Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 42

سورة حم السجدہ

لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ ؕ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ ﴿۴۲﴾

Falsehood cannot approach it from before it or from behind it; [it is] a revelation from a [Lord who is] Wise and Praiseworthy.

جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے ، یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے ( اللہ ) کی طرف سے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لاَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلاَا مِنْ خَلْفِهِ ... Falsehood cannot come to it from before it or behind it, means, there is no way to corrupt it, because it has been sent down by the Lord of the worlds. Allah says: ... تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ (it is) sent down by the All-Wise, Worthy of all praise. meaning, He is Wise in all that He says and does, Praiseworthy in all that He commands and forbids; everything that He does is for praiseworthy purposes and its consequences will be good.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

42۔ 1 یعنی وہ ہر طرح سے محفوظ ہے، آگے سے، کا مطلب ہے کمی اور پیچھے سے، کا مطلب ہے زیادتی یعنی باطل اس کے آگے سے آ کر اس میں کمی اور نہ اس کے پیچھے سے آ کر اضافہ کرسکتا ہے اور نہ کوئی تغیر و تحریف ہی کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ اس کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے اور حمید یعنی محمود ہے یا وہ جن باتوں کا حکم دیتا ہے اور جن سے منع فرماتا ہے عواقب اور غایات کے اعتبار سے سب محمود ہیں یعنی اچھے اور مفید ہیں (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٢] قرآن میں باطل کی عدم مداخلت کے مختلف پہلو :۔ یہ آیت کتاب اللہ کے زبردست ہونے کی وجہ یہ بتارہی ہے کہ اس میں نہ آگے سے، نہ پیچھے سے، نہ اوپر سے، نہ نیچے سے غرض کسی طرف سے بھی باطل داخل نہیں ہوسکتا اور اس جملہ کے بھی کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کا کلام ہے جسے اللہ نے جبرئیل کے ذریعہ رسول اللہ کے دل پر نازل کیا۔ جبرئیل فرشتہ ایسا ہے جو امین بھی ہے اور قوی بھی۔ یعنی نہ تو وہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں خود کوئی کمی بیشی کرتا ہے اور نہ کوئی جن یا شیطان یا کوئی دوسری طاقت اس سے کسی کلام کا کچھ حصہ چھین سکتی یا اس میں آمیزش کرسکتی ہے۔ پھر جب جبرئیل نے آپ کے دل پر اتار دیا اور آپ کی صداقت و دیانت پر آپ کے دشمن بھی شاہد تھے اور آپ نے وہ کلام جوں کا توں امت تک پہنچا دیا تو اب بتاؤ کہ اس کلام میں باطل کی آمیزش کے لیے کہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب سے قرآن نازل ہوا ہے۔ اسی وقت سے مسلمانوں کے سینوں کے اندر محفوظ ہو کر نسلاً بعد نسل تواتر کے ساتھ منتقل ہوتا چلا آرہا ہے۔ اور ہر زمانہ میں لاکھوں کی تعداد میں اس کے حافظ موجود رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں اور یہ شرف کسی دوسری کتاب کو حاصل نہیں۔ دوسری طرف اس کے نزول کے ساتھ ہی اس کی کتابت شروع ہوگئی تھی اس دور سے لے کر آج تک مسلسل اور متواتر اس کی اشاعت ہو رہی ہے اور کروڑوں اور اربوں تک اس کے نسخے لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ شرف بھی اسی کتاب کو حاصل ہے کہ یہ دنیا بھر کی سب سے زیادہ کثیر الاشاعت کتاب ہے۔ اب ایک طرف یہ کتاب سامنے رکھئے دوسری طرف ایک چھوٹے سے حافظ بچے کو سنانے کے لیے کہہ دیجئے۔ آپ پر اس قرآن کا اعجاز ثابت ہوجائے گا۔ قرآن کے شائقین نے اس کی آیات، اس کے الفاظ، اس کے حروف، اس کے نقاط اور اس کے اعراب (زیر، زبر، پیش) غرضیکہ ایک ایک چیز کو گن کر ریکارڈ کر رکھا ہے۔ اب بتائیے کہ اس کتاب میں کسی ایک لفظ بلکہ حرف کی بھی کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ ؟ اور باطل اس میں کسی طرح راہ پاسکتا ہے ؟ اور اس کا تیسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن نے جو حقائق بیان کئے ہیں، کوئی علم ایسا وجود میں نہیں آسکتا جو فی الواقع علم ہو اور قرآن کے بیان کردہ علم کی تردید کرتا ہو، کوئی تجربہ کوئی مشاہدہ ایسا نہیں ہوسکتا جو یہ ثابت کرے کہ قرآن نے عقائد، اخلاق، قانون، تہذیب و تمدن، معیشت و معاشرت اور سیاست کے باب میں انسان کی جو رہنمائی دی ہے وہ غلط ہے۔ باطل خواہ سامنے سے آکر حملہ آور ہو یا ادھر ادھر کے راستوں سے ہو کر چھاپے مارے وہ کسی طرح بھی اس حقیقت کو شکست نہیں دے سکتا جو قرآن نے پیش کی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کے متعلق انسان کا علم خواہ کتنا ہی ترقی کر جائے وہ محدود ہی ہوگا اور اس کے بعد بھی اس چیز کے متعلق مزید انکشافات ہوتے رہیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم لامحدود ہے۔ علاوہ ازیں وہ ہر چیز کا خالق ہے اور خالق اپنی بنائی ہوئی چیز کے متعلق جتنی معلومات رکھتا ہے دوسرا کوئی نہیں جان سکتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ : اس کے پاس نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ باطل آکر اس پر غلبہ نہیں پاسکتا، یعنی باطل کی مجال نہیں کہ کسی پہلو سے آکر اس پر غلبہ پا سکے، نہ کھلم کھلا سامنے آکر اور نہ چوری چھپے پیچھے سے۔ یہ مطلب بھی ہے کہ پہلے کی کوئی کتاب یا تحقیق اس قرآن کی کسی بات کو غلط یا باطل ثابت نہیں کرسکتی اور نہ ہی بعد کی کوئی کتاب یا تحقیق اس کی کسی بات کو غلط ثابت کرسکے گی، اور یہ مطلب بھی ہے کہ اس میں باطل کی آمیزش نہ کوئی کھلم کھلا کرسکتا ہے نہ چوری چھپے، جیسا پہلی کتابوں کے ساتھ ہوا، بلکہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، فرمایا :(انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون) (الحجر : ٩)” بیشک ہم نے یہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔ “ (٢) تنزیل من حکیم حمید : قرآن مجید کی کوئی بات غلط نہیں ہوسکتی، اس میں کسی باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی اور نہ ہی دلیل میں باطل کسی طرح اس پر غالب آسکتا ہے، کیونکہ یہ حکیم وحمید کی طرف سے تنزیل ہے۔ ” تنزیل “ کے مفہوم کے لئے دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (١٠٦) یعنی وہ کتاب اس نے تھوڑی تھوڑی کر کے نازل فرمائی ہے جو کمال حکمت والا ہے، ہر تعریف کا مستحق اور ہر خوبی کا مالک ہے۔” حکیم “ وہ جس کی کسی تدبیر میں خطا نہ ہو اور ” حمی “ وہ جس کے کسی فعل کی مذمت نہ ہو سکے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ (that cannot be approached by falsehood, neither from its front, nor from its behind.) Qatadah and Suddi have stated that ` batil& (falsehood) in this verse means Shaitan (Satan), and ` neither from its front, nor from its behind& means ` from any side&. To sum up, Satan&s manipulation and contrivance just do not work on this Book; Shaitan cannot distort this Book by adding something to it, or deleting something from it. The author of Tafsir Mazhari, after quoting this explanation, has added that Satan here includes the satans both from jinn and from humans - neither can carry out any change or distortion in the Qur&an. Some Rawafid1. (1) This term is used for the extremists among the Shi&ites who tried to add ten parts (Ajza& ) and some tried to add some particular verses, but none could succeed. Abu Hayyan has stated in Al-Bahr-ul-Muhit that the word batil (falsehood) as a word is not specific to Shaitan; any falsehood or falsifier, whether from Shaitan or from any other source, cannot succeed in the Qur&an. Then, referring to Tabari, he has mentioned that this verse means that a disbeliever can neither dare to carry out any change in this Book openly, nor can he distort its meaning through ilhad covertly. The explanation of Tabari is very appropriate here, because there can be only two ways of introducing any distortion or ilhad in the Qur&an. First, that any disbeliever tries openly to add something to or delete something from the Qur&an. This has been denoted by the words, ` from its front&. The second way of distortion is that somebody, claiming to have faith, tries to distort the meaning of the Qur&an covertly through false interpretations. This has been referred to by the words, ` nor from its behind&. The sense, in nut shell, is that this Book is so noble and protected by Allah that nobody has the power to bring any addition, omission or change in its words, nor can one succeed in bringing any change in the injunctions of the Qur&an by distorting its meaning. Whenever any wretched person attempted to do so, he had to face ignominy -The Qur&an remained pure and untouched by his evil plans. As for its protection from open distortion or change, everybody can see that there is no way for anyone to do it, because it is being read and recited throughout the world for the last fourteen centuries, fully memorized by hundreds of thousands of people; if anybody makes even the slightest mistake, the young, the old, the learned scholars, the illiterate - thousands and thousands of Muslims raise their voice for correction. The words ` nor from its behind& in the present verse indicate that the protection of the Qur&an that has been undertaken by Allah Almighty Himself by saying |"And We are there to protect it.|" (15:9) is not limited to its words only; rather Allah Almighty has ensured that its meanings will remain protected as well. Allah Almighty has so safeguarded even the meaning and injunctions of Qur&an through His Messenger and his direct disciples, the noble Companions (رض) ، that if any infidel attempts to distort it through false explanations, thousands of scholars stand up to refute it, and he faces rejection. The fact is that in the verse إِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (We are there to protect it) the pronoun ` it& points towards the Qur&an and Qur&an is not just the name of words, but is the name of both words and meanings. It is clearly mentioned in correct ahadith that a group will always remain among Muslims, till Doomsday, who would expose the distortions of those who commit ilhad (false interpretation), and would clarify the correct meaning of the Qur&an. They may hide their kufr from the whole world, but they cannot hide it from Allah Almighty, and since Allah Almighty is aware of their conspiracy, they are bound to face punishment.

(آیت) لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ۔ آگے اس کتاب کے لئے منجانب اللہ حفاظت کا بیان ہے۔ قتاوہ اور سدی نے فرمایا کہ باطل سے مراد شیطان ہے اور مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ یعنی نہ سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے، اس سے مراد تمام جوانب ہیں۔ مطلب یہ کہ شیطان کا کوئی تصرف و تدبیر اس کتاب میں نہیں چلتی کہ وہ اس کتاب میں کمی و بیشی یا کوئی تحریف کرسکے۔ تفسیر مظہری میں اس کو نقل کر کے فرمایا کہ شیطان اس جگہ عام ہے شیطان الجن ہو یا آدمی شیطان کسی کی تحریف و تبدیل قرآن میں نہیں چلتی جیسے بعض روافض نے قرآن میں دس پاروں کا، بعض نے خاص خاص آیات کا اضافہ کرنا چاہا مگر کسی کی بات نہ چلی۔ ابوحیان نے بحر محیط میں فرمایا کہ لفظ باطل اپنے الفاظ کے اعتبار سے شیطان کے ساتھ مخصوص نہیں۔ ہر باطل و مبطل شیطان کی طرف سے ہو یا کسی دوسرے کی طرف سے، قرآن میں وہ نہیں چل سکتا۔ پھر بحوالہ طبری آیت کا یہ مفہوم بتلایا کہ کسی اہل باطل کی مجال نہیں کہ سامنے آ کر اس کتاب میں کوئی تغیر و تبدل کرے اور نہ اس کی مجال ہے کہ پیچھے سے چھپ کر اس کے معانی میں تحریف اور الحاد کرے۔ طبری کی تفسیر اس مقام سے بہت زیادہ مناسب ہے۔ کیونکہ قرآن میں الحادو تحریف کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ کوئی اہل باطل کھلے طور پر قرآن میں کوئی کمی وبیشی کرنا چاہے اس کو تو من بین یدیہ سے تعبیر فرمایا۔ دوسرے یہ کہ کوئی شخص بظاہر دعویٰ ایمان کا کرے، مگر چھپ کر تاویلات باطلہ کے ذریعہ قرآن کے معنی میں تحریف کرے، اس کو من خلفہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ کے نزدیک ایسی عزیز و کریم ہے کہ نہ اس کے الفاظ میں کوئی کمی و بیشی اور تحریف و تبدیل پر کسی کو قدرت ہے اور نہ معانی میں تحریف کر کے قرآن کے احکام بدل دینے کی مجال ہے۔ جب کبھی کسی بدبخت نے اس کا ارادہ کیا وہ ہمیشہ رسوا ہوا۔ قرآن اس کی ناپاک تدبیر سے پاک صاف رہا۔ الفاظ میں تحریف و تبدیل کی راہ نہ ہونا تو ہر شخص دیکھتا سمجھتا ہے کہ تقریباً چودہ سو سال سے ساری دنیا میں پڑھا جاتا ہے۔ لاکھوں انسانوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔ ایک زیر زبر کی غلطی کسی سے ہوجائے تو بوڑھوں سے لے کر بچوں تک، عالموں سے لے کر جاہلوں تک لاکھوں مسلمان اس کی غلطی پکڑنے والے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ من خلفہ کے الفاظ سے اس طرف اشارہ کردیا کہ قرآن کی حفاظت جو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے انا لہ لحفظون وہ صرف الفاظ کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ اس کے معانی کی حفاظت کا بھی اللہ تعالیٰ ہی کفیل ہے۔ اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے بلاواسطہ شاگردوں یعنی صحابہ کرام کے ذریعہ معانی قرآن اور احکام قرآن کو بھی ایسا محفوظ کردیا ہے کہ کوئی ملحد بےدین اس میں تاویلات باطلہ کے ذریعہ تحریف کا ارادہ کرے تو ہر جگہ ہر زمانے میں ہزاروں علماء اس کی تردید کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ خائب و خاسر ہوتا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ آیت انا لہ لحافظون میں ضمیر لہ قرآن کی طرف راجع ہے اور قرآن صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ نظم ومعنی دونوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ خلاصہ آیات مذکورہ کے مضمون کا یہ ہوگیا کہ جو لوگ بظاہر مسلمان ہیں، اس لئے کھل کر قرآن کا انکار تو نہیں کرتے مگر آیات قرآنی میں تاویلات باطلہ سے کام لے کر ان کو ایسے مطلب پر محمول کرتے ہیں جو قرآن اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قطعی تصریحات کے خلاف ہے۔ ان کی تحریف سے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو ایسا محفوظ کردیا ہے کہ یہ گھڑے ہوئے معانی کسی کے چل نہیں سکتے۔ قرآن و حدیث کی دوسری نصوص اور علماء امت اس کی قلعی کھول دیتے ہیں۔ اور احادیث صحیحہ کی تصریح کے مطابق قیامت تک مسلمانوں میں ایسی جماعت قائم رہے گی جو تحریف کرنے والوں کی تحریف کا پردہ چاک کر کے قرآن کے صحیح مفہوم کو واضح کردے۔ اور دنیا سے وہ اپنے کفر کو کیسا ہی چھپائیں اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتے۔ اور جب اللہ تعالیٰ ان کی اس سازش سے باخبر ہے تو ان کو اس کی سزا ملنا بھی ضروری ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَّا يَاْتِيْہِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ۝ ٠ ۭ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ۝ ٤٢ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7» فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) «1» فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ بطل البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] ( ب ط ل ) الباطل یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے بعد جس چیز میں ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے اسے باطل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں سے : ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا کے پکارتے ہیں وہ لغو ہیں ۔ «بَيْن»يدي و «بَيْن» يستعمل تارة اسما وتارة ظرفا، فمن قرأ : بينكم [ الأنعام/ 94] ، جعله اسما، ومن قرأ : بَيْنَكُمْ جعله ظرفا غير متمکن وترکه مفتوحا، فمن الظرف قوله : لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ الحجرات/ 1] ، وقوله : فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْواكُمْ صَدَقَةً [ المجادلة/ 12] ، فَاحْكُمْ بَيْنَنا بِالْحَقِّ [ ص/ 22] ، وقوله تعالی: فَلَمَّا بَلَغا مَجْمَعَ بَيْنِهِما [ الكهف/ 61] ، فيجوز أن يكون مصدرا، أي : موضع المفترق . وَإِنْ كانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثاقٌ [ النساء/ 92] . ولا يستعمل «بين» إلا فيما کان له مسافة، نحو : بين البلدین، أو له عدد ما اثنان فصاعدا نحو : الرجلین، وبین القوم، ولا يضاف إلى ما يقتضي معنی الوحدة إلا إذا کرّر، نحو : وَمِنْ بَيْنِنا وَبَيْنِكَ حِجابٌ [ فصلت/ 5] ، فَاجْعَلْ بَيْنَنا وَبَيْنَكَ مَوْعِداً [ طه/ 58] ، ويقال : هذا الشیء بين يديك، أي : متقدما لك، ويقال : هو بين يديك أي : قریب منك، وعلی هذا قوله : ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ [ الأعراف/ 17] ، ولَهُ ما بَيْنَ أَيْدِينا وَما خَلْفَنا [ مریم/ 64] ، وَجَعَلْنا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا [يس/ 9] ، مُصَدِّقاً لِما بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْراةِ [ المائدة/ 46] ، أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] ، أي : من جملتنا، وقوله : وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهذَا الْقُرْآنِ وَلا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ [ سبأ/ 31] ، أي : متقدّما له من الإنجیل ونحوه، وقوله : فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذاتَ بَيْنِكُمْ [ الأنفال/ 1] ، أي : راعوا الأحوال التي تجمعکم من القرابة والوصلة والمودة . ويزاد في بين «ما» أو الألف، فيجعل بمنزلة «حين» ، نحو : بَيْنَمَا زيد يفعل کذا، وبَيْنَا يفعل کذا، بین کا لفظ یا تو وہاں استعمال ہوتا ہے ۔ جہاں مسافت پائی جائے جیسے ( دو شہروں کے درمیان ) یا جہاں دو یا دو سے زیادہ چیزیں موجود ہوں جیسے اور واھد کی طرف مضاف ہونے کی صورت میں بین کو مکرر لانا ضروری ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَمِنْ بَيْنِنا وَبَيْنِكَ حِجابٌ [ فصلت/ 5] اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے فَاجْعَلْ بَيْنَنا وَبَيْنَكَ مَوْعِداً [ طه/ 58] ۔ تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو ۔ اور کہا جاتا ہے : / یعنی یہ چیز تیرے قریب اور سامنے ہے ۔ اسی معنی میں فرمایا : ۔ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ [ الأعراف/ 17] پھر ان کے آگے ۔۔۔۔۔ ( غرض ہر طرف سے ) آؤنگا ۔ ولَهُ ما بَيْنَ أَيْدِينا وَما خَلْفَنا [ مریم/ 64] جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو پیچھے ۔۔۔ سب اسی کا ہے ۔ وَجَعَلْنا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا [يس/ 9] اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنادی ۔ اور ان کے پیچھے بھی ۔ مُصَدِّقاً لِما بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْراةِ [ المائدة/ 46] جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے ۔ أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] کیا ہم سب میں سے اسی نصیحت ۃ ( کی کتاب ) اتری ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهذَا الْقُرْآنِ وَلا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ [ سبأ/ 31] اور جو کافر ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان کتابوں ) کو جو اس سے پہلے کی ہیں ۔ میں سے انجیل اور دیگر کتب سماویہ مراد ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذاتَ بَيْنِكُمْ [ الأنفال/ 1] خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ صلہ رحمی ، قرابت ، دوستی وغیرہ باہمی رشتوں کا لحاظ کرد جو باہم تم سب کے درمیان مشترک ہیں اور بین کے م، ابعد یا الف کا اضافہ کرکے حین کے معنی میں استعمال کرلینے ہیں خلف ( پیچھے ) خَلْفُ : ضدّ القُدَّام، قال تعالی: يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] ، وقال تعالی: لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] ( خ ل ف ) خلف ( پیچھے ) یہ قدام کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] جو کچھ ان کے روبرو ہو راہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے ۔ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] اس کے آگے پیچھے خدا کے جو کیدار ہیں ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا حمید إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، ( ح م د ) حمید اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٢{ لَّا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ } ” باطل اس پر حملہ آور ہو ہی نہیں سکتا ‘ نہ اس کے سامنے سے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے۔ “ اس دورئہ ترجمہ قرآن کے دوران بار بار میں مثالیں دیتا رہا ہوں کہ قرآن کس طرح اپنی حفاظت کرتا ہے اور کس طرح ان لوگوں کے عزائم کو ناکام بناتا ہے جو اس کی آیات کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں یا کسی آیت کی تعبیر اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ { تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ } ” اس کا اتارا جانا ہے ایک حکیم اور حمید ہستی کی طرف سے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

52 "Falsehood . . . . from before it" means that none can succeed in proving anything wrong or any teaching false in the Qur'an by making a frontal attack on it; . . . . nor from behind it" means that nothing can be discovered till Resurrection which may be opposed to the truths and realities presented by the Qur'an; no new science, if it is really a "science", can be propounded, which may contradict the knowledge contained in the Qur'an; no new experiment or observation can be made to prove that the guidance given to man by the Qur'an in respect of the beliefs, morality, law, civilization or culture, and economic, social and political lift is wrong. That which this Book has declared as the Truth can never be proved to be falsehood and that which it has declared as falsehood can never be proved to be the truth. Furthermore, it also means that whether falsehood makes a frontal attack, or makes a surprise attack by deception, it cannot defeat the message which the Qur'an has brought. In spite of all sorts of open and secret machinations of the opponents the message will spread and none shall be able to defeat and frustrate it.

سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :52 سامنے سے نہ آ سکنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پر براہ راست حملہ کر کے اگر کوئی شخص اس کی کسی بات کو غلط اور کسی تعلیم کو باطل و فاسد ثابت کرنا چاہے تو اس میں کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ پیچھے سے نہ آ سکنے کا مطلب یہ ہے کہ کبھی کوئی حقیقت و صداقت ایسی منکشف نہیں ہو سکتی جو قرآن کے پیش کردہ حقائق کے خلاف ہو ، کوئی علم ایسا نہیں آ سکتا جو فی الواقع علم ہو اور قرآن کے بیان کردہ علم کی تردید کرتا ہو ، کوئی تجربہ اور مشاہدہ ایسا نہیں ہو سکتا جو یہ ثابت کر دے کہ قرآن نے عقائد ، اخلاق ، قانون ، تہذیب و تمدن ، معیشت و معاشرت اور سیاست و تمدن کے باب میں انسان کو جو رہنمائی دی ہے وہ غلط ہے ۔ اس کتاب نے جس چیز کو حق کہہ دیا ہے وہ کبھی باطل ثابت نہیں ہو سکتی اور جسے باطل کہہ دیا ہے وہ کبھی حق ثابت نہیں ہو سکتی ۔ مزید برآں اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ باطل خواہ سامنے سے آ کر حملہ آور ہو یا ہیر پھیر کے راستوں سے چھاپے مارے ، بہرحال کسی طرح بھی وہ اس دعوت کو شکست نہیں دے سکتا جسے لے کر قرآن آیا ہے ۔ تمام مخالفتوں اور مخالفین کی ساری خفیہ اور علانیہ چالوں کے علی الرغم یہ دعوت پھیل کر رہے گی اور کوئی اسے زک نہیں دے سکے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:42) لا یأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ۔ باطل اس کے پاس نہیں آسکتا نہ آگے سے اور نہ پیچھے سے۔ اس کی وضاحت مختلف صورتوں میں کی گئی ہے :۔ (1) باطل سے مراد شیطان ہے۔ شیطان انس ہو یا جن قرآن میں کوئی کمی بیشی یا تغیر و تبدل نہیں کرسکتا۔ (قتادہ، سدی) (2) آگے سے باطل نہ آسکنے کا معنی ہے کمی نہ ہونا۔ اور پیچھے سے باطل نہ آنے کا معنی ہے زیادتی نہ ہونا۔ (زجاج) (3) کتب سابقہ سے اس کی تکذیب نہیں ہوتی نہ اس کے بعد کوئی ایسی کتاب آئے گی جو قرآن کو باطل اور منسوخ کردے۔ (مقاتل) (4) جھوٹ نہ اس کی ماضی کی خبروں میں داخ (رح) ہوسکتا ہے اور نہ آئندہ امور میں۔ لایتطرق الیہ الباطل مما فیہ من الاخبار الماضیۃ والامور الاتیۃ (بیضاوی) تنزیل من حکیم حمید : تنزیل بروزن فعیل مصدر ہے اتارنا۔ تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا۔ اس سے مراد قرآن حکیم ہے کیونکہ یہی وہ مخصوص کتاب ہے جو 23 سال کے عرصہ میں حسب مصلحت و ضرورت تھوری تھوڑی کرکے نازل کی گئی اور باقی کتابیں بیک دفعہ نازل ہوئیں ۔ حکیم بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے بمعنی حکمت والا۔ حمید : ستودہ صفات، تعریف کیا ہوا۔ حمد سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے بروزن فعیل بمعنی مفعول یعنی محمود ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے کیونکہ وہی حقیقی طور پر مستحق حمد ہے۔ (1) یہ خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے ای ھذا تنزیل من حکیم حمید : یا (2) یہ کتب کی صفت ہے پہلی صفات عزیز اور لایاتیہ الباطل ۔۔ ولا من خلفہ ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی باطل کی یہ مجال نہیں ہے کہ اس پر کسی پہلو سے حملہ آور ہو سکے، نہ کھلم کھلا سامنے آ کر اور نہ چوری چھپے پیچے سے۔ سو قرآن نقص و زیارت سے محفوظ ہے یا مطلب یہ ہے کہ پہلی کتابیں بھی قرآن کو باطل نہیں کرتیں اور نہ کوئی کتاب پیچھے آئے گی جو اس کو جھٹلا دے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی اس میں کسی پہلو اور کسی جہت سے اس کا احتمال نہیں کہ یہ قرآن منزل من اللہ نہ ہو، اور پھر خلاف واقع اس کو منزل من اللہ کہہ دیا جاوے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اور پھر یہ کتاب۔ تنزیل من حکیم حمید (٤١ : ٤٢) “ یہ حمید و حکیم کی نازل کردہ ہے ”۔ اس کی تعمیر ہی میں حکمت پنہان ہے۔ اس کے طریق نزول اور اس کی ہدایات سے حکمت عیاں ہے۔ لہٰذا جس رب تعالیٰ نے اسے نازل کیا ہے ، وہ حمد کثیر کا مستحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار حمد و ثنا کے لئے ابھارا گیا ہے۔ اب قرآن کو کتب سابقہ کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے ۔ رسول اللہ اور تمام انبیائے سابقہ کے درمیان ایسا تعلق قائم کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ہی محفل ہے ، ایک خاندان ہے ، ان کی بات بھی ایک ہے ، ان کی روح اور قلب بھی ایک ہیں۔ طریقہ دعوت بھی ایک ہے۔ یوں ہر ایک مسلمان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے درخت کا پتہ ہے جس کے اندر بیشمار پتے ہیں اور جس کی جڑیں گہری ہیں اور یہ کہ وہ ایک ایسی محفل کا ممبر ہے جو آدم (علیہ السلام) سے شروع ہوتی ہے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(لاَ یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَ مِنْ خَلْفِہِ ) (باطل بات نہ اس کے آگے سے آسکتی ہے نہ اس کے پیچھے سے) یعنی کسی پہلو اور کسی جہت سے اس کا احتمال نہیں (تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ ) وہ اتاری گئی ہے حکمت والے کی طرف سے جس کی ذات وصفات محمود ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(42) جس میں باطل کو مطلق رسائی نہیں کوئی غیر واقعی بات اور غلط اور بیہودہ بات اور باطل بات نہ اس کے آگے سے آسکتی ہے نہ پیچھے سے آسکتی ہے وہ کتاب اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور اتاری گئی ہے جو کمال حکمت کا نہ مانا تو ان لوگوں نے بڑی کوتاہی اور عدم تدبر کا ثبوت دیا اور اس کتاب کی عظمت کو نہ سمجھا حالانکہ یہ کتاب بڑی گرامی قدر اور باوقعت ہے اور ہر قسم کے ناجائز تصرف سے محفوظ ہے کیونکہ اس میں باطل اور لغویات کسی جانب سے بھی داخل نہیں ہوسکتی۔ مجاہد نے باطل کی تفسیر میں شیطان کہا ہے یعنی شیطان کو اس کتاب میں تصرف کا کوئی حق نہیں اور شیطان کا اثر کسی جانب سے بھی اس کتاب میں نفوذ نہیں ہوسکتا۔ اور یہ کتاب حکیم اور حمید کی جانب سے نازل کی گئی ہے اس لئے شیطان کی کیا مجال ہے کہ اس کتاب میں کوئی مداخلت کرسکے۔ حمید کے معنی ہیں سب خوبیاں سراہا۔ حضرت علی (رض) نے دریافت کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ کی وفات کے بعد آپ کی امت فتنوں میں مبتلا ہوگی اور پھر فتنوں سے نکلنے کی تدبیر کیا ہوگی ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس امت کو فتنے سے اللہ تعالیٰ جو غالب ہے اس کی کتاب نکالے گی جس کی صفت یہ ہے ۔ لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید۔ آگے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہیں اور قرآن کی طرف سے منکروں کے اعتراض کا جواب ارشاد فرماتے ہیں۔