The Dispute of the People of Hell
Allah says,
وَإِذْ يَتَحَاجُّونَ فِي النَّارِ فَيَقُولُ الضُّعَفَاء لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا
...
And, when they will dispute in the Fire, the weak will say to those who were arrogant:
Allah tells us how the people of Hell will dispute and argue with one another, and Fir`awn and his people will be among them. The weak, who were the followers, will say to those who were arrogant, who were the leaders and masters:
...
إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا
...
Verily, we followed you,
meaning, `we obeyed you and heeded your call to disbelief and misguidance in the world, '
...
فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِّنَ النَّارِ
can you then take from us some portion of the Fire?
means, `can you carry a part of our burden for us?'
دوزخیوں کیلئے ایک اور عذب ۔
جہنمی لوگ جہنم کے اور عذابوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک اور عذاب کے بھی شکار ہوں گے جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے ۔ یہ عذاب فرعون کو بھی ہو گا اور دوسرے دوزخیوں کو بھی یعنی آپس میں تھوکنا تذلیل اور لڑائی جھگڑے ۔ چھوٹے بڑوں سے یعنی تابعداری کرنے اور حکم احکام کے ماننے والے جن کی بڑائی اور بزرگی کے قائل تھے اور جن کی باتیں تسلیم کیا کرتے تھے اور جن کے کہے ہوئے پر عامل تھے ان سے کہیں گے ۔ کہ دنیا میں ہم تو آپ کے تابع فرمان رہے ۔ جو آپ نے کہا ہم بجا لاتے ۔ کفر اور گمراہی کے احکام بھی جو آپ کی بارگاہ سے صادر ہوئے آپ کے تقدس اور علم و فضل سرداری اور حکومت کی بنا پر ہم سب کو مانتے رہے ، اب یہاں آپ ہمیں کچھ تو کام آئے ۔ ہمارے عذابوں کا ہی کوئی حصہ اپنے اوپر اٹھا لیجئے ، یہ رؤسا اور امرا سادات اور بزرگ جواب دیں گے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ جل بھن رہے ہیں ۔ ہمیں جو عذاب ہو رہے ہیں وہ کیا کم ہیں جو ہم تمہارے عذاب اٹھائیں؟ اللہ کا حکم جاری ہو چکا ہے ۔ رب فیصلے صادر فرما چکا ہے ۔ ہر ایک کو اس کے بداعمال کے مطابق سزا دے چکا ہے ۔ اب اس میں کمی ناممکن ہے ۔ جیسے اور آیت میں ہے ہر ایک کیلئے بڑھا چڑھا عذاب گو تم نہ سمجھو ۔ جب اہل دوزخ سمجھ لیں گے کہ اللہ ان کی دعا قبول نہیں فرما رہا بلکہ کان بھی نہیں لگاتا ۔ بلکہ انہیں ڈانٹ دیا ہے اور فرما چکا ہے کہ یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام بھی نہ کرو تو وہ جہنم کے داروغوں سے کہیں گے ۔ جو وہاں کے ایسے ہی پاسبان ہیں جیسے دنیا کے جیل خانوں کے نگہبان داروغے اور محافظ سپاہ ہوتے ہیں ۔ ان سے کہیں گے کہ تم ہی ذرا اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ کسی ایک دن ہی وہ ہمارے عذاب ہلکے کر دے ، وہ انہیں جواب دیں گے کہ کیا رسولوں کی زبانی احکام ربانی دنیا میں تمہیں پہنچے نہ تھے؟ یہ کہیں گے ہاں پہنچے تھے ۔ تو فرشتے کہیں گے پھر اب تم آپ ہی اللہ سے کہہ سن لو ۔ ہم تو تمہاری طرف سے کوئی عرض اس کی جناب میں کر نہیں سکتے ۔ بلکہ ہم خود تم سے بیزار اور تمہارے دشمن ہیں سنو ہم تمہیں کہہ دیتے ہیں کہ خواہ تم دعا کرو خواہ تمہارے لئے اور کوئی دعا کرے ناممکن ہے کہ تمہارے عذابوں میں کمی ہو ۔ کافروں کی دعا نامقبول اور مردود ہے ۔