Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 79

سورة مومن

اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَنۡعَامَ لِتَرۡکَبُوۡا مِنۡہَا وَ مِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫۷۹﴾

It is Allah who made for you the grazing animals upon which you ride, and some of them you eat.

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے جن میں سے بعض پر تم سوار ہوتے ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Cattle are also a Blessing from Allah and a Sign from Him An`am﴾ for them, which refers to camels, cows and sheep; some of them they ride and some of them they eat. Camels may be ridden or eaten; their milk is drunk and they are used for carrying heavy burdens on journeys to distant lands. Cattle are eaten and their milk is drunk; they are also used for plowing the earth. Sheep are eaten and their milk is also drunk. The hair and wool of all of these animals is used to make tents, clothing and furnishings, as we have already discussed in Surah Al-An`am and Surah An-Nahl, etc. Allah says here: اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الاَْنْعَامَ لِتَرْكَبُوا مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ وَلَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوا عَلَيْهَا حَاجَةً فِي صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ

ہر مخلوق خالق کائنات پر دلیل ہے ۔ انعام یعنی اونٹ گائے بکری اللہ تعالیٰ نے انسان کے طرح طرح کے نفع کیلئے پیدا کئے ہیں سواریوں کے کام آتے ہیں کھائے جاتے ہیں ۔ اونٹ سواری کا کام بھی دے کھایا بھی جائے ، دودھ بھی دے ، بوجھ بھی ڈھوئے اور دور دراز کے سفر بہ آسانی سے کرا دیئے ۔ گائے کا گوشت کھانے کے کام بھی آئے دودھ بھی دے ۔ ہل بھی جتے ، بکری کا گوشت بھی کھایا جائے اور دودھ بھی پیا جائے ۔ پھر ان کے سب کے بال بیسیوں کاموں میں آئیں ۔ جیسے کہ سورہ انعام سورہ نحل وغیرہ میں بیان ہو چکا ہے ۔ یہاں بھی یہ منافع بطور انعام گنوائے جا رہے ہیں ، دنیا جہاں میں اور اس کے گوشے گوشے میں اور کائنات کے ذرے ذرے میں اور خود تمہاری جانوں میں اس اللہ کی نشانیاں موجود ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کی ان گنت نشانیوں میں سے ایک کا بھی کوئی شخص صحیح معنی میں انکاری نہیں ہو سکتا یہ اور بات ہے کہ ضد اور اکڑ سے کام لے اور آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

79۔ 1 اللہ تعالیٰ اپنی ان گنت نعمتوں میں سے بعض نعمتوں کا تذکرہ فرما رہا ہے چوپائے سے مراد اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ ہے یہ نر مادہ مل کر آٹھ ہیں جیسا کہ سورة انعام میں ہے 79۔ 2 یہ سواری کے کام بھی آتے ہیں، ان کا دودھ بھی پیا جاتا ہے (جیسے بکری، گائے اور اونٹنی کا دودھ) ان کا گوشت انسان کی مرغوب ترین غذا ہے اور بار برداری کا کام بھی ان سے لیا جاتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) اللہ الذی جعل لکم الانعام لترکبوا…:” جعل “ یہاں ” خلق “ کے معنی میں ہے : جیسا کہ فرمایا :(الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور) (الانعام : ١)” سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو بنایا۔ “” الانعام “” نعم “ (نون اور عین کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکریاں، نر و مادہ دونوں۔ (دیکھیے انعام : ١٤٢، ١٤٣) یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ عموماً یہ لفظ اونٹوں پر بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں مذکور زیادہ تر فوائد اونٹوں کے بیان ہوئے ہیں۔ ان آیات کی مفصل تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل (٥ تا ٨، ٦٦، ٨٠) اور سورة مومنون (٢١، ٢٢) (٢) لترکبوا منھا “ میں جانوروں پر سواری کا ذکر فرمایا، پھر اس سے اگلی آیت میں کشتیوں کیساتھ ساتھ دوبارہ ان پر سواری کا ذکر فرمایا۔ بعض مفسرین نے اس میں یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ ” الترکبوا منھا “ میں عام شہروں اور بستیوں کے درمیان معمول کی سواری مراد ہے اور ” تحملون “ سے مراد دور دراز کے سفر ہیں۔ (ابن عطیہ) (واللہ اعلم) (٣) مفسر عبدالرحمٰن گیلانی لکھتے ہیں :” کفار مکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طرح سرح کے حسی معجزات کا مطالبہ کیا کرتے تھے، جس کا ایک جواب تو سابقہ آیت میں دیا گیا ہے کہ ایسا معجزہ پیش کرنا رسول کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ان آیات میں کفار کے اسی مطالبے کا دوسرا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں تمہیں اپنے دائیں بائیں، اندر باہر اور اوپر نیچے ہر طرف ہی مل سکتی ہیں۔ اگر تم سوچو تو تمہارے راہ راست کو قبول کرنے کے لئے راہنمائی ان میں بھی موجود ہے۔ مثلاً جو مویشی تم پالتے ہو ان پر بھی نظر ڈال کر دیکھ لو، ان کی ساخت اور ان کی فطرت ہی ہم نے ایسی بنادی ہے کہ وہ فوراً تمہارے تابع بن جاتے ہیں۔ پھر ان سے تم ہز اورں قسم کے فوائد حاصل کرتے ہو۔ ان کے دودھ سے بالائی، مکھن، پنیر، گھی اور لسی بناتے ہو اور یہ چیزیں تمہارے جسم کا انتہائی اہم جزو ہیں۔ پھر تم ان پر سواری کرتے ہو۔ تمہارے بوجھل سامان کو یہ اٹھاتے ہیں، تمہار کھیتی میں ہل یہ چلاتے ہیں، کنوئیں سے پانی یہ کیھنچتے ہیں، تم مشقت کے سب کام ان سے لیتے ہو۔ پھر ان کو ذبح کر کے ان کا گوشت بھی کھاتے ہو، ان کے بالوں سے پوشاک تیار کرتے ہو اور مرنے کے بعد ان کی ہڈیوں ، کھالوں اور دانتوں تک کو اپنے کام میں لاتے ہو۔ ان مویشیوں میں اسنان کے لئے یہ خوئے غلامی کس نے پیدا کی ؟ تمہاری پیدائش سے بھی پہلے تمہاری ضروریات کا اس قدر خیال رکھنے والا کون ہے ؟ اب دوسری طرف نظر ڈالو، زمین کے تین چوتھئای حصے پر پانی یا سمندر پھیلے ہوئے ہیں، خشکی صرف چوتھا حصہ ہے، جس پر تم اور تمہارے مویشی سب رہتے ہیں۔ اتنے سے خشکی کے حصے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا پانی کا ذخیرہ کیوں پیدا کردیا ؟ کیا کبھی تم نے اللہ کی اس نشانی پر غور کیا ڈ پھر پانی اور ہواؤں کو ایسے طبعی قوانین کا پابند کردیا کہ تم دریاؤں اور سمندروں میں کشتی بانی اور جہاز رانی کے قابل ہوگئے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے لئے طبعی قوانین ہی بدل ڈالے اور وہ ہر چیز کا خلاق ہے اور اس میں جیسے چاہے تصرف کرسکتا ہے، تو کیا تم جہاز رانی کرسکتے تھے، یا اس زمین پر زندہ رہ سکتے تھیڈ پھر یہ بھی سوچہ کہ جس حکمتوں والے پروردگار نے اپنی اتنی بیشمار چیزیں تمہارے تصرف میں دے رکھی ہیں، کیا وہ انسان کو اتنے اختیارات دے کر اس کو یونہی چھوڑ دے گا اور اس سے اپنی نعمتوں کا کبھی حساب نہ لے گا ؟ اور یہ نہ پوچھے گا کہ جس رحیم پروردگار نے تمہاری جملہ ضروریات کا اس قدر خیال رکھا، پھر اس کے ساتھ اپنی رحمتیں بھی نازل فرماتا رہا تو کیا انسان نے اللہ کی ان نعمتوں کی قدر کی اور اس کا شکریہ ادا کیا، یا وہ نمک حرام اور ناشکرا ثابت ہوا اور اپنی نیاز مندیاں اللہ کے بجائے دوسروں کے سامنے نچھاور کرنے لگا۔ “ (تیسیرا القرآن)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے مویشی بنائے تاکہ ان میں بعض سے سواری لو اور ان میں بعض (ایسے ہیں کہ ان کو) کھاتے بھی ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں (کہ ان کے بال اور اون کام آتی ہے) اور (اس لئے بنائے) تاکہ تم ان پر (سوار ہو کر) اپنے مطلب تک پہنچو جو تمہارے دلوں میں ہے (جیسے کسی سے ملنے کے لئے جانا، تجارت کے لئے جانا وغیرہ وغیرہ) اور (سوار ہونے میں کچھ ان ہی کی تخصیص نہیں بلکہ) ان پر (بھی) اور کشتی پر (بھی) لدے لدے پھرتے ہو (اور ان کے علاوہ) تم کو اپنی (قدرت کی) اور نشانیاں دکھلاتا رہتا ہے۔ (چنانچہ ہر مصنوع اس کی صنعت پر ایک نشان ہے) سو تم اللہ کی کون کون سی نشانوں کا انکار کرو گے (اور یہ لوگ جو بعد قیام دلائل بھی توحید کے منکر ہیں تو کیا ان کو شرک کے وبال کی خبر نہیں اور) کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو (مشرک) لوگ ان سے پہلے ہو کر گزرے ہیں (اس شرک کی بدولت) ان کا کیسا انجام ہوا (حالانکہ) وہ لوگ ان سے (عدد میں بھی) زیادہ تھے اور قوت اور نشانیوں میں (بھی) جو کہ زمین پر چھوڑ گئے ہیں (مثل عمارات وغیرہ) بڑھے ہوئے تھے سو ان کی (یہ تمام تر) کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی (اور عذاب الٰہی سے نہ بچ سکے) غرض جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی دلیلیں لے کر آئے تو وہ لوگ اپنے (اس) علم (معاش) پر بڑے نازاں ہوئے جو ان کو حاصل تھا (یعنی معاش کو مقصود سمجھ کر اور اس میں جو ان کو لیاقت حاصل تھی، اس پر خوش ہوئے اور معاد کا انکار کر کے اس کی طلب کو دیوانگی اور اس کے انکار پر وعید عذاب سے تمسخر کیا) اور (اس کے وبال میں) ان پر وہ عذاب آ پڑا جس کے ساتھ تمسخر کرتے تھے، پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہنے لگے (اب) ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور ان سب چیزوں سے ہم منکر ہوئے جن کو ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے سو ان کا یہ ایمان لانا نافع نہ ہوا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ (کیونکہ وہ ایمان اضطراری ہے اور بندہ مکلف ہے ایمان اختیاری کا) اللہ تعالیٰ نے اپنا یہی معمول مقرر کیا ہے جو اس کے بندوں میں پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے اور اس وقت (یعنی جبکہ ایمان نافع نہ ہوا) کافر خسارہ میں رہ گئے (پس ان مشرکین کو بھی یہ سمجھ کر ڈرنا چاہئے، ان کے لئے بھی یہی ہوگا پھر کچھ تلافی نہ ہو سکے گی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَللہُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْہَا وَمِنْہَا تَاْكُلُوْنَ۝ ٧٩ۡ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ نعم ( جانور) [ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] ، وقوله : فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] فَالْأَنْعَامُ هاهنا عامٌّ في الإبل وغیرها . ( ن ع م ) نعام النعم کا لفظ خاص کر اونٹوں پر بولا جاتا ہے اور اونٹوں کو نعم اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ عرب کے لئے سب سے بڑی نعمت تھے اس کی جمع انعام آتی ہے لیکن انعام کا لفظ بھیڑ بکری اونٹ اور گائے سب پر بولا جاتا ہے مگر ان جانوروں پر انعام کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے ۔ جب اونٹ بھی ان میں شامل ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] اور تمہارے لئے کشتیاں اور چار پائے بنائے ۔ وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] اور چار پایوں میں بوجھ اٹھا نے والے ( یعنی بڑے بڑے بھی ) پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے ( یعنی چھوٹے چھوٹے بھی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں ۔ مل کر نکلا ۔ میں انعام کا لفظ عام ہے جو تمام جانوروں کو شامل ہے ۔ ركب الرُّكُوبُ في الأصل : كون الإنسان علی ظهر حيوان، وقد يستعمل في السّفينة، والرَّاكِبُ اختصّ في التّعارف بممتطي البعیر، وجمعه رَكْبٌ ، ورُكْبَانٌ ، ورُكُوبٌ ، واختصّ الرِّكَابُ بالمرکوب، قال تعالی: وَالْخَيْلَ وَالْبِغالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] ، فَإِذا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ ) رک ب ) الرکوب کے اصل معنی حیوان کی پیٹھ پر سوار ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] تاکہ ان سے سواری کا کام لو اور ( سواری کے علاوہ یہ چیزیں ) موجب زینت ( بھی ) ہیں ۔ مگر کبھی کشتی وغیرہ سواری ہونے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَإِذا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ [ العنکبوت/ 65] پھر جب لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں ۔ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٩۔ ٨٠) اللہ ہی نے تمہارے لیے مویشی پیدا کیے جن میں سے بعض سے تم سواری کا کام لیتے ہو اور بعض کا گوشت کھاتے اور ان مویشیوں کا دودھ اور ان کی اون بھی تمہارے کام آتی ہے۔ اور تاکہ تم ان کے ذریعے سے اپنی دلی مراد کو پورا کرو اور خشکی میں ان جانوروں پر بھی اور سمندر میں کشتیوں پر بھی تم سفر کرتے پھرتے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٩ { اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْکَبُوْا مِنْہَا وَمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ } ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنا دیے تاکہ تم سواری کرو ان میں سے بعض پر اور ان میں سے بعض کا تم گوشت بھی کھاتے ہو۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧٩۔ ٨٠۔ اوپر انسان اور انسان کی بعضی ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے کا ذکر تھا اس تذکرہ میں فرمایا اللہ وہ ہے جس نے تمہارے فائدہ کے واسطے گائے اونٹ بکری یہ سب جانور پیدا کئے ان میں سے کسی پر سوار ہوتے ہو اور کسی کا گوشت کھاتے ہو اونٹ پر سوار بھی ہوتے ہیں اور اس کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور دودھ بھی پیتے ہیں اور اس پر بوجھ لاد کر دور دور شہروں میں سفر کرتے ہیں مجاہد اور قتادہ ٢ ؎ نے کہا کہ لادے پھرتے ہیں بوجھ ایک شہر سے طرف دوسرے شہر کی طرف یہ اونٹ کا حال ہے اور گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور دودھ پیتے ہیں اور بیلوں سے کھیتی کرتے ہیں اور بکری کا گوشت کھاتے ہیں اور دودھ پیتے ہیں اور پھر ان سب کے بال کاٹے جاتے ہیں ان سے برتنے کی چیزیں بنائی جاتی ہیں ان کی کھال طرح طرح کے کام میں لائی جاتی ہے جیسا کہ سورة الانعام اور سورة النحل میں اس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے اسی واسطے اس جگہ اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر یہ حال بیان کیا اور فرمایا کہ واسطے تمہارے اور نفع ہیں مثلاً جیسے گھی اور پنیر وغیرہ خشکی کے سفر میں اونٹوں سے اور دریا کے سفر میں کشتیوں سے کام لیا جاتا ہے اس واسطے اونٹ کے ذکر کے ساتھ کشتی کا ذکر بھی فرمایا سورة المائدہ میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نے بعضے جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑ کر ان پر سوار ہونے اور بوجھ لادنے کو حرام ٹھہرا رکھا تھا اسی طرح بعضے جانوروں کے گوشت کو وہ لوگ حرام جانتے تھے صحیح بخاری ٣ ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ پہلے پہل یہ رسم ایک شخص عمرو بن لحی نے نکالی اب بعد اس کے مشرکین مکہ اسی رسم کے پابند تھے۔ سورة المائدہ کی آیتوں اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ جانور ان لوگوں کی راحت کے لئے پیدا کئے لیکن عمرو بن لحی نے شیطان کے بہکان سے اور باقی کے مشرکوں نے عمرو بن لحی کی رسم کی پابندی کے سبب سے اس رحت میں خلل ڈال کر بعضے جانوروں کی سواری اور بار برداری کو اور بعضے جانوروں کے گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیا اور اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں زبردستی بتوں کو شریک ٹھہرایا۔ (٢ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٣٥٨ ج ٥۔ ) (٣ ؎ صحیح بخاری باب قصۃ خزاعۃ ص ٤٩٩ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 14 جیسے اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری وغیرہ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 9: آیات 79 تا 85: اسرار و معارف : اللہ وہ ذات کریم ہے جس نے تمہاری خدمت کے لیے کتنی اقسام کے جانور پیدا کردئیے اور تمہیں ان پر یہاں تک اختیار بخشا کہ کسی پر سواری کرتے ہو تو کسی کو ذبح کرکے کھالیتے ہو کبھی ان کی تجارت کرکے اپنے لیے دولت کماتے ہو غرض جو جی میں آئے اپنی سب ضرورتیں پوری کرتے ہو اور تم زمین پر پانی میں ہر جگہ مختلف سواریاں استعمال کرتے ہو یہ سب تو اس کی عظمت کے گواہ ہیں تم بھلا کون کون سی دلیل کا انکار کروگے۔ کیا روئے زمین پر پھر کر نہیں دیکھا کہ پہلی اقوام کا کیا انجام ہوا ان کے چھوڑے ہوئے آثار اور کھنڈرات بتاتے ہیں کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور مالدار تھے مگر کفر کے باعث جو تباہی آئی اسے ان کی دولت و حشمت ذرہ برابر نہ روک سکی ان کا حال بھی یہی تھا کہ ان کے پاس اللہ کے رسول مبعوث ہوئے تو ان کی پرواہ نہ کی بلکہ اپنے علوم پر اپنے باطل فلسفے پر یا حصول معاش کے ذرائع جن میں وہ کھو گئے تھے ان پر سائنس کی تحقیقات پر ہی ناز کرتے رہے حالانکہ حق یہ تھا کہ یہ علوم عطا کرنے والا بھی تو اللہ ہی تھا مگر وہ اسے اپنا ذاتی کمال جانتے اور تعلیمات باری کا مذاق اڑاتے تھے چناچہ یہی بات ان کے گلے پڑگئی اور تباہ ہوگئے حالانکہ جب عذاب وارد ہوگیا پھر تو کہتے تھے کہ ہم اللہ واحد پہ ایمان لاتے ہیں اور اس کے ساتھ جن جن کو شریک مانتے تھے سب کا انکار کرتے ہیں مگر جب عذاب وارد ہوگیا تب ان کے ماننے نہ ماننے سے کیا فرق پڑتا ان کا یہ ماننا ان کے لیے کوئی فائدہ مرتب نہ کرسکا کہ اپنے بندوں میں اللہ کا قاعدہ یہی ہے جو انبیاء کے بتانے اور دلائل سے اس کی عظمت کا اقرار نہ کرے پھر دیکھ کر بھلا کون انکار کرسکتا ہے لہذا پھر ایمان قبول نہیں کیا جاتا اور یہاں پہنچ کر کفار کو کفر کے خسارے اور نقصان کا پتہ چلتا ہے۔ سب بات واضح ہوجاتی ہے۔ تمت سورة المومن بحمد اللہ ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 85 : الانعام ( مویشی ، جانور) لترکبوا ( تا کہ تم سواری کرو) حاجۃ (ضرورت) تنکرون ( تم انکار کرو گے) ما اغنی (کام نہ آیا) خلت (گزر گئی) سنت اللہ ( اللہ کا قانون ، اللہ کا دستور) تشریح : آیت نمبر 79 تا 85 : سورة مومن کی آخرت آیات میں انسانی زندگی گزارنے کی بہت سی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً غذا ، سواری ، صنعتیں ، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے لے جانے کے اسباب وغیرہ ۔ اگرچہ چیزیں نہ ہوں تو انسان کو اپنی زندگی اور تہذیب و تمدن کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہوجائے۔ اللہ نے انسان کو ان بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے جس پر ہر انسان کو ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے لیکن انسان اللہ کی ان نعمتوں پر شکر کے بجائے نافرمانی اور غرور وتکبر کرنے لگتا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ پھر اللہ ایسی قوموں کو مٹا کر نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ اللہ کی بہت سی نعمتوں میں سے طرح طرح کی سواریاں بھی ہیں جو زمانہ کی تبدیلیوں اور تقاضوں کے تخت بدلتی رہتی ہیں مثلاً آجکل کاریں ، ریلیں ، ہوائی جہاز اور کارگو جہاز وغیرہ ہیں جن کے ذریعہ خود انسان اور اس کی بہتر سی ضروریات کو ان کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے جو ان کی تہذیبی اور تمدنی ترقی کا ذریعہ ہیں لیکن اس سے پہلے دور میں مویشی ہوا کرتے تھے جن پر لوگ سواری بھی کرتے تھے اور وقت ضرورت ان کو کھایا بھی کرتے تھے اور آج بھی جہاں تک یہ ترقیات نہیں پہنچیں وہاں ان مویشوں کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن نئی نئی سواریوں کی ایجاد اور سہولتوں نے انسان کی چلت پھرت کو بہت سہل بنا دیا ہے جس سے انسان ساری دنیا میں بڑی سہولتوں سے سفر کرتا ہے۔ بہر حال سواری ، غذا اور مختلف صنعتیں اور نئی نئی ایجادات انسان کے لئے اللہ کی نعمتیں ہیں جن پر انسان ان نعمتوں کا انکار کر ہی نہیں سکتا۔ دین اسلام بھی یہی چاہتا ہے کہ اہل ایمان اسلام کے احکامات کی روشنی میں خوب ترقی کریں ، پھلیں پھولیں لیکن نا شکری نہ کریں کیونکہ یہ چیزیں انسانی ضروریات کی ہیں جن کو استعمال کرنا اور برتنا ممنوع نہیں ہے ۔ لیکن اسلام جن چیزوں سے منع کرتا ہے وہ انسان کی یہ سوچ ہے کہ یہ دنیا اور اس کی راحتیں اس کے پاس ہمیشہ کے لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر وہ زمین پر چل پھر کر گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ وہ قومیں تہذیب ، تمدن ، معاشرت اور معیشت میں بہت مضبوط تھیں لیکن جب انہوں نے مال و دولت کی کثرت پر اترانا اور غرور کرنا شروع کردیا اور اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا شریک بنا لیا ، انبیا کرام (علیہ السلام) میں سے جس نے بھی ان کو سمجھانے کی کوشش کی انہوں نے نافرمانی کی تب اللہ کا فیصلہ آگیا جس کے سامنے کسی کی طاقت و قوت کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس طرح نافرمان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر ان کی زندگیوں کو دوسروں کے لئے نشان عبرت بنا دیا ۔ اللہ نے ان قوموں کی قوتوں اور شان دار ترقیات کے باوجود ان کو تباہ و برباد کردیا اب ان قوموں کے آثار یا تو کھنڈرات کی شکل میں ہیں یا زمین کے نیچے یا سمندر کی گہرائیوں میں دبے ہوئے ہیں۔ ان آیات میں اس طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ جب بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے اور انہوں نے اپنی قوموں کو ان کی نافرمانی پر برے انجام سے آگاہ کیا تو انہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ہر بات کو حقیر سمجھ کر اس کو ٹھکرا دیا اور غرور وتکبر کا طریقہ اختیار کرتے چلے گئے لیکن جب انہوں نے عذاب الٰہی کو آتے دیکھا تو پھر وہ کہنے لگے کہ اب ہم ایمان لاتے ہیں ۔ ایک اللہ کو مانتے اور ہر طرح کے شرک سے توبہ کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اب ان کا ایمان لانا توبہ کرنا اللہ کے ہاں قبول نہیں ہے کیونکہ اللہ کا دستور اور قانون یہ ہے کہ جب عذاب الٰہی سامنے آجائے یا اس کے فرشتے سامنے آجائیں تو پھر یہ مہلت عمل ختم ہونے کا اعلان ہوتا ہے نہ کہ عمل شروع کرنے کا۔ در حقیقت ان آیات میں کفار مکہ سے خاص طور پر اور قیامت تک آنے والی نسلوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ دنیا کی زندگی اور اس کی سہولتوں میں اس طرح مگن نہ ہوجائیں کہ دنیا کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگیں بلکہ اس عذاب سے بچنے کی ابھی سے تدبیر کریں جو ان کے برے اعمال کے نتیجے میں ان سے دور نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت نکل جائے اور پھر مہلت عمل نہ مل سکے۔ ان آیات کے ساتھ ہی الحمد للہ سورة المومن کا ترجمہ اور اس کا تشریح تکمیل کو پہنچ گئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔۔۔۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اگر باطل پرست حق پانا اور دنیا، آخرت کے نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں کم ازکم چوپاؤں اور کشتیوں پر ہی غور کرلینا چاہیے اگر بلا تعصّب غور کریں گے تو یقیناً ہدایت پائیں گے۔ اس آیت کریمہ سے پہلے آیت نمبر ٦٠ میں حکم دیا گیا ہے کہ صرف اپنے رب سے مانگو اور اس کی عبادت کرو اس کے بعد آفاق اور انسان کو اپنی تخلیق اور خوراک پر غور کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں پیدا کرنے اور پالنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ بس اس کے حکم کے مطابق اور پورے اخلاص کے ساتھ صرف اسی ہی کی عبادت کرو کیونکہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور زندگی و موت کا مالک ہے۔ پھر مشرکین کے روییّ ان کے انجام کا ذکر کیا اور اس کے ساتھ ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کرنے کا حکم دیا اور اس بات سے آگاہ فرمایا کہ کہ کفر و شرک پر اصرار کرنے والے بالآخر نقصان اٹھائیں گے۔ اب کفر و شرک کے متوالوں کو ایک دفعہ پھر توحید کے ایسے دلائل دیئے جارہے ہیں۔ جن سے ہر کس وناکس کا واسطہ پڑتا ہے اور ہر دور کے انسانوں کو ان سے واسطہ پڑتا رہے گا۔ کون سا علاقہ اور ملک ہے جہاں چوپائے نہیں ہوتے اور لوگ ان سے استفادہ نہیں کرتے۔ لہٰذا توجہ دلائی جارہی ہے کہ جس اللہ سے مانگنے اور جس کی عبادت کا تمہیں حکم دیا جاتا ہے اسی نے تمہارے لیے چوپائے بنائے ہیں۔ جن میں ایسے بھی ہیں جن پر تم سواری کرتے ہو اور ان کا گوشت بھی کھاتے ہو اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کا دودھ، گوشت استعمال کرنے کے ساتھ ان سے اور بھی کام لیتے ہو اور جہاں جانا چاہتے ہو انہیں سواری کے طور پر استعمال کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلاتا اور بتاتا ہے۔ لہٰذا تم اس کی کس کس قدرت کا انکار کرو گے۔ صرف اس بات پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو سواریاں عطا فرمائی ہیں بیک وقت ان کے کتنے فائدے ہیں۔ انسان کو ابتدائے آفرینش سے یہ چوپائے میسر ہیں کہ ہزاروں سال شہری اور دیہاتی انہیں سواریوں کو ہی استعمال کرتے رہے ہیں۔ اونٹ پر غور فرمائیں کہ آج بھی یہ ایسی سواری ہے جو صحراء میں کئی کئی دن کھائے پیے بغیر مسافر کو لیے پھرتا ہے۔ بیشک انسان نے تیز سے تیز تر سواریاں بنالی ہیں۔ مگر عام لوگوں کو صحراء میں صرف اونٹ ہی کام دیتا ہے۔ جس کا گوشت کھایا جاتا ہے اور اس کی مادہ کا دودھ پیا جاتا ہے۔ اس کے اور بھی فوائد ہیں۔ اسی طرح گھوڑے کو دیکھیں کہ بڑی بڑی حکومتوں نے جدید سے جدید ترین ہیلی کا پٹر، گاڑیاں اور ٹینک تیار کرلیے ہیں۔ مگر گھوڑے کے بغیر آج بھی گزارا نہیں۔ کیونکہ پہاڑوں میں نقل و حمل کے لیے گھوڑے اور گدھے ہی فوج کے کام آتے ہیں۔ گھوڑے، اونٹ اور ہاتھی کی طاقت اور وجود کا اندازہ کریں۔ اگر انہیں طبعاً سرکش بنایا جاتا تو انسان کے بس میں تھا کہ اتنے آرام سے ان پر سواری کرلیتا۔ اب کشتی پر غور کریں کہ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو کشتی بنانے کی سمجھ نہ دیتا تو نہ صرف دنیا کے انسان ایک دوسرے سے کٹ کر رہ جاتے بلکہ باہمی تجارت بھی اس قدر محدود ہوتی کہ لوگ ایک دوسرے سے استفادہ کرنے سے محروم رہ جاتے۔ کشتی سازی اور کشتی رانی اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر وہ فضل عظیم ہے کہ جس کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ کشتی بنانا سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کو سکھلایا گیا تھا۔ یہ بات اس لیے قرین قیاس نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) پر وحی کی کہ تیری قوم میں جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کے بعد کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا ان پر افسوس کرنے کی بجائے آپ ہمارے سامنے ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی تیار کریں اور ظالموں سے مخاطب ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اب غرق ہونے والے ہیں۔ (ھود : ٣٦، ٣٧) اللہ تعالیٰ انسان کو ہر حوالے سے اپنی قدرتیں دکھلاتا ہے جس کا برے سے برا شخص بھی اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کے باوجود کافر اپنے رب کا انکار کرتا ہے اور مشرک اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے چوپائے بنائے جن کا انسان دودھ پیتا، گوشت کھاتا اور ان پر سواری کرتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے چوپاؤں میں بیشمار فوائد رکھ دیئے ہیں۔ ٣۔ انسان چوپاؤں کو اپنی مرضی سے ہانکتا اور ان سے کام لیتا ہے۔ ٤۔ کافر اور مشرک اپنے رب کی قدرتوں کو جانتے ہیں مگر پھر بھی اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 79 تا 81 ان مویشیوں کی ابتدائی تخلیق اسی طرح نشانی ہے جس طرح انسان کی تخلیق نشانی اور معجزہ ہے ، ان حیوانات کے اندرروح ڈالنا ، ان کو اس شکل و صورت میں بنانا اور ان کو رنگارنگ پیدا کرنا سب معجزات ہیں۔ پھر یہ تمام جانور اور مویشی انسان کے لیے مسخر کیے گئے ہیں حالانکہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو جسم کے اعتبار سے بھی اور قوت کے اعتبار سے بھی انسان سے زیادہ قوی ہیں لیکن اللہ الذی ۔۔۔۔ تاکلون (40: 79) ” اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار اور کسی کا گوشت کھاؤ “۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ جانور اسی طرح دنیا پائے گئے ہیں اور یہ کہ انسان کے لیے یہ کوئی معجزہ نہیں ہیں ، یا یہ کہ جانور کسی خالق پر دلالت نہیں کرتے جس نے انہیں پیدا کیا ہو اور انسان کے لیے مسخر کیا اور ان جانوروں کے اندر یہ خصائص موجود ہیں اور انسانوں کے اندر بھی یہ خصائص موجود ہیں تو اسی قسم کی باتیں قابل قبول نہیں ہیں اور انسانی کی فطری سوچ اس کے خلاف ہے۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ بہت ہی سطحی لوگ ہیں اور ان کی یہ باتیں بالکل سطحی اور محض جدال ہیں۔ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ ان آیات میں کیا کیا خوارق عادت معجزات ہیں اور کیا کیا نعمتیں ہیں۔ لترکبوا منھا۔۔۔۔۔۔ الفلک تحملون (40: 80) ” تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ۔ ان کے اندر تمہارے لیے اور بھی بہت سے منافع ہیں۔ وہ اس کام بھی آتے ہیں کہ تمہارے دنوں میں جہاں جانے کی حاجت ہو وہاں تم ان پر پہنچ سکو۔ ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو “۔ اور وہ خواہشات کو ان کے دلوں میں ہوتی تھیں اور ان جانوروں پر سوار ہوکر ان تک پہنچتے تھے۔ وہ بہت بڑی حاجت و ضروریات تھیں ، خصوصاً اس دور میں۔ اس دور میں نقل وحمل کے موجودہ ذرائع تو تھے نہیں۔ لیکن آج تک یہ جانور بعض ضروریات پورا کرتے ہیں آج بھی بعض پہاڑ ایسے دشوار گزار ہیں کہ وہاں تک کوئی جہاز ، کوئی ریل ، کوئی موٹروغیرہ نہیں جاتے۔ وہاں یہی جانور آتے ہیں۔ ان پہاڑوں میں راستے اس قدر تنگ ہوتے ہیں کہ وہاں یہی جانور کرتے ہیں۔ وعلیھاوعلی الفلک تحملون (40: 80) ” ان پر بھی اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو “۔ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں۔ اور اللہ کی ان مہربانیوں میں سے ہیں جو اس نے انسان پر کیں۔ کشتی کو پانی پر چلایا۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو پانی اور کشتی کے اندر تخلیق کے وقت رکھی گئیں۔ زمین میں بھی اور آسمان میں بھی۔ خشکی میں بھی اور تری میں بھی۔ چاہے یہ کشتی بادبانوں سے چلے ، بخارات سے چلے یا ایٹمی قوت سے چلے یا ان کے بھی علاوہ کسی اور قوت سے چلے جو اللہ نے اس کائنات میں رکھ دی ہیں اور انسان کو یہ توقیق بخشی ہے کہ وہ ان قوتوں کو کام میں لائے۔ اس لیے ان سب چیزوں کو اللہ کے معجزات اور اللہ کے دیئے ہوئے انعامات کے مضمون میں لایا گیا ہے۔ اور اس قسم کی کئی آیات ومعجزت اس کائنات میں جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ انسان کے لیے ممکن کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان میں سے کسی معجزے اور انعام کا انکار کرسکے بشرطیکہ وہ سنجیدہ ہو۔ ویریکم اٰیٰته فای اٰیٰت اللہ تنکرون (40: 81) ” اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے ، آخر تم اللہ کی کن کن نشانیوں سے انکار کروگے “۔ ہاں بعض لوگ ہیں جو انکار کرتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں ، بعض ایسے ہیں جو باطل دلائل لے کر آتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے حق کو نیچا دکھائیں۔ لیکن ان سب میں سے کوئی بھی نیک نہیں ہے یا اس کے اندر ٹیڑھ ہے یا کوئی مفاد ہے ، یاکبر ہے یا اسے کوئی مغالطٰہ ہے یا کسی اور غرض کے لیے یہ کررہا ہے۔ بعض لوگ اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ فرعون اور دوسرے لوگوں کی طرح ذی جاہ اور سرکش اور ظالم ہیں ، ان کو اپنی حکومت اور اقتدار کا خطرہ ہے ، ان کو تخت وتاج کا خطرہ ہے ، یہ تخت وتاج جن خاکوں پر قائم ہیں ان کو دعوت حق اڑا دیتی ہے ، کیونکہ دعوت اسلامی کا نظریہ یہ ہے کہ الٰہ اور حاکم ایک ہوتا ہے۔ بعض لوگ اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ مذہبی راہنما ہیں ، بعض اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ ایک خاص طرز کا نظام حکومت و معیشت چاہتے ہیں مثلاً اشتراکیت کے علم برادار ، جب آسمانی عقائد ونظریات اک بندہ نہیں بناتا اور اللہ کی بندگی سے چھڑا کر کسی دوسرے نظریہ یا کسی دوسرے لیڈر کی بندگی میں داخل نہیں کرتا۔ بعض لوگ اس لیے جھگرتے ہیں کہ وہ پاپائیت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں جیسا کہ قرون وسطیٰ میں اہل کنیہ اور عوام کے درمیان ہوا۔ چونکہ عوام پاپائیت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں ، اس لیے انہوں نے اہل کینہ کو ان کا الٰہ بھی واپس کردیا۔ کیونکہ الٰہ کے نام سے انہوں نے لوگوں کو غلام بنارکھا تھا۔ ان اسباب کے سوا اور بھی کئی اسباب ہیں ، لیکن انسان کی فطری سوچ ان تمام اسباب کو مسترد کردیتی ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے جو اس کائنات کے وجود میں مستقلاً موجود ہے اور جس کی موجودگی کی نشاندہی کائنات کی یہ نشانیاں کرتی ہیں۔ اور آخر میں یہ زور دار تبصرہ :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

چوپایوں اور کشتیوں کی نعمت کا تذکرہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائی اور مخاطبین کو توجہ دلائی کہ زمین میں چل پھر کر پرانی امتوں کے نشانات دیکھیں اور ان کی ہلاکت سے عبرت حاصل کریں فرمایا اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا فرمائے ان چوپایوں پر سوار بھی ہوتے ہو اور ان کا گوشت بھی کھاتے ہو اور ان میں دیگر منافع بھی ہے مثلاً دودھ پیتے ہو ان کے بالوں سے اور اون سے اور چمڑوں سے نفع حاصل کرتے ہو ان پر جو سفر کرتے ہو یا اسفار ایسے نہیں کہ صرف تم ہی کو یہ جانور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیں بلکہ تم انہیں بوجھ منتقل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہو ان پر مال لاد کر ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتے ہو پھر اسے وہاں فروخت کرتے ہو پھر وہاں سے مال خرید کر ان کی کمروں پر باندھ کرلے آتے ہو اس طرح سے تمہاری حاجتیں پوری ہوتی ہیں صاحب روح المعانی نے بعض مفسرین سے نقل کیا ہے کہ چونکہ اس پہلی آیت میں جانوروں پر سوار ہونے کا ذکر آچکا ہے اس لیے یہاں بچوں اور عورتوں کے سوار کیے جانے کا ذکر ہے کیونکہ یہ دونوں ضعیف مخلوق ہیں بڑے تو ہمت کرکے ایک شہر سے دوسرے شہر بھی جاسکتے ہیں لیکن ان دونوں جنسوں کے افراد سفر نہیں کرسکتے اس لیے اس میں مجہول کا صیغہ تحملون لایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جب تم چھوٹے چھوٹے تھے تم کو ان جانوروں پر سوار کیا جاتا تھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

73:۔ ” اللہ الذی جعل “ یہ بھی دلیل عقلی کا اعادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بےپایاں انعامات و احسانات دیکھو۔ اسی نے تمہارے لیے کئی قسم کے چوپائے پیدا فرمائے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جن پر تم سواری کرتے ہو، مثلاً اونٹ اور گھوڑے اور کچھ ایسے ہیں جن کا گوشت کھاتے ہو مراد حلال مویشی ہیں اس کے علاوہ ان سے تم اور کئی قسم کے فوائد و منافع حاصل کرتے۔ دودھ، اون اور چمڑے وغیرہ سے اور اپنی نہایت اہم ضرورتیں پوری کرتے ہو مثلاً اپنا ساز و سامان اور مال تجارت وغیرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ان پر لاد کرلے جاتے ہو۔ یہ سواریاں تو خشکی کے سفر میں کام آتی ہیں اور دریاؤں اور سمندروں کا سفر طے کرنے کے لیے کشتیوں اور بحری جہازوں پر سواری کرتے ہو۔ ” ویریکم ایتہ الخ “ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی وحدانیت اور کمال قدرت کی کس قدر نشانیاں دکھاتا ہے۔ بتاؤ کس کس نشانی کا انکار کرو گے اور اس کی وحدانیت کو چھوڑ کر غیر اللہ کو پکارو گے ؟ ای ایتہ الدالۃ علی وحدانیتہ و قدرتہ (قرطبی ج 15 ص 335)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(79) اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہارے لئے مواشی بنائے تاکہ ان میں سے بعض کی سواری لو اور بع کو تم کھاتے بھی ہو۔ یعنی چوپائے پیدا کئے تاکہ ان کی سواری لو اور ان پر سوار ہو اور بعض تمہاری خوراک بھی ہیں جن کا گوشت کھاتے ہو۔