Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 52

سورة حم السجدہ

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ ہُوَ فِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۵۲﴾

Say, "Have you considered: if the Qur'an is from Allah and you disbelieved in it, who would be more astray than one who is in extreme dissension?"

آپ کہہ دیجئے! کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہو پھر تم نے اسے نہ مانا بس اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہوگا جو مخالفت میں ( حق سے ) دور چلا جائے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Qur'an and the Proofs of its Truth Allah says, قُلْ ... Say, -- (O Muhammad, to these idolators who disbelieve in the Qur'an) -- ... أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ ... Tell me, if it, -- (this Qur'an) -- ... مِنْ عِندِ اللَّهِ ثُمَّ كَفَرْتُم بِهِ ... is from Allah, and you disbelieve in it, means, `what do you think your position is before the One Who revealed it to His Messenger?' Allah says: ... مَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ Who is more astray than one who is in opposition far away. means, he is in a state of disbelief, stubbornness and opposition to the truth, and is following a path that leads far away from guidance. Then Allah says:

قرآن کریم کی حقانیت کے بعض دلائل اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ قرآن کے جھٹلانے والے مشرکوں سے کہہ دو کہ مان لو یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور تم اسے جھٹلا رہے ہو تو اللہ کے ہاں تمہارا کیا حال ہو گا ؟ اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہو گا جو اپنے کفر اور اپنی مخالفت کی وجہ سے راہ حق سے اور مسلک ہدایت سے بہت دور نکل گیا ہو پھر اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ قرآن کریم کی حقانیت کی نشانیاں اور خصلتیں انہیں ان کے گرد و نواح میں دنیا کے چاروں طرف دکھا دیں گے ۔ مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوں گی وہ سلطنتوں کے سلطان بنیں گے ۔ تمام دینوں پر اس دین کو غلبہ ہو گا فتح بدر اور فتح مکہ کی نشانیاں خود ان میں موجود ہوں گی ۔ کافر لوگ تعداد اور شان و شوکت میں بہت زیادہ ہوں گے پھر بھی مٹھی بھر اہل حق انہیں زیر و زبر کر دیں گے اور ممکن ہے یہ مراد ہو کہ حکمت الیٰ کی ہزارہا نشانیاں خود انسان کے اپنے وجود میں موجود ہیں اس کی صنعت و بناوٹ اس کی ترکیب و جبلت اس کے جداگانہ اخلاق اور مختلف صورتیں اور رنگ روپ وغیرہ اس کے خالق و صانع کی بہترین یاد گاریں ہر وقت اس کے سامنے ہیں بلکہ اس کی اپنی ذات میں موجود ہیں پھر اس کا ہیر پھیر کبھی کوئی حالت کبھی کوئی حالت ۔ بچپن ، جوانی ، بڑھاپا ، بیماری ، تندرستی ، تنگی ، فراخی رنج و راحت وغیرہ اوصاف جو اس پر طاری ہوتے ہیں ۔ شیخ ابو جعفر قرشی نے اپنے اشعار میں بھی اسی مضمون کو ادا کیا ہے ۔ الغرض یہ بیرونی اور اندرونی آیات قدرت اس قدر ہیں کہ انسان اللہ کی باتوں کی حقانیت کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی گواہی بس کافی ہے وہ اپنے بندوں کے اقوال و افعال سے بخوبی واقف ہے ۔ جب وہ فرما رہا ہے کہ پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو پھر تمہیں کیا شک؟ جیسے ارشاد ہے آیت ( لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ ۭوَكَفٰي بِاللّٰهِ شَهِيْدًا ١٦٦؀ۭ ) 4- النسآء:166 ) یعنی لیکن اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ جس کو تمہارے پاس بھیجی ہے اور اپنے علم کے ساتھ نازل فرمائی ہے خود گواہی دے رہا ہے اور فرشتے اس کی تصدیق کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے پھر فرماتا ہے کہ دراصل ان لوگوں کو قیامت کے قائم ہونے کا یقین ہی نہیں اسی لئے بےفکر ہیں نیکیوں سے غافل ہیں برائیوں سے بچتے نہیں ۔ حالانکہ اس کا آنا یقینی ہے ۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا لوگو میں نے تمہیں کسی نئی بات کے لئے جمع نہیں کیا بلکہ صرف اس لئے جمع کیا ہے کہ تمہیں یہ سنا دوں کہ روز جزا کے بارے میں میں نے خوب غور کیا میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے اور اسے جھوٹا جاننے والا ہلاک ہونے والا ہے ۔ پھر آپ منبر سے اتر آئے ۔ آپ کے اس فرمان کا کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے یہ مطلب ہے کہ سچ جانتا ہے پھر تیاری نہیں کرتا اور اس کی دل ہلا دینے والی دہشت ناک حالتوں سے غافل ہے اس سے ڈر کر وہ اعمال نہیں کرتا جو اسے اس روز کے ڈر سے امن دے سکیں پھر اپنے آپ کو اس کا سچا جاننے والا بھی کہتا ہے لہو و لعب غفلت و شہوت گناہ اور حماقت میں مبتلا ہے اور قیام قیامت کے قریب ہو رہا ہے واللہ اعلم ۔ پھر رب العالمین اپنی قدرت کاملہ کو بیان فرما رہا ہے کہ ہر چیز پر اس کا احاطہ ہے قیام قیامت اس پر بالکل سہل ہے ، ساری مخلوق اس کے قبضے میں ہے جو چاہے کرے کوئی اس کا ہاتھ تھام نہیں سکتا جو اس نے چاہا ہوا جو چاہے گا ہو کر رہے گا اس کے سوا حقیقی حاکم کوئی نہیں ہے نہ اس کے سوا کسی اور کی ذات کی کسی قسم کی عبادت کے قابل ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

52۔ 1 یعنی ایسی حالت میں تم سے زیادہ گمراہ اور تم سے زیادہ دشمن کون ہوگا۔ 52۔ 2 شقاق کے معنی ہیں ضد، عناد اور مخالفت بعید مل کر اس میں اور مبالغہ ہوجاتا ہے۔ یعنی جو بہت زیادہ مخالف اور عناد سے کام لیتا ہے، حتی کہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کی بھی تکذیب کردیتا ہے، اس سے بڑھ کر گمراہ اور بدبخت کون ہوسکتا ہے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٠] آخرت کے منکر کیسے خسارہ میں رہتے ہیں ؟:۔ اس قرآن میں جو بعث بعدالموت اور اللہ کے حضور پیشی کا عقیدہ پیش کیا گیا ہے وہ ایک ٹھوس حقیقت ہو تو بتاؤ تمہارا کیا حال ہوگا ؟ فرض کرو کہ تمہارے زعم کے مطابق سب انسان مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور یہی انسان کا انجام ہو تو جو شخص روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کا کیا بگڑے گا ؟ اور اگر قرآن کی بات سچی ہوئی اور تمہیں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہونا پڑا تو بتاؤ تمہاری گمراہی کا کوئی ٹھکانا ہے جس کے نتیجہ میں لازماً تمہیں جہنم کا عذاب بھگتنا پڑے گا ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قل ارء یتم ان کان من عند اللہ ثم کفرتم بہ …: یہ پوری سورت قرآن کریم، توحید و رسالت اور قیامت کے حق ہونے کے دلائل سے بھری ہوئی ہے، جنہیں کفار نہ صرف یہ کہ مانتے نہیں تھے بلکہ سننے پر بھی تیار نہیں تھے۔ جیسا کہ آیت (٥) میں گزرا :(وقالوا قلوبنا فی اکنۃ)” اور انہوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں۔ “ اور آیت (٢٦) میں ہے :(وقال الذین کفروا لاتسمعوا لھذا القرآن)” اور انا لوگوں نے کہا جنہوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو۔ “ تو سورت کے آخر میں بنی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ ان سے کہیں کہ تم جو قرآن کو سننے تک کے لئے تیار نہیں اسے باطل یا جھوٹ کیسے کہہ سکتے ہو ؟ کیونکہ اسے غلط تو تب کہہ سکتے ہو کہ اسے سنو، پھر حق ہو تو قبول کرو، ورنہ دلیل سے اسے باطل قرار دو ، اتنا تم میں حوصلہ نہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں اس کے باطل ہونے کا یقین نہیں، ورنہ ایسی چیز جس کا غلط ہونا بالکل واضح ہو، اس کے سننے پر اتنی شدید پابندی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس سے ظاہر ہے کہ تمہارے ذہن میں ب یھ اس کے حق ہونے کا امکان موجود ہے۔ اسلئے یہ بتاؤ کہ یہ قرآن جسے تم سننے ہی کے روادار نہیں، اگر واقعی اللہ کی طرف سے حق ہوا، پھر سنے سمجھے بغیر تم نے اسے جھٹلا دیا اور اسی حالت میں تمہاری موت آگئی، پھر حشر بپا ہوا تو اس وقت تو تم اتنی دور کی مخالفت میں پڑچکے ہوگے جو بہت دور کی مخالفت ہے، جس سے واپسی تم چاہو گے بھی تو ممکن نہیں۔ پھر جو خواہ مخواہ کی ایسی غلط مخالفت پر ڈٹ جائے، جس سے واپسی ممکن نہ ہو، اس سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے ؟ آیت کا مقصد کفار کو سننے اور سوچنے پر آمادگی کی ترغیب اور اس وقت سے ڈرانا ہے جب ان کی مخالفت کے نقصان کا مداوا نہیں ہو سکے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللہِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِہٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ ہُوَفِيْ شِقَاقٍؚبَعِيْدٍ۝ ٥٢ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ شقاق والشِّقَاقُ : المخالفة، وکونک في شِقٍّ غير شِقِ صاحبک، أو مَن : شَقَّ العصا بينک وبینه . قال تعالی: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما[ النساء/ 35] ، فَإِنَّما هُمْ فِي شِقاقٍ [ البقرة/ 137] ، أي : مخالفة، لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي [هود/ 89] ، وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتابِ لَفِي شِقاقٍ بَعِيدٍ [ البقرة/ 176] ، مَنْ يُشاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ الأنفال/ 13] ، أي : صار في شقّ غير شقّ أولیائه، نحو : مَنْ يُحادِدِ اللَّهَ [ التوبة/ 63] ، ونحوه : وَمَنْ يُشاقِقِ الرَّسُولَ [ النساء/ 115] ، ويقال : المال بينهما شقّ الشّعرة، وشَقَّ الإبلمة «1» ، أي : مقسوم کقسمتهما، وفلان شِقُّ نفسي، وشَقِيقُ نفسي، أي : كأنه شقّ منّي لمشابهة بعضنا بعضا، وشَقَائِقُ النّعمان : نبت معروف . وشَقِيقَةُ الرّمل : ما يُشَقَّقُ ، والشَّقْشَقَةُ : لهاة البعیر لما فيه من الشّقّ ، وبیده شُقُوقٌ ، وبحافر الدّابّة شِقَاقٌ ، وفرس أَشَقُّ : إذا مال إلى أحد شِقَّيْهِ ، والشُّقَّةُ في الأصل نصف ثوب وإن کان قد يسمّى الثّوب کما هو شُقَّةً. ( ش ق ق ) الشق الشقاق ( مفاعلہ ) کے معنی مخالفت کے ہیں گویا ہر فریق جانب مخالف کو اختیار کرلیتا ہے ۔ اور یا یہ شق العصابینک وبینہ کے محاورہ سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی باہم افتراق پیدا کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما[ النساء/ 35] اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے ۔ فَإِنَّما هُمْ فِي شِقاقٍ [ البقرة/ 137] تو وہ تمہارے مخالف ہیں ۔ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي [هود/ 89] میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے ۔ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتابِ لَفِي شِقاقٍ بَعِيدٍ [ البقرة/ 176] وہ ضد میں ( آکر نیگی سے ) دور ہوگئے ) ہیں ۔ مَنْ يُشاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ الأنفال/ 13] اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے ۔ یعنی اس کے اولیاء کی صف کو چھوڑ کر ان کے مخالفین کے ساتھ مل جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : مَنْ يُحادِدِ اللَّهَ [ التوبة/ 63] یعنی جو شخص خدا اور رسول کا مقابلہ کرتا ہے ۔ وَمَنْ يُشاقِقِ الرَّسُولَ [ النساء/ 115] اور جو شخص پیغمبر کی مخالفت کرے ۔ المال بیننا شق الشعرۃ اوشق الابلمۃ یعنی مال ہمارے درمیان برابر برابر ہے ۔ فلان شق نفسی اوشقیق نفسی یعنی وہ میرا بھائی ہے میرے ساتھ اسے گونہ مشابہت ہے ۔ شقائق النعمان گل لالہ یا اس کا پودا ۔ شقیقۃ الرمل ریت کا ٹکڑا ۔ الشقشقۃ اونٹ کا ریہ جو مستی کے وقت باہر نکالتا ہے اس میں چونکہ شگاف ہوتا ہے ۔ اس لئے اسے شقثقۃ کہتے ہیں ۔ بیدہ شقوق اس کے ہاتھ میں شگاف پڑگئے ہیں شقاق سم کا شگاف فوس اشق راستہ سے ایک جانب مائل ہوکر چلنے والا گھوڑا ۔ الشقۃ اصل میں کپڑے کے نصف حصہ کو کہتے ہیں ۔ اور مطلق کپڑے کو بھی شقۃ کہا جاتا ہے ۔ بعد البُعْد : ضد القرب، ولیس لهما حدّ محدود، وإنما ذلک بحسب اعتبار المکان بغیره، يقال ذلک في المحسوس، وهو الأكثر، وفي المعقول نحو قوله تعالی: ضَلُّوا ضَلالًابَعِيداً [ النساء/ 167] ( ب ع د ) البعد کے معنی دوری کے ہیں یہ قرب کی ضد ہے اور ان کی کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ ایک ہی جگہ کے اعتبار سے ایک کو تو قریب اور دوسری کو بعید کہا جاتا ہے ۔ محسوسات میں تو ان کا استعمال بکثرت ہوتا رہتا ہے مگر کبھی کبھی معافی کے لئے بھی آجاتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ضَلُّوا ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 167] وہ راہ ہدایت سے بٹھک کردور جا پڑے ۔ ۔ ان کو ( گویا ) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آپ ان سے فرمایئے کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا اور پھر تم اس کے اللہ کی جانب سے ہونے کا انکار کرو تو تمہارا پروردگار تمہیں کیا سزا دے گا تو ایسے شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو حق و ہدایت سے بہت دور کی مخالفت میں پڑا ہوا ہے یا یہ کہ رسول اکرم کے ساتھ بہت ہی دشمنی کرتا ہے یعنی ابو جہل۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٢{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہٖ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) ان سے کہیے : کیا تم نے غور کیا کہ اگر یہ (قرآن) واقعی اللہ ہی کی طرف سے ہو ‘ پھر تم نے اس کا کفر کیا “ بیشک تم لوگ قرآن کو اللہ کا کلام ماننے کے لیے تیار نہیں ہو ‘ لیکن تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لو کہ اگر یہ واقعی اللہ کا کلام ہو اور تم لوگ اس کے منکر ہو رہے ہو تو : { مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ ہُوَ فِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ } ” تو کون ہوگا اس سے بڑھ کر بھٹکا ہوا جو دور کی مخالفت میں پڑا ہو ! “ یہ بالکل وہی اسلوب ہے جو اس سے پہلے سورة سبا کی اس آیت میں اختیار فرمایا گیا ہے : { قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍج اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰہِ مَثْنٰی وَفُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْاقف مَا بِصَاحِبِکُمْ مِّنْ جِنَّۃٍط } (آیت ٤٦) ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ کہیے کہ میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں ‘ یہ کہ تم کھڑے ہو جائو اللہ کے لیے دو دو ہو کر یا اکیلے اکیلے ‘ پھر غور کرو ‘ نہیں ہے تمہارے ساتھی کو جنون کا کوئی عارضہ۔ “ اب یہاں آخری مرتبہ پھر قرآن مجید کا ذکر آ رہا ہے اور یہ استدلال ہمارے اس موجودہ سائنسی دور کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

69 It dces not mean that they should believe in it only owing to the danger that if it were really from Allah they would be inviting their own doom by denying it, but it means this "It is not wisdom that you should be bent upon opposing it stubbornly without seriously trying to understand what it says. You cannot assert that you have come to know that this Qur'an is not from God, and you have known with certainty that God has not sent it. Obviously, your refusal to believe in it as Divine Word is not based on knowledge, but on conjecture, which may possibly be right as well as wrong. Now consider both the possibilities. If your conjecture were right, then, according to your own thinking, both the believers and the unbelievers would be equal, because both will became dust after death, and there is no life hereafter where belief and unbelief might be distinguished. But, if their Qur'an were really from God, and that of which it is forewarning did really take place, then think what doom you would invite for yourselves by denying it and opposing it like that. Therefore, your own interest demands that you should give up stubbornness and consider this Qur'an seriously; if even after due consideration, you decide not to believe in it, you may not, but you should not oppose it to the extent that you start employing falsehood and deception and persecution to bar the way of its message and prevent others from believing in it, not being content with your own unbelief.

سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :69 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ محض اس خطرے کی بنا پر ایمان لے آؤ کہ اگر کہیں یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا تو انکار کر کے ہماری شامت نہ آ جائے ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح سرسری طور پر بے سوچے سمجھے تم انکار کر رہے ہو ، اور بات کو سننے اور سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہو ، اور خواہ مخواہ کی ضد میں آ کر مخالفت پر تل گئے ہو ، یہ کو ئی دانشمندی کی بات نہیں ہے ۔ تم یہ دعویٰ تو نہیں کر سکتے کہ تمہیں اس قرآن کے خدا کی طرف سے نہ ہونے کا علم ہو گیا ہے اور تم یقین کے ساتھ یہ جان چکے ہو کہ خدا نے اسے نہیں بھیجا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اسے کلام الہٰی ماننے سے تمہارا انکار علم کی بنا پر نہیں بلکہ گمان کی بنا پر ہے ۔ جس کا صحیح ہونا اگر بادی النظر میں ممکن ہے تو غلط ہونا بھی ممکن ہے ۔ اب ذرا ان دونوں قسم کے امکانات کا جائزہ لے کر دیکھ لو ۔ تمہارا گمان فرض کرو کہ صحیح نکلا تو تمہارے اپنے خیال کے مطابق زیادہ بس یہی ہو گا کہ ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں یکساں رہیں گے ، کیونکہ دونوں ہی کو مر کر مٹی میں مل جانا ہے ، اور آگے کوئی زندگی نہیں ہے جس میں کفر و ایمان کے کچھ نتائج نکلنے والے ہوں ۔ لیکن اگر فی الواقع یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور وہ سب کچھ پیش آ گیا جس کی یہ خبر دے رہا ہے ، پھر بتاؤ کہ اس کا انکار کر کے اور اس کی مخالفت میں اتنی دور جا کر تم کس انجام سے دوچار ہو گے ۔ اس لیے تمہارا اپنا مفاد یہ تقاضا کرتا ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر سنجیدگی کے ساتھ اس قرآن پر غور کرو ۔ اور غور کرنے کے بعد بھی تم ایمان نہ لانے ہی کا فیصلہ کرتے ہو تو نہ لاؤ ، مگر مخالفت پر کمر بستہ ہو کر اس حد تک آگے تو نہ بڑھ جاؤ کہ جھوٹ اور مکر و تلبیس اور ظلم و ستم کے ہتھیار اس دعوت کا راستہ روکنے کے لیے استعمال کرنے لگو ، اور خود ایمان نہ لانے پر اکتفا نہ کر کے دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے پھرو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٢۔ ٥٣۔ اوپر جن قرآن کے جھٹلانے والوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں بھی ان ہی لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ یہ بات ان لوگوں کو پہلے سمجھا دی گئی تھی کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اتار گیا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ آدمی تو درکنار کوئی اہل کتاب بھی وہ باتیں بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے زبان پر نہیں لاسکتا ان آیتوں میں پہلی فہمائش کے سلسلہ میں مختصر طور پر یہ ارشاد ہے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر پہلے کی فہمائش کی موافق یہ قرآن اللہ کا کلام ہو اور تم لوگ اس کے جھٹلانے کے درپے رہے تو پھر تم سے بڑھ کر بہکا ہوا اور حق کا دشمن کون ہوسکتا ہے پھر فرمایا میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی وہ نشانیاں ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لائے گا جس سے یہ لوگ اچھی طرح جان لیں گے کہ جو باتیں ان لوگوں کو سمجھائی جاتی تھیں وہ بالکل آنکھوں کے سامنے آگئیں مجاہد ١ ؎ اور سدی نے افاق کی تفسیر مکہ کے گرد و نواح کی بستیوں کی فتح کو اور وفی انفسہم کی تفسیر فتح مکہ کو قرار دیا ہے۔ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اسی قول کو قوی ٹھہرایا ہے۔ اس قول کے موافق قدرت کی نشانیوں کی تفسیر فتح مکہ اور مکہ کی گرد و نواح کی بستیوں کی فتح ہے پھر فرمایا کہ ان قدرت کی نشانیوں کا ظہور تو اپنے وقت پر ضرور ہوگا کیونکہ آسمان و زمین میں کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے اس واسطے اپنے علم کے موافق اس عالم الغیب نے جو وعدہ کیا ہے وہ کبھی ٹلنے والا نہیں لیکن اس وعدہ کے ظہور سے پہلے کیا ان لوگوں کے لئے اللہ کی یہ گواہی کافی نہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں اور غیب سے اس دین کی ہر وقت جو مدد کی جاتی ہے وہ اللہ کی گواہی کا پورا ثبوت ہے ‘ اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے فتح مکہ کے وعدہ کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا سبب کھڑا کردیا کہ جو انسان کی سمجھ سے بالکل باہر تھا کیونکہ ٦ ھ میں دس برس تک لڑائی کے بند رہنے کا وہ صلح نامہ جب مرتب ہوچکا تھا جس کو صلح حدیبیہ کا صلح نامہ کہتے ہیں تو کسی کی سمجھ میں بات نہیں آتی تھی کہ شرائط صلح کے برخلاف ٨ ھ میں مکہ پر چڑھائی ہو کر مکہ فتح ہوجائیگا اس حدیبیہ کی صلح میں قبیلہ بنو بکر قریش کی پناہ میں رہا تھا اور قبیلہ خزاعہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پناہ میں اب قبیلہ بنو بکر اور خزاعہ میں لڑائی ہوئی اور قریش نے شرائط صلح کے برخلاف قبیلہ بنو بکر کی مدد کی اس لئے قبیلہ خزاعہ کی امداد کے طور پر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ پر چڑھائی کی اور ایسی خاطر خواہ فتح ہوئی کہ جن بتوں کے لئے مشرکین مکہ جان دینے کو تیار رہتے تھے فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان بتوں کو اپنے ہاتھ کی لکڑی مار کر گرا دیا اور کوئی مشرک بتوں کی حمایت کو نہ کھڑا ہوا چناچہ صحیح بخاری ٢ ؎ کی عبد اللہ بن مسعود اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ٣ ؎ کی روایتوں کا حوالہ سے یہ قصہ اوپر گزر چکا ہے ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے اس لئے کہ آیتوں میں فتح مکہ اور اسلام کے غلبہ کا جو وعدہ تھا اس کا ظہور ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے فتح مکہ کے بعد حنین وغیرہ مکہ کی اطراف کی بستیاں بھی فتح ہوگئیں جس کی تفصیل حدیث کی کتابوں میں ہے مسند امام ٤ ؎ احمد کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس کی معتبر روایت اوپر گزر چکی ہے کہ اس فتح کا اثر شیطان پر ایسا پڑا کہ اس نے اپنے شیاطینوں کو جمع کیا اور رو کر یہ کہا کہ اب امت محمدیہ سے بت پرستی کی امید جاتی رہی۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کا اور قیامت کے برحق ہونے کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا ہے کہ مشرک لوگ جو شرک سے باز نہیں آتے اور طرح طرح کے معجزے دیکھنے کے بعد بھی اے رسول اللہ کے تم کو اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں اس کا بڑا سبب یہی ہے کہ یہ لوگ دنیا کی زیست کو ہی اپنا مدار سمجھتے ہیں اور مرنے کے بعد نیک بد کے حساب و کتاب کے ہونے کا اور اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا ان کے دل میں یقین نہیں ہے مگر جس دن قیامت قائم ہو کر یہ لوگ عذاب میں گرفتار ہوں گے تو خود قیامت کے یقین نہ کرنے کا مزہ چکھ لیں گے ملاقات پروردگار کا لفظ قیامت کے دن ہر آدمی کو خدا تعالیٰ کے رو برو کھڑا ہونا اور خدا کو منہ دکھانا جو ہوگا اس معنی میں کہیں تو قرآن شریف میں آیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے قدخسر الذین کذبوابلقاء اللہ اور کہیں موت کے معنی میں آیا ہے جیسا کہ فرمایا من کان یرجو لقاء اللہ فان اجل اللہ لات اسی واسطے صحیحین ١ ؎ مسند امام احمد اور نسائی وغیرہ میں عبادہ بن صامت اور صحابہ سے روایتیں ہیں جس کا یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے دم چراتا ہے اللہ تعالیٰ بھی ایسے شخص کے اپنے رو برو آنے کو اچھا نہیں جانتا اس حدیث کو جب صحابہ نے سنا تو صحابہ کو اس حدیث کا مضمون سخت معلوم ہوا اور صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت ہم میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو موت سے دم نہ چراتا ہو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس حدیث میں ملاقات کے معنی موت کے نہیں ہیں بلکہ قیامت کے دن اللہ کو منہ دکھانے کے ہیں جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں اور خدا کو منہ دکھانے سے ڈر کر عمر بھر نیک کام کرتے ہیں موت کے وقت فرشتے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ان سے خوش ہونے کی اور جنت کی طرح طرح کی نعمتوں کی خوش خبریاں دیتے ہیں یہ خوش خبری سن کر ان نیک لوگوں کو اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا ایک شوق پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کو اپنے رو برو بلانا پسند فرماتا ہے اور فرشتے ان کی روح کو قبض کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے رو برو لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ منکر نکیر کے سوال و جواب کے لئے خوشی سے ان کی روحوں میں قبر میں واپس کرنے کا حکم فرماتا ہے اور جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور آخرت سے غافل ہونے کے سبب سے عمر بھر برائیوں میں گرفتار رہتے ہیں موت کے وقت فرشتے ان کو طرح طرح کے عذاب اور اللہ تعالیٰ کے غصہ سے ڈراتے ہیں اس لئے ایسے لوگ خدا کو منہ دکھانے سے دم چراتے ہیں اور خدا تعالیٰ بھی ان کو اپنے سامنے بلانا پسند نہیں فرماتا اس لئے ایسے لوگوں کی روح کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور اول آسمان سے ہی ان کی روح قبر میں منکر نکیر کے سوال و جواب کے لئے واپس کئے جانے کا حکم غصہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو ان لوگوں کا ذکر ہوا جو زبان سے بھی آخرت کا اقرار نہیں کرتے اور ان کے دل میں بھی آخرت کا یقین نہیں جو لوگ فقط زبان سے تو عاقبت کا اقرار کرتے ہیں مگر ایسے کام نہیں کرتے جن سے ان کی عقبیٰ پاک ہو اس طرح کے لوگوں سے بھی اللہ تعالیٰ بہت ناخوش ہے چناچہ سورة صف میں کمال ناخوشی سے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے یوں نصیحت فرمائی ہے یایھا الذین امنوا لم تقولون ما لاتفعلون کبر مقتا عنداللہ ان تقولوا ما لا تفعلون جس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان دار آدمی کو ایسی بات زبان سے نہیں کہنی چاہئے جس پر اس کا عمل نہ ہو کیونکہ ایسی باتوں سے اللہ تعالیٰ بہت بیزار ہے خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے ایک روز اپنی خلافت کے زمانہ میں ممبر پر چڑھ کر بغداد کے لوگوں کو یہ نظیحت کی کہ جو لوگ عقبیٰ کے بالکل منکر ہیں ان کا تو کچھ ذکر ہی نہیں وہ صریح کافر ہیں لیکن افسوس تو ان لوگوں کی کم عقلی پر ہے کہ زبان سے عقبیٰ کا اقرار کرتے ہیں اور پھر عقبیٰ کے بندوست غافل ہیں یہی مطلب سورة صف کی آیت کا ہے۔ معتبر سند سے ترمذی ٢ ؎ اور ابن ماجہ کی شداد بن اوس کی روایت جو اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا میں عقل مند وہ شخص ہے جو اپنے نفس پر قادر ہو کر زندگی میں کچھ ایسا کر جائے جو موت کے بعد اس کے کام آئے اور کم عقل وہ شخص ہے جو عمر بھر نفس کا فرمانبردار رہے اور موت کے بعد اللہ تعالیٰ سے طرح طرح کی آرزوئیں دل میں رکھے اس روایت سے خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے کلام کی پوری تصدیق ہوتی ہے۔ الا الہ بکل شی محیط۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے اس واسطے جو لوگ اللہ تعالیٰ کو منہ دکھانے سے ڈر کر عمر بھر نیک کام کرتے ہیں اور جو لوگ اللہ کو منہ دکھانے کے منکر یا اس سے غافل ہیں ان سب کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے قیامت کے دن ہر ایک کا فیصلہ انصاف سے کردیا جائے گا۔ صحیح ١ ؎ مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ (رض) اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ لوگوں کے رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش ہوجاتے ہیں اس حدیث کو آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف کے موافق جزا سزا کا فیصلہ اپنے علم غیب پر نہیں رکھا بلکہ جزا و سزا کا فیصلہ ان عملوں پر رکھا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دنیا میں لوگ رہے ہیں اسی واسطے رات دن کے لوگوں کے عمل اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش ہوتے ہیں قیامت کے دن اسی ملاحظہ کے موافق جزا و سزا کا فیصلہ ہوجائے گا۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ١٠٥ ج ١۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری این رکز النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الرایۃ یوم الفتح ص ٦١٤ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب فتح مکہ ص ١٠٤ ج ٢۔ ) (٤ ؎ صحیح مسلم میں اس کے ہم معنی روایت موجود ہے دیکھئے صحیح مسلم باب تحریش الشیطان الخ ص ٣٧٦ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری باب من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاء ہ ص ٩٦٣ ج ٢۔ ) ٢ ؎ بحوالہ مشکوۃٰ شریف باب استحباب والعمر للطاعۃ الفصل اثانی ص ٤٥١) (١ ؎ صحیح مسلم باب معنی قولہ ولقد راہ نزلۃ اخری ص ٩٩ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:52) قل : ای قل لہم یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ ارایتم کیا تم نے دیکھا عربی محاورہ میں اس کو بمعنی اخبرونی (بھلا مجھے بتاؤ تو سہی) استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کان من عند اللہ ای کان القران من عند اللّٰہ۔ اگر یہ قرآن منزل من اللہ ہو۔ ثم کفرتم بہ میں ثم تراخی فی الرتبی ہے اور اس کی اس عظمت و مرتبت کے باوجود ترم اس سے انکار کرو۔ اضل۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہت نہکا ہوا۔ بہت بےراہ۔ زیادہ گمراہ۔ ضلال (باب ضرب و سمع) مصدر۔ شقاق بعید۔ موصوف و صفت۔ شقاق۔ ضد۔ مخالفت۔ اپنے دوست کی شق چھوڑ کر دوسری شق میں ہوجانا۔ اور شق طرف کو کہتے ہیں۔ چناچہ شاعر کہتا ہے ؎ اذا ما بکی من خلفھا انحرفت لہ یشق وشق عندنا لم یحول (جب بچہ اس کی پشت پر سے روتا ہے تو وہ ایک جانب سے اس کی طرف مڑجاتی ہے اور ایک طرف ہماری جانب رہتی ہے جو کہ نہیں بدلتی) شقاق بعید۔ بہت دور تک کی مخالفت۔ بہت گہری مخالفت۔ ترجمہ کچھ یوں ہوگا :۔ بھلا بتاؤ تو سہی ۔ اگر یہ قرآن فی الواقع منجانب اللہ ہو اور اس کی اس عظمت و حقیقت کے باوجود تم اس کے منکر ہو۔ تو اتنی دور تک کی مخالفت رکھنے والے سے زیادہ گمراہ اور بےراہ کون ہوسکتا ہے۔ یعنی اس صورت میں تم سے بڑھ کر کوئی گمراہ ہو ہی نہیں سکتا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 لمبی چوڑی دعا سے مراد ایسی دعا ہے۔ جس کے الفاظ زیادہ ہوں مگر مضمون کم ہو۔ (ابن کثیر) 12 ۔ یا ” جو ( اس قرآن کی) انتہائی مخالفت میں پڑاہو۔ لفظ شقاق کے معنی ضد بھی آتے ہیں اور مخالفت بھی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر دنیا کے فائدے کی خاطر قرآن مجید کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم انسان پر جب انعام کرتے ہیں تو وہ شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری اور اعراض کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سب سے بڑا انعام قرآن مجید کا نزول ہے جس میں انسان کی راہنمائی کا انتظام کیا گیا ہے اکثر انسان اس پر ایمان لانے کی بجائے کفر اختیار کرتے ہیں جو شخص قرآن کا انکار کرتا ہے اس سے بڑا کوئی گمراہ نہیں ہوسکتا۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان لوگوں سے استفسار فرمائیں کہ جس قرآن اور اس کی تعلیمات کا انکار کرتے ہو۔ اگر واقعی ہی یہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے اور تم نے اسے نہ مانا اور اس کی مخالفت میں دور نکل گئے تو بتاؤ ! اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا۔ قرآن مجید کے سمجھانے کا یہ بھی ایک اسلوب ہے کہ وہ انسان کو توجہ دلاتا ہے کہ اے انسان ! بار بار سوچ ! کہ جس قرآن کا تو انکار کرتا ہے۔ اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے۔ تو پھر قیامت کے دن تیرا کیا حال ہوگا ؟ قرآن مجید کا انکار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے کئی قسم کے دلائل کے ساتھ سمجھایا ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس میں جن و انس کا کوئی عمل دخل نہیں۔ یہ شیطان کی شیطنیت سے ہر اعتبار سے محفوظ ہے اور نہ ہی یہ شاعرانہ کلام ہے۔ اگر پھر بھی تمہیں یقین نہیں آتا تو سب کے سب جمع ہو کر قرآن کی کسی چھوٹی سے چھوٹی سورت جیسی کوئی سورت بنا لاؤ۔ لیکن تم ہرگز اس جیسا کلام نہیں بنا سکتے۔ جب تم ایسا کر نہیں سکتے تو پھر اس آگ سے بچو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں یہ منکرین کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (البقرۃ : ٢٣، ٢٤) اس انتباہ کے باوجود اگر تم انکار کیے جارہے ہو تو یاد رکھو ! جو قرآن کی مخالفت میں ہر قسم کی اخلاقی حدود پھلانگ جائے۔ کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی شخص گمراہ نہیں ہوسکتا۔ مسائل ١۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے۔ ٢۔ قرآن کی مخالفت کرنے والا پرلے درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قرآن ان کے سامنے ایک احتمال پیش کرتا ہے کہ اس قدر احتیاط تو کرو ، لیکن انہوں نے کوئی احتیاط بھی نہ کی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

منکرین کو قرآن حکیم کے بارے میں غوروفکر کی دعوت، اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے سورة حم سجدہ ختم ہورہی ہے شروع سورت میں قرآن مجید کی تنزیل اور تفصیل بیان فرمائی اور درمیان میں بھی قرآن مجید کی توصیف فرمائی اب آخر میں ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے مخاطبین سے فرما دیجیے کہ تم عقلمندوں کے طریقے پر سوچ لو اور اپنے نفع و نقصان کو سمجھ لو یہ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے میرا یہ دعوی ہے اور دلیل سے ثابت ہوچکا تم اس کے منکر ہو اب تم غور کرلو اور سوچ کر بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہوا (یعنی آخرت میں اس کا من عنداللہ ہونا ثابت ہوگیا اور تم اس کا انکار کر بیٹھے تو یہ مخالفت تم پر کس قدر بھاری پڑے گی تم عناد کی وجہ سے آج اس کے منکر ہورہے ہو اور یہ صریح گمراہی ہے بتاؤ اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو حق سے دور ہوتا چلا جائے، جو شخص حق سے دور ہوگا وہ آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوگا آخرت میں پہنچنے سے پہلے اسی دنیا میں غور کرلو اور اپنے انکار کا انجام خود سوچ لو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

51:۔ ” قل ارایتم۔ الایۃ “ یہ آیت چاروں شکو وں سے متعلق ہے اور جواب محذوف ہے۔ ای افلا یضرکم ذالک۔ یعنی یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے ہو لیکن تم اس کا انکار کرو، نہ خود اسے سنو، نہ اوروں کو سننے دو ، اور اگر کبھی سن ہی لو، تو اس سے متاثر ہونے اور اسے ماننے کے بجائے ازراہ عناد اس پر طعن ہی کرتے رہو اور اس میں شبہات نکالتے رہو اور معبودانِ باطلہ کی دعا اور پکار کو ترک نہ کرو، تو کیا یہ چیز تمہارے حق میں مضر نہ ہوگی ؟ اس لیے تمہیں چاہئے کہ اعراض نہ کرو۔ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور شور نہ کرو اور طعن کرنے سے باز رہو اور غیر اللہ کی پکار چھوڑ دو اور دلائل وبراہین کی روشنی میں چلو۔ ” من اضل “ یہ علیحدہ جملہ ہے یعنی اس سے بڑا گمراہ کون ہے جو سخت عناد اور ضد میں ہو اور محض عناد و تعنت سے ھق کا انکار ر کرے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔52:۔ ” شنریھم ایاتنا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم ان کو اپنے متصرف و مختار اور قادر مطلق ہونے کے دلائل ونشانات اطراف دکھائیں گے۔ جس سے ان پر واضح ہوجائے گا کہ ” انہ “ وہ حکمنامہ توحید برحق ہے۔ جب دنیا میں ان پر اللہ کا عذاب آئے گا اور ان کے مزعومہ کارساز ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ واقعی اللہ کے سوا کوئی کارساز اور دعا پکار کے لائق نہیں۔ فی الافاق یعنی خراب منازل الامم الخالیۃ (قرطبی ج 15 ص 374) ۔ یعنی فی اقطار السموات والارض من الشمس والقمر والنجوم والنبات والشجار والانہار (مظہری ج 8 ص 305) ۔ وی فانفسہم یعنی یوم بدر (مظہیر) قال قتادۃ فی الافاق یعنی وقائع اللہ فی الامم وفی انفسہم یوم بدر (معالم ج 6 س 115) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(52) اے پیغمبر آپ ان سے کہئے بھلا یہ تو بتائو اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہو اور پھر تم اس کا انکار کرو تو اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایک ایسی مخالفت میں مبتلا ہو جو مخالفت طریقہ حق سے بہت دور ہو۔ کافروں کی طبعی کمزوریوں کے بعد تنبیہ فرمائی کہ اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہو جیسا کہ واقع میں ہے بھی پھر تم اس کا انکار کرو جیسا کہ اس کی مخالفت کررہے اور نہیں مانتے تو تم ہی بتائو کہ کون تم سے زیادہ گمراہ ہوگا جو ایک صحیح چیز کی مخالفت میں طریقہ حق سے اس قدر دور ہوجائے اور ایسی مخالفت میں پھنس جائے ایسے موقعہ پر تو نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔