Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 21

سورة الشورى

اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡۢ بِہِ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃُ الۡفَصۡلِ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۱﴾

Or have they other deities who have ordained for them a religion to which Allah has not consented? But if not for the decisive word, it would have been concluded between them. And indeed, the wrongdoers will have a painful punishment.

کیا ان لوگوں نے ایسے ( اللہ کے ) شریک ( مقرر کر رکھے ) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں اگر فیصلے کا دن کا وعدہ نہ ہوتا تو ( ابھی ہی ) ان میں فیصلہ کر دیا جاتا یقیناً ( ان ) ظالموں کے لیئے ہی دردناک عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاء شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ ... Or have they partners with Allah who have instituted for them a religion which Allah has not ordained? means, they do not follow what Allah has ordained for you of upright religion; on the contrary, they follow what their devils (Shayatin), of men and Jinn, have prescribed for them. They instituted taboos, such as the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah or Ham. They also permitted eating flesh and blood of animals not slaughtered for consumption, gambling and other kinds of misguidance, ignorance and falsehood. These are things that they invented during Jahiliyyah, when they came up with all kinds of false rulings on what was permitted and what was forbidden, and false rites of worship and other corrupt ideas. It was recorded in the Sahih that the Messenger of Allah said: رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمَعَةَ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّار I saw `Amr bin Luhayy bin Qama`ah dragging his intestines in Hell -- (because he had been the first one to introduce the idea of the Sa'ibah). This man was one of the kings of the Khuza`ah tribe, and he was the first one to do these things. He was the one who had made the Quraysh worship idols, may the curse of Allah be upon him. Allah said: ... وَلَوْلاَ كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ... And had it not been for a decisive Word, the matter would have been judged between them. means, the punishment would have been hastened for them, were it not for the fact that it had already been decreed that it would be delayed until the Day of Resurrection. ... وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ And verily, for the wrongdoers there is a painful torment. i.e., an agonizing torment in Hell, what a terrible destination. The Terror of the Idolators in the Place of Gathering Allah says;

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٢] اللہ کے مقابلہ میں کن کن لوگوں کا حکم چلتا ہے ؟:۔ ظاہر ہے کہ یہاں شریک سے مراد پتھر کے بت نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ نہ سن سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں وہ کسی کو کوئی قانون یا ضابطہ کیا دیں گے ؟ لامحالہ اس سے مراد، انسان یا انسانوں کی جماعت ہی ہوسکتی ہے۔ جنہوں نے اللہ کی شریعت کے مقابلہ میں اپنی شریعت چلا رکھی ہو۔ حرام و حلال کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہوں یا لوگوں کے لیے وہ ضابطہ حیات، فلسفے یا نظام پیش کرتے ہوں جو اللہ کی شریعت کے خلاف ہوں اور پھر انہیں لوگوں میں رائج اور نافذ بھی کرتے ہوں۔ اور ایسے لوگ پارلیمنٹ یا ایوانوں کے ممبر بھی ہوسکتے ہیں۔ خود سر حکمران بھی، آستانوں اور مزاروں کے متولی اور مجاور بھی اور گمراہ قسم کے فلاسفر اور مصنف بھی۔ انہیں ہی طاغوت کہا جاتا ہے۔ [٣٣] یعنی اللہ ایسے باغیوں کے بارے میں عفو و درگزر سے کام لیے جاتا ہے اور انہیں فوراً تباہ نہیں کردیتا۔ جس کی وجہ واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو دیئے ہوئے اختیار کو اضطرار میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔ وہ ہر انسان کو اختیار دے کر ہی اس دنیا میں آزمانا چاہتا ہے۔ البتہ جب یہ اختیار کا عرصہ ختم ہوجائے گا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تو پھر ایسے ظالموں کو ان کی ساری کرتوتوں کی دردناک سزا دی جائے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ام لھم شرکوآء شرعوا لھم …: ظاہر ہے اس آیت میں شرکوآء “ سے مراد وہ شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے یا جن کی نذر و نیاز چڑھاتے اور پوجا باٹ کرتے ہیں، کیونکہ وہ دین کا کوئی طریقہ مقرر کرسکتے ہیں نہ حلال و حرام قرار دینے میں ان کا کوئی دخل ہے اور نہ وہ کوئی قانون یا ضابطہ مقرر کرسکتے ہیں۔ لامحالہ اس سے مراد کوئی انسان یا انسانوں کی کوئی جماعت ہی ہے جنہوں نے اللہ کی شریعت کے مقابلے میں اپنی شریعت چلا رکھی ہو ، حرام و حلال قرار دینے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہوں اور لوگوں کے لئے ایسے نظام اور قانون مقرر کرتے ہوں جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کے خلاف ہوں، پھر انھیں لوگوں میں رائج اور نافذ بھی کرتے ہوں۔ ایسے لوگ پارلیمنٹ یا ایوانوں کے ممبر بھی ہوس کتے ہیں ، خود سر حکمران بھی ، آستانوں اور مز اورں کے مجاور اور متولی بھی اور گمراہ قسم کے فلسفی اور مصنف بھی۔ علاوہ ازیں یہ شرکاء ایسے صالح اور متقی ائمہ بھی ہوسکتے ہیں جو اللہ کے مقابلے میں قانون سازی کا سوچ بھی نہ سکتے ہوں مگر لوگوں نے ان کے نام پر قرآن و سنت کے بالمقابل شریعت سازی کر کے انہیں اللہ کا شریک بنا رکھا ہو۔ شرک کسی بھی طرح کا ہو ظلم عظیم ہے، خواہ شرک فی العبادۃ ہو یا شرک فی الحکم۔ جس طرح وہ شخص مشرک ہے جو اللہ کے سوا کسی کی پوجا کرتا ہے، اس کی نذر و نیاز دیتا ہے، مصیبت کے وقت اسے پکارتا ہے، اسے حاجت روایا مشکل کشا سمجھتا ہے، خواہ کسی زندہ کی پوجا کرے یا مردہ کی جن کی کرے یا انسان یا فرشتے کی، قبر کی پوجا کرے بابت کی، اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں زندگی کا نظام بنانے کا یا قانون بنانے کا یا حلال و حرام قرار دینے کا اختیار دیتا ہے وہ بھی مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کسی قسم کا بھی شریک بنانے کی اجازت نہیں دی۔ (٢) ولو لا کلمۃ الفضل لقضی بینھم : یعنی یہ شرک اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی ایسی جسارت ہے کہ اگر لوگوں کو مہلت دینے کا فیصلہ نہ ہوتا اور یہ طے نہ کردیا گیا ہوتا کہ فیصلے قیامت کے دن ہوں گے تو دنیا ہی میں ان لوگوں پر عذاب آجاتا جو اللہ کے دین کے مقابلے میں اپنی شریعت اور قانون بناتے ہیں، یا ایسی شریعت کو قبول کر کے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (٣) وان الظلمین لھم عذاب الیم :” الظلمین “ میں الف لام عہد کا ہے، یعنی ان ظالموں کے لئے عذاب الیم ہے جو شرک کے ظلم عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں اور وہ عذاب الیم جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے اور جنت ان پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے۔ جیسا کہ فرمایا :(انہ من یشرک باللہ فقدم حرم اللہ علیہ الجنۃ وماولہ النار، وما للظلمین من انصار) (المائد ٨٢١)” بیشک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقیناً اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لئے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر دین حق کو تو خدا نے مشروع و مقرر فرمایا ہے، مگر یہ لوگ جو اس کو نہیں مانتے تو) کیا ان کے (تجویز کئے ہوئے) کچھ شریک (خدائی ہیں) جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (مطلب یہ ہے کہ کوئی ذات اس قابل نہیں کہ خدا کے خلاف اس کا مقرر کیا ہوا دین معتبر ہو سکے) اور اگر (خدا کی طرف سے) ایک قول فیصل (ٹھہرا ہوا) نہ ہوتا (یعنی یہ کہ ان پر اصل عذاب موت کے بعد ہوگا) تو (دنیا ہی میں) ان کا (عملی) فیصلہ ہوچکا ہوتا اور (آخرت میں) ان ظالموں کو ضرور دردناک عذاب ہوگا (اس روز) آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ (وبال) ان پر (ضرور) پڑ کر رہے گا (یہ تو منکرین کا حال ہوگا) اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (ہوں گے) وہ بہشتوں کے باغوں میں (داخل) ہوں گے (بہشت کو جمع اس لئے لائے کہ بہشت کے مختلف طبقات اور درجات ہیں، ہر طبقہ ایک بہشت ہے اور ہر طبقہ میں متعدد باغات ہیں، اپنے اپنے رتبہ کے مطابق کوئی کہیں ہوگا، کوئی کہیں ہوگا) وہ جس چیز کو چاہیں ان کے رب کے پاس ان کو ملے گی، یہی بڑا انعام ہے (نہ وہ فانی عیش و عشرت جو دنیا میں موجود ہے) یہی ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے (اور چونکہ کفار پورا مضمون سننے سے پہلے ہی تکذیب کرنے کے خوگر تھے، اس لئے اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ہی ایک جملہ معترضہ میں کفار کو ایک دلگداز مضمون سنانے کا حکم فرماتے ہیں یعنی) آپ (ان سے) یوں کہئے کہ میں تم سے اور کچھ مطلب نہیں چاہتا بجز رشتہ داری کی محبت کے (یعنی اتنا چاہتا ہوں کہ تمہارے رشتہ داری کے جو تعلقات ہیں، ان کے حقوق کا تو خیال رکھو، کیا رشتہ داری کا یہ حق نہیں کہ مجھ سے عداوت میں جلدی نہ کرو بلکہ (اطمینان کے ساتھ میری پوری بات سن لو اور اس کو عقل اور دلیل صحیح کی میزان سے جانچو، اگر معقول ہو تو قبول کرلو، اور اگر کچھ شبہ ہو تو صاف کرلو، اور بفرض محال غلط ہو تو مجھ کو سمجھا دو ، غرض جو بات ہو خیر خواہی سے ہو، یہ نہیں کہ فوراً ہی بھڑک اٹھو) اور (آگے مومنین کے لئے بشارت کا تتمہ ہے یعنی) جو شخص کوئی نیکی کرے گا ہم اس (نیکی) میں اور خوبی زیادہ کردیں گے (یعنی اس خوبی کا مقتضا فی نفسہ جس قدر ثواب ہے ہم اس سے زیادہ ثواب دیں گے) بیشک اللہ (اطاعت گزار بندوں کے گناہوں کا) بڑا بخشنے والا (اور ان کی نیکیوں کا) بڑا قدر دان (اور ثواب عطا کرنے والا) ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ لَہُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِہِ اللہُ۝ ٠ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَہُمْ۝ ٠ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ ٢١ شرك ( شريك) الشِّرْكَةُ والْمُشَارَكَةُ : خلط الملکين، وقیل : هو أن يوجد شيء لاثنین فصاعدا، عينا کان ذلک الشیء، أو معنی، كَمُشَارَكَةِ الإنسان والفرس في الحیوانيّة، ومُشَارَكَةِ فرس وفرس في الکمتة، والدّهمة، يقال : شَرَكْتُهُ ، وشَارَكْتُهُ ، وتَشَارَكُوا، واشْتَرَكُوا، وأَشْرَكْتُهُ في كذا . قال تعالی: وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] ، وفي الحدیث : «اللهمّ أَشْرِكْنَا في دعاء الصّالحین» «1» . وروي أنّ اللہ تعالیٰ قال لنبيّه عليه السلام : «إنّي شرّفتک وفضّلتک علی جمیع خلقي وأَشْرَكْتُكَ في أمري» «2» أي : جعلتک بحیث تذکر معي، وأمرت بطاعتک مع طاعتي في نحو : أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ محمد/ 33] ، وقال تعالی: أَنَّكُمْ فِي الْعَذابِ مُشْتَرِكُونَ [ الزخرف/ 39] . وجمع الشَّرِيكِ شُرَكاءُ. قال تعالی: وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ [ الإسراء/ 111] ، وقال : شُرَكاءُ مُتَشاكِسُونَ [ الزمر/ 29] ، أَمْ لَهُمْ شُرَكاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ [ الشوری/ 21] ، وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكائِيَ [ النحل/ 27] . ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ کے معنی دو ملکیتوں کو باہم ملا دینے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ ایک چیز میں دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کے شریک ہونے کے ہیں ۔ خواہ وہ چیز مادی ہو یا معنوی مثلا انسان اور فرس کا حیوانیت میں شریک ہونا ۔ یا دوگھوڑوں کا سرخ یا سیاہ رنگ کا ہونا اور شرکتہ وشارکتہ وتشارکوا اور اشترکوا کے معنی باہم شریک ہونے کے ہیں اور اشرکتہ فی کذا کے معنی شریک بنا لینا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] اور اسے میرے کام میں شریک کر ۔ اور حدیث میں ہے (191) اللھم اشرکنا فی دعاء الصلحین اے اللہ ہمیں نیک لوگوں کی دعا میں شریک کر ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کو فرمایا ۔ (192) انی شرفتک وفضلتک علی ٰجمیع خلقی واشرکتک فی امری ۔ کہ میں نے تمہیں تمام مخلوق پر شرف بخشا اور مجھے اپنے کام میں شریک کرلیا ۔ یعنی میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر ہوتا رہے گا اور میں نے اپنی طاعت کے ساتھ تمہاری طاعت کا بھی حکم دیا ہے جیسے فرمایا ۔ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ محمد/ 33] اور خدا کی فرمانبرداری اور رسول خدا کی اطاعت کرتے رہو ۔ قران میں ہے : ۔ أَنَّكُمْ فِي الْعَذابِ مُشْتَرِكُونَ [ الزخرف/ 39]( اس دن ) عذاب میں شریک ہوں گے ۔ شریک ۔ ساجھی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ [ الإسراء/ 111] اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے ۔ اس کی جمع شرگاء ہے جیسے فرمایا : ۔ : شُرَكاءُ مُتَشاكِسُونَ [ الزمر/ 29] جس میں کئی آدمی شریک ہیں ( مختلف المزاج اور بدخو ۔ أَمْ لَهُمْ شُرَكاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ [ الشوری/ 21] کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرد کیا ہے ۔ أَيْنَ شُرَكائِيَ [ النحل/ 27] میرے شریک کہاں ہیں ۔ شرع الشَّرْعُ : نهج الطّريق الواضح . يقال : شَرَعْتُ له طریقا، والشَّرْعُ : مصدر، ثم جعل اسما للطریق النّهج فقیل له : شِرْعٌ ، وشَرْعٌ ، وشَرِيعَةٌ ، واستعیر ذلک للطریقة الإلهيّة . قال تعالی: لِكُلٍّ جَعَلْنا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهاجاً [ المائدة/ 48] ، فذلک إشارة إلى أمرین : أحدهما : ما سخّر اللہ تعالیٰ عليه كلّ إنسان من طریق يتحرّاه ممّا يعود إلى مصالح العباد وعمارة البلاد، وذلک المشار إليه بقوله : وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً سُخْرِيًّا [ الزخرف/ 32] . الثاني : ما قيّض له من الدّين وأمره به ليتحرّاه اختیارا ممّا تختلف فيه الشّرائع، ويعترضه النّسخ، ودلّ عليه قوله : ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها[ الجاثية/ 18] . قال ابن عباس : الشِّرْعَةُ : ما ورد به القرآن، والمنهاج ما ورد به السّنّة وقوله تعالی: شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ ما وَصَّى بِهِ نُوحاً [ الشوری/ 13] ، فإشارة إلى الأصول التي تتساوی فيها الملل، فلا يصحّ عليها النّسخ کمعرفة اللہ تعالی: ونحو ذلک من نحو ما دلّ عليه قوله : وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ [ النساء/ 136] . قال بعضهم : سمّيت الشَّرِيعَةُ شَرِيعَةً تشبيها بشریعة الماء من حيث إنّ من شرع فيها علی الحقیقة المصدوقة روي وتطهّر، قال : وأعني بالرّيّ ما قال بعض الحکماء : كنت أشرب فلا أروی، فلمّا عرفت اللہ تعالیٰ رویت بلا شرب . وبالتّطهّر ما قال تعالی: إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً [ الأحزاب/ 33] ، وقوله تعالی: إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعاً [ الأعراف/ 163] ، جمع شارع . وشَارِعَةُ الطّريق جمعها : شَوَارِعُ ، وأَشْرَعْتُ الرّمح قبله، وقیل : شَرَعْتُهُ فهو مَشْرُوعٌ ، وشَرَعْتُ السّفينة : جعلت لها شراعا ينقذها، وهم في هذا الأمر شَرْعٌ ، أي : سواء . أي : يَشْرَعُونَ فيه شروعا واحدا . و ( شرعک) من رجل زيد، کقولک : حسبک . أي : هو الذي تشرع في أمره، أو تشرع به في أمرك، والشِّرْعُ خصّ بما يشرع من الأوتار علی العود . ( ش ر ع ) الشرع سیدھا راستہ جو واضح ہو یہ اصل میں شرعت لہ طریقا ( واضح راستہ مقرر کرنا ) کا مصدر ہے اور بطور اسم کے بولا جاتا ہے ۔ چناچہ واضح راستہ کو شرع وشرع وشریعۃ کہا جاتا ہے ۔ پھر استعارہ کے طور پر طریق الہیہ پر یہ الفاظ بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ شِرْعَةً وَمِنْهاجاً [ المائدة/ 48] ایک دستور اور طریق اس میں دو قسم کے راستوں کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ ایک وہ راستہ جس پر اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مسخر کر رکھا ہے کہ انسان اسی راستہ پر چلتا ہے جن کا تعلق مصالح عباد اور شہروں کی آبادی سے ہے چناچہ آیت : ۔ وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً سُخْرِيًّا [ الزخرف/ 32] اور ہر ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے ۔ میں اسی طرف اشارہ ہے دوسرا راستہ دین کا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے مقرر فرما کر انہیں حکم دیا ہے کہ انسان اپنے اختیار سے اس پر چلے جس کے بیان میں شرائع کا اختلاف پایا جاتا ہے اور اس میں نسخ ہوتا رہا اور جس پر کہ آیت : ۔ ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها[ الجاثية/ 18] پھر ہم نے دین کے کھلے راستہ پر قائم ) کردیا تو اسی راستے پر چلے چلو ۔ دلالت کرتا ہے حضرت ابن عباس (علیہ السلام) کا قول ہے کہ شرعۃ وہ راستہ ہے جسے قرآن نے بیان کردیا ہے اور منھا وہ ہے جسے سنت نے بیان کیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ ما وَصَّى بِهِ نُوحاً [ الشوری/ 13] اس نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس کے اختیار کرنے کا حکم دیا تھا ۔ میں دین کے ان اصول کی طرف اشارہ ہے جو تمام ملل میں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں اور ان میں نسخ نہیں ہوسکتا۔ جیسے معرفت الہی اور وہ امور جن کا بیان آیت . وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ [ النساء/ 136] اور جو شخص خدا اور اس کے فرشتوں اور اسکی کتابوں اور اس کے پیغمبروں سے انکار کرے ۔ میں پایا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ شریعت کا لفظ شریعۃ الماء سے ماخوذ ہے ۔ جس کے معنی پانی کے گھاٹ کے ہیں اور شریعت کو شریعت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی صحیح حقیقت پر مطلع ہونے سے سیرابی اور طہارت حاصل ہوجاتی ہے ۔ سیرابی سے مراد معرفت الہی کا حصول ہے جیسا کہ بعض حکماء کا قول ہے کہ میں پیتا رہا لیکن سیرنہ ہوا ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوگئی تو بغیر پینے کے سیری حاصل ہوگئی اور طہارت سے مراد وہ طہارت ہے جس کا ذکر کہ آیت ؛ إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً [ الأحزاب/ 33] اے پیغمبر کے اہل خانہ خدا چاہتا ہے کہ تم سے نا پاکی کی میل کچیل صاف کردے اور تمہیں بالکل پاک صاف کردے میں پایا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعاً [ الأعراف/ 163] ( یعنی ) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں ۔ میں شرعا ، شارع کی جمع ہے ۔ اور شارعۃ الطریق کی جمع شوارع آتی ہے جس کے معنی کھلی سڑک کے ہیں ۔ اشرعت الرمح قبلہ میں نے اس کی جانب نیزہ سیدھا کیا ۔ بعض نے شرعتہ فھو مشروع کہا ہے اور شرعت السفینۃ کے معنی جہاز پر بادبان کھڑا کرنے کے ہیں جو اسے آگے چلاتے ہیں ۔ ھم فی ھذالامر شرع ۔ یعنی وہ سب اس میں برابر ہیں ۔ یعنی انہوں نے اسے ایک ہی وقت میں شروع کیا ہے اور شرعک من رجل زید بمعنی حسبک ہے یعنی زید ہی اس قابل ہے کہ تم اس کا قصد کرویا اسکے ساتھ مک کر اپنا کام شروع کرو ۔ الشرع ۔ بریط کے وہ تار جن سے راگ شروع کیا جاتا ہے دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔ أَذِنَ : والإِذنُ في الشیء : إعلام بإجازته والرخصة فيه، نحو، وَما أَرْسَلْنا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ [ النساء/ 64] أي : بإرادته وأمره، ( اذ ن) الاذن الاذن فی الشئی کے معنی ہیں یہ بتا دینا کہ کسی چیز میں اجازت اور رخصت ہے ۔ اور آیت کریمہ ۔ { وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللهِ } ( سورة النساء 64) اور ہم نے پیغمبر بھیجا ہی اس لئے ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے ۔ میں اذن بمعنی ارادہ اور حکم ہے «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] اگر تم نہ ہوتے تو ہمضرور مومن ہوجاتے ۔ دو م بمعنی ھلا کے آتا ہے ۔ اور اس کے بعد متصلا فعل کا آنا ضروری ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا ۔ وغیرہ ذالک من الا مثلۃ كلم الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها، ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔ فصل ( جدا) الفَصْلُ : إبانة أحد الشّيئين من الآخر : حتی يكون بينهما فرجة، ومنه قيل : المَفَاصِلُ ، الواحد مَفْصِلٌ ، قال تعالی: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] ، ويستعمل ذلک في الأفعال والأقوال نحو قوله : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] ( ف ص ل ) الفصل کے معنی دوچیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اسی طرح علیحدہ کردینے کے ہیں کہ ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے اسی سے مفاصل ( جمع مفصل ) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں . قرآن میں ہے : وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] اور جب قافلہ ( مصر سے ) روانہ ہوا ۔ اور یہ اقول اور اعمال دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے قرآن میں ہے : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن سب کے اٹھنے کا دن ہے ۔ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

کیا ان کفار مکہ کے کچھ ایسے معبود ہیں جنہوں نے ان کافروں یعنی ابوجہل وغیرہ کے لیے ایسا دین پسند کیا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا اور اگر اس امت سے تاخیر عذاب کا فیصلہ نہ ہوگیا ہوتا تو ان کا خاتمہ ہوچکا ہوتا اور ان کافروں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو دردناک عذاب ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١ { اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ اللّٰہُ } ” کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کا کوئی ایسا راستہ طے کردیا ہو جس کا اذن اللہ نے نہیں دیا ؟ “ شرک کے حوالے سے یہ نکتہ قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ مشرک لوگ جنہیں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اللہ نے ان کے لیے نہ تو کوئی سند اتاری ہے اور نہ ہی کسی الہامی کتاب میں ان کے لیے کوئی دلیل موجود ہے۔ اس سورت کا عمود چونکہ نظام شریعت (میزان) سے متعلق ہے اس لیے یہاں شرک کا ابطال اس مضمون کی دلیل کے ساتھ بالکل منفرد انداز میں آیا ہے کہ اللہ نے تو اپنے بندوں کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات نازل کیا ہے۔ تو ذرا یہ لوگ بھی بتائیں کہ ان کے معبودوں نے ان کے لیے زندگی میں کیا راہنمائی فراہم کی ہے ؟ کیا ان معبودوں نے بھی اپنے پجاریوں کو باقاعدہ کوئی کتاب دی ہے ؟ کیا لات ‘ منات اور ہبل نے بھی اپنے عقیدت مندوں کے لیے کوئی شریعت وضع کی ہے یا انہیں باقاعدہ کوئی نظام دیا ہے ؟ اور اگر ان نام نہاد معبودوں نے اپنا کوئی دین یا ضابطہ حیات اپنے ماننے والوں کو کبھی دیا ہی نہیں تو وہ کس حیثیت سے آخر معبود بنے بیٹھے ہیں ؟ اور ان کے پجاری آخر کس بنیاد پر ان کی پوجا کیے جا رہے ہیں ؟ { وَلَوْلَا کَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ} ” اور اگر ایک قطعی حکم پہلے سے طے نہ ہوچکا ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔ اور ظالموں کے لیے تو بہت دردناک عذاب ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

38 In this verse the word shuraka (associates) obviously does not mean those beings whom the people invoke, or those in whose names they make offerings, or those before whom they carry out rites of worship, but inevitably it refers to those men whom the people regard as associates in the authority and sovereignty of Allah, whose thoughts, creeds, ideologies and philosophies they believe in, whose values they adroit, whose moral precepts and norms of civilization and culture they accept, and whose laws and rules and regulations they adopt to their rituals and rites of worship, in their personal and collective lives, in their trade and business dealings, in their politics and governments, as if they constituted the shari'ah that they had to follow faithfully. This is a complete code of life which the inventors invented against the legislation of AIlah, Lord of the worlds, without His sanction and followed by the followers. This is the same sort of shirk as prostrating oneself before another and invoking another than Allah. (For further explanation, see An Nisa: 60; AI-Ma'idah: 87; AI.An'am: 121, 136. 137; At-Taubah: 31; Yunus: 59; IbrahIm: 22; An-Nahl: 115-116; AI.Kahf: 52: AI-Qasas: 62.64 : Saba : 41; Ya Sin: GO and the relevant.E N.'s) 39 That is, 'This is such a boldness against Allah that had not judgement been deferred till Resurrection, the torment would have been sent down on every such person, who in spite of being Allah'. servant, enforced his own religion and way of life on Allah's earth, and those people also would have been visited by it, who forsook Allah's Religion and accepted the religion invented by others."

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :38 اس آیت میں شُرَکَاء سے مراد ، ظاہر بات ہے کہ وہ شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے ہیں ، یا جن کی نذر و نیاز چڑھاتے ہیں ، یا جن کے آگے پوجا پاٹ کے مراسم ادا کرتے ہیں ۔ بلکہ لامحالہ ان سے مراد وہ انسان ہیں جن کو لوگوں نے شریک فی الحکم ٹھہرا لیا ہے ، جن کے سکھائے ہوئے افکار و عقائد اور نظریات اور فلسفوں پر لوگ ایمان لاتے ہیں ، جن کی دی ہوئی قدروں کو مانتے ہیں ، جن کے پیش کیے ہوئے اخلاقی اصولوں اور تہذیب و ثقافت کے معیاروں کو قبول کرتے ہیں ، جن کے مقرر کیے ہوئے قوانین اور طریقوں اور ضابطوں کو اپنے مذہبی مراسم اور عبادات میں ، اپنی شخصی زندگی میں ، اپنی معاشرت میں ، اپنے تمدن میں ، اپنے کاروبار اور لین دین میں ، اپنی عدالتوں میں ، اور اپنی سیاست اور حکومت میں ، اس طرح اختیار کرتے ہیں کہ گویا یہی وہ شریعت ہے جس کی پیروی ان کو کرنی چاہیے ۔ یہ ایک پورا کا پورا دین ہے جو اللہ رب العالمیں کی تشریع کے خلاف ، اور اس کے اذن ( Sanction ) کے بغیر ایجاد کرنے والوں نے ایجاد کیا اور ماننے والوں نے مان لیا ۔ اور یہ ویسا ہی شرک ہے جیسا غیر اللہ کو سجدہ کرنا اور غیر اللہ سے دعائیں مانگنا شرک ہے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، البقرہ ، حواشی ، ۱۷۰ ، ۲۸٦ ، آل عمران حاشیہ ، ۵۷ ، النساء ، حاشیہ ۹۰ ، المائدہ ، حواشی ۱ تا ۵ ۔ ۱۰٤ ۔ ۱۰۵ ، الانعام ، حواشی ، ۸٦ ، ۸۷ ، ۱۰٦ ، ۱۰۷ ، جلد دوم ، التوبہ ، حاشیہ ۳۱ ، یونس ، حواشی ٦۰ ۔ ٦ ، ابراہیم ، حواشی ۳۰ تا ۳۲ ، النحل ، حواشی ۱۱٤تا ۱۱٦ ، جلد سوم ، الکہف ، حواشی ٤۹ ۔ ۵۰ ، مریم حاشیہ ۲۷ ، القصص ، حاشیہ ۸٦ ، جلد چہارم ، سبا ، آیت ٤۱ ، حاشیہ ا٦۳ ، یسٓ ، آیت ، ٦۰ ، حاشیہ ، ۵۳ ) ۔ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :39 یعنی اللہ کے مقابلہ میں یہ ایسی سخت جسارت ہے کہ اگر فیصلہ قیامت پر نہ اٹھا رکھا گیا ہوتا تو دنیا ہی میں ہر اس شخص پر عذاب نازل کر دیا جاتا جس نے اللہ کا بندہ ہوتے ہوئے ، اللہ کی زمین پر خود اپنا دین جاری کیا ، اور وہ سب لوگ بھی تباہ کر دیے جاتے جنہوں نے اللہ کے دین کو چھوڑ کر دوسروں کے بنائے ہوئے دین کو قبول کیا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:21) ام۔ حرف عطف ہے بمعنی کیا۔ یہاں ہمزہ استفہام کے معنی میں آیا ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ایقبلون ما شرع اللّٰہ لہم من الدین ام لہم شرکاء شرعوا لہم من الدین ۔۔ الخ کیا وہ اس دین کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ یا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے جو شریک (باطل) بنا رکھے ہیں انہوں نے ان کے لئے کوئی (نیا) دین مقرر کر رکھا ہے ۔۔ (نیز ملاحظہ ہو 18:9) مالم یاذن بد اللّٰہ : ما اسم موصول ہے باقی جملہ اس کا صلہ۔ لم یاذن مضارع نفی جحد بلم۔ بمعنی ماضی منفی اذن (باب سمع) مصدر (جس کی اللہ نے) اجازت نہیں دہ ہے۔ لولا : اگر نہ ہوتا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت 14 متذکرۃ الصدر و 6:43) کلمۃ الفصل۔ مضاف مضاف الیہ۔ فیصلے کی بات۔ قول فیصل۔ اگر (روز ازل سے ہی) فیصلے کی بات ٹھہرائی ہوئی نہ ہوتی (کہ قیامت کے آنے سے پہلے ان کو پوری سزا نہیں دی جائے گی) لولا کلمۃ الفصل جملہ شرطیہ ہے۔ لقضی بینھم۔ جواب شرط : لام جواب شرط کے لئے ہے۔ قضی ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ قضاء (باب ضرب) مصدر فیصلہ کرنا۔ بینھم۔ ای بین الکافرین والمؤمنین۔ تو کافروں اور مؤمنوں کے درمیان اختلافات کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ الظالمین ای المشرکین۔ ضمیر غائب کی جگہ اسم ظاہر (الظلمین) کی صراحت یہ بتانے کے لئے کہ وہ ظلم یعنی شرک کی وجہ سے عذاب الیم (درد ناک عذاب) کے مستحق ہیں۔ تری کا مفعول اول ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4” جیسے شرک اور گناہ کا کام “۔ 5 یعنی شرک جس کا یہ ارتکاب کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اتنی بڑی جسارت ہے کہ اگر اللہ نے یہ طے نہ کردیا ہوتا کہ ان کا فیصلہ قیامت کے روز کیا جائے تو کبیھ کا دنیا ہی میں ان عذاب آچکا ہوتا اور یہ سب لوگ تباہ ہوچکے ہوتے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ مقصود استفہام انکار سے یہ ہے کہ کوئی اس قابل نہیں کہ خدا کے خلاف اس کا مقرر کیا ہوا دین معتبر ہوسکے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا ان لوگوں میں سرفہرست مشرک ہیں۔ ” اَلدِّیْنِ “ اللہ تعالیٰ کے احکام اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات پر مبنی ہے۔ جس میں زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ دیا گیا ہے۔ اس میں کسی چھوٹے، بڑے، نیک اور بد یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں اپنی مرضی سے بال برابر بھی کمی بیشی کرسکیں۔ آپ نے جو کچھ فرمایا اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق ارشاد فرمایا۔ اس قدر واضح اور ٹھوس اصول ہونے کے باوجود مشرکین نے کچھ لوگوں کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ دین کے نام پر جو چاہیں مسائل بناتے اور چلاتے رہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہاں شرکاء سے پہلی مراد وہ لوگ ہیں جو حکمرانوں یا پارلیمنٹ کو اکثریت کی نمائندہ ہونے کی بنیاد پر آئین سازی کا اختیار دیتے ہیں۔ جس بنا پر مسلمان ملکوں کی پارلیمنٹوں اور حکمرانوں نے اسلام کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس میں ماضی، حال کے وہ علماء اور پیر بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے فتویٰ اور فرمان کو شریعت بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا اور لوگوں نے اسے عقیدت کی بنیاد پر ٹھنڈے دل سے قبول کرلیا۔ جس طرح غیر اسلامی قانون بنانے والے رب کے شریک بن بیٹھے ہیں اسی طرح انہیں خاموشی سے قبول کرنے والے بھی ایک حد تک شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ گویا کہ دونوں فریق اپنے اپنے مقام پر شرک فی الحکم میں ملوث ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے فیصلے کا ایک وقت مقرر نہ کر رکھا ہوتا تو ان کا جرم اتنا بھاری تھا کہ انہیں نیست ونابود کردیا جاتا۔ ظالموں کے لیے آخرت میں اذیت ناک عذاب ہوگا اس لیے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو حاکم کل تسلیم کرنے کی بجائے دوسروں کو بھی اس کی حاکمیّت میں شریک کر رکھا ہے۔ اس ظلم کا نتیجہ ہے کہ ظالم کو پکڑنے والا اور مظلوم کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَفِی عُنُقِی صَلِیبٌ مِنْ ذَہَب فَقَالَ یَا عَدِیُّ اطْرَحْ عَنْکَ ہَذَا الْوَثَنَ وَسَمِعْتُہُ یَقْرَأُ فِی سُورَۃِ بَرَاءَ ۃَ (اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُون اللَّہِ ) قَالَ أَمَا إِنَّہُمْ لَمْ یَکُونُوا یَعْبُدُونَہُمْ وَلَکِنَّہُمْ کَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَہُمْ شَیْءًا اسْتَحَلُّوہُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَیْہِمْ شَیْءًا حَرَّمُوہُ ) [ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ ] ” حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیامیری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی آپ نے فرمایا اس بت کو پھینک دو ۔ میں نے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة برأۃ کی تلاوت فرما رہے تھے (اِتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُون اللَّہِ ) (میں نے عرض کیا کہ ہم انہیں رب نہیں مانتے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایسا نہیں کہ وہ ان کی عبادت نہیں کرتے لیکن جب وہ کسی چیز کو حلال کہتے ہیں تو یہ اس کو حلال سمجھتے ہیں۔ جب وہ کسی چیز کو حرام قرار دیتے ہیں تو وہ اس کو حرام جانتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ ظالمو ! نے دین میں ملاوٹ کرکے دوسروں کو اللہ کا شریک بنا لیا ہے۔ ٢۔ اللہ کے قانون کے سوا دوسروں کا قانون ماننا اور چلانا اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنانا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنی حاکمیت میں دوسروں کو شریک کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ٤۔ دوسروں کا قانون بنانے اور چلانے والے ظالم ہیں۔ ظالموں کے لیے اذیت ناک عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ کے قانون کے علاوہ قانون بنانے اور اسے ماننے والے ظالم ہیں : ١۔ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب آپ پر نازل کی ہے آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ (المائدۃ : ٤٨) ٢۔ جو کتاب اللہ کے بغیر اپنی مرضی سے فیصلہ کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے بھٹک جائے گا۔ (ص : ٢٦) ٣۔ قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ دینے والے فاسق ہیں۔ (المائدۃ : ٤٧) ٤۔ جو قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ کافر ہے۔ (المائدۃ : ٤٤) ٥۔ جو قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ کرے وہ ظالم ہے۔ (المائدۃ : ٤٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٢٠ تا ٢٣ پچھلے پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے جو نظام زندگی اور شریعت تجویز کی تھی وہ وہی ہے جس کے بارے میں نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی تھی۔ وہی بات حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھی وحی کی گئی۔ اب اس پیرے میں ان سے گرفت کے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ تم بتاؤ تمہاری شریعت اور قانون اور نظام اور نظریہ کا ماخذ کیا ہے ؟ تمہاری شریعت کس نے بنائی ہے۔ یہ تم جس نظام کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہو ، یہ تو شریعتوں کے خلاف ہے۔ ام لھم شرکاء شرعوا ۔۔۔۔ بہ اللہ (٤٢ : ٢١) ” کیا کچھ لوگ ایسے شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اللہ کی شریعت اور قانون کے متضاد کوئی قانون بنانا چاہے وہ کوئی شخص بھی ہو۔ قانون سازی کا اختیار صرف اللہ وحدہ کو ہے کیونکہ اللہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے اس پوری کائنات کے لئے ایک نظام تجویز کر رکھا ہے اور انسان بھی اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے انسان کی زندگی کو ضابطے میں لانے کے لئے ایسا ہی قانون چاہئے جو قانون فطرت ہو۔ اللہ کے قوانین فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اور یہ صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب قانون وہ ذات بنائے جو نظام فطرت کی موجد ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور ذات یہ کام نہیں کرسکتی۔ اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی شخص انسانوں کی قانون سازی پر ، وہ اعتماد نہیں کرسکتا جو اللہ کے قانون پر کرتا ہے۔ اگرچہ یہ وہ حقیقت ہے جو ہدایت کی حد تک واضح ہے لیکن پھر بھی زیادہ لوگ اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں یا ان کو اس پر یقین نہیں آتا۔ اور پھر بھی وہ جرات کرتے ہیں کہ اللہ کے قانون کے سوا کسی اور اصول کے مطابق قانون سازی کریں۔ ان کا زعم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لئے بھلائی کر رہے ہیں ، پھر وہ اپنے حالات کو ان قوانین کے مطابق ڈھالتے ہیں جو انہیں نے خود بنائے ہیں۔ گویا وہ اللہ سے زیادہ جانتے ہیں ، زیادہ بہتر فیصلے کرنے والے ہیں ، یا اللہ کے سوا ان کے کوئی اور الٰہ ہیں جو ان کے لئے ایسے قانون بناتے ہیں جس کا اللہ نے اذن نہ دیا ہو۔ اس قسم کے لوگ اللہ کے نزدیک گھاٹا اٹھانے والے ہیں اور اللہ کی ذات کے خلاف جرات کرتے ہیں۔ اللہ نے انسانوں کے لئے ایسا قانون بنایا ہے جو انسان کی فطرت اور اس کائنات کے ناموس فطرت اور انسان کے مزاج کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کے مطابق انسانوں کا باہم تعاون اپنے اعلیٰ درجات تک پہنچ جاتا ہے اور اس کائنات کی دوسری قوتوں کے ساتھ بھی انسان کو تعاون حاصل ہوجاتا ہے۔ اللہ نے انسان کی پوری زندگی کے بارے میں قانون بنا دیا ہے۔ صرف جزئیات کا دائرہ چھوڑ دیا گیا جن کے بارے میں انسان نئے حالات کے مطابق خود قانون سازی کرسکتا ہے۔ لیکن یہ قانون سازی بھی اللہ کے جاری کردہ اصولی قوانین کے دائرے کے اندر کرسکتا ہے۔ اور اگر کسی معاملے میں انسانوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قانون کے مطابق طے کرنا ہوگا۔ کیونکہ اصول اسلامی شریعت میں طے کر دئیے گئے ہیں اور یہ اصول وہ ترازو ہیں جن کے تمام انسانوں نے اپنی آراء کو تولنا ہے۔ یوں قانون سازی کا ماخذ طے ہوجاتا ہے اور حکم اللہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے جو احکم الحاکمین ہے۔ اس کے سوا کوئی اگر اصول و دستور طے کرے گا وہ اسلامی شریعت سے بغاوت کرے گا۔ اللہ کے دین سے بغاوت کرے گا۔ اور اس وصیت اور تاکید کے خلاف چلے گا جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی۔ اور اب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے وہی شریعت نافذ کردی گئی۔ ولو لا کلمۃ الفصل لقضی بینھم (٤٢ : ٢١) ” اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “ ۔ اللہ نے فیصلہ کی بات یوں کردی ہے کہ لوگوں کو فیصلے کے دن تک مہلت دی جائے گی۔ اگر یہ بات طے نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں ان کا فیصلہ کردیتا۔ اور اللہ کی شریعت کے مخالفین کو یہاں ہی پکڑ لیا جاتا۔ ان کا قضیہ جلدی ہی چکا دیا جاتا۔ لیکن اللہ نے مہلت دے دی ہے۔ وان الظلمین لھم عذاب الیم (٤٢ : ٢١) ” اور ان ظالموں کے لئے یقیناً دردناک عذاب ہے “۔ یہ عذاب ان کے طلم کی وجہ سے ان کا منظر ہے اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو شخص اللہ کی شریعت کی مخالفت کرے۔ اور اللہ کے سوا دوسروں کی شریعت کی حمایت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ظالموں کو اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ وہاں ڈرے ہوئے ہیں ، سہمے ہوئے ہیں۔ عذاب جہنم ان کے سامنے ہے۔ اس سے قبل تو وہ اس سے نہ ڈرتے تھے اور نہ خوف کھاتے تھے بلکہ مذاق اڑاتے تھے۔ تری الظلمین مشفقین مما کسبوا وھو واقع بھم (٤٢ : ٢٢) ” تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اس وقت اپنے کئے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا “۔ قرآن کا انداز تعبیر بڑا عجیب ہے کہ یہ لوگ وہاں ” اپنی کمائی “ سے ڈر رہے ہوں گے۔ ان کی کمائی گویا ایک بلا ہوگی جس سے وہ ڈر رہے ہوں گے اور یہ بلا انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے کمائی اور دنیا سے وہ اپنے اس کارنامے ( غیر اسلامی قانون سازی ) پر بہت خوش تھے لیکن آج وہ اس سے خوفزدہ ہیں لیکن وھو واقع بھم (٤٢ : ٢٢) ” اور وہ ان پر واقع ہونے والا ہے “۔ اور اس منظر کی دوسری جھلک مومنین کے بارے میں ہے ، جو اس دن سے ڈرتے تھے لیکن آج وہ امن و عافیت سے ہیں اور بہت ہی خوشحال ہیں : والذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ الفضل الکبیر (٤٢ : ٢٢) ذلک الذی یبشر ۔۔۔۔۔ وعملوا الصلحت (٤٢ : ٢٣) ” بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے ، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے ، یہی بڑا فضل ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کئے “۔ قرآن کی تعبیر بھی نہایت ہی خوش کن ، نرم اور دھیمے انداز کی ہے۔ روضات الجنت جنتوں کے گلستان ، کئی جنتیں اور کئی گلستان۔ ” جو کچھ وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے “۔ بلا حدود وقیود۔ ” یہی بڑا فضل ہے “۔ ” یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے “۔ یہ حاضر خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے ” ۔ یہ حاضر خوشخبری ہے اور یہ سابقہ خوشخبری کے لئے مصداق ہے۔ خوشخبری کی فضا سب سے زیادہ فرحت بخش ہوتی ہے۔ جب کسی کو نعمت حاصل ہو تو خوشخبری دینے سے اس کا احساس اور تیز ہوجاتا ہے۔ نعمتوں کے اس نرم و نازک اور لطف و کرم کے اس بھرپور منظر کے دکھانے پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ جو ہدایت میں پیش کر رہا ہوں اور جس سے تمہیں یہ نعمتیں ملیں گی اور جہنم سے دور ہوجاؤ گے یہ میں اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ تم میرے رشتہ دار ہو اور مجھے تم سے محبت ہے میرے لیے یہی اجر کافی ہے۔ قل لا اسئلکم ۔۔۔۔۔۔ غفور شکور (٤٢ : ٢٣) ” اے نبی ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں اس کام پر تم لوگوں سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ البتہ قرابت محبت کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ تم جہنم سے بچ جاؤ۔ جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ بیشک اللہ بڑا درگزر کرے والا اور قدر دان ہے “۔ جس مفہوم کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا بلکہ قرابت داری کی محبت مجھے اس کام پر مجبور کر رہی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرابت داری قریش کی ہر شاخ سے تھی اور آپ یہ کوشش فرماتے تھے کہ آپ کے رشتہ دار ہدایت پر آجائیں۔ آپ اس قرابت داری کی وجہ سے چاہتے تھے کہ یہ بھلائی ان کو مل جائے اور یہی وافر اجر ہے آپ کے لئے۔ قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ انداز تعبیر آیا ہے اسے پڑھنے کے بعد میرے خیال میں یہی معنی واضح ہے۔ حضرت ابن عباس سے ایک تفسیر بھی مروی ہے ۔ یہاں میں اسے اس لیے نقل کرتا ہوں کہ وہ صحیح بخاری میں وارد ہے۔ بخاری نے روایت کی ہے۔ محمد ابن بشار سے انہوں نے محمد ابن جعفر سے انہوں نے شعبہ ابن عبد المالک ابن میسرہ سے انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے ابن عباس (رض) سے کہ انہوں نے آیت المودۃ فی القربی (٤٢ : ٢٣) کے بارے میں پوچھا تو سعید ابن جبیر نے کہا ” آل محمد کے رشتہ دار مراد ہیں “۔ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا تم نے جلدی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قریش کی کوئی شاخ نہ تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس میں رشتہ داری نہ ہو “۔ اس کے بعد انہوں نے کہا معنی یہ ہے ” الا یہ کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اس کا تعلق رکھو “۔ اس حدیث کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ تم میری قرابت داری کا لحاظ رکھتے ہوئے ، مجھے اذیت دینے سے باز آجاؤ۔ اور میں جو کچھ کہتا ہوں سنو اور نرم رویہ اختیار کرو۔ یہی کافی اجر ہوگا۔ بس یہی اجر میں تم سے چاہتا ہوں ، اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ حضرت ابن عباس (رض) کی تاویل ، سعید ابن جبیر کی تاویل سے زیادہ قریب الفہم ہے۔ لیکن میں نے جو مفہوم اوپر بیان کیا ہے وہ زیادہ قریب اور زیادہ خوبصورت ہے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال مفہوم جو بھی ہو مذکورہ باغات اور خوشخبری کے مناظر کے بعد اللہ فرماتا ہے کہ پیغمبر اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور یہ بات تو بہت ہی بعید ہے کہ جن کو ہدایت کی جارہی ہے وہ اس پر ان سے اجر طلب کریں ، لیکن یہ تو اللہ کے فضل و کرم ہیں کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ تجارتی حساب و کتاب نہیں کرتا ، نہ منصفانہ حساب کرتا ہے ۔ اللہ کا حساب مہربانی اور فضل والا ہے۔ ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسنا (٤٢ : ٢٣) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (٤٢ : ٢٣) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (٤٢ : ٢٣) ” بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے “۔ اللہ معاف بھی کرتا ہے ، پھر خود شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ کس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اپنے بندوں کا کہ وہ راہ راست پر آئے ، حالانکہ راہ راست پر آنے کی توفیق بھی اسی نے دی۔ پھر مزید یہ کہ ان کی صفات میں اضافہ کرتا ہے ، برائی کو صاف کرتا ہے اور اس کے بعد قدر دانی بھی کرتا ہے ، کیا ہی مہربانیاں ہیں ! انسان کے لئے تو ایسا سلوک کرنا ممکن نہیں ۔ صرف اللہ کا شکر ادا کیا جاسکتا ہے اور توفیق قلب کی جاسکتی ہے۔ اب روئے سخن پھر وحی الٰہی کی طرف !

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن ظالم لوگ اپنے اعمال بد کی وجہ سے ڈر رہے ہوں گے اور اہل ایمان اعمال صالحہ والے جنتوں کے باغیچوں میں ہوں گے اوپر چار آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے پہلی آیت میں مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے کہ جنہوں نے اللہ کے لیے شریک تجویز کر رکھے ہیں کیا انہوں نے ان آیات کے لیے ایسے دینی احکام مشروع و مقرر کیے ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہ دی ہو ؟ یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جو مخلوق کے لیے کوئی دین مشروع و مقرر کردے نہ کوئی ایسا کرسکتا ہے اور نہ کسی کو اس کا حق ہے اللہ تعالیٰ ہی کو اس کا حق ہے کہ اپنی مخلوق کے لیے دین مشروع فرمائے جب ان بنائے ہوئے شریکوں میں سے کسی نے ان کے لیے دین مشروع نہیں کیا تو ان کی عبادت کرنا حماقت نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ مشرکین پر لازم ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ عبادت کریں اور اسے وحدہ لا شریک جانیں۔ ان لوگوں نے شرک اختیار کرکے اپنی جانوں کو عذاب کا مستحق بنا دیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے طے فرما دیا ہے کہ عذاب دنیا میں فلاں وقت ہوگا اور آخرت میں ضرور ہوگا اگر یہ فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو ان کو دنیا میں ابھی عذاب دے دیا جاتا، عذاب کی تاخیر سے خوش نہ ہوں سمجھ لیں کہ ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے جس میں ضرور ہی مبتلا ہوں گے۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ ایک وہ وقت بھی آنے والا ہے (یعنی قیامت کا دن) جب ظالمین یعنی مشرکین اور کافرین اپنے کرتوتوں کی وجہ سے عذاب سے ڈر رہے ہوں گے لیکن یہ ڈرنا کچھ مفید نہیں ہوگا ان پر عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا اور اہل ایمان اعمال صالحہ والے بہشتوں کے باغوں میں نعمتوں میں مشغول ہوں گے وہاں جو کچھ چاہیں گے ان کے پاس ان کے لیے موجود ہوگا یہ جنتوں کا دخلہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے (یہ دنیا کی چہل پہل اس کے سامنے کچھ بھی نہیں) تیسری آیت میں اول تو مومنین اعمال صالحہ والوں کی فضیلت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں بشارت دیتا ہے کہ ان کو ایسی نعمتیں ملیں گی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

20:۔ ” ام لہم شرکاء “ یہ دوسرے دعوے م سے متعلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی شریعت تو یہی تھی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو، تو کیا ان کے گمراہ پیشواؤں نے اللہ کی شریعت کے خلاف کوئی ایسی شریعت کے ان کے لیے بنا دی ہے اور ان کو غیر اللہ کو پکارنے کی اجازت دی ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ؟ حاصل یہ ہے کہ شریعت حقہ وہی ہے جو اللہ نے تمام رسولوں کے پاس بھیجی اس کے خلاف کسی کو اپنی طرف سے اختراع و ایجاد کی اجازت نہیں۔ ” ولولا کلمۃ الفصل “ تا ” وھو واقع بہم “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” کلمۃ الفصل “ یعنی عذاب کے لیے اجل معین اگر ان کے عذاب کے لیے وقت معین نہ ہوتا، تو کبھی کا ان کا قصہ پاک کیا جاچکا ہوتا۔ ایسے ظالموں کیلئے جو خدا کی شریعت کے مقابلے میں احکام وضع کرتے ہیں اور جو ان پر عمل کرتے ہیں، نہایت ہی دردناک عذاب تیار ہے۔ قیامت کے دن تو ان مشرکین کو دیکھے گا کہ وہ اپنے کرتوتوں کی سزا سے خائف اور لرزاں ہوں گے، لیکن اس سے کچھ فائدہ نہ ہوگا اور ان کے اعمال کی سزا ان کو مل کر رہے گی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) کیا ان کافروں کے کچھ ایسے خود ساختہ شریک ہیں جنہوں ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے اور دین کی کوئی ایسی راہ ڈالی ہے کہ جس دین کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی اور اللہ تعالیٰ نے اس دین کا حکم نہیں دیا اور اگر وہ فیصلے کی بات نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان یقینا فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور بلاشبہ ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ اوپرشرعلکممن الدین ماوصی بہ گزرا ہے اسی سلسلے میں ارشاد ہے اور استفہام انکاری کے طور پر فرمایا کہ کیا ان کے تجویز کردہ معبودوں نے کوئی اور ایسا دین ان کے لئے تجویز کردیا اور کوئی اور راستہ دین کے نام سے بنادیا ہے جس دین کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ کلمۃ الفصل سے وہی مہلت اور عذاب موعود کا آخرت میں ہونا مراد ہے یعنی اگر وہ بات نہ ہوتی تو حق و باطل کا فیصلہ یہیں ہوجاتا اور ان کا فیصلہ چکادیا جاتا ہے اور یقین کرو کہ ان مشرکوں کے لئے دردناک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف دین میں اختراع کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی فیصلے کا وعدہ ہے اپنے وقت پر۔