Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 3

سورة حم السجدہ

کِتٰبٌ فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۳﴾

A Book whose verses have been detailed, an Arabic Qur'an for a people who know,

ایسی کتاب جس کی آیتوں کی واضح تفصیل کی گئی ہے ( اس حال میں کہ ) قرآن عربی زبان میں ہے اس قوم کے لئے جو جانتی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

كِتَابٌ فُصِّلَتْ ايَاتُهُ ... A Book whereof the Ayat are explained in detail, means, its meanings are clear and its rulings are sound and wise. ... قُرْانًا عَرَبِيًّا ... a Qur'an in Arabic, means, because it is a clear Arabic Qur'an, its meanings are precise and detailed and its words are clear and not confusing. This is like the Ayah: كِتَابٌ أُحْكِمَتْ ءايَـتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ (This is) a Book, the Ayat whereof are completed, and then explained in detail from One (Allah), Who is All-Wise Well-Acquainted. (11:1) meaning, it is miraculous in its wording and in its meanings. لااَّ يَأْتِيهِ الْبَـطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلااَ مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ Falsehood cannot come to it from before it or behind it, (it is) sent down by the All-Wise, Worthy of all praise. (41:42) ... لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ for people who know. means, this clear style will be readily understood by scholars who are thoroughly versed in knowledge.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 یعنی کیا حلال ہے اور کیا حرام ؟ یا طاعت کیا ہیں اور معاصی کیا ؟ یا ثواب والے کام کون سے ہیں اور عقاب والے کون سے ؟ 3۔ 2 یہ حال ہے۔ یعنی اس کے الفاظ عربی ہیں، جن کے معانی مفصل اور واضح ہیں۔ 3۔ 3 یعنی اس کے الفاظ عربی ہیں، جن کے معانی و مفا ہیم اور اس کے اسرار و اسلوب کو جانتی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) کتب فضلت ایتہ : ” فضلت “ کا کچھب یان سورة ہود کی پہلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں :” یعنی ان میں مختلف مضامین عقائد، حرام و حلال، گزشتہ اقوام کے واقعات اور مثالیں وغیرہ کھول کھول کر واضح انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔ “ (اشرف الحواشی) یہ ” کتب “ کی پہلی صفت ہے۔ (٢) قراناً عریباً : یہ دوسری صفت ہے۔ تفسیر کیلئے دیکھیے سورة یوسف (٢) اور سورة شعراء (١٩٥) (٣) لقوم یعلمون : یہ تیسری صفت ہے۔ ” لقوم “ کا لام ” تنزیل “ کے متعلق بھی ہوسکتا ہے اور ” فضلت “ کے بھی۔ یعنی یہ کتاب ان لوگوں کے لئے نازل کی گئی ہے اور انھی کے لئے اس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں جو جانتے ہیں، یا جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔ گویا یہ ان کے لئے ہے ہی نہیں جو علم کے بجائے اپنی خواہش نفس یا آباد اکابر کی تقلید کے پیروکار ہیں، کیونکہ ان کا عناد اور تعصب انہیں سوچنے سمجھنے حتیٰ کہ سننے کی بھی اجازت نہیں دیتا (دیکھیے حم السجدہ : ٢٦) اور نہ سننا اور نہ سمجھنا ہی لوگوں کو جہنم میں لے جائے گا، جیسا کہ سورة ملک میں ہے :(وقالوا لوکنا نسمع او نعقل ماکنا فی اصحب السعیر) (الملک : ١٠)” اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔ “ یہی بات متعدد آیات میں بیان فرمائی، فرمایا :(وتلک الامثال نصربھا للناس ، وما یعقلھا الا العلمون) (العنکبوت : ٧٣)” اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں اور انہیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں ۔ “ اور فرمایا :(بل ھو ایت بینت فی صدور الذین اوتوا العلم) (العنکبوت : ٧٩)” بلکہ یہ تو اضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا ہے۔ “ اور فرمایا :(ان فی ذلک لایت للعلمین) (الروم : ٢٢)” بیشک اس میں جاننے والوں کے لئے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔ “ اور فرمایا :(انا انزلنہ قرء نا عربیا لعلکم تعقلون) (یوسف : ٢)” بیشک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

And after stating these qualities, it is said towards the end of the verse-3, لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (for a people who understand) which means that the verses of the Holy Qur&an being in Arabic, their being clear and evident and their communicating good news as well as warnings can only benefit those people who intend to ponder over them and understand them. But the Arabs and the Quraysh, despite all this, turned away from the Qur&an, and let alone trying to understand, they did not even bear to listen to the Qur&an. This has been mentioned at the end of verse 4: |"Yet most of them turned away, so they do not listen.|"

اور ان سب صفات کو بیان کر کے آخر میں فرمایا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ یعنی آیات قرآن کا عربی زبان میں ہونا واضح اور صاف ہونا اور بشارت ونذارت پر مشتمل ہونا، یہ سب ایسے ہی لوگوں کو نفع دے سکتا ہے جو سوچنے اور سمجھنے کا ارادہ کریں۔ یعلمون کے لفظ سے اس جگہ یہی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مراد ہے۔ اسی لئے خلاصہ تفسیر میں اس کا ترجمہ دانشمند سے کیا گیا ہے۔ مگر عرب اور قریش نے ان سب باتوں کے باوجود اس سے اعراض کیا، سمجھنا کیا سننا بھی گوارہ نہ کیا جس کا ذکر انہی آیات میں فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ سے فرمایا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۝ ٣ ۙ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو تفصیل : ما فيه قطع الحکم، وحکم فَيْصَلٌ ، ولسان مِفْصَلٌ. قال : وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْناهُ تَفْصِيلًا[ الإسراء/ 12] ، الر كِتابٌ أُحْكِمَتْ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ [هود/ 1] ( ف ص ل ) الفصل التفصیل واضح کردینا کھولکر بیان کردینا چناچہ فرمایا : وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْناهُ تَفْصِيلًا[ الإسراء/ 12] اور ہم نے ہر چیز بخوبی ) تفصیل کردی ہے ۔ اور آیت کریمہ : الر كِتابٌ أُحْكِمَتْ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ [هود/ 1] یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم و خیبر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہیں ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ عَرَبيُّ : الفصیح البيّن من الکلام، قال تعالی: قُرْآناً عَرَبِيًّا[يوسف/ 2] ، وقوله : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، العربی واضح اور فصیح کلام کو کہتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ قُرْآناً عَرَبِيًّا[يوسف/ 2] واضح اور فصیح قرآن ( نازل کیا ) بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

یہ ایک کتاب ہے جس میں اوامرو نواہی اور حلال و حرام صاف صاف بیان کیے گئے ہیں اور ایسا قرآن ہے جو عربی زبان میں جبریل امین کے ذریعے رسول اکرم پر نازل کیا گیا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ { کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ } ” یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات خوب کھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں “ یعنی قرآن میں ہرچیز اور ہر موضوع کو تفصیل کے ساتھ علیحدہ علیحدہ (discretely) بیان کردیا گیا ہے۔ اس سورت کا دوسرا نام ( فُصِّلَتْ ) اسی جملے سے لیا گیا ہے۔ { قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ } ” قرآن عربی کی صورت میں ‘ ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہوں (یا علم رکھنا چاہیں) ۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:3) کتب بروزن فعال بمعنی مفعول ہے ای مکتوب وانما قیل لہ کتاب لانہ مکتوب فی اللوح المحفوظ۔ اسے کتاب اسلئے کہا گیا ہے کہ وہ لوح محفوظ پر مکتوب ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ (85:22) کتب مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ھذا کتب۔ فصلت ایتہ : فصلت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب تفصیل (تفعیل) مصدر سے۔ ایتہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی آیات : فصلت ایتہ جس کی آیات کھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں۔ یہ متعلق خبر (کتب) ہے۔ قرانا عربیا : موصوف و صفت، موصوف بوجہ ایتہ سے حال ہونے کے ہے ای فصلت ایتہ فی حال کونہ قرانا عربیا : جس کی آیات کھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں درآنحالیکہ یہ قرآن عربی زبان میں ہے۔ (یعنی یہ عربوں پر احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن عربی میں نازل فرمایا جس کا پڑھنا اور سمجھنا ان کے لئے دشوار نہیں اگر دوسری زبان میں نازل ہوتا تو عربوں کے لئے سمجھنا دشوار ہوتا۔ اگر عربیا کے معنی فصیح و بلیغ کے لئے جائیں تو پھر یہ خطاب تمام نبی نوع انسان کے لئے ہوگا۔ لیکن نفع اس سے برحال وہی اٹھائیں گے جو علم و فہم سے کام لیتے ہیں (یعنی اہل علم) ۔ لقوم یعلمون : اگر اسے فعل لازم مانا جائے تو ترجمہ ہوگا : اہل علم کے لئے ۔ یا اس کا مفعول محذوف ہے اور عبارت ہے لقوم یعلمون مانیہ۔ اس قوم کے لئے جو اس کے معانی جانتی ہے۔ (یعنی اہل عرب جو اس قرآن کے مخاطبین اول ہیں) ۔ لام تعلیل کا ہے یا اختصاص کا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی ان میں مختلف مضامین عقائد، حرام و حلال، گزشتہ اقوام کے واقعات اور مثالیں وغیرہ کھول کھول کر واضح انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔10 یعنی اصحاب علم و عقل ہیں اور اس کے معانی سمجھتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یعنی عربی میں اس لئے ہے تاکہ جن لوگوں میں اس کا نزول ہوا ہے وہ آسانی سے سمجھ لیں۔ 9۔ یعنی گو مکلف سب ہی ہیں، مگر منتفع صرف اہل دانش ہی ہوتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن کی آیات مفصل ہیں، وہ بشیر ہے اور نذیر ہے، منکرین اس سے اعراض کرتے ہیں حٰمٓ یہ حروف مقطعات میں سے ہے اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے اس کے بعد دو آیتوں میں قرآن مجید کی صفات بیان فرمائی، اول یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے جو رحمن ہے اور رحیم ہے یعنی بہت بڑا مہربان ہے بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے اس کی رحمت کا تقاضا ہوا کہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے کتاب نازل فرمائے دوم یہ کہ قرآن ایسی کتاب ہے جس کی آیات مفصل ہیں یعنی خوب صاف صاف بیان کی گئی ہیں سوم یہ فرمایا کہ یہ قرآن کی آیات ہیں جو عربی ہے اس کے اولین مخاطب اہل عرب ہیں اس کا سمجھنا ان کے لیے آسان ہے اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے چونکہ بہت اعلیٰ ہے اس لیے بطور معجزہ اہل عرب پر اس کے ذریعہ حجت قائم ہوچکی ہے اب جو شخص ایمان نہ لائے گا اپنا برا کرے گا یوں تو قرآن سب ہی کو حق کی دعوت دیتا ہے اور سب ہی پر اس کا ماننا اور اس پر ایمان لانا فرض ہے لیکن اہل علم ہی اس سے مستفید اور منتفع ہوتے ہیں اس لیے (لِقَوْمٍ یَعْلَمُوْنَ ) فرمایا چہارم (بَشِیرًا وَّنَذِیرًا) فرمایا کہ قرآن اپنے ماننے والوں کو بشارت دینے والا ہے اور منکرین کو ڈرانے والا ہے اس کے بعد لوگوں کی رو گردانی کا تذکرہ فرمایا باوجود یہ کہ قرآن اپنے ماننے والوں کو بشارت دینے والا ہے اور منکرین کو ڈرانے والا ہے اس کے بعد لوگوں کی رو گردانی کا تذکرہ فرمایا باوجود یہ کہ قرآن خوب اچھی طرح واضح طور پر بیان فرماتا ہے بشیر بھی ہے اور نذیر بھی اکثر لوگ اس کی طرف سے اعراض یعنی رو گردانی کرتے ہیں اور ساری سنی ان سنی کردیتے ہیں گویا کہ انہوں نے سنا ہی نہیں اسی کو فرمایا (فَاَعْرَضَ اَکْثَرُھُمْ فَہُمْ لاَ یَسْمَعُوْنَ ) اور نہ صرف یہ کہ ایمان نہ لائے اور جو کچھ سنا تھا اس کی طرف متوجہ نہ ہوئے بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرکے یوں کہنے لگے کہ ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے تمہاری دعوت نہ ہمارے کان سننے کو تیار ہیں اور نہ ہمارے دلوں کو اس کا قبول کرنا گواراہ ہے اور مزید یوں کہا کہ تم اگرچہ حسی اور جسمانی طور پر قریب ہو لیکن حقیقت میں ہمارے اور تمہارے درمیان بعد ہے اور پردہ ہے جو کچھ کہو ہم سننے اور ماننے والے نہیں ان لوگوں نے یہ بھی کہا (فَاعْمَلْ اِِنَّنَا عَامِلُوْنَ ) کہ آپ اپنا عمل کرتے رہیں ہم اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہیں گے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ تمہارا کاٹ کریں گے یہ کہہ کر دعوت حق سننے اور قبول کرنے سے بالکل ہی انکاری ہوگئے۔ ان لوگوں نے جو یہ کہا کہ ہمارے دلوں پر پردے ہیں اور کانوں میں ڈاٹ ہے چونکہ اس سے اصرار علی الکفر مقصود تھا اس لیے (وَ جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَھُوْہُ وَفِیْٓ اٰذَانِھِمْ وَقْرًا) اس کے منافی نہیں ہے جس میں جَعْلُ الْاَکِنَّۃِ عَلَی الْقُلُوْبِ کی نسبت اللہ جل شانہٗ کی طرف کی گئی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) یہ کلام ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں جدا جدا اور صاف و واضح ہیں یعنی ایسا قرآن کریم جو عربی زبان میں ہے ان لوگوں کے نفع کے واسطے جو دانشمند اور سمجھدار ہیں۔