Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 47

سورة الشورى

اِسۡتَجِیۡبُوۡا لِرَبِّکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ ؕ مَا لَکُمۡ مِّنۡ مَّلۡجَاٍ یَّوۡمَئِذٍ وَّ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نَّکِیۡرٍ ﴿۴۷﴾

Respond to your Lord before a Day comes from Allah of which there is no repelling. No refuge will you have that day, nor for you will there be any denial.

اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وہ دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناہ کی جگہ ملے گی نہ چھپ کر انجان بن جانے کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Encouragement to obey Allah before the Day of Resurrection When Allah tells us about the horrors and terrifying events of the Day of Resurrection, He warns us about it and commands us to prepare for it: اسْتَجِيبُوا لِرَبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لاَّ مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ... Answer the Call of your Lord before there comes from Allah a Day which cannot be averted. means, once He issues the command, it will come to pass within the blinking of an eye, and no one will be able to avert it or prevent it. ... مَا لَكُم مِّن مَّلْجَأٍ يَوْمَيِذٍ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٍ You will have no refuge on that Day nor there will be for you any denying. means, you will have no stronghold in which to take refuge, no place in which to hide from Allah, for He will encompass you with His knowledge and power, and you will have no refuge from Him except with Him. يَقُولُ الاِنسَـنُ يَوْمَيِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّ لاَ وَزَرَ إِلَى رَبِّكَ يَوْمَيِذٍ الْمُسْتَقَرُّ On that Day man will say: "Where (is the refuge) to flee'?' No! There is no refuge! Unto your Lord will be the place of rest that Day. (75:10-12)

آسانی میں شکر تنگی میں صبر مومنوں کی صفت ہے چونکہ اوپر یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہو گا تو اب یہاں اس سے ڈرا رہا ہے اور اس دن کے لئے تیار رہنے کو فرماتا ہے کہ اس اچانک آجانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کر لو جب وہ دن آجائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کر دینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے ۔ آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے انسان کی حالت یہ ہے کہ راحت میں بدمست بن جاتا ہے اور تکلیف میں ناشکرا پن کرتا ہے اس وقت اگلی نعمتوں کا بھی منکر بن جاتا ہے حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا صدقہ کرو میں نے تمہیں زیادہ تعداد میں جہنم میں دیکھا ہے کسی عورت نے پوچھا یہ کس وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا تمہاری شکایت کی زیادتی اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کی وجہ سے اگر تو ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ایک زمانے تک احسان کرتا رہے پھر ایک دن چھوڑ دے تو تم کہہ دو گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی راحت پائی ہی نہیں ۔ فی الواقع اکثر عورتوں کا یہی حال ہے لیکن جس پر اللہ رحم کرے اور نیکی کی توفیق دے دے ۔ اور حقیقی ایمان نصیب فرمائے پھر تو اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر راحت پہ شکر ہر رنج پر صبر پس ہر حال میں نیکی حاصل ہوتی ہے اور یہ وصف بجز مومن کے کسی اور میں نہیں ہوتا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

47۔ 1 یعنی جس کو روکنے اور ٹالنے کی کوئی طاقت نہیں رکھے گا۔ 47۔ 2 یعنی تمہارے لئے کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی، کہ جس میں تم چھپ کر انجان بن جاؤ اور پہنچانے نہ جاسکو یا نظر میں نہ آسکو جیسے فرمایا ' اس دن انسان کہے گا، کہیں بھاگنے کی جگہ ہے، ہرگز نہیں، کوئی راہ فرار نہیں ہوگی، اس دن تیرے رب کے پاس ہی ٹھکانا ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٦] یعنی دنیا میں ان سے عذاب ٹلتا رہا اور انہیں مہلت دی جاتی رہی۔ مگر اس دن ایسی کوئی صورت نہ ہوگی اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو عذاب اللہ نے ان کے لیے مقرر کردیا ہے کسی میں ہمت نہ ہوگی کہ وہ اسے ان سے ٹال سکے۔ [٦٧] نکیر کے مختلف مفہوم :۔ نکیر کا مادہ نکر ہے اور اس میں بنیادی طور پر دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ (١) اجنبیت، (٢) ناگواری (نکرہ کی ضد معرفہ ہے) نکر بمعنی ناگوار۔ نازیبا اور نامعقول چیز اور نکیر کے معنی ناگوار، نازیبا، نامعقول چیز بھی اور ایسی چیز کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھانا یا ناراضگی کا اظہار کرنا بھی اور نکر کے معنی کسی چیز کو بگاڑ دینا اور اس کی شکل بدل دینا بھی ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کے کئی معنی بن سکتے ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ تم اجنبی نہیں ہوگے سب تمہیں جانتے پہچانتے ہوں گے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ بھیس بدل کر چھپ نہ سکو گے۔ چوتھا مطلب یہ ہے کہ اس دن تم جیسی بھی حالت میں ہوگے اس میں کوئی تبدیلی نہ لاسکو گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) استجیبوا لربکم من قبل …:” مرد “” رد یردر داً “ (ن) سے مصدر میمی بھی ہوسکتا ہے۔ ظرف زمان بھی اور ظرف مجکان بھی، ہاٹنے یا ٹالنے کی کوئی صورت یا کوئی وقت یا کوئی جگہ۔ اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کو جلد از جلد قبول کرنے کی تاکید کئی طرح سے فرمائی ہے۔ سب سے پہلے ” اجیبوا “ کے بجائے ” استجیبوا “ کے لفظ کے ساتھ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے اسی سورت کی آیت (٣٨) کی تفسیر۔ پھر اپنی ربوبیت کے احسان کی یاد دہانی کے ساتھ اور آخر میں اس دن سے ڈرانے کے ساتھ جس کے آنے کے بعد نہ اس کے ٹالے جانے کی کوئی صورت ہے، نہ وہ کسی وقت ٹالا جاسکے گا اور نہ کسی مقام پر ٹلے گا۔ (٢) لا مرد لہ من اللہ : اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ اس کے آنے کے بعد اللہ کی طرف سے اسے ہٹانے کی کوئی صورت نہیں، یعنی اللہ تعالیٰ اسے کسی صورت نہیں ہٹائے گا۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے آنے کے بعد کوئی ایسی ہستی نہیں جو اسے ہٹا سکے۔ (٣) ومالکم من نکیر : ” نکیر “ مصدر ہو تو اس کا معنی انکار بھی ہے اور نکرہ (اجنبی اور بےپہچان) ہونا بھی اور اگر ” قعیل “ بمعنی اسم فاعل ہو یعنی ” منکر “ تو معنی ” بدلنے والا “ ہوگا ۔ یعنی قیامت کے دن تم اپنے جرائم کا کسی طرح انکار نہیں کرسکو گے، بلکہ نامہ اعمال اور فرشتوں کی شہادتوں حتیٰ کہ اپنے اعضا کی گواہی کی وجہ سے تمہارے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔” مالکم من نکیر “ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ تمہیں جو سزا دی جائے گی تم اس پر کوئی احتجاج نہیں کرسکو گے، نہ کوئی انکار کہ ہم یہ سزا قبول نہیں کرتے، نہ ہی تم یا کوئی اور اس حالت کو بدلنے والا ہوگا جس میں تم مبتلا ہوگے اور یہ بھی نہیں ہوگا کہ تمہاری پہچان نہ ہو سکے اور تم اجنبی اور غیر معروف بن کر چھوٹ جاؤ یا بھیس بدل کر چھپ جاؤ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللہِ۝ ٠ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ۝ ٤٧ استجاب والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] ، وقال : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] ، فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] ، فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] ، وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ الشوری/ 26] وَالَّذِينَ اسْتَجابُوا لِرَبِّهِمْ [ الشوری/ 38] ، وقال تعالی: وَإِذا سَأَلَكَ عِبادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي[ البقرة/ 186] ، الَّذِينَ اسْتَجابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ ما أَصابَهُمُ الْقَرْحُ [ آل عمران/ 172] . ( ج و ب ) الجوب الاستحابتہ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی اجابتہ ( افعال ) کے ہے اصل میں اس کے معنی جواب کے لئے تحری کرنے اور اس کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن اسے اجابتہ سے تعبیر کرلیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے ۔ قرآن میں ہے : اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو ۔ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری ( دعا ) قبول کرونگا ۔ فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] تو ان کے پرور گار نے ان کی دعا قبول کرلی ۔ وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ الشوری/ 26] اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کی ( دعا) قبول فرماتا وَالَّذِينَ اسْتَجابُوا لِرَبِّهِمْ [ الشوری/ 38] اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں وَإِذا سَأَلَكَ عِبادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] اور اے پیغمبر جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو ( کہہ دو کہ ) میں تو ( تمہارے پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں ۔ الَّذِينَ اسْتَجابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ ما أَصابَهُمُ الْقَرْحُ [ آل عمران/ 172] جنهوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول کے حکم کو قبول کیا ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7» فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) «1» فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ لسان العرب سے هے والمَلْجَأُ واللَّجَأُ : المَعْقِلُ ، وَالْجَمْعُ أَلْجاءٌ. ويقالُ : أَلْجَأْتُ فُلَانًا إِلَى الشیءِ إِذَا حَصَّنْته فِي مَلْجإٍ ، ولَجَإٍ ، والْتَجَأْتُ إِلَيْهِ الْتِجاءً. ابْنُ شُمَيْلٍ : التَّلْجِئةُ أَن يَجْعَلَ مالَه لبَعض ورَثته دُونَ بَعْضٍ ، كأَنه يتصدَّق بِهِ عَلَيْهِ ، وَهُوَ وَارِثُهُ. يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔ نكر الإِنْكَارُ : ضِدُّ العِرْفَانِ. يقال : أَنْكَرْتُ كذا، ونَكَرْتُ ، وأصلُه أن يَرِدَ علی القَلْبِ ما لا يتصوَّره، وذلک ضَرْبٌ من الجَهْلِ. قال تعالی: فَلَمَّا رَأى أَيْدِيَهُمْ لا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ [هود/ 70] ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] وقد يُستعمَلُ ذلک فيما يُنْكَرُ باللّسانِ ، وسَبَبُ الإِنْكَارِ باللّسانِ هو الإِنْكَارُ بالقلبِ لکن ربّما يُنْكِرُ اللّسانُ الشیءَ وصورتُه في القلب حاصلةٌ ، ويكون في ذلک کاذباً. وعلی ذلک قوله تعالی: يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَها[ النحل/ 83] ، فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ ( ن ک ر ) الانکار ضد عرفان اور انکرت کذا کے معنی کسی چیز کی عدم معرفت کے ہیں اس کے اصل معنی انسان کے دل پر کسی ایسی چیز کے وارد ہونے کے ہیں جسے وہ تصور میں نہ لاسکتا ہو لہذا یہ ایک درجہ جہالت ہی ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَمَّا رَأى أَيْدِيَهُمْ لا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ [هود/ 70] جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہین جاتے ( یعنی وہ کھانا نہین کھاتے ۔ تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا ۔ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] تو یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ اس کو نہ پہچان سکے ۔ اور کبھی یہ دل سے انکار کرنے پر بولا جاتا ہے اور انکار لسانی کا اصل سبب گو انکار قلب ہی ہوتا ہے ۔ لیکن بعض اوقات انسان ایسی چیز کا بھی انکار کردیتا ہے جسے دل میں ٹھیک سمجھتا ہے ۔ ایسے انکار کو کذب کہتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ۔ يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَها[ النحل/ 83] یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر واقف ہوکر ان سے انکار کرتے ہیں ۔ فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [ المؤمنون/ 69] اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

قیامت کا دن آنے سے پہلے جس میں عذاب الہی ہٹایا نہیں جائے گا تم اپنے پروردگار کا توحید کے بارے میں حکم مانور اور اس روز تمہیں عذاب خداوندی سے کوئی پناہ کی جگہ نہیں ملے گی اور نہ تمہارا کوئی مددگار ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٧ { اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ } ” (اے اہل ِایمان ! ) اپنے رب کی پکار پر لبیک کہو ‘ اس سے پہلے کہ اللہ کے حکم سے وہ دن آجائے جسے لوٹایا نہ جاسکے گا۔ “ یہ اسی ” استجابت “ کا ذکر ہے جس کے بارے میں قبل ازیں ہم آیت ٣٨ میں پڑھ چکے ہیں۔ وہاں یہ ذکر اصحابِ عزیمت کی مدح کے طور پر آیا تھا ‘ لیکن یہاں اب اس کے لیے ترغیب و تشویق کا انداز ہے کہ اے لوگو ! اب جبکہ تم نے یہ تمام احکام پڑھ لیے ہیں ‘ غلبہ دین کے حوالے سے تم نے اپنے فرائض کو سمجھ لیا ہے ‘ اس ضمن میں اپنے رب کی مرضی و منشا بھی تمہیں معلوم ہوچکی ہے ‘ تو اب آئو ! آگے بڑھو ! اور اپنے رب کی پکار پر فوراً لبیک کہو ! دراصل تم میں سے ہر کسی نے اپنی اپنی زندگی کے لیے بڑے بڑے منصوبے بنا رکھے ہیں۔ چناچہ اگر کسی کو اپنے اس ” فرض “ کی ادائیگی کا احساس ہو بھی جاتا ہے تو بھی اس کا دل انہی منصوبوں میں اٹکا رہتا ہے کہ بس میں یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچا لوں ‘ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو لوں وہ فرض نبھا لوں ‘ تو خو دکودین کے لیے وقف کر دوں گا۔ مگر تم خوب جانتے ہو کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ‘ یہ کسی وقت بھی آسکتی ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ موت تمہارے سامنے آن کھڑی ہو ‘ تم { اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِط } کے حکم پر کان دھرو ! اور اپنے رب کی اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے دوسروں کے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھو ! اور اپنی مدت مہلت ختم ہونے سے پہلے پہلے کرنے کا یہ اصل کام کرلو ! { مَالَـکُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّمَا لَـکُمْ مِّنْ نَّکِیْرٍ } ” نہیں ہوگی تمہارے لیے اس دن کوئی جائے پناہ اور نہیں ہوگا تمہارے لیے کوئی موقع انکار۔ “ یعنی تم اپنے کرتوتوں میں سے کسی کا انکار نہیں کرسکو گے۔ ان الفاظ کا یہ مفہوم بھی ہے کہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ کیا جائے گا تم اس پر نہ تو کوئی احتجاج کرسکو گے اور نہ ہی اپنی حالت کو تبدیل کرنا تمہارے بس میں ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

72. That is, neither will Allah Himself avert it, nor has anyone else the power to avert it. 73. This sentence has several other meanings also: (1) You will not be able to deny any of your misdeeds. (2) You will not be able to hide yourself even in disguise. (3) You will not be able to protest or show any displeasure against any treatment that is meted out to you. (4) It will not be in your power to change the condition in which you are placed.

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :72 یعنی نہ اللہ خود اسے ٹالے گا اور نہ کسی دوسرے میں یہ طاقت ہے کہ ٹال سکے ۔ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :73 اصل الفاظ ہیں : مَا لَکُمْ مِنْ نَّکِیْرٍ ۔ اس فقرے کے کئی مفہوم اور بھی ہیں ۔ ایک یہ کہ تم اپنے کرتوتوں میں سے کسی کا انکار نہ کر سکو گے ۔ دوسرے یہ کہ تم بھیس بدل کر کہیں چھپ نہ سکو گے ۔ تیسرے یہ کہ تمہارے ساتھ جو کچھ بھی کیا جائے گا اس کا تم کوئی احتجاج اور اظہار ناراضی نہ کر سکو گے ۔ چوتھے یہ کہ تمہارے بس میں نہ ہو گا کہ جس حالت میں تم مبتلا کیے گئے ہو اسے بدل سکو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: یعنی کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ سے یہ پوچھ سکے کہ اس شخص کو یہ سزا کیوں دی گئی ہے، کیونکہ تمام انسانوں پر حجت پہلے ہی تمام ہوچکی ہوگی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:47) استجیبوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر غائب استجابۃ (استفعال) مصدر۔ تم حکم مانو۔ بعض نے کہا ہے استجیبوا لربکم : ای اجیبوا داعی اللّٰہ یعنی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ من قبل ان : ان مصدریہ ہے۔ یاتی یوم لا مردلہ من اللّٰہ۔ ای یاتی یوم من دون اللّٰہ لامردلہ (پیشتر اس کے کہ) آجائے اللہ کی طرف سے وہ دن جو ٹلنے والا نہیں ہے۔ یوم سے مراد۔ یوم الموت یا یوم القیامۃ ہے۔ لا مردلہ۔ مرد۔ رد۔ مصدر میمی ہے پھیرنا۔ لوٹنا۔ کہ اس کے لئے بٹ جانا ۔ ٹل جانا۔ یا لوٹ جانا ممکن نہیں ہے۔ اگر من اللّٰہ کا تعلق لامرد سے ہے تو مطلب ہوگا۔ کہ اللہ جب اس روز کے آنے کا حکم دے چکے گا۔ تو پھر اس حکم کو واپس نہیں لے گا۔ ملجا۔ اسم ظرف مکان ۔ پناہ کی جگہ۔ لجا (باب فتح، سمع) سے مصدر۔ پناہ پکڑنا ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وظنوا ان لا ملجا من اللّٰہ الا الیہ (9:118) اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اسی کے ہاں سے۔ یؤمئذ۔ اس روز ۔ ومالکم من نکیر : نکیر مصدر ہے بمعنی انکار (افعال) باب افعال سے نکیر (بروزن فعیل) مصدر غیر قیاسی ہے۔ اس جگہ نفی انکار سے مراد ہے ایسے انکار کی نفی جو نجات دے سکے۔ (کرخی) یا نکیر سے مراد ہے مددگار (مجاہد) یا نکیر بمنعی منکر ہے ۔ یعنی قیامت کے دن عذاب کا انکار کرنے والا کوئی نہ ہوگا (کلبی) تم نے جو کچھ کیا ہے تم اس کا انکار نہ کرسکو گے کیونکہ اعمال ناموں میں اس کا اندراج ہوگا اور تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ پاؤں وغیرہ بھی تمہارے اعمال کی شہادت دیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

۔5 یعنی جسے نہ اللہ تعالیٰ خود ٹالے گا اور نہ کسی دوسرے میں طاقت ہے کہ اسے ٹالنے پر مجبور کرسکے۔ 6” بلکہ تمہیں چار و ناچاران کا اقرار کرنے پڑے گا، کیونکہ تمہارے ہاتھ پائوں تک تمہارے خلاف گواہ بن کر کھڑے ہوجائیں گے “۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” نکیر “ کے معنی ” انکار “ کئے جائیں اور اگر اس کے معنی ” منکر “ ( بدلنے والا) کئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے والا ہوگا “۔ حافظ ابن کثیر (رح) اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ ” تمہارے لئے بھیس بدل کر بچ نکلنے کا کوئی بھی موقع نہ ہوگا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 50 : ملجائ ( ٹھکانہ ، پناہ کی جگہ) نکیر ( مکر جانا) اذقنا ( ہم نے چکھایا) فرح (خوش ہوگیا) کفور ( بہت زیادہ نا شکرا) یھب ( وہ دیتا ہے) اناث ( بیٹیاں ، لڑکیاں) الذکور (بیٹے ، لڑکے) یزوج ( وہ جوڑے بنا دیتا ہے) عقیما (بانجھ ، اولاد سے مایوس) تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 : دین اسلام نے توحید کا یہ بنیادی تصور پش کیا ہے کہ اس کائنات کے ذرے ذرے میں اور آخرت کے ہر فیصلے میں صرف ایک اللہ کو مکمل اختیار حاصل ہے اس کے سوا کوئی اس کے اس اختیار میں شریک نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز کے بنانے بگاڑنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے نظام کائنات کو چلا رہا ہے۔ وہ اپنی رحمت اور فضل و کرم ہے جس کو جتنادینا چاہتا ہے عطاء فرماتا ہے ۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ۔ کسی کو اولاد نرینہ دیتا ہے اور کسی کو لڑکیاں ہی لڑکیاں دیتا ہے ، کسی کو لڑکا اور لڑکی دونوں عطاء کرتا ہے اور کسی کو اس طرح بانجھ بنا دیتا ہے کہ میڈیکل کی ہزاروں ترقیات کے باوجود اولاد سے محروم ہوتا ہے۔ فرمایا کہ جس طرح اس دنیا کے تمام معاملات اسی کے اختیار میں ہیں اسی طرح آخرت کے ہر فیصلے کا اختیار بھی ایک اللہ کو حاصل ہے۔ انسان کی سعادت یہ ہے کہ وہ قیامت کے آنے سے پہلے پہلے سچے دل سے توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح کے تمام تقاضوں کو پورا کرتا چلا جائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق چل کر اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لے۔ اللہ نے اس زندگی کے میدان کو اسی لئے عطاء فرمایا ہے کہ وہ اس میں نیک اور بھلی زندگی کو اختیار کرکے نجات کا سامان کرلے کیونکہ آخرت میں نہ تو عمل کا وقت ہوگا اور نہ وہاں سے دوبارہ دنیا میں آ کر اپنی غلطیوں کی اصلاح کا موقع ملے گا ۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لوگو ! قیامت کے اس دن کے آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مان لو جو ایسا دن ہوگا جو کسی کے ٹالنے سے ٹل نہ سکے گا ۔ نہ اس دن اللہ کی پناہ کے سوا پناہ کی جگہ مل سکے گی اور نہ اس دن تمہارے واسطے اللہ سے کوئی روک ٹوک کرنے والا ہوگا ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آپ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیجئے ۔ ماننانہ ماننا یہ ہر انسان کا اپنا فعل ہے ۔ نہ ان کو سیدھے راستے پر چلانے کی آپ کی ذمہ داری ہے نہ آپ کو ان کا نگراں بنا کر بھیجا گیا ہے نہ آپ سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا کہ کس نے ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کیا اور کس نے کفر و شرک کا کیونکہ ہدایت دینا تو اللہ کا کام ہے آپ کا کام دین کی سچائیوں کو ہر شخص تک پہنچانا ہے اور بس۔ فرمایا کہ اب یہ تو انسان کا اپنا مزاج ہے کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں سے نواز دیتا ہے تو وہ شکر ادا کرنے کی بجائے نا شکری کرنے لگتا ہے اور اپنے مال و دولت پر اترانے لگتا ہے اور اگر اپنے ہاتھوں سے کئے گئے اعمال کی وجہ سے اس پر کوئی مصیبت یا تنگی آجاتی ہے تو بےصبرے پن پر اتر آتا ہے۔ لیکن لوگوں کو یہ بات ذہن میں رکھ لینی چاہیے کہ وہ اللہ اگر کسی کو بہت کچھ عطاء فرماتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے اس کو چھین بھی سکتا ہے اور اس کو ہر طرح کی نعمتوں سے محروم بھی کرسکتا ہے ۔ جس طرح وہ کسی کو بیٹیاں دے دیتا ہے تو وہ بیٹوں کے لئے ترستا ہے اور بیٹے ہی بیٹے دے دیئے جائیں تو وہ بیٹی کی تمنا کرنے لگتا ہے کسی کو وہ بیٹا اور بیٹی دونوں نعمتوں سے نواز دیتا ہے اور کوئی اولاد کی نعمت ہی سے محروم رہتا ہے اور دونوں میں سے کسی کو یا دونوں کو بانجھ بنا دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہی ہر بات کی مصلحت کو سمجھتا ہے اور اسی کو سارا اختیار حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حسن عمل کی اور ہر نعمت پر شکر کی توفیق عطاء فرما دے اور ہماری دنیا اور آخرت کو بہتر بنا کر عذاب جہنم سے محفوظ فرما دے۔ آمین یا رب العالمین۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی دنیا میں جس طرح عذاب ہٹتا جاتا ہے وہاں توقف و امہال نہ ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : صراط مستقیم پانے اور جہنم سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ لوگوں کو اپنے رب کی بات مان کر اس کا تابع فرمان ہوجانا چاہیے۔ جب اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا اور آخرت میں کوئی مدد کرنے والا نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا جہنّم سے بچا سکتا ہے تو پھر لوگوں کو اپنے رب کے حکم کے مطابق ہی زندگی بسر کرنی چاہیے۔ جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی میں زندگی گزارتے ہیں انہیں ایک مرتبہ پھر سمجھایا گیا ہے کہ اس دن کے عذاب سے پہلے اپنے آپ کو سدھار لو جس دن کا عذاب کسی کے ٹالنے سے ٹل نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ ہی کوئی نکیر کرسکے گا۔ نکیر کا لفظ نکر سے نکلا ہے۔ جس کے اہل علم نے چار مفہوم ذکر کیے ہیں۔ 1” مَالَکُمْ مِّنْ نَّکِیْرٍ “ تم اپنے کیے کا انکار نہیں کرسکو گے۔ 2 تم اپنی حالت بدل نہیں سکو گے۔ 3 تمہارے لیے جائے پناہ نہیں ہوگی۔ 4 تم کسی قسم کا احتجاج نہیں کرسکو گے۔ مسائل ١۔ لوگوں کو اپنے رب کا حکم مان کر اپنے آپ کو بدل لینا چاہیے۔ ٢۔ قیامت کا دن اور اس کا عذاب کسی کے ٹالنے سے ٹل نہیں سکتا۔ ٣۔ قیامت کے دن کوئی جائے پناہ اور گناہوں سے انکار کی کوئی صورت نہ ہوگی۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٤٧ اس کے بعد انسان کے عمومی مزاج کو ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ انسان جو دعوت اسلامی اور سچائی کا مقابلہ کرتا ہے اور رسول برحق سے عناد رکھتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو اذیت و عذاب کا مستحق گردانتا ہے تو اس کی حالت یہ ہے کہ جب کسی اذیت میں یہ مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کی قوت برداشت جواب دے دیتی ہے۔ جزع فزع اور آہ و فغاں شروع کردیتا ہے اور اگر اللہ کی کوئی نعمت مل جائے تو ہواؤں پر اڑنے لگتا ہے۔ اور حدود پار کرلیتا ہے جبکہ سختی میں مایوس اور کافر ہوجاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مانو ان آیات میں اولاً یہ ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو واپس نہیں کیا جائے گا وہ واقع ہوگیا سو ہوگیا اس دن کے آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بات مان لو، ایمان بھی قبول کرو اور عمل صالحہ بھی اختیار کرو جب قیامت کا دن ہوگا تو کسی کے لیے کوئی پناہ نہ ہوگی اللہ جس کو پناہ دے اسی کو پناہ مل سکے گی اور کافروں کے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہیں، اس دن جس شخص کے ساتھ جو بھی معاملہ ہوگا اس میں کسی کو بھی کسی کے بارے میں یہ کہنے کا اختیار نہ ہوگا کہ یہ کیوں ہوا اور کیوں ہو رہا ہے۔ قولہ تعالیٰ : وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ قال القرطبی (رض) ای لا یجدون منکرا یومئذٍ بما ینزل بکم من العذاب اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی دعوت اور تبلیغ کے بعد مخاطب لوگ اگر اعراض کریں تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ فکر نہ کریں اور غم میں نہ پڑیں آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا اگر ایمان نہ لائیں تو آپ سے اس کی کوئی باز پرس نہیں ہے آپ نے پہنچا دیا آپ کا کام ختم ہوا آپ کی ذمہ داری اتنی سی ہے کہ آپ پہنچا دیں اور بس۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

37:۔ ” استجیبوا لربکم “ یہ دوسرے دعوے سے متعلق ہے اور ثمرہ ہے اور تخویف اخروی بھی ہے یعنی جب باغیوں کی تحریریں حجت نہیں تو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کو قبول کرو اور صرف اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو اور گمراہوں کی تحریفات کے پیچھے نہ جاؤ۔ اجیبوہ بالتوحید والعبادۃ (جلالین) ۔ قبل اس کے کہ وہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے جس کی آمد کوئی روک نہیں سکتا۔ اور وہ لامحالہ آ کر رہے گا۔ مراد قیامت کا دن ہے یا موت کا دن۔ ای لایقدر احد علی دفعہ وھو یوم القیامۃ و قیل ھو یوم الموت (خازن ج 6 ص 128) ۔ من اللہ، یاتی کے متعلق ہے یا یوم کی صفت ہے۔ (روح) وہ دن نہایت ہولناک ہوگا اس دن نہ تو تم کہیں بھاگ کر جان بچا سکو گے اور نہ اپنے گناہوں کا انکار ہی کرسکوگے کیونکہ وہ تو تمہارے اعمالناموں میں محفوظ ہوں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(47) تم لوگ اپنے پروردگار کا حکم مان لو اور اس کا حکم قبول کرلو اس دن کے آنے سے پہلے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے واپس ہونا اور پھرنا نہیں اس دن تمہارے لئے نہ کوئی پناہ گاہ اور بچائو کی جگہ ہوگی اور نہ تمہارے لئے انکار کی کوئی گنجائش ہوگی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کو مان لو اور قبول کرلو اس دن کے آنے سے پہلے یعنی قیامت کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے آئے پیچھے واپسی نہیں وہ دن ایسا ہے کہ جس دن نہ کہیں بھاگ کر پناہ لے سکو گے نہ اپنے برے اعمال سے انکار ہی کرسکو گے یا نکیر کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر کوئی انکار کرنے والا بھی نہ ہوگا جو یہ پوچھ سکے کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ من اللہ کو بعض لوگوں نے یاتی کے ساتھ اور بعض نے لامردلہ کے ساتھ متعلق کیا ہے ہم نے ایک قول تیسیر میں اور دوسرا قول ترجمے میں اختیار کرلیا ہے آگے اپنے پیغمبر کو تسلی دیتے ہیں۔