Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 2

سورة حم السجدہ

تَنۡزِیۡلٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۚ﴿۲﴾

[This is] a revelation from the Entirely Merciful, the Especially Merciful -

اتاری ہوئی ہے بڑے مہربان بہت رحم والے کی طرف سے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ha Mim. A revelation from the Most Gracious, the Most Merciful. means, the Qur'an is revealed from the Most Gracious, Most Merciful. This is like the Ayat: قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ Say Ruh Al-Qudus (Jibril) has brought it down from your Lord with truth. (16:102) وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الاٌّمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ And truly, this is a revelation from the Lord of all that exists, Which the trustworthy Ruh (Jibril) has brought down upon your heart that you may be (one) of the warners. (26:192-194

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) تنزیل من الرحمٰن الرحیم : ” تنزیل “ کا معنی ” تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا “ ہے۔ قرآن مجید کو ایک ہی دفعہ نازل کرنے کے بجائے تئیس (٢٣) برس میں نازل کرنے کی حکمتوں کے لئے دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (١٠٦) کی تفسیر۔” الرحمٰن الرحیم “ کا مفوہم اور باہمی فرق سورة فاتحہ کی تفسیر میں دیکھیے۔ کفار قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب نہیں مانتے تھے، بلکہ اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خود ساختہ کلام کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یقین دلانے کے لئے یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہے، اس بات کو متعدد مقامات پر مختلف انداز سے بیان فرمایا۔ پچھلی سورت میں یہ با ت اپنی صفات ” عزیز وعلیم “ کے ذکر کے ساتھ بیان فرمائی، یہاں ” رحمان و رحیم “ کے ساتھ ذکر فرمائی۔ (٢) ” الرحمٰن الرحیم “ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ ساری مخلوق محتاج ہے، جس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا رحمان و رحیم ہے۔ وہ سب ضعیف اور بیمار ہیں، ان کی غذا اور ہر ضرورت کا اہتمام اور ان کی بیماریوں اور کمزوریوں کا مداوا وہی کرتا ہے جو رحمان ہے، جس کی رحمت کی کوئی حد نہیں اور رحیم بھی ہے کہ اس کی رحمت دائمی ہے، جسے کبھی زوال نہیں۔ اس نے رحم کرتے ہوئے یہ کتاب نازل فرمائی ہے، تاکہ لوگ ضلالت کی تاریکیوں سے ہدیات کی روشنی میں آجائیں اور دنیا اور آخرت دونوں میں اس بہت بڑی ہلاکت سے بچ جائیں جو مشرکین کا مقدر ہے، جس کا ذکر آیت (٦) میں آرہا ہے۔ کتاب کا اترنا اس کی صفت رحمت کا اظہار ہے۔ دیکھیے سورة انعام (١٥٧) اور سورة عنکبوت (٥١) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The seven Surahs that commence with |"Ha Meem|" are known as |"Al Hameem& or &Hawameem&. Some more words are added as suffixes in their names to differentiate between them, for example, the &Ha Meem& of Surah Mu&min is called |"Ha Meem Al-Mum&in, and &Ha Meem& of this Surah is called &Ha Meem Sajdah& or &Ha Meem Fussilat&. Both the names of this Surah are well-known. The first addressees of this Surah are Quraysh of ` Arabia among whom Qur&an was revealed in their own language. They had witnessed the marvel of the Qur&an, and they had also seen innumerable miracles of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And yet they turned away from the Qur&an. What to say of understanding, they did not even bear to listen to the Qur&an. Eventually, in response to the affectionate advices of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، they declared that they neither understand what he says, nor do their hearts accept it, nor are their ears prepared to listen to it, and that there are double barriers between him and them, so he should carry on with his business and leave them to their own. This is the meaning of the first five verses of this Surah. In these verses, Allah Almighty has specially addressed and advised Quraysh that Qur&an has been revealed in Arabic language, so that you do not have any difficulty in understanding the contents. At the same time three qualities of the Holy Qur&an have been stated. Firstly it is said, فُصِّلَتْ آيَاتُهُ Here, the word fussilat& is a derivative of fasl which originally means distinguishing the subjects by separating them. So فُصِّلَتْ means stating things very clearly by explaining in detail, either by separating them subject - wise in different chapters, or by mentioning them at one place. Different subjects like injunctions of Shari&ah, stories, beliefs, refutation of the people of false beliefs, etc. have been stated separately in the verses of the Holy Qur&an, and each subject has been explained by examples as well. The second and third qualities of the Holy Qur&an have been stated as that of communicating good news of everlasting happiness to the believers and of warning the non-believers of perpetual scourges.

معارف ومسائل یہ سات سورتیں جو حم سے شروع ہوئی ہیں جن کو آل حم یا حوامیم کہا جاتا ہے۔ با ہم امتیاز کے لئے ان کے ساتھ نام میں کچھ اور الفاظ بھی شامل کئے جاتے ہیں۔ مثلاً سورة مومن کے حم کو حم المومن اور اس سورت کے حم کو حم السجدہ یا حم فصلت بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورت کے یہ دونوں نام معروف ہیں حم فصلت اور حم السجدہ۔ اس سورة کے پہلے مخاطب قریش عرب ہیں جن کے سامنے یہ قرآن نازل ہوا اور ان کی زبان میں نازل ہوا۔ انہوں نے قرآن کے اعجاز کا مشاہدہ کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیشمار معجزات دیکھے اس کے باوجود قرآن سے اعراض کیا۔ اور سمجھنا کیا سننا بھی گوارہ نہ کیا، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مشفقانہ نصیحتوں کے جواب میں بالآخر یہ کہہ بیٹھے کہ آپ کی باتیں نہ ہماری سمجھ میں آتی ہیں، نہ ہمارے دل ان کو قبول کرتے ہیں نہ ہمارے کان ان کو سننے کے لئے آمادہ ہیں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان تو دوہرے پردے حائل ہیں۔ بس آپ اپنا کام کریں، ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیں۔ یہی مفہوم ہے اس سورت کی ابتدائی پانچ آیتوں کا۔ ان آیتوں میں حق تعالیٰ نے قریش کی خصوصیت سے اس کا اظہار فرمایا کہ قرآن کو عربی زبان میں تمہاری خاطر نازل کیا گیا کہ تمہیں اس کے مضامین سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔ اس کے ساتھ قرآن کریم کی تین صفتیں بتلائی گئیں۔ اول یہ کہ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ ۔ فصلت تفصیل سے ماخوذ ہے جس کے اصل معنی مضامین کو فصل فصل کر کے ممتاز کردینا ہے مراد اس سے کھول کر وضاحت سے بیان کرنا ہے، خواہ وہ مختلف فصلوں میں ہو یا ایک ہی جگہ۔ قرآن کریم کی آیات میں احکام، قصص، عقائد، اہل باطل کا رد وغیرہ۔ مختلف مضامین کو الگ الگ بھی بیان کیا گیا ہے اور ہر مضمون کو مثالوں سے واضح کر کے سمجھایا گیا ہے۔ دوسری اور تیسری صفت قرآن کریم کی یہ بتلائی کہ وہ بشیر اور نذیر ہے یعنی اپنے ماننے والوں کو دائمی راحتوں کی خوشخبری اور نہ ماننے والوں کو ابدی عذاب سے ڈراتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم کی طرف سے رسول اکرم پر نازل کیا جاتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢ { تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ } ” (اس کتاب کا) اتارا جانا ہے اس ہستی کی طرف سے جو بیحد مہربان ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی مانند بھی ہے اور اس رحمت میں دوام اور تسلسل بھی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:2) تنزیل : بروزن تفعیل مصدر ہے اتارنا۔ نازل کرنا۔ تنزیل اور انزال میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو یکے بعد دیگرے اور متفرق طور پر نازل کرنے کے ہوتے ہیں اور انزال کا مطلب یہ ہے جو یکے بعد دیگرے ترتیب سے اتارنے کے لئے بھی آتا ہے اور ایک ہی دفعہ مکمل طور پر کسی چیز کو نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے۔ یہاں تنزیل سے مراد قرآن مجید ہے جیسا کہ اگلی آیت سے ظاہر ہے۔ تنزیل مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھذا تنزیل من الرحمن الرحیم (یہ قرآن) اتارا گیا ہے (خدائے) رحمن و رحیم کی طرف سے۔ من الرحمن الرحیم متعلق خبر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” تنزیل۔ الایۃ “ یہ تمہید مع ترکیب ہے۔ یہ مبتدا مقدر یعنی ھذا یا حم (اگر یہ سورت کا نام ہو) کی خبر ہے اور ” من الرحمن الرحیم “ خبر بعد خبر ہے (روح) ۔ یہ حکم نامہ بڑے مہربان اور رحیم بادشاہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ جس پر عمل کرنے میں تمہاری دین و دنیا کی کامیابی و فلاح ہے۔ اس لیے اس کو مانو، آنکھوں سے لگاؤ، اس میں غور و فکر کرو اور اسے اپنی زندگی کا لائحہ عمل بناؤ۔ ” کتب فصلت ایتہ “ یہ حسب سابق یا تو خبر بعد خبر یا تنزیل سے بدل ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے اور ” فصلت ایتہ “ کتاب کی صفت ہے (مدارک و روح) ۔ یعنی یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی تمام آیتیں ایک دوسری سے الگ اور ممتاز ہیں اور اپنے اپنے مفہوم میں واضح ہیں۔ قالہ الشیخ رحمۃ اللہ تعالی۔ ” قرانا عربیا “ یہ کتاب سے حال ہے۔ یعنی کتاب عربی زبان میں نازل کی گئی۔ ” لقوم یعلمون “ اہل علم و نظر کے لیے جو اس کی زبان کو جانتے ہوں اور اس میں غور و فکر کریں اور دل میں انابت ہو ضد نہ ہو۔ نزل منزلۃ اللازم ای لقوم ذوی علم ونظر لا لمن اعرض عنہا (مظہری جلد 8 ص 280) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں، یعلمون ای ینیبون۔ یہ بھی تفسیر باللازم ہے۔ کیونکہ صحیح علم و نظر کو انابت لازم ہے ” بیشرا و نذیرا “ یہ قرانا کی صفتیں ہیں (مدارک) ۔ یہ قرآن ماننے والوں کو جنت کی خوشخبری دیتا اور نہ ماننے والوں کو عذاب سے ڈراتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) یہ کلا م اس اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کیا جاتا ہے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے۔ یہ سورت بھی حروف مقطعات سے شروک ہوئی جن کے معنی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور اس میں مثل سورة مومن اور سورة زمر کے ابتداء قرآن کی صداقت اور اس کی حقانیت سے ہوئی ہے۔