Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 37

سورة حم السجدہ

وَ مِنۡ اٰیٰتِہِ الَّیۡلُ وَ النَّہَارُ وَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ ؕ لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَ لَا لِلۡقَمَرِ وَ اسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَہُنَّ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۳۷﴾

And of His signs are the night and day and the sun and moon. Do not prostrate to the sun or to the moon, but prostate to Allah , who created them, if it should be Him that you worship.

اور دن رات اور سورج چاند بھی ( اسی کی ) نشانیوں میں سے ہیں تم سورج کو سجدہ نہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجدہ اس اللہ کے لئے کرو جس نے سب کو پیدا کیا ہے اگر تمہیں اسی کی عبادت کرنی ہے تو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

From among the Signs of Allah Here Allah reminds His Creation of His power, and that He is the One Who has no equal, and He is Able to do all things. Allah's saying; وَمِنْ ايَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ... And from among His signs are the night and the day, and the sun and the moon. means, He created the night with its darkness and the day with its light, and they alternate without ceasing. And He created the sun with its shining light, and the moon with its reflected light, and He allotted their stages and gave them separate orbits in the heavens, so that by the variations in their movements man may know the stages of night and day, of weeks, months and years, and time periods related to people's rights, acts of worship and various transactions. Moreover, because the sun and moon are the most beautiful of the heavenly bodies that can be seen in both the upper and lower realms, Allah points out that they are created entities which are in a state of enthrallment to Him, subject to His dominion and control. So He says: ... لاَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلاَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ Do not prostrate yourselves to the sun nor to the moon, but prostrate yourselves to Allah Who created them, if you (really) worship Him. meaning, `do not associate anything in worship with Him, for your worship of Him will be of no benefit to you if you worship others alongside Him, because He does not forgive the association of others in worship with Him.' He says:

مخلوق کو نہیں خالق کو سجدہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اپنی عظیم الشان قدرت اور بےمثال طاقت دکھاتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کر ڈالتا ہے سورج چاند دن رات اس کی قدرت کاملہ کے نشانات ہیں ۔ رات کو اس کے اندھیروں سمیت دن کو اس کے اجالوں سمیت اس نے بنایا ہے ۔ کیسے یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں؟ سورج کو روشنی اور چمکتے چاند کو اور اس کی نورانیت کو دیکھ لو ان کی بھی منزلیں اور آسمان مقرر ہیں ۔ ان کے طلوع و غروب سے دن رات کا فرق ہو جاتا ہے ۔ مہینے اور برسوں کی گنتی معلوم ہو جاتی ہے جس سے عبادات معاملات اور حقوق کی باقادہ ادائیگی ہوتی ہے ۔ چونکہ آسمان و زمین میں زیادہ خوبصورت اور منور سورج اور چاند تھا اس لئے انہیں خصوصیت سے اپنا مخلوق ہونا بتایا اور فرمایا کہ اگر اللہ کے بندے ہو تو سورج چاند کے سامنے ماتھا نہ ٹیکنا اس لئے کہ وہ مخلوق ہیں اور مخلوق سجدہ کرنے کے قابل نہیں ہوتی سجدہ کئے جانے کے لائق وہ ہے جو سب کا خالق ہے ۔ پس تم اللہ کی عبادت کئے چلے جاؤ ۔ لیکن اگر تم نے اللہ کے سوا اس کی کسی مخلوق کی بھی عبادت کرلی تو تم اس کی نظروں سے گر جاؤ گے اور پھر تو وہ تمہیں کبھی نہ بخشے گا ، جو لوگ صرف اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ کسی اور کی بھی عبادت کر لیتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کے عابد وہی ہیں ۔ وہ اگر اس کی عبادت چھوڑ دیں گے تو اور کوئی اس کا عابد نہیں رہے گا ۔ نہیں نہیں اللہ ان کی عبادتوں سے محض بےپرواہ ہے اس کے فرشتے دن رات اس کی پاکیزگی کے بیان اور اس کی خالص عبادتوں میں بےتھکے اور بن اکتائے ہر وقت مغشول ہیں ۔ جیسے اور آیت میں ہے اگر یہ کفر کریں تو ہم نے ایک قوم ایسی بھی مقرر کر رکھی ہے جو کفر نہ کرے گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں رات دن کو سورج چاند کو اور ہوا کو برا نہ کہو یہ چیزیں بعض لوگوں کے لئے رحمت ہیں اور بعض کے لئے زحمت ، اس کی اس قدرت کی نشانی کہ وہ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے اگر دیکھنا چاہتے ہو تو مردہ زمین کا بارش سے جی اٹھنا دیکھ لو کہ وہ خشک چٹیل اور بےگھاس پتوں کے بغیر ہوتی ہے ۔ مینہ برستے ہی کھیتیاں پھل سبزہ گھاس اور پھول وغیرہ اگ آتے ہیں اور وہ ایک عجیب انداز سے اپنے سبزے کے ساتھ لہلہانے لگتی ہے ، اسے زندہ کرنے والا ہی تمہیں بھی زندہ کرے گا ۔ یقین مانو کہ وہ جو چاہے اس کی قدرت میں ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

37۔ 1 یعنی رات کو تاریک بنانا تاکہ لوگ اس میں آرام کرسکیں دن کو روشن بنانا تاکہ کسب معاش میں پریشانی نہ ہو پھر یکے بعد دیگرے ایک دوسرے کا آنا جانا اور کبھی رات کا لمبا اور دن کا چھوٹا ہونا اور کبھی اس کے برعکس دن کا لمبا اور رات کا چھوٹا ہوتا اسی طرح سورج اور چاند کا اپنے اپنے وقت پر طلوع وغرب ہونا اور اپنے اپنے مدار پر اپنی منزلیں طے کرتے رہنا اور آپس میں باہمی تصادم محفوظ رہنا، یہ سب اس بات کی دلیلیں ہیں کہ ان کا یقینا کوئی خالق اور مالک ہے نیز وہ ایک اور صرف ایک ہے اور کائنات میں صرف اسی کا تصرف اور حکم چلتا ہے اگر تدبیر و امر کا اختیار رکھنے والے ایک سے زیادہ ہوتے ہیں تو یہ نظام کائنات ایسے مستحکم اور لگے بندھے طریقے سے کبھی نہیں چل سکتا تھا۔ 37۔ 2 اس لئے کہ یہ بھی تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں، خدائی اختیارات سے بہرہ ور یا ان میں شریک نہیں ہیں 37۔ 3 خلقھن میں جمع مونث کی ضمیر اس لیے آئی ہے کہ یہ یا تو خلق ھذہ الاربعۃ المذکورۃ کے مفہوم میں ہے کیونکہ غیر عاقل کی جمع کا حکم جمع مونث ہی کا ہے یا اس کا مرجع صرف شمس وقمر ہی ہیں اور بعض ازمہ نحاۃ کے نزدیک تثنیہ بھی جمع ہے یا پھر مراد الآیات ہیں فتح القدیر

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] پیکر محسوس اور غیر اللہ کی پوجا :۔ مشرکین اور بعض صاحبان طریقت یا وحدت الوجود کے قائلین & رہبان اور پیر و فقیر قسم کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سورج اور چاند وغیرہ اللہ تعالیٰ کے مظاہر ہیں۔ لہذا ہم جو سورج اور چاند کی پرستش کرتے ہیں تو فی الحقیقت انہیں اللہ کا پیکر محسوس سمجھ کر اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اللہ کے مظاہر یا پیکر محسوس نہیں بلکہ اللہ کی یہ نشانیاں ہیں اور اس کے غلام ہیں۔ ان کا تعلق دن اور رات سے ہے۔ دن کو سورج نکلتا ہے تو چاند روپوش ہوتا ہے اور رات کو چاند ہوتا تو سورج روپوش ہوتا ہے۔ اس سے ایک تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس قدر پابندی سے اپنا کام سرانجام دینے والی چیزیں الٰہ نہیں ہوسکتیں۔ اور دوسرا یہ کہ جو چیزیں عروج وزوال سے دوچار ہوں وہ الٰہ نہیں ہوسکتیں۔ لہذا اگر تم فی الواقع اللہ کی عبادت کرنا چاہتے ہو تو براہ راست اللہ کی عبادت کرو جو ان چیزوں کا خالق اور مالک ہے اور ان درمیانی وسائط کو درمیان سے نکال دو ۔ کوئی چیز بھی اللہ کا مظہر نہیں یہ تو اس کی نشانیاں ہیں تاکہ ان سے تم اس کی معرفت حاصل کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ومن ایتہ الیل و الھار ’ : اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کو سب سے اچھی بات قرار دیا، اب اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کے لئے چند اور چیزیں بطور دلیل ذکر فرمائیں، جن میں سے بعض آسمان سے تعلق رکھتی ہیں اور بعض زمین سے اور واضح فرمایا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ (٢) انسان کو نظر آنے والی اشیا میں سے سب سے عظیم اور سب سے روشن چیزیں سورج اور چاند ہیں، اس لئے بہت سے لوگ انھی کو رب تعالیٰ سمجھ بیٹھے۔ بعض نے انھیں اللہ تعالیٰ کا مظہر سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور ان کی پرستش اور انہیں سجدہ کرنے لگے، جیسے صابی اور پارسی لوگ ہیں۔ (ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم شرک کی متعدد صورتوں میں مبتلا تھی ، وہ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ سورج، چاند اور ستاروں کی بھی پرستش کرتی تھی۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت حکمت کے ساتھ ان کا بےاختیار ہونا اور رب نہ ہونا واضح فرمایا۔ دیکھیے سورة انعام : ٧٦ تا ٨٢) زیر تفسیر آیات سے ان مشرکین کا رڈ مقصود ہے۔ چناچہ بتلایا کہ رات دن اور سورج چاند اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت کی نشانیوں اور دلیلوں میں سے ہیں۔ سورج اور چاند سے پہلے رات اور دن کا ذکر اس لئے فرمایا ج کہ رات کو سورج کا چھپنا اور چاند کا نکل آنا اور دن کو چاند کا چھپنا اور سورج یا نمودار ہوجانا صاف دلالت کر رہا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی رب یا رب تعالیٰ کا مظہر نہیں کہ اس کی صورت میں وہ خود ظاہر ہو رہا ہے، بلکہ یہ دونوں مجبور اور لاچار پیدا کئیگئے ہیں، جو رب تعالیٰ کے فرمان کے تحت مسخر ہیں اور پانی گردش اور طلوع و غروب میں اس کے حکم کے پابند ہیں۔ اگر یہ خود رب ہوتے تو دن کے وقتک ا سورج رات اور چاند کو نہ آنے دیتا، اسی طرح رات دن کے مقابلے میں ڈٹ جاتی اور اسے قدم نہ رکھنے دیتی، مگر ان سب کا بےاختیار ہو کر گردش کرتے چلے جانا اور ان میں کبھی کسی حادثے کا رونما نہ ہونا اکیلے رب تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے، جو ہر چیز کو اپنی حکمت کے تحت چلا رہا ہے۔ (٣) رات دن کے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہونے اور ان آیات کے حوالے کے لئے جن میں اس کی تفصیل ہے، دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (١٢) کی تفسیر۔ (٤) لاتسجدوا للشمس ولا للقمر…: اس سے معلوم ہوا کہ مخلوق کو سجدہ کرنا حرام ہے، سجدہ صرف اللہ کے لئے ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا فرمایا۔ (٥) ان کنتم ایاہ تعبدون : کچھ لوگ عقلی ڈھکو سلے گھڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ان چیزوں کو سجدہ نہیں کرتے بلکہ ان کے واسطے سے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں، جیسا کہ مشرکین کہتے تھے۔ (مانعبدھم الا لیقربوناً الی اللہ زلفی) (الزمر : ٣)” ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لئے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔ “ اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : اگر تم واقعی اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو ان واسطوں کی کیا ضرورت ہے، سیدھے اسی کو سجدہ کیوں نہیں کرتے ؟ ! (٦) سجدہ عبادت اور سجدہ تعظیم میں فرق اور سجدہ تعظیم کی حرمت کے لئے دیکھیے سورة بقرہ (٣٤) اور سورة یوسف (١٠٠) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

It is Not permissible to prostrate before anyone except Allah Almighty لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ‌ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ (Do not make sajdah [ prostration ] to the sun, or to the moon. And make sajdah to Allah who has created them - 37). It is learnt from this verse that prostration is the right of the Creator of the Universe only. The consensus of the Ummah is that to prostrate before any star, human being, etc. is haram (forbidden), whether it is for worship, or just as a gesture of respect and reverence. The only difference is that if someone prostrates before anyone other than Allah with intention to worship him, he becomes an infidel and the one who prostrates simply as a mark of respect and reverence is not called an infidel, but he is guilty of committing a serious haram act and is a sinner. Prostration of worship for any being other than Allah has never been lawful for any Ummah in any Shari` ah of any prophet, because it becomes a practice of shirk (polytheism) and shirk has never been allowed in any code of shari&ah revealed to any prophet. However, prostration in respect and reverence of anyone (with no intention to worshipping him) had been allowed in the codes of shari&ah revealed to some prophets. All the angels were ordered to prostrate before Sayyidna &Adam (علیہ السلام) before he came into this world. It is stated in the Qur&an that the father and brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) prostrated before him. But the jurisprudents of this Ummah are unanimous on the point that such a prostration was permissible in the earlier codes only, and it stands abrogated in Islam. Prostration for any being other than Allah has been declared absolutely haram (forbidden). Full details of this issue are given in the author&s booklet ( المقالۃ المرضیۃ فی حکم سجدۃ التحیۃ) Al-maqalat-ul¬mardiyyah, fi Hukmi sajdat-it-tahiyyah& in Arabic, and its Urdu translation has also been published.

خلاصہ تفسیر اور منجملہ اس کی (قدرت و توحید) کی نشانیوں کے رات اور دن ہے اور سورج ہے اور چاند ہے (پس) تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو (جیسا کہ صائبین ستاروں کی عبادت کیا کرتے تھے کما فی الکشاف) اور (صرف) اس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان (سب) نشانیوں کو پیدا کیا۔ اگر تم کو خدا کی عبادت کرنا ہے (یعنی اگر خدا کی عبادت کرنا ہے تو وہ صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو، مشرکین کی طرح اللہ کی عبادت کے ساتھ دوسروں کو عبادت میں شریک کردیا تو پھر وہ اللہ کی عبادت نہیں رہتی) پھر اگر یہ لوگ (توحید کی عبادت اختیار کرنے اور اپنی آبائی رسوم شرک کو چھوڑنے سے عار) اور تکبر کریں تو (ان کی حماقت ہے، کیونکہ) جو فرشتے آپ کے رب کے مقرب ہیں وہ شب وروز اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور وہ (اس سے ذرا) نہیں اکتاتے (جب اللہ کے مقرب فرشتے جو ان لوگوں سے لاکھوں درجہ مکرم و معظم ہیں ان کو عار نہیں تو ان احمقوں کو عار کرنے کی کیا موقع ہے) اور منجملہ اس کی (قدرت و توحید) کی نشانیوں کے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دیکھتا ہے دبی دبائی (پڑی) ہے۔ پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی اور پھولتی ہے (اس کے توحید پر بھی استدلال ہوتا ہے اور بعث یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر بھی کیونکہ) جس نے زمین کو (اس کے مناسب) زندہ کردیا وہی مردوں کو (ان کے مناسب) زندہ کر دے گا، بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ معارف و مسائل اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں : (آیت) لَا تَسْجُدُوْا للشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَهُنَّ ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ سجدہ صرف خالق کائنات کا حق ہے۔ اس کے سوا کسی ستارے یا انسان وغیرہ کو سجدہ کرنا حرام ہے، خواہ وہ عبادت کی نیت سے ہو یا محض تعظیم و تکریم کی نیت سے، دونوں صورتیں باجماع امت حرام ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جو عبادت کی نیت سے کسی کو سجدہ کرے گا وہ کافر ہوجاوے گا اور جس نے محض تعظیم و تکریم کے لئے سجدہ کیا اس کو کافر نہ کہیں گے مگر ارتکاب حرام کا مجرم اور فاسق کہا جائے گا۔ سجدہ عبادت تو اللہ کے سوا کسی کو کسی امت و شریعت میں حلال نہیں رہا۔ کیونکہ وہ شرک میں داخل ہے۔ اور شرک تمام شرائع انبیاء میں حرام رہا ہے۔ البتہ کسی کو تعظیماً سجدہ کرنا، یہ پچھلی شریعتوں میں جائز تھا۔ دنیا میں آنے سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) کے لئے سب فرشتوں کو سجدہ کا حکم ہوا۔ یوسف (علیہ السلام) کو ان کے والد اور بھائیوں نے سجدہ کیا جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے مگر باتفاق فقہاء امت یہ حکم ان شریعتوں میں تھا۔ اسلام میں منسوخ قرار دیا گیا اور غیر اللہ کو سجدہ مطلقاً حرام قرار دیا گیا۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل احقر کے رسالہ ” المقالة المرضیہ فی حکم سجدة التحیہ “ میں مذکور ہے جو بزبان عربی ہے اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنْ اٰيٰتِہِ الَّيْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ۝ ٠ ۭ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلہِ الَّذِيْ خَلَقَہُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاہُ تَعْبُدُوْنَ۝ ٣٧ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں ۔ شمس یومنا واشمس ۔ دن کا دھوپ ولا ہونا شمس فلان شماسا گھوڑے کا بدکنا ایک جگہ پر قرار نہ پکڑناز ۔ گویا قرار نہ پکڑنے ہیں میں سورج کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔ قمر القَمَرُ : قَمَرُ السّماء . يقال عند الامتلاء وذلک بعد الثالثة، قيل : وسمّي بذلک لأنه يَقْمُرُ ضوء الکواکب ويفوز به . قال : هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ( ق م ر ) القمر ۔ چاند جب پورا ہورہا ہو تو اسے قمر کہا جاتا ہے اور یہ حالت تیسری رات کے بعد ہوتی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ چاندکو قمر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ستاروں کی روشنی کو خیاہ کردیتا ہے اور ان پر غالب آجا تا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں ) خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

یہاں مقام سجدہ کونسا ہے ؟ قول باری ہے (واسجدوا للہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون۔ اور صرف اللہ کے لئے سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سورت میں مقام سجدہ کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس، مسروق اور قتادہ سے مروی ہے کہ قول باری (وھم یسامون۔ اور وہ اکتاتے نہیں) مقام سجدہ ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) کے اصحاب ، حسن اور ابوعبدالرحمان سے مروی ہے کہ قول باری (ان کنتم ایاہ تعبدون) مقام سجدہ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بہتر صورت تو یہی ہے کہ دونوں آیتوں کا اختتام مقام سجدہ قرار دیا جائے کیونکہ سلسلہ کلام کا اختتام وہیں جاکر ہوتا ہے۔ اسے ایک اور جہت سے دیکھیے۔ جب سلف کا کسی مسئلے میں اختلاف ہوجائے تو دو باتوں میں سے جو آخری بات ہو اس پر عمل کرنا اولیٰ ہوتا ہے۔ کیونکہ آخری بات پر عمل کرنے پر سب کا اتفاق ہوتا ہے اور پہلی بات کے جواز میں اختلاف ہوتا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اس کی قدرت اور توحید کی نشانیوں میں سے رات ہے اور دن ہے سورج ہے اور چاند ہے یہ سب قدرت الہیہ کی نشانیاں ہیں لہٰذا نہ سورج کی عبادت کرو اور نہ چاند کی اور اسی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس نے چاند سورج رات اور دن کو پیدا کیا ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے یا یہ کہ اگر تم چاند و سورج کی پوجا کو عبادت خداوندی سمجھتے ہو تو پھر ان کی پوجا نہ کرو اللہ کی عبادت ان کی عبادت کے چھوڑنے میں ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٧{ وَمِنْ اٰیٰتِہِ الَّـیْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ } ” اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں رات ‘ دن ‘ سورج اور چاند۔ “ { لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ } ” تم سورج کو سجدہ مت کرو اور نہ چاند کو “ { وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَہُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ } ” بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ‘ اگر تم واقعتا اسی کی بندگی کرتے ہو۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

42 Now the discourse turns to the common people and they are made to understand the truth in a few sentences. 43 That is, "They are not the objects of Divine power that you may start worshipping them, thinking that Allah is manifesting Himself in their form, but they are the Signs of Allah by pondering over which you can understand the reality of the universe and its system, and can know that the doctrine of the Oneness of God which the Prophets arc teaching is the actual Reality. The mention of the night and day before the sun and moon has been made to give the warning that the hiding of the sun and appearing of the moon at night, and the hiding of the moon and appearing of the sun in the day clearly point to the fact that neither of them is God or object of Divine power, but both are helpless and powerless objects, and are moving subject to the law of God. 44 This is an answer to the philosophy that the intelligent among the polytheists generally used to propound to prove that polytheism was rational. They said that they did not bow to these objects but bowed to God through them. An answer to this has been given, so as to say: "If you really are Allah's worshippers, there is no need of these intermediaries: why don't you bow down to Him directly?'

سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :42 اب روئے سخن عوام الناس کی طرف مڑ رہا ہے اور چند فقرے ان کو حقیقت سمجھانے کے لیے ارشاد ہورے ہیں ۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :43 یعنی یہ اللہ کے مظاہر نہیں ہیں کہ تم یہ سمجھتے ہوئے ان کی عبادت کرنے لگو کہ اللہ ان کی شکل میں خود اپنے آپ کو ظاہر کر رہا ہے ، بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جن پر غور کرنے سے تم کائنات کی اور اس کے نظام کی حقیقت سمجھ سکتے ہو اور یہ جان سکتے ہو کہ انبیاء علیہم السلام جس توحید خداوندی کی تعلیم دے رہے ہیں وہی امر واقعی ہے ۔ سورج اور چاند سے پہلے رات اور دن کا ذکر اس امر پر متنبہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ رات کو سورج کا چھپنا اور چاند کا نکل آنا ، اور دن کو چاند کا چھپنا اور سورج کا نمودار ہو جانا صاف طور پر یہ دلالت کر رہا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی خدا یا خدا کا مظہر نہیں ہے ، بلکہ دونوں ہی مجبور و لاچار بندے ہیں جو خدا کے قانون میں بندھے ہوئے گردش کر رہے ہیں ۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :44 یہ جواب ہے اس فلسفے کا جو شرک کو معقول ثابت کرنے کے لیے کچھ زیادہ ذہین قسم کے مشرکین عموماً بگھارا کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ان چیزوں کو سجدہ نہیں کرتے بلکہ ان کے واسطے سے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں ۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ ہی کے عبادت گزار ہو تو ان واسطوں کی کیا ضرورت ہے ، براہ راست خود اسی کو سجدہ کیوں نہیں کرتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٧۔ ٣٨۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ قرآن کی نصیحت سننے کے وقت سرکشی سے اپنے آپ کو بڑا بتاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنی قدرت کی چند نشانیاں بیان فرمائیں کہ شاید یہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور شرک سے باز آئیں اس خالق صاحب قدرت نے انسان کے آرام کے لئے رات کو پیدا کیا کہ رات کو انسان آرام پا کر دوسرے دن پھر کام دھندے کے قابل ہوجائے وہ قادر مطلق رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر اس میں سے صبح کے اجالے کو نکالتا ہے تاکہ دن کے اجالے میں ہر ایک آدمی اپنا کام دھندا کرے سورج کے طلوع اور غروب سے دن رات اور مختلف موسم اسی نے پیدا کئے سورج اور چاند کی منزلیں اور چال اس حساب سے رکھیں جس سے مہہنے اور سال کا حساب معلوم ہوتا ہے لیکن بعضے لوگ ان قدرت کی نشانیوں کے پیدا کرنے والے کی شکر گزاری نہیں کرتے اور اس کی تعظیم کو چھوڑ کر کوئی سورج کی پوجا کرتا ہے اور کوئی چاند کی اور یہ کہتے ہیں کہ ان تاروں کو دنیا کے انتظام میں بڑا دخل ہے ان کے نام کے بتوں کی جو کوئی پوجا کرے گا اس کی یہ تارے ضرور مدد کریں گے ان لوگوں نے سورج کے نام کا جو بت بنایا ہے اس کے چڑھاوے کی چیزیں الگ مقرر کر رکھی ہیں اور چاند کے نام کا جو بت بنایا ہے اس کی الگ یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ مثلاً سورج چاند کے پیچھے اللہ تعالیٰ نے گہن کا عیب جو لگا دیا ہے ان میں اسی عیب کے دور کردینے کی قدرت تو ہے نہیں پھر یہ اپنے پوجھا کرنے والوں کی مدد کرنے کی قدرت کہاں سے لائیں گے اب آگے فرمایا عبادت اللہ ہی کو زیبا ہے جس نے رات دن سورج چاند سب چیزوں کو پیدا کیا پھر فرمایا اگر اس فہمائش کے بعد یہ لوگ خالص اللہ کی عبادت سے مکڑائیں اور غرور کریں تو اللہ کو ان کی عبادت کی کچھ پروا نہیں آسمان پر اللہ کے فرشتے رات دن اس کی عبادت کو موجود ہیں جو کسی وقت عبادت سے نہیں تھکتے صحیح بخاری اور ترمذی ١ ؎ کے حوالہ سے ابوذر (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آسمان پر چار انگل بھی جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی فرشتہ عبادت الٰہی میں مصروف نہ ہو آیتوں میں یہ جو ذکر تھا کہ اگر یہ مشرک خالص اللہ کی عبادت سے مکڑائی کریں گے تو آسمان پر اللہ کے فرشتے اللہ کی عبادت میں مصروف ہیں جو کبھی تھکتے نہیں یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس سے آسمان پر اللہ کے فرشتوں کی بہت بڑی جماعت کا عبادت الٰہی میں لگے رہنے کا حال اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ ان لوگوں کو شرک سے باز آنے اور خالص اللہ کی عبادت کرنے کی نصیحت جو کی جاتی ہے وہ ان ہی لوگوں کی آخرت کی بہبودی کے لئے ہے ورنہ اللہ کو ان کی عبادت کی کچھ پروا نہیں رہی یہ بات لوگ آخرت کی سزا و جزا کے منکر ہیں ان کے اس انکار کی غلطی ان کو بارہا جتلا دی گئی ہے کہ یہ لوگ دنیا میں جو کام کرتے ہیں اس کا نتیجہ ضرور سوچ لیتے ہیں مثلاً کھیتی کرتے ہیں اناج کے ہاتھ آنے کے لئے باغ لگاتے ہیں میوہ کھانے کے لئے پھر یہ لوگ کون سے عقل اور تجربے سے یہ بات کہتے ہیں کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد جزا و سزا کا فیصلہ کچھ نہ ہوگا اور دنیا کے پیدا کرنے کا اتنا بڑا کام بےنتیجہ اور بےفائدہ رہ جائے گا۔ یہ سجدہ حضرت عبد اللہ (رض) بن ١ ؎ عباس کے قول کے موافق لایسئمون پر ہے اور حضرت عبد اللہ (رض) بن مسعود کے قول کے موافق ان کنتم ایاہ تعبدون پر۔ (٣ ؎ صحیح بخاری باب الحذرمن الغضب ص ٩٠٣ ج ٢) (١ ؎ جامع ترمذی باب قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوتعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا۔ ص ٦٦ ج ٢) (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٢٦٦ ج ٥)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:37) من ایتہ : من تبعیضیہ ہے۔ منجملہ اس کی نشانیوں میں سے۔ خلقھن ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کا مرجع لیل و نہار، شمس و قمر چاروں ہی ہیں یا یہ ضمیر ایتہ کی طرف راجع ہوسکتی ہے۔ واسجدوا للّٰہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون ۔ یہاں سجدہ سے مراد عام اصطلاحی سجدہ اسلامی نماز کا مراد نہیں ہے بلکہ عام عبادت و پرستش مقصود ہے۔ ان کنتم ایاہ تعبدون اگر تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنا مقصود ہے۔ جملہ شرطیہ جس کی جزاء مقدم ہے۔ الخازن فرماتے ہیں :۔ ان ناسا کانوا یسجدون للشمس والقمر والکواکب ویزعمون ان سجودھم لھذہ الکواکب ھو سجود للّٰہ عزوجل فنھوا عن السجود لھذہ الوسائط وامروا بالسجود للّٰہ الذی خلق ھذہ الاشیاء کلہا : لوگ، سورج چاند اور ستاروں کی پرستش کیا کرتے تھے ان کے خیال میں ان ستاروں کی پرستش خدا کی پرستش ہے ان کو ان واسطوں کی پرستش سے روکا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف اللہ ہی کی پرستش کریں۔ جس نے ان تمام اشیاء کو پیدا کیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیوں میں سے چند نشانیاں ہیں جنکی پیدائش اور نظام پر اگر تم غور کرو تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عظمت کے دلائل مل سکتے ہیں۔ اس آیت سے مقصود ان مشرکین کا رد ہے جو ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کا مظہر سمجھتے ہوئے ان کی پرستش کرتے تھے جیسے صابی اور پارسی حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” سورج، چاند اور ہوائوں میں سے کسی کو گالی نہ دو ، اس لئے کہ ہوائیں وہ چیز ہیں جو بعض کے لئے رحمت اور بعض کے لئے عذاب بنا کر بھیج جاتی ہیں۔ ( ابن کثیر)6 یعنی اگر خدا کی عبادت کرنا چاہتے ہو تو براہ راست اسی کو سجدہ کرو جو ان سب کا خالق ہے۔ معلوم ہوا کہ مخلوق کو سجدہ کرنا حرام ہے اور جو لوگ اولیاء کی قبروں اور تعزیہ وغیرہ کو سجدہ کرتے ہیں سو یہ غلط ہے۔ (امام الہند)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تشریح : آیت نمبر 37 تا 40 : اللہ تعالیٰ نے غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس کائنات میں بیشمار نشانیاں بنائی ہیں لیکن غور و فکر نہ کرنے والے بڑی سے بڑی حقیقت ہے اس طرح گزر جاتے ہیں کہ انہیں اس کی حقیقت اور عظمت کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔ ہر آدمی رات ، دن ، سورج ، چاند اور ستاروں کو دیکھتا ہے کہ وہ ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں دنیا کی گھڑیاں اور اندازے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا نکلنا ، چھپنا اور ڈوب جانا مختلف نہیں ہوتا ۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے جب لوگوں کو ستاروں ، چاند اور سورج کی عبادت کرتے دیکھا تو یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ان میں سے ہر چیز کا سامنے آنا اور چھپ جانا ان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے لہٰذا یہ کائنات کے خالق ومالک یا مشکل کشا نہیں ہو سکتے بلکہ وہی ایک ذات ان تمام چیزوں کی مالک ہے جو ان کو اپنی رفتار سے چلنے پر مجبورکر رہی ہے۔ اور وہ ایک اللہ کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اسی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے کہ رات ، دن ، سورج اور چاند ، اللہ کو پہچانے اور عبادت کرنے کی نشانیاں ہیں لہٰذا تم ان کو سجدے نہ کرو بلکہ جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اسی کو عبادت و بندگی کرو ۔ اللہ مخلوق میں سے کسی کی عبادت کا بھی محتاج نہیں ہے کہ اس کی بندگی کی جائے کیونکہ ساری مخلوق بھی اگر اس کی عبادت و بندگی چھوڑ دے تو اس کی سلطنت میں ایک ذرے کی کمی نہیں آسکتی ۔ اللہ کے وہ فرشتے جو اس کے پاس ہیں یا کائنات کی ہر چیز اس کی حمد وثناء اور عبادت میں مشغول ہے ۔ وہ اللہ کی اس طرح عبادت و بندگی کرتے ہیں کہ اس سے کبھی نہیں تھکتے بلکہ ہمیشہ اسی کی رضا و خوشنودی کے لئے اس کی حمد وثناء کرتے رہتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ چاند ، سورج ، ستاروں کی طرح بارش کا برسنا بھی ایک نشانی ہے۔ اس کو بھی ہر شخص دیکھتا ہے کہ اگر کسی جگہ بارش نہ برستی ہو اور اس کی مٹی ریت بن کر اڑ رہی ہو تو اس کی ویرانی دیکھ کر اندازہ کرنا مشکل ہے کہ یہ خشک زمین بھی کبھی سر سبز و شادات ہوگی لیکن جیسے ہی اس خشک اور مردہ زمین پر بارش پڑتی ہے تو سوکھی اور ویران پڑی ہوئی زمین میں ایک نئی زندگی محسوس ہوتی ہے اور اس طرح خشک زمین میں سے سبزہ نکل کر اپنی بہار دکھانے لگتا ہے ۔ آہستہ آہستہ کھیت لہلہانے لگتے ہیں اور ہر طرف ایک رونق سی آجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جو اللہ اتنی بڑی زمین کو خشک اور ویران ہونے کے بعد دوبارہ زندہ اور تر و تازہ کردیتا ہے اسی اللہ کی قدرت ہے کہ وہ انسان کے مر جانے اور اس کے اعضاء بکھر جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ کرے گا اور میدان حشر میں جمع کر کے ان سے زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لے گا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ بعض لوگ اللہ کی آیات کی اس طرح الٹ کر یا اس کو اس کے مفہوم اور مضمون سے کاٹ کر اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سننے والے غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ فرمایا کہ ایسے لوگ اللہ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہیں وہ ہر شخص کے تمام احوال سے پوری طرح واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ رات ، دن ، سورج ، چاند اور بارش پر غور و فکر کرنے کے ساتھ ساتھ ذرا اس بات پر بھی غور و فکر کرلیا جائے کہ ایک شخص اپنے بر اعمال کے سبب جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا اور وہ اس شدید تکلیف اور عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہے گا ۔ وہ بہتر ہے یا وہ شخص بہتر ہے جو قیامت کے ہولناک دن بھی نہایت امن و سکون اور خوشیوں کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہوگا یقینا عقل سلیم کا فیصلہ یہی ہوگا کہ وہ شخص سب سے بہتر ہوگا جو انجام کے اعتبار سے اچھا ہوگا ۔ ان آیات میں یہ بات بھی بالکل واضح طریقے پر بتا دی گئی ہے کہ اللہ نے کائنات میں ہزاروں نشانیاں بنائی ہیں جو انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں جو لوگ ان پر غور و فکر اور تدبر کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت کی کامیابیاں حاصل کرلیتے ہیں لیکن جو ان انشانیوں میں الجھ کر ان چیزوں کو ہی اپنا معبود بنا لیتے ہیں ان کی دنیا بھی خراب ہوجاتی ہے اور آخرت بھی ۔ لہٰذا صرف اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کی جائے اور اس کے سوا کسی کو سجدہ نہ کیا جائے ۔ دراصل سجدہ صرف اللہ کے لئے ہے اس کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے خواہ و سجدہ عبادت کے لئے ہو یا تعظیم و تکریم کے لئے دونوں صورتوں میں اجماع امت کے مطابق غیر اللہ کو سجدہ کرنا حرام ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس رب پر ایمان لانا اور اس کی توحید کی دعوت دینا ہے اس کی وحدت کے دلائل۔ جس رب کی طرف لوگوں کو بلانا اور غصہ کی حالت میں شیطان سے جس رب کی پناہ چاہنا ہے۔ اس کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ رات اور دن سورج اور چاند اسی کے تابع فرمان ہیں۔ کیا مجال کہ ان میں سے کوئی ایک اپنے رب کی سرمو حکم عدولی کرے۔ جب رات اور دن، سورج اور چاند اس کے حکم کے تابع ہیں تو پھر چاند اور سورج کو سجدہ کرنا کیا معنٰی دارد ؟ سجدہ تو اس اللہ کو کرنا چاہیے جس نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، رات اور دن بنائے۔ جو حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اسے سب کی بندگی چھوڑ کر صرف اور صرف ایک رب کی عبادت کرنی چاہیے۔ جو لوگ ایک رب کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں وہ متکبر ہوتے ہیں متکبروں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اپنے رب کی عبادت کا اندازہ کرنا چاہو توسنو ! جو فرشتے ہمہ وقت اس کے حضور حاضر رہتے ہیں۔ وہ رات اور دن کی ہر گھڑی میں اس کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ انہیں کبھی اکتاہٹ اور تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ جو لگ اپنے رب کی بندگی نہیں کرتے یا اس کی بندگی میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت میں وہ اپنے رب کی ذات اور اس کے حکم کے ساتھ تکبر کرتے ہیں۔ یاد رہے ! کہ چاند اور سورج کی عبادت کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ ہم چاند اور سورج کی عبادت نہیں کرتے۔ بلکہ انہیں خدا کی قدرت کا مظہر سمجھ کر اللہ کی قربت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہی بات قبروں کے بچاری اور بتوں کے مجاور کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور حکم کے ساتھ تکبّر قرار دیا ہے۔ ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول کو علم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت چاہے مگر اسے اجازت نہ ملے اسے حکم ہو کہ جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ پھر سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ نے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب بدأ الخلق باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبرہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ] مسائل ١۔ رات اور دن، سورج اور چاند اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ ٢۔ سورج اور چاند کو سجدہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا چاہیے جو سورج اور چاند کا خالق ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی عبادت کا حکم دیا ہے جو اس کا حکم نہیں مانتا وہ تکبُّر کرتا ہے۔ ٤۔ اللہ کے حضور حاضر رہنے والے فرشتے ہر وقت اس کی عبادت کرتے ہیں اور عبادت کرنے میں اکتاہٹ اور تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد کرتی ہے اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہے : ١۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الحدید : ١) ٢۔ رعد اس کی حمد و تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الرعد : ١٢) ٣۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : ٤٤) ٤۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں اور مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ (الشوریٰ : ٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٢٢٨ ایک نظر میں اس سبق کا تعلق بھی اسلامی دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ کائناتی نشانیوں سے شروع ہوتا ہے۔ اور گردش لیل ونہار کو ہمارے غور کے لئے پیش کرتا ہے اور شمس وقمر کو اس لیے پیش کرتا ہے کہ مشرکین میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو شمس و قمر کے پجاری تھے۔ حالانکہ یہ دونوں خدا کی مخلوقات میں سے ہیں۔ ان آیات کے باوجود یہ لوگ اللہ کی آیات سے انکار کرتے ہیں اور اس کی بندگی نہیں کرتے لیکن اللہ کے ہاں ایسی مخلوق ہے جو ہر وقت اس کی بندگی میں لگی ہوئی ہے۔ پھر یہ پوری زمین بھی اللہ کی بندگی میں لگی ہوئی ہے ، یہ مردہ ہوجاتی اور پھر اللہ سے فیض حیات لیتی ہے جیسا کہ انسان کو بھی زندگی اللہ نے دی ہے ، لیکن انسان ہے کہ نافرمانی کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو الٹے معنی پہناتا ہے۔ قرآن کی آیات کے معنی بگاڑتا ہے ، حالانکہ قرآن مجید صاف عربی میں ہے۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر سامنے آتا ہے ۔ پھر خود اس کی زندگی کو پیش کر کے یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان ایک ضعیف مخلوق ہے۔ مال کا لالچی ہے اور جب کوئی مشکل پڑتی ہے تو جزع فزع کرتا ہے۔ اور سورت کے آخر میں انفس و آفاق کے دلائل و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے تا کہ لوگوں پر حق واضھ ہوجائے اور ان کے دلوں کے شبہات دور ہوجائیں۔ یہ نشانیاں جن کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ، آنکھوں کے سامنے پھیلی ہوئی ہیں ، عالم بھی انہیں دیکھ سکتا ہے اور جاہل بھی ، انسانی دل پر ان کے براہ راست گہرے اثرات بھی ہیں۔ اگرچہ انسان ان کی سائنسی حقیقت بالکل نہ جانتا ہو ، کیونکہ انسان اور اس کائنات کے درمیان ، سائنسی علم سے بھی زیادہ گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ دونوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ فطرت دونوں کی ایک ہے ، ساخت ایک ہے ، انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور یہ کائنات انسان ہی کا حصہ ہے۔ دونوں کا مادۂ وجود ایک ہے ، فطرت ایک ہے اور جس قانون قدرت کے مطابق انسان چلتا ہے ، اس کے مطابق یہ کائنات بھی چلتی ہے ۔ دونوں کا الٰہ ایک ہے۔ اس لیے انسان اس زمین و آسمان کے بارے میں ایک گہرا احساس اور گہرا فطری ادراک رکھتا ہے۔ اور یہ ادراک اسے گہری فطری منطق کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم صرف اس پر اکتفا کرتا ہے کہ انسان کو اس کی طرف متوجہ کر دے اور اسے غفلت سے جگا دے اور یہ غفلت انسانوں پر اس لیے طاری ہوجاتی ہے کہ انہوں نے گردش لیل ونہار اور شمس و قمر کو دیکھتے دیکھتے اب ان کی کوئی اہمیت ان کے ہاں نہیں رہی ہے۔ ان کے دل و دماغ پر پردے آگئے ہیں ، اس لیے قرآن انسان کو جگاتا ہے ، ان کی سوچ کو صیقل کرتا ہے کہ ذرا ان معجزات پر غور کرو ، یہ تمہاری دوست کائنات کا حصہ ہیں ، تم لیل و نہار اور شمس قمر کے ساتھ رہتے ہو۔ شمس و قمر کے حوالے سے ایک گمراہی اور فکری انحراف کی طرف بھی متوجہ کردیا۔ بعض لوگ شمس و قمر کی پوجا کرتے تھے تا کہ اس طرح وہ اللہ کا تقرب حاصل کرلیں ، کیونکہ اللہ کی بہترین مخلوق کے سامنے سجدہ کرنا اللہ کے سامنے سجدہ کرنا ہے۔ قرآن نے یہاں حتمی طور پر اس انحراف کی تصحیح بھی کردی اور عقائد کی آلودگی کو صاف بھی کردیا۔ اگر تم فی الحقیقت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو پھر شمس و قمر کی عبادت نہ کرو ، واسجدوا للہ الذی خلقھن (٤١ : ٣٧) ” بلکہ اس خدا کی بندگی کرو ، جس نے ان کو پیدا کیا ہے “۔ مخلوق کو صرف خالق کی طرف متوجہ ہونا چاہئے ، اور شمس وقمر بھی تمہاری طرح اللہ ہی کے پیرو کار ہیں۔ اللہ نے ان دو شمس و قمر کو پیدا کیا ہے اور ان دو کے لئے یہاں جمع مونث کی ضمیر استعمال کی ہے ۔ کیونکہ یہاں جنس ستاروں اور سیاروں کی طرف اشارہ ہے۔ صرف یہ دو مراد نہیں اور پھر جمع مونث عاقل کی خبر ان کی طرف اس لیے راجع کی گئی ہے کہ یہ بھی تمہاری طرح اشخاص ہیں اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ ان آیات و نشانات اور اس تبلیغ وبیان کے بعد بھی اگر وہ تکبر کرتے ہیں ، تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی کمی بیشی اور کوئی تقدیم و تاخیر واقع نہیں ہوتی ، اللہ کے ہاں بیشمار مخلوقات اس کی عبادت میں لگی ہوئی ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رات اور دن چاند اور سورج اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ان کے پیدا کرنے والے کو سجدہ کرو ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر بعض دلائل قائم فرمائے ہیں اور غیر اللہ کو سجدہ کرنے اور غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے رات بھی ہے اور دن بھی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت سے ایک دوسرے کے پیچھے آتے رہتے ہیں اور سورج اور چاند بھی اس کی نشانیوں میں سے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا فرمایا اور روشنی بخشی اور ان کے گردش کرنے کا مدار مقرر فرمایا اور طلوع و غروب کے اوقات مقرر فرمائے جس ذات پاک نے ان کو پیدا فرمایا صرف وہی مستحق عبادت ہے۔ (لاَ تَسْجُدُوْا للشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ ) یہ مشرکین کو خطاب ہے مطلب یہ ہے کہ تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو ان کو بڑی چیزیں سمجھ کر سجدہ کرتے ہو حالانکہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ سب سے بڑا ہے اور صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اسی کو فرمایا (وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَہُنَّ ) (اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا) (اِِنْ کُنْتُمْ اِِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ) (اگر تم ان کے پیدا کرنے والے کی عبادت کرتے ہو) مطلب یہ ہے کہ اگر خالق کی عبادت کرتے ہو تو مخلوق کی عبادت نہ کرو خالق کی وہ عبادت معتبر نہیں جس کے ساتھ مخلوق کی بھی عبادت کی جاتی ہو لہٰذا شرک اختیار کرتے ہوئے تمہارا یہ دعویٰ کرنا کہ ہم اللہ کے عبادت گزار ہیں یہ غلط ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

35:۔ ” ومن ایتہ “ تا ’[ انہ علی کل شیء قدیر “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الترقی۔ اس میں پہلی دلیل کے دونوں حصوں پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔ پہلی دلیل میں آسمانوں کے پیدا کرنے کا ذکر تھا۔ اس دلیل میں نظام شمسی کا ذکر کیا گیا ہے کہ رات دن کی آمد و رفت اور چاند سورج کی گردش یہ سارا نظام بھی اللہ کی وحدانیت اور اس کے کمال قدرت کے دلائل میں سے ہے۔ سورج اور چاند کی گردش سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک بہت بڑی طاقت کے ماتحت اور اس کے فرمانبردار ہیں، جو ہر وقت اس کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں اور وہ معبود اور کارساز نہیں ہیں۔ اس لیے سورج اور چاند کو معبود سمجھ کر ان کی عبادت نہ کرو۔ اور نہ مصائب میں ان کو پکارو، بلکہ اس اللہ کو پکارو اور صرف اسی کی عبادت کرو جس نے سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے۔ اگر تم واقعی خداوند تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو، تو ان خود ساختہ وسائل کو چھوڑ دو ۔ و لعل ناسا منہم کانوا یسجدون للشمس والقمر کالصائبین فی عبادتہم الکوکب ویزعمون انہم یقصدون بالسجود لہما السجود للہ تعالیٰ فنہوا عن ھذہ الوسطۃ (مدارک ج 4 ص 72) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(37) اور منجملہ اس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانوں میں سے رات دن اور سورج اور چاند بھی اسی کی نشانیاں ہیں تو تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اس اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرو جس نے ان نشانیوں کو پیدا کیا ہے۔ اگر تم کو واقعی اسی کی عبادت کرنی ہے۔ یہاں سے پھر توحید کے دلائل اور رسالت وقرآن کی صداقت اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کا ذکر شروع فرمایا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے بیشمار دلائل اور نشانیاں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند بھی اسی کی قدرت کی نشانیاں ہیں اور جب یہ چیزیں آیات قدرت ہیں تو تم نہ سورج کو بندگی کرو اور نہ چاند کو بلکہ تم اگر واقعی اللہ تعالیٰ کے پجاری اور بندگی کرنے والے ہو تو اسی اللہ کی پوجا کیا کرو جس نے ان نشانیوں کو پیدا کیا ہے۔ بعض کواکب پرست ایسا کرتے تھے اور بعض مشرکوں کا آج کا کل بھی یہ شیوہ ہے کہ وہ خدا کا نام لیتے ہیں لیکن سورج اور چاند کو پوجتے ہیں قرآن نے ایسے لوگوں کا رد فرمایا کہ یہ چیزیں معبود نہیں ہیں بلکہ معبود حقیقی کی نشانیاں ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس معبود حقیقی کے علاوہ کوئی اور پرستش کے قابل نہیں ہے۔