Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 48

سورة الشورى

فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ؕ اِنۡ عَلَیۡکَ اِلَّا الۡبَلٰغُ ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَۃً فَرِحَ بِہَا ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ فَاِنَّ الۡاِنۡسَانَ کَفُوۡرٌ ﴿۴۸﴾

But if they turn away - then We have not sent you, [O Muhammad], over them as a guardian; upon you is only [the duty of] notification. And indeed, when We let man taste mercy from us, he rejoices in it; but if evil afflicts him for what his hands have put forth, then indeed, man is ungrateful.

اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ، آپ کے ذمہ تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے ہم جب کبھی انسان کو اپنی مہربانی کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتا ہے اور اگر انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو بیشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَإِنْ أَعْرَضُوا ... But if they turn away, (refers to the idolators), ... فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ... We have not sent you as a Hafiz over them. means, `you have no power over them.' And Allah says elsewhere: لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَأءُ Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills. (2:272) فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ your duty is only to convey (the Message) and on Us is the reckoning. (13:40) And Allah says here: ... إِنْ عَلَيْكَ إِلاَّ الْبَلَغُ ... Your duty is to convey. meaning, `all that We require you to do is to convey the Message of Allah to them.' ... وَإِنَّا إِذَا أَذَقْنَا الاْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا ... And verily, when We cause man to taste of mercy from Us, he rejoices there at; means, when a time of ease and comfort comes to him, he is happy about it. ... وَإِن تُصِبْهُمْ ... but when befalls them, (means mankind). ... سَيِّيَةٌ ... some evil, means, drought, punishment, tribulation or difficulty, ... بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ... because of the deeds which their hands have sent forth, ... فَإِنَّ الاْإِنسَانَ كَفُورٌ then verily, man (becomes) ingrate! means, he forgets the previous times of ease and blessings and acknowledges nothing but the present moment. If times of ease come to him, he becomes arrogant and transgresses, but if any difficulty befalls him, he loses hope and is filled with despair. This is like what the Messenger of Allah said to the women: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّار O women, give in charity, for I have seen that you form the majority of the people of Hell. A woman asked, "Why is that, O Messenger of Allah" He said: لاِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشِّكَايَةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ تَرَكْتَ يَوْمًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَط Because you complain too much, and you are ungrateful to (your) husbands. If one of you were to be treated kindly for an entire lifetime, then that kindness was lacking for one day, she would say, `I have never seen anything good from you!' This is the case with most women, except for those whom Allah guides and who are among the people who believe and do righteous deeds. As the Prophet said, the believer is the one who: إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَلَيْسَ ذَلِكَ لاَِحَدٍ إِلاَّ لِلْمُوْمِن ... if something good happens to him, he is thankful, and that is good for him. If something bad happens to him, he bears it with patience, and that is good for him. This does not happen to anyone except the believer.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

48۔ 1 یعنی وسائل رزق کی فروانی، صحت و عافیت، اولاد کی کثرت، جاہ و منصب وغیرہ۔ 48۔ 2 یعنی تکبر اور غرور کا اظہار کرتا ہے، ورنہ اللہ کی نعمتوں پر خوش ہونا یا اس کا اظہار ہونا، ناپسندیدہ امر نہیں، لیکن وہ تحدیث نعمت اور شکر کے طور پر نہ کہ فخر و ریا اور تکبر کے طور پر۔ 48۔ 3 مال کی کمی، بیماری، اولاد سے محرومی وغیرہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٨] ] یعنی ہم نے آپ پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ انہیں راہ راست پر لاکے چھوڑو۔ نہ ہی آپ سے ایسی باز پرس ہوگی۔ [٦٩] ایک دنیا دار انسان کسی حال میں بھی اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتا :۔ دراصل ایسی آیات کے مخاطب قریش مکہ ہی تھے۔ لیکن قرآن کا انداز بیان یہ ہے کہ وہ مخاطب کی کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے براہ راست انہیں مخاطب نہیں کرتا تاکہ وہ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے اور نہ چڑ جائیں۔ اسی لحاظ سے اس آیت میں ایک عام دنیادار انسان کی فطرت بیان کی گئی ہے کہ جب اس پر بھلے دن آتے ہیں تو اترانے لگتا ہے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اور جب برے دن آتے ہیں اور یہ برے دن بھی ان کی اپنی شامت اعمال سے آتے ہیں تو اس وقت وہ اپنے پروردگار کو کو سنے لگتا ہے اور اللہ کے ان سارے انعامات کو بھول جاتا ہے جو اس نے اسے خوشحالی کے دور میں عطا کئے ہوئے تھے اس طرح نہ خوشحالی اس کی اصلاح میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی بدحالی اسے راہ راست پر لاسکتی ہے کسی حال میں بھی ان کی طبیعت اللہ کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم حفیظاً : پچھلی آیت میں کفار کو مخاطب کر کے فرمایا تھا ہ قیامت کے دن سے پہلے جلد از جلد اپنے رب کی دعوت قبول کرلو، اب ان کے کفر پر اصرار کی صورت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخطاب کر کے فرمایا کہ اگر یہ آپ کی دعوت سے منہ موڑیں تو ہم نے آپ کو ان کا نگران اور ذمہ دار نہیں بنایا کہ ہر حال میں انھیں منوا کر چھوڑیں اور نہ آپ سے اس بات کی باز پرس ہوگی کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لائے۔ (٢) ان علیک الا ابلغ : آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے (جو آپ سر انجام دے چکے ہیں۔ ) ان الفاظ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے سند موجود ہے کہ آپ نے پیغام واقعی پہنچا دیا ہے اور آپ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوچکے ہیں۔ (٣) وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمتہ فرح بھا : اس آیت میں آپ کو تسلی دلائی ہے کہ ان کفار کا صرف آپ کے ساتھ یہ سلوک نہیں بلکہ ان کا ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی تمام نعمتیں خواہ کتنی بڑی ہوں آخرت کے مقابلے میں چکھنے سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔ پھر ” رحمتہ “ پر تنوین بھی تنکیر اور تقلیل کے لئے ہے۔ فرمایا، انسان ایسا کم ظرف ہے کہ جب ہم اسے تھوڑی سی رحمت چکھا بھی دیتے ہیں تو یہ پھول جاتا ہے اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے، ہمیں بھول کر اپنے آپ ہی کو سب کچھ لیتا ہے۔ یہاں نعمت چکھانے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی ہے، کیونکہ نعمت صرف اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، کسی کے استحقاق کی وجہ سے اسے نہیں ملتی اور لفظ ” اذا “ (جب) استعمال فرمایا، کیونکہ دنیا میں رحمت ہر انسان کو ملتی ہے۔ (٤) وان تصبھم سیئۃ بما قدمت ایدیھم/: اور اگر انھیں ان کے اپنے اعمال کے نتیجے میں کوئی برائی یا مصیبت آپہنچے تو یقینا انسان بہت ناشکرا ہے، پھر اسے ہماری کوئی نعمت یاد نہیں رہتی، بلکہ اس ایک مصیبت کی وجہ سے ہماری تمام نعمتوں کا صاف انکار کردیتا ہے۔ جس طرح خاوند ساری عمر بیوی پر احسان کرے، پھر اس سے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہوجائے تو کہتی ہے :(مارایت منک خیرا قط) (بخاری، الایمان، باب کفران العشیر و کفر دون کفر :29) ” میں نے تم سے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔ “ یہاں برائی کی نسبت اللہ کی طرف نہیں فرمائی، حالانکہ سبھی کچھ اللہ کی طرف سے ہے، کیونکہ اس کا باعث ان کے اعمال بد بنتے ہیں اور ” ان “ (اگر) کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس میں مصیبت پہنچنے یا نہ پہنچنے دونوں کا امکان ہے، کیونکہ رحمت کے مقابلے میں انسان پر آنے والی مصیبتیں بہت کم ہیں۔ (٥) اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار کے آپ کی دعوت سے اعراض سے بھی بڑی بات کے ارتکاب کا ذکر کر کے عمل دلائی ہے کہ جن کا مالک کے ساتھ یہ حال ہے وہ آپ سے کیا کچھ نہیں کریں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر یہود کے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ سلوک کا ذکر کر کے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دلائی ہے۔ دیکھیے سورة نسائ (١٥٣) ۔ (٦) یہاں ” الانسان “ سے بعض مفسرین نے کافر انسان مرادلیا ہے، کیونکہ مومن ایسا نہیں ہوتا اور بعض نے فرمایا، مطلب یہ ہے ہ انسان پیدائشی طور پر ایسا ہی ہے، مگر ایمان اور عمل صالح میں یج سے جیسے ترقی ہوتی ہے آدمی اس خصلت سے چھٹکارا حاصل کرتا جاتا ہے، ایمان کے کمال کے ساتھ وہ پوری طرح اس سے پاک ہوجاتا ہے اور مصیبت پر صبر اور نعمت پر شکر اس کی طبیعت بن جاتے ہیں، جو دونوں اس کے حق میں خیر ہی ہوتے ہیں، مگر کافر کا حال وہی رہتا ہے۔ اسی طرح کمزور ایمان کی حالت میں بھی اس بدخصلت کا اثر بای رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(ان الانسان خلق ھلوعا ً اذا منہ الشر جزوعا واذا مسہ الخیر منوعا الا المصلین …اولئک فی جنت مکرمون) (المعارج :19 تا 35) ” بیشک انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے خیر پہنچتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔ سوائے نماز ادا کرنے والوں کے … یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔ “ یہ دوسرا قول بہتر معلوم ہوتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْہِمْ حَفِيْظًا۝ ٠ ۭ اِنْ عَلَيْكَ اِلَّا الْبَلٰــغُ۝ ٠ ۭ وَاِنَّآ اِذَآ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً فَرِحَ بِہَا۝ ٠ ۚ وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَيِّئَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْہِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ۝ ٤٨ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی: ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] ( ر س ل ) الرسل الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔ کبھی ( 1) یہ تسخیر کے طور پر استعمال ہوتا ہے جیسے ہوا بارش وغیرہ کا بھیجنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] اور ( اوپر سے ) ان پر موسلادھار مینہ برسایا ۔ اور کبھی ( 2) کسی بااختیار وار وہ شخص کے بھیجنے پر بولا جاتا ہے جیسے پیغمبر بھیجنا چناچہ قرآن میں ہے : وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] اور تم لوگوں پر نگہبان ( فرشتے ) تعنیات رکھتا ہے ۔ فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] اس پر فرعون نے ( لوگوں کی بھیڑ ) جمع کرنے کے لئے شہروں میں ہر کارے دوڑائے ۔ اور کبھی ( 3) یہ لفظ کسی کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑے دینے اور اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنے پر بولاجاتا ہے ہے جیسے فرمایا : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83]( اے پیغمبر ) کیا تم نے ( اس باٹ پر ) غور نہیں کیا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ انہیں انگینت کر کے اکساتے رہتے ہیں ۔ اور کبھی ( 4) یہ لفظ امساک ( روکنا ) کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] تو اللہ جو اپنی رحمت دے لنگر لوگوں کے لئے ) کھول دے تو کوئی اس کا بند کرنے والا نہیں اور بندے کرے تو اس کے ( بند کئے ) پیچھے کوئی اس کا جاری کرنے والا نہیں ۔ حفظ الحِفْظ يقال تارة لهيئة النفس التي بها يثبت ما يؤدي إليه الفهم، وتارة لضبط الشیء في النفس، ويضادّه النسیان، وتارة لاستعمال تلک القوة، فيقال : حَفِظْتُ كذا حِفْظاً ، ثم يستعمل في كلّ تفقّد وتعهّد ورعاية، قال اللہ تعالی: وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] ( ح ف ظ ) الحفظ کا لفظ کبھی تو نفس کی اس ہیئت ( یعنی قوت حافظہ ) پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ جو چیز سمجھ میں آئے وہ محفوظ رہتی ہے اور کبھی دل میں یاد ررکھنے کو حفظ کہا جاتا ہے ۔ اس کی ضد نسیان ہے ، اور کبھی قوت حافظہ کے استعمال پر یہ لفظ بولا جاتا ہے مثلا کہا جاتا ہے ۔ حفظت کذا حفظا یعنی میں نے فلاں بات یاد کرلی ۔ پھر ہر قسم کی جستجو نگہداشت اور نگرانی پر یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔ بَلَاغ : التبلیغ، نحو قوله عزّ وجلّ : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] ، وقوله عزّ وجلّ : بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35] ، وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] ، فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] . والبَلَاغ : الکفاية، نحو قوله عزّ وجلّ : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] ، وقوله عزّ وجلّ : وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ [ المائدة/ 67] ، أي : إن لم تبلّغ هذا أو شيئا مما حمّلت تکن في حکم من لم يبلّغ شيئا من رسالته، وذلک أنّ حکم الأنبیاء وتکليفاتهم أشدّ ، ولیس حكمهم كحكم سائر الناس الذین يتجافی عنهم إذا خلطوا عملا صالحا وآخر سيئا، وأمّا قوله عزّ وجلّ : فَإِذا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ [ الطلاق/ 2] ، فللمشارفة، فإنها إذا انتهت إلى أقصی الأجل لا يصح للزوج مراجعتها وإمساکها . ويقال : بَلَّغْتُهُ الخبر وأَبْلَغْتُهُ مثله، وبلّغته أكثر، قال تعالی: أُبَلِّغُكُمْ رِسالاتِ رَبِّي [ الأعراف/ 62] ، وقال : يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ [ المائدة/ 67] ، وقال عزّ وجلّ : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ ما أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ [هود/ 57] ، وقال تعالی: بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عاقِرٌ [ آل عمران/ 40] ، وفي موضع : وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا [ مریم/ 8] ، وذلک نحو : أدركني الجهد وأدركت البلاغ ۔ کے معنی تبلیغ یعنی پہنچا دینے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] یہ ( قرآن ) لوگوں کے نام ( خدا ) پیغام ہے ۔ بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35]( یہ قرآن ) پیغام ہے سود اب وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے ۔ وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے ۔ فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] تمہارا کام ہمارے احکام کا ) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے ۔ اور بلاغ کے معنی کافی ہونا بھی آتے ہیں جیسے : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں ( خدا کے حکموں کی ) پوری پوری تبلیغ ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ [ المائدة/ 67] اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ اگر تم نے یہ یا کوئی دوسرا حکم جس کا تمہیں حکم جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے نہ پہنچا یا تو گویا تم نے وحی الٰہی سے ایک حکم کی بھی تبلیغ نہیں کی یہ اس لئے کہ جس طرح انبیاء کرام کے درجے بلند ہوتے ہیں اسی طرح ان پر احکام کی بھی سختیاں ہوتی ہیں اور وہ عام مومنوں کی طرح نہیں ہوتے جو اچھے اور برے ملے جلے عمل کرتے ہیں اور نہیں معاف کردیا جاتا ہے اور آیت کریمہ : فَإِذا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ [ الطلاق/ 2] پھر جب وہ اپنی میعاد ( یعنی انقضائے عدت ) کو پہنچ جائیں تو ان کو ( زوجیت میں ) رہنے دو ۔ میں بلوغ اجل سے عدت طلاق کا ختم ہونے کے قریب پہنچ جا نامراد ہے ۔ کیونکہ عدت ختم ہونے کے بعد تو خاوند کے لئے مراجعت اور روکنا جائز ہی نہیں ہے ۔ بلغتہ الخبر وابلغتہ کے ایک ہی معنی ہیں مگر بلغت ( نفعیل ) زیادہ استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : أُبَلِّغُكُمْ رِسالاتِ رَبِّي [ الأعراف/ 62] تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں ۔ يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ [ المائدة/ 67] اے پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ ما أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ [هود/ 57] 1. اگر تم رو گردانی کردگے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ می نے تمہیں پہنچا دیا ہے ۔ 2. اور قرآن پاک میں ایک مقام پر : بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عاقِرٌ [ آل عمران/ 40] 3. کہ میں تو بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ۔ آیا ہے یعنی بلوغ کی نسبت کبر کی طرف کی گئی ہے ۔ اور دوسرے مقام پر ۔ وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا [ مریم/ 8] 4. اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں ۔ ہے یعنی بلوغ کی نسبت متکلم کی طرف ہے اور یہ ادرکنی الجھد وادرکت الجھد کے مثل دونوں طرح جائز ہے مگر بلغنی المکان یا ادرکنی کہنا غلط ہے ۔ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ ذوق الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له : الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] ( ذ و ق ) الذاق ( ن ) کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے اس لئے کہ عرف میں اگرچہ یہ قلیل چیز کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر لغوی معنی کے اعتبار سے اس میں معنی کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا معنی عموم کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا منعی عموم کے پیش نظر عذاب کے لئے یہ لفظ اختیار کیا ہے ۔ تاکہ قلیل وکثیر ہر قسم کے عذاب کو شامل ہوجائے قرآن میں بالعموم یہ لفظ عذاب کے ساتھ آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] تاکہ ( ہمیشہ ) عذاب کا مزہ چکھتے رہیں ۔ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب «1» ، وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس «2» ، وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل : سمّي بذلک لأنه خلق خلقة لا قوام له إلا بإنس بعضهم ببعض، ولهذا قيل : الإنسان مدنيّ بالطبع، من حيث لا قوام لبعضهم إلا ببعض، ولا يمكنه أن يقوم بجمیع أسبابه، وقیل : سمّي بذلک لأنه يأنس بكلّ ما يألفه «3» ، وقیل : هو إفعلان، وأصله : إنسیان، سمّي بذلک لأنه عهد اللہ إليه فنسي . ( ان س ) الانس یہ جن کی ضد ہے اور انس ( بضمہ الہمزہ ) نفور کی ضد ہے اور انسی ۔ انس کی طرف منسوب ہے اور انسی اسے کہا جاتا ہے ۔ جو بہت زیادہ مانوس ہو اور ہر وہ چیز جس سے انس کیا جائے اسے بھی انسی کہدیتے ہیں اور جانور یا کمان کی وہ جانب جو سوار یا کمانچی کی طرف ہو اسے انسی کہا جاتا ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جانب کو وحشی کہتے ہیں انس کی جمع اناسی ہے قرآن میں ہے :۔ { وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا } ( سورة الفرقان 49) بہت سے ( چوریاں ) اور آدمیوں کو ۔ اور نفس انسانی کو ابن انسک کہا جاتا ہے ۔ انس ( افعال ) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھتا ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ { فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا } ( سورة النساء 6) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو ۔ انست نارا (27 ۔ 7) میں نے آگ دیکھی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا } ( سورة النور 27) کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تم ان سے اجازت لے کر انس پیدا نہ کرلو ۔ الانسان ۔ انسان چونکہ فطرۃ ہی کچھ اس قسم کا واقع ہوا ہے کہ اس کی زندگی کا مزاج باہم انس اور میل جول کے بغیر نہیں بن سکتا اس لئے اسے انسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ انسان طبعی طور پر متمدن واقع ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ آپس میں بیل جوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اکیلا ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اسے جس چیز سے محبت ہوتی ہے اسی سے مانوس ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اسے انسان کہا جاتا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ انسان اصل میں انسیان پر وزن افعلان ہے اور ( انسان ) چونکہ اپنے عہد کو بھول گیا تھا اس لئے اسے انسان کہا گیا ہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) فرح الْفَرَحُ : انشراح الصّدر بلذّة عاجلة، وأكثر ما يكون ذلک في اللّذات البدنيّة الدّنيوية، فلهذا قال تعالی: لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] ، وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] ، ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] ، ( ف ر ح ) ا لفرح کے معنی کسی فوری یا دینوی لذت پر انشراح صدر کے ہیں ۔ عموما اس کا اطلاق جسمانی لذتوں پر خوش ہونے کے معنی میں ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] اور جو تم کو اس نے دیا ہوا اس پر اترایا نہ کرو ۔ وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] اور ( کافر ) لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہورہے ہیں ۔ ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم ۔۔۔۔۔ خوش کرتے تھے ( صاب) مُصِيبَةُ والمُصِيبَةُ أصلها في الرّمية، ثم اختصّت بالنّائبة نحو : أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165] ، فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌالنساء/ 62] ، وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] ، وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] ، وأصاب : جاء في الخیر والشّرّ. قال تعالی:إِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ [ التوبة/ 50] ، وَلَئِنْ أَصابَكُمْ فَضْلٌ مِنَ اللَّهِ [ النساء/ 73] ، فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشاءُ [ النور/ 43] ، فَإِذا أَصابَ بِهِ مَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ [ الروم/ 48] ، قال : الإِصَابَةُ في الخیر اعتبارا بالصَّوْبِ ، أي : بالمطر، وفي الشّرّ اعتبارا بِإِصَابَةِ السّهمِ ، وکلاهما يرجعان إلى أصل . مصیبۃ اصل میں تو اس تیر کو کہتے ہیں جو ٹھیک نشانہ پر جا کر بیٹھ جائے اس کے بعد عرف میں ہر حادثہ اور واقعہ کے ساتھ یہ لفظ مخصوص ہوگیا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165]( بھلا یہ ) کیا بات ہے کہ ) جب ( احد کے دن کفار کے ہاتھ سے ) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ ( جنگ بدر میں ) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے انہیں پہنچ چکی تھی ۔ فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ [ النساء/ 62] تو کیسی ( ندامت کی بات ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے ۔ وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مابین مقابلہ کے دن واقع ہوئی ۔ وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے اعمال سے ۔ اور اصاب ( افعال ) کا لفظ خیرو شر دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ [ التوبة/ 50] اے پیغمبر اگر تم کو اصائش حاصل ہوتی ہے تو ان کی بری لگتی ہے اور اگر مشکل پڑتی ہے ۔ وَلَئِنْ أَصابَكُمْ فَضْلٌ مِنَ اللَّهِ [ النساء/ 73] ، اور اگر خدا تم پر فضل کرے فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشاءُ [ النور/ 43] تو جس پر چاہتا ہے اس کو برسادیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے ۔ فَإِذا أَصابَ بِهِمَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ [ الروم/ 48] پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ جباصاب کا لفظ خیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو یہ صوب بمعنی بارش سے مشتق ہوتا ہے اور جب برے معنی میں آتا ہے تو یہ معنی اصاب السمھم کے محاورہ سے ماخوز ہوتے ہیں مگر ان دونوں معانی کی اصل ایک ہی ہے ۔ سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ كفر ( ناشکري) الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو كَافِرٌ. قال في الکفران : لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وقال : وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ کفر یا کفر ان نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] ؂ تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ۔ اور فعل کفر فھوا کافر ہر دو معانی کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ معنی کفران کے متعلق فرمایا : ۔ لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تاکہ مجھے آز مائے کر میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوم ۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے ۔ اور جو ناشکری کرتا ہے ۔ تو میرا پروردگار بےپروا اور کرم کر نیوالا ہے ۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

پھر بھی اگر یہ لوگ ایمان سے منہ پھیریں تو آپ کو ان کا محافظ کر کے نہیں بھیجا گیا ہے آپ کے ذمہ تو صرف احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ قتال کا حکم دیتا ہے کہ جب ہم کافر کو اپنی عنایت کا کچھ مزہ چکھا دیتے ہیں تو ناشکرا بن کر اس پر خوش ہونے لگتا ہے اور اگر ان کو ان کے اعمال شرکیہ کی وجہ سے فقرو فاقہ اور سختیوں میں گرفتار کردیتے ہیں تو ایسا آدمی یعنی ابو جہل اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٨ { فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا } ” پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) ہم نے آپ کو ان پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔ “ یعنی اگر یہ لوگ اب بھی اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد کے لیے کمربستہ نہ ہوں تو ان کی اس کوتاہی کی ذمہ داری آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نہیں ہوگی۔ { اِنْ عَلَیْکَ اِلَّا الْبَلٰغُ } ” نہیں ہے آپ پر کوئی ذمہ داری مگر صاف صاف پہنچا دینے کی۔ “ { وَاِنَّآ اِذَا اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً فَرِحَ بِہَا } ” اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا کوئی مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اتراتا ہے۔ “ { وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ کَفُوْرٌ} ” اور اگر ان پر آپڑے کوئی برائی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی بدولت تو انسان بالکل نا شکرا بن جاتا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

74. That is, you have not been made responsible that you must bring them to the right path anyhow, nor will you be held accountable as to why these people did not come to the right path. 75. Man here implies the mean and shallow people who are the subject of the discourse here, who have gotten a measure of the worldly provisions and are exulting in this, and who do not pay any attention when they are admonished to come to the right path. But when they are visited by a disaster in consequence of their own misdeeds, they start cursing their fate, and forget all those blessings which Allah has blessed them with, and do not try to understand how far they themselves are to be blamed for the condition in which they are placed. Thus, neither does prosperity become conducive to their reformation nor can adversity teach them a lesson and bring them to the right path. A study of the context shows that this is, in fact, a satire on the attitude of the people who were the addressees of the above discourse, but they have not been addressed to tell them of their weakness directly, but the weakness of man has been mentioned in a general way and pointed out that what is the real cause of his sad plight. This gives an important point of the wisdom of preaching: the weaknesses of the addressee should not be made the target directly, but they should be mentioned in a general way so that he is not provoked, and if his conscience has still some life in it, he may try to understand his shortcoming with a cool mind.

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :74 یعنی تمہارے اوپر یہ ذمہ داری تو نہیں ڈالی گئی ہے کہ تم انہیں ضرور راہ راست ہی پر لاکے رہو اور نہ اس بات کی تم سے کوئی باز پرس ہونی ہے کہ یہ لوگ کیوں راہ راست پر نہ آئے ۔ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :75 انسان سے مراد یہاں وہ چھچورے کم ظرف لوگ ہیں جن کا اوپر سے ذکر چلا آ رہا ہے ۔ جنہیں دنیا کا کچھ رزق مل گیا ہے تو اس پر پھولے نہیں سماتے اور سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو سن کر نہیں دیتے لیکن اگر کسی وقت اپنے ہی کرتوتوں کی بدولت ان کی شامت آ جاتی ہے تو قسمت کو رونا شروع کر دیتے ہیں ، اور ان ساری نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو اللہ نے انہیں دی ہیں اور کبھی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ جس حالت میں وہ مبتلا ہوئے ہیں اس میں انکا اپنا کیا قصور ہے ۔ اس طرح نہ خوشحالی ان کی اصلاح میں مددگار ہوتی ہے نہ بد حالی ہی انہیں سبق دے کر راہ راست پر لا سکتی ہے ۔ سلسلہ کلام کو نگاہ میں رکھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ دراصل یہ ان لوگوں کے رویئے پر طنز ہے جو اوپر کی تقریر کے مخاطب تھے ۔ مگر ان کو خطاب کر کے یہ نہیں کہا گیا کہ تمہارا حال یہ ہے ، بلکہ بات یوں کہی گئی کہ انسان میں عام طور پر یہ کمزوری پائی جاتی ہے اور یہی اس کے بگاڑ کا اصل سبب ہے ۔ اس سے حکمت تبلیغ کا یہ نکتہ ہاتھ آتا ہے کہ مخاطب کی کمزوریوں پر براہ راست چوٹ نہیں کرنی چاہیے ، بلکہ عمومی انداز میں ان کا ذکر کرنا چاہیے ، تاکہ وہ چڑ نہ جائے ، اور اس کے ضمیر میں اگر کچھ بھی زندگی باقی ہے تو ٹھنڈے دل سے اپنے عیب کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:48) فان اعرضوا جملہ شرط ہے۔ فما ارسلنک علیہم حفیظا جواب شرط ۔ اعرضوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اعراض (افعال) مصدر ۔ منہ پھیرلینا۔ اور اگر وہ لوگ (یہ سن کر) پھر بھی منہ پھیر لیں۔ حفیظا۔ نگہبان۔ حفاظت کرنے والا۔ منصوب بوجہ تمیز۔ ان علیک میں ان نافیہ ہے۔ الا حرف استثنائ۔ البلاغ : مصدر ہے یہ لفظ قرآن مجید میں بمعنی تبلیغ آتا ہے۔ البلاغ والبلوغ (باب نصر) کے معنی مقصد اور منتہی کے آخری حد تک پہنچنے کے ہیں۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچ جانے کے لئے بھی بولا جاتا ہے گو انتہاء تک نہ بھی پہنچا ہو۔ انتہاء تک پہنچنے کے معنی میں فرمایا :۔ حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ (46:15) یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے۔ اور ام لکم ایمان علینا بالغۃ (68:39) یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو ۔۔ چلی جائیں گی۔ یہاں بالغۃ سے مراد انتہائی مؤکد قسمیں ہیں۔ بلاغ بمعنی پیغام جیسے ھذا بلاغ للناس (14:52) یہ (قرآن) لوگوں کے نام (خدا کا) پیغام ہے۔ اور بلاغ کے معنی کافی ہونا بھی ہیں جیسے ان فی ھذا لبلاغا لقوم عابدین (21:106) عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) پوری تبلیغ ہے۔ وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ جملہ شرط فرح بھا جواب شرط۔ اذ شرطیہ : اذقنا ماضی جمع متکلم اذاقۃ (افعال) مصدر۔ ہم نے چکھایا۔ ذوق مادہ۔ رحمۃ مفعول فعل اذقنا کا۔ فرح ماضی واحد مذکر غائب ، وہ خوش ہوا۔ یا خوش ہوجاتا ہے۔ بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع رحمۃ ہے رحمۃ سے مراد دنیاوی نعمتیں ہیں مثلا دولت ، صحت وغیرہ۔ وان تصبھم سیئۃ بما قدمت ایدیہم شرط۔ ینسی النعمۃ راسا ویذکر البلیۃ ویستعظمھا (جواب شرط محذوف) فان الانسان کفور۔ علت جزائ۔ ان شرطیہ تصبھم مضارع مجزوم بوجہ شرط واحد مؤنث غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے (الانسان سے مراد جنس انسان ہے لہٰذا یہاں ہم جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے) اصابۃ (افعال) مصدر۔ ان کو پہنچے یا پہنچتی ہے۔ سیئۃ تکلیف، مصیبت از قسم قحط، بیماری ، تنگی، مفلسی وغیرہ۔ بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ قدمت ایدیہم اس کا صلہ۔ قدمت ماضی واحد مؤنث غائب تقدیم (تفعیل) مصدر۔ اس نے آگے بھیجا۔ کفور صفت مشبہ کا صیغہ ہے سخت ناشکرا۔ الکفر سے۔ فرح اور کفور لفظا واحد کے صیغے ہیں اور معنی جمع آئے ہیں مطلب یہ کہ جب انسان کو اللہ کی طرف سے رحمت عطا ہوتی ہے تو اترا جاتا ہے لیکن جب کوئی دکھ آتا ہے جو اس کی اپنی کرتوتوں کا نتیجہ ہوتا ہے رحمت اور عنایت کو سرے سے بھول جاتا ہے اور سب کا انکار کرنے لگتا ہے مصیبت کا بار بار ذکر کرتا ہے اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور غور نہیں کرتا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔ اذا (جب) عربی زبان میں اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی بات ثابت شدہ اور محقق ہو۔ نعمت عطا فرمانا اور اس کا مزہ چکھانا اللہ تعالیٰ کی رحمت ذاتیہ کا اقتضا اور اس کا معمول ہے۔ کسی شک کی اس میں گنجائش ہی نہیں ہے۔ اس لئے اذقنا کے ساتھ لفظ اذ استعمال کیا لیکن مصیبت کا آنا بتقاضائے رحمت نہیں نہ اللہ کا یہ دستور ہی ہے کہ (بےوجہ، بغیر جرم کے) مصیبت میں مبتلا کر دے۔ اس لئے تصبھم کے ساتھ لفظ ان (اگر ۔ جو شک کے لئے آتا ہے) استعمال کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اور نہ مانیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے باز پرس ہو۔ 8 یعنی اللہ تعالیٰ کی سب نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور سراپا شکوہ و شکایت بن جاتا ہے۔ یہ بات نوع انسانی کے اکثر افراد کے لحاظ سے فرمائی گئی ہے۔ انبیاء ( علیہ السلام) اور نیک بندے اس سے مستثنیٰ ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یہ دونوں حالتیں دلیل ہیں حظوظ نفسانیہ سے شدت تعلق اور حق تعالیٰ سے بےتعلقی کی، اور یہ حالت ان کی طبیعت ثانیہ ہوگئی ہے، پس ان سے آپ ایمان کی توقع کیوں رکھیں جو موجب غم ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن مجرموں کے بچ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود یہ لوگ حق بات سے اعراض ہی کیے جارہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام صرف لوگوں تک حق بات کا ابلاغ کرنا ہے۔ لہٰذا یہ کام آپ کو کرتے رہنا چاہیے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری محنت اور اخلاص کے ساتھ شب وروز لوگوں کو سمجھا رہے تھے کہ اے لوگو ! قیامت کا دن آنے سے پہلے اپنے آپ کو سدھار لو ! قیامت کے دن کوئی اپنے آپ اور کسی دوسرے کو نہیں بچا سکے گا۔ لیکن کفار اور مشرکین کی حالت یہ تھی کہ وہ حق قبول کرنے کی بجائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں روز بروز آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ جس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دل آزردہ ہوجاتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر دعائیں کرتے۔ قریب تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی عارضہ لاحق ہوجاتا۔ اس صورت حال میں آپ کو تسلی دینے کے لیے یہ ارشاد ہوا کہ کیا آپ اپنے آپ کو اس لیے بیمار کرلیں گے کہ یہ لوگ حق بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ (الشعراء : ٣) آپ کو یہ کہہ کر بھی ڈھارس دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصیحت کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ اس نے آپ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔ اس لیے آپ کا کام نصیحت کرنا ہے۔ آپ نصیحت کرتے جائیں۔ (الغاشیۃ : ٢١، ٢٢) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لیے یہاں ارشاد فرمایا کہ اگر یہ لوگ آپ سے اعراض کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو آپ کو ایک حد سے زیادہ فکرمند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم نے آپ کو ان پر چوکیدار نہیں بنایا۔ آپ کا کام صرف حق بات کی دعوت دینا ہے۔ لہٰذا آپ ان کو دعوت دیتے جائیں اور اس کا نتیجہ اپنے رب کے حوالے کریں۔ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب ہم ان کو اپنی رحمت سے نوازتے ہیں تو یہ اس کے ساتھ خوش ہوجاتے ہے۔ اگر ہم ان کو ان کے اعمال کی سزا دیتے ہیں تو اپنے رب کی ناشکری کرنے پر اتر آتے ہیں۔ اس آیت کے آغاز میں مخاطب تو اہل مکہ ہیں۔ مگر نعمت اور سزا کا ذکر کرتے ہوئے ” الانسان “ کا لفظ لا کر پوری بنی نوع انسان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ دعوت اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت صرف اہل مکہ کے لیے نہیں تھی۔ آپ کی دعوت تو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لیے ہے۔ جس بنا پر ہر داعی کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ وہ اپنے مخاطب کی فطرت کا خیال رکھتے ہوئے دعوت کا کام جاری رکھے۔ انسان کا یہ مزاج ہے کہ اپنے پسند کی بات پر خوش ہوتا ہے اور ناپسند پر ناراض ہوتا ہے۔ یہی رویہ اس کا اپنے رب کے بارے میں ہوتا ہے کبھی اس پر خوش ہوتا ہے اور کبھی ناراض ہوجاتا ہے۔ اس میں داعی کو یہ بھی سمجھایا جارہا ہے کہ لوگوں کی خوشی اور ناراضگی کی پروا کیے بغیر اسے حق کا ابلاغ کرتے رہنا چاہیے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں پر چوکیدار نہیں بنایا تھا۔ ٢۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام حق بات کا ابلاغ کرنا تھا جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کامل اور اکمل طریقے کے ساتھ سرانجام دیا۔ ٣۔ انسان کی حالت یہ ہے کہ اسے کچھ ملے تو خوش ہوجاتا ہے۔ اگر اسے تکلیف پہنچے تو وہ اپنے رب کا بھی ناشکرا بن جاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام حق بات پہچانا تھا منوانا نہیں : ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (ہود : ١٢) ٢۔ آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ (الرعد : ٤٠) ٣۔ آپ کو ان پر نگران نہیں بنایا گیا آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے۔ (الشوریٰ : ٤٨) ٤۔ (پیغمبروں نے کہا) ہمارے ذمہ دین کی تبلیغ کرنا ہے۔ (یٰس : ١٧) ٥۔ آپ نصیحت کریں آپ کا کام بس نصیحت کرنا ہے، آپ کو چوکیدار نہیں بنایا گیا۔ (الغاشیۃ : ٢١۔ ٢٢) ٦۔ رسولوں کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے۔ (النحل : ٣٥) ٧۔ نہیں ہے رسول پر مگر واضح طور پر پیغام پہنچانا۔ (النور : ٥٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٤٨ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کے حصے میں خوشی آتی ہے یا غم آتا ہے ، تنگی آتی ہے یا کشادگی نصیب ہوتی ہے ، یہ سب امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ پس یہ بدبخت انسان جو بھلائی کا شیدائی ہے اور برائی اور سختی سے نفور ہے ، اسے کیا ہوگیا ہے کہ یہ اس مالک سے دوررہا ہے جس کے ہاتھ میں اس کے سب امور ہیں اور ہر حال میں وہ خالق ومالک ہے

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

انسان کا خاص مزاج رحمت کے وقت خوش اور تکلیف میں ناشکرا ! اس کے بعد انسان کا ایک مزاج بتایا اور وہ یہ ہے کہ جب اسے نعمت ملتی ہے اور رحمت الٰہی کا مظاہرہ ہوتا ہے تو خوب خوش اور مگن ہوجاتا ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے جو انسانوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے پہنچتی ہے تو وہ ناشکرا بن جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرتا ہے اور ایسے بول بولتا ہے کہ جو سابقہ نعمتیں تھیں گویا وہ اسے ملی ہی نہ تھیں، اللہ تعالیٰ کی موجودہ نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا اور معاصی سے توبہ بھی نہیں کرتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

38:۔ ” فان اعرضوا “ یہ زجر ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے تسلی ہے اگر مشرکین آپ کی دعوت کو نہیں مانتے اور اس سے اعراض ہی کرتے ہیں تو آپ غم نہ کریں کیونکہ آپ کو ان کا نگران نہیں مقرر کیا گیا کہ ان کو کفر و شرک سے روک کر اسلام پر لائیں۔ آپ کا فریضہ تو صرف تبلیغ دعوت ہے۔ اگر مانتے ہیں تو بہتر، اس میں انہی کا فائدہ ہے اور اگر نہیں مانتے تو اس کی آپ سے باز پرس نہیں ہوگی۔ ” وانا اذا اذقنا الخ “ یہ زجر ہے۔ اور انسان سے کافر مراد ہے (قرطبی) انسان کافر کا یہ حال ہے کہ جب ہم اس کو اپنی نعمت و رحمت سے ہمکنار کرتے ہیں تو ناحق اور ناجائز قسم کی خوشی پر اتر آتا ہے یعنی کبر و غرور سے اکڑ جاتا ہے اور غیر اللہ کی پکار پر خوش ہوتا ہے۔ تائید، ” ذلکم بما کنتم تفرحون فی الارض بغیر الحق “ (حم مومن رکوع 8) ۔ فرح بھا بطر لاجلہا (مدارک ج 4 ص 85) ۔ لیکن اگر اس کے گناہوں کی شامت سے اس پر کوئی مصیبت آجائے تو ایسا ناشکر گذار اور احسان فراموش ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے گذشتہ انعام و احسان کو یکسر بھلا دیتا ہے اور مصیبتوں کو یاد رکھتا ہے (روح، قرطبی) حضرت شیخ فرماتے ہیں مشرک پر جب اللہ کی طرف سے کوئی نعمت آجائے تو اسے اپنے معبودان باطلہ کی مہربانی سمجھتا ہے، لیکن جب اس پر کوئی مصیبت آجائے تو اپنے معبودوں سے مایوس ہو کر ان کا احسان فراموش ہوجاتا اور خدا کو پکارنے لگتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(48) پھر اگر یہ لوگ اس پر بھی روگردانی اور اعراض کریں و ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اس پر اترا جاتا ہے اور اگر لوگوں کو اپنے ان اعمال کے باعث جوان کے ہاتھ پہلے کرچکے ہیں کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے تو ناشکری کرنے لگتا ہے بیشک انسان بڑا ہی ناسپاس ہے۔ یعنی اس وعید کو سن لینے اور جہنم کے واقعات معلوم ہوجانے کے بعد بھی ان کے رویے میں تبدیلی نہ ہو اور یہ اپنی جگہ جمے رہیں اور دین حق سے روگردانی اور قرآن سے اعراض کرتے رہیں تو آپ غمگین اور پریشان نہ ہوں کیونکہ آپ ان کے اعمال پر نگہبان یا نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے نہ آپ سے کوئی باز پرس ہوگی کہ انہوں نے شرک اور کفر کیوں کیا آپ کے ذمے تو صرف احکام الٰہی کا پہنچا دینا ہے سو آپ نے پہنچا دیا اور انسان سے مراد یہی منکر لوگ ہیں کہ ان کی حالت یہ ہے کہ حق تعالیٰ اگر ان کو اپنی مہربانی سے نوازتے ہیں اور ان کو اپنی مہر کا مزہ چکھاتے ہیں تو یہ لوگ اتراجاتے ہیں اور ریاوبطر تکبروغرور کرنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کو اپنی خوش تدبیری اور ہنر مندی پر حمل کرتے ہیں اور اگر اس کمائی کے بدلے میں جوان کے ہاتھ پہلے کرچکے ہیں ان پر کوئی مصیبت آجائے مثلاً مرض قحط اور تنگدستی وغیرہ تو انسان ناشکری اور ناسپاسی کرنے لگتا ہے جیسا کہ عام طور سے منکروں کو دیکھا جاتا ہے لقمت سے ملے مثلاً خوش حالی صحت عزت حکومت وغیرہ تو شکر نہ کریں اور کوئی دککھ تکلیف آجائے تو صبر نہ کریں۔ اسی لئے آخر میں فرمایا کہ انسان بڑا ہی ناسپاس ہے یہی جملہ اور ان تصبھم کی جزا کا قائم مقام ہے قرآن کریم میں ان تصبھم کی جزا علیحدہ مذکور نہیں ہے مگر ہم نے ترجمہ میں جزا کو ظاہر کردیا ہے اور آخری جملے کا ترجمہ بھی کردیا۔ اسی لئے آخر میں فرمایا کہ انسان بڑا ہی ناسپاس ہے یہی جملہ ان تصبھم کی جزا کا قائم مقام ہے۔ قرآن کریم میں ان تصبھم کی جزا علیحدہ مذکور نہیں ہے مگر ہم نے ترجمہ میں جزا کو ظاہر کردیا ہے اور آخری جملے کا ترجمہ بھی کردیا ہے۔ بڑناشکر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو حقیر سمجھتا ہے کفران نعمت یا کفر باللہ کرتا ہے آگے پھر توحید کا بیان فرمایا۔