Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 47

سورة مومن

وَ اِذۡ یَتَحَآجُّوۡنَ فِی النَّارِ فَیَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُنَّا لَکُمۡ تَبَعًا فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِیۡبًا مِّنَ النَّارِ ﴿۴۷﴾

And [mention] when they will argue within the Fire, and the weak will say to those who had been arrogant, "Indeed, we were [only] your followers, so will you relieve us of a share of the Fire?"

اور جب کہ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ تکبر والوں سے ( جن کے یہ تابع تھے ) کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے تو کیا اب تم ہم سے اس آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Dispute of the People of Hell Allah says, وَإِذْ يَتَحَاجُّونَ فِي النَّارِ فَيَقُولُ الضُّعَفَاء لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا ... And, when they will dispute in the Fire, the weak will say to those who were arrogant: Allah tells us how the people of Hell will dispute and argue with one another, and Fir`awn and his people will be among them. The weak, who were the followers, will say to those who were arrogant, who were the leaders and masters: ... إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا ... Verily, we followed you, meaning, `we obeyed you and heeded your call to disbelief and misguidance in the world, ' ... فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِّنَ النَّارِ can you then take from us some portion of the Fire? means, `can you carry a part of our burden for us?'

دوزخیوں کیلئے ایک اور عذب ۔ جہنمی لوگ جہنم کے اور عذابوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک اور عذاب کے بھی شکار ہوں گے جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے ۔ یہ عذاب فرعون کو بھی ہو گا اور دوسرے دوزخیوں کو بھی یعنی آپس میں تھوکنا تذلیل اور لڑائی جھگڑے ۔ چھوٹے بڑوں سے یعنی تابعداری کرنے اور حکم احکام کے ماننے والے جن کی بڑائی اور بزرگی کے قائل تھے اور جن کی باتیں تسلیم کیا کرتے تھے اور جن کے کہے ہوئے پر عامل تھے ان سے کہیں گے ۔ کہ دنیا میں ہم تو آپ کے تابع فرمان رہے ۔ جو آپ نے کہا ہم بجا لاتے ۔ کفر اور گمراہی کے احکام بھی جو آپ کی بارگاہ سے صادر ہوئے آپ کے تقدس اور علم و فضل سرداری اور حکومت کی بنا پر ہم سب کو مانتے رہے ، اب یہاں آپ ہمیں کچھ تو کام آئے ۔ ہمارے عذابوں کا ہی کوئی حصہ اپنے اوپر اٹھا لیجئے ، یہ رؤسا اور امرا سادات اور بزرگ جواب دیں گے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ جل بھن رہے ہیں ۔ ہمیں جو عذاب ہو رہے ہیں وہ کیا کم ہیں جو ہم تمہارے عذاب اٹھائیں؟ اللہ کا حکم جاری ہو چکا ہے ۔ رب فیصلے صادر فرما چکا ہے ۔ ہر ایک کو اس کے بداعمال کے مطابق سزا دے چکا ہے ۔ اب اس میں کمی ناممکن ہے ۔ جیسے اور آیت میں ہے ہر ایک کیلئے بڑھا چڑھا عذاب گو تم نہ سمجھو ۔ جب اہل دوزخ سمجھ لیں گے کہ اللہ ان کی دعا قبول نہیں فرما رہا بلکہ کان بھی نہیں لگاتا ۔ بلکہ انہیں ڈانٹ دیا ہے اور فرما چکا ہے کہ یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام بھی نہ کرو تو وہ جہنم کے داروغوں سے کہیں گے ۔ جو وہاں کے ایسے ہی پاسبان ہیں جیسے دنیا کے جیل خانوں کے نگہبان داروغے اور محافظ سپاہ ہوتے ہیں ۔ ان سے کہیں گے کہ تم ہی ذرا اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ کسی ایک دن ہی وہ ہمارے عذاب ہلکے کر دے ، وہ انہیں جواب دیں گے کہ کیا رسولوں کی زبانی احکام ربانی دنیا میں تمہیں پہنچے نہ تھے؟ یہ کہیں گے ہاں پہنچے تھے ۔ تو فرشتے کہیں گے پھر اب تم آپ ہی اللہ سے کہہ سن لو ۔ ہم تو تمہاری طرف سے کوئی عرض اس کی جناب میں کر نہیں سکتے ۔ بلکہ ہم خود تم سے بیزار اور تمہارے دشمن ہیں سنو ہم تمہیں کہہ دیتے ہیں کہ خواہ تم دعا کرو خواہ تمہارے لئے اور کوئی دعا کرے ناممکن ہے کہ تمہارے عذابوں میں کمی ہو ۔ کافروں کی دعا نامقبول اور مردود ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦١] مطیع اور مطاع کا مکالمہ :۔ بڑا بننے والوں سے مرادہر وہ شخص ہے جس کا اپنا حلقہ اثر ہو اور اس حلقہ میں اس کی بات تسلیم کی جاتی ہو۔ یہ گاؤں کے چودھری بھی ہوسکتے ہیں۔ حکمران بھی اور سرکاری درباری حضرات اور حکومت کے افسر بھی، سیاسی لیڈر بھی اور علمائے کرام اور مشائخ عظام بھی۔ جب ایسے بڑے حضرات بھی جہنم پر جا پہنچیں گے تو ان کے تابعدار ان سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمہاری اطاعت کرتے رہے۔ آج جو ہمیں عذاب ہو رہا ہے اس کا کچھ حصہ تو اپنے ذمہ لو اور ہمارا بوجھ بٹاؤ اور وہ یہ بات انہیں اس لئے نہیں کہیں گے کہ وہ فی الواقع کچھ بوجھ بٹا سکتے ہیں۔ اس بات کی انہیں خوب سمجھ آچکی ہوگی کہ آج بےبسی میں دونوں فریق ایک جیسے ہیں بلکہ وہ یہ بات انہیں ذلیل کرنے کی خاطر کہیں گے اور اس لئے بھی کہ وہ اپنے اندر کی جلن کو کچھ ہلکا کرسکیں اور دل کے پھپھولے پھوڑ سکیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) واذ یتخآجون فی النار فیقول الصعفوآ…: فرعون اور آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے چلنے والوں کا انجام آگ اور قیامت کے دن ” اشد العذاب “ بیان فرمانے کے بعد بتایا کہ صرف فرعون ہی نہیں، ہر متکبر اور اس کے اندھا دھند پیرو کار جہنم میں جائیں (ایک دوسرے سے جھگڑیں گے) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ کمزور لوگوں کا بڑا بننے والوں سے کہنا :(انا کنا لکم تبعاً فھل انتم معنون عنا نصیباً من النار) (کہ ہم دنیا میں تمہارے تابع تھے، تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹاؤ گے ؟ ) ان سے آگ ہٹانے کی درخواست کے لئے نہیں ہوگا، بلکہ انہیں ذلیل کرنے کے لئے اور اپنے دل کا ابال نکالنے کے لئے ہوگا۔ ان بڑے بننے والوں کے پاس بھی یہ کہنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا کہ ہم خود آگ میں ہیں، تمہارے کس کام آسکتے ہیں ! ؟ اس پر وہ ایک دوسرے کو لعنت کریں گے، مگر کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جھگڑے کا کئی مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (١٦٦) ، ١٦٧) ، سورة ابراہیم (٢١، ٢٢) ، سورة اعراف (٣٨، ٣٩) اور سورة سبا (٣١ تا ٣٣) ۔ (٢) ان اللہ قد حکم بین العباد : یعنی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نازل ہوچکا، اب تم اپنی سزا بھگتو ہم اپنی بھگت رہے ہیں، اس عذاب میں کمی بیشی ہمارے بس میں نہیں ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور (وہ وقت بھی پیش نظر رکھنے کے قابل ہے) جبکہ کفار دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجہ کے لوگ (یعنی تابعین) بڑے درجہ کے لوگوں سے (یعنی متبوعین سے جن کا وہ دنیا میں اتباع کیا کرتے تھے) کہیں گے کہ ہم (دنیا میں) تمہارے تابع تھے کیا تم ہم سے آگ کا کوئی جز ہٹا سکتے ہو (یعنی جب دنیا میں تم نے ہمیں اپنا تابع اور پیرو بنا رکھا تھا تو آج تمہیں ہماری مدد کرنا چاہئے) وہ بڑے لوگ کہیں گے کہ ہم سب ہی دوزخ میں ہیں (یعنی ہم اپنا ہی عذاب کم نہیں کرسکتے تو تمہارا کیا کریں گے) اللہ تعالیٰ (اپنے) بندوں کے درمیان (قطعی) فیصلہ کرچکا (اب اس کے خلاف کرنے کی کس کو مجال ہے) اور (اس کے بعد) جتنے لوگ دوزخ میں ہوں گے (یعنی بڑے اور چھوٹے تابع اور متبوع سب مل کر) جہنم کے موکل فرشتوں سے (درخواست کے طور پر) کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ کسی دن تو ہم سے عذاب ہلکا کر دے (یعنی عذاب کے بالکل ہٹ جانے یا ہمیشہ کے لئے کم ہوجانے کی امید تو نہیں، کم از کم ایک روز کی تو کچھ چھٹی مل جایا کرے) فرشتے کہیں گے کہ (یہ بتلاؤ) کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر معجزات لے کر نہیں آتے رہے (اور دوزخ سے بچنے کا نہیں بتلاتے رہے تھے) دوزخی کہیں گے ہاں آتے تو رہے تھے (مگر ہم نے ان کا کہنا نہ مانا (آیت) بلی قدجاءنا نذیر فکذبنا) فرشتے کہیں گے کہ تو پھر (ہم تمہارے لئے دعا نہیں کرسکتے کیونکہ کافروں کے لئے دعا کرنے کی ہم کو اجازت نہیں ہے) تم ہی (اگر جی چاہے تو خود) دعا کرلو، اور (تمہاری دعا کا بھی کچھ نتیجہ نہ ہوگا کیونکہ) کافروں کی دعا (آخرت میں) محض بےاثر ہے (کیونکہ آخرت میں کوئی دعا بغیر ایمان کے قبول نہیں ہو سکتی اور ایمان کا موقع دنیا ہی میں تھا وہ تم کھو چکے اور یہ جو کہا کہ ” آخرت میں “ اس سے فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں تو کافروں کی دعا بھی قبول ہو سکتی ہے، جیسا کہ سب سے بڑا کافر ابلیس کی سب سے بڑی دعا قیامت تک زندہ رہنے کی قبول کرلی گئی) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ يَتَـحَاۗجُّوْنَ فِي النَّارِ فَيَقُوْلُ الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَہَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِيْبًا مِّنَ النَّارِ۝ ٤٧ حاجَّة والمُحاجَّة : أن يطلب کلّ واحد أن يردّ الآخر عن حجّته ومحجّته، قال تعالی: وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] ، فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] ، وقال تعالی: لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] ، وقال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ [ آل عمران/ 66] ، وقال تعالی: وَإِذْ يَتَحاجُّونَ فِي النَّارِ [ غافر/ 47] ، وسمّي سبر الجراحة حجّا، قال الشاعر : يحجّ مأمومة في قعرها لجف الحاجۃ ۔ اس جھگڑے کو کہتے ہیں جس میں ہر ایک دوسرے کو اس کی دلیل اور مقصد سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں ( کیا بحث کرتے ہو ۔ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] پھر اگر یہ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چکی ہے ۔ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو ۔ ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ [ آل عمران/ 66] دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تم کو کچھ بھی علم نہیں ۔ وَإِذْ يَتَحاجُّونَ فِي النَّارِ [ غافر/ 47] اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے ۔ اور حج کے معنی زخم کی گہرائی ناپنا بھی آتے ہیں شاعر نے کہا ہے ع ( بسیط) یحج مامومۃ فی قھرھا لجف وہ سر کے زخم کو سلائی سے ناپتا ہے جس کا قعر نہایت وسیع ہے ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ ضعف والضَّعْفُ قد يكون في النّفس، وفي البدن، وفي الحال، وقیل : الضَّعْفُ والضُّعْفُ لغتان . قال تعالی: وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] ( ض ع ف ) الضعف اور الضعف رائے کی کمزوری پر بھی بولا جاتا ہے اور بدن اور حالت کی کمزوری پر بھی اور اس میں ضعف اور ضعف ( ولغت ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] اور معلوم کرلیا کہ ابھی تم میں کس قدر کمزور ی ہے ۔ الاسْتِكْبارُ والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة . والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين : أحدهما : أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود . والثاني : أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] . ( ک ب ر ) کبیر اور الکبر والتکبیر والا ستکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں پس کہر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے ۔ الاستکبار ( استتعال ) اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ا یک یہ کہ انسان بڑا ببنے کا قصد کرے ۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو ۔ جس پر تکبر کرنا انسان کو سزا وار ہے تو محمود ہے ۔ دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا ) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں ۔ یہ مدموم ہے ۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے ؛فرمایا ؛ أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ غنی( فایدة) أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا ۔۔۔۔ لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] نہ تو ان کا مال ہی خدا کے عذاب سے انہیں بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی کچھ کام آئیگی نَّصِيبُ : الحَظُّ المَنْصُوبُ. أي : المُعَيَّنُ. قال تعالی: أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] ( ن ص ب ) نصیب و النصیب کے معنی معین حصہ کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جب دوزخ میں کافر سردار اور ان کے پیرو ایک دوسرے سے جھگڑیں گے اور ادنی درجے کے لوگ ان سرداروں سے جو کہ ایمان لانے سے تکبر کرتے تھے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہارے طریقے پر چلتے تھے تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٧ { وَاِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا } ” اور جب وہ آگ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ بڑے بننے والوں سے کہیں گے “ { اِنَّا کُنَّا لَـکُمْ تَبَعًا فَہَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ } ” ہم تو تمہاری پیروی کرتے تھے ‘ تو کیا تم لوگ ہم سے آگ کے عذاب کا کوئی حصہ کم کروا سکتے ہو ؟ “ دنیا میں تو تمہارا ہر جگہ حکم چلتا تھا۔ تو اگر یہاں پر بھی تمہارا کچھ اختیار ہے تو ہمارے عذاب میں کچھ کمی کروا دو ۔ آخر ہم تمہاری پیروی کر کے ہی اس حال کو پہنچے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

64 This they will not say in any hope that their previous guides or rulers or leaders would actually be able to save them from the torment, or would have it reduced. At that time they will have fully realized that those people could not avail them anything there. But they will say this in order to humiliate them, as if to say: "In the world you ruled over us with great show of power and authority: now save us also from this disaster which has befallen us only because of you."

سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :64 یہ بات وہ اس امید پر نہیں کہیں گے کہ ہمارے یہ سابق پیشوا یا حاکم یا رہنما فی الواقع ہمیں عذاب سے بچا سکیں گے یا اس میں کچھ کمی کرا دیں گے ۔ اس وقت تو ان پر یہ حقیقت کھل چکی ہو گی کہ یہ لوگ یہاں ہمارے کسی کام آنے والے نہیں ہیں ۔ مگر وہ انہیں ذلیل کرنے کے لیے ان سے کہیں گے کہ دنیا میں تو حضور بڑے طنطنے سے اپنی سرداری ہم پر چلاتے تھے ، اب یہاں اس آفت سے بھی تو ہمیں بچایئے جو آپ ہی کی بدولت ہم پر آئی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٧۔ ٥٠۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ دوزخیوں کے آپس میں جھگڑنے کی خبر دیتا ہے فرعون اور اس کی قوم بھی ان میں ہوگی تابعداری کرنے والے اپنے سرداروں سے اور پیشواؤں سے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں تمہارے تابعدار تھے جس گمراہی کی طرف تم نے ہم کو بلایا ہم نے تمہارا کہا مانا اب اتنا کرو کہ کوئی حصہ عذاب کا ہم سے دفع کرو وہ جواب دیں گے ہم سب اس میں مبتلا ہیں ہم عذاب کا کوئی حصہ دفع نہیں کرسکتے اللہ فیصلہ کرچکا اپنے بندوں کے حق میں کہ ہر ایک کو بقدر اس کے گناہوں کے عذاب بانٹ دیا وہ اب کیسے کم ہوسکتا ہے اور جب دوزخیوں نے یہ بات معلوم کرلی کہ خدا تعالیٰ ان کی دعا کو نہ سنے گا تو خازنوں سے جو مانند درواغہ کے دوزخ پر تعینات ہوں گے دوزخی لوگ التجا کریں گے کہ تم اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ایک دن کا عذاب ہم سے کم کر دے خازن لوگ ان کو جواب دیں گے کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس دنیا میں خدا کے رسول معجزے اور دلیلیں لے کر کہیں گے کیوں نہ تب وہی فرشتے خازن ان سے کہیں گے تم خود دعا کرو ہم تمہارے لئے دعا نہیں کریں گے اور نہ ہم اس عذاب سے تمہاری رہائی چاہتے ہیں ہم تم سے بیزار ہیں اس قدر تم کو جتائے دیتے ہیں کہ تم دعا کرو یا نہ کرو دونوں یکساں ہیں کیونکہ کافروں کی دعا لائق قبول ہونے کے نہیں ہے بالکل بیکار ہے ترمذی ١ ؎ اور بیہقی میں ابو دردا سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہزار برت تک تو دوزخیوں کی التجا کا کوئی جواب مالک دوزخ کی طرف سے نہ ملے گا ہزار برس کے بعد یہ جواب ملے گا کہ تم لوگوں کو ہمیشہ دوزخ میں رہنا پڑے گا مالک کا یہ جواب سن کر یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے التجا کریں گے کہ یا اللہ ہم پھر ایسی نافرمانی نہ کریں گے اب ہم کو اس عذاب سے نجات ہوجائے جواب یہ ملے گا دور رہو اللہ سے کوئی التجا نہ کرو اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرک لوگ اپنے بہکانے والے سرداروں سے مالک داروغہ دوزخ سے خود اللہ تعالیٰ سے تخفیف عذاب کی التجا کریں گے مگر کہیں سے کچھ مدد نہ ملے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ مشرک کی کسی طرح نجات نہیں ہاں کلمہ گو گناہ گاروں میں سے جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ آخر کو دوزخ سے نکل کر جنت میں جائے گا۔ چناچہ صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی حدیث اس باب میں ایک جگہ گزر چکی ہے اگرچہ سوائے قطبہ بن عبد العزیز کے اعمش کے اور کسی شاگرد نے ترمذی کی اوپر والی حدیث کو مرفوع طور پر روایت نہیں کیا لیکن قطبہ معتبر تبع تابعیون میں ہے اس لئے اصول حدیث کے موافق اس طرح کی مرفوع روایت مقبول ہے۔ مرفوع روایت وہ ہے جس کی روایت کا سلسلہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک برابر ہو۔ (١ ؎ جامع ترمذی باب فی طعام اھل النار ص ٩٥ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم باب اثبات الشفاعۃ ص ١٠٤ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:47) اذ : ای اذکر وقت اذ۔ اور یاد کرو وہ وقت جب ۔۔ یتحاجون مضارع جمع مذکر غائب تحاجج (تفاعل) مصدر کا صیغہ ہے۔ مادہ ض ع ف۔ (1) الضعفوا دوگنا۔ دو چند۔ الفاظ متضائفہ میں سے ہے۔ کہ ان میں سے ایک کا وجود دوسرے کے وجود کا مقتضی ہے اور یہ عدد کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے۔ (2) ضعف کمزور ہونا۔ سستی یا کمزوری۔ سست یا کمزور ہونا۔ ضعف اس کمزوری کو کہتے ہیں جو عقل اور رائے میں ہو۔ اور ضعف وہ کمزوری جو بدن میں ہو۔ ضعف ضعف دونوں کا فعل باب کرم سے آتا ہے۔ ضعف و ضعیف کی مثال :۔ فان کان الذی علیہ الحق سفیہا او ضعیفا (2:282) پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بےعقل یا ضعف (یعنی کم سمجھ) ہے۔ ضعیف کی جمع ضعفاء یا ضعاف ہے :۔ اور ضعف کی مثال (یعنی بدنی و جسمانی کمزوری ) کی مثال :۔ اللّٰہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ (30:54) خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتداء میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت دی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا۔ الضعفؤ۔ کمزور لوگ۔ ضعیف لوگ۔ استکبروا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ استکبار (استفعال) مصدر۔ انہوں نے گھمنڈ کیا۔ تکبر کیا۔ تبعا : تابع کی جمع ہے منصوب بوجہ خبر کنا ہے ہم تمہارے تابع یعنی پیروی کرنے والے تھے۔ اس کی مثال صاحب واحد۔ صحف جمع۔ مغنون۔ اسم فاعل جمع مذکر اصل میں مغنیون تھا۔ ی مضموم سے قبل کسرہ دشوار تھا ضمہ کو ماقبل پر تبدیل کیا ی اجتماع ساکنین (ی : و) سے گرگئی۔ مغنون ہوگیا۔ غنی کرنے والے۔ بےنیاز کرنے والے۔ دور کرنے والے۔ دفع کرنے والے۔ عنا : عن اور نا سے مرکب ہے۔ ہم سے۔ نصیبا : حصہ ۔ یہاں مراد دوزخ کے عذاب اور دکھ کا ایک حصہ مغنون کا مفعول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تم ہم پر سے دوزخ کے عذاب کا کچھ حصہ ہٹا سکتے ہو ؟

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی آگ کی تکلیف کا کوئی حصہ ہٹا کر اپنے اوپر لے سکتے ہو ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 50 :۔ یتحاجون ( وہ جھگڑتے ہیں) مغنون ( بےنیازی کرنے والے ( بچانے والے) حکم ( اس نے فیصلہ کردیا) خزنۃ ( جہنم پر مقرر ( فرشتہ) یخفف ( وہ کمی کرتا ہے) دعائ ( پکار ، بلانا) تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 :۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ حق و باطل کا فیصلہ فرمادیں گے ۔ اہل جنت اللہ کی رحمتوں کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ اور جن لوگوں پر ان کا جرم ثابت ہوجائے گا ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا تب وہ لوگ جو دنیا میں اپنے پیشواؤں کی تابع داری کرتے تھے اور ان کے کہنے پر چلتے تھے عذاب کی شدت سے بوکھلا کر اپنے بڑوں سے یہ کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھروہی کیا جو تم نے ہمیں حکم دیا تھا۔ ہم ہر جگہ تمہارے کام آئے آج ہماری یہ مدد کردو کہ ہم سے اس عذاب کی شدت کو کم کرا دو ۔ وہ باطل پرست لوگ جو دنیا میں کمزوروں پر مسلط تھے اور اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کیا کرتے تھے وہ اس وقت اپنی بڑائی کو بھول جائیں گے اور کہیں گے کہ اب تو اللہ کا فیصلہ آچکا ہے اب ہم کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ تمہارا جتنا برا حال ہے اتنا ہی ہمارا بھی ہے تم اور ہم دونوں ہی اس عذاب کی تکلیف میں مبتلا ہیں ۔ گویا آج ہم تمہارے کام نہیں آسکتے ۔ کمزور لوگ اپنے پیشواؤں سے مایوس ہو کر جہنم کے نگران فرشتوں سے کہیں گے کہ کیا تم ہماری سفارش کرسکتے ہو کہ ہم سے کم از کم کسی ایک دن تو عذاب ہلکا ہوجایا کرے۔ فرشتے ان سے یہ پوچھیں گے کہ یہ بتائو کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر واضح دلائل ، روشن نشانیوں اور معجزات کے ساتھ نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ وہ آئے تھے مگر زندگی بھر ہم ان کو جھٹلاتے رہے۔ فرشتے کہیں گے کہ پھر ہم کیا کرسکتے ہیں ( تم نے خود ہی اپنے لئے گڑھا کھودا تھا) ہم تو اللہ کے سامنے بےبس ہیں تم خود ہی اپنے پروردگار کو پکار کر دیکھ لو ۔ جب وہ اللہ کو پکاریں گے تو ان کی پکار اور دعا سب بےاثر اور بےنتیجہ رہے گی کیونکہ اس دن کفار کا رونا چلانا اور اللہ کو پکارنا سب بیکار ہوگا ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی جب تم ہم سے اپنا اتباع کراتے تھے تو اب تم کو ہماری مدد کرنی چاہئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : آل فرعون اور دوسرے جہنّمیوں کا جہنّم میں کیا حال ہوگا ؟ جب جہنّمی جہنم میں جھونکے جائیں گے تو وہ آپس میں جھگڑیں گے۔ جو لوگ دنیا میں جس کسی کی تابعداری کرتے تھے ان سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابعدار تھے۔ کیا اب تم آگ کا کچھ حصہ ہم سے ہٹا سکتے ہو۔ بڑے لوگ کہیں گے کہ ہم سب اس آگ میں اکٹھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے۔ اس کا فیصلہ بدلنے کی نہ ہم میں ہمّت ہے اور نہ تم بدل سکتے ہو۔ لہٰذا ہم نے اسی آگ میں رہنا ہے۔ اس کے بعد نہایت مجبور ہو کر جہنم کے فرشتوں سے کہیں گے کہ تم ہی ہمارے لیے اپنے پروردگار سے سفارش کرو ! کہ ایک دن تو عذاب سے رخصت مل جایا کرے۔ ملائکہ جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں سمجھانے والے نہیں آئے تھے ؟ جہنمی جواب دیں گے کہ کیوں نہیں وہ تو ہمیں سمجھاتے رہے لیکن ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی۔ فرشتے کہیں گے۔ ہم میں تو تمہاری سفارش کرنے کی ہمت نہیں۔ تم خود ہی اپنے رب سے فریاد کرو ! لیکن کفار کا فریاد کرنا انہیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ دوسرے مقام پر جہنّمیوں کی حالت زار کو یوں بیان کیا گیا ہے۔ (وَسِیقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا حَتّٰی اِِذَا جَاءُوہَا فُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا قَالُوْا بَلٰی وَلٰکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ قِیْلَ ادْخُلُوْا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا فَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ )[ الزمر : ٧١، ٧٢] ” کافرگروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔ جب وہ جہنم کے پاس پہنچے جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ جہنم کے دربان جہنمیوں سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے ؟ تمہیں تمہارے رب کی آیات سناتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے۔ جہنمی جواب دیں گے کہ ہاں آئے تھے لیکن عذاب کا حکم ہم پر ثابت ہوگیا۔ کہا جائے گا کہ اب جہنّم کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ ! جہاں تم نے ہمیشہ رہنا ہے، پس سرکشوں کا ٹھکانہ بہت ہی برا ہے۔ “ (قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِکُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَاحَتّآی اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًاقَالَتْ اُخْرٰیھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھآؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ وَ قَالَتْ اُوْلٰھُمْ لِاُخْرٰیھُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْن)[ الاعراف : ٣٨، ٣٩] ” اللہ تعالیٰ فرمائے گا ان جماعتوں کو جو تم سے پہلے گزرچکی ہیں آگ میں داخل ہوجاؤ، جب بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنے سے پہلی جماعت پر لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب سب ایک دوسرے سے آملیں گے تو ان کی پچھلی جماعت اپنے سے پہلی جماعت کے متعلق کہے گی اے ہمارے رب ! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ اللہ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ اور ان کی پہلی جماعت اپنے سے بعد والی جماعت سے کہے گی تمہیں ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں عذاب چکھو اس کے بدلے جو تم کمایا کرتے تھے۔ “ مسائل ١۔ جہنمی جہنم میں ایک دوسرے سے جھگڑا کریں گے۔ ٢۔ کمزور اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ ہماری کچھ نہ کچھ مدد کرو ! ٣۔ بڑے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوچکا۔ ہم تمہاری مدد نہیں کرسکتے۔ ٤۔ جہنمی جہنم کے فرشتوں سے کہیں گے کہ اپنے رب سے فریاد کرو ! لیکن ملائکہ سفارش کرنے سے انکار کریں گے۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں جہنمیوں کا آپس میں جھگڑا کرنا : ١۔ قیامت کے دن پیر مرید ایک دوسرے کا انکار کریں گے اور ایک دوسرے پر پھٹکار کریں گے۔ (العنکبوت : ٢٥) ٢۔ قیامت کے دن پیشوا اپنے پیرو کاروں سے براءت کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : ١٦٦) ٣۔ قیامت کے دن گمراہ پیروں اور لیڈروں کے پیچھے لگنے والے کہیں گے اگر دنیا میں جانا ہمارے لیے ممکن ہو تو ہم تم سے علیحدگی اختیار کریں گے۔ (البقرۃ : ١٦٥) ٤۔ کمزور بڑوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے۔ (سبا : ٣٢۔ ٣١) ٥۔ قیامت کے دن مجرم دوزخ میں جھگڑیں گے تو چھوٹے لوگ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے۔ (المومن : ٤٨) ٦۔ قیامت کے دن جہنمیوں کا آپس میں جھگڑنا یقینی ہے۔ ( ص : ٦٤ ) ٧۔ مجرم اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کے لیے اپنے برے اعمال کا کلیتاً انکار کریں گے۔ (الانعام : ٢٣) ٨۔ مجر م اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گناہوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالیں گے۔ (الاحزاب : ٦٦۔ ٦٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دوزخیوں کا آپس میں جھگڑنا، چھوٹوں کا بڑوں پر الزام دھرنا دوزخی لوگ آپس میں جھگڑے بازی کریں گے جو لوگ چھوٹے تھے دنیا میں خوب بڑھ چڑھ کر اپنے بڑوں کی بات مانتے تھے اور ان کے کہنے سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے اور ان کے متبعین سے لڑتے تھے اور ان کی تکذیب کرتے تھے اور دوسروں کو بھی ایمان قبول کرنے سے روکتے تھے، جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو بڑے چھوڑئے سب آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے اور دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو یہی اتباع یعنی چھوٹے لوگ جو دنیا میں سرداروں اور لیڈروں کے کہنے اور تھپکی دینے سے حق اور اہل حق سے دشمنی کرتے تھے اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم نے تمہاری بات مانی اب تم یہاں ہمیں کچھ فائدہ پہنچا دو بالکل تو دوزخ سے کیا نکلوا سکتے آگ کا تھوڑا سا عذاب ہی ہٹوا دو ، ان کے بڑے جواب میں کہیں گے کہ بلاشبہ ہمیں اور تم کو اسی میں رہنا ہے اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا ہے یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تم بھی یہیں رہو گے اور ہم بھی یہیں رہیں گے جب یہاں رہنا ہے تو یہاں کے قانون کے مطابق رہنا ہوگا (اور قانون یہ ہے کہ کوئی دوزخی کسی کی کچھ بھی مدد نہیں کرسکتا) سورة ابراہیم میں بھی یہ مضمون مذکور ہے کہ چھوٹے وہاں اپنے بڑوں سے یہ بات کہیں گے اور وہ اس کا یہ جواب دیں گے (لَوْ ھَدٰنَا اللّٰہُ لَھَدَیْنٰکُمْ ) (اگر اللہ ہم کو کوئی راہ بتاتا تو ہم بھی تم کو وہ راہ بتا دیتے) (سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ ) ہمارے حق میں برابر ہے ہم پریشانی کا اظہار کریں یا صبر کریں ہمارے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

52:۔ ” اذ یتحاجون “ جب مشرک رہنما اور ان کے متبعین دوزخ میں داخل کردئیے جائیں گے تو وہ آپس میں جھگڑیں گے اور ہر فریق دوسرے کو الزام دے گا۔ ضعفاء یعنی کمزور اور زبردست لوگ جنہوں نے بڑوں اور راہنماؤں کے کہنے پر کفر و شرک اختیار کیا وہ اپنے ان پیشواؤں سے کہیں گے جنہوں نے ازراہ استکبار توحید کو قبول نہیں کیا تھا اور عوام کو بھی توحید سے روکا تھا کہ ہم تمہارے ماتحت اور متبع تھے اور اسی کے نتیجے میں آج دوزخ میں پڑے ہیں تو کیا آج تم ہم سے عذاب میں کچھ تخفیف کر اسکتے ہو۔ ” قال الذین استکبروا “ تو وہ بڑے جواب دیں گے کہ ہم تو خود اسی عذاب میں پڑے ہیں۔ اگر ہم میں کچھ قدرت ہوتی تو خود ہی اس عذاب سے بچ جاتے اور اب تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلہ فرما چکا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے اس قطعی اور حتمی فیصلہ کے بعد ہو ہی کیا سکتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(47) اور وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب کفار جہنم میں باہم جھگڑتے ہوں گے پھر ضعفاء اور کمزور لوگ جو تابع تھے روسائے متکبرین یعنی وہ لوگ جو متبوع تھے ان سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہارے تابع تھے اور تمہارے کہنے پر چلا کرتے تھے تو کیا آج تم ہم پر سے آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو۔ یعنی جب دنیا میں ہم تمہاری اتباع کرتے تھے تو آج تم ہماری اتنی مدد تو کرو کہ عذاب کا کچھ حصہ ہم سے ہٹادو اور کم کردو یعنی پورے عذاب کو دفع نہیں کر اسکتے تو کچھ دفع کرادو یا خود اٹھالو۔