Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 48

سورة حم السجدہ

وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ وَ ظَنُّوۡا مَا لَہُمۡ مِّنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿۴۸﴾

And lost from them will be those they were invoking before, and they will be certain that they have no place of escape.

اور یہ جن ( جن ) کی پرستش اس سے پہلے کرتے تھے وہ ان کی نگاہ سے گم ہوگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کے لئے کوئی بچاؤ نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَدْعُونَ مِن قَبْلُ ... And those whom they used to invoke before (in this world) shall disappear from them, means, they will go away, and will be of no benefit to them. ... وَظَنُّوا مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٍ and they will perceive that they have no place of refuge. means, they will have no way of escaping from the punishment of Allah. This is like the Ayah: وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّواْ أَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُواْ عَنْهَا مَصْرِفًا And the criminals shall see the Fire and apprehend that they have to fall therein. And they will find no way of escape from there. (18:53)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

48۔ 1 یعنی وہ ادھر ادھر ہوگئے اور حسب گمان انہوں نے کسی کو فائدہ نہیں پہنچایا۔ 48۔ 2 یہ گمان، یقین کے معنی میں ہیں یعنی قیامت والے دن وہ یقین کرنے پر مجبور ہوں گے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا " وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا "18 ۔ الکہف :53)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٣] یعنی قیامت کی ہولناکیوں سے اس قدر گھبرائے ہوئے اور حواس باختہ ہوں گے کہ انہیں سمجھ ہی نہ آئے گی کہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا کیا جواب دیں اور دنیا میں وہ اپنے معبودوں کے متعلق جو تصورات جمائے بیٹھے تھے کہ وہ اللہ سے سفارش کرکے ہمیں بچا لیں گے، سب کچھ بھول جائیں گے کیونکہ انہیں صاف نظر آرہا ہوگا کہ آج کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا، نہ ہی عذاب سے بچنے کی کوئی صورت یا کوئی جگہ نظر آتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وضل عنھم ما کانوا یدعون من قبل : یعنی پریشانی کے عالم میں وہ چ اورں طرف نظر دوڑائیں گے کہ عمر بھر جنہیں پکارتے رہے ، شاید ان میں سے کوئی مدد کو آجائے، انہیں عذاب سے چھڑا لے، یا اس میں کچھ کمی ہی کروا دے، مگر کوئی مددگار نظر نہیں آئے گا۔ (٢) وظنوا ما لہم من محیص :” حاص یحیص حیضاً “ (ض) بھاگنا۔ ” محیص “ مصدر میمی ہے یا ظرف۔ مصدر کا معنی ہوگا بھاگنے کی کوئی صورت اور ظرف کا معنی ہے بھاگنے کی کوئی جگہ۔” ظن “ کا لفظ گمان کے علاوہ یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔ (دیکھیے بقرہ : ٤٦) یہاں بھی ” ظنوا “ یقین کے معنی میں ہے، کیونکہ قیامت کے دن تمام حقیقتیں کھل کر سامنے آجائیں گی اور کسی کو کوئی شک باقین ہیں رہے گا، حتیٰ کہ کفار خود کو یقین ہوجانے کا اقرار کریں گے، فرمایا (ربنا ابصرنا و سمعنا فارجعنا نعمل صالحاً انا موقنون) (السجدۃ : ١٢)” اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سن لیا، پس ہمیں واپس بھیج کہ ہم نیک عمل کریں، بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں۔ “ اور دیکھیے سورة مریم (٣٨) ، سورة ق (٢٢) اور سورة انعام (٣٠) ۔ مطلب یہ ہے کہ کفار کے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں میں سے کوئی انہیں نہیں آئے گا اور انہیں یقین ہوجائے گا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھاگ نکلنے کی کوئی جگہ ہے نہ اس کی کوئی صورت۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَظَنُّوْا مَا لَہُمْ مِّنْ مَّحِيْصٍ۝ ٤٨ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ حاص قال تعالی: هَلْ مِنْ مَحِيصٍ [ ق/ 36] ، وقوله تعالی: ما لَنا مِنْ مَحِيصٍ [إبراهيم/ 21] ، أصله من حَيْص بيص أي : شدّة، وحَاصَ عن الحقّ يَحِيصُ ، أي : حاد عنه إلى شدّة ومکروه . وأمّا الحوص فخیاطة الجلد ومنه حصت عين الصّقر . ( ح ی ص ) حاص ( ض ) عن الحق کے معنی حق سے بھاگ کر شدت ومکروہ کی طرف جانے کے میں قرآن میں ہے : ۔ هَلْ مِنْ مَحِيصٍ [ ق/ 36] کہ کہیں بھاگنے کی جگہ ہی : ما لَنا مِنْ مَحِيصٍ [إبراهيم/21] کوئی جگہ گریز اور رہائی ہمارے لئے نہیں ہے ۔ یہ اصل میں حیص وبیص سے ہے جس کے شدت اور سختی کے ہیں مگر الحوص ( وادی ) ہو تو اس کے معنی چمڑا سلنا ہوتے ہیں اور اسی سے حصت عین الصقر کا محاورہ ہے جس کے معنی صقرۃ کی آنکھیں سی دینے کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جن کی یہ لوگ دنیا میں پوجا کیا کرتے تھے وہ سب غائب ہوجائیں گے اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ دوزخ کے علاوہ اب ان کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٨{ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ } ” اور وہ سب گم ہوجائیں گے ان سے جنہیں وہ پکارا کرتے تھے اس سے پہلے “ اس دن کی سختی کو دیکھ کر گویا ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے ۔ { وَظَنُّوْا مَا لَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ } ” اور وہ یقین کرلیں گے کہ اب ان کے لیے کوئی جائے فرار نہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

64 That is, "In their utter hopelessness they will look around to see if they could find any one of those whom they used to serve and worship in the world, who could come to their rescue and save them from God's torment, or at least have their punishment reduced, but they will find no helper on any side."

سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :64 یعنی مایوسی کے عالم میں یہ لوگ ہر طرف نظر دوڑائیں گے کہ عمر بھر جن کی سیوا کرتے رہے ، شاید ان میں سے کوئی مدد کو آئے اور ہمیں خدا کے عذاب سے چھڑا لے ، یا کم از کم ہماری سزا ہی کم کرا دے ، مگر کسی طرف سے کوئی مددگار بھی ان کو نظر نہ آئے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:48) وضل عنھم ما کانوا یدعون من قبل ضل ماضی واحد مذکر غائب (بمعنی جمع مستعمل ہے) ضلال (باب ضرب) مصدر۔ کھوگیا۔ گم ہوگیا۔ بھٹک گیا۔ راہ سے دور جاپڑا۔ ماکانوا یدعون ما موصول ۔ کانوا یدعون (جن کی وہ دنیا میں بطور معبود) پوجا کیا کرتے تھے۔ ای شرکاء یہ فاعل ہوا فعل ضل کا اور عنھم میں ضمیر جمع مذکر غائب ان مشرکین کی طرف راجع ہے جن سے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ وہ تمہارے معبودان جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے تھے کہاں ہیں ؟ ترجمہ آیت : اور جن کی یہ پہلے (دنیا میں ) پوجا کیا کرتے تھے وہ سب غائب ہوں گے کوئی معبود دکھائی نہ دے گا۔ یہ جملہ حالیہ ہے ظنوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ظن (باب نصر) گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ یقین کرنا۔ یہاں مراد ایقنوا ہے۔ انہوں نے یقین کیا۔ وہ یقین کرلیں گے۔ ان کو یقین ہوجائے گا۔ گمان کے معنی میں قرآن مجید میں ہے ان نظن الا ظنا وما نحن بمستیقین (45:32) اور ہم اس کو محض گمان خیال کرتے ہیں اور ہم اس پر یقین کرنے والے نہیں ہیں۔ محیص : حاص یحیص (اجوف یائی) سے مصدر میمی ہے اور اس کے معنی ہیں سختی۔ چناچہ اسی سے ہے حاص عن الحق : وہ حق سے اعراض کرکے سختی کی طرف لوٹ گیا۔ یہاں بطور ظرف مکان مجرور مستعمل ہے بمعنی پناہ گاہ۔ لوٹنے کی جگہ وظنوا مالہم من محیص اور ان کو یقین ہوجائے گا کہ اب بھاگ جانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی پریشانی کے عالم میں وہ چاروں طرف نگاہ دوڑائیں گے مگر کوئی مددگار نظر نہیں آئے گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وضل عنھم ما ۔۔۔۔۔ من محیص (٤١ : ٤٨) “ اس وقت وہ سارے معبودان سے گم ہوجائیں گے جنہیں یہ اس سے پہلے پکارتے تھے اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لئے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے ”۔ کیونکہ اب ان کو اپنے سابقہ دعویٰ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ ہوگا کہ اس کی تصدیق کرسکیں۔ ان کے نفوس میں یہ بات گہرے طور پر بیٹھ گئی ہوگی کہ اب تو کوئی جائے فرار نہیں ہے۔ یہ ہوگی ان کی کربناک اور مدہوش کردینے والی حالت اس دن۔ جب ایسی حالت آتی ہے تو انسان اپنا تمام ماضی بھول جاتا ہے ، پھر اسے وہی حالات یاد ہوتے ہیں جو درپیش ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(48) اور جن معبودوں کو قیامت سے پہلے یہ لوگ پکارا کرتے تھے اور جن کی پوجا کیا کرتے تھے وہ سب ان کی نظروں سے غائب ہوجائیں گے اور یہ مشرک اس بات کو جان لیں گے کہ ان کے واسطے فرار کی اور بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے یعنی وہ سب شرکاء ان کی نظروں سے غائب اور اوجھل اور گم ہوجائیں گے اور مشرک اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں گے کہ اب کہیں خلاصی اور بھاگ نکلنے کی اور بچائو کی جگہ نہیں آگے منکروں کی اخلاقی کمزوری کا ذکر فرمایا۔