Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 75

سورة مومن

ذٰلِکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ ﴿ۚ۷۵﴾

[The angels will say], "That was because you used to exult upon the earth without right and you used to behave insolently.

یہ بدلہ ہے اس چیز کا جو تم زمین میں ناحق پھولے نہ سماتے تھے ۔ اور بے جا اتراتے پھرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

That was because you had been exulting in the earth without any right, and that you used to rejoice extremely. means, the angels will say to them, `what you are suffering now is your recompense for your exulting in the earth without any right, and for your extravagance.' ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا فَبِيْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

75۔ 1 یعنی تمہاری یہ گمراہی اس بات کا نتیجہ ہے کہ تم کفر و تکذیب اور فسق و فجور میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ ان پر تم خوش ہوتے اور اتراتے تنے اترانے میں مزید خوشی کا اظہار ہے جو تکبر کو مستلزم ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ذلکم بما کنتم تفرحون فی الارض :” فرح “” خوشی سے پھول جانا “ یہ دل کی حلات کا نام ہے اور ” مرح “ ” اکڑنا “ یہ اسی خوش کے نتیجے میں اعضائے بدن سے ظاہر ہونے والے تکبر کا نام ہے ، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں ہے :(ولا تمس فی الارض مرحاً ) (بنی اسرائیل : ٣٨) ” اور زمین میں اکڑ کر نہ چل۔ “ یعنی قیامت کے دن تمہاری اس ساری رسوائی اور عذاب کا باعث دنیا میں تمہارا اپنے پاس موجود نعمتوں اور پانے دنیوی علوم پر بھول جانا، اکڑنا اور تکبر کرنا ہے، جیسا کہ آگے فرمایا :(فلما جآء تھم رسلھم بالبینت فرحوا بما عندھم من العلم) (المومن : ٨٣) ” پھر جب ان کے رسول ان کے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس پر پھول گئے جو ان کے پاس کچھ علم تھا۔ “ (٢) بغیر الحق : یعنی تم ناحق زمین میں خوشی سے پھولتے تھے۔ ” فی الارض “ کے لفظ سے ظاہر ہے کہ دنیا خوشی کا مقام نہیں، خوشی کا مقام صرف جنت ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(الدنیا سجن المومن و جنۃ الکافر) (مسلم، الزمد والرفاق :2956)”’ نیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت۔ “ کافر اس میں اس لئے خوش ہوتا ہے کہ اس کی جنت یہی ہے مگر اس کی یہ خوشی ناحق ہے، کیونکہ ناپائیدار چیز اس قابلن ہیں کہ آدمی اس پر خوش ہو اور تم ناحق اکڑتے اور بڑے بنتے تھے، حالانکہ بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، تمہارا یا کسی اور مخلوق کا حق نہیں۔ تمہارا حق اللہ کے سامنے عاجز ہونا اور اس کی آیت کے مقابلے میں جھگڑنے کے بجائے انہیں تسلیم کرنا تھا۔ پھر تم زمین پر رہ کر، جو پستی کی انتہا ہے، عرش والے کے سامنے اکڑتے تھے، جس کی بلندی کی کوئی انتہا نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The word: تَفْرَ‌حُونَ (tafrahun) in verse 75: (This is because you used to rejoice on the earth wrongfully, and because you used to show arrogance.) has been derived from: فَرَح (farah) which means to be happy while the word: تَمْرَ‌حُونَ (tamrahun) is from: مَرَح (marah) which means to exult unduly or to trample over the rights of others by priding on one&s wealth and power. Hence, this kind of marah or undue exultation is absolutely blameworthy and Haram (unlawful). As for farah or marah, it can be explained by saying that seeking enjoyment out of sinfulness under the intoxication of wealth coupled with the absence of any thought of there being a God is certainly Haram and impermissible. Meant in this verse is this kind of farah - as it also appears in the story of Qarun (Korah) in the same sense: لَا تَفْرَ‌حْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِ‌حِينَ (|"Do not exult. Surely, Allah does not like the exultant.-a1-Qasas, 28:76). There is another degree of farah - that one takes good things of life as blessings from Allah Ta’ ala, and expresses his or her joy on having these - this is permissible, in fact, is recommended (mustahabb), and desirable. It is about such farah that the Qur&an has said: فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَ‌حُوا (with these they should rejoice Yunus, 10:58). As for marah, it is a cause of punishment absolutely, without any restriction. Therefore, no qualifying words were added to it. But, in the case of farah, the words: بِغَیرِالحَقِ (bi ghayril-haqq: wrongfully) are added. It was thus pointed out that jubilating over the undue and the impermissible was forbidden (Haram) while being pleased with blessings that are rightful and permissible as an expression of gratitude was an act of ` ibadah (worship of Allah) and thawab (reward from Him).

(آیت) بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ ۔ تفرحون۔ فرح سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہیں خوش ہونا اور مسرور ہونا۔ اور تمرحون، مرح سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں اترانا اور مال و دولت پر فخر و غرور میں مبتلا ہو کر دوسروں کے حقوق میں تعدی کرنا۔ مرح تو مطلقاً مذموم اور حرام ہے اور فرح یعنی خوشی میں یہ تفصیل ہے کہ مال و دولت کے نشہ میں خدا کو بھول کر معاصی سے لذت حاصل کرنا اور ان پر خوش ہونا یہ تو حرام و ناجائز ہے اور اس آیت میں یہی فرح مراد ہے جیسے قارون کے قصہ میں بھی فرح اسی معنے میں آیا ہے (آیت) لا تفرح ان اللہ لا یحب الفرحین۔ یعنی بہت خوش نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ خوش ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور دوسرا درجہ فرح کا یہ ہے کہ دنیا کی نعمتوں اور راحتوں کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھ کر ان پر خوشی و مسرت کا اظہار کرے، یہ جائز بلکہ مستحب اور مامور یہ ہے۔ ایسی ہی فرح کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا۔ (آیت) فبذلک فلیفرحوا۔ یعنی اس پر خوش ہونا چاہئے۔ آیت مذکورہ میں مرح کے ساتھ کوئی قید نہیں مطلقاً سبب عذاب ہے اور فرح کے ساتھ بغیر الحق کی قید لگا کر بتلا دیا کہ ناحق اور ناجائز لذتوں پر خوش ہونا حرام اور حق و جائز نعمتوں پر بطور شکر کے خوش ہونا عبادت اور ثواب ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْـرَحُوْنَ۝ ٧٥ۚ فرح الْفَرَحُ : انشراح الصّدر بلذّة عاجلة، وأكثر ما يكون ذلک في اللّذات البدنيّة الدّنيوية، فلهذا قال تعالی: لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] ، وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] ، ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] ، ( ف ر ح ) ا لفرح کے معنی کسی فوری یا دینوی لذت پر انشراح صدر کے ہیں ۔ عموما اس کا اطلاق جسمانی لذتوں پر خوش ہونے کے معنی میں ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] اور جو تم کو اس نے دیا ہوا اس پر اترایا نہ کرو ۔ وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] اور ( کافر ) لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہورہے ہیں ۔ ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم ۔۔۔۔۔ خوش کرتے تھے غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ مرح المَرَحُ : شدّة الفرح والتّوسّع فيه، قال تعالی: وَلا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحاً [ الإسراء/ 37] وقرئ : ( مَرِحاً ) «3» أي : فَرِحاً ، ومَرْحَى: كلمة تعجّب . ( م ر ح ) المرح کے معنی ہیں بہت زیادہ اور شدت کی خوشی جس میں انسان اترانے لگ جائے قرآن میں ہے : وَلا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحاً [ الإسراء/ 37] اور زمین پر اکڑا کر ( اور اٹھلاکر ) مت چل ۔ اس میں ایک قرآت مرحا بمعنی فرحا بھی ہے ۔ مرحی یہ کلمہ تعجب ہے ( اور احسنت یا اصبت کی جگہ استعمال ہوتا ہے ) یعنی خوب کیا کہنے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٥۔ ٧٦) تمہارے لیے دوزخ کا عذاب اس وجہ سے ہے کہ تم دنیا میں ناحق اترایا کرتے تھے اور شرک وتکبر کیا کرتے تھے۔ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہو نہ یہاں موت آئے گی اور نہ یہاں سے نکالے جاؤ گے دوزخ کفار کا برا ٹھکانا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٥ { ذٰلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ } ” اور یہ سب اس لیے ہوا کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس لیے بھی کہ تم اکڑا بھی کرتے تھے۔ “ تم لوگ دنیا کے مال و متاع پر خواہ مخواہ اکٹرفوں دکھاتے تھے۔ گویا تم ہلدی کی گانٹھ مل جانے پر پنساری بن بیٹھے تھے۔ حالانکہ دنیا میں تمہارا وہ سارا مال و متاع ہمارا ہی عطا کیا ہوا تھا جس پر اترانے اور فخر جتلانے کا تمہیں کوئی حق نہیں تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

104 That is, "You not only followed that which was untrue and false, but you became so enamoured of the untruth that when the Truth was presented before you, you paid no heed to it, but continued to exult in yow worship of the falsehood.

سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :104 یعنی تم نے صرف اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا کہ جو چیز حق نہ تھی اس کی تم نے پیروی کی ، بلکہ تم اس غیر حق پر ایسے مگن رہے کہ جب حق تمہارے سامنے پیش کیا گیا تو تم نے اس کی طرف التفات نہ کیا اور الٹے اپنی باطل پرستی پر اتراتے رہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:75) ذلکم : سے اشارہ بروز قیامت کافروں کے گلوں میں طوق و زنجیر کے ہونے اور ان کو کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹنے کی طرف اور ان کو آگ میں جھونکنے کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ ابن عطیہ اسی طرف گئے ہیں۔ ای ذلکم العذاب الذی انتم فیہ یعنی یہ عذاب جس میں تم اب اپنے آپ کو پا رہے ہو۔ (یہ اس لئے ہے کہ ۔۔ بما کنتم ۔۔ الخ ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اشارہ اللہ تعالیٰ کافروں کو دنیا میں ضلالت و گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دینے کی طرف ہو جو ابھی اوپر مذکور ہوا بما میں باء سببیہ ہے اور ما موصولہ ہے یہ سبب اس بات کے کہ تم ۔۔ کنتم تفرحون ۔ ماضی استمراری جمع مذکر حاضر فرح مصدر (باب سمع) الفرح کے معنی کسی فوری یا دنیوی لذت پر انشراح صدر کے ہیں۔ عموما اس کا اطلاق جسمانی لذتوں پر خوش ہونے کے معنی میں ہوتا ہے اس کا استعمال اکثر غیر پسندیدہ معنی میں ہوتا ہے۔ اترانا ۔ بہت زیادہ اترانے والے کو مفراح کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں صرف دو جگہ پسندیدہ معنوں میں آیا ہے مثلا فبذلک فلیفرحوا (10:58) تو چاہیے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ اور ویومئذ یفرح المؤمنون (30:40) اور اس روز مومن خوش ہوجائیں گے۔ مجاھد نے اسے بمعنی تبطرون وتاثرون اترانا۔ تکبر کرنا۔ غرور کرنا لیا ہے۔ بغیر الحق : بغیر استحقاق لذلک۔ بغیر استحقاق کے۔ روح المعانی میں ہے کہ وھو شرک والماصی یعنی اس سے مراد شرک عبادت اصنام اور ارتکاب گناہ ہے۔ بما : اوپر ملاحظہ ہو۔ کنتم تمرحون : ماضی استمراری جمع مذکر حاضر مرح مصدر بہت زیادہ خوش ہونا اترانا۔ غرور کرنا۔ تکبر کرنا۔ ایسی کیفیت جس میں دوسروں کے لئے حقارت یا گستاخی کا پہلو ہو اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولا تمش فی الارض مرحا (17:37) اور زمین پر اکڑ کر (اور اٹھلاکر) مت چل۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی تمہاری گردن اکڑی رہتی تھی اور تم کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ فرح متعلق قلب کے ہے اور مرح متعلق بدن کے، خواہ لغة یا مقابلة، یعنی متاع دنیا کو اصل مقصود سمجھ کر اس کے حصول پر دل میں ایسے خوش ہوتے تھے کہ اس کے آثار ظاہر پر نمودار ہوتے تھے، جیسے چال وغیرہ میں جس کی ممانعت آئی ہے۔ ولا تمش فی الارض مرحا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

70:۔ ” ذلکم بما کنتم “ یہ دردناک عذاب تمہیں اس لیے دیا جائے گا کہ دنیا میں غیر الحق (باطل) یعنی شرک اور معاصی پر خوش وخرم رہتے تھے۔ بغیر الحق وھو الشرک وعبادۃ الاوثان (مدارک ج 4 ص 65) ۔ وھو الشرک والمعاصی (روح ج 24 ص 87) ۔ اور مشرک پیشواؤں کے پیدا کردہ شبہات میں پھنس کر باطل پر مسرور و مطمئن ہو کر اکڑتے اور اتراتے تھے اور اہل حق کو حقیر جانتے تھے۔ ” ادخلوا ابواب جہنم “۔ لہذا اب جہنم کے سوا تمہارا کوئی ٹھکانا نہیں۔ اب جہنم کے ساتوں دروازوں سے جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ۔ یہ جہنم متکبرین کا کیسا ہی بد ترین ٹھکانا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(75) یہ عذاب اس کا بدلا اور اس سبب سے ہے جو تم دنیا میں ناحق اتراتے پھرتے تھے اور نیز اس کا بدلا ہے جو تم اکڑتے پھرتے تھے۔ فرح اپنے پر ناز کرنا اور مرح تکبر سے چلنا۔