Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 25

سورة حم السجدہ

وَ قَیَّضۡنَا لَہُمۡ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوۡا لَہُمۡ مَّا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۚ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿٪۲۵﴾  17

And We appointed for them companions who made attractive to them what was before them and what was behind them [of sin], and the word has come into effect upon them among nations which had passed on before them of jinn and men. Indeed, they [all] were losers.

اور ہم نے ان کے کچھ ہم نشین مقرر کر رکھے تھے جنہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا رکھے تھے اور ان کے حق میں بھی اللہ کا قول ان امتوں کے ساتھ پورا ہوا جو ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کی گزر چکی ہیں ۔ یقیناًوہ زیاں کار ثابت ہوئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says, وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاء ... And We have assigned for them intimate companions (in this world), The intimate Companions of the Idolators make Evil Actions attractive to Them. Allah tells us that He is the One Who sends the idolators astray, and that this happens by His will and decree. He is the All-Wise in His actions, when He appoints for them close companions from among the devils of men and Jinn. ... فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ... who have made fair seeming to them, what was before them and what was behind them. means, they made their deeds attractive to them in the past. As far as the future is concerned, they only see themselves as doing good, as Allah says: وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَاناً فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ And whosoever turns away blindly from the remembrance of the Most Gracious, We appoint for him a Shaytan to be a companion for him. And verily, they hinder them from the path, but they think that they are guided aright! (43:36-37) ... وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالاِْنسِ إِنَّهُمْ ... And the Word is justified against them as it was justified against those who were among the previous generations of Jinn and men that had passed away before them. means, the Word of torment, just as it was justified against the nations of the past who did what they did, men and Jinn alike. ... كَانُوا خَاسِرِينَ Indeed they (all) were the losers. means, they are all equal in terms of loss and being doomed. How the disbelievers advised One Another not to listen to the Qur'an, and the Recompense for that Allay says,

آداب قرآن حکیم ۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ مشرکین کو اس نے گمراہ کر دیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے ۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے ۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کر دیئے تھے ۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے ۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں ۔ جیسے اور آیتیں ہے ( وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ 36؀ ) 43- الزخرف:36 ) ، ان پر کلمہ عذاب صادق آ گیا ۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے ۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہوگئے ، کفار نے آپس میں مشورہ کرکے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کلام اللہ کو نہیں مانیں گے نہ ہی اس کے احکام کی پیروی کریں گے ۔ بلکہ ایک دوسرے سے کہہ رکھا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور و غل کرو اور اسے نہ سنو ۔ تالیاں بجاؤ سیٹیاں بجاؤ آوازیں نکالو ۔ چنانچہ قریشی یہی کرتے تھے ۔ عیب جوئی کرتے تھے انکار کرتے تھے ۔ دشمنی کرتے تھے اور اسے اپنے غلبہ کا باعث جانتے تھے ۔ یہی حال ہر جاہل کافر کا ہے کہ اسے قرآن کا سننا اچھا نہیں لگتا ۔ اسی لئے اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم فرمایا کہ ( وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ٢٠٤؁ ) 7- الاعراف:204 ) جب قرآن پڑھا جائے تو تم سنو اور چب رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ، ان کافروں کو دھمکایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سے مخالفت کرنے کی بناء پر انہیں سخت سزا دی جائے گی ۔ اور ان کی بدعملی کا مزہ انہیں ضرور چکھایا جائے گا ، ان اللہ کے دشمنوں کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے ۔ جس میں ان کیلئے ہمیشہ کا گھر ہے ۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ، اس کے بعد آیت کا مطلب حضرت علی سے مروی ہے کہ جن سے مراد ابلیس اور انس سے مراد حضرت آدم کا وہ لڑکا ہے جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا تھا ۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس تو ہر مشرک کو پکارے گا ۔ اور حضرت آدم کا یہ لڑکا ہر کبیرہ گناہ کرنے والے کو پکارے گا ۔ پس ابلیس شرک کی طرف اور تمام گناہوں کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہے اور اول رسول حضرت آدم کا یہ لڑکا جو اپنے بھائی کا قاتل ہے ۔ چنانچہ حدیث میں ہے روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا گناہ حضرت آدم کے اس پہلے فرزند پر بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل بےجا کا شروع کرنے والا یہ ہے ۔ پس کفار قیامت کے دن جن و انس جو انہیں گمراہ کرنے والے تھے انہیں نیچے کے طبقے میں داخل کرانا چاہیں گے تاکہ انہیں سخت عذاب ہوں ۔ وہ درک اسفل میں چلے جائیں اور ان سے زیادہ سزا بھگتیں ۔ سورہ اعراف میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے کہ یہ ماننے والے جن کی مانتے تھے ان کیلئے قیامت کے دن دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے جس پر کہا جائے گا کہ ہر ایک دوگنے عذاب میں ہی ہے ۔ لیکن تم بےشعور ہو ۔ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا ہو رہی ہے ۔ جیسے اور آیت میں ہے ( اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Ǻ۝ ) 47-محمد:1 ) ۔ یعنی جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم ان کے فساد کی وجہ سے عذاب پر عذاب دیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

25۔ 1 ان سے مراد وہ شیاطین انس و جن ہیں جو باطل پر اصرار کرنے والوں کے ساتھ لگ جاتے ہیں، جو انہیں کفر و معاصی کو خوبصورت کر کے دکھاتے ہیں، پس وہ اس گمراہی کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں موت آجاتی ہے اور وہ خسارہ ابدی کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣١] قرین کا مفوم نیزآدمی کا کردار اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے :۔ قُرَنَاء قرین کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہم عمر ساتھی ہے جو بہادری، قوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہمسر ہو، ہمجولی اور اس لفظ کا استعمال برے معنوں میں ہوتا ہے یعنی جو لوگ اللہ کو بھول کر بداعمالیوں میں لگے رہتے ہیں تو ان کے ہمجولی بھی انہی کی قسم کے شیطان سیرت ہوتے ہیں۔ جو اس کے ہر برے عمل پر اسے شاباش اور داد تحسین ہی دیئے جاتے ہیں۔ مثلاً چوروں یا ڈاکوؤں کے گروہ میں سے اگر ایک شخص اپنی چوری یا ڈاکہ کی داستان سنائے گا تو دوسرے ساتھی اس کے اس کارنامہ کو بہادری پر محمول کرکے فخریہ انداز میں اس کی داستان سنیں سنائیں گے۔ ان میں سے کسی کو یہ خیال نہ آئے گا کہ وہ لوگوں کے اموال غصب کرکے کتنے بڑے کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ برے اور بدکردار آدمیوں کو ان جیسے ہی دوست اچھے لگتے ہیں اور کسی بدکردار آدمی کی کسی نیک فطرت آدمی سے دوستی ہو بھی جائے تو وہ زیادہ دیر چل نہیں سکے گی۔ اسی طرح نیک لوگوں کے دوست بھی ہمیشہ نیک لوگ ہی ہوا کرتے ہیں اور ہوسکتے ہیں۔ نیک سیرت انسان سے کسی بدکردار کی دوستی کبھی نبھ نہیں سکتی۔ لہذا بعض آدمیوں کا یہ کہنا کہ فلاں آدمی خود تو اچھا تھا مگر اسے ساتھی برے مل گئے یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر وہ فی الواقع اچھا تھا تو دو ہی صورتیں ممکن ہیں یا تو وہ دوسروں کو بھی اچھا بنا لیتا اور یا پھر ان سے الگ ہوجاتا۔ اور اگر اس نے یہ دونوں کام نہیں کیے تو پھر وہ اچھا کیسے ہوا ؟ [٣٢] یعنی جو لوگ اپنے برے ساتھیوں کی باتوں پر لگ جاتے ہیں۔ اور ان کے بھرے میں آجاتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ وہ خود ہی اپنی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وقیضنا لھم قرنآء … :’ قرنآئ “ ” قرین “ کی جمع ہے، ساتھ رہنے والا۔ ” القیض “ انڈے کے چھلکے کو کہتے ہیں۔ یعنی جس طرح چھلکا انڈے کے ساتھ پیوست ہوتا ہے اسی طرح ہم نے ایسے برے لوگ ان مشرکین کے ساتھ لگا دیئے جو ان کے ساتھ اس طرح چمٹے رہتے ہیں جس طرح انڈے کا چھلکا چمٹا رہتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اگر انسان برا ہو تو اسے ساتھی بھی برے میسر آتے ہیں، جو اسے سبز باغ دکھاتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان برائیوں میں مگن ہوجاتا ہے اور آٰخر کار خود کو اپنے ساتھیوں سمیت لے ڈوبتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة زخرف (٣٦) اور سورة ق (٢٣ تا ٢٩) (٢) فزینوا لھم مابین ایدیھم …:” مابین ایدیھم “ سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ دنیا میں کر رہے تھے اور ” وما خلفھم “ سے مراد وہ اعمال بد ہیں جو اس سے پہلے کرچکے تھے۔ یعنی وہ برے ساتھی ان کے لئے ان کے موجودہ اور گزشتہ تمام برے اعمال کو خوش نما بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ انھی پر جمے رہتے ہیں اور ان لوگوں میں شامل ہوجاتے ہیں جن کے اعمال بد کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان صادق آتا ہے : لافلن جھنم من الجنۃ و الناس اجمعین ) (ھود : ١١٩) ” میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور ہی بھروں گا۔ “ بعض مفسرین نے ” ما بین ایدیھم “ سے مراد دنیا اور ” وما خلقھم “ سے مراد آخرت لی ہے۔ یعنی ان کے برے ساتھی آخرت کے متعلق بھی انہیں خوش گمانی میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اول تو وہ ہوگی ہی نہیں اور اگر ہوئی بھی تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا ہے وہاں بھی نوازے گا۔ مزید دیکھیے سورة مریم (٧٧) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَيَّضْنَا لَہُمْ قُرَنَاۗءَ فَزَيَّنُوْا لَہُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَحَقَّ عَلَيْہِمُ الْقَوْلُ فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ۝ ٠ ۚ اِنَّہُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ۝ ٢٥ۧ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ قرین الِاقْتِرَانُ کالازدواج في كونه اجتماع شيئين، أو أشياء في معنی من المعاني . قال تعالی: أَوْ جاءَ مَعَهُ الْمَلائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ [ الزخرف/ 53] . يقال : قَرَنْتُ البعیر بالبعیر : جمعت بينهما، ويسمّى الحبل الذي يشدّ به قَرَناً ، وقَرَّنْتُهُ علی التّكثير قال : وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفادِ [ ص/ 38] وفلان قِرْنُ فلان في الولادة، وقَرِينُهُ وقِرْنُهُ في الجلادة «1» ، وفي القوّة، وفي غيرها من الأحوال . قال تعالی: إِنِّي كانَ لِي قَرِينٌ [ الصافات/ 51] ، وَقالَ قَرِينُهُ هذا ما لَدَيَّ [ ق/ 23] إشارة إلى شهيده . قالَ قَرِينُهُ رَبَّنا ما أَطْغَيْتُهُ [ ق/ 27] ، فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ [ الزخرف/ 36] وجمعه : قُرَنَاءُ. قال : وَقَيَّضْنا لَهُمْ قُرَناءَ [ فصلت/ 25] . ( ق ر ن ) الا قتران ازداواج کی طرح اقتران کے معنی بھی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوْ جاءَ مَعَهُ الْمَلائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ [ الزخرف/ 53] یا یہ ہوتا کہ فر شتے جمع کر اس کے ساتھ آتے دو اونٹوں کو ایک رسی کے ساتھ باندھ دینا اور جس رسی کے ساتھ ان کو باندھا جاتا ہے اسے قرن کہا جاتا ہے اور قرنتہ ( تفعیل ) میں مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفادِ [ ص/ 38] اور اور روں کو بھی جو زنجروں میں جکڑ ی ہوئی تھے ۔ اور آدمی جو دوسرے کا ہم عمر ہو یا بہادری قوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہم پلہ ہوا سے اس کا قرن کہا جاتا ہے اور ہم پلہ یا ہم سر کون قرین بھی کہتے ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ فلان قرن فلان او قرینہ فلاں اس کا ہم عمر ہم سر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنِّي كانَ لِي قَرِينٌ [ الصافات/ 51] کہ میرا ایک ہم نشین تھا ۔ وَقالَ قَرِينُهُ هذا ما لَدَيَّ [ ق/ 23] اور اس کا ہم نشین ( فرشتہ ) کہے گا یہ ( اعمال مانہ ) میرے پاس تیار ہے ۔ یہاں قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جسے دوسری جگہ شہید ( گواہ ) کہا ہے ۔ قالَ قَرِينُهُ رَبَّنا ما أَطْغَيْتُهُ [ ق/ 27] ، اس کا ساتھی ( شیطان ) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا ۔ فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ [ الزخرف/ 36] تو وہ اس کا ساتھی ہوجا تا ہے ۔ قرین کی جمع قرنآء ہے قرآن میں ہے : ۔ وَقَيَّضْنا لَهُمْ قُرَناءَ [ فصلت/ 25] اور ہم نے شیبان کو ان کا ہم نشین مقرر کردیا ۔ زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار سے زینت کہہ سکتے ہیں «بَيْن»يدي و «بَيْن» يستعمل تارة اسما وتارة ظرفا، فمن قرأ : بينكم [ الأنعام/ 94] ، جعله اسما، ومن قرأ : بَيْنَكُمْ جعله ظرفا غير متمکن وترکه مفتوحا، فمن الظرف قوله : لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ الحجرات/ 1] ، وقوله : فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْواكُمْ صَدَقَةً [ المجادلة/ 12] ، فَاحْكُمْ بَيْنَنا بِالْحَقِّ [ ص/ 22] ، وقوله تعالی: فَلَمَّا بَلَغا مَجْمَعَ بَيْنِهِما [ الكهف/ 61] ، فيجوز أن يكون مصدرا، أي : موضع المفترق . وَإِنْ كانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثاقٌ [ النساء/ 92] . ولا يستعمل «بين» إلا فيما کان له مسافة، نحو : بين البلدین، أو له عدد ما اثنان فصاعدا نحو : الرجلین، وبین القوم، ولا يضاف إلى ما يقتضي معنی الوحدة إلا إذا کرّر، نحو : وَمِنْ بَيْنِنا وَبَيْنِكَ حِجابٌ [ فصلت/ 5] ، فَاجْعَلْ بَيْنَنا وَبَيْنَكَ مَوْعِداً [ طه/ 58] ، ويقال : هذا الشیء بين يديك، أي : متقدما لك، ويقال : هو بين يديك أي : قریب منك، وعلی هذا قوله : ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ [ الأعراف/ 17] ، ولَهُ ما بَيْنَ أَيْدِينا وَما خَلْفَنا [ مریم/ 64] ، وَجَعَلْنا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا [يس/ 9] ، مُصَدِّقاً لِما بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْراةِ [ المائدة/ 46] ، أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] ، أي : من جملتنا، وقوله : وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهذَا الْقُرْآنِ وَلا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ [ سبأ/ 31] ، أي : متقدّما له من الإنجیل ونحوه، وقوله : فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذاتَ بَيْنِكُمْ [ الأنفال/ 1] ، أي : راعوا الأحوال التي تجمعکم من القرابة والوصلة والمودة . ويزاد في بين «ما» أو الألف، فيجعل بمنزلة «حين» ، نحو : بَيْنَمَا زيد يفعل کذا، وبَيْنَا يفعل کذا، بین کا لفظ یا تو وہاں استعمال ہوتا ہے ۔ جہاں مسافت پائی جائے جیسے ( دو شہروں کے درمیان ) یا جہاں دو یا دو سے زیادہ چیزیں موجود ہوں جیسے اور واھد کی طرف مضاف ہونے کی صورت میں بین کو مکرر لانا ضروری ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَمِنْ بَيْنِنا وَبَيْنِكَ حِجابٌ [ فصلت/ 5] اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے فَاجْعَلْ بَيْنَنا وَبَيْنَكَ مَوْعِداً [ طه/ 58] ۔ تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو ۔ اور کہا جاتا ہے : / یعنی یہ چیز تیرے قریب اور سامنے ہے ۔ اسی معنی میں فرمایا : ۔ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ [ الأعراف/ 17] پھر ان کے آگے ۔۔۔۔۔ ( غرض ہر طرف سے ) آؤنگا ۔ ولَهُ ما بَيْنَ أَيْدِينا وَما خَلْفَنا [ مریم/ 64] جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو پیچھے ۔۔۔ سب اسی کا ہے ۔ وَجَعَلْنا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا [يس/ 9] اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنادی ۔ اور ان کے پیچھے بھی ۔ مُصَدِّقاً لِما بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْراةِ [ المائدة/ 46] جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے ۔ أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] کیا ہم سب میں سے اسی نصیحت ۃ ( کی کتاب ) اتری ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهذَا الْقُرْآنِ وَلا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ [ سبأ/ 31] اور جو کافر ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان کتابوں ) کو جو اس سے پہلے کی ہیں ۔ میں سے انجیل اور دیگر کتب سماویہ مراد ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذاتَ بَيْنِكُمْ [ الأنفال/ 1] خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ صلہ رحمی ، قرابت ، دوستی وغیرہ باہمی رشتوں کا لحاظ کرد جو باہم تم سب کے درمیان مشترک ہیں اور بین کے م، ابعد یا الف کا اضافہ کرکے حین کے معنی میں استعمال کرلینے ہیں خلف ( پیچھے ) خَلْفُ : ضدّ القُدَّام، قال تعالی: يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] ، وقال تعالی: لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] ( خ ل ف ) خلف ( پیچھے ) یہ قدام کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] جو کچھ ان کے روبرو ہو راہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے ۔ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] اس کے آگے پیچھے خدا کے جو کیدار ہیں ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } ( سورة الأَنعام 38) اور زمین پر جو چلنے پھر نے والے ( حیوان ) دو پروں سے اڑنے والے پرند ہیں وہ بھی تمہاری طرح جماعتیں ہیں خلا الخلاء : المکان الذي لا ساتر فيه من بناء ومساکن وغیرهما، والخلوّ يستعمل في الزمان والمکان، لکن لما تصوّر في الزمان المضيّ فسّر أهل اللغة : خلا الزمان، بقولهم : مضی الزمان وذهب، قال تعالی: وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] ( خ ل و ) الخلاء ۔ خالی جگہ جہاں عمارت و مکان وغیرہ نہ ہو اور الخلو کا لفظ زمان و مکان دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چونکہ زمانہ میں مضی ( گذرنا ) کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے اہل لغت خلاالزفان کے معنی زمانہ گزر گیا کرلیتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) تو صرف ( خدا کے ) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہوگزرے ہیں ۔ جِنَّة : جماعة الجن . قال تعالی: مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] ، وقال تعالی: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] . ۔ الجنتہ جنوں کی جماعت ۔ قرآن میں ہے ۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] جنات سے ( ہو ) یا انسانوں میں سے وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا ۔ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب «1» ، وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس «2» ، وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل : سمّي بذلک لأنه خلق خلقة لا قوام له إلا بإنس بعضهم ببعض، ولهذا قيل : الإنسان مدنيّ بالطبع، من حيث لا قوام لبعضهم إلا ببعض، ولا يمكنه أن يقوم بجمیع أسبابه، وقیل : سمّي بذلک لأنه يأنس بكلّ ما يألفه «3» ، وقیل : هو إفعلان، وأصله : إنسیان، سمّي بذلک لأنه عهد اللہ إليه فنسي . ( ان س ) الانس یہ جن کی ضد ہے اور انس ( بضمہ الہمزہ ) نفور کی ضد ہے اور انسی ۔ انس کی طرف منسوب ہے اور انسی اسے کہا جاتا ہے ۔ جو بہت زیادہ مانوس ہو اور ہر وہ چیز جس سے انس کیا جائے اسے بھی انسی کہدیتے ہیں اور جانور یا کمان کی وہ جانب جو سوار یا کمانچی کی طرف ہو اسے انسی کہا جاتا ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جانب کو وحشی کہتے ہیں انس کی جمع اناسی ہے قرآن میں ہے :۔ { وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا } ( سورة الفرقان 49) بہت سے ( چوریاں ) اور آدمیوں کو ۔ اور نفس انسانی کو ابن انسک کہا جاتا ہے ۔ انس ( افعال ) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھتا ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ { فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا } ( سورة النساء 6) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو ۔ انست نارا (27 ۔ 7) میں نے آگ دیکھی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا } ( سورة النور 27) کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تم ان سے اجازت لے کر انس پیدا نہ کرلو ۔ الانسان ۔ انسان چونکہ فطرۃ ہی کچھ اس قسم کا واقع ہوا ہے کہ اس کی زندگی کا مزاج باہم انس اور میل جول کے بغیر نہیں بن سکتا اس لئے اسے انسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ انسان طبعی طور پر متمدن واقع ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ آپس میں بیل جوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اکیلا ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اسے جس چیز سے محبت ہوتی ہے اسی سے مانوس ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اسے انسان کہا جاتا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ انسان اصل میں انسیان پر وزن افعلان ہے اور ( انسان ) چونکہ اپنے عہد کو بھول گیا تھا اس لئے اسے انسان کہا گیا ہے ۔ خسر ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، ( خ س ر) الخسروالخسران عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا جاتا ہے بلکہ ان چیزوں میں نقصان اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے خسران مبین قرار دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈٖالا ۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے ان کفار کے لیے کچھ مددگار اور شرکاء شیاطین میں سے مقرر کردیے تھے سو انہوں نے ان کی نظروں میں یہ چیز پسندیدہ بنا دی تھی کہ آخرت کے امور میں سے جنت دوزخ اور بعث کچھ نہیں اور امور دنیا میں سے کچھ نہیں یعنی کچھ خرچ مت کرو اور یہ کہ دنیا باقی ہے فانی نہیں ان لوگوں کے حق میں بھی ان لوگوں کے ساتھ اللہ کا وعدہ عذاب پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے جن و انس میں سے کفار گزرے ہیں۔ یقینا وہ سب بھی سزا کی وجہ سے خسارہ میں رہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٥ { وَقَیَّضْنَا لَہُمْ قُرَنَآئَ فَزَیَّنُوْا لَہُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ } ” اور ہم نے ان کے لیے ایسے ساتھی مقرر کردیے جنہوں نے ان کو مزین ّکر کے دکھلائی ہر وہ چیز جو ان کے سامنے تھی اور جوان کے پیچھے تھی “ جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ایسے ہی ہر انسان کے ساتھ شیاطین ِجن بھی لگا دیے گئے ہیں۔ انسانوں کے ساتھ فرشتوں کی موجودگی کا ذکر قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سورة الانعام کی آیت ٦١ میں { وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً } کے الفاظ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے سے انسانوں کی حفاظت کا انتظام فرماتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے (کراماً کاتبین) اس کے اعمال کا ریکارڈ رکھنے کے لیے بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ ان فرشتوں کا ذکر سورة الانفطار میں اس طرح آیا ہے : { وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ ۔ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ } اسی طرح انسانوں کے ساتھ شیاطین ِجن بھی ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ ایک ساتھی جنات (شیاطین) میں سے اور ایک ساتھی ملائکہ میں سے مقرر نہ کردیا گیا ہو “۔ اس پر صحابہ کرام (رض) نے دریافت فرمایا : اے اللہ کے رسول ! آپ کے ساتھ بھی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (وَاِیَّایَ ، لٰـکِنْ اَعَانَنِیَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ ) (١) ” ہاں ! میرے ساتھ بھی (ایک شیطان ہے) مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر نصرت عطا فرمائی ہے اور میں نے اسے مسلمان کرلیا ہے “۔ یعنی میں نے اسے اپنا تابع بنا لیا ہے اور اب وہ مجھے کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ بہر حال اس آیت میں غلط کار انسانوں کے ان شیطان ساتھیوں کا ذکر ہے جو دنیا میں ان کے غلط عقائد اور برے اعمال کو خوش نما بنا کر انہیں دکھاتے رہتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ گناہوں کی لذت اور دنیا کی رنگینیوں میں ہی گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ { وَحَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِج } ” اور ان پر سچ ثابت ہوئی (اللہ کے عذاب کی) بات ‘ (اور وہ شامل ہوگئے) ان امتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنوں اور انسانوں کی۔ “ ان پر بھی بالآخر وہی بات پوری ہو کر رہی جو جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں پر پوری ہوئی تھی جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی وہ اللہ کے عذاب کے مستحق قرار پائے۔ { اِنَّہُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ } ” یقینا وہ خسارہ پانے والے لوگ تھے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

29 This is the permanent and eternal way of Allah that He dots not let the men with evil intentions and desires have good companions, but lets them have bad companions according to their own inclinations. Then, as they go on descending into the depths of vice, more and more evil and wicked men and devils go on joining them as their associates and advisers and companions. Some people's saying that so-and-so is himself a very good man but happens to have bad companions is, in fact, contrary to fact. The law of nature is that every man gets the same sort of friends as he himself is. If bad people happen to be associated with a good man, they cannot remain associated with him for long. Likewise, if good and noble men happen to be associated with evil intentioned and immoral men by chance, their association cannot last long. An evil man naturally attracts only evil men to himself and only evil men become attracted towards him just as filth attracts flits and flits are attracted by the filth. The meaning of: "They made every thing, in front of them and behind them, seem fair to them," is this: They assured them that their past had been glorious and their future would also be bright; they made them see everything attractive and pleasant on every side; they told them that those who criticised them were foolish, because they were not doing anything novel or strange: those who had made any progress in the world before them had been doing the same that they were doing; ahead of them there was no Hereafter at all in which they might have to be called to account for their deeds, but if at all the Hereafter did take place, as some foolish people assert it would, the God who was blessing them in the world, would bless them there too. Hell had not been made for them but for those whom God had deprived of His blessings here.

سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :29 یہ اللہ تعالیٰ کی مستقل اور دائمی سنت ہے کہ وہ بری نیت اور بری خواہشات رکھنے والے انسانوں کو کبھی اچھے ساتھی نہیں دلواتا ، بلکہ انہیں ان کے اپنے رجحانات کے مطابق برے ساتھی ہی دلواتا ہے ۔ پھر جتنے جتنے وہ بدی کی پستیوں میں گہرے اترتے جاتے ہیں اتنے ہی بدتر سے بدتر آدمی اور شیاطین ان کے ہم نشین اور مشیر اور رفیق کار بنتے چلے جاتے ہیں ۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ فلاں صاحب بذات خود تو بہت اچھے ہیں ، مگر انہیں ساتھی برے مل گئے ہیں ، حقیقت کے بالکل خلاف ہے ۔ قانون فطرت یہ ہے کہ ہر شخص کو ویسے ہی دوست ملتے ہیں جیسا وہ خود ہوتا ہے ۔ ایک نیک آدمی کے ساتھ اگر برے لوگ لگ بھی جائیں تو وہ اس کے ساتھ زیادہ دیر تک لگے نہیں رہ سکتے ۔ اور اسی طرح ایک بد نیت اور بد کردار آدمی کے ساتھ نیک اور شریف انسانوں کی رفاقت اتفاقاً واقع ہو بھی جائے تو وہ زیادہ دیر تک نہیں نبھ سکتی ۔ بد آدمی فطرۃً بدو ہی کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور بد ہی اس کی طرف کھنچتے ہیں ، جس طرح غلاظت مکھیوں کو کھینچتی ہے اور مکھیاں غلاظت کی طرف کھنچتی ہیں ۔ اور یہ جو ارشاد فرمایا کہ وہ آگے اور پیچھے ہر چیز ان کو خوشنما بنا کر دکھاتے تھے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو یقین دلاتے تھے کہ آپ کا ماضی بھی بڑا شاندار تھا اور مستقبل بھی نہایت درخشاں ہے وہ ایسی عینک ان کی آنکھوں پر چڑھاتے تھے کہ ہر طرف ان کو ہرا ہی ہرا نظر آتا تھا ۔ وہ ان سے کہتے تھے کہ آپ پر تنقید کرنے والے احمق ہیں ، آپ کوئی نرالا کام تھوڑی کر رہے ہیں ، دنیا میں ترقی کرنے والے وہی کچھ کرتے رہے ہیں جو آپ کر رہے ہیں اور آگے اول تو کوئی آخرت ہے ہی نہیں جس میں آپ کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی پڑے ، لیکن اگر وہ پیش آ ہی گئی ، جیسا کہ چند نادان دعویٰ کرتے ہیں ، تو جو خدا آپ کو یہاں نعمتوں سے نواز رہا ہے وہ وہاں بھی آپ پر انعام و اکرام کی بارش کرے گا ، دوزخ آپ کے لیے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے بنی ہے جنہیں یہاں خدا نے اپنی نعمتوں سے محروم کر رکھا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

12: اس سے مراد وہ شیاطین بھی ہیں جو انسانوں کو گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے گناہوں کے لیے بہکاتے تھے، اور ایسے انسان بھی جو گناہ کے کاموں کو مفید اور ضروری قرار دینے کے لیے طرح طرح کے دلائل گھڑتے اور ان کی بنیاد پر قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:25) قیضنا۔ ماضی جمع متکلم تقییض (تفعیل) مصدر۔ قیض مادہ۔ قیض کے معنی انڈے کا بالائی چھلکا۔ چھلکا انڈے کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے اس مناسبت سے تقییض کے معنی ہوئے ساتھ لگا دینا۔ پیچھے لگا دینا۔ مسلط کردینا۔ یعنی ہم نے ان کے ساتھ لگا دیا۔ چمٹا دیا۔ یا مسلط کردیا۔ قرناء جمع اس کا واحد قرین ہے۔ ہمنشین، ساتھ رہنے والے۔ ساتھی وہم قرناء ہم من الشیطین علی التحقیق۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے شیاطین جن و انس میں سے بعض کو ان پر بطور ساتھیوں کے لگا رکھا تھا۔ جو ان کو راہ راست سے بھٹکائے رکھتے اور کفر و معاصی کو مزین کرکے ان کو دکھاتے تھے۔ ای ان اللّٰہ تعالیٰ سلط علی الکفرین قرناء من الشیاطین یضلونھم عن الھدی ویزینون لہم الکفر والمعاصی۔ زینوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تزین (تفعیل) مصدر۔ انہوں نے مزین کردیا۔ انہوں نے اچھا کرکے دکھایا۔ ما بین ایدیہم : جو ان کے سامنے تھا۔ یعنی من امور الدنیا دنیاوی کرتوتیں۔ اور وما خلفہم اور جو ان کے بعد تھا۔ یعنی امور الاخرۃ۔ صاحب مظہری رقمطراز ہیں :۔ ما بین ایدیہم سے مراد ہیں دنیوی چیزیں اور خواہشات کا اتباع۔ اور ما خلفھم سے مراد امر آخرت یعنی شیطانوں نے ان کو دنیا کا شیفتہ بنادیا اور آخرت کے انکار اور دوسری زندگی کی تکذیب کی دعوت دی۔ وحق علیہم القول : حق علی لازم ہونا۔ واجب ہونا۔ القول۔ کلمۃ العذاب : کلمہ عذاب اللہ تعالیٰ کا وہ قول جو اس نے شیطان کے بارے میں فرمایا تھا :۔ قال فالحق والحق اقول ۔ لاملئن جھنم منک و ممن تبعک منھم اجمعین (38: 8485) (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا :۔ سچ ہے اور میں بھی سچ کہتا ہوں کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ مطلب یہ کہ ان پر کلمہ عذاب متحقق ہوگیا۔ ثابت ہوگیا۔ یا واجب ہوگیا اور لازم ہوگیا۔ فی امم : فی بمعنی مع ہے ان قوموں کی طرح (جو ان سے قبل گزرچکی ہیں) یا منجملہ ان امتوں کے (جو ان سے پہلے گزر چکیں قدخلت : ماضی قریب واحد مؤنث غائب کا صیغہ خلو مصدر (باب نصر) وہ گزرگئی۔ یہاں یہ صیغہ امم (جمع) کے لئے آیا ہے یعنی وہ امتیں جو گزر چکیں ان سے پہلے۔ من الجن والانس : امم کی تعریف ہے یعنی جنوں اور انسانوں کی امتیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور منجملہ جن و انس کی ان امتوں کے جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی فیصلہ عذاب چسپاں ہوکر رہا یا صادر ہوکر رہا۔ انھم کانوا خسرین : بیشک وہ سب نقصان اٹھانے والے تھے۔ اس میں ضمیر جمع مذکر غائب ہم کا مرجع حق علیہم القول۔ اور امم ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی انسانوں اور جنوں میں سے برے ساتھی 10 اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ اگر انسان برا ہو تو اسے ساتھی بھی برے میسر آتے ہیں جو اسے سبز باغ دکھاتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان برائیوں میں مگن ہوجاتا ہے اور آخر کار خود کو اپنے ساتھیوں سمیت لے ڈوبتا ہے۔ ( دیکھئے زخرف : 36)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اوپر شروع سورت میں قرآن و رسالت کے متعلق مضمون تھا، آگے اس کے منکرین پر تقریع وتشنیع ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جب انسان فکری اور اعتقادی طور پر اللہ تعالیٰ کو فراموش کردیتا ہے تو پھر وہ اپنے نظریات اور معاشرے کی رسومات کو اپنے لیے حرف آخر سمجھتا ہے اور یہ چیز اس پر اس طرح مسلط ہوجاتی ہے کہ وہ اس کے سوا کوئی بات سننا گوارا نہیں کرتا ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ بھی کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ انسان میں لاپرواہی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی برا کام اس کے لیے فیشن بن جاتا ہے۔ جو لوگ قیامت کے حساب اور اپنے رب کو بھول جاتے ہیں۔ ان پر شیطان مسلّط کردیا جاتا ہے۔ جس پر شیطان مسلّط کردیاجائے۔ تو اس کی سوچ، کردار اور ماحول برا بن جاتا ہے۔ اگر حکمران ہے تو اس کے وزیر، مشیر، اس کے برے کاموں کی تعریف کرتے ہیں اور اسے باور کرواتے ہیں کہ آپ اور ملک لازم ملزوم ہیں۔ آپ کے جانے کے بعد ملک کا برا حال ہوجائے گا۔ اگر وہ کسی جماعت، قبیلے کا سربراہ ہے تو اس کے حواری کہتے ہیں کہ آپ تو جماعت اور قبیلے کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک وہ شخص لوگوں کی نظروں میں ذلیل نہیں ہوجاتا۔ جوں ہی وہ ذلّت کے گھاٹ اترتا ہے جو اس کی تعریف کرنے والے اس کی جگہ لینے والے کی تعریفیں کررہے ہوتے ہیں۔ ایسے شخص کو غلط کاموں اور خوشامد میں لذّت محسوس ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے جنوں اور انسانوں کے پہلے گروہ گمراہ ہوئے اور انہیں کے گناہوں کے اثرات کے وجہ ان کی آنے والی نسلیں گمراہی کا شکار ہوئیں۔ قیامت کے دن یہ لوگ یقیناً نقصان پانے والے ہیں۔ یہ بات فہم القرآن کے کئی مقامات پر عرض کی ہے کہ جب گمراہی کی نسبت ” اللہ “ کی طرف ہوتی ہے تو اس کا معنٰی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کے حوالے کردیتا ہے جو گمراہی اور تباہی کا آخری درجہ ہے۔ اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انسان اپنے رب سے سچی توبہ اور برے ماحول سے نکل جائے۔ (عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی (رض) عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِِ وَالسُّوْءِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِیْرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّآ أَنْ یُّحْذِیَکَ وَإِمَّآ أَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ وَإِمَّآ أَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیْحًاطَیِّبَۃً وَنَافِخُ الْکِیْرِ إِمَّآ أَنْ یُّحْرِقَ ثِیَابَکَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِیْحًاخَبِیْثَۃً ) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید، باب المسک ] ” حضرت ابوموسیٰ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اچھے اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔ کستوری بیچنے والا یا تجھے تحفہ دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا تم اس سے اچھی خوشبو پاؤ گے اور بھٹی پھونکنے والا یا تمہارے کپڑوں جلا دے گا یا تو اس سے بری بو محسوس کرے گا۔ “ (وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ) [ الزخرف : ٣٦] ” جو شخص رحمن کے ذکر سے منہ موڑتا ہے ہم شیطان کو اس کا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ برے لوگوں کے لیے ان کے اعمال خوبصورت بنا دئیے جاتے ہیں۔ ٢۔ برے لوگوں پر اللہ کا عذاب برحق ثابت ہوتا ہے۔ ٣۔ برے جنّات اور انسان ناقابل تلافی نقصان پائیں گے۔ تفسیر بالقرآن دنیا اور آخرت میں نقصان پانے والے لوگ : ١۔ اللہ کفار کے اعمال دنیا میں تباہ کرے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پائیں گے۔ (التوبۃ : ٦٩) ٢۔ اسلام کا انکار کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (البقرۃ : ١٢١) ٣۔ اسلام کے بغیر دین تلاش کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (آل عمران : ٨٥) ٤۔ شیطان کی تابعداری کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (المجادلۃ : ١٩) ٥۔ مشرک نقصان پائیں گے۔ (الزمر : ٦٥) ٦۔ کافر نقصان پائیں گے۔ (النحل : ١٠٩) ٧۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان پانے والے ہوں گے۔ (الاعراف : ٢٣) ٨۔ جس نے اللہ کے سوا شیطان کو دوست بنالیا اس نے بہت نقصان پایا۔ (النساء : ١١٩) ٩۔ ان لوگوں نے نقصان پایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات کی تکذیب کی۔ (الانعام : ٣١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا اقتدار تو تمہارے دلوں پر بھی قائم ہے۔ جب تم زمین میں تھے اس وقت بھی تمہارے دل اللہ کے قبضہ قدرت میں تھے۔ جب تم اللہ کی نافرمانی کرتے تھے۔ جب اللہ کو تمہارے دلوں کا میلان فساد معلوم ہوا تو اللہ نے تمہارے دلوں پر ایسے ساتھی مسلط کر دئیے جو جنوں میں سے بھی تھے اور انسانوں میں سے بھی ۔ یہ برائی کو تمہارے دل و دماغ کے لئے مزین کرتے تھے۔ یہ ساتھی ان کو اس قافلے میں ملا دیتے تھے جس کا انجام گھاٹے کا لکھا گیا تھا۔ یوں ان پر کلمہ عذاب اور فیصلہ عذاب صادق ہوا : ذرا دیکھیں تو سہی کہ وہ کس حد تک اللہ کے قبضے میں ہیں ، جس کی بندگی کرنے سے وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔ اور ان کے دل جو ان کے پہلوؤں میں ہیں ، وہ ان کو عذاب اور برے انجام کی طرف لے جارہے ہیں۔ جس کو اللہ گمراہ کرنا چاہے اس پر وہ ایسے ساتھ مسلط کردیتا ہے جو اس کے دل میں وسوسہ اندازی کا کام کرتے ہیں اور اس کے ماحول میں جو بری چیز ہوتی ہے اس کو اس کے لئے مزین کرتے ہیں اور اس کے جو اعمال ہوتے ہیں اس کی نظروں میں اچھے بناتے ہیں ، ان کو ان میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی اور انسان کے لئے سب سے بڑی بیماری یہ ہوتی ہے کہ اس کے برے افعال اور اس کی گمراہی کے بارے میں اس کا احساس ختم ہوجائے۔ اپنی ذات کے ہر پہلو کے بارے میں وہ یہ دیکھنے لگے کہ وہ اچھا ہے ۔ اس مقام پر جب انسان پہنچ جائے تو پھر وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ لوگ اس گلے میں شامل ہوگئے جس نے ہلاکت کی طرف جانا تھا۔ یعنی ان گروہوں میں جن پر اللہ کا فیصلہ طے ہوچکا تھا ، جنوں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی کہ : انھم کانوا خسرین (٤١ : ٢٥) ” کہ یقیناً وہ خسارہ میں رہ جائیں گے “۔ ان لوگوں کے جو ساتھی تھے ان کو گمراہ کرنے کے لئے ، انہوں نے ان کو آمادہ کیا کہ قرآن کا مقابلہ اس طرح کرو کہ اسے نہ سنو ، نہ سننے دو کیونکہ انہوں نے معلوم کرلیا تھا کہ اس کے اندر غضب کی تاثیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین اور کافرین پر برے ساتھی مسلط کردئیے گئے (وَقَیَّضْنَا لَہُمْ قُرَنَاءَ ) (اور ہم نے ان کے اوپر ساتھی مسلط کردئیے) جو انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنات میں سے بھی اور ان کے ساتھ لگے رہتے ہیں (فَزَیَّنُوْا لَہُمْ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ ) ان ساتھیوں نے ان کے اعمال کو مزین کردیا اور ان کو اچھا بتا کر پیش کیا گناہوں کو اچھا کرکے دکھایا لذتوں پر ابھارا شہوتوں میں پڑنے کی ترغیب دی اور انہیں یہ بھی سمجھایا جو مزے اور اڑا سکتے ہو اڑا لو موت کے بعد نہ جی اٹھنا ہے نہ جنت ہے نہ دوزخ، ان ساتھیوں کی باتوں میں آکر کفر و شرک اختیار کیا گناہوں میں منہمک رہے۔ لہٰذا عذاب کے مستحق ہوئے (مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ ) کے بارے میں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ پہلے لفظ سے آخرت مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ انہیں یہ سمجھایا کہ حساب کتاب اور جنت دوزخ کچھ نہیں اور (وَمَا خَلْفَہُمْ ) کے بارے میں فرمایا کہ اس سے دنیا والی زندگی مراد ہے انہوں نے اس دنیا میں کفر کو اچھا بتایا اور خواہشوں اور لذتوں پر ڈالا اور ابھارا۔ سورۃ الزخرف میں فرمایا (وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ وَاِِنَّہُمْ لَیَصُدُّونَہُمْ عَنْ السَّبِیْلِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُہْتَدُوْنَ ) (اور جو شخص اندھا بنتا ہے رحمن کی یاد سے ہم اس پر تعینات کردیا کرتے ہیں ایک شیطان سو وہ اس کے ساتھ رہتا ہے شیاطین ان کو روکتے ہیں راہ سے اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ راہ پر ہیں) (وَحَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ فِیْ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِِنسِ ) اور ان پر عذاب والی بات ثابت ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ طے کردیا گیا کہ ان کو عذاب میں داخل ہونا ہے، ان سے پہلے جو امتیں جنات میں سے اور انسانوں میں سے گزر چکی ہیں یہ بھی انہیں میں شامل کردئیے گئے یعنی وہ بھی عذاب میں داخل ہوئے، اور یہ بھی (اِِنَّہُمْ کَانُوْا خَاسِرِیْنَ ) (بلاشبہ یہ سب لوگ خسارے والے تھے) دنیا میں آئے زندگی ملی جان ملی اعضا دئیے گئے، اموال کے مالک ہوئے لیکن سب کچھ کھو دیا اور ضائع کردیا اب تو عذاب ہی عذاب ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

25:۔ ” وقیضنا لہم “ یہ دوسرے شکوے کی تمہید ہے اور اس سورت کا مقصود ہی مقام ہے۔ سورة مومن کے مرکزی دعوے پر جو اعتراض اور شبہہ وارد ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ شبہہ یہ ہے کہ تم کہتے ہو کہ مصائب و حاجات میں اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو، اس لیے کہ اس کے سوا کوئی متصرف و مختار اور کارساز نہیں۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائے اور غیر اللہ کو پکارے یا غیر اللہ کے نام نذر و منت مانے، تو وہ مصیبت سے چھوٹ جاتا ہے۔ نیز بعض اوقات پیر و مرشد اور بزرگان دین اپنے عقید مندوں کو خواب میں ملتے ہیں یا کبھی بیداری ہی میں سامنے آجاتے ہیں تو کہتے ہیں یہ تکلیف تمہیں اس لیے آئی کہ تم نے ہمیں پکارا نہیں یا ہماری نذر و نیاز میں قصور کیا ہے۔ اور بعض دفعہ وہ پکارنے والے کے سامنے حاضر ہو کر اس کی مدد بھی کرتے ہیں تو اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ ایسے ضدی اور معاند لوگ جن کے ضمیر مردہ ہوچکے ہوں اور ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہو۔ ان پر شیاطین مسلط کردئیے جاتے ہیں جو ہر ممکن طریقہ سے انہیں گمراہی میں آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ اور کفر و شرک اور ہر گناہ کو ان کی نظروں میں مزین اور خوب صورت بنا کر پیش کرتے ہیں وہ خود ہی مس شیطانی سے انسان کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ جب وہ غیر اللہ کو پکارتا ہے، تو اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ کبھی بزرگان دین اور اولیاء کرام کی شکلوں میں متمثل ہو کر خواب میں یا بیداری میں سامنے آ کر گمراہ کرتے ہیں۔ اور شرک کی تعلیم دیتے ہیں۔ سلطانا علیہم قرناء یزینون عندھم المعاصی وھؤلاء القرناء من الجن والشیاطین ومن الانس ایضا (قرطبی ج 15 ص 354) ای بعثنا ووکلنا لھم نظراء من الشیاطین حتی اضلوھم (معالم و خازن ج 6 ص 110) ۔ ولا یغرنک انا لمستغیث بمخلوق قد تضی منہ عز و جل۔ وقد یتمثل الشیطان للمستغیث فی صورۃ الذی استغاث بہ۔ فیظن ان ذلک کر امۃ لمن استغاث بہ، ھیھات ھیھات انما ھو شیطان اضلہ واغواہ وزین لہ ھواہ، وذلک کما یتکلم الشیطان فی الاصنام لیضل عبد تھا الطعام (روح ج 6 ص 129) ۔ یہی مضمون ایک دوسری جگہ اس طرح ذکر کیا گیا ہے۔ ” ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطانا فھو لہ قرین، وانہم لیصدونہم عن السبیل ویحسبون انہم مہتدون “ (زخرف رکوع 4) ۔ شیخ شہاب الدین سہروردی عوارف المعارف میں فرماتے ہیں کہ جب شیطان کسی کو گمراہ کرلیتا ہے تو اس کو ذکر میں مصروف کر کے اس کا دل بہلاتا ہے۔ تاکہ وہ شرک پر متنبہ نہ ہوجائے۔ عارف رومی نے کہا ہے : برزبان نام حق، برجانِ شان، گند و کفر و شرک بر ایمان شان۔ 26:۔ ” ما بین ایدیہم “ یہ کنایہ ہے۔ ” من کل جانب “ سے یعنی شیطاطین، مشرکین کو ہر ممکن طیرق سے گمراہ کرتے ہیں، اور انہیں شرک کی حمایت کا حیلہ بتاتے ہیں۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔ یا اس سے دنیوی اور اخروی امور مراد ہیں یعنی شیاطین ان کو اتباع شہوات اور تکذیب آخرت پر آمادہ کرتے ہیں (مظہری) وحق علیہم القول۔ فی بمعنی مع ہے۔ یا مضاف مقدر ہے ای فی جملۃ امم (مدارک، قرطبی) ۔ ان مشرکین مکہ پر اور ان سے پہلے جن وانس میں سے جو امم کافرہ گذر چکی ہیں۔ ان سب پر عذاب الٰہی کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہے یہ لوگ دنیا میں بھی خائب و خاسر رہے کہ سب اعمال رائیگاں ہوئے اور آخرت میں بھی ناکام و نامراد ہوں گے کہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(25) اور ہم نے ان کفار کے لئے کچھ ایسے ہم نشین مقرر کردیئے تھے جنہوں نے ان کی نگاہ میں ان کے پہلے اور پچھلے اعمال کو یا دنیا اور آخرت کو خوش نما اور امید افزا اپنا رکھا تھا اور آج ان کافروں کے حق میں بھی اللہ تعالیٰ کا وہ کلمۃ العذاب پورا ہوکر رہا جو ان امتوں کے حق میں ہوا تھا جو امتیں جنات اور انسان کی ان سے پہلے گزر چکی ہیں کیونکہ وہ سب زیاں کار تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان کا کفر وعناد اور سرکشی بڑھ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و ہدایت کا اثرکم ہوجاتا ہے اور شیطان کا اثر بڑھ جاتا ہے اور شیطان اس پر قابو پالیتا ہے اور اس کو برے اعمال کو خوبیاں اور بھلائیاں سمجھاتا ہے اور آخر برباد کرکے چھوڑتا ہے آٹھویں پارے ولواننا میں تفصیل گزر چکی ہے۔ یہی معنی ہیں شیطان مقرر کردینے کے حضرت حق تعالیٰ کی توجہات خصوصی کے ہٹ جانے اور بہت کش ہوجانے کا نام ہے شیطانی اثرکاغلبہ اسی کو پانچویں پارے میں فرمایا فولہ ماتولی یعنی جس طرف اور جس راہ جاتا ہے اسے جانے دیتے ہیں۔ بہرحال ! وہ شیطان دوست اور ہم نشین وہم جلیس ہوجاتا ہے پہلے اعمال جو وہ کرچکا اور آئندہ جن کا ارادہ رکھتا ہے ان سب کو آراستہ اور خوش منظر کرکے دکھاتا ہے اور انسان ان میں مبتلا ہوتا چلا جاتا ہے۔ ما بین ایدیھم وماخلفھم۔ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ دنیا کی رغبت اور آخرت کی نفرت کو اچھا اور خوشنما کرکے دکھاتا ہے۔ اسی حالت میں یہ کفارم کہ مبتلا ہیں اور جب یہ موجودہ کفار کے خوگر ہوجاتے ہیں تو پھر ان کے ساتھ بھی وہی برتائو ہوتا ہے جو ان امتوں کے ساتھ ہوا جو ان سے پہلے گزرچکی ہیں خواہ وہ جنات کی ہوں یا انسانوں کی ہوں اور قول وہی لا ملان جھنم من الجنۃ والناس اجمعین۔ یعنی وہ بات پوری ہوگی کہ سابقہ امم کافرہ کو اور موجودہ کافروں کو جہنم میں جھونک دیاجائے کیونکہ وہ اور یہ سب زیاں کار اور نقصان اٹھانے والے تھے آگے کفار کے اور اقوال شنیعہ مذکور ہیں۔