Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 84

سورة مومن

فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗ وَ کَفَرۡنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۸۴﴾

And when they saw Our punishment, they said," We believe in Allah alone and disbelieve in that which we used to associate with Him."

ہمارا عذاب دیکھتے ہی کہنے لگے کہ اللہ واحد پر ہم ایمان لائے اور جن جن کو اس کا ہم شریک بنا رہے تھے ہم نے ان سب سے انکار کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالُوا امَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ We believe in Allah Alone and reject (all) that we used to associate with Him as (His) partners. means, they affirmed that Allah is One and denied the false gods, but this was at the time when excuses were to no avail. This is like what Fir`awn said as he was drowning: ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe, and I am one of the Muslims. (10:90) But Allah said: ءَالَنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ Now (you believe) while you refused to believe before and you were one of the the corrupters. (10:91) meaning, Allah did not accept this from him, because He had answered the prayer of His Prophet Musa, when he said, وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَ يُوْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ And harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment. (10:88) Allah says here:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٤] ایمان کی شرط اول ایمان بالغیب ہے اور عذاب دیکھ لینے یا موت کے وقت تو سب حقیقت مشاہدہ میں آجاتی ہے، غیب رہتی ہی نہیں اور مشاہدہ پر تو سب ہی لوگ یقین رکھتے ہیں خواہ کافر ہوں یا دہریے ہوں یا مشرک ہوں۔ لہذا عذاب دیکھنے یا موت کے آثار شروع ہوجانے کے بعد ایمان لانا بےسود ہے۔ بلکہ اس طرح مشاہدے پر لفظ ایمان کا اطلاق بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

85, 84 فلما راوا باسنا قالوا امنا باللہ وحدہ … ان دونوں آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نساء (١٨) انعام (١٥٨) اور سورة یونس (٥١، ٩٠، ٩١) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللہِ وَحْدَہٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِہٖ مُشْرِكِيْنَ۝ ٨٤ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ باسنا : مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا عذاب۔ باس عذاب، سختی، آفت، دبدبہ، جنگ کی شدت۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

چناچہ جب انہوں نے اپنی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب آتے ہوئے دیکھا تو توحید الہی کا اقرار کرنے لگے اور یہ عذاب کے دیکھنے کی وجہ سے صرف زبانی اقرار تھا جس کا ان کے دلوں پر کوئی اثر نہ تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٤ { فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ } ” پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہمارا عذاب تب انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اللہ واحد پر “ تب کہنے لگے کہ اب ہم توحید کے قائل ہوگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وحدا نیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ { وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ } ” اور ہم نے انکار کیا ان (معبودوں) کا جنہیں ہم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے رہے تھے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:84) فلما میں فاء تعقیب کا ہے اور لما جیسا کہ آیر سابقہ میں گذرا۔ پھر جب۔ باسنا : مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا عذاب۔ باس عذاب، سختی، آفت، دبدبہ، جنگ کی شدت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 عذاب سے مراد وہ عذاب ہے جو ان پر اترنا شروع ہوگیا تھا نہ کہ وہ جس کے ابھی آثار نمودار ہوئے تھے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

76:۔ ” فلما راو باسان “ جب ہمارے پیغمبروں نے دلائل وبراہین کے ساتھ ان کو مسئلہ توحید سمجھایا۔ یا اس وقت تو نہ سمجھے، بلکہ ضد میں آکر انکار کردیا، لیکن جب ہمارا عذاب آپہنچا، تو خود بخود ہی مان لیا اور صاف صاف کہنے لگے، ہم خدائے واحد کی وحدانیت پر ایمان لائے اور جن معبودوں کو خدا کے شریک ٹھہراتے تھے ان سب سے منکر اور بیزار ہوئے۔ ” فلم یک ینفعہم الخ “ لیکن ہمارا عذاب دیکھ کر اضطراراً جو ایمان لائے اس سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکے، کیونکہ اضطراری ایمان معتبر اور قابل قبول نہیں۔ ایمان وہی معبتر ہے جو اختیاری ہو۔ ” سنۃ اللہ الخ “ یہ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے ” ای سن اللہ سنۃ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں میں سنت جاریہ یہی ہے کہ منکرین پر اللہ کا عذاب نازل ہو اور نزول عذاب کے وقت کا ایمان قبول نہ ہو۔ جب اللہ کا عذاب آجاتا ہے، اس وقت کفار بڑے خسارے میں رہتے ہیں کیونکہ دنیا بھی گئی اور آخرت بھی۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ہم۔ ای سن اللہ ذلک سنۃ ماضیۃ فی العباد ان الایمان عند نزول العذاب لاینفع وانا لعذاب نازل علی مکذبی الرسل۔ قال الزجاج الکافر خاسر فی کل وقت ولکن یتبین لہم خسرانہم اذا راو العذاب (مظہری ج 8 ص 279) ۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ بحث متعلقہ مرکزی مضمون سورة مومن :۔ سورة مومن میں یہ مسئلہ مذکور ہوا کہ حاجات و مصائب میں مافوق الاسباب صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو اور غیر خدا کو مت پکارو، حاجات میں صرف اللہ ہی کو پکارنا عبادت ہے اور غیر اللہ کو پکارنا شرک ہے اور اس شرک کا مبدا و منشا یہ ہے کہ پکارنے والا یہ اعتقاد رکھے کہ جس غیر خدا (پیر و مرشد، ولی، نبی، فرشتہ، جن وغیرہ) کو وہ پکار رہا ہے وہ اس کی پکار اور نداء کو سن رہا ہے اور اس کے حال زار سے بخوبی واقف ہے۔ مشرکین کے اس مشرکانہ اعتقاد عمل کی قرآن نے جڑ کاٹ دی۔ جیسا کہ سورة فاطر سے لے کر آخر حوامیم تک میں مذکور ہوا۔ شرک کی یہ بیماری شیعوں کی وساطت سے مسلمانوں میں بھی پھیل گئی۔ اسلام میں سب سے پہلا فرقہ شیعوں کا ہے جس نے اس مشرکانہ اعتقاد کی تجدید کی کہ امام غیب جانتے ہیں، اور کوئی چیز ان سے پوشیدہ نہیں، کوئی نعمت ان کی وساطت کے بغیر نہیں مل سکتی اور کوئی دعاء اور کوئی عمل ان کی معرفت کے بغیر قبول ہوسکتا۔ اہل سنت کے بیخبر اور جہلاء میں یہ شرک شیعوں کی طرف سے آیا ہے۔ ذیل میں شیعوں کی چند مستند روایات درج کی جاتی ہیں جس سے یہ حقیقت واضح ہوجائے گی۔ 1 ۔ امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ آیت ” وللہ الاسماء الحسنی فادعوہ بھا “ میں ” الاسماء الحسنی “ سے مراد ہم ہیں اللہ تعالیٰ ہماری معرفت کے بغیر بندوں کا کوئی عمل قبول نہیں فرماتا۔ عن ابی عبداللہ ” وللہ الاسماء الحسنی فادعوہ بھا “ قال نحن وللہ الاسماء الحسنی لایقبل اللہ من العباد عملا الا بمعرفتنا (اصول کافی ص 83 طبع قدیم) ۔ امام جعفرصادق (رض) پر یہ سراسر افترا ہے یہ ان کا فرمان نہیں ہے۔ 2 ۔ اماموں کو علم غیب پر دسترس حاصل ہے جب وہ کسی چیز کو جاننا چاہیں معلوم کرلیتے ہیں۔ عن ابی عبداللہ (علیہ السلام) ان الامام اذا شاء ان یعلم علم (اصول کافی ج 1 ص 258 طبع طہران) ۔ 3 ۔ اماموں کو اپنی موت کا وقت معلوم ہوتا ہے اور مرنا نہ مرنا ان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔ ان الائمۃ (علیہم السلام) یعلمون متی یموتون وانہم لا یموتون الا باختیار منہم (ایضا) ۔ 4 ۔ امام کل غیب جانتے ہیں، کوئی چیز ان سے پوشیدہ نہیں، زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتے ہیں اور جو کچھ جنت اور دوزخ میں ہے وہ بھی ان کے علم میں ہے (ا) ان الائمۃ (علیہم السلام) یعلمون علم ماکان ومایکون وانہ لایخفی علیہم الشیء صلوات اللہ علیہم (اصول کافی ج 1 س 260) ۔ (ب) قال ابو عبداللہ انی لا علم ما فی السموات وما فی الارض واعلم ما فی الجنۃ واعلم ما فی النار واعلم ماکان ومایکون (ایضا ج 11 ص 261) ۔ استغفر اللہ ! معاذاللہ ! یہ تو خدا کی شان ہے۔ 5 ۔ امام کا علم پیغمبروں سے بھی زیادہ ہے اور اماموں کے پاس ایسے علوم موجود ہیں جو پیغمبروں کے پاس بھی نہیں ہیں اور امام جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہوتا رہے گا سب کچھ جانتے ہیں۔ قال ابو عبداللہ لو کنت بین موسیٰ والخضر لاخبرتہما انی اعلم منہما ولا نبئتہما بما لیس فی ایدیہم لان موسیٰ والخضر (علیہما السلام) اعطیا علم ماکان ولم یعطیا علم ما یکون وما ھو کائن حتی تقوم الساعۃ۔ وقد ورثناہ من رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والہ وراثۃ (اصول کافی ج 1 ص 261) ۔ 6:۔ امام ہر آدمی کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں اور کسی کی کوئی بات ان سے مخفی نہیں۔ قال ابو جعفر (علیہ السلام) لو کان لالسنتکم اوکیۃ لحدثت کل امرء بما لہ وعلیہ (اصول کافی ج 1 ص 264) ۔ 7 ۔ اماموں کے پاس اولین وآخرین، تمام انبیواء ومرسلین اور تمام علماء و اوصیاء کے جملہ علوم موجود ہوتے ہیں اور وہ گذشتہ اور آئندہ ہر بات کو جانتے ہیں (ا) وعندنا لاجفر وما یدریہم ما الجفر ؟ وعاء من ادم فیہ علم النبیین والوصیین علم العلماء الذین مضوا من بنی اسرائیل۔ وان عندنا لمصحف فاطمۃ (علیہا السلام) وما یدریہم ما مصحف فاطمۃ علیہا السلام۔ مصحف فاطمۃ فیہ مثل قرانکم ھذا ثلاث مرات، واللہ ما فیہ من قرانکم حرف واحد۔ ثم قال ان عندنا علم ماکان وعلم ما ھو کائن الی ان تقوم الساعۃ (اصول کافی ج 1 ص 240) ۔ (ب) قال ابو عبداللہ واللہ انی لاعلم کتاب اللہ من اولہ الی اخرہ کانہ فی کفی۔ فیہ خبر السماء والارض وخبر ماکان وخبر ما ھو کائن (اصول کافی ج 1 ص 229) ان حوالوں سے واضح ہوگیا کہ اسلام میں اس مشرکانہ عقیدے کے موجد شیعہ ہیں حالانکہ قرآن مجید اس کا رد کر رہا ہے اور قرآنی تصریحات کے مطابق اہل سنت کا مسلک یہی ہے کہ علم غیب خاصہ خدا ہے اور غیر اللہ کے علم غیب ثابت کرنا شرک اور کفر ہے چناچہ فقہاء اسلام نے صراحت کی ہے۔ اعلم ان الانبیاء والاولیاء لم یعلموا من المغیبان الا ما اعلمہم اللہ تعالیٰ احیانا وقد ذکر الحنفیۃ تصریحا بتکفیر من اعتقد ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعلم الغیب۔ شیعہ جس طرح زندہ پیغمبر اور اماموں کو عالم الغیب سمجھتے ہیں اسی طرح ان کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) اور ائمہ کرام وفات کے بعد بھی لوگوں کے اعمال سے باخبر ہوتے ہیں اور روزانہ دو بار تمام بندوں کے اعمال ان کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ (ا) قال ابو عبداللہ تعرض الاعمال علی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اعمال العباد کل صباح ابرارھا وفجارھا فاحذروھا (اصول کافی ج 1 ص 219) ۔ (ب) قال الرضا ان اعمالکم لتعرض علی فی کل یوم ولیلۃ (ایضا) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بندوں کے اعمال زندہ اماموں کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ یہ عرض اعمال کا عقیدہ بھی شیعوں کا خود ساختہ ہے۔ شیعوں کے یہ بھی عقیدہ ہے کہ روضہ اقدس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ازواج مطہرات بھی تشریف لاتی ہیں اس لیے روضہ انور میں کسی کو جھانکنا جائز نہیں۔ قال ابو عبداللہ ما احب لاحد منہم ان یعلو فوقہ ولا آمنہ ان یری شیئا یذبھن منہ بصرہ او یراہ قائما یصلی او یراہ مع بعض ازواجہ (اصول کافی ج 1 ص 452) ۔ اھل بدعت نے یہ عقیدہ بھی شیعوں ہی سے لیا ہے۔ چناچہ امام اہل بدعت نے لکھا ہے۔ ” انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی قبور مطہرہ میں ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں۔ وہ ان کے ساتھ شب باشی فرماتے ہیں “ (ملفوظات حصہ سوم ص 26) ۔ ایک شبہ اور اس کا جواب : باقی رہا یہ شبہ کہ حدیث میں وارد ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” عرضت علی اجور امتی حتی القذاۃ یخرجہا الرجل من المسجد و عرضت علی ذنوب امتی فلم ار ذنبا اعطم من سورة القران او ایۃ اوتیھا رجل ثم نسیہا (ابو داود، باب کنس المساجد ص 66) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ پر امت کے اعمال پیش ہوئے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث سے تفصیلی عرض اعمال مراد نہیں، بلکہ مرد یہ ہے کہ میری امت کے نیک اور بد اعمال کی فہرست پیش کی گئی کہ یہ اعمال موجب ثواب ہیں اور یہ باعث عقاب۔ اور ” عرضت “ بصیغہ ماضی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ معاملہ ایک بار ہوا روزانہ عرض اعمال سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ نیز اس حدیث کی سند میں مطلب بن عبداللہ بن خطب ہیں جو حضرت انس (رض) سے روایت کر رہے ہیں حالانکہ مطلب کی روایت کسی صحابی سے ثابت نہیں یہ روایت منقطع ہے اور حضرت انس (رض) سے اس کا سماع ثابت نہیں جیسا کہ امام الجرح والتعدیل ابو حاتم رازی فرماتے ہیں لم یسمع من جابر ولا زید بن ثابت ولا من عمران بن حصین ولم یدرک احدا من الصحابۃ لا سہل بن سعد و من فی طبقتہ (تہذیب التہذین ج 10 ص 179) ۔ مسئلہ عرض اعمال کی مزید تحقیق سورة توبہ زیر آیت ” فسیری اللہ عملک ورسولہ الایۃ “ میں گذر چکی ہے۔ فلیراجع۔ سورة مومن میں آیت توحید اور اس کی خصوصیات ؎ 1 ۔ ” فادعو اللہ مخلصین لہ الدین “ (رکوع 2) ۔ نفی شرک اعتقادی۔ 2 ۔ ” واللہ یقضی بالحق “ تا ” ان اللہ ھو اسلمیع البصیر “ (کوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 3 ۔ ” وقال ربکم الدعونی “ تا ” سیدخلوان جہنم دخرین “ (رکوع 6) ۔ نفی شرک اعتقادی۔ 4 ۔ ” ذلکم اللہ ربکم “ تا ” فانی توفکون “ (رکوع 7) ۔ نفی شرک ہر قسم۔ 5 ۔ ذلکم اللہ ربکم فتبرک اللہ رب العلمین۔ برکات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ؎ 6 ۔ ” ھو الحی لا الہ الا ھو “ تا ” الحمد للہ رب العلمین “ نفی شرک اعتقادی۔ 7 ۔ ” قل انی نھیت ان اعبد “ تا ” وامرت ان اسلم لرب العلمین “ نفی شرک اعتقادی۔ سورة غافر ختم ہوئ

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(84) پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے ہم ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر جو یگانہ اور اکیلا ہے اور ہم نے ان چیزوں سے کفر کیا اور انکار کیا جن کو ہم شریک ٹھہراتے تھے۔ یعنی ہمارے عذاب کو جب دیکھا تو شرک سے توبہ کرنے لگے اور کہنے لگے جن معبودوں کو ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے ان سب کو ہم نے چھوڑ دیا اور ان سے کفر کیا اور ہم تو خدائے یکتا ویگانہ پر ایمان لائے۔