Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 49

سورة الشورى

لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ۴۹﴾

To Allah belongs the dominion of the heavens and the earth; He creates what he wills. He gives to whom He wills female [children], and He gives to whom He wills males.

آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالٰی ہی کے لئے ہے ، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah tells us that He is the Creator, Sovereign and Controller of the heavens and the earth. Allah says, لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاء ... To Allah belongs the kingdom of the heavens and the earth. He creates what He wills. Whatever he wills happens, and whatever He does not will does not happen. He gives to whomsoever He wills and withholds from whomsoever he wills; none can withhold what He gives, and none can give what He withholds, and He creates whatever He wills. ... يَهَبُ لِمَنْ يَشَاء إِنَاثًا ... He bestows female upon whom He wills. means, He gives them daughters only. Al-Baghawi said, "And among them (those who were given daughters only) was Lut, peace be upon him." ... وَيَهَبُ لِمَن يَشَاء الذُّكُورَ and bestows male upon whom He wills. means, He gives them sons only. Al-Baghawi said, "Like Ibrahim Al-Khalil, peace be upon him, who did not have any daughters."

اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام ۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل علیہ الصلوۃ والسلام ۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں ۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے ۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے ۔ جو حضرت عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا حضرت آدم صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ ۔ حضرت حوا صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے حضرت عیسیٰ کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے ۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہوگئیں ۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اسکی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم و قدرت کی نشانی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) للہ ملک السموت والارض ، یخلق ما یشآء : اس سے پہلی آیت میں انسان کا ذکر فرمایا کہ اگر اسے اس کے اپنے اعمال بد کے نتیجے میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو انسان بہت ناشکرا ہے، وہ فوراً اللہ تعالیٰ کا شکوہ شروع کردیتا ہے کہ اس نے مجھ سے نعمت چھین لی اور مجھ پر ظلم کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ اس کی طرف ظلم کی نسبت سے بڑا ظلم کوئی نہیں، کیونکہ ایک تو انسان کو پہنچنے والی مصیبت اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، دوسرے اللہ تعالیٰ آسمان و زمین یعنی پوری کائنات اور اس میں موجود ہر نعمت کا بادشاہ اور مالک ہے۔ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اپنی جو نعمت جسے چاہے دیتا ہے، جسے چاہے نہیں دیتا یا چھین لیتا ہے۔ بندے پر اس کے اعمال کے نتیجے میں جو مصیبت آئی ہے زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کوئی نعمت نہیں دی، یا آئندہ کے لئے روک لی ہے، مثلاً صحت، دولت یا ایمان وغیرہ۔ ظلم تو تب ہوتا جب وہ اس کی ملکیت والی کوئی چیز اسے نہ دیتا یا اس سے لے لیتا۔ جب ہر چیز اس کی ملکیت ہے تو اس کی مرضی، جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے، کسی کے پاس شکوے اور ناشکری کا کیا موقع ہے۔ ایمان کی نعمت سے نوازنا بھی اس کی مرضی پر موقوف ہے، وہ چاہتا تو سب کو یہ نعمت دے دیتا مگر یہ نعمت بھی وہ اسی کو یدتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھ لینے سے تقدیر کے بہت سے مسئلے حل ہوجاتے ہیں اور آدمی اللہ تعالیٰ کے شکوے، اس کی ناشکری اور اسے ظالم کہنے سے بچ جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(ولو شآء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ ولکن یدخل من یشآء فی رحمتہ ، والظلمون مالھم من ولی ولا نصیر) (الشوری : ٨)” اور اگر اللہ چاہتا تو انھیں ایک ہیا مت بنا دیتا اور لیکن وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو ظالم ہیں ان کے لئے نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ “ (٢) یھب لمن یشآء اناثاً …: یہ اس بات کی مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے دیتا ہے اور جو چاہے دیتا ہے، چناچہ وہ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے، یا لڑکے لڑکیاں دونوں عطا کردیتا ہے اور جسے چاہے مرد ہو یا عورت عقیم (بانجھ) بنا دیتا ہے، کسی کو اس پر اعتراض یا شکوے کا کوئی حق نہیں۔ (٣) انہ علیم قدیر : مخلوق کو نعمت عطا کرنے میں یہ تفاوت اندھی تقسیم نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ وہ ہر چیز کا علم اور پوری قدرت رکھنے والا ہے، اس کا ہر فعل اس کے علم و قدرت کے تحت ہے اور اسی علم و قدرت کے ساتھ اس نے بعض کو اولاد سے محروم رکھا، کسی کو ہدایت سے اور کسی کو لڑکی یا لڑکے یا دونوں کی نعمت سے نواز دیا، کسی کو ہدیات کے تمام مرتبوں سے اونچے متر بےنبوت سے نواز دیا، جس کا ذکر اگلی آیتمیں ہے اور یہ سب کچھ اس کی مشیت کے تحت ہے، فرمایا :(اللہ یجتبی الیہ من یشآء ویھدی الیہ من ینیب) (الشوریٰ )” اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔ “ (٤) اس آیت میں یہ حقیقت واشگاف الفاظ میں بیان کردی گئی ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی دنیا کے نام نہاد بادشاہوں جباروں اور سرداروں کے حوالے نہیں کردی گئی اور نہ ہی اس میں کسی نبی یا ولی، داتا ، دستگیر یا دیوی دیوتا کا کوئی حصہ ہے، اس کا مالک اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ کتنے جابر بادشاہ اور سپہ سالار، کتنے انبیاء و اولیاء اور کتنے ماہر ڈاکٹر اور حکیم اولاد سے محروم ہے، کتنے لڑکے کو ترستے رہے اور کتنے لڑکی کی خواہش دل میں لئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اگر مشرکین اس حقیقت کو سمجھ لیں تو کبھی شرک کی حماقت نہ کریں۔ (٥) ’ یھب لمن یشآء اناثاً “ میں لڑکیوں کو اللہ تعالیٰ کا عطیہ قرار دیا ہے۔ جو لوگ لڑکیوں کو نحوست یا عار کا باعث سمجھتے ہیں۔ انھیں ان الفاظ پر غور کرنا چاہیے اور کسی ایسے جوڑے کے احساسات معلوم کرنے چاہئیں جنھیں لڑکی بھی عطا نہیں ہوئی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ۝ ٠ ۭ يَہَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا وَّيَہَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ۝ ٤٩ ۙ ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔ خواہ نافعل اس کا متولی ہو یا نہ ہو ۔ چناچہ پہلے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ تو اس کو تباہ کردیتے ہیں ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] کہ اس نے تم میں پیغمبر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ وهب الهِبَةُ : أن تجعل ملكك لغیرک بغیر عوض . يقال : وَهَبْتُهُ هِبَةً ومَوْهِبَةً ومَوْهِباً. قال تعالی: وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ [إبراهيم/ 39] ، إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] ( و ہ ب ) وھبتہ ( ف ) ھبۃ وموھبۃ ومو ھبا بلا عوض کوئی چیز دے دینا یا کچھ دینا قرآن میں ہے : ۔ وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب ) بخشے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ [إبراهيم/ 39] خدا کا شکر ہے جس نے مجھے بڑی عمر اسماعیل اور اسحاق بخشے ۔ إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا یعنی فر شتہ ہوں اور اسلئے آیا ہوں کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں ۔ أنث الأنثی: خلاف الذکر، ويقالان في الأصل اعتبارا بالفرجین، قال عزّ وجلّ : وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى [ النساء/ 124] ، ولمّا کان الأنثی في جمیع الحیوان تضعف عن الذکر اعتبر فيها الضعف، فقیل لما يضعف عمله : أنثی، ومنه قيل : حدید أنيث قال الشاعر : عندي ... جراز لا أفلّ ولا أنيث وقیل : أرض أنيث : سهل، اعتبارا بالسهولة التي في الأنثی، أو يقال ذلک اعتبارا بجودة إنباتها تشبيها بالأنثی، ولذا قال : أرض حرّة وولودة . ولمّا شبّه في حکم اللفظ بعض الأشياء بالذّكر فذكّر أحكامه، وبعضها بالأنثی فأنّث أحكامها، نحو : الید والأذن، والخصية، سمیت الخصية لتأنيث لفظ الأنثيين، وکذلک الأذن . قال الشاعر : ضربناه تحت الأنثيين علی الکرد وقال آخر : وما ذکر وإن يسمن فأنثی يعني : القراد، فإنّه يقال له إذا کبر : حلمة، فيؤنّث . وقوله تعالی: إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِناثاً [ النساء/ 117] فمن المفسرین من اعتبر حکم اللفظ فقال : لمّا کانت أسماء معبوداتهم مؤنثة نحو : اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَناةَ الثَّالِثَةَ [ النجم/ 19- 20] قال ذلک : ومنهم۔ وهو أصحّ- من اعتبر حکم المعنی، وقال : المنفعل يقال له : أنيث، ومنه قيل للحدید الليّن : أنيث، فقال : ولمّا کانت الموجودات بإضافة بعضها إلى بعض ثلاثة أضرب : - فاعلا غير منفعل، وذلک هو الباري عزّ وجلّ فقط . - ومنفعلا غير فاعل، وذلک هو الجمادات . - ومنفعلا من وجه کالملائكة والإنس والجن، وهم بالإضافة إلى اللہ تعالیٰ منفعلة، وبالإضافة إلى مصنوعاتهم فاعلة، ولمّا کانت معبوداتهم من جملة الجمادات التي هي منفعلة غير فاعلة سمّاها اللہ تعالیٰ أنثی وبكّتهم بها، ونبّههم علی جهلهم في اعتقاداتهم فيها أنها آلهة، مع أنها لا تعقل ولا تسمع ولا تبصر، بل لا تفعل فعلا بوجه، وعلی هذا قول إبراهيم عليه الصلاة والسلام : يا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئاً [ مریم/ 42] . وأمّا قوله عزّ وجل : وَجَعَلُوا الْمَلائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبادُ الرَّحْمنِ إِناثاً [ الزخرف/ 19] فلزعم الذین قالوا : إنّ الملائكة بنات اللہ . ( ان ث) الانثی ( مادہ ) بہ ذکر یعنی نر کی ضد ہے اصل میں انثیٰ و ذکر عورت اور مرد کی شرمگاہوں کے نام ہیں پھر اس معنی کے لحاظ سے ( مجازا) یہ دونوں نر اور مادہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔{ وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى } ( سورة النساء 124) ۔ جو نیک کام کریگا مرد یا عورت (4 ۔ 124) اور چونکہ تمام حیوانات میں مادہ منسلک نر کے کمزور ہوتی ہے لہذا اس میں معنی ضعف کا اعتبار کرکے ہر ضعیف الاثر چیز کو انثیٰ کہہ دیا جاتا ہے چناچہ کمزور لوہے کو حدید انیث کہا جاتا ہے شاعر نے کہا ہے ع (28) ۔۔۔۔۔ عندی ۔۔ جراز لا افل ولا انیث میرے پاس شمشیر براں ہے جو کند اور کمزور نہیں ہی ۔ اور انثی ٰ ( مادہ) کے ساتھ تشبیہ دیکر نرم اور زرخیز زمین کو بھی ارض انیث کہہ دیا جاتا ہے یہ تشبہ یا تو محض نری کے اعتبار سے ہے ۔ اور یا عمدہ اور پیداوار دینے کے اعتبار سے ہے سے اسے انیث کہا گیا ہے جیسا کہ زمین کو عمدہ اور پیداوار کے اعتبار سے حرۃ اور ولو د کہا جات ہے ۔ پھر بعض اشیاء کو لفظوں میں مذکر کے ساتھ تشبیہ دے کر اس کے لئے صیغہ مذکر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اور بعض کو مؤنث کے ساتھ تشبیہ دے کر صیغہ تانیث استعمال کرتے ہیں جیسے ۔ ید ۔ اذن اور خصیۃ چناچہ خصیتیں پر تانیث لفظی کی وجہ سے انثیین کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( ع وافر) (29) وماذکر وان یسمن مانثی ٰاور کونسا مذکر ہے کہ اگر وہ موٹا ہوجائے تو مؤنث ہوجاتا ہے ۔ اس سے مراد قرا دیعنی چیچر ہے کہ جب وہ بڑھ کر خوب موٹا ہوجاتا ہے تو اسے حلمۃ بلفظ مونث کہا جاتا ہے اسی طرح آیت کریمہ ؛۔ { إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا } ( سورة النساء 117) وہ خد ا کے سو ا جن کی بھی پرستش کرتے ہیں وہ مادہ ہیں ۔ میں اناث ، انثی ٰ کی جمع ہے ) بعض مفسرین نے احکام لفظیہ کا اعتبار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مشرکین اپنے بتوں کو جن اسماء سے پکارتے تھے جیسے لات ، عزی ، منات الثالثہ یہ سب مؤنث ہیں اس لئے قرآن نے اناث کہہ کر پکارا ہے ۔ اور بعض نے معنٰی کا اعتبار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہر منفعل اور ضعیف چیز کو انیث کہا جاتا ہے جیسے کمزور لوہے پر انیث کا لفظ بولتے ہیں اسکی تفصیل یہ ہے کہ موجودات کی باہمی نسبت کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں فاعل غیر منفعل ، یہ صفت صرف ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے ۔ منفعل غیر فاعل یہ خاصہ جمادات کا ہے ۔ 3 ۔ ایک اعتبار سے فاعل اور دوسرے اعتبار سے منفعل جیس جن دانس اور ملائکہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے منفعل اور اپنی مصنوعات کے لحاظ سے فاعل ہے اور چونکہ ان کے معبود جمادات کی قسم سے تھے جو منفعل محض ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے انہیں اثاث کہہ کر پکارا ہے اور اس سے ان کی اعتقادی جہالت پر تنبیہ کی ہے کہ جنکو تم نے معبود بنا رکھا ہے ان میں نہ عقل ہے نہ سمجھ ، نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں بلکہ کسی حیثیت سے بھی کوئی کام سرانجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اسی بنا پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے و تو حید کی طرف دعوت کے سلسلہ میں ) اپنے باپ سے کہا ۔ { يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا } ( سورة مریم 42) کہ ابا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں لیکن آیت کریمہ ؛۔ { وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَنِ إِنَاثًا } ( سورة الزخرف 19) اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندہ ہیں ( مادہ خدا کی بیٹیاں ) بنادیا میں ملائکہ کو اناث قرار دینے کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے ۔ ذَّكَرُ ( مذکر) والذَّكَرُ : ضدّ الأنثی، قال تعالی: وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] ، وقال : آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] ، وجمعه : ذُكُور وذُكْرَان، قال تعالی: ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] ، وجعل الذَّكَر كناية عن العضو المخصوص . والمُذْكِرُ : المرأة التي ولدت ذکرا، والمِذْكَار : التي عادتها أن تذكر، وناقة مُذَكَّرَة : تشبه الذّكر في عظم خلقها، وسیف ذو ذُكْرٍ ، ومُذَكَّر : صارم، تشبيها بالذّكر، وذُكُورُ البقل : ما غلظ منه الذکر ۔ تو یہ انثی ( مادہ ) کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] اور ( نذر کے لئے ) لڑکا ( موزون تھا کہ وہ ) لڑکی کی طرح ( ناتواں ) نہیں ہوتا آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] کہ ( خدا نے ) دونوں ( کے ) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ( کی ) مادینوں کو ۔ ذکر کی جمع ذکور و ذکران آتی ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] بیٹے اور بیٹیاں ۔ اور ذکر کا لفظ بطور کنایہ عضو تناسل پر بھی بولاجاتا ہے ۔ اور عورت نرینہ بچہ دے اسے مذکر کہاجاتا ہے مگر المذکار وہ ہے ۔ جس کی عادت نرینہ اولاد کی جنم دینا ہو ۔ ناقۃ مذکرۃ ۔ وہ اونٹنی جو عظمت جثہ میں اونٹ کے مشابہ ہو ۔ سیف ذوذکر ومذکر ۔ آبدار اور تیر تلوار ، صارم ذکور البقل ۔ وہ ترکاریاں جو لمبی اور سخت دلدار ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں جس طرح وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جیسا کہ حضرت لوط کہ ان کے کوئی بھی لڑکا نہیں تھا اور جسکو چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم کے کوئی لڑکی نہیں تھی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٩ { لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ” آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ “ یہ مضمون قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ‘ لیکن اس کے لیے عام طور پر یہ جملہ آتا ہے : { لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } لیکن اس سورت کے مرکزی مضمون (اقامت ِدین) کے حوالے سے یہاں خاص طور پر ملک (حکومت و اقتدار) کا لفظ آیا ہے۔ { یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ یَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِنَاثًا وَّیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَ } ” وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

76. That is, if the people who are involved in disbelief and polytheism do not believe even after the admonition, they may not, for the truth is the truth. The kingdom of the earth and heavens has not been entrusted to the so-called kings and despots and chiefs of the world nor has any prophet, saint, god or goddess any share in it, but its Master is One Allah alone. His rebel can neither succeed by his own power, nor can any of the beings whom the people look upon as owners of divine powers by their own folly, come to their rescue and aid.

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :76 یعنی کفر و شرک کی حماقت میں جو لوگ مبتلا ہیں وہ اگر سمجھانے سے نہیں مانتے تو نہ مانیں ، حقیقت اپنی جگہ حقیقت ہے ۔ زمین و آسمان کی بادشاہی دنیا کے نام نہاد بادشاہوں اور جباروں اور سرداروں کے حوالے نہیں کر دی گئی ہے ، نہ کسی نبی یا ولی یا دیوی اور دیوتا کا اس میں کوئی حصہ ہے ، بلکہ اس کا مالک اکیلا اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس سے بغاوت کرنے والا نہ اپنے بل بوتے پر جیت سکتا ہے ، نہ ان ہستیوں میں سے کوئی آ کر اسے بچا سکتی ہے جنہیں لوگوں نے اپنی حماقت سے خدائی اختیارات کا مالک سمجھ رکھا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:49) یھب : مضارع واحد مذکر غائب ھبۃ (باب فتح) مصدر وہ بخشتا ہے ، وہ دیتا ہے۔ وھب مادہ۔ الوھاب بہت عطا کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ یشاء مضارع واحد مذکر غائب مشیۃ (باب فتح) جس کو وہ چاہتا ہے۔ اناثا : انثی کی جمع عورتیں یہاں مراد بیٹیاں۔ ان ث مادہ۔ الذکور : ذکر کی جمع۔ مرد، یہاں مراد بیٹے۔ اصل میں انثی و ذکر عورت اور مرد کی شرمگاہوں کو کہتے ہیں ۔ پھر اس معنی کے لحاظ سے (مجازا) یہ دونوں نر اور مادہ پر بولے جاتے ہیں دونوں مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ للہ ملک السموات الخ عام ہے جمیع تصرفات کو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور کسی دوسرے کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں دیا۔ ہدایت اور ہر قسم کے اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ یہاں تک انسان اپنی اولاد کے بارے میں بھی اختیار نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں کا مالک اور بادشاہ ہے۔ اس کے اختیارات کا عالم یہ ہے کہ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے صرف بیٹیاں ہی عنایت کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے اسے صرف بیٹے عطا کرتا ہے۔ کسی کو بیٹے اور بیٹیاں دیتا ہے اور کسی کو زندگی بھر بانجھ رکھتا ہے۔ وہ ہر چیز کا کامل اور اکمل علم رکھنے کے ساتھ ہر کسی پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے حوالے سے انسان کو یہ حقیقت سمجھائی ہے کہ اے انسان ! جس رب کے ساتھ تو کفر و شرک کرتا ہے اس کے اختیارات کا عالم یہ ہے کہ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وہ جسے چاہے بیٹے عطا فرمائے اور جس کو چاہے بیٹیاں دے اور جسے چاہے بیٹے، بیٹیاں دے اور جسے چاہے اسے بےاولاد رکھتا ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا جوڑا نہیں جو اپنی مرضی سے بیٹے یا بیٹی کو جنم دے سکے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ذات ہے جو کسی کو بیٹے یا بیٹیاں دے سکے اور نہ ہی بانجھ کو کوئی اولاد دے سکتا ہے۔ جب انسان اپنے رب کے سامنے اتنا بےبس ہے تو اسے دل کی رغبت کے ساتھ اپنے رب کا حکم ماننا چاہیے تاکہ دنیا میں اس کا بھلا ہو اور آخرت میں وہ سرخرو ہوسکے۔ اس کے باوجود مشرک کسی کو داتا کہتا ہے اور کسی کو اپنا دستگیر بنائے ہوئے ہے۔ جس شخصیت کو داتا کہا جاتا ہے اس کا اپنا حال یہ تھا کہ انہوں نے دو سے زائد شادیاں کیں مگر زندگی بھر بیٹے اور بیٹی سے محروم رہے۔ (سوانح علی ہجویری (رض) ، مطبع محکمہ اوقاف پنجاب) ہدایت کے بارے میں بھی لوگوں کی یہی حالت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ نہایت صالح، کچھ لوگ ملے جلے کام کرنے والے اور کچھ بالکل ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٤٩ تا ٥٠ اولاد کسی شخص پر فضل و کرم ہونے یا اس سے محروم ہونے کی بڑی نشانی ہے۔ پھر اولاد انسانی نفس کے بہت ہی قریب پسندیدہ چیز ہے ۔ اولاد سے انسان کو بہت محبت ہوتی ہے۔ اس لیے کسی پر اللہ کے فضل ہونے یا اس سے محروم ہونے کے حوالے سے یہ بہت ہی حساس اور قوی الاثر چیز ہے۔ اس سورت میں رزق کے اعتبار سے خوشحالی اور بدحالی کی بات گزر چکی ہے۔ یہاں اولاد کے حوالے سے بھی انسان کے نصیب کی بات کردی تا کہ مال و الاد دونوں کی بات ہوجائے ، کیونکہ اولاد بھی اللہ کی طرف سے ایک بہترین رزق ہے۔ مال کی طرح بلکہ اس سے پیارا۔ جہاں بھی اللہ کے ملک کی بات ہوتی ہے وہ ملک سماوات اور پوری زمین سے شروع ہوتی ہے ، مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ عام مالک ہے۔ اسی طرح یخلق ما یشاء (٤٢ : ٤٩) “ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ” ۔ تخلیق کا ذکر بھی یہاں نہایت مناسب اور معنی خیز ہے۔ یہاں اولاد کو زندہ کرنے اور عطا کرنے کا مضمون ہے۔ اس کے ساتھ صفت تخلیق کا ذکر مناسب ہے۔ انسان کو بتایا گیا کہ تم جو پسند کرتے ہو ، ان کو بھی اللہ پیدا کرتا ہے اور جن کو تم ناپسند کرتے ہو ، ان کو بھی اللہ پیدا کرتا ہے۔ وہی دینے والا اور وہی محروم کرنے والا ہے۔ اب حالات دادو دہش اور حالات محرومیت کی تفصیلات ۔ اللہ جسے چاہتا ہے عورتیں دیتا ہے اور یہ لوگ عورتوں کو پسند نہ کرتے تھے ( جس طرح آج بھی نہیں کیا جاتا) یہ تو اللہ ہے کہ کسی کو لڑکے ، کسی کو لڑکیاں اور کسی کو دونوں دیتا ہے۔ اور کسی کو اس میٹھے پھل سے صاف صاف محروم کردیتا ہے۔ یہ سب حالات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اس میں اللہ کے سوا کسی کا دخل نہیں ہے ، وہ اپنے علم وقدرت کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ انہ علیم قدیر (٤٢ : ٥٠) “ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ”۔ ٭٭٭٭ سورت کے خاتمہ پر موضوع اول سامنے آتا ہے جس پر اس پوری سورت میں بات ہوتی رہی ہے۔ یعنی رسالت اور وحی کی حقیقت یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس عمل میں بندے اور خدا کے درمیان رابطہ کس طرح ہوتا ہے ، اور اس کی صورتیں کیا کیا ہیں ؟ اور یہ رابطہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوچکا ہے اور اس کے نہایت ہی بلند مقاصد ہیں یہ کہ جو صراط مستقیم کی طرف آنا چاہے اسے لایا جائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت کا بیان، وہ اپنی مشیت کے مطابق اولاد عطا فرماتا ہے اس کے بعد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا ملک اللہ ہی کے لیے ہے وہی ان کا خالق اور مالک ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے انسانوں کی جو اولاد ہوتی ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی سے ہوتی ہے کسی کو مجال نہیں جو اس کی مشیت کے سامنے دم مار سکے، دیکھو اللہ تعالیٰ نے جو جوڑے بنائے ہیں یعنی مرد اور عورت ان میں کسی کے ہاں صرف لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور کسی کے ہاں صرف لڑکے پیدا ہوتے ہیں اور کسی کو اللہ تعالیٰ بیٹا، بیٹی دونوں جنسیں عطا فرما دیتا ہے اور ضروری نہیں کہ مرد عورت کا میل ملاپ ہوجائے تو اولاد ہو ہی جائے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے وہ علیم بھی اور قدیر بھی ہے وہ سب کے حال جانتا ہے حکمت کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جو چاہے کرسکتا ہے اسے ہر چیز پر قدرت ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اس کی قدرت سب پر غالب ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

39:۔ ” للہ ملک السموات “ یہ عقلی دلیل ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ زمین و آسمان میں وہی متصرف و مختار ہے اور وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ اولاد دینا اور اولاد سے محروم کرنا بھی اسی کے اختیار میں ہے، اس معاملے، بکہ ساری کائنات کے نظام میں کوئی دخیل نہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے صرف بیٹیاں عطا کرتا ہے جیسا کہ حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہما السلام) اور جسے چاہتا ہے صرف بیٹے ہی عطا کرتا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں نعمتیں عطا فرما دیتا ہے جیسا کہ خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ آپ کے چار صاحبزادے ابراہیم، قاسم، طیب اور طاہر تھے اور چار ہی صاحبزادیاں زینب، ام کلثوم رقیہ اور فاطمہ تھیں۔ (رض) اور جسے چاہتا ہے دونوں نعمتوں ہی سے محروم کردیتا ہے اور وہ ساری عمر اس آرزو میں جیتے ہیں اور آخر اس آرزو کو اپنے سینوں ہی میں لے کر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ زعم بعضہم ان الایۃ فی الانبیاء علیہم الصلوہ والسلام حیث وھب سبحانہ شعیبا ولوطا (علیہم السلام) اناثا ولابراہیم (علیہ السلام) ذکورا ولرسولہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذکورا واناثا وجعل عیسیٰ ویحیی (علیہما السلام) عقیمین (روح ج 25 ص 54) ۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنی حکمت بالغہ کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(49) آسمانوں میں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی کی سلطنت اور اسی کا راج ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہیے بیٹیاں عطا کرتا اور جس کو چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے اور عطا کرتا ہے۔