Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 6

سورة الشورى

وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہُ حَفِیۡظٌ عَلَیۡہِمۡ ۫ ۖوَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۶﴾

And those who take as allies other than Him - Allah is [yet] Guardian over them; and you, [O Muhammad], are not over them a manager.

اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسروں کو کارساز بنا لیا ہے اللہ تعالٰی ان پر نگران ہے اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَولِيَاء ... And as for those who take as protecting friends others besides Him, This refers to the idolators, ... اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ ... Allah is Hafiz over them. meaning, He is Witness to their deeds, recording and enumerating them precisely, and He will requite them for them in full. ... وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ and you are not a trustee over them. meaning, `you are just a warner, and Allah is the Trustee of all affairs.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 یعنی ان کے عملوں کو محفوظ کر رہا ہے تاکہ اس پر ان کو جزا دے۔ 6۔ 2 یعنی آپ اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ان کو ہدایت کے راستے پر لگا دیں یا ان کے گناہوں پر ان کا مؤاخذہ فرمائیں، بلکہ یہ کام ہمارے ہیں، آپ کا مصرف پیغام (پہنچا دینا) ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] ولی کے مختلف مفہوم :۔ ولی کا لفظ بہت جامع ہے اور بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ مثلاً کارساز دوست، حمایتی، مددگار اور سرپرست سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ اور اس کا عام مفہوم وہ شخص ہے جو کسی کی موت، مصیبت اور سخت پریشانی کے وقت اس کی مدد کو پہنچے یا اس کی وراثت کا اولین حقدار ہو۔ اور یہ باپ اور بیٹے کے علاوہ کوئی اور شخص بھی ہوسکتا ہے جب کہ مشرکین اپنے بتوں اور معبودوں کو ایسا سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں کہ وہ ہر مصیبت میں ان کے کام آتے اور ان کی حاجات کو پورا کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نیز قیامت کے دن ہم ان کی سفارش سے اللہ کے عذاب سے بچ سکتے ہیں۔ اللہ ایسے مشرکوں کو مہلت تو دیتا ہے مگر یہ نہ سمجھو کہ وہ ہمیشہ بچے رہیں گے۔ یہ سب لوگ اللہ کی نظر میں ہیں۔ لہذا آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ مانتے کیوں نہیں یا نہ ماننے کی صورت میں تباہ کیوں نہیں کردیئے جاتے۔ یہ باتیں آپ کے ذمہ نہیں۔ وقت آنے پر اللہ خود ان سے نمٹ لے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) والذین اتخذوا من دونہ اولیآء اللہ …: اس جملے میں مشرکین کے لئے بہت شدید ڈانٹ اور دھمکی ہے کہ اوپر آیات میں جس اللہ کا ذکر ہوا، جو عزیز و حکیم اور علی و عظیم ہے، جس کی ہیبت سے آسمان پھٹنے کے قریب رہتے ہیں اور جس کی تسبیح و حمد تمام فرشتے کرتے ہیں، جن لوگوں نے اس اللہ کے سوا کسی قسم کے کار ساز بنائے، جو ان کے خیال میں فوق الفطرت طریقے سے ان کی حاجتیں و مرادیں برلاتے اور ان کی دستگیری و فریاد رسی کرتے ہیں، ان کے ایک ایک عمل کو نص دیکھ رہا ہے وہ سب اس کے پاس محفوظ ہیں اور بہت جلد وہ انھیں ان کا بدلا دے گا۔ (٢) وما انت علیھم بوکیل ” مآئ “ نافیہ کی تاکید ” بوکیل “ کی باء کے ساتھ ہو رہی ہے اور ” بوکیل “ کی تنوین تنکیر کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ” تو ہرگز ان کا کوئی ذمہ دار نہیں “ کیا گیا ہے۔” وکل یکل “ (ض) سپرد کرنا۔” وکیل “ جس کے سپرد کوئی کام کردیا جائے، ذمہ دار، یعنی ان کفار و مشرکین کی نگرانی اور ان کے اعمال کی جزا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، آپ انھیں ہدایت دینے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس لئے آپ کو زیادہ پریشان یا غمزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، جیسا کہ فرمایا :(انما انت نذیر واللہ علی کل شیء وکیل) (ھود : ١٢) ” تو تو صرف ڈرانے والا ہے اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔ ‘ ‘ مزید دیکھیے سورة یونس (٩٩، ١٠٠) اور سورة انعام (٣٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ اللہُ حَفِيْــظٌ عَلَيْہِمْ۝ ٠ ۡ ۖ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْہِمْ بِوَكِيْلٍ۝ ٦ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ ولي والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الوالایتہ ( بکسر الواؤ ) کے معنی نصرت اور والایتہ ( بفتح الواؤ ) کے معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دلالتہ ودلالتہ کی طرح ہے یعنی اس میں دولغت ہیں ۔ اور اس کے اصل معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ الوالی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے حفظ الحِفْظ يقال تارة لهيئة النفس التي بها يثبت ما يؤدي إليه الفهم، وتارة لضبط الشیء في النفس، ويضادّه النسیان، وتارة لاستعمال تلک القوة، فيقال : حَفِظْتُ كذا حِفْظاً ، ثم يستعمل في كلّ تفقّد وتعهّد ورعاية، قال اللہ تعالی: وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] ( ح ف ظ ) الحفظ کا لفظ کبھی تو نفس کی اس ہیئت ( یعنی قوت حافظہ ) پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ جو چیز سمجھ میں آئے وہ محفوظ رہتی ہے اور کبھی دل میں یاد ررکھنے کو حفظ کہا جاتا ہے ۔ اس کی ضد نسیان ہے ، اور کبھی قوت حافظہ کے استعمال پر یہ لفظ بولا جاتا ہے مثلا کہا جاتا ہے ۔ حفظت کذا حفظا یعنی میں نے فلاں بات یاد کرلی ۔ پھر ہر قسم کی جستجو نگہداشت اور نگرانی پر یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔ وكيل التَّوْكِيلُ : أن تعتمد علی غيرک وتجعله نائبا عنك، والوَكِيلُ فعیلٌ بمعنی المفعول . قال تعالی: وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] أي : اکتف به أن يتولّى أمرك، ( و ک ل) التوکیل کے معنی کسی پر اعتماد کر کے اسے اپنا نائب مقرر کرنے کے ہیں اور وکیل فعیل بمعنی مفعول کے وزن پر ہے ۔ قرآن میں : ۔ وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] اور خدا ہی کافی کار ساز ہے ۔ یعنی اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دیجئے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ بتوں کو کارساز ٹھہرا رکھا ہے اور وہ ان کو پوجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے اعمال کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ { وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ } ” اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے مددگار بنا رکھے ہیں “ { اللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْہِمْ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیْلٍ } ” اللہ ان پر نگران ہے ‘ اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ “ وہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ معبود ان کی شفاعت کریں گے اور ان کے ذریعے سے انہیں اللہ کا قرب حاصل ہوجائے گا ‘ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ ان کے سارے افعال کی نگرانی کر رہا ہے اور ان کا نامہ اعمال تیار ہو رہا ہے۔ ان کا محاسبہ اور مواخذہ کرنا اسی کا کام ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6 The word auliya (sing. wall) as used in the Text is very comprehensive in meaning. The different beliefs and all sorts of diverse practices with regard to the false deities held and worshipped by the polytheistic people, have been described as "taking others as auliya' (guardians) instead of Allah" in the Qur'an. According to the Qur'an, a person takes such a one his wati: (1) whom he obeys in all matters, whose instructions he carries out and Whose ways and customs and rules he follows in all affairs of life (An-Nisa: 118-120; ALA'raf: 3, 27-30); (2) in whose guidance he has full faith, and who he thinks will lead him aright and save him from error and deviation (Al-Baqarah: 257, Bani Isra'il: 97, Al-Kahf: 17-50, AI-Jathiah: 19); (3) about whom he trusts he will protect him from the torment of God in the Hereafter if it really existed (An Nisa: 123, 173; Al-An'am: 51, Ar-Ra'd: 37, AI-'Ankabut: 22, AI-Ahzab: 65, Az-Zumar: 3); (4) about whom he has the belief that he helps him in the world in supernatural ways, protects him from disaster and afflictions, gets him jobs, blesses him with children, and fulfils his desires and aII other needs. (Hud: 20, Ar-Ra'd: 16, Al-`Ankabut: 4l). At some places in the Qur'an the word wati has been used in one of these senses and at hers in all its meanings. The verse being commented upon is one of such verses. In it, taking others as guardians instead of Allah implies regarding them as one's patron and supporter and helper in all the four about-mentioned meanings. 7 "Allah is watching them": Allah sees whatever they arc doing and is recording their conduct. It is His responsibility to call them to account and punish them. As for the words "You are not responsible for their conduct", these have been addressed to the Holy Prophet. They mean: "Their destiny has not been placed under yow control so that you may burn to ashes anyone who does not listen to you, or depose him from power, or annihilate him." This, however, dces not mean that, God forbid, the Holy Prophet regarded himself as such, and this was said in order to remove his misunderstanding or self-conceit, but this was meant for the disbelievers. Although apparently the Holy Prophet himself is the addressee, the real object is to tell the disbelievers that the Prophet of Allah has made no such claims as were usually made by their so-called saints who posed to possess great spiritual powers. Among the ignorant people it is generally thought that the so-called "holy men" have the power to ruin the destiny of anyone who behaves insolently towards them in any way; so much so that even after their death if somebody happened to dishonor their grave, or if nothing else, only nursed an evil thought about them in his mind, they destroyed him completely. Such a thought is in most casts spread by the "holy men" themselves. As for the good men who do not themselves say any such thing, their names are exploited by some other clever people, who spread such thoughts about them in order to promote their business. In any case this is regarded as a necessary corollary of spirituality and piety among the common people that one should possess the powers of making and marring destinies. To destroy the spell of this same fraud, Allah is addressing His Holy Messenger, as if to tell the disbelievers: "You are no doubt Our Messenger and We have blessed you with Our Revelations, but yow duty is only to guide the people to the Right Path. Their destinies have not boon placed under yow control; they arc in Our hand; therefore, to watch over the deeds and acts of the servants and to punish or not to punish them is Our own responsibility."

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :6 اصل میں لفظ اولیا ء‘ ‘استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم عربی زبان میں بہت وسیع ہے ۔ معبودان باطل کے متعلق گمراہ انسانوں کے مختلف عقائد اور بہت سے مختلف طرز عمل ہیں جن کو قرآن مجید میں اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا ولی بنانے سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ قرآن پاک کا تتبع کرنے سے لفظ ولی کے حسب ذیل مفہومات معلوم ہوتے ہیں : 1 ) جس کے کہنے پر آدمی چلے ، جس کی ہدایات پر عمل کرے ، اور جس کے مقرر کیے ہوئے طریقوں ، رسموں اور قوانین و ضوابط کی پیروی کرے ( النساء ، آیات 118 تا 120 ۔ الاعراف 3 ، 27 تا 30 ) ۔ 2 ) جس کی رہنمائی ( Guidance ) پر آدمی اعتماد کرے اور یہ سمجھے کہ وہ اسے صحیح راستہ بتانے والا اور غلطی سے بچانے والا ہے ( بقرہ 257 ۔ بنی اسرائیل 97 ۔ الکہف 17 ۔ 50 ۔ الجاثیہ 19 ) ۔ 3 ) جس کے متعلق آدمی یہ سمجھے کہ میں دنیا میں خواہ کچھ کرتا رہوں ، وہ مجھے اس کے برے نتائج سے اور اگر خدا ہے اور آخرت بھی ہونے والی ہے ، تو اس کے عذاب سے بچا لے گا ( النساء 123 ۔ 173 ۔ الانعام 51 ۔ الرعد 37 ۔ العنکبوت 22 ۔ الاحزاب 65 ۔ الزمر 3 ) 4 ) جس کے متعلق آدمی یہ سمجھے کہ وہ دنیا میں فوق الفطری طریقے سے اس کی مدد کرتا ہے ، آفات و مصائب سے اس کی حفاظت کرتا ہے ، اسے روزگار دلواتا ہے ، اولاد دیتا ہے ، مرادیں بر لاتا ہے ، اور دوسری ہر طرح کی حاجتیں پوری کرتا ہے ( ہود ، 20 ۔ الرعد ، 16 ۔ العنکبوت ، 41 ) بعض مقامات پر قرآن میں ولی کا لفظ ان میں سے کسی ایک معنی میں استعمال کیا گیا ہے ، اور بعض مقامات پر جامعیت کے ساتھ اس کے سارے ہی مفہومات مراد ہیں ۔ آیت زیر تشریح بھی انہی میں سے ایک ہے ۔ یہاں اللہ کے سوا دوسروں کو ولی بنانے سے مراد مذکورہ بالا چاروں معنوں میں ان کو اپنا سرپرست بنانا اور حامی و مدد گار سمجھنا ہے ۔ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :7 اللہ ہی ان پر نگراں ہے یعنی وہ ان کے سارے افعال دیکھ رہا ہے اور ان کے نامۂ اعمال تیار کر رہا ہے ۔ ان کا محاسبہ اور مواخذہ کرنا اسی کا کام ہے ۔ تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو ، یہ خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی قسمت تمہارے حوالے نہیں کر دی گئی ہے کہ جو تمہاری بات نہ مانے گا اسے تم جلا کر خاک کر دو گے یا اس کا تختہ الٹ دو گے ، یا اسے تہس نہس کر کے رکھ دو گے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو ایسا سمجھتے تھے اور آپ کی غلط فہمی یا بر خود غلطی کو رفع کرنے کے لیے یہ بات ارشاد ہوئی ہے ۔ بلکہ اس سے مقصود کفار کو سنانا ہے ۔ اگرچہ بظاہر مخاطب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں ، لیکن اصل مدعا کفار کو یہ بتانا ہے کہ اللہ کا نبی اس طرح کا کوئی دعویٰ نہیں رکھتا جیسے بلند بانگ دعوے خدا رسیدگی اور روحانیت کے ڈھونگ رچانے والے عموماً تمہارے ہاں کیا کرتے ہیں ۔ جاہلیت کے معاشروں میں بالعموم یہ خیال پایا جاتا ہے کہ حضرت قسم کے لوگ ہر اس شخص کی قسمت بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں جو ان کی شان میں کوئی گستاخی کرے ۔ بلکہ مر جانے کے بعد ان کی قبر کی بھی اگر کوئی توہین کر گزرے ، یا اور کچھ نہیں تو ان کے متعلق کوئی برا خیال ہی دل میں لے آئے تو وہ اس کا تختہ الٹ دیتے ہیں ۔ یہ خیال زیادہ تر حضرتوں کا اپنا پھیلایا ہوا ہوتا ہے ، اور نیک لوگ جو خود ایسی باتیں نہیں کرتے ، ان کے نام اور ان کی ہڈیوں کو اپنے کاروبار کا سرمایہ بنانے کے لیے کچھ دوسرے ہوشیار لوگ ان کے متعلق اس خیال کو پھیلاتے ہیں ۔ بہرحال عوام میں اسے روحانیت و خدا رسیدگی کا لازمہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی کو قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کے اختیارات حاصل ہوں ۔ اسی فریب کا طلسم توڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ کفار کو سناتے ہوئے اپنے رسول پاک سے فرما رہا ہے کہ بلا شبہ تم ہمارے پیغمبر ہو اور ہم نے اپنی وحی سے تمہیں سرفراز کیا ہے ، مگر تمہارا کام صرف لوگوں کو سیدھا راستہ دکھانا ہے ۔ ان کی قسمتیں تمہارے حوالہ نہیں کر دی گئی ہیں ۔ وہ ہم نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھی ہیں ۔ بندوں کے اعمال کو دیکھنا اور ان کو عذاب دینا یا نہ دینا ہمارا اپنا کام ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:6) والذین اتخذوا من دونہ اولیاء اللّٰۃ حفیظ علیہم۔ واؤ عاطفہ۔ الذین اسم موصول۔ مبتداء اتخذوا من دونہ اولیاء صلی اپنے موصول کا۔ اور جملہ اللّٰہ حفیظ علیہم خبر ہے۔ اور وہ لوگ کہ جنہوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں وہ اللہ کی نظر میں ہیں۔ دونہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے سوا۔ اس کے درے۔ وکیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ۔ مجرور وکل (باب ضرب) مصدر۔ ذمہ دار۔ وکیل بمعنی کارساز۔ نگران ، گواہ بھی قرآن میں مستعمل ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 ” اولیاء “ ( سرپرستوں) سے مراد وہ بت اور دیوتا ہیں جن کی مشرکین پوجا کرتے تھے۔ 10 ” حفیظ “ کے معنی حفاظت کرنے والا اور اعمال کا حساب رکھنے والا دونوں ہیں یہاں چونکہ ان کے ساتھ علیھم ( ان پر) کا لفظ استعمال ہوا اس لئے اس کے دوسرے ہی معنی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے تمام اعمال حساب کی فرض سے محفوظ ہیں وہ عنقریب انہیں بدلہ دے گا۔11 کہ وہ اگر راہ راست پر نہ آئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گرفت ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ صرف ہمارا پیغام پہنچا دینا ہے۔ اس سے مقصود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ ان کافروں کے ایمان نہ لانے پر کبیدہ خاطر نہ ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بخشنہار اور مہربان ” اللہ “ کو چھوڑ کر لوگ دوسروں کو اپنا کارساز اور خیر خواہ بناتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب پر نگران اور سب کا ذمہ دار ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام گناہوں کو معاف کرنے والا اور ان کے جرائم سے درگزر کرنے والا ہے۔ چاہیے تو یہ کہ ہر انسان ایسے مہربان کو اپنا کارساز اور خیرخواہ مانے۔ مگر مشرک کی حالت یہ ہے کہ وہ ” اللہ “ بخشنہار اور مہربان کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا کارساز اور خیر خواہ سمجھتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر نگران اور اس کی نیّت و عمل سے آگاہ ہے۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اپنا کام کرتے جائیں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنایا ہے۔ رسول کا کام لوگوں کو حق کا پیغام دینا ہے منوانا اس کی ذمہ داری نہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح و شام پوری جانفشانی اور اخلاص کے ساتھ لوگوں کو توحید اور دین حق کی دعوت دیتے۔ مگر مشرکین کی حالت یہ تھی کہ وہ کفر و شرک میں آگے بڑھے جارہے تھے۔ اس صورت حال پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افسردہ اور دل گرفتہ ہوجاتے۔ جس پر آپ کی طبیعت مضمحل ہوجاتی۔ اس پر آپ کو تسلی دی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کا ابلاغ کرنے کے لیے مبعوث فرمایا ہے کسی پر پاسبان اور چوکیدار مقرر نہیں کیا۔ قرآن مجید نے مشرکین کے لیے کئی بار یہ لفظ استعمال کیا ہے کہ مشرک اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا اولیاء سمجھتے ہیں۔ ولی کی جمع اولیاء ہے جس کا معنٰی خیر خواہ اور دلی دوست ہے۔ مفسرین نے ولی کے مختلف معنٰی و مفہوم بیان کیے ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔ 1 جس کے کہنے پر آدمی چلے، جس کی ہدایات پر عمل کرے، اور جس کے مقرر کیے ہوئے طریقوں کی پیروی کرے۔ (النساء : ١١٩، الاعراف : ٣، ٢٧، ٣٠) 2 جس کی راہنمائی پر آدمی اعتماد کرے اور یہ سمجھے کہ وہ اسے صحیح راستہ بتانے اور غلطی سے بچانے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٩٧، الکہف : ١٧، ٥٠، الجاثیۃ : ١٩) 3 جس کے متعلق آدمی عقیدہ رکھے کہ میں دنیا میں خواہ کچھ کرتا رہوں وہ مجھے اس کے برے نتائج سے بچالے گا۔ (النساء : ١٢٣، ١٧٣، الانعام : ٥١، الرعد : ٣٧، العنکبوت : ٢٢، الاحزاب : ٦٥، الزمر : ٣) 4 جس کے متعلق آدمی یہ سمجھے کہ وہ دنیا میں ما فوق الفطرت طریقے سے اس کی مدد کرتا ہے، آفات و مصائب سے اس کی حفاظت کرتا ہے، اسے روزگار دلواتا ہے، مرادیں برلاتا ہے اور ہر طرح کی حاجتیں پوری کرتا ہے۔ (ہود : ٢٠، الرعد : ١٦، العنکبوت : ٤١) بعض مقامات پر قرآن مجید میں ولی کا لفظ ان میں کسی ایک معنٰی میں استعمال کیا گیا ہے اور بعض مقامات پر اس کے سارے ہی مفہوم مراد ہوتے ہیں۔ یہاں اللہ کے سوا دوسروں کو ولی بنانے سے مراد مذکورہ بالا چاریا کسی ایک معنٰی میں ان کو اپنا سرپرست بنانا اور حامی و مددگار سمجھنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیوی وسائل کے تحت ایک حد تک انسان کو ایک دوسرے کا خیر خواہ اور کارساز بنایا ہے۔ لیکن یہ کارسازی اور خیر خواہی انسان کے اپنے بس کی بات نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو عام انسان تو درکنار جنم دینے والی ماں بھی اپنی اولاد کی خیر خواہی اور اس کی چارہ جوئی نہیں کرسکتی۔ ماں کے دل سے رحم کا جذبہ ختم ہوجائے تو اپنے ہی لخت جگر کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ ماں بیماری کی وجہ سے لاچار ہوجائے تو جگر گوشے کو دودھ پلانا تو درکنار اسے آنکھیں کھول کر دیکھ بھی نہیں سکتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا نتیجہ ہے کہ انسان ایک دوسرے کی چارہ جوئی کرتا ہے۔ لہٰذاحقیقی اور بنیادی طور پر خیر خواہ اور کا ساز صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ لیکن مشرک اسے چھوڑ کر یا اس کے ساتھ دوسروں کو بھی اپنا چارہ گر اور خیر خواہ سمجھتا ہے۔ مسائل ١۔ مشرک اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا کارساز اور خیرخواہ سمجھتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر نگران اور پاسبان ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو کارساز اور حقیقی خیرخواہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ١۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ تم اس کی عبادت کرو کیونکہ وہ ہر کسی کا کارساز ہے۔ (الانعام : ١٠٢) ٢۔ بیشک آپ ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہی ہر چیز پر کارساز ہے۔ (ہود : ١٢) ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پروردگار ہے اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الزمر : ٤١) ٤۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور وہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : ١٣٢) ٥۔ میرے بندوں پر شیطان کا داؤ پیچ نہیں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے کار ساز ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦٥) ٦۔ وہ مشرق ومغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اسی کو کار سازمانو۔ (المزمل : ٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” والذین اتخذوا “ (الایات) ۔ یہ زجر مع تخویف ہے جن لوگوں نے اللہ کے سوا کئی اور کارساز بنا رکھے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال واحوال کا نگران ہے اور ان کے تمام اعمال اس کے احاطہ علم میں ہیں، اس لیے وہ انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دے گا۔ لیکن آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں، کیونکہ آپ تو انذار و تبلیغ کیلئے بھیجے گئے ہیں اور آپ نے اپنا فریضہ ادا کردیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو کارساز اور رفیق بنارکھا ہے اللہ تعالیٰ نے ان پر نگہبان ہے اور ان کو دیکھ رہا ہے اور آپ اے پیغمبر ان پر مختار کار نہیں ہیں اور آپ ان کوئی ذمہ نہیں ہے۔ یعنی جو ایسا کررہے ہیں ان کی دیکھ بھال ہم پر ہے اور ہم ہی ان کو وقت پر سزا دیں گے آپ سے ان کے جرائم کی کوئی باز پرس نہ ہوگی۔