے سے پکڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دھکا دے کر پیچھے ہٹایا اور کہا :(اتقتلون رجلاً ان یقول ربی اللہ وقد جآء کم بالبینت من ربکم)” کیا تم ایک آدمی کو اس لئے قتلک رتے ہو کہ وہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے، حالانکہ یقیناً وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے۔ “ اہل علم فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) اس مرد مومن سے بھی زیادہ شجاع تھے، کیونکہ وہ اپنا ایمان چھپاتا تھا، جبکہ ابوبکر (رض) کھلم کھلا مومن تھے، جو سب سے پہلے ایمان لائے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حمایت اور دفاع میں ان کے لئے اس مرد مومن سے زیادہ خطرہ تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے یہ بات صرف زبان سے نہیں کہی بلکہ عملاً عقبہ کو دھکا دے کر پیچھے بھی ہٹا دیا۔ (٦) وان یک کاذباً فعلیہ کذبہ : وہ مرد مومن موسیٰ (علیہ السلام) کو کاذب نہیں سمجھتا تھا، یہ بات اس نے ایک غیرجانبدار شخص کی حیثیت سے ایک مفروضہ کے طور پر کہی کہ اگر یہ جھوٹا ہے تب بھی اس کے جھوٹل کا وبال اسی پر ہے، تمہارے لئے مناسب یہی ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ان سے کہا تھا :(وان لم تومنوا لی فاعتزلون) (الدخان : ٢١)” اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ سے الگ رہو۔ “ (٧) وان یک صادقاً یصبکم …:” اور اگر یہ سچا ہے تو تمہیں ان میں سے کوئی نہ کوئی چیز پہنچ جائے گی جن کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔ “ اس مرد مومن نے یہاں ” یعدکم “ کا لفظ استعمال کیا جو وعدے کے لئے استعمال ہوتا ہے،” یوعدکم “ استعمال نہیں کیا جو وعید کے لئے ہے۔ کیونکہ وعدے میں دونوں چیزیں آجاتی ہیں، یعنی اگر وہ سچا ہوا اور تم نے اس کی اطاعت کی تو اس کا وعدہ ہے کہ تمہیں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائیاں حاصل ہوں گی، اس کے مطابق تمہیں ان میں سے کچھ نہ کچھ ضرور حاصل ہوجائے گا، اگر وہ دنیا میں حاصل نہ ہوئیں تو آخرت میں یقینا حاصل ہوجائیں گی اور اگر تم سچا ہونے کے باوجود اس پر ایمان نہ لائے، یا تم نے اسے قتل کردیا تو اس نے تمہارے کفر کی صورت میں دنیا کے اندر جن جن عذابوں کا وعدہ کیا ہے ان میں سے کوئی نہ کوئی ضرور تم پر آجائے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلی امتوں کے مختلف قسم کے عذابوں سے ڈرایا، فرمایا : (فکلا اخذنا بذنبہ، فمنھم من ارسلنا علیہ حاصباً ومنھم من اخذتہ الضیحۃ ومنھم من خسفنا بہ الارض ، ومنھم من اغرقنا) (العنکبوت : ٣٠)” تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کردیا۔ “ اور اگر دنیا میں کوئی عذاب نہ آیا تو آخرت کے عذاب سے بچنے کی تو کوئی صورت ہی نہیں۔ (٨) ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب : اس جملے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور ہوسکتا ہے اس عظیم شخص نے دونوں مراد لئے ہوں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو راہ راست کی ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا سخت جھوٹا ہو، جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں حد سے بڑھنے کی کوئی بات نہیں ہے، پھر کذاب تو بہت دور کی بات ہے اس پر جھوٹ کا الزام ایک بار بھی نہیں لگا۔ اس کی واضح دلیلوں اور معجزوں سے اس کا سچا ہونا ثابت ہو رہا ہے ، کسی مسرف و کذاب پر اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل و کرم کیسے ہوسکتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کرنا کیسے روا ہوسکتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ یہ دونوں اوصاف بیان کرتے ہوئے درحقیقت وہ فرعون پر طعن کر رہا تھا ، جو رب ہونے کا دعویٰ کر کے اپنی حد سے بےحساب تجاوز بھی کر رہا تھا اور زبردست جھوٹ بھی بول رہا تھا، اس کی طرف سے قتل کا ارادہ بھی اس کے مسرف و کذاب ہونے کا نتیجہ تھا کہ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ صحیح فیصلے کی توفیق نہیں دیتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 28, it was said: يَكْتُمُ إِيمَانَهُ (who had kept his faith secret). This tells us that a person who does not declare his &iman (faith) before people, yet remains staunch in his faith by heart, then, this person is a believer. But, it stands proved from clear textual authority (of the Qur&an and Hadith) that, for &iman to be acceptable, the simple certitude of the heart is not enough, instead, it is subject to the condition of a verbal confession and declaration. Unless the person concerned declares it verbally, he or she will not be regarded as a believer. However, making this verbal declaration before people publicly is not necessary. The only reason why it is needed is that unless people come to know about the person&s &iman, they would remain unable to interact with him or her in the same way as they do with Muslims. (Qurtubi) Earlier in the verse, by saying: مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْ‌عَوْنَ (a believing man from the House of the Pharaoh), it is virtually demonstrated that the believer, in his ensuing dialogue with Pharaoh and his people, invited them toward truth and faith as well as restrained them from killing Sayyidna Musa (علیہ السلام) .

(آیت) يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗٓ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اگر لوگوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار نہ کرے دل سے اعتقاد پختہ رکھے تو وہ مومن ہے مگر نصوص صریحہ سے یہ ثابت ہے کہ ایمان کے مقبول ہونے کے لئے صرف دل کا یقین کافی نہیں بلکہ زبان سے اقرار کرنا شرط ہے، جب تک زبان سے اقرار نہ کرے گا مومن نہ ہوگا۔ البتہ زبان کا اقرار لوگوں کے سامنے اعلان کے ساتھ کرنا ضروری نہیں۔ اس کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ جب تک لوگوں کو اس کے ایمان کا علم نہیں ہوگا وہ اس کے ساتھ معاملہ مسلمانوں جیسا نہ کرسکیں گے۔ (قرطبی) مومن من آل فرعون نے اس مکالمہ میں آل فرعون اور فرعون کو مختلف عنوانات سے حق اور ایمان کی طرف بلایا اور وہ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے درپے تھے ان کو اس سے باز رکھا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ۝ ٠ ۤۖ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَہٗٓ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللہُ وَقَدْ جَاۗءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ۝ ٠ ۭ وَاِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْہِ كَذِبُہٗ۝ ٠ ۚ وَاِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِيْ مَنْ ہُوَمُسْرِفٌ كَذَّابٌ۝ ٢٨ رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ كتم الْكِتْمَانُ : ستر الحدیث، يقال : كَتَمْتُهُ كَتْماً وكِتْمَاناً. قال تعالی: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] ، وقال : وَإِنَّ فَرِيقاً مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [ البقرة/ 146] ، وَلا تَكْتُمُوا الشَّهادَةَ [ البقرة/ 283] ، وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ [ آل عمران/ 71] ، وقوله : الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النساء/ 37] فَكِتْمَانُ الفضل : هو کفران النّعمة، ولذلک قال بعده : وَأَعْتَدْنا لِلْكافِرِينَ عَذاباً مُهِيناً [ النساء/ 37] ، وقوله : وَلا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] قال ابن عباس : إنّ المشرکين إذا رأوا أهل القیامة لا يدخل الجنّة إلّا من لم يكن مشرکا قالوا : وَاللَّهِ رَبِّنا ما كُنَّا مُشْرِكِينَ [ الأنعام/ 23] فتشهد عليهم جوارحهم، فحینئذ يودّون أن لم يکتموا اللہ حدیثا «2» . وقال الحسن : في الآخرة مواقف في بعضها يکتمون، وفي بعضها لا يکتمون، وعن بعضهم : لا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] هو أن تنطق جو ارحهم . ( ک ت م ) کتمہ ( ن ) کتما وکتما نا کے معنی کوئی بات چھپانا کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو جو اس کے پاس کتاب اللہ میں موجود ہے چھپائے ۔ وَإِنَّ فَرِيقاً مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [ البقرة/ 146] مگر ایک فریق ان میں سچی بات جان بوجھ کر چھپا رہا ہے ۔ وَلا تَكْتُمُوا الشَّهادَةَ [ البقرة/ 283] اور ( دیکھنا ) شہادت کو مت چھپانا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النساء/ 37] جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو ( مال ) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں ۔ میں کتمان فضل سے کفران نعمت مراد ہے اسی بنا پر اس کے بعد فرمایا : وَأَعْتَدْنا لِلْكافِرِينَ عَذاباً مُهِيناً [ النساء/ 37] اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے کی تفسیر میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب قیامت کے روز مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں وہی لوگ داخل ہو رہے ہیں جو مشرک نہیں تھے ۔ تو چھٹ سے پکارا اٹھیں گے وَاللَّهِ رَبِّنا ما كُنَّا مُشْرِكِينَ [ الأنعام/ 23] خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے ۔ مگر اس کے بعد ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے تو اس وقت وہ تمنا کریں گے کہ خدا تعالیٰ سے کوئی بات نہ چھپائے ہوتی حسن بصری فرماتے ہیں کہ آخرت میں متدد واقف ہوں گے بعض موقعوں پر وہ اپنی حالت کو چھپانے کی کوشش کریں گے ۔ اور بعض میں نہیں چھپائیں گے بعض نے کہا ہے کہ کوئی چھپا نہ سکنے سے مراد یہ ہے کہ ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دینگے ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ بينات يقال : بَانَ واسْتَبَانَ وتَبَيَّنَ نحو عجل واستعجل وتعجّل وقد بَيَّنْتُهُ. قال اللہ سبحانه : وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] ، وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] ، ولِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 55] ، قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [ البقرة/ 256] ، قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآياتِ [ آل عمران/ 118] ، وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ الزخرف/ 63] ، وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ النحل/ 39] ، فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] ، وقال : شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] . ويقال : آية مُبَيَّنَة اعتبارا بمن بيّنها، وآية مُبَيِّنَة اعتبارا بنفسها، وآیات مبيّنات ومبيّنات . والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي والیمین علی من أنكر» «2» ، وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ( ب ی ن ) البین کے معنی ظاہر اور واضح ہوجانے کے ہیں اور بینہ کے معنی کسی چیز کو ظاہر اور واضح کردینے کے قرآن میں ہے ۔ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح ( کاملہ ) کیا تھا ۔ وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] چناچہ ان کے ( ویران ) گھر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ ولِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 55] اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے ۔ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [ البقرة/ 256] ہدایت صاف طور پر ظاہر ( اور ) گمراہی سے الگ ہوچکی ہو ۔ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآياتِ [ آل عمران/ 118] ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دیں ۔ وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ الزخرف/ 63] نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کررہے ہو تم کو سمجھا دوں وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادت ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ النحل/ 39] تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے ۔ فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ۔ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] ( روزوں کا مہنہ ) رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( وال وال ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے ۔ اور بیان کرنے والے کے اعتبار ہے آیت کو مبینۃ نجہ کہا جاتا ہے کے معنی واضح دلیل کے ہیں ۔ خواہ وہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسۃ اور شاھدان ( دو گواہ ) کو بھی بینۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے : کہ مدعی پر گواہ لانا ہے اور مدعا علیہ پر حلف ۔ قرآن میں ہے أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل ( روشن رکھتے ہیں ۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] تاکہ جو مرے بصیرت پر ( یعنی یقین جان کر ) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر ) یعنی حق پہچان کر ) جیتا رہے ۔ جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں کے کر آئے ۔ البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ صوب الصَّوَابُ يقال علی وجهين : أحدهما : باعتبار الشیء في نفسه، فيقال : هذا صَوَابٌ: إذا کان في نفسه محمودا ومرضيّا، بحسب مقتضی العقل والشّرع، نحو قولک : تَحَرِّي العدلِ صَوَابٌ ، والکَرَمُ صَوَابٌ. والثاني : يقال باعتبار القاصد إذا أدرک المقصود بحسب ما يقصده، فيقال : أَصَابَ كذا، أي : وجد ما طلب، کقولک : أَصَابَهُ السّهمُ ، وذلک علی أضرب : الأوّل : أن يقصد ما يحسن قصده فيفعله، وذلک هو الصَّوَابُ التّامُّ المحمودُ به الإنسان . والثاني : أن يقصد ما يحسن فعله، فيتأتّى منه غيره لتقدیره بعد اجتهاده أنّه صَوَابٌ ، وذلک هو المراد بقوله عليه السلام : «كلّ مجتهد مُصِيبٌ» «4» ، وروي «المجتهد مُصِيبٌ وإن أخطأ فهذا له أجر» «1» كما روي : «من اجتهد فَأَصَابَ فله أجران، ومن اجتهد فأخطأ فله أجر» «2» . والثالث : أن يقصد صَوَاباً ، فيتأتّى منه خطأ لعارض من خارج، نحو من يقصد رمي صيد، فَأَصَابَ إنسانا، فهذا معذور . والرّابع : أن يقصد ما يقبح فعله، ولکن يقع منه خلاف ما يقصده، فيقال : أخطأ في قصده، وأَصَابَ الذي قصده، أي : وجده، والصَّوْبُ ( ص و ب ) الصواب ۔ ( صحیح بات ) کا لفظ دو طرح استعمال ہوتا ہے (1) کسی چیز کی ذات کے اعتبار سے یعنی خب کوئی چیز اپنی ذات کے اعتبار سے قابل تعریف ہو اور عقل و شریعت کی رو سے پسندیدہ ہو مثلا تحری العدل صواب ( انصان کو مدنظر رکھنا صواب ہے ) الکرم صواب ( کرم و بخشش صواب ہے ) (2) قصد کرنے والے کے لحاظ سے یعنی جب کوئی شخص اپنے حسب منشا کسی چیز کو حاصل کرلے تو اس کے متعلق اصاب کذا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے مثلا اصابہ بالسھم ( اس نے اسے تیر مارا ) پھر اس دوسرے معنی کے اعتبار سے اس کی چند قسمیں ہیں (1) اچھی چیز کا قصد کرے اور اسے کر گزرے یہ صواب تام کہلاتا ہے اور قابل ستائش ۔ (2) مستحسن چیز کا قصد کرے لیکن اس سے غیر مستحسن فعل شرزہ اجتہاد کے بعد اسے صواب سمجھ کر کیا ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کل مجتھد مصیب ( کہ ہر مجتہد مصیب ہوتا ہے ) کا بھی یہی مطلعب ہے اور یہ بھی مروی ہے کہ المجتھد مصیب وان اخطاء فھذا لہ اجر کہ مجتہد مصیب ہوتا ہے اگر خطا وار بھی ہو تو اسے ایک اجر حاصل ہوتا ہے جیسا کہ ا یک اور روایت میں ہے من اجتھد فاصاب فلہ اجران ومن اجتھد فاخطا فلہ اجر کہ جس نے اجتہاد کیا اور صحیح بات کو پالیا تو اس کے لئے دواجر ہیں اور جس نے اجتہاد کیا اور غلطی کی تو اس کے لئے ایک اجر ہے ۔ (3) کوئی شخص صحیح بات یا کام کا قصد کرے مگر کسی سبب سے اس سے غلطی سرزد ہوجائے مثلا ایک شخص شکار پر تیز چلاتا ہے مگر اتفاق سے وہ کسی انسان کو الگ جاتا ہے اس صورت میں اسے معذور سمجھا جائے گا ۔ ( 4 ) ایک شخص کوئی برا کام کرنے لگتا ہے مگر اس کے برعکس اس سے صحیح کام صحیح کام سرز د ہوجاتا ہے تو ایسے شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ گو اس کا ارادہ غلط تھا مگر اسنے جو کچھ کیا وہ درست ہے ۔ بعض بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض . قال عزّ وجلّ : بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] ( ب ع ض ) بعض الشئی ہر چیز کے کچھ حصہ کو کہتے ہیں اور یہ کل کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اسلئے کل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے : بعضہ وکلہ اس کی جمع ابعاض آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ سرف السَّرَفُ : تجاوز الحدّ في كلّ فعل يفعله الإنسان، وإن کان ذلک في الإنفاق أشهر . قال تعالی: وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا[ الفرقان/ 67] ، وَلا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَبِداراً [ النساء/ 6] ، ويقال تارة اعتبارا بالقدر، وتارة بالکيفيّة، ولهذا قال سفیان : ( ما أنفقت في غير طاعة اللہ فهو سَرَفٌ ، وإن کان قلیلا) قال اللہ تعالی: وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ الأنعام/ 141] ، وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحابُ النَّارِ [ غافر/ 43] ، أي : المتجاوزین الحدّ في أمورهم، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ غافر/ 28] ، وسمّي قوم لوط مسرفین من حيث إنهم تعدّوا في وضع البذر في الحرث المخصوص له المعنيّ بقوله : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [ البقرة/ 223] ، وقوله : يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الزمر/ 53] ، فتناول الإسراف في المال، وفي غيره . وقوله في القصاص : فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ [ الإسراء/ 33] ، فسرفه أن يقتل غير قاتله، إمّا بالعدول عنه إلى من هو أشرف منه، أو بتجاوز قتل القاتل إلى غيره حسبما کانت الجاهلية تفعله، وقولهم : مررت بکم فَسَرِفْتُكُمْ أي : جهلتكم، من هذا، وذاک أنه تجاوز ما لم يكن حقّه أن يتجاوز فجهل، فلذلک فسّر به، والسُّرْفَةُ : دویبّة تأكل الورق، وسمّي بذلک لتصوّر معنی الإسراف منه، يقال : سُرِفَتِ الشجرةُ فهي مسروفة . ( س ر ف ) السرف کے معنی انسان کے کسی کام میں حد اعتدال سے تجاوز کر جانے کے ہیں مگر عام طور پر استعمال اتفاق یعنی خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرجانے پر ہوتا پے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا[ الفرقان/ 67] اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بیچا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں ۔ وَلا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَبِداراً [ النساء/ 6] اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے ( یعنی بڑی ہو کہ تم سے اپنا کا مال واپس لے لیں گے ) اسے فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا ۔ اور یہ یعنی بےجا سرف کرنا مقدار اور کیفیت دونوں کے لحاظ سے بولاجاتا ہے چناچہ حضرت سفیان ( ثوری ) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی میں ایک حبہ بھی صرف کیا جائے تو وہ اسراف میں داخل ہے ۔ قرآن میں ہے : وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ الأنعام/ 141] اور بےجانہ اڑان کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحابُ النَّارِ [ غافر/ 43] اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں ۔ یعنی جو اپنے امور میں احد اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ غافر/ 28] بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جا حد سے نکل جانے والا ( اور ) جھوٹا ہے ۔ اور قوم لوط (علیہ السلام) کو بھی مسرفین ( حد سے تجاوز کرنے والے ) کیا گیا ۔ کیونکہ وہ بھی خلاف فطرف فعل کا ارتکاب کرکے جائز حدود سے تجاوز کرتے تھے اور عورت جسے آیت : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [ البقرة/ 223] تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ۔ میں حرث قرار دیا گیا ہے ۔ میں بیچ بونے کی بجائے اسے بےمحل ضائع کر ہے تھے اور آیت : يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الزمر/ 53] ( اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو کہدد کہ ) اے میرے بندو جہنوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی میں اسرفوا کا لفظ مال وغیرہ ہر قسم کے اسراف کو شامل ہے اور قصاص کے متعلق آیت : فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ [ الإسراء/ 33] تو اس کا چاہئے کہ قتل ( کے قصاص ) میں زیادتی نہ کرے ۔ میں اسراف فی القتل یہ ہے کہ غیر قاتل کو قتل کرے اس کی دو صورتیں ہی ۔ مقتول سے بڑھ کر باشرف آدمی کو قتل کرنے کی کوشش کرے ۔ یا قاتل کے علاوہ دوسروں کو بھی قتل کرے جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا ۔ عام محاورہ ہے ۔ کہ تمہارے پاس سے بیخبر ی میں گزر گیا ۔ تو یہاں سرفت بمعنی جھلت کے ہے یعنی اس نے بیخبر ی میں اس حد سے تجاوز کیا جس سے اسے تجاوز نہیں کرنا چاہئے تھا اور یہی معنی جہالت کے ہیں ۔ السرفتہ ایک چھوٹا سا کیڑا جو درخت کے پتے کھا جاتا ہے ۔ اس میں اسراف کو تصور کر کے اسے سرفتہ کہا جاتا ہے پھر اس سے اشتقاق کر کے کہا جاتا ہے ۔ سرفت الشجرۃ درخت کرم خور دہ ہوگیا ۔ اور ایسے درخت کو سرقتہ ( کرم خوردہ ) کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور حزقیل نامی ایک شخص نے کہا جو کہ فرعون کے چچازاد بھائی تھے اور تقریبا سو سال سے فرعون اور اس کی قوم اور فرعون کے خاندان سے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے انہوں نے کہا کیا ایک شخص کو محض اتنی سی بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے حالانکہ وہ اوامرو نواہی اور علامات نبوت بھی لے کر آیا ہے۔ بالفرض اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہی ہو تو وہ خود اپنے جھوٹ کی سزا بھگت لے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم اس کی تکذیب کر رہے ہو تو تمہیں ضرور دنیا میں بھی عذاب بھگتنا پڑے گا اور اللہ تعالیٰ مشرک اور جھوٹے کو اپنے دین کی طرف رہنمائی نہیں کرتا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ { وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌق مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیْمَانَہٗ } ” اور آل فرعون میں سے ایک مومن مرد نے ‘ جو ابھی تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا ‘ کہا : “ اس مرحلے پر اس مرد مومن نے صورت حال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے کلمہ حق زبان پر لانے کا فیصلہ کرلیا۔ چناچہ اس نے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بھرے دربار میں اس مطلق العنان فرعون کے سامنے کھڑے ہو کر ” حق گوئی و بےباکی “ کی ایسی مثال قائم کی کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور جملے گویا ع ” موتی سمجھ کے شان کریمی نے ُ چن لیے ! “ اور پھر ان موتیوں کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے جاں نثارانِ حق کی آنکھوں کی طراوت کے لیے صفحاتِ قرآن کی زینت بنا دیا۔ چناچہ فرعون نے جونہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی قرارداد پیش کی ‘ یہ مرد مومن فوراً بول اٹھا اور اس نے فرعون اور تمام اہل دربار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا : { اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ } ” کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو ایک شخص کو محض اس لیے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ! “ کیا کسی شخص کا اللہ کو رب ماننا تمہارے نزدیک اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں تم اس کی جان کے درپے ہوگئے ہو ؟ ایک مرتبہ جب مشرکین مکہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سر عام ہجو کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ آور ہوئے تو اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیچ میں آگئے اور انہوں (رض) نے مشرکین مکہ کو مخاطب کر کے یہی الفاظ دہرائے تھے : اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ (١) ” کیا تم لوگ ایک شخص (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان کے درپے صرف اس لیے ہو رہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ! “ { وَقَدْ جَآئَ کُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّکُم } ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے۔ “ { وَاِنْ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیْہِ کَذِبُہٗ } ” اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر آئے گا۔ “ { وَاِنْ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ } ” اور اگر وہ سچا ہوا تو تمہیں وہ بعض باتیں پہنچ کر رہیں گی جن کے بارے میں وہ تمہیں وعید سنا رہا ہے۔ “ ایسی صورت میں تم پر عذاب الٰہی کی مار پڑے گی اور تم تباہ و برباد کردیے جائو گے۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ } ” یقینا اللہ تعالیٰ راہ یاب نہیں کرتا اس کو جو حد سے بڑھنے والا ‘ بہت جھوٹا ہو۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

45 That is, "He has shown such manifest Signs to you as have made it absolutely clear that he is a Messenger sent by your Lord." The Believer, from among the people of Pharaoh, was obviously referring to the Signs the details of which have already been given in AI-A'raf: 107-117,130-133; Bani Isra'il: 101-102; Ta Ha: 56-73; Ash-Shu'ara': 30-51; An-Naml :10-13). 46 That is, "If in spite of such manifest Signs as he has shown you, you regard him as a liar, you should leave him alone, for the alternative probability, and a very strong probability too, is that he is truthful, and therefore you may involve yourselves in God's torment by laying your hands on him. Therefore, even if you think that he is a liar, you should leave him to himself. For if he is lying, in the name of Allah, Allah Himself will take him to task." Similar words had the Prophet Moses himself said to Pharaoh before this: "If you do not believe in me, do not harm me." (Ad-Dukhan: 21) Here one should keep in mind that the Believer of the people of Pharaoh had not openly disclosed in the beginning that he had affirmed faith in the Prophet Moses, but he spoke as if he also belonged to Pharaoh's side, and was only wishing his people well. But when Pharaoh and his courtiers did not seem to see reason and continued to behave stubbornly, he at last disclosed the secret of his faith, as becomes obvious from his speech in vv. 38-44. 47 This sentence can have two meanings and probably the Believer had intentionally employed it, because he did not yet want to express his belief openly. Its one meaning is: "One and the same person cannot combine righteousness and lying and falsehood. You can clearly see that Moses is a man of very sublime and pure character. Therefore, how can you believe that, on the one hand, he should be such a liar as to lay a baseless claim to prophethood in the name of Allah, and on the other, Allah should bless him with such high morals?" The other meaning is: "If you arc bent upon taking the life of Moses (peace be upon him) by transgressing alI limits and will execute your evil designs by bringing false accusations against him, you should remember that Allah will never show you the way to success."

سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :45 یعنی اس نے ایسی کھلی کھلی نشانیاں تمہیں دکھا دی ہیں جن سے یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہو چکی ہے کہ وہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا رسول ہے ۔ مومن آل فرعون کا اشارہ ان نشانیوں کی طرف تھا جن کی تفصیلات اس سے پہلے گزر چکی ہیں ( تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف ، حواشی ۸۷ ۔ ۸۹ ۔ ۹۰ ۔ ۹۱ ۔ ۹٤ تا۹٦ ، بنی اسرائیل ، حواشی ۱۱۳ تا ۱۱٦ ، جلد سوم ، طی ، حواشی ۲۹ تا ۵۰ ، الشعراء ، حواشی ۲٦ تا ۳۹ ، النمل ، حاشیہ ۱٦ ) ۔ سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :46 یعنی اگر ایسی صریح نشانیوں کے باوجود تم اسے جھوٹا سمجھتے ہو تب بھی تمہارے لیے مناسب یہی ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ، کیونکہ دوسرا احتمال ، اور نہایت قوی احتمال یہ بھی ہے کہ وہ سچا ہو اور اس پر ہاتھ ڈال کر تم خدا کے عذاب میں مبتلا ہو جاؤ ۔ اس لیے اگر تم اسے جھوٹا بھی سمجھتے ہو تو اس سے تعرض نہ کرو ۔ وہ اللہ کا نام لے کر جھوٹ بول رہا ہو گا تو اللہ خود اس سے نمٹ لے گا ۔ قریب قریب اسی طرح کی بات اس سے پہلے خود حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی فرعون سے کہہ چکے تھے ۔ وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ ( الدخان : 21 ) اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ۔ یہاں یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ مومن آل فرعون نے گفتگو کے آغاز میں کھل کر یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ حضرت موسیٰ پر ایمان لے آیا ہے ، بلکہ ابتداءً وہ اسی طرح کلام کرتا رہا کہ وہ بھی فرعون ہی کے گروہ کا ایک آدمی ہے اور محض اپنی قوم کی بھلائی کے لیے بات کر رہا ہے ۔ مگر جب فرعون اور اس کے درباری کسی طرح راہ راست پر آتے نظر نہ آئے تو آخر میں اس نے اپنے ایمان کا راز فاش کر دیا ، جیسا کہ پانچویں رکوع میں اس کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے ۔ سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :47 اس فقرے کے دو مطلب ممکن ہیں ، اور غالباً مومن آل فرعون نے قصداً یہ ذو معنی بات اسی لیے کہی تھی کہ ابھی وہ کھل کر اپنے خیالات ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ایک ہی شخص کی ذات میں راست روی جیسی خوبی اور کذب و افترا جیسی بدی جمع نہیں ہو سکتیں ۔ تم علانیہ دیکھ رہے ہو کہ موسیٰ ایک نہایت پاکیزہ سیرت اور کمال درجہ کا بلند کردار انسان ہے ۔ اب آخر یہ بات تمہارے دماغ میں کیسے سماتی ہے کہ ایک طرف تو وہ اتنا بڑا جھوٹا ہو کہ اللہ کا نام لے کر نبوت کا بے بنیاد دعویٰ کر بیٹھے ، اور دوسری طرف اللہ اسے اتنے اعلیٰ درجے کے اخلاق عطا فرمائے ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اگر حد سے تجاوز کر کے موسیٰ علیہ السلام کی جان لینے کے درپے ہو گے اور ان پر جھوٹے الزامات عائد کر کے اپنے ناپاک منصوبے عمل میں لاؤ گے تو یاد رکھو کہ اللہ تمہیں ہرگز کامیابی کا راستہ نہ دکھائے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: یہ صاحب کون تھے؟ ان کا نام قرآن کریم نے نہیں لیا، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ فرعون کے چچا زاد بھائی تھے، اور ان کا نام شمعان تھا۔ واللہ اعلم 7: یعنی جو شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے، اسے اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں رسوا کردیتا ہے، اس لیے اگر بالفرض یہ جھوٹے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں خود رسوا کردے گا، تمہیں ان کو قتل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:28) رجل مؤمن۔ موصوف صفت۔ مومن شخص یہ شخص ال فرعون میں سے تھا۔ اور اس شخص کی طرف سورة القصص میں بھی اشارہ ہے :۔ فجاء رجل من اقصا المدینۃ (28:20) اور ایک شخص شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا۔ اور سورة یس میں بھی (38:20) یہی شخص مذکور ہے۔ یکتم ایمانہ : یکتم فعل مضارع واحد مذکر غائب کتم (باب نصر) مصدر بمعنی چھپانا۔ وہ اپنا ایمان پوشیدہ رکھتا تھا (مضارع بمعنی ماضی) ۔ اتقتلون ہمزہ استفہامیہ ہے۔ تقتلون ای اتقصدون کیا تم (اس کے) قتل کا ارادہ کرتے ہو۔ مسبب بیان کرے سبب مراد لیا ہے۔ ان یقول ای لان یقول۔ اس لئے کہ وہ کہتا ہے ان مصدریہ ہے۔ یقول : میں ضمیر فاعل حضرت موسیٰ کے لئے ہے۔ ربی اللّٰہ۔ یہ حضرت موسیٰ کی زبان سے ہے۔ میرا پروردگار اللہ (ہی) ہے ربی کی تقدیم اللہ پر مفید حصر ہے۔ جیسے صدیقی زید کا جملہ مفید حصر ہے۔ وقد جاء کم سے لے کر ان جاء نا (آیت 29 تک) رجل مومن کا بیان ۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم۔ جملہ حالیہ ہے درآن حالیکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیلیں بھی لایا ہے۔ ان یک کاذبا : ان شرطیہ ہے یک مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب بوجہ عمل ان مجزوم ہے کاذبا خبر ہے یک کی۔ اصل میں یکون تھا۔ ان کے عمل سے نون ساکن ہوگیا اجتماع ساکنین سے واؤ گرگیا۔ خلاف قیاس نون بھی ساقط ہوگیا۔ (قاموس القرآن اک اکن) اگر وہ جھوٹا ہے۔ فعلیہ کذبہ : ف جواب شرط کے لئے ہے جملہ کزائیہ ہے۔ تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا۔ کذبہ۔ مضاف مضاف الیہ اس کا جھوٹ۔ مراد وبال کذبہ ہے یعنی اس کے جھوٹ کا وبال۔ یصبکم : یصب مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) اصابۃ (افعال) مصدر صیغہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم پر پڑے گا۔ اصاب السہم تیر کا نشانہ پر بیٹھنا۔ اصابت المصیبۃ فلانا۔ کسی پر مصیبت نازل ہونا۔ صوب مادہ۔ بعض الذی یعدکم۔ جس (عذاب) سے وہ تم کو ڈراتا ہے اس میں سے کچھ۔ وان یک صادقا یصبکم الذی یعدکم اور اگر وہ سچا ہوا تو جس (عذاب) سے وہ تم کو ڈراتا ہے اس میں سے کچھ (نہ کچھ) حصہ (ضرور) تم کو پہنچے گا۔ وان یک صادقا جملہ شرطیہ ہے اور اگلا جملہ جواب شرط ہے۔ بعض۔ کل کے اعتبار سے شئے کے کسی جزء کو بعض کہتے ہیں۔ اسی لئے کل کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔ یعدکم : یعد فعل مضارع واحد ذکر غائب ہے وعد (باب ضرب) مصدر۔ ڈرانا۔ وعدہ کرنا۔ یہاں ہر دو معنی مراد ہوسکتے ہیں مسرف۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اسراف (افعال) مصدر۔ السرف کے معنی انسان کے کسی کام میں حد اعتدال سے تجاوز کر جانے کے ہیں۔ مگر عام طور پر خرچ کرنے میں حد اعتدال سے تجاوز کر جانے پر ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہوتا ہے والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا (25: 67) اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں۔ مسرف فضول خرچی کرنے والا۔ حد (اعتدال) سے بڑھ کر خرچ کرنے والا۔ کذب۔ بڑا جھوٹا۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی میں ہر اس شخص کے مقابلے میں جسے آخرت اور اس کے حساب کتاب کا ڈر نہیں ہے اور اس بناء پر وہ شتر بےمہار بن کر جو دل میں آتا ہے کر گزرتا ہے، اس خدائے بزرگ و برتر کی پناہ میں ہوں جو میرا نہیں تمہارا بھی رب ہے اور جس کے سامنے تمہاری اور تمہارے بنائے ہوئے اس رب فرعون کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ جب چاہے تمہیں آن کی آن میں فنا کرسکتا ہے، پھر میں تمہاری اس دھمکی سے مرعوب کیوں ہوں ؟ میرے قتل کی سکیم جو تم اپنے پیش نظر رکھتے ہو، اسے ضرور عملی جامہ پہنا کر دم لو۔11 یعنی تمہیں ایسے ناقابل انکار معجزے دکھا چکا ہے جن سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ اس کا دعویٰ بےدلیل نہیں ہے اور وہ واقعی تمہارے رب۔ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہے۔ یہی بات یعنی ( اتقتلون رجلال ان۔۔۔۔ ) حضرت ابوبکر (رض) صدیق نے مشرکین مکہ سے اس وقت کہی جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درپے آزاد تھے۔ چناچہ صحیح بخاری (رح) میں حضرت عبد اللہ (رض) بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مونڈھا پکڑلیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گردن میں کپڑا ڈال کر پورے زور سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گلا گھونٹا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) آئے اور عقبہ کو دور دھکیلتے ہوئے فرمایا ( اتقتلون رجلا ان۔۔۔ ) ابو نعیم (رح) اور بزاز (رح) نے فضائل صحابہ (رض) کے سلسلہ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) نے لوگوں سے پوچھا، بتائو سب سے بہادر کون ہے۔۔۔۔۔ آخر حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ سب سے بہادر حضرت ابو بکرصدیق (رض) ہیں جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار کے نرغہ سے ایسے وقت میں بچایا جب کسی کو آگے بڑھنے کی ہمت نہ تھی اور فرمایا کہ اللہ کی قسم ! حضرت ابوبکر (رض) کی ایک گھڑی آل فرعون کے مومن کی ساری زندگی سے بہتر تھی وہ اپنا ایمان چھپاتا تھا اور ابوبکر (رض) نے اپنے ایمان کا اعلان رکھا تھا۔ ( شوکانی) جو لوگ نعوذ باللہ حضرت صدیق (رض) پر نفاق کی تہمت لگاتے ہیں اور پھر تقیہ کو جزو ایمان سمجھتے ہیں ان کے لئے اس واقعہ میں درس عبرت ہے۔ ( منہ) 1 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور ممکن ہے کہ آل فرعون کے مومن نے دونوں مراد لئے ہوں کیونکہ ایسی بات وہ بھی نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے ان کا مومن ہونا صاف طور پر معلوم ہوجاتا۔ ایک یہ کہ اگر واقعی موسیٰ ( علیہ السلام) جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ انہیں اتنے معجزے کیوں دیتا دوسرے یہ کہ اگر وہ سچا ہے اور تم اتنے جھوٹے الزام لگا رہے ہو تو تمہاری خیر نہیں ہے اور وہ تمہیں ہرگز کامیابی کی راہ نہ دکھائے گا۔ ( جامع البیان) ۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی اگر جھوٹا ہے تو جس پر جھوٹ بولتا ہے وہی سزا دیگا اور شاید سچا ہو تو اپنا فکر کرو۔ ( موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 28 تا 37: اسرار و معارف : چناچہ قوم فرعون کا بندہ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر قوم پر ظاہر نہ ہونے دیا تھا بول اٹھا کہ تم لوگ اس بات پر ایک انسان کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا پروردگار مانتا ہے حالانکہ وہ اللہ ہی کو تمہارا پروردگار بھی ثابت کرتا ہے اور اسی کی طرف سے واضح دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہے اگر بالفرض یہ جھوٹ کہتا ہے تو معمولی جرم نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولا جائے لہذا اسے اس کی سز ابھگتنا پڑے گی یعنی خود اللہ کی طرف سے سز اپائیگا تم کیوں تکلیف کرتے ہو لیکن یہ بھی دیکھو کہ یہ جو یہ کہ رہا ہے سچ ہوا تو تمہارا کیا بنے گا اگر تم انکار کرتے رہے تو جن عذابوں سے یہ ڈرا رہا ہے وہ تم پر آپڑیں گے یقیناً اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹ بولنے والوں کو ہدایت نصیب نہیں فرماتا کہ اگر معاذ اللہ یہ جھوٹے ہیں تو کامیاب نہ ہوں گے لیکن اگر یہ سچے ہیں تو تم حد سے گزر رہے ہو اور اپنے دین میں جھوٹے ہو لہذا تم انہیں قتل کر بھی نہ سکوگے کہ ایسے لوگ اپنے مقصد کو نہیں پایا کرتے اور کہا کہ آج تو ہماری قوم کے پاس سلطنت اور حکومت ہے اور دنیا پہ ہماری دھاک بیٹھی ہوئی ہے لیکن اگر اللہ کا عذاب آ گیا تو یہ سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا اور کوئی بھی اس کے مقابلے میں ہماری مدد تک نہ کرسکے گا تو فرعون نے زچ ہو کر کہا کہ میں تو تمہیں وہی کہتا ہوں جو بہتر سمجھتا ہوں اور تمہیں تمہاری بہتری کی راہ دکھا رہا ہوں اس آدمی نے کہا جو ایمان لاچکا تھا کہ جسے تم بہتری کا راستہ کہہ رہے ہو یہ ان پہلی قوموں کا راستہ ہے جو عذاب الہی کا شکار ہوچکیں مجھے ڈر ہے تم لوگوں کے ساتھ بھی وہی نہ ہو جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے ساتھ ہوا یا عاد وثمود اور ان کے بعد کی کوئی اقوام کا انجام ہوا کہ اللہ تو اپنی مخلوق پر کبھی زیادتی کرنا پسند نہیں کرتے یہ قوموں کے تمہاری طرح کے فیصلوں کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ لوگوں مجھے تمہارے بارے روز حشر سے بہت ڈر لگ رہا ہے جب ہر کوئی چیخ و پکار کر رہا ہوگا اور پھر کوشش تو کروگے کہ یہاں سے بھاگ کر بچ جائیں لیکن اس روز کوئی تدبیر کوئی حیلہ اللہ کے عذاب سے بچا نہ سکے گا مگر یہ باتیں آج تمہاری سمجھ میں نہیں آتیں کہ جس دل میں اللہ سے کف ربس رہا ہو اللہ اسے گمراہ کردیتا ہے اور پھر کوئی اسے سمجھا بھی نہیں سکتا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں پہلے تمہار پاس یوسف (علیہ السلام) آئے تھے یعنی اسی قوم کے پاس ہمارے ہی اجداد کے پاس مگر ان کی باتوں پہ بھی تمہیں یقین نصیب نہ ہوا اور تم شک ہی میں گرفتار رہے خلوص دل سے نہ مانا۔ جب ان کا وصال ہوگیا تو تم نے کہا چلو یہ بھی تمام ہوا ہم نے جب ایک کو قبول نہیں کیا تو بھلا اللہ کسی دوسرے کو کیوں بھیجنے لگا لہذا اب کوئی نبی نہ آئے گا یہ گمراہ کن خیالات بےحیا و بےباک اور شکی لوگوں کو ہی آتے ہیں کہ اللہ انہیں اس میں مبتلا کردیتا ہے ایسے لوگ جو بغیر کسی دلیل کے احکام الہی اور پیغام رسالت میں جھگڑا کرتے ہیں اور قبول نہیں کرتے ان کا یہ مومنین کو بھی بہت برا لگتا ہے انہیں بھی دکھ ہوتا ہے اور اللہ کے نزدیک بھی بہت بڑا جرم ہے کہ ایک تو وہ جرم ہے ہی اوپر سے ایمانداروں اور اہل اللہ کو ایذا دینا اس کو دوچند کردیتا ہے جس کی بڑی سخت سزا ہے کہ اللہ ایسے متکبر اور سرکش لوگوں کے دلوں پہ مہر کردیتا ہے اور انہیں کبھی ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ فرعون لاجواب سا ہوگیا تو کہنے لگا ہامان ایک عمارت بنواؤ جو آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگے کہ شاید اوپر جا کر آسمانوں میں داخلے کا کوئی راستہ مل جائے اور وہاں جا کر دیکھوں تو سہی کہ موسیٰ کا معبود کیسا ہے۔ میں تو ان کی بات کو سچ گمان ہی نہیں کرتا لیکن اگر کوئی ہے تو دیکھ لیتے ہیں مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ فرعون نے واقعی تعمیر شروع کرائی جو بلندیوں تک پہنچتے پہنچتے خود ہی زمین بوس ہوگئی مگر یہ سب الٹی تدبیریں فرعون کو بہت اچھی دکھائی دیتی تھیں کہ اللہ ناراض ہوں تو برائی بھلی لگنے لگتی ہے اور یہ اللہ کا عذاب ہے کہ پھر ایسا بندہ فرعون کی طرح ہدایت کی راہ نہیں پا سکتا نیز فرعون کی یہ تدبیر بھی ناکام گئی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 29 : یکتم (وہ چھپاتا ہے) یصیب (وہ پہنچے گا) مسرف ( حد سے بڑھنے والا) کذاب (بہت جھوٹ بولنے والا) ظھرین (چھا جانے والے ، غائب ہونے والے) باس ( عذاب ، تکلیف) اری (میں دیکھتا ہوں) الرشاد (ہدایت ، رہنمائی) تشریح : آیت نمبر 28 تا 29 :۔ یہاں ایک مرد مومن کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کی مناسبت سے اس سورة کا نام المومن رکھا گیا ہے۔ وہ مرد مومن فرعون کے شاہی خاندان کے ایک فرد تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ دربار کے کوئی اعلیٰ عہدیدار تھے بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ فرعون کے چچا زاد بھائی اور آل فرعون میں سے تھے۔ یہ مرد مومن جن کے تین نام نقل کئے گئے ہیں شمعان ، حزقیل اور جبر ۔ یہ مرد مومن جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور معجزات کو دیکھ کر ایمان لا چکے تھے مگر فرعون کے ظلم و ستم اور کسی مصلحت سے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا فیصلہ کرلیا ہے تو وہ کھل کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حمایت پر آگئے۔ انہوں نے نہایت موثر اور حکیمانہ انداز سے بھرے دربار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی مذمت اور ان کی عظمت پر تقریر فرمائی اور کہا کہ تم کتنے ظالم لوگ ہو کہ ایک شخص کو تم صرف اس لئے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا رب مانتا ہے۔ اس مرد مومن کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی تعریف فرمائی ہے ۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ آل فرعون میں سے تین لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا (1) ایک تو یہ مرد مومن تھے (2) دوسرے فرعون کی بیوی حضرت آسیہ (3) اور تیسرا وہ شخص کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک قبطی غلطی سے مارا گیا تھا اور فرعون وقت نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا فیصلہ کرلیا تھا تو وہ دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو صورت حال بتاتے ہوئے مصر سے چلے جانے کا مشورہ دیا تھا۔ بعض مفسرین نے پہلے اور تیسرے شخص کو ایک شمار کیا ہے۔ یعنی یہی شخصیات تھیں جنہوں نے فرعون کے ظلم سے بچنے کے لئے اپنے ایمان کو چھپا رکھا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت علی مرتضیٰ (رض) نے اپنے آس پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا کہ بتائو آدمیوں میں سب سے بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم ۔ آپ نے فرمایا کہ سب سے بہادر اور نڈر حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں ۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ بنو قریش کے کچھ لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپ پر حملہ کردیا ۔ اللہ کی قسم ہم میں سے کسی کو حوصلہ نہ تھا کہ بنو قریش کے قریب بھی جاتے مگر حضرت ابوبکر صدیق (رض) قریش پر جھپٹے ۔ کسی کا گلہ پکڑتے ، کسی کے کاندھے ہلاتے اور فرماتے جاتے ” ویلکم اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ “ تمہاری تباہی ہو کہ تم ایک شخص کو محض اس لئے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا رب کہتا ہے۔ پھر حضرت علی (رض) نے اپنے منہ پر چار ڈال لی اور رونا شروع کردیا یہاں تک کہ آنسوؤں سے آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی۔ پھر فرمایا کہ میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ بتائو آل فرعون کا مرد مومن بہتر ہے یا ابوبکر صدیق (رض) ۔ سب خاموش رہے تب حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ تم مجھے جواب نہیں دیتے۔ لیکن اللہ کی قسم آل فرعون کے مرد مومن کے مقابلے میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی ایک ایک ساعت بہتر ہے کیونکہ اس مرد مومن نے تو اپنا ایمان چھپایا ہوا تھا اور ابوبکر صدیق (رض) ایسے شخص تھے جنہوں نے اپنے ایمان کو سب کے سامنے ظاہر کر رکھا تھا۔ ایک حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ صدیقین چند ہیں (1) ایک حبیب نجار ہیں ( جن کا قصہ سورة یا سین میں آیا ہے) (2) دوسرے آل فرعون میں سے یہ مرد مومن (3) اور تیسرے ابوبکر صدیق ہیں جو ان سب سے افضل ہیں (قرطبی) اس مرد مومن نے فرعون ، آل فرعون اور درباریوں کو مختلف طریقوں سے ایمان کی طرف دعوت دی جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا پختہ ارادہ کرلیا تھا۔ اس مرد مومن نے کہا کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے ، حالانکہ وہ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات اور نشانیاں لے کر آیا ہے۔ اگر وہ شخص ( نعوذ باللہ) جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال خود اسی شخص پر پڑے گا ۔ لیکن اگر وہ سچا ہے تو پھر وہ جو کچھ کہہ رہا ہے تو کیا تم اس عذاب سے بچ سکو گے ؟ اللہ کا نظام ہے کہ جو لوگ حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں یا جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں ان کو راہ ہدایت کبھی نصیب نہیں ہوتی ۔ اس مرد مومن نے کہا کہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ آج تمہیں حکومت و سلطنت اور ہر طرح کی طاقتیں حاصل ہیں تم زمین پر غالب ہو لیکن اگر اللہ کا قہر اور عذاب ہم پر ٹوٹ پڑا تو ہمیں اس سے بچانے والا کون ہوگا ؟ اس وقت ہماری مدد کون کرے گا ؟ مرد مومن کی تقریر کا سلسلہ جاری تھا کہ فرعون نے لوگوں کو اس مرد مومن سے متاثر ہوتے دیکھا تو درمیان درمیان میں مداخلت کرتا رہا ۔ کہنے لگا لوگو ! میں تمہیں وہی بات بتا رہا ہوں جسے میں تمہارے حق میں بہتر سمجھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کا راستہ دکھا رہا ہوں اس کی مراد یہ ہوگی کہ یہ مرد مومن جس بات کو کہہ رہا ہے اس میں تمہاری کوئی بھلائی اور خیر نہیں ہے اور جو راستہ میں تمہیں دکھا رہا ہو وہی تمہاری نجات کا ذریعہ ہے۔ اس کے بعد کی آیات میں اس مرد مومن کی باقی نصیحتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یعنی معجزات بھی دکھلاتا ہے، جو دلیل ہے صدق دعوائے نبوت اور مامور من اللہ بتبلیغ التوحید ہونے کی، اور دلیل موجود ہوتے ہوئے صاحب دلیل کی مخالفت کرنا اور مخالفت بھی اس درجہ کی کہ قتل کا قصد کیا جاوے نہایت نازیبا ہے۔ 1۔ غرض اس کے کذب کی صورت میں قتل فضول اور صدق کی صورت میں مضر، پھر ایسا فعل کیوں کیا جاوے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کی دھمکی کے رد عمل میں ایک مومن کا درد مندانہ خطاب۔ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی دھمکی دی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں صرف اتنا فرمایا کہ میں تیرے اقدام قتل سے نہیں ڈرتا کیونکہ میری حفاظت میرے رب کے ذمے ہے۔ اس صورت حال میں ایک مومن تڑپ اٹھا۔ جس کے بارے میں قرآن مجید بتلارہا ہے کہ اس نے حالات کے جبر کی وجہ سے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا۔ جوں ہی اس نے محسوس کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون انتہائی اقدام کرنے والا ہے تو وہ بےدھڑک ہو کر فرعون کے سامنے پرسوز لہجہ اور پورے جلال کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے باربار اپنی قوم کو سمجھاتا ہے۔ اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ یہ فرعون کا چچا زاد بھائی تھا۔ اس نے کہا کہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب ” اللہ “ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ٹھوس اور واضح دلائل لایا ہے بالفرض اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر ہوگا۔ اگر وہ سچا ہے تو پھر تمہیں وہ عذاب ضرور آلے گا جس سے وہ تمہیں ڈراتا ہے۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ جھوٹے اور زیادتی کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا۔ آل فرعون سے تعلق رکھنے والے مومن نے یہ کہہ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا تعارف کروایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہیں ” اللہ “ کی طرف بلاتے ہیں اور اس نے دلائل سے ثابت کردیا ہے کہ وہی تمہارا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا رب ہے۔ مرد مومن نے بڑی جرأت سے کام لیتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا انہی الفاظ میں تعارف کروایا۔ جن الفاظ کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے دن فرعون کے سامنے اپنی دعوت پیش کی تھی۔ (الاعراف : ١٠٤) تعجب کی بات یہ ہے کہ مرد مومن نے نہ صرف فرعون اور اس کے ساتھیوں کو کھلے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا تعارف کروایا بلکہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل کی تائید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے اور زیادتی کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا۔ گویا کہ اس نے ایک حد تک اپنے الفاظ میں واضح کردیا کہ تم جھوٹے ہو اور موسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں۔ آل فرعون کا مرد مومن اور سیدنا ابوبکر صدیق (رض) : (عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو عَنْ أَشَدِّ مَا صَنَعَ الْمُشْرِکُونَ بِرَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ رَأَیْتُ عُقْبَۃَ بْنَ أَبِی مُعَیْطٍ جَاءَ إِلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَہُوَ یُصَلِّی، فَوَضَعَ رِدَاءَ ہُ فِی عُنُقِہِ فَخَنَقَہُ بِہِ خَنْقًا شَدِیدًا، فَجَاءَ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی دَفَعَہُ عَنْہُ فَقَالَ أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ یَقُولَ رَبِّیَ اللَّہُ وَقَدْ جَاءَ کُمْ بالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَبِّکُمْ )[ رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلاً ] ” عروہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے پوچھا :” مجھے بتاؤ کہ مشرکین مکہ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ جو تکلیف دی وہ کیا تھی ؟ وہ کہنے لگے کہ ” ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے عقبہ بن ابی معیط آگے بڑھا۔ آپ کے کندھے پکڑے اور آپ کی گردن میں کپڑا ڈال کر زور سے گلا گھونٹا۔ اتنے میں ابوبکر صدیق (رض) آگئے۔ انہوں نے عقبہ کو کندھے سے پکڑ کر اور آپ سے اسے پیچھے دھکیل دیا اور فرمایا کیا تم اس شخص کو اس لیے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے۔ حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 28 تا 35 یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔ اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔ کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ اور ظالمانہ بات ہے اور اس کی کراہت اور برائی اور گھناؤنا پن بالکل ظاہر ہے۔ اس کے بعد یہ شخص ایک قدم آگے بڑھتا ہے کہ یہ شخص جو کہتا ہے کہ ” میرا رب صرف اللہ ہے “۔ تو وہ بےدلیل بات بھی نہیں کرتا ، وہ دلیل وبرہان اور معجزات دکھا کر بات کرتا ہے۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم (40: 28) ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلائل لے کر آیا ہے “۔ اشارہ ان معجزات کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ نے پیش فرمائے۔ اور انہوں نے بچشم سردیکھے اور جمہور عوام سے دور اپنی اونچی محفل میں تو وہ ان معجزات کا انکار بھی نہیں کرسکتے اور نہ شک کرسکتے ہیں۔ اب یہ شخص بطور فرض ان کے سامنے اس قدام کے برے نتائج کرتا ہے اور اس مسئلہ کا ایک منصفانہ حل پیش کرتا ہے کہ تم اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو فرض کرسکتے ہو وہ یہ ہے۔ وان یک کاذبا فعلیه کذبه (40: 28) ” اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پلٹ پڑے گا “۔ اپنے جھوٹ کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اور اپنے انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ محض جھوٹ بولنے پر تم کسی شخص کو کیسے قتل کرسکتے ہو۔ لیکن ایک دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو ، لہٰذا تم اسکو بھی بطور احتیاط پیش نظر رکھو اور اپنے آپ کو برے نتائج کا مستحق نہ ٹھہراؤ۔ وان یک۔۔۔ یعدکم (40: 28) ” لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے “۔ وہ جن چیزون سے تمہیں ڈراتا ہے ان میں بعض کا تو احتمال پیش نظر رکھو ، یہ شخص ان کو تمام امور سے نہیں ڈراتا بلکہ مباحثے کو کم کرنے کے لیے بعض کے احتمال کا ذکر کرتا ہے یعنی اپنی بات کو منصفانہ بناتا ہے۔ اب وہ مزید اصولی بات کرتا ہے جو دونوں فریقوں پر منطبق ہوسکتی ہے اگرچہ خفیہ اشارہ ان کے لیے ہے۔ ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب (40: 28) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو “۔ اگر موسیٰ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت بھی نہ دے گا اور توفیق بھی نہ دے گا۔ پھر چھوڑ دو اسے کہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو اور موسیٰ جھوٹ بک رہے ہو اور اس کے بارے میں حد سے گزر رہے ہو تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ جب اس نے ان کو اس بات سے ڈرایا کہ اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا تو اب مزید کہتا ہے اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو ہمیں کون بچا سکتا ہے اللہ کے عذاب سے کیونکہ موجودہ قوت اور سلطنت اور اقتدار کا ہم شکر ادا نہیں کررہے ہیں ، کفران نعمت کررہے ہیں اور قوت کے بل بوتے پر ایک شخص کو قتل کرنے جارہے ہیں۔ یٰقوم لکم۔۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ اس شخص کو وہ مکمل شعور حاصل ہے جو ایک صحیح مومن کو حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب بادشاہوں ، برسر اقتدار طبقات اور زمین پر بااختیار لوگوں پر سب سے پہلے آتا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈریں۔ یہ عذاب تو رات اور دن کے ہر لمحے میں تمہارے انتظار میں ہے۔ اس لیے یہ شخص ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم زمین کے مقتدر اعلیٰ ہو ، بادشاہ ہو ، لہٰذا تمہیں اللہ سے ، ان کے مقابلے میں زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات اس رجل مومن کے احساسات کا حصہ ہے ، اور جب اللہ کے عذاب کی بات وہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو ان میں شامل کرتا ہے۔ فمن ینصرنا۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ جب تقریر یہاں تک پہنچی ہے تو فرعون کے اندر وہی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ہر سرکش پر طاری ہوتا ہے۔ جھوٹا وقار ہر شخص کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اور ایسا شخص خالص نصیحت کو بھی سلطنت اور اختیارات پر حملہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا کہیں اقتدار میں شرکت چاہتا ہے۔ قال فرعون۔۔۔۔ الرشاد (40: 29) ” فرعون نے کہا ، میں تو لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں ، جو ٹھیک ہے “۔ میں تمہیں وہی کچھ کہتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مفید ہے اور بغیر صحیح راستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکش ڈکٹیٹر جو سوچتا ہے وہی درست ہوتا ہے۔ کسی کو یہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سوچے کہ بادشاہ غلط بھی سوچ سکتے ہیں یا کسی کو یہ اختیار کب ہے کہ وہ شاہ یاڈکٹیٹر کی رائے ہوتے ہوئے کوئی دوسری رائے رکھے۔ اگر یہ بات ہودسکتی ہے تو پھر وہ کس چیز کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہیں ! لیکن رجل مومن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ شاہ کے مقابلے میں مستقل سوچ رکھے۔ پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو ڈرائے اور متنبہ کرے اور نصیحت کرے اور ایمانداری سے اس کی جو رائے ہے ، اس کا اظہار کرے۔ اور اس بات کو اپنا فریضہ سمجھے کہ جس رائے کو وہ حق سمجھتا ہے ، اس کی حمایت کرے ، سرکشوں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی جو رائے ہو ، سو ہو۔ اس لیے یہ رجل مومن اس دوسرے زاویہ سے ان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے کہ شاید وہ احساس کرلیں ، جاگ اٹھیں اور ان کے اندر ارتعاش پیدا ہو اور وہ نرم ہوجائیں ، اس لیے وہ ان کو تاریخ میں گزری ہوئی سرکش اقوام کے برے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اندر بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکشوں اور حد سے گزرنے والوں کو اللہ نے پکڑا ہے۔ وقال الذی۔۔۔۔۔ للعباد (40: 30 تا 31) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے ، کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعدوالی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ ہر جتھے کا ایک دن علیحدہ تھا۔ لیکن رجل مومن نے تمام علیحدہ علیحدہ دنوں کی تعبیر ایک ہی دن سے کردی۔ مثل یوم الاحزاب (40: 30) وہ گویا ایک ہی دن تھا ، جس کی نوعیت ایک طرح تھی۔ اگرچہ احزاب بہت تھے۔ وما اللہ یرید ظلماللعباد (40: 31) ” اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ اللہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑتا ہے۔ اور ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگ جو ان کے اردگرد بستے ہیں ، ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان ہلاک شدہ اقوام کے بعد آتے ہیں ان کو عبرت ہوتی ہے۔ اب یہ رجل مومن ان کے دلوں پر ایک اور دستک دیتا ہے اور یہ اللہ کے دنوں میں سے بڑے دن یوم آخرت کو یاد دلاتا ہے۔ اسے یہاں فریادوفغاں کا دن کہا گیا ہے۔ ویٰقوم انی۔۔۔۔ من ھاد (40: 32 تا 33) ” اے قوم ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں فریادوفغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا “۔ تناوی کے معنی ہیں باہم پکار ، اس دن ملائکہ جو لوگوں کو پکڑ کر حساب و کتاب کے لیے لائیں گے اور ایک دوسرے کو احکامات دیتے ہوئے پکاریں گے۔ پھر اصحاب اعراف جنت والوں کو پکاریں گے ، اور دوزخ والوں کو بھی پکاریں گے اور دوزخی جنت والوں کو پکاریں گے لہٰذا مختلف صورتوں میں لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اس لیے قامت کے دن کو یوم القاد کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں باہم چیخ و پکار اور فریادوفغاں شامل ہے۔ ہر طرف سے دوڑ دھوپ اور شور ہوگا۔ یہ مفہوم رجل مومن کے اس قول کے مطابق ہے۔ یوم تولون۔۔۔۔ من عاصم (40: 33) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا “۔ یہ جہنم کے خوف سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن بھاگ نہ سکیں گے۔ یہاں فریادوفغاں اور فرار اور پکڑے جانے کی جو تصویر کھینچی گئی ہے ، وہ ان متکبرین کے لیے نہایت ہی مناسب ہے ، جو یہاں جاہ مرتبہ رکھتے ہیں کہ وہاں یہ حالت ہوگی تمہاری۔ ومن یضلل اللہ فماله من ھاد (40: 33) ” سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں “۔ اس میں ایک خفیہ اشارہ فرعون کے اس قول کی طرف ہے۔ ومآ اھدیکم الاسبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو صرف صحیح راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہدایت والا راستہ تو وہ ہے جو اللہ بتائے اور فرعون کا بتایا ہوا راستہ وہ نہیں ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ کیونکہ اللہ لوگوں کی حقیقت اور ان کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کیا ہے اور ضلالت کیا ہے۔ آخر میں یہ رجل مومن ان کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت میں بھی شک کرتے تھے حالانکہ آپ آیات اور نشانیاں لے کر آئے تھے۔ لہٰذا وہی سلوک حضرت موسیٰ سے نہ دہراؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تصدیق فرما رہے ہیں۔ تم نے حضرت یوسف کی تعلیمات میں بھی شک کیا اور یہ غلط تصور قائم کردیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اللہ کسی کو رسول بناکرنہ بھیجے گا۔ حضرت موسیٰ حضرت یوسف کے ایک عرصہ بعد آگئے ہیں اور انہوں نے تمہارے اس اعتقاد کی تکذیب کردی ہے کہ اب رسالت ختم ہے۔ ولقد جآء کم۔۔۔۔۔۔ متکبر جبار (40: 34 تا 35) ” اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بنیات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ یہ واحد جگہ ہے جس میں قرآن نے حضرت یوسف کی رسالت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو مصر والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سورت یوسف سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو مصر کے خزانے حوالے کردیئے گئے تھے۔ آپ ان میں خود مختاری کے ساتھ تصرف کررہے تھے اور آپ ” عزیز مصر “ کے مرتبے تک پہنچ گئے تھے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت مصری وزیزاعظم کا لقب تھا۔ سورت یوسف میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ آپ بادشاہ مصر بن گئے تھے۔ ورفع ابویه۔۔۔۔ ربی حقا (یوسف :100) ” اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے سجدے میں کرگئے اور اس نے کہا اے باپ ! یہ ہے تاویل میرے خواب کی جو میں نے پہلے دیکھی تھی ، جسے اللہ نے حق بنادیا “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جس تحت پر آپ نے اپنے والدین کو اٹھا کر بٹھایا وہ کوئی اور ممتاز جگہ ہو اور مملکت مصرکاتحت نہ ہو جس پر فرعون بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ان آیات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اقتدار اعلیٰ تک پہنچ گئے تھے۔ اس لیے ہم رجل مومن کے اس قول کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو حضرت یوسف کی تعلیمات کے بارے میں شک تھا۔ البتہ حضرت یوسف چونکہ اقتدار کے بہت ہی اعلیٰ مقام پر تھے اس لیے لوگ آپ کی مخالفت میں آواز نہ اٹھاتے تھے۔ حتی اذا۔۔۔۔ بعدہ رسولا (40: 34) ” یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوگئے تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا “۔ گویا آپ کی موت سے ان کو بےحد خوشی ہوئی اور خوشی کا اظہار انہوں نے اس شکل میں کیا کہ رسالت کا خاتمہ کردیا کیونکہ شاید وہ آپ کی تعلیمات کو پسند نہ کرتے تھے کیونکہ آپ تو توحید خالص کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ تعلیم جیسے آپ کی تقریر زنداں سے واضح ہے۔ ء ارباب۔۔۔۔ القھار (12: 39) ” کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ واحد اور زبردست “۔ انہوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ حضرت یوسف کے بعد کوئی رسول نہ آئے اس لیے وہ اس طرح چاہتے تھے۔ بعض اوقات ایک شخص ایک چیز کو بہت پسند کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ یہ بات واقع ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ رجل مومن کا اندازیہاں قدرے سخت ہوجاتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے تم شک کرتے ہو اور حد سے گزرکرتکذیب کرتے ہو۔ لذلک ۔۔۔ مرتاب (40: 34) ” اللہ ان لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یہ رجل مومن ان کو ڈراتا ہے کہ اللہ نے جو دعوت نشانیوں کے ساتھ بھیجی ہے اس کے بارے میں جو حد سے گزرے گا اور اس میں شک کرے گا ، تو اللہ اسے گمراہ کردے گا ، وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑی سختی سے ان کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بلاحجت و دلیل جھگڑتے ہیں ، ان کو مومنین اور اللہ دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا رویہ بہت ہی برا ہے۔ اور ان کے تکبر اور جبر کے رویہ پر بھی یہ شخص تنقید کرتا ہے اور ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے اور اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ جباروں اور قہاروں کو بالاخر پکڑتا ہے ! الذین یجادلون۔۔۔۔۔ متکبرجبار (40: 35) ” اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پت ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ رجل مومن کی زبانی جو بات کی گئی وہی بات سورت کے آغاز میں براہ راست بھی کہی گئی کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل وحجت کے مجادلہ کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں ہدایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور نہ ان کا دماغ حقیقت کے ادراک تک پہنچ سکتا ہے۔ رجل مومن کی اس طویل ترین تقریر کے باوجود جس میں انکو تاریخ کے سب سے نشیب و فراز دکھائے گئے اور انکو متاثر کرنے کی سعی کی گئی ، فرعون اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتا رہا اور اسنے حق کو پہنچاننے کی کوئی سعی نہ کی لیکن بظاہر اسنے یہ احمقانہ رویہ اختیار رویہ اختیار کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا دی کی تحقیقات کررہا ہے بہرحال رجل مومن کی تقریر کا یہ اثر ضرور ہوا کہ فرعون کسی نہ کسی انداز میں اس تحریک کے بارے میں تحقیق پر آمادہ ہوا یوں فرعون نے مجلس سیوخ کی رائے کو براہ راست ردنہ کیا

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آل فرعون میں سے ایک مومن بندہ کی حق گوئی نیز تنبیہ اور تہدید آل فرعون میں سے ایک شخص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا تھا (جیسا کہ فرعون کی بیوی مسلمان ہوگئی تھی) کہا جاتا ہے کہ یہ شخص فرعون کے چچا کا لڑکا تھا اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ فرعون کا ولی عہد سمجھا جاتا تھا اور محکمہ پولیس کا ذمہ دار تھا یہ مومن تو تھا لیکن اپنے ایمان کو چھپاتا تھا اس نے بطور ہمدردی فرعون سے اور اس کے ساتھیوں سے جو اس کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے یوں کہا کہ تم جو اس شخص کو قتل کرنے کے منصوبے بنا رہے ہو یہ کوئی سمجھداری کی بات نہیں اول تو اس کا کوئی قصور نہیں کوئی چوری نہیں کی کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا اس نے ایک حق بات کہی اور یوں کہا کہ میرا رب اللہ ہے یہ کوئی ایسی بات نہیں جسے قتل کرنے کا سبب بنالیا جائے پھر وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کے لیے دلائل بھی پیش کرتا ہے دلائلِ واضح اور معجزات دیکھتے ہوئے جو تمہارے رب کی طرف سے اسے دئیے گئے ہیں قتل کردو گے تو تمہارا کیا بنے گا ؟ سمجھداری کی بات یہ ہے کہ اسے قتل نہ کرو اگر یہ اپنی باتوں میں جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اس پر پڑجائے گا یعنی اسی دنیا میں اس کی سزا پالے گا تمہیں اس کے قتل میں ہاتھ ملوث کرنے کی ضرورت کیا ہے ؟ یہ تو ایک رخ کی بات ہوئی اب دوسرے رخ پر بھی غور کرلو اور وہ یہ ہے کہ اگر یہ اپنے دعوے میں سچا ہو واقعی پروردگار جل مجدہٗ کا پیغمبر ہو اور تم برابر اسے جھٹلاتے رہے اور جھٹلانے کی وجہ سے پروردگار جل مجدہٗ کی طرف سے تم پر عذاب آگیا جس کا اس شخص نے اپنی باتوں میں تذکرہ کیا ہے اور تمہیں یہ بتایا ہے کہ میری بات نہ مانو گے تو ایسے ایسے عذابوں میں مبتلا ہوگے، تو تم کہیں کے نہ رہو گے یہ دنیا بھی برباد ہوگی اور موت کے بعد بھی عذاب کا سامنا ہوگا۔ سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بندہ مومن نے یہ بھی کہا (اِِنَّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِیْ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ) (بلاشبہ اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا ہو بہت جھوٹا ہو) اس میں یہ بتادیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اگر یہ سچے نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزات کے ذریعے ان کی تائید نہ کی جاتی اور یہ جو دلائل پیش کرتے ہیں یہ دلائل ان کو نہ دئیے جاتے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ فرعون مسرف ہے حد سے بڑھنے والا ہے بات بات میں لوگوں کو قتل کرتا ہے فساد پر تلا ہوا ہے اپنے معبود ہونے کا دعویٰ کرکے بہت بڑا کذاب یعنی جھوٹا بھی ہے اس کی سب تدبیریں فیل ہوں گی اور یہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہ کرسکے گا بندہ مومن نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے یوں بھی کہا کہ آج تم لوگ اس سرزمین یعنی مصر میں حکومت والے ہو تمہارا غلبہ ہے لیکن اللہ کی گرفت کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں اگر ہم پر اللہ کا عذاب آئے تو یہ ساری حکومت اور سلطنت دھری رہ جائے گی اور ہمیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا وعید اور تہدید کو استفہام کے پیرائے میں بیان کیا جو اصحاب موعظت کا طریقہ ہے فرعون پر یہ باتیں سن کر مزید خوف طاری ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بات بڑھتی رہی تو لوگوں میں اسلام پھیل جائے گا اور میری حکومت اور دعوائے خدائی سب کچھ خاک میں مل جائے گا اس لیے بندہ مومن کی بات سن کر حاضرین سے کہنے لگا کہ میں تو تمہیں وہی بات بتاتا ہوں جسے اپنی رائے میں درست سمجھتا ہوں میرے نزدیک تو موسیٰ کو قتل ہی کردینا چاہیے میں جو تمہیں رائے دے رہا ہوں یہی رائے ٹھیک ہے جو مصلحت کے موافق ہے۔ (لعنہ اللہ تعالیٰ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

35:۔ ” وقال رجل “ جب فرعون کے دربار میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا پروگرام بن رہا تھا اس وقت قوم فرعون ہی کا ایک آدمی اس گھناؤنے جرم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ یہ آدمی فرعون کا چچا زاد بھائی تھا اور درپردہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا۔ مؤمن، من آل فرعون، یکتم ایمانہ، تینوں ” رجل “ کی صفات ہیں۔ دوسری صفت کو تیسری صفت پر اس لیے مقدم کیا گیا ہے تاکہ واضح ہوجائے کہ وہ رجل ؤمن، آل فرعون سے تھا، اگر اس کا عکس ہوتا تو من اٰل فرعون، یکتم سے متعلق ہوجاتا اور اس طرح وہ فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ مؤمن آل فرعون، اگرچہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا، لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا پروگرام سن کر اس سے نہ رہا گیا اور بول اٹھا۔ ” اتقتلون رجلا الخ “ تم ایک شخص کو ناحق قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، میں اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کروں گا ؟ تو یہ بات تو قتل کی وجہ نہیں بن سکتی، کیونکہ اس کا یہ دعوی غلط نہیں، بلکہ سراپا حق ہے اور وہ اپنی سچائی اور اپنے دعوی کی حقانیت پر تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلے دلائل اور واضح معجزات لے کر آیا ہے، جن کا تم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرچکے ہو۔ اس لیے اسے قتل کرنے لیے تمہارے پاس کوئی وجہ جواز نہیں، تم اس سے باز آجاؤ۔ 36:۔ ” وان یک کاذبا “ یہ انہیں قتل سے روکنے کا دوسرا انداز ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں دو ہی احتمال ہیں یا تو وہ اپنے دعوی میں جھوٹٓ ہے یا سچا دونوں صورتوں میں اس کا قتل قرین عقل نہیں۔ فرض کرو اگر وہ جھوٹا ہے تو تمہیں اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اسے قتل کرنے کی ضرورت ہی نہیں، بلکہ تم اس کو اپنے دین کے اظہار سے روک دو تو اس طرح اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اور دوسرے لوگ اس سے بچ جائیں گے اور اس طرح اس کا مشن اپنی موت آپ ہی مرجائے گا۔ لاحاجۃ بکم، فی دفع شرہ الی قتلہ بل یکفیکم ان تمنعوہ عن اظہار ھذہ المقالۃ ثم تترکوا قتلہ فان کان کاذبا فحینئذ لایعود ضررہ الا الیہ وان کان صادقا انتفعتم بہ (کبیر ج 7 ص 318) ۔ 37:۔ ” وان یک صادقا “ اور اگر وہ سچا ہے اور تم اس کی تکذیب کرتے رہے تو جن انواع وذاب سے وہ تمہیں ڈراتا ہے ان میں سے کچھ تو ضرور تمہیں پہنچ کر رہے گا جیسا کہ سورة طہ رکوع 2 میں فرمایا ” انا قد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب و تولی “ مومن آل فرعون کا تو ایمان تھا کہ موعود عذاب کی تمام انواع ان پر آئیں گی، لیکن فرعون اور اس کی قوم کے لحاظ سے بعض کہا، تاکہ یہ ان کے لیے تسلیم کرنا آسان ہو مقصد یہ ہے کہ اگر وہ سچا ہے تو کم از کم موعودہ عذاب سے کچھ تو ضرور آئے گا اور اس میں بھی تمہاری ہلاکت ہے، اس لیے اسے قتل کرنے کا خیال ترک کردو اور اس کی پیروی اختیار کرلو، تاکہ موعود عذاب سے بچ جاؤ۔ لم یقل کل الذی یعدکم مع انہ وعد من نبی صادق القول، مداراۃ لہم وسلوکا لطریق الانصاف، فجاء بما ھو اقرب الی تسلیمہم لہ ولیس فیہ نفی اصابۃ الکل، فکانہ قال لہم : اقل ما یکون فی صدقہ ان یصیبکم بعض ما یعدکم وھو العذاب العاجل وفی ذلک ھلاککم (مدارک) ۔ 38:۔ ” ان اللہ “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ اور اس سوال کا جواب ہے کہ مومن آل فرعون کی اس تقریر سے فرعون پر کچھ اثر ہوا یا نہ۔ فرمایا فرعون ایسے ھدود اللہ کو تورنے والے سرکشوں اور دجالوں کو اللہ ہدایت قبول کرنے کی توفیق نہیں دیتا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ یا یہ بھی مومن ہی کا مقولہ ہے اور اس سے اس کا مقصد قوم فرعون کو یہ بتانا ہے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) جیسا کہ تم کہتے ہوجادوگر اور کذاب ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی ان دلائل واضحہ کی طرف راہنمائی نہ کرتا اور نہ ان معجزات قاہرہ سے ان کی تائید ہی فرماتا۔ انہ کان مسرفا کذابا لما ھداہ اللہ تعالیٰ الی الینات ولما عضدہ بتلک المعجزات (روح ج 24 ص 65) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(28) اور فرعون کے خاندان والوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا اس نے یوں کہا کیا تم محض اس بنا پر ایک شخص کو قتل کرتے ہو جو یوں کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی اور واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے اگر یہ شخص جھوٹا ہی ہو تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو اس عذاب کا کچھ حصہ تو تم کو پہنچ کر ہی رہے گا جس کا وہ تم کو وعدہ دے رہا ہے اور جس کی پیشین گوئی کررہا ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی رہبری اور رہنمائی نہیں کیا کرتا اور اس کو مقصود تک نہیں پہنچاتا جو سحد سے گر جانے والا اور بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔ یعنی حسن اتفاق ملاحظہ ہو کہ جب فرعون موسیٰ کے قتل کا مشورہو کررہا تھا تو ان ہی اہل دربار میں سے ایک مرد مسلمان جو پوشیدہ اور خفیہ مسلمان تھا اور حسن اتفاق سے فرعون کا رشتہ دار یعنی چچازاد بھائی تھا قرآن نے اس کا نام نہیں بتایا۔ بعض مفسرین نے کہا یہ وہی شخص ہے جو بھاگ کر آیا تھا اور اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکل کر مدین روانہ ہوگئے تھے اس کا نام شمعان تھا بعض نے کہا اس کا نام حزقیل تھا بعض کہتے ہیں اس کا نام جبر ہے (واللہ اعلم) بہرحال اس نے نہایت معقول بات کہی کہ یہ شخص باوجود دلائل اور براہین پیش کرنے کے یا جھوٹا ہے یا سچا ہے اگر جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ مہلت نہیں دے گا کیونکہ جھوٹے کو سرسبز ہونے کا زیادہ موقعہ نہیں ملا کرتا خود تباہ ہوجائے گا اور اگر سچا ہے تو جس عذاب سے ڈرا رہا ہے اس میں سے کچھ بھی تم پر پڑگیا تو پھر تمہاری خیر نہیں۔ آگے ایسا جملہ کہا جو بظاہر موسیٰ کے لئے تھا لیکن اس کی لپیٹ میں فرعون بھی آگیا اور اس کی طرف بھی اشارہ ہوگیا۔ ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف کذاب کہ جھوٹے اور حد سے بڑھنے والوں کی رہنمائی نہیں ہوا کرتی چند دن کی بات ہے تم اس کے قتل کرنے میں جلدی نہ کرو ایسا کرنا خطرناک ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر جھوٹا ہے تو جس پر جھوٹ بولتا ہے وہی سزا دے گا اور شاید سچا ہو تو اپنا فکر کرو۔ آگے بھی اس کی تقریر مذکور ہے اور شاید تقریر کرتے کرتے اس مرد مسلمان نے اپنے ایمان کو بھی ظاہر کردیا ہو کیونکہ آگے کی باتیں اور تقریر کا رنگ ایسا ہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ باوجود اس تقریر کے اپنے ایمان کا اعلان نہ کیا ہو۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک دفعہ لوگوں سے دریافت کیا کہ آدمیوں میں بڑا شجاع اور بہادر کون ہے لوگوں نے کہا ہم نہیں جانتے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا سب سے زیادہ شجاع ابوبکر (رض) ہیں میں نے دیکھا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دفعہ قریش نے پکڑا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا کہنا اور مارنا شروع کیا۔ پس خدا کی قسم ہم میں سے کسی کا حوصلہ نہیں پڑا کہ قریب آتا مگر ابوبکر صدیق (رض) قریش پر جھپٹے کسی کا گلا گھونٹتے کسی کے کندھے پکڑ کر ہلاتے اور فرماتے۔ ویلکم اتقتلون رجلا ان یقول رب اللہ۔ پھر حضرت علی (رض) نے اپنے منہ پر سے چادر اٹھائی اور رونا شروع کیا یہاں تک کہ آپ کی داڑھی آنسوئوں سے تر ہوگئی پھر آپ نے فرمایا میں قسم دیتا ہوں تم کو بتائو کیا آل فرعون کا مومن بہتر ہے یا ابوبکر لوگ خاموش رہے پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا تم مجھ کو جواب نہیں دیتے پس قسم ہے خدا کی ایک ساعت ابوبکر کی بہتر ہے قصہ مومن آل فرعون سے کہ اس نے اپنے ایمان کو چھپا رکھا اور ابوبکر ایک ایسا شخص ہے کہ اس نے اپنے ایمان کو ظاہر کیا آگے پھر اسی مومن آل فرعون کا ذکر ہے۔