Allah says,
وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاء
...
And We have assigned for them intimate companions (in this world),
The intimate Companions of the Idolators make Evil Actions attractive to Them. Allah tells us that He is the One Who sends the idolators astray, and that this happens by His will and decree. He is the All-Wise in His actions, when He appoints for them close companions from among the devils of men and Jinn.
...
فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ
...
who have made fair seeming to them, what was before them and what was behind them.
means, they made their deeds attractive to them in the past. As far as the future is concerned, they only see themselves as doing good, as Allah says:
وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَاناً فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ
وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ
And whosoever turns away blindly from the remembrance of the Most Gracious, We appoint for him a Shaytan to be a companion for him. And verily, they hinder them from the path, but they think that they are guided aright! (43:36-37)
...
وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ
فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالاِْنسِ
إِنَّهُمْ
...
And the Word is justified against them as it was justified against those who were among the previous generations of Jinn and men that had passed away before them.
means, the Word of torment, just as it was justified against the nations of the past who did what they did, men and Jinn alike.
...
كَانُوا خَاسِرِينَ
Indeed they (all) were the losers.
means, they are all equal in terms of loss and being doomed.
How the disbelievers advised One Another not to listen to the Qur'an, and the Recompense for that
Allay says,
آداب قرآن حکیم ۔
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ مشرکین کو اس نے گمراہ کر دیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے ۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے ۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کر دیئے تھے ۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے ۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں ۔ جیسے اور آیتیں ہے ( وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ 36 ) 43- الزخرف:36 ) ، ان پر کلمہ عذاب صادق آ گیا ۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے ۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہوگئے ، کفار نے آپس میں مشورہ کرکے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کلام اللہ کو نہیں مانیں گے نہ ہی اس کے احکام کی پیروی کریں گے ۔ بلکہ ایک دوسرے سے کہہ رکھا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور و غل کرو اور اسے نہ سنو ۔ تالیاں بجاؤ سیٹیاں بجاؤ آوازیں نکالو ۔ چنانچہ قریشی یہی کرتے تھے ۔ عیب جوئی کرتے تھے انکار کرتے تھے ۔ دشمنی کرتے تھے اور اسے اپنے غلبہ کا باعث جانتے تھے ۔ یہی حال ہر جاہل کافر کا ہے کہ اسے قرآن کا سننا اچھا نہیں لگتا ۔ اسی لئے اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم فرمایا کہ ( وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ٢٠٤ ) 7- الاعراف:204 ) جب قرآن پڑھا جائے تو تم سنو اور چب رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ، ان کافروں کو دھمکایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سے مخالفت کرنے کی بناء پر انہیں سخت سزا دی جائے گی ۔ اور ان کی بدعملی کا مزہ انہیں ضرور چکھایا جائے گا ، ان اللہ کے دشمنوں کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے ۔ جس میں ان کیلئے ہمیشہ کا گھر ہے ۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ، اس کے بعد آیت کا مطلب حضرت علی سے مروی ہے کہ جن سے مراد ابلیس اور انس سے مراد حضرت آدم کا وہ لڑکا ہے جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا تھا ۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس تو ہر مشرک کو پکارے گا ۔ اور حضرت آدم کا یہ لڑکا ہر کبیرہ گناہ کرنے والے کو پکارے گا ۔ پس ابلیس شرک کی طرف اور تمام گناہوں کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہے اور اول رسول حضرت آدم کا یہ لڑکا جو اپنے بھائی کا قاتل ہے ۔ چنانچہ حدیث میں ہے روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا گناہ حضرت آدم کے اس پہلے فرزند پر بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل بےجا کا شروع کرنے والا یہ ہے ۔ پس کفار قیامت کے دن جن و انس جو انہیں گمراہ کرنے والے تھے انہیں نیچے کے طبقے میں داخل کرانا چاہیں گے تاکہ انہیں سخت عذاب ہوں ۔ وہ درک اسفل میں چلے جائیں اور ان سے زیادہ سزا بھگتیں ۔ سورہ اعراف میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے کہ یہ ماننے والے جن کی مانتے تھے ان کیلئے قیامت کے دن دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے جس پر کہا جائے گا کہ ہر ایک دوگنے عذاب میں ہی ہے ۔ لیکن تم بےشعور ہو ۔ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا ہو رہی ہے ۔ جیسے اور آیت میں ہے ( اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Ǻ ) 47-محمد:1 ) ۔ یعنی جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم ان کے فساد کی وجہ سے عذاب پر عذاب دیں گے ۔