Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 39

سورة الشورى

وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الۡبَغۡیُ ہُمۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿۳۹﴾

And those who, when tyranny strikes them, they defend themselves,

اور جب ان پر ظلم ( و زیادتی ) ہو تو وہ صرف بدلہ لے لیتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge. means, they have the strength to take revenge on those who commit aggressive wrong and hostile acts against them. They are not incapable of doing so and they are not helpless; they are able to take revenge against those who transgress against them, even though when they have the power to take revenge, they prefer to forgive, as when Yusuf, peace be upon him, said to his brothers: لااَ تَثْرَيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ No reproach on you this day; may Allah forgive you. (12: 92) even though he was in a position to take revenge on them for what they had done to him. The Messenger of Allah forgave the eighty people who intended to do him harm during the year of Al-Hudaybiyah, camping by the mountain of At-Tan`im. When he overpowered them, he set them free, even though he was in a position to take revenge on them. He also forgave Ghawrath bin Al-Harith who wanted to kill him and unsheathed his sword while he was sleeping. The Prophet woke up to find him pointing the sword at him. He reproached him angrily and the sword dropped. Then the Messenger of Allah picked up the sword and called his Companions. He told them what had happened, and he forgave the man. There are many similar Hadiths and reports. And Allah knows best.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٧] ظلم کے مقابلہ میں ڈٹ جانا اور ظالم سے بدلہ لینا :۔ یعنی متکبر اور جابر قسم کے لوگ ان پر زیادتی کرتے ہیں تو وہ ان کے آگے دبتے نہیں بلکہ ان کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔ کمزوری نہیں دکھاتے جیسا کہ مکہ میں مسلمانوں نے کافروں کے مصائب برداشت کئے مگر ان کے آگے جھکے نہیں۔ اور اگر ان میں بدلہ لینے کی ہمت ہو تو بدلہ لے کے چھوڑتے ہیں۔ ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب غالب ہوں تو اگر چاہیں تو مغلوب کو معاف بھی کردیں اور چاہیں تو اتنا ہی بدلہ لے لیں جتنی ان پر زیادتی ہوئی ہو اور معاف کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ لیکن جب کوئی طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں ان پر دست درازی کرے تو اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں کسی ظالم یا متکبر کے سامنے جھکتے یا دبتے نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

والذین اذا اصابھم البغی …: یہ چوتھا وصف ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے ان کا وصف غصے کے وقت معاف کردینا ذکر فرمایا ہے اور یہاں انتقام کو ان کی خوبی قرار دیا ہے، تطبیق کیا ہے ؟ اس کا بہترین جواب مشہور تابعی ابراہیم نخعی نے دیا ہے، انہوں نے صحابہ کرام (رض) کا طرز عمل بیان کرتے ہئے فرمایا :” کان المومنون یکرھون ان یستدلوا و کانوا اذا قدروا عفواً (ابن کثیر بحوالہ ابن ابی حاتم : 18386 وقال حکمت بن بشیر مسندہ صحیح)” مومن یہ بات ناپسند کرتے تھے کہ ذلت قبول کریں، مگر جب قدرت پاتے تو معاف کردیتے تھے۔ “ خلاصہ یہ ہے کہ اگر معاف کرنا مجرم کے جرم سے باز آنے کا باعث ہو تو عضو افضل ہے، لیکن اگر معاف کرنے سے اس کی سرکشی میں اور جرم پر جرأت میں اضافہ ہو تو اتنقام لینا چاہیے۔ دلیل اس کی لفظ ” البغی “ (سرکشی) ہے۔ ایک شاعر نے کہا ہے۔ اذا انت اکرمت الکریم ملکتہ وان انت اکرمت اللئیم تمردا ” جب تم کسی معزز آدمی کی عزت کرو گے تو اس کے مالک بن جاؤ گے اور اگر تم کمینے کی عزت کرو گے تو وہ سرکش ہوجائے گا۔ “ ابن کثیر نے فرمایا : یعنی ان میں اس شخص سے اتنقام لینے کی قوت ہوتی ہے جو ان پر ظلم اور زیادتی کرے، نہ وہ عاجز ہوتے ہیں نہ ذلیل ، بلکہ جو سرکشی کرے اس سے انتقام کی قدرت رکھتے ہیں، اس کے باوجود جب قابو پالیتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں، جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے کہا :(لاتثریب علیکم الیوم ، یغفر اللہ لکم) (یوسف : ٩٢) ” آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں بخشے۔ “ حالانکہ وہ ان کے مواخذے پر اور اس سلوک کا بدلا لینے پر پوری قدرت رکھتے تھے جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا اور جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں سے فرمایا : جنہوں نے آپ سے دشمین کی انتہا کردی تھی اور جن کی گردنیں آپ کے ایک اشارے سے تن سے جدا ہوسکتی تھیں۔ (لاتثریب علیکم الیوم) (السنن الکبری للسائی :11298) اور جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان اسی (80) آدمیوں کو ماف کردیا جو کوہ تنعیم سے آپ پر حملہ آور ہونے کے لئے اترے تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر قابو پا لیا تو قدرت کے باوجود ان پر احسان فرما دیا۔ اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غورث بن حارث کو معاف کردیا، جس نے آپ کو اچانک قتل کرنے کا ارادہ کیا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوئے ہوئے تھے تو اس نے آپ کی تلوار میان سے نکالی لی، آپ بیدار ہوئے تو وہ ننگی اس کے ہاتھ میںھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے جھڑکا تو اس نے نیچے رکھ دی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو بلا کر ساری بات بتائی اور اسے معاف کردیا۔ (دیکھیے بخاری 4136) اسی طرح لبیدبن اعصم کو معاف کردیا جس نے آپ پر جادو کیا تھا، اس سے باز پرس بھی نہیں فرمائی۔ (دیکھیے بخاری :5765) اسی طرح اس یہودی عورت زینب کو معاف فرما دیا جو خیبر کے یہودی مرحب کی بہن تھی، جسے محمد بن مسلمہ (رض) نے قتل کیا تھا، جس نے خیبر کے موقع پر بکری کے بازو میں زہر ملا دیا تھا، بکری کے اس بازو نے آپ کو اس کی اطلاع دے دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو بلایا تو اس نے اعتراف کرلیا۔ آپ نے اس سے کہا کہ تمہیں اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ اس نے کہا، میرا ارادہ یہ تھا کہ اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں دے گی اور اگر نبی نہ ہوئے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے چھوڑ دیا، مگر جب اس زہر کی وجہ سے بشربن براء (رض) فوت ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے قصاص میں اسے قتل کردیا۔ (دیکھیے بخاری :3169، ابو داؤد، 4509، 4511) ایسی احادیث اور بھی بہت ہیں۔ (وللہ الحمد) یہ تمام واقعات بخاری و مسلم دونوں میں یا ان میں سے ایک میں موجود ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Seventh virtue:۔ وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُ‌ونَ (and those who, when they are subjected to aggression, defend themselves - 39.) The original word used in the text is ` yantasirun& which may be translated as ` defend themselves& and also as ` retaliate&. In the latter case, retaliation must be equal, and should in no case exceed the limit of equality. This quality, in reality, is a further elaboration of the third virtue, i.e forgiving the opponents. It means that though forgiveness is a good quality, yet one may face certain situations where the mischief gets a fillip if one forgives, and hence it is better to take revenge in those situations. This verse has defined the rule that in those situations where taking revenge is the more suitable option, one has to take care that one does not exceed the equalizing limit, otherwise he will become unjust and transgressor. That is why this verse is followed by the verse 40, وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا (and the recompense of evil is evil like it.) which lays down the equitable rule of retaliation that one may cause just as much physical or monetary harm to his opponent as he has received from him; but the condition is that causing that harm is not a sin in itself. For example, if someone has been forced by another to take an alcoholic drink, it would not be permissible for him to force the other person to take an alcoholic drink. Although permission has been given in this verse to take revenge in equal measure, but immediately thereafter it is emphasized again that فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُ‌هُ عَلَى اللَّـهِ |"the one who forgives and compromises has his reward undertaken by Allah. - 40|" The instruction is that to forgive is better. More details are given in the later two verses. The Moderate decision between forgiveness and revenge Ibrahim Nakha (رح) has stated that former virtuous elders did not like that Muslims are disgraced and debased by the sinners and oppressors who, if not taken to task, may be encouraged to their further wrongdoings. Therefore, where it is apprehended that the sinners and oppressors would become more daring and would harass the decent people if they are forgiven, then it is better to take revenge from them. And to forgive would be better in case the transgressor is repentant, and there is no apprehension of his becoming more daring. Qadi Abu Bakr Ibn-ul-` Arabi in Ahkam-ul-Qur&an and Qurtubi in his Tafsir have concurred to the view that forgiveness and revenge are applicable as suitable, in different situations,. For one who is repentant after having transgressed, it is better to forgive and for one who is stubborn and insistent upon transgression, it is better to take revenge. Maulana Ashraf ` Ali Thanawi (رح) ، has, however, explained the issue in Bayan-ul-Qur&an from a little different angle. He says that Allah Ta’ ala has mentioned two qualities particular to the true, sincere and virtuous Muslims in both the verses. The verse emphasizing on forgiveness tells us that they are not overcome by anger, rather kindness and generosity remains dominant in their temperament because of which they forgive the ones who commit excess against them. And in the verse that refers to revenge, we are told that it is a particular quality of these virtuous people that if at any time their heart is inclined to take revenge of an injustice and they do so, they do not exceed the equitable limit, although to forgive is always better for them.

ساتویں صفت : (آیت) وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ ۔ یعنی جب ان پر کوئی ظلم کرتا تو یہ برابر کا انتقام لیتے ہیں۔ اس میں حد مساوات سے تجاوز نہیں کرتے، یہ صفت درحقیقت تیسری صفت کی تشریح و تفصیل ہے۔ کیونکہ تیسری صفت کا مضمون یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے مخالف کو معاف کردیتے ہیں۔ مگر بعض حالات ایسے بھی پیش آسکتے ہیں کہ معاف کردینے سے فساد بڑھتا ہے تو وہاں انتقام لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اس کا قانون اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ اگر کسی جگہ انتقام لینا ہی مصلحت سمجھا جائے تو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس سے انتقام لینے میں برابری سے آگے نہ بڑھیں ورنہ یہ خود ظالم ہوجائیں گے۔ اسی لئے اس کے بعد فرمایا وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَ آ یعنی برائی کی جزا اس کی برابر برائی کرنا ہے۔ یعنی جتنا نقصان مالی یا جسمانی کسی نے تمہیں پہنچایا ہے ٹھیک اتنا ہی تم پہنچا دو ۔ جیسی برائی اس نے تمہارے ساتھ کی ہے ویسی ہی تم کرلو مگر اس میں یہ شرط ہے کہ وہ برائی فی نفسہ گناہ نہ ہو۔ مثلاً کسی شخص نے اس کو جبراً شراب پلا دی تو اس کے جواب میں اس کے لئے جائز نہ ہوگا کہ وہ اس کو زبردستی شراب پلا دے۔ اس آیت میں اگرچہ برابر کا بدلہ لینے کی اجازت دے دی گئی ہے مگر آگے یہ بھی فرما دیا کہ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ۔ یعنی جو معاف کر دے اور اصلاح کا راستہ اختیار کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ جس میں یہ ہدایت کردی کہ معاف کردینا افضل ہے۔ اس کے بعد دو آیتوں میں اسی کی مزید تفصیل آئی ہے۔ عفو و انتقام میں معتدل فیصلہ : حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا کہ سلف صالحین یہ پسند نہ کرتے تھے کہ مومنین اپنے آپ کو فساق فجار کے سامنے ذلیل کریں اور ان کی جرأت بڑھ جائے۔ اس لئے جہاں یہ خطرہ ہو کہ معاف کرنے سے فساق فجار کی جرأت بڑھے گی وہ اور نیک لوگوں کو ستائیں گے وہاں انتقام لے لینا بہتر ہوگا اور معافی کا افضل ہونا اس صورت میں ہے جبکہ ظلم کرنے والا اپنے فعل پر نادم ہو اور ظلم پر اس کی جرأت بڑھ جانے کا خطرہ نہ ہو۔ قاضی ابوبکر ابن عربی نے احکام القرآن میں اور قرطبی نے اپنی تفسیر میں اسی کو اختیار کیا ہے کہ عفو و انتقام کے دونوں حکم مختلف حالات کے اعتبار سے ہیں۔ جو ظلم کرنے کے بعد شرمندہ ہوجائے اس سے عفو افضل ہے اور جو اپنی ضد اور ظلم پر اصرار کر رہا ہو اس سے انتقام لینا افضل ہے۔ اور حضرت اشرف المشائخ نے بیان القرآن میں اس کو اختیار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیتوں میں مومنین، مخلصین اور صالحین کی دو خصوصیتیں ذکر فرمائی ہیں۔ ھم یغفرون۔ میں تو یہ بتلایا کہ یہ غصہ میں مغلوب نہیں ہوتے بلکہ رحم و کرم ان کے مزاج میں غالب رہتا ہے معاف کردیتے ہیں۔ اور ھم ینتصرون میں یہ بتلایا کہ یہ بھی انہیں صالحین کی خصوصیت ہے کہ اگر کبھی ظلم کا بدلہ لینے کا داعیہ ان کے دل میں پیدا بھی ہو اور بدلہ لینے لگیں تو اس میں حق سے تجاوز نہیں کرتے، اگرچہ معاف کردینا ان کے لئے افضل ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَہُمُ الْبَغْيُ ہُمْ يَنْتَصِرُوْنَ۝ ٣٩ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ ( صاب) مُصِيبَةُ والمُصِيبَةُ أصلها في الرّمية، ثم اختصّت بالنّائبة نحو : أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165] ، فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌالنساء/ 62] ، وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] ، وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] ، وأصاب : جاء في الخیر والشّرّ. قال تعالی:إِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ [ التوبة/ 50] ، وَلَئِنْ أَصابَكُمْ فَضْلٌ مِنَ اللَّهِ [ النساء/ 73] ، فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشاءُ [ النور/ 43] ، فَإِذا أَصابَ بِهِ مَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ [ الروم/ 48] ، قال : الإِصَابَةُ في الخیر اعتبارا بالصَّوْبِ ، أي : بالمطر، وفي الشّرّ اعتبارا بِإِصَابَةِ السّهمِ ، وکلاهما يرجعان إلى أصل . مصیبۃ اصل میں تو اس تیر کو کہتے ہیں جو ٹھیک نشانہ پر جا کر بیٹھ جائے اس کے بعد عرف میں ہر حادثہ اور واقعہ کے ساتھ یہ لفظ مخصوص ہوگیا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165]( بھلا یہ ) کیا بات ہے کہ ) جب ( احد کے دن کفار کے ہاتھ سے ) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ ( جنگ بدر میں ) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے انہیں پہنچ چکی تھی ۔ فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ [ النساء/ 62] تو کیسی ( ندامت کی بات ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے ۔ وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مابین مقابلہ کے دن واقع ہوئی ۔ وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے اعمال سے ۔ اور اصاب ( افعال ) کا لفظ خیرو شر دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ [ التوبة/ 50] اے پیغمبر اگر تم کو اصائش حاصل ہوتی ہے تو ان کی بری لگتی ہے اور اگر مشکل پڑتی ہے ۔ وَلَئِنْ أَصابَكُمْ فَضْلٌ مِنَ اللَّهِ [ النساء/ 73] ، اور اگر خدا تم پر فضل کرے فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشاءُ [ النور/ 43] تو جس پر چاہتا ہے اس کو برسادیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے ۔ فَإِذا أَصابَ بِهِمَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ [ الروم/ 48] پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ جباصاب کا لفظ خیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو یہ صوب بمعنی بارش سے مشتق ہوتا ہے اور جب برے معنی میں آتا ہے تو یہ معنی اصاب السمھم کے محاورہ سے ماخوز ہوتے ہیں مگر ان دونوں معانی کی اصل ایک ہی ہے ۔ بغي البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، والبَغْيُ علی ضربین : - أحدهما محمود، وهو تجاوز العدل إلى الإحسان، والفرض إلى التطوع . - والثاني مذموم، وهو تجاوز الحق إلى الباطل، أو تجاوزه إلى الشّبه، تعالی: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ [ الشوری/ 42] ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ بغی دو قسم پر ہے ۔ ( ١) محمود یعنی حد عدل و انصاف سے تجاوز کرکے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کرکے تطوع بجا لانا ۔ ( 2 ) مذموم ۔ یعنی حق سے تجاوز کرکے باطل یا شبہات میں واقع ہونا چونکہ بغی محمود بھی ہوتی ہے اور مذموم بھی اس لئے آیت کریمہ : ۔ { السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ } ( سورة الشوری 42) الزام تو ان لوگوں پر ہے ۔ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں ۔ انْتِصَارُ والاسْتِنْصَارُ وَالانْتِصَارُ والاسْتِنْصَارُ : طلب النُّصْرَة وَالَّذِينَ إِذا أَصابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ [ الشوری/ 39] ، وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ [ الأنفال/ 72] ، وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ [ الشوری/ 41] ، فَدَعا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ [ القمر/ 10] وإنما قال :«فَانْتَصِرْ» ولم يقل : انْصُرْ تنبيهاً أنّ ما يلحقني يلحقک من حيث إنّي جئتهم بأمرك، فإذا نَصَرْتَنِي فقد انْتَصَرْتَ لنفسک، وَالتَّنَاصُرُ : التَّعاوُن . قال تعالی: ما لَكُمْ لا تَناصَرُونَ [ الصافات/ 25] لا نتصار والانتنصار کے منعی طلب نصرت کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَالَّذِينَ إِذا أَصابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ [ الشوری/ 39] اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو مناسب طریقے سے بدلہ لیتے ہیں ۔ وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ [ الأنفال/ 72] اور اگر وہ تم سے دین کے معاملات میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرتی لا زم ہے ۔ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ [ الشوری/ 41] اور جس پر ظلم ہوا ہو وہ اگر اس کے بعد انتقام لے ۔ فَدَعا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ [ القمر/ 10] تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ ( بار الہ میں ان کے مقابلے میں کمزور ہوں ان سے ) بدلہ لے ۔ میں انصر کی بجائے انتصر کہنے سے بات پر متنبہ کیا ہے کہ جو تکلیف مجھے پہنچ رہی ہے وہ گویا تجھے ذات باری تعالیٰ پہنچ رہی ہے وہ گویا تجھے ( ذات باری تعا لی پہنچ رہی ہے کیو ن کہ میں تیرے حکم سے ان کے پاس گیا تھا لہذا میری مدد فر مانا گو یا یا تیرا اپنی ذات کے لئے انتقام لینا ہے ۔ لتنا صر کے معنی باہم تعاون کرنے کے ہیں ۔ چنا نچہ قرآن میں ہے : ما لَكُمْ لا تَناصَرُونَ [ الصافات/ 25] تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟ قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔ سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی ترغیب دی ہے کہ ہم لوگوں پر اپنے حقوق کو معاف کردیں ۔ چناچہ ارشاد ہے (وان تعفوا اقرب للتقوی۔ اور تمہارا معاف کردینا تقویٰ سے زیادہ قریب ہے) قصاص کے سلسلے میں ارشاد ہے (فمن تصدق بہ فھوکفارۃ لہ۔ جو شخص قصاص کا صدقہ کردے گا اس کے لئے یہ بات کفارہ بن جائے گی) نیز ارشاد ہے (ولیعفوا والیصفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم۔ انہیں چاہیے کہ عفو اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ بتا پسند نہیں کہ اللہ تمہارے گناہوں کی بخشش کرے) ان آیت کے احکام ثابت ہیں منسوخ نہیں ہوئے۔ قول باری (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون) ظاہری طور پر اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اس موقعہ پر بدلہ لینا افضل ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے اور نماز کی پابندی کے ساتھ مقرون کردیا ہے۔ اسے اس معنی پر محمول کیا جائے گا جس کا ذکر ابراہیم نخعی نے کیا ہے کہ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ مسلمان اپنے آپ کو اس طرح دباکر اور عاجز بنا کر رکھیں کہ فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقع مل جائے۔ اس لئے بدلہ لینے کا موقعہ وہ ہے جب ایک شخص ظلم و زیادتی کرے اور پھر اس پر نادم ہونے کی بجائے اصرار کرے۔ عفو و درگزر کا موقعہ وہ ہے جب ظلم و زیادتی کرنے والا اپنے فعل پر پشیمان ہو اور آئندہ ایسی حرکت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے بعد فرمایا (ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل۔ اور جو اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لے تو ایسے لوگوں پر کوئی گرفت نہیں) آیت کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اس میں بدلہ لینے کی اباحت کردی گئی ہے بدلہ لینے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ارشاد ہے (ولمن صبر وغفران ذلک لمن عزم الامور اور جو شخص صبر کرے اور معاف کردے یہ البتہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے) اس ارشاد کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا جب ظلم و زیادتی کرنے والا اپنے فعل پر اصرار نہ کرتا ہو۔ ایسے موقعہ پر اسے معاف کردینا بہترہوگا لیکن ظلم وتعدی پر اصرار کرنے والے سے بدلہ لینا افضل ہے کیونکہ اس پر ماقبل کی آیت دلالت کررہی ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ماعلیھم من سبیل) کی تفسیر میں روایت کی ہے۔ یہ بات اس صورت میں ہوگی جب لوگوں کے درمیان قصاص کا معاملہ درپیش ہو لیکن اگر کوئی شخص تم پر ظلم کرے تو تمہارے لئے اس پر ظلم کرنا حلال نہیں ہوگا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جو ان پر کسی کی طرف سے ظلم ہوتا ہے تو پورا پورا بدلہ لیتے ہیں کسی قسم کی زیادتی نہیں کرتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٩ { وَالَّذِیْنَ اِذَٓا اَصَابَہُمُ الْبَغْیُ ہُمْ یَنْتَصِرُوْنَ } ” اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ “ یعنی اقامت دین کی جدوجہد جب ” قتال “ کے مرحلے میں داخل ہوجائے تو پھر اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا حکم ہے۔ سورة البقرۃ میں اس حکمت عملی کو یوں بیان فرمایا گیا ہے : { وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ وَاَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ } (آیت ١٩١) ” اور قتل کر دو انہیں جہاں کہیں بھی تم انہیں پائو اور نکال باہر کرو انہیں وہاں سے جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا “۔ گویا جب ایک دفعہ آگے بڑھ کر باطل کو چیلنج کردیا گیا تو پھر فیصلہ کن فتح تک اس جنگ کو سختی سے جاری رکھنے کا حکم ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جنگ بدر میں پکڑے گئے قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا کیے جانے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے (سورۃ الانفال کی آیات ٦٧ ‘ ٦٨ میں ) ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا گیا۔ ان قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر (رض) کی رائے یہ تھی کہ ان سب کو قتل کردیا جائے ‘ بلکہ آپ (رض) کو تو اصرار تھا کہ ہر مسلمان اپنے رشتے دار اور عزیز قیدی کو خود اپنے ہاتھ سے قتل کرے۔ اس حوالے سے آپ (رض) کی دلیل یہی تھی کہ اگر آج ان لوگوں کو چھوڑ دیا گیا تو کل وہ پھر ہمارے مقابلے میں آجائیں گے۔ حضرت عمر (رض) کے اس خدشے کی اس وقت تصدیق بھی ہوگئی جب فدیہ پر رہائی پانے والے قیدیوں میں سے اکثر و بیشتر اگلے سال غزوئہ اُحد میں مسلمانوں کے خلاف پھر سے آ کھڑے ہوئے تھے۔ عام مفسرین کے نزدیک سورة الانفال کی مذکورہ آیات حضرت عمر (رض) کی رائے کی تائید میں نازل ہوئیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

63. This also is one of the best characteristics of the believers, they do not fall a prey to the tyrants. Their tender heartedness and forgiving nature is not the result of any weakness. They have not been taught to live humbly and meekly like the hermits and ascetics. Their nobility demands that when they are victors they should forgive the errors of the vanquished. When they possess the power, they should avoid vengefulness and when a weak or subdued person happens to commit a mistake they should overlook it. But when a powerful person, drunk with authority, commits violence against them, they should resist and fight him with all their might. A believer is never cowed by a wicked person nor bows to an arrogant man. For such people he proves to be a hard nut which breaks the teeth of those who try to break it.

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :63 یہ بھی اہل ایمان کی بہترین صفات میں سے ہے ۔ وہ ظالموں اور جباروں کے لیے نرم چارہ نہیں ہوتے ۔ ان کی نرم خوئی اور عفو و درگزر کی عادت کمزوری کی بنا پر نہیں ہوتی انہیں بھکشوؤں اور راہبوں کی طرح مسکین بنکر رہنا نہیں سکھایا گیا ہے ۔ ان کی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ جب غالب ہوں تو مغلوب کے قصور معاف کر دیں ، جب قادر ہوں تو بدلہ لینے سے در گزریں ، اور جب کسی زیر دست یا کمزور آدمی سے کوئی خطا سرزد ہو جائے تو اس سے چشم پوشی کر جائیں ، لیکن کوئی طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں ان پر دست درازی کرے تو ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور اس کے دانت کھٹے کر دیں ۔ مومن کبھی ظالم سے نہیں دبتا اور متکبر کے آگے نہیں جھکتا ۔ اس قسم کے لوگوں کے لیے وہ لوہے کا چنا ہوتا ہے جسے چبانے کی کوشش کرنے والا اپنا ہی جبڑا توڑ لیتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:39) والذین اذا ۔۔ ینتصرون۔ اس کا عطف بھی الذین امنوا پر ہے۔ ذا جب، ظرف زمان ہے۔ شرطیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اصابھم البغی : اصاب ماضی واحد مذکر غائب اصابۃ (افعال) مصدر وہ پہنچا۔ وہ اپڑا۔ اس نے پالیا۔ مصیبۃ آپڑنے والی۔ البغی۔ سرکشی ، ظلم، زیادتی۔ البغی (باب ضرب) سے مصدر۔ بغی کے اصل معنی میانہ روی سے بڑھنے کی خواہش کرنے کے ہیں۔ اور اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک محمود۔ جیسے عدل کی بجائے احسان کرنا۔ اور فرائض کے علاوہ نوافل کا بھی پابند رہنا۔ دوسرے مذموم : جیسے حق سے تجاوز کرکے باطل کو اختیار کرنا۔ شبہات میں پڑنا : جیسے قرآن مجید میں اکثر مواقع پر بغی کا استعمال مذموم معنی میں ہی ہوا ہے۔ بغی (باب ضرب) بمعنی طلب کرنا۔ خواہش کرنا۔ بھی آتا ہے۔ ینتصرون : مضارع جمع مذکر غائب انتصار (افتعال) مصدر وہ بدلہ لے لیتے ہیں۔ بدلہ لے سکتے ہیں (جرم کے مطابق) بدلہ لے لیتے ہیں۔ اذا شرطیہ ہونے کی صورت میں جملہ اذا اصابھم البغی جملہ شرطیہ ہوگا اور جملہ ہم ینتصرون مبتدا اور خبر مل کر جواب شرط و جواب شرط مل کر صلہ اپنے موصول الذین کا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی وہ ظالم کے مقابلہ میں ڈٹ جانے والے اور ظالم سے اس کے کئے کا پورا بدلہ لینے والے ہیں۔ ہاں جس حد تک ذاتی غصے کا تعلق ہے اس میں عضو سے کام لینا افضل ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یعنی زیادتی نہیں کرتے اور یہ مطلب نہیں کہ معاف نہیں کرتے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل ایمان کی نویں صفت۔ اہل ایمان کی یہ بھی صفت ہے کہ ان پر کوئی جارحیّت کرئے تو وہ پوری غیرت کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہیں۔ اس سے پہلے اہل ایمان کی چوتھی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے کو معاف کرنا بہت بڑا کام ہے۔ لیکن جو لوگ اہل ایمان کو کمزور سمجھ کر دبانے اور جھکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت اہل ایمان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ جارحیّت کرنے والوں کا پوری جرأت کے ساتھ جواب دیں۔ جارحیّت کرنے والوں سے مراد کافر بھی ہیں اور وہ مسلمان بھی جو کمزوروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ان کا ہاتھ روکنا لازم ہے۔ اگر ایسے لوگوں کے ہاتھ نہ روکے جائیں تو قوم اور معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اگر جارح غیر مسلم ہو تو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ جارحیّت کرنے والا مسلم ہو یا غیر مسلم اس کا بدلہ اتنا ہی لینا ہوگا جتنی وہ زیادتی کرے گا۔ اگر زیادتی کرنے والا مسلمان ہو اور وہ اپنی اصلاح کرنے پر آمادہ ہوجائے تو اسے معاف کردینا چاہیے۔ معاف کرنے والے کا اجر اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ بدلہ لینے والے کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ہاں جو لوگ زیادتی کا بدلہ لینا چاہیں ان پر کوئی گناہ نہیں۔ البتہ وہ لوگ ضرور گناہ گا رہوں گے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق فساد کرتے ہیں۔ انہیں اذیّت ناک عذاب ہوگا۔ جو صبر کرے اور اپنے مسلمان بھائی کو معاف کردے۔ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے کاموں میں شمار ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ معافی فوج داری، مقدمات اور لین دین کے معاملے میں ہوگی۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّھَا قَالَتْ مَاخُیِّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بَیْنَ أَمْرَیْنِ إِلَّآأَخَذَ أَیْسَرَھُمَا مَالَمْ یَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِنَفْسِہٖٓ إِلَّا أَنْ تُنْتَھَکَ حُرْمَۃُ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ بِھَا) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب صفۃ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ دونوں میں سے آسان کام کو اختیار کرتے بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا۔ اگر کام گناہ کا ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔ آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیا البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لیے انتقام لیتے۔ “ مسائل ١۔ اللہ کے بندوں پر جارحیّت کی جائے تو وہ اس کا بدلہ لیتے ہیں۔ ٢۔ بدلہ لیتے ہوئے زیادتی کرنا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ ٣۔ جس نے مسلمان بھائی کو معاف کردیا اس کا اجر اللہ کے ہاں ثابت ہوگیا۔ ٤۔ جو معاف کرنے کی بجائے بدلہ لینا چاہے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ٥۔ جو لوگوں پر ظلم اور زمین میں ناحق فساد کرتے ہیں انہیں اذیّت ناک عذاب ہوگا۔ ٦۔ صبر کرنا اور دوسرے کو معاف کردینا عظیم کاموں میں سے ایک بڑا کام ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا ﴿وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ ٠٠٣٩﴾ (جب ان کو ظلم پہنچتا ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں) اس میں مظلوم کو ظالم سے بدلہ لینے کی اجازت دی ہے سیاق کلام سے یہ مفہوم ہو رہا ہے کہ جتنا ظلم ہوا ہے اسی قدر بدلہ لیا جاسکتا ہے مزید تفصیل آئندہ آیات کی تفسیر کے ذیل میں پڑھئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(39) اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم ہوتا ہے اور ان پر چڑھائی ہوتی ہے تو ہے تو وہ مناسب بدلا لیتے ہیں۔ یعنی دین کے بارے میں اگر کوئی زیادتی کرتا ہے تو مناسب یعنی برابر کا بدلا لیتے ہیں اوپر کی آیت میں درگزر کرنے پر تعریف تھی یہاں انتقام پر ان کی مدح فرمائی یعنی اپنے حق میں درگزر اور عفوکا شیوہ رکھتے ہیں لیکن دین کے بارے میں سخت گیر اور منتقم ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کافروں سے جہاد کرتے ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا مراد یہ ہے کہ اگر کسی کمزور پر کوئی ظلم کرتے تو قبیلے کے بزرگ جمع ہوکر ظالم سے بدلا لیں۔