Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 29

سورة حم السجدہ

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ نَجۡعَلۡہُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِیَکُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِیۡنَ ﴿۲۹﴾

And those who disbelieved will [then] say, "Our Lord, show us those who misled us of the jinn and men [so] we may put them under our feet that they will be among the lowest."

اور کافر لوگ کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں جنوں انسانوں ( کے وہ دونوں فریق ) دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے ( تاکہ ) ہم انہیں اپنے قدموں تلے ڈال دیں تاکہ وہ جہنم میں سب سے نیچے ( سخت عذاب میں ) ہوجائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

That is the recompense of the enemies of Allah: the Fire. Therein will be for them the eternal home, a recompense for that they used to deny Our Ayat. And those who disbelieve will say: "Our Lord! Show us those among Jinn and men who led us astray, that we may crush them under our feet so that they become the lowest." It was reported that Ali, may Allah be pleased with him, said, concerning the phrase, الَّذَيْنِ أَضَلَّنَا (those who led us astray): "Iblis and the son of Adam who killed his brother." As-Suddi reported that Ali, may Allah be pleased with him, said; "Iblis is followed by everyone who commits Shirk and the son of Adam is followed by everyone who commits a major sin. So Iblis is the one who calls people to every evil thing, such as Shirk and lesser sins." As for the first son of Adam, it is as confirmed in the Hadith: مَا قُتِلَتْ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلاَّ كَانَ عَلَى ابْنِ ادَمَ الاْاَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لاِاَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْل No soul is wrongfully killed, but a share of the burden (of that sin) will be upon the first son of Adam, because he was the first one who set the precedent of killing another. ... نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا ... that we may crush them under our feet, means, `make them beneath us in the torment, so that they will be punished more severely than us.' ... لِيَكُونَا مِنَ الاَْسْفَلِينَ so that they become the lowest. means, in the lowest level of Hell, as already mentioned in Surah Al-A`raf, where the followers ask Allah to multiply the torment for their leaders: قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ (Allah) said: "For each one there is double (torment), but you know not." (7:38) i.e., Allah will give each of them the torment and punishment they deserve for their deeds. This is like the Ayah: الَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَـهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يُفْسِدُونَ Those who disbelieved and hinder (men) from the path of Allah, for them We will add torment to the torment because they used to spread corruption. (16:88)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

29۔ 1 اس کا مفہوم واضح ہے کہ گمراہ کرنے والے شیاطین ہی نہیں ہوتے تاہم بعض نے جن سے ابلیس اور انسانوں سے قابیل مراد لیا ہے، جس نے انسانوں میں سے سب سے پہلے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے ظلم اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا اور حدیث کے مطابق قیامت تک ہونے والے ناجائز قتلوں کے گناہ کا ایک حصہ بھی اس کو ملتا رہے گا ہمارے خیال میں پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔ 29۔ 2 یعنی اپنے قدموں سے انہیں روندیں اور اس طرح ہم انہیں خوب ذلیل و رسوا کریں جہنمیوں کو اپنے لیڈروں پر جو غصہ ہوگا اس کی تشفی کے لیے وہ یہ کہیں گے ورنہ دونوں ہی مجرم ہیں اور دونوں ہی یکساں جہنم کی سزا بھگتیں گے جیسے دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :38) جہنمیوں کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا تذکرہ فرما رہا ہے جیسا کہ عام طور پر قرآن کا انداز ہے تاکہ ترہیب کے ساتھ ترغیب اور ترغیب کے ساتھ ترہیب کا بھی اہتمام رہے گویا انذار کے بعد اب تبشیر۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] گمراہوں کی اپنے لیڈروں کو پاؤں تلے روندنے کی آرزو :۔ یہاں جنوں سے مراد شیطان ہیں یعنی بدکردار جن جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں۔ قیامت کے دن کافر جب اپنا انجام دیکھیں گے تو انہیں اپنے وہ قائد، وہ سیاسی لیڈر وہ مذہبی پیشوا یاد آئیں گے جن کے پیچھے لگ کر یہ گمراہ ہوئے تھے۔ وہ اللہ سے التجا کریں گے کہ آج وہ قائد ہمیں دکھادے تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں کے نیچے مسل کر کچھ تو انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرلیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وقال الذین کفروا ربنا ارنا…: اس سے پہلے آیت (٢٥) (وقیضنا لھم قرنآء …) میں کفار کے اعمال بد کی وجہ سے ان پر جن و انس کے وہ قرین مسلط کرنے کا ذکر ہے جو ان کے لئے ان کے برے اعمال خوش نما بنا کر پیش کرتے رہے، حتیٰ کہا ان پر جہنمی ہونے کا ٹھپا پکا ہوگیا ۔ اب جہنم میں کفار کی اپنے ان دوستوں کے متعلق خواہش اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کا ذکر ہے۔ (٢) کفار یہ بات جہنم میں جانے کے بعد کہیں گے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مضای کا صیغہ ” قال “ استعمال فرمایا : کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بات اتنی یقینی ہے کہ سمجھو یہ کام ہوچکا۔ (٣) قیامت کے دن جہنمی اپنے گمراہ کرنے والے جن و انس میں سے شیاطین دوستوں پر سخت ناراض ہوں گے اور ان کی خواہش ہوگی کہ انہیں زیادہ سے زیادہ عذاب ہو۔ “ ارنا “ کا لفظی معنی اگرچہ ” ہمیں دکھا “ ہے، مگر مراد یہ ہے کہ پروردگار ! تو انھیں ہمارے حوالے کر، تاکہ ہم انھیں اپنے قدموں کے نیچے روندیں، تاکہ وہ سب سے نیچے لوگوں میں شامل ہوں۔ ہر کافر خود گمراہ ہونے کے ساتھ دوسروں کو گمراہ کرنے کا مجرم بھی ہے۔ کفار کی یہ خواہش پوری ہوگی یا نہیں، اس کے لئے دیکھیے سورة اعراف (٣٨، ٣٩) اور سورة ص (٥٥ تا ٦١) ۔ (٤) اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن صرف ایمان والوں کی دوستی باقی رہیگ ی، دوسرے سب ایک دوسرے میں سے دشمن ہوجائیں گے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (١٦٦، ١٦٧) اور سورة زخرف (٦٨) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَآ اَرِنَا الَّذَيْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْہُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِيَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِيْنَ۝ ٢٩ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ جِنَّة : جماعة الجن . قال تعالی: مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] ، وقال تعالی: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] . ۔ الجنتہ جنوں کی جماعت ۔ قرآن میں ہے ۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] جنات سے ( ہو ) یا انسانوں میں سے وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا ۔ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب «1» ، وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس «2» ، وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل : سمّي بذلک لأنه خلق خلقة لا قوام له إلا بإنس بعضهم ببعض، ولهذا قيل : الإنسان مدنيّ بالطبع، من حيث لا قوام لبعضهم إلا ببعض، ولا يمكنه أن يقوم بجمیع أسبابه، وقیل : سمّي بذلک لأنه يأنس بكلّ ما يألفه «3» ، وقیل : هو إفعلان، وأصله : إنسیان، سمّي بذلک لأنه عهد اللہ إليه فنسي . ( ان س ) الانس یہ جن کی ضد ہے اور انس ( بضمہ الہمزہ ) نفور کی ضد ہے اور انسی ۔ انس کی طرف منسوب ہے اور انسی اسے کہا جاتا ہے ۔ جو بہت زیادہ مانوس ہو اور ہر وہ چیز جس سے انس کیا جائے اسے بھی انسی کہدیتے ہیں اور جانور یا کمان کی وہ جانب جو سوار یا کمانچی کی طرف ہو اسے انسی کہا جاتا ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جانب کو وحشی کہتے ہیں انس کی جمع اناسی ہے قرآن میں ہے :۔ { وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا } ( سورة الفرقان 49) بہت سے ( چوریاں ) اور آدمیوں کو ۔ اور نفس انسانی کو ابن انسک کہا جاتا ہے ۔ انس ( افعال ) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھتا ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ { فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا } ( سورة النساء 6) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو ۔ انست نارا (27 ۔ 7) میں نے آگ دیکھی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا } ( سورة النور 27) کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تم ان سے اجازت لے کر انس پیدا نہ کرلو ۔ الانسان ۔ انسان چونکہ فطرۃ ہی کچھ اس قسم کا واقع ہوا ہے کہ اس کی زندگی کا مزاج باہم انس اور میل جول کے بغیر نہیں بن سکتا اس لئے اسے انسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ انسان طبعی طور پر متمدن واقع ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ آپس میں بیل جوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اکیلا ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اسے جس چیز سے محبت ہوتی ہے اسی سے مانوس ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اسے انسان کہا جاتا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ انسان اصل میں انسیان پر وزن افعلان ہے اور ( انسان ) چونکہ اپنے عہد کو بھول گیا تھا اس لئے اسے انسان کہا گیا ہے ۔ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ تحت تَحْت مقابل لفوق، قال تعالی: لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] ، وقوله تعالی: جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ، تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ [يونس/ 9] ، فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] ، يَوْمَ يَغْشاهُمُ الْعَذابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ العنکبوت/ 55] . و «تحت» : يستعمل في المنفصل، و «أسفل» في المتصل، يقال : المال تحته، وأسفله أغلظ من أعلاه، وفي الحدیث : «لا تقوم الساعة حتی يظهر التُّحُوت» «4» أي : الأراذل من الناس . وقیل : بل ذلک إشارة إلى ما قال سبحانه : وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] . ( ت ح ت) تحت ( اسم ظرف ) یہ فوق کی ضد ہے قرآن میں ہے :۔ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] تو ( ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ۔ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ( نعمت کے ) باغ میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے آواز دی ۔ تحت اور اسفل میں فرق یہ ہے کہ تحت اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری کے نیچے ہو مگر اسفل کسی چیز کے نچلا حصہ کو جیسے ۔ المال تحتہ ( مال اس کے نیچے ہے ) اس کا نچلا حصہ اعلیٰ حصہ سے سخت ہے ) حدیث میں ہے (48) لاتقوم الساعۃ حتیٰ یظھر النحوت کہ قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ تا وقی کہ کمینے لوگ غلبہ حاصل نہ کرلیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حدیث میں آیت کریمہ ؛۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] اور جب یہ زمین ہموار کردی جائے گی اور جو کچھ اس میں سے اسے نکلا کر باہر ڈال دے گی ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ قدم ( پاؤں) القَدَمُ : قَدَمُ الرّجل، وجمعه أَقْدَامٌ ، قال تعالی: وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدامَ [ الأنفال/ 11] ، وبه اعتبر التّقدم والتّأخّر، ( ق د م ) القدم انسان کا پاؤں جمع اقدام ۔ قرآن میں ہے : وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدامَ [ الأنفال/ 11] اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے ۔ اسی سے تقدم کا لفظ لیا گیا ہے جو کہ تاخر کی ضد ہے سفل السُّفْلُ : ضدّ العلو، وسَفُلَ فهو سَافِلٌ ، قال تعالی: فَجَعَلْنا عالِيَها سافِلَها [ الحجر/ 74] ، وأَسْفَل ضدّ أعلی، ( س ف ل ) السفل یہ علو کی ضد ہے اور سفل ( سفولا ) فھوا سافل کے معنی پست اور حقیر ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے فَجَعَلْنا عالِيَها سافِلَها [ الحجر/ 74]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور دوزخ میں یہ کفار کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دونوں دکھلا دیجیے جنہوں نے ہمیں حق و ہدایت سے گمراہ کیا ہے یعنی جنوں میں سے ابلیس کو اور انسانوں میں سے قابیل کو جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا ہے یا یہ کہ جنوں میں سے ابلیس اور شیاطین کو اور انسانوں میں سے ہمارے سرداروں کو تاکہ ہم اس عذاب میں ان کو پیروں تلے روند ڈالیں تاکہ وہ عذاب کے ذریعے خوب ذلیل ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩ { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا رَبَّنَآ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ } ” اور جو کافر ہیں وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ذرا ہمیں دکھا دے ِجنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا “ وہاں جہنم میں بڑے بڑے سرداروں اور لیڈروں کے خلاف ان کے عوام واویلا کر رہے ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ اے پروردگار ! اس وقت ہم ان لوگوں کو دیکھنا چاہتے ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ وہ لوگ جو ہمیں قرآن سننے سے روکتے رہے ‘ جنہوں نے ہماری عقلوں پر پردے ڈال دیے تھے ‘ جنہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں ہمیں ورغلایا ‘ ان کے بارے میں ہمارے دلوں میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کیے ‘ اور ہمارے اور ان کی دعوت کے درمیان آڑ بن گئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس وقت انہیں ہمارے سامنے لایا جائے تاکہ : { نَجْعَلْہُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَکُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ } ” ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے روندیں ‘ تاکہ وہ ہوجائیں سب سے نیچے والے۔ “ اگلی سات آیات اپنے مضمون کے لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ ” مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب “ کے پہلے حصے کا چوتھا درس انہی آیات پر مشتمل ہے۔ منتخب نصاب کے اس حصے میں چار جامع اسباق ہیں اور ان چاروں اسباق یادروس میں مضمون کے اعتبار سے ایک خاص ترتیب اور تدریج پائی جاتی ہے۔ ان میں پہلا درس سورة العصر پر مشتمل ہے : { وَالْعَصْرِ ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ۔ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّلا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ۔۔ یہ سورت قرآن حکیم کی تین مختصر ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس میں اخروی نجات کے لیے چار شرائط بیان کی گئی ہیں۔ اس کے بعد دوسرا درس آیت البر (سورۃ البقرۃ کی آیت ١٧٧) پر مشتمل ہے۔ اس آیت میں وہی چار نکات قدرے وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں جن کا ذکر سورة العصر میں ہوا ہے۔ تیسرے درس کے لیے سورة لقمان کے دوسرے رکوع کو منتخب کیا گیا ہے۔ اس رکوع میں یہی مضمون ذرا مختلف انداز میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتوں کے حوالے سے بیان ہوا ہے۔ اس طرح سورة العصر کا مضمون ایک خاص ترتیب اور تدریج کے ساتھ چوتھے درس (زیر مطالعہ سورت کی آیات ٣٠ تا ٣٦) میں اپنے نقطہ عروج تک پہنچ گیا ہے۔ چناچہ ان سات آیات کے اندر آپ کو سورة العصر کے چاروں موضوعات (ایمان ‘ اعمالِ صالحہ ‘ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر) میں سے ہر ایک کی چوٹی نظر آئے گی ‘ اور پھر انہی سات آیات کے عین درمیان میں وہ آیت بھی (آیت ٣٣) آئے گی جو اس سورت کا عمود ہے۔ اس آیت کی مثال ایک بہت بڑے ہیرے کی سی ہے جوان سات آیات کے خوبصورت ہار کے عین وسط میں اپنی خصوصی آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا ہے۔ اس تمہید کے بعد آئیے اب ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

31 That is, "In the world these people were at the beck and call of their leaders and religious guides and deceitful devils, but when on the Day of Resurrection they will come to know where their leaders had led them, they will curse them and would wish that they should somehow get hold of them so that they may trample them under their foot."

سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :31 یعنی دنیا میں تو یہ لوگ اپنے لیڈروں اور پیشواؤں اور فریب دینے والے شیاطین کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں ، مگر جب قیامت کے روز انہیں پتہ چلے گا کہ یہ رہنما انہیں کہاں لے آئے ہیں تو یہی لوگ انہیں کوسنے لگیں گے اور یہ چاہیں گے کہ وہ کسی طرح ان کے ہاتھ آ جائیں تو پکڑ کر انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

13: دنیا میں انسان کے جو ساتھی اسے دین سے غافل کر کے گمراہ کرتے رہے، وہ بھی اس میں داخل ہیں، اور وہ شیطان جو اسے بہکاتا رہا، وہ بھی۔ ان دونوں کے بارے میں دوزخی شخص یہ کہے گا کہ مجھے یہ گمراہ کرنے والے نظر آجائیں تو میں انہیں پاؤں تلے روند ڈالوں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:29) ارنا الذین اضلنا : ار فعل امر واحد مذکر حاضر ، اراء ۃ (افعال) مصدر نا ضمیر جمع متکلم تو ہمیں دکھا۔ الذین الذی کا تثنیہ اسم موصول بحالت نصب۔ (وہ دو مرد) جنہوں (نے) اضلنا۔ اضلال (افعال) سے ماضی کا صیغہ تثنیہ مذکر غائب ہے۔ نا ضمیر جمع متکلم (ن) دونے ہمیں بہکایا یا گمراہ کیا۔ (تثنیہ کا صیغہ دو اشخاص کے لئے بھی آسکتا ہے اور دو گروہوں کے لئے بھی یعنی یہ بہکانے والے شیطان سیرت خواہ انسان میں سے ہوں یا جنات میں سے (ان کو ہمارے سامنے لے آ) نجعلہا : مضارع جمع متکلم مجزوم بوجہ جواب امر۔ ھما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر غائب ہم ان دونوں کو کریں (اپنے قوموں کے نیچے) یعنی ان کو اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالیں۔ اسفلین : اسفل کی جمع۔ اسفل افعل التفضیل کا صیغہ ہے بمعنی سب سے نیچا۔ اعلیٰ کی ضد ہے۔ فروترین، کہترین۔ ذلیل ترین، السفل بمعنی پست ہونا۔ حقیر ہونا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی جن کی ہم دنیا میں پیروی کر کے گمراہ ہوئے۔4 حضرت علی (رض) سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ’ اس میں جن سے مراد ابلیس اور آدمی سے مراد آدم (علیہ السلام) کا بیٹا قابیل ہے۔ ( شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی اس وقت ان لوگوں پر غصہ آوے گا جنہوں نے بہکایا تھا، آدمی بھی شیطان بھی، اور اس درخواست کا منظور ہونا ضرور نہیں، اور یوں تو مضلین بھی نار میں ہوں گے مگر شاید درخواست کے وقت نظر نہ آویں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا جہنم میں داخل ہونے کے بعد اپنے لیڈروں، علماء اور مرشدوں کے خلاف رد عمل۔ رب ذوالجلال سے جہنّمی مطالبہ کریں گے کہ ہمارے رب ! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لیڈر اور مرشد دکھلا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا اور ان کی وجہ سے ہم جہنّم میں داخل ہوئے۔ اگر وہ ہمارے ہاتھ چڑھ جائیں تو ہم انہیں اپنے پاؤں تلے روند کر سب کے سامنے ذلیل کریں گے اور کہیں گے کہ اے ذلیلو ! اگر تم ہمیں گمراہ نہ کرتے تو آج ہم جہنم کی بجائے جنت میں موجیں مار رہے ہوتے۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں لیڈر اور ان کے ور کر، پیر اور ان کے مرید، علماء اور ان کے مقتدی آپس میں جھگڑا کریں گے : ١۔ پوجنے والے اور جن کو وہ پوجتے تھے انہیں اکٹھا کیا جائے گا۔ پھر انہیں جہنم کے راستہ پر ڈال دیا جائے گا۔ (الصّٰفّٰت : ٢٢ تا ٣١) ٢۔ تم پر اللہ کی مار تمہاری وجہ سے اس مصیبت کا ہمیں سامنا کرنا پڑا ہے۔ (ص : ٦٠) ٣۔ جہنمی جہنم میں ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔ (یونس : ٤٥) ٤۔ جہنمی اپنے سے پہلوں کے بارے میں کہیں گے انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ (الاعراف : ٣٨) ٥۔ جب وہ جہنم میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ یقیناً ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے تھے، تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹاسکتے ہو۔ (المومن : ٤٧) ٦۔ بڑے اور تکبر کرنے والے کمزوروں سے کہیں گے کہ تم تو خودہی مجرم تھے۔ ( سبا : ٣٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ بہت سخت غصہ ہے۔ یہ لوگ اب انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں اور ان کے دلوں میں یہ خواہش ہے کہ ۔ نجعلھما تحت اقدامنا (٤١ : ٢٩) ” ہم انہیں پاؤن تلے روند ڈالیں “۔ لیکونا من الاسفلین (٤١ : ٢٩) ” تا کہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں “۔ لیکن پہلے تو تم دوست تھے ، گہرے یار تھے ، ان کے وسوسوں اور ان کی تزئین پر تم یقین کرتے تھے۔ یہ تو انجام تھا وسوسوں کا اور عوام کو گمراہ کرنے کا۔ لیکن لوگوں کی اصلاح کے لئے جدو جہد کرنے والوں کا بھی ایک انجام اور اجر ہے۔ یہ مومن ہیں ، جنہوں نے اخلاص کے ساتھ کہہ دیا کہ بس اللہ ہمارا رب ہے ، پھر اپنی راہ پر استقامت اختیار کی یعنی ایمان لائے اور عمل صالح کیا۔ ایسے لوگوں پر اللہ پھر برے ساتھی مسلط نہیں کرتا۔ ان کے ساتھ ملائکہ ہوتے ہیں جو ہر وقت ان کے دلوں پر امن و اطمینان وحی کرتے رہتے ہیں اور ان کو جنت کی خوشخبری دیتے رہتے ہیں اور یہ فرشتے ان کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں میں محبت کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29:۔ ” وقال الذین۔ الایۃ “ یہ آیت مشرک پیشواؤں، گمراہ کن پیروں اور ان کے متبعین کے حق میں ہے قیامت کے دن جب مشرکین جہنم کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ تو غیظ و غضب سے کہیں گے : ہمارے پروردگار ! ذرا ہمیں وہ شیاطین جن اور شیاطین انس (گمراہ کرنے والے مشرک پیشوا) تو دکھاوے جنہوں نے ہمیں سیدھی راہ سے بھٹکایا اور توحید سے ہٹا کر شرک کی راہ پر ڈالا۔ ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالیں اور مسل دیں اور اس طرح آج ان کو سرِ محشر ذلیل ورسوا کریں۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈالیں۔ تاکہ انہیں سب سے زیادہ سخت عذاب ہو (بیضاوی) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(29) اور یہ دین حق کے منکر یوں کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو جنات میں سے اور انسانوں میں سے جن جن لوگوں نے بہکایا اور گمراہ کیا تھا ان دونوں گروہوں کو ذرا ہم کو دکھادے کہ ہم ان کو اپنے پائوں تلے روند ڈالیں تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں اور نیچے رہنے والوں میں سے ہوجائیں یعنی قیامت کے دن عذاب کو دیکھ کر اور جہنم میں مبتلائے عذاب ہو کر یہ کفارگمراہ کرنے والوں سے انتقام لینے کی آرزو کریں گے اور ان پر غصہ اتارنا چاہیں گے کہ جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا اور بہکایا خواہ وہ جن ہوں یا آمی ہوں ان دونوں گروہوں کو ہمیں دکھلا دے تاکہ ان کو پائوں تلے ڈال کر ہم خوب مسلیں اور خوب روندیں اور وہ خوب ذلیل ہوں اور ان کو سافلین والوں میں کردیں اور وہ ان لوگوں میں سے ہوجائیں جو نیچے والے ہیں اگرچہ وہ گمراہ کرنے والے بھی جہنم میں ہونگے لیکن شاید نظر نہ پڑیں گے اس لئے اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے۔ اورچونکہ بہکانے والے اور گمراہ کرنے والے یہی دو ہیں یا شیطان یا انسان نما شیطان۔ وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیاطین الانس والجن۔