Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 10

سورة الزخرف

الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ مَہۡدًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ فِیۡہَا سُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۚ۱۰﴾

[The one] who has made for you the earth a bed and made for you upon it roads that you might be guided

وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش ( بچھونا ) بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے کر دیئے تاکہ تم راہ پا لیا کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الاَْرْضَ مَهْدًا ... Who has made for you the earth like a bed, means, smooth, stable and firm, so that you can travel about in it, and stand on it and sleep and walk about, even though it is created above water, but He has strengthened it with the mountains, lest it should shake. ... وَجَعَلَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلً ... and has made for you roads therein, means, paths between the mountains and the valleys. ... لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ in order that you may find your way. means, in your journeys from city to city, region to region, land to land.

اصلی زاد راہ تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جس نے زمین کو فرش اور ٹھہرئی ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو ، پھرو ، رہو ، سہو ، اٹھو ، بیٹھو ، سوؤ ، جاگو ۔ حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہو جائے کھیتیاں اور باغات سر سبز رہیں پھلیں پھولیں اور پانی تمہارے اور تمہارے جانوروں کے پینے میں بھی آئے پھر اس مینہ سے مردہ زمین زندہ کر دی خشکی تری سے بدل گئی جنگل لہلہا اٹھے پھل پھول اگنے لگے اور طرح طرح کے خوشگوار میوے پیدا ہوگئے پھر اسی کو مردہ انسانوں کے جی اٹھنے کی دلیل بنایا اور فرمایا اسی طرح تم قبروں سے نکالے جاؤ گے اس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے کھیتیاں پھل پھول ترکاریاں اور میوے وغیرہ طرح طرح کی چیزیں اس نے پیدا کر دیں ۔ مختلف قسم کے حیوانات تمہارے نفع کے لئے پیدا کئے کشتیاں سمندروں کے سفر کے لئے اور چوپائے جانور خشکی کے سفر کے لئے مہیا کر دئیے ان میں سے بہت سے جانوروں کے گوشت تم کھاتے ہو بہت سے تمہیں دودھ دیتے ہیں بہت سے تمہاری سواریوں کے کام آتے ہیں ۔ تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں تم ان پر سواریاں لیتے ہو اور خوب مزے سے ان پر سوار ہوتے ہو ۔ اب تمہیں چاہیے کہ جم کر بیٹھ جانے کے بعد اپنے رب کی نعمت یاد کرو کہ اس نے کیسے کیسے طاقتور وجود تمہارے قابو میں کر دئیے اور یوں کہو کہ وہ اللہ پاک ذات والا ہے جس نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا اگر وہ اسے ہمارا مطیع نہ کرتا تو ہم اس قابل نہ تھے نہ ہم میں اتنی طاقت تھی ۔ اور ہم اپنی موت کے بعد اسی کی طرف جانے والے ہیں اس آمدورفت سے اور اس مختصر سفر سے سفر آخرت یاد کرو جیسے کہ دنیا کے توشے کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے توشے کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا توشہ لے لیا کرو لیکن بہترین توشہ آخرت کا توشہ ہے اور دنیوی لباس کے ذکر کے موقعہ پر اخروی لباس کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا لباس تقوٰی افضل و بہتر ہے ، ـ سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعاؤں کی حدیثیں حضرت علی بن ربیعہ فرماتے ہیں حضرت علی جب اپنی سواری پر سوار ہونے لگے تو رکاب پر پیر رکھتے ہی فرمایا ( بسم اللہ ) جب جم کر بیٹھ گئے تو فرمایا دعا ( الحمد للہ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الیٰ ربنا لمنقلبون ) پھر تین مرتبہ ( الحمد للہ ) اور تین مرتبہ ( اللہ اکبر ) پھر فرمایا دعا ( سبحانک لا الہ الا انت قد ظلمت نفسی فاغفرلی ) پھر ہنس دئیے ۔ میں نے پوچھا امیر المومنین آپ ہنسے کیوں ؟ فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یہ سب کچھ کیا پھر ہنس دئیے تو میں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ نے جواب دیا کہ جب بندے کے منہ سے اللہ تعالیٰ سنتا ہے کہ وہ کہتا ہے ( رب اغفرلی ) میرے رب مجھے بخش دے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا ۔ یہ حدیث ابو داؤد ترمذی نسائی اور مسند احمد میں بھی ہے ۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں ۔ اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن عباس کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ٹھیک جب بیٹھ گئے تو آپ نے تین مرتبہ ( اللہ اکبر ) کا تین مرتبہ ( سبحان اللہ ) اور ایک مرتبہ ( لا الہ الا اللہ ) کہا پھر اس پر چت لیٹنے کی طرح ہو کر ہنس دئیے اور حضرت عبد اللہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے جو شخص کسی جانور پر سوار ہو کر اس طرح کرے جس طرح میں نے کیا تو اللہ عزوجل اس کی طرف متوجہ ہو کر اسی طرح ہنس دیتا ہے جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنسا ( مسند احمد ) ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی اپنی سواری پر سوار ہوتے تین مرتبہ تکبیر کہہ کر ان دونوں آیات قرآنی کی تلاوت کرتے پھر یہ دعا مانگتے ( اللھم انی اسئلک فی سفری ھذا البر والتقوی و من العمل ما ترضی اللھم ھون علینا السفر اطولنا البعد اللھم انت الصاحب فی السفر و الخلیفۃ فی الاھل اللھم اصبحنا فی سفرنا واخلفنا فی اھلنا ) یا اللہ میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا طالب ہوں اور ان اعمال کا جن سے تو خوش ہو جائے اے اللہ ہم پر ہمارا سفر آسان کر دے اور ہمارے لئے دوری کو لپیٹ لے پروردگار تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا نگہباں ہے میرے معبود ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے گھروں میں ہماری جانشینی فرما ۔ اور جب آپ سفر سے واپس گھر کی طرف لوٹتے تو فرماتے دعا ( ائبون تائبون ان شاء اللہ عابدون لربنا حامدون ) یعنی واپس لوٹنے والے توبہ کرنے والے انشاء اللہ عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے ( مسلم ابو داؤد نسائی وغیرہ ) ابو لاس خزاعی فرماتے ہیں صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سواری کے لئے ہمیں عطا فرمایا کہ ہم اس پر سوار ہو کر حج کو جائیں ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نہیں دیکھتے کہ آپ ہمیں اس پر سوار کرائیں ۔ آپ نے فرمایا سنو ہر اونٹ کی کوہان میں شیطان ہوتا ہے تم جب اس پر سوار ہو تو جس طرح میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کرو پھر اسے اپنے لئے خادم بنا لو ، یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی سوار کراتا ہے ۔ ( مسند احمد ) حضرت ابو لاس کا نام محمد بن اسود بن خلف ہے رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر اونٹ کی پیٹھ پر شیطان ہے تو تم جب اس پر سواری کرو تو اللہ کا نام لیا کرو پھر اپنی حاجتوں میں کمی نہ کرو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

10۔ 1 ایسا بچھونا، جس میں ثبات وقرار ہے، تم اس پر چلتے ہو، کھڑے ہوتے اور سوتے ہو اور جہاں چاہتے ہو، پھرتے ہو اس نے اس کو پہاڑوں کے ذریعے سے جما دیا تاکہ اس میں حرکت و جنبش نہ ہو۔ 10۔ 2 یعنی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کے لئے راستے بنا دیئے تاکہ کاروباری، تجارتی اور دیگر مقاصد کے لئے تم آجا سکو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] زمین گہوارہ کیسے ہے ؟ گہوارہ میں بچہ بڑے آرام سے جھولے لیتا ہے، آرام کرتا اور سوتا ہے۔ اس لیے کہ جھولے کی رفتار میں یکسانیت ہوتی ہے۔ بالکل یہی صورت زمین کی ہے جو ایک بہت بڑا عظیم الجثہ کرہ ہے۔ اور فضائے بسیط میں معلق ہزارہا میل فی منٹ کی تیز رفتاری سے محو گردش ہے۔ مگر اس کی اس تیز رفتاری میں بھی یکسانیت ہے۔ جس کی وجہ سے تمہیں اس کی یہ حرکت محسوس تک نہیں ہوتی اگر اس کے اندر سے کوئی آتش فشاں پہاڑ یا آتش گیر مادہ پھٹ پڑے اور اس میں زلزلہ پیدا ہوجائے تو اسی وقت تمہاری جان پر بن جاتی ہے۔ اور پروردگار یاد آنے لگتا ہے اور اگر خدانخواستہ اس کی رفتار میں بےترتیبی واقع ہوجائے تو تمہاری تباہی یقینی ہے۔ یہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے اس مہیب کرہ کو اپنے کنٹرول میں رکھ کر اسے تمہارے حق میں گہوارے کی طرح آرام دہ بنادیا ہے۔ تم اس پر بڑے سکون و اطمینان سے چلتے پھرتے اور رہتے سہتے ہو۔ [٩] راستوں سے راہ پانے کے دو مفہوم :۔ اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو ایک جیسی نہیں بنائی۔ کہیں نشیب ہیں کہیں فراز، کہیں پہاڑ ہیں اور کہیں ریت کے تودے، پھر ان پہاڑوں کی بلندی بھی یکساں نہیں بنائی۔ کہیں کٹاؤ ہیں کہیں درے ہیں۔ جنہیں پار کرکے انسان ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ یا دوسرے علاقہ کی طرف جاسکتا ہے۔ پھر ان پہاڑوں میں وادیاں بنائیں جو پانی کی گزر گاہیں ہیں۔ انہیں گزر گاہوں پر چلنے کے راستے بن گئے۔ پھر زمین پر بیشمار امتیازی نشانات بنا دیئے۔ ان سب باتوں کا فائدہ یہ ہوا کہ انسان انہیں نشانات اور راہوں کی مدد سے دنیا کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ تک سفر کرسکتا ہے اور بھولتا نہیں۔ اگر ایسے نشانات نہ ہوتے اور ساری زمین ایک جیسی ہوتی تو انسان نہ سفر کرنے کے قابل ہوسکتا اور نہ ہی راستے بن سکتے تھے۔ راستے اگرچہ انسان ہی بناتا ہے لیکن چونکہ راستوں کے ذرائع اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں اس لیے انہیں براہ راست اپنی طرف منسوب کیا۔ اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے اور دوسرا یہ کہ ان امتیازی نشانات میں غور کرکے ہدایت کی راہ پاسکو اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

1 ۔ الذی جعل لکم الارض مہدا : یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے اپنے احسانات گنوانے شروع فرمائے۔ چناچہ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ان کا قول نہیں، ورنہ الفاظ یہ ہوتے : الذی جعل لنا الارض مہدا۔ وہ جس نے ہمارے لیے زمین کو بچھونا بنادیا۔ (٢) ” مھداً “ کا معنی بچھونا بھی ہے اور بچے کا گہوارہ بھی، یعنی جس طرح آدمی بچھونے میں آرام سے لیٹا ہوتا ہے ایسے ہی تمہارے لئے اس عظیم الشان کرے کو آرام کی جگہ بنادیا، جو فضا میں معلق ہے، جو ایک طرف اپنے محور پر ایک ہزار (١٠٠٠) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے اور دوسری طرف چھیاسٹھ ہزار چھ سو (٦٦٦٠٠٠) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے، جس کے پیٹ میں پتھروں تک کو پگھلا دینے والی اور شدید زلزلے پیدا کرنے والی آگ موجود ہے، جو کبھی کبھی اتٓش فشانوں کی شکل میں لاوا نگل کر تمہیں بھی اپنے وجود سے آگاہ کرتی ہے ، مگر اس کے باوجود تمہارے مالک نے پہاڑوں کے ساتھ اسے ایسا متوازن اور پرسکون بنادیا ہے کہ تم آرام سے اس پر چلتے پھرتے، سوتے اور آرام کرتے ہو۔ تمہیں معمولی جھٹکا بھی نہیں لیتا اور احساس تک نہیں ہوتا کہ تم بندوق کی گولی سے بھی تیز رفتار گاڑی پر سوار ہو۔ ہاں کبھی کبھی اس کی کوئی ہلکی سی جھرجھری زلزلے کی شکل میں تمہیں آگاہ کرتی ہے کہ کتنی خوفناک بلا کر اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تابع فرمان کر رکھا ہے۔ مزید دیکھیے سورة حجر (١٩) ، رعد (٣) اور سورة نحل (١٥) ۔ (٣) وجعل لم فیھا سبلاً لعلکم تھتدون : اللہ تعالیٰ نے یہاں زمین میں راستے بنانے کو اپنا احسان قرار دیا۔ پہاڑوں کے اندر درے اور میدانوں اور پہاڑوں میں دریاؤں کے کنارے وہ قدرتی راستے ہیں جن کی مدد سے انسان ساری زمین پر پھیلا ہے اور ایک دوسرے کے پاس آمد و رفت رکھتا ہے۔ ان کے علاوہ صحراؤں اور میدانوں میں امتیازی نشانات آدمی کو راستے مقرر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر پہاڑ ٹھوس دیوار کی شکل میں ہوتے یا میدانوں اور صحراؤں میں راستوں کی علامات نہ ہوتیں تو آدمی جہاں پیدا ہوا تھا وہیں مقید ہو کر رہ جاتا۔ مزید دیکھیے سورة نحل (١٥۔ ١٦)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْ‌ضَ مَهْدًا (has made the earth a cradle for you - 10) meaning that the comfort provided by the earth is that of a cradle; its apparent look of being a plain floor does not negate its being spherical.

معارف و مسائل (آیت) جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا (تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا) مطلب یہ ہے کہ زمین کی ظاہری صورت اور اس کا آرام فرش کا سا ہے، لہٰذا یہ زمین کے گول ہونے کے منافی نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَہْدًا وَّجَعَلَ لَكُمْ فِيْہَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَ۝ ١٠ ۚ مهد المَهْدُ : ما يُهَيَّأُ للصَّبيِّ. قال تعالی: كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا [ مریم/ 29] والمَهْد والمِهَاد : المکان المُمَهَّد الموطَّأ . قال تعالی: الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْداً [ طه/ 53] ، ومِهاداً [ النبأ/ 6] م ھ د ) المھد ۔ گہوارہ جو بچے کے لئے تیار کیا جائے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا [ مریم/ 29] کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے ۔ کیونکہ بات کریں ۔ اور ۔ اور المھد والمھاد ہموار اور درست کی ہوئی زمین کو بھی کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْداً [ طه/ 53] وہ ( وہی تو ہے ) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا ۔ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْداً [ طه/ 53] کہ ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا : سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، وقال : فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] ، فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] ، فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . ويقال المُهْتَدِي لمن يقتدي بعالم نحو : أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] تنبيها أنهم لا يعلمون بأنفسهم ولا يقتدون بعالم، وقوله : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] فإن الِاهْتِدَاءَ هاهنا يتناول وجوه الاهتداء من طلب الهداية، ومن الاقتداء، ومن تحرّيها، وکذا قوله : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] وقوله : وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] فمعناه : ثم أدام طلب الهداية، ولم يفترّ عن تحرّيه، ولم يرجع إلى المعصية . وقوله : الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ [ البقرة/ 157] أي : الذین تحرّوا هدایته وقبلوها وعملوا بها، وقال مخبرا عنهم : وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] . الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو ۔ إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں ۔ لیکن کبھی اھتداء کے معنی طلب ہدایت بھی آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو ۔ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] سو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو ۔ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں ۔ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہوجائیں ۔ المھتدی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی عالم کی اقتدا کر رہا ہے ہو چناچہ آیت : ۔ أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ کسی کی پیروی کرتے ہوں ۔ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ نہ وہ خود عالم تھے اور نہ ہی کسی عالم کی اقتداء کرتے تھے ۔ اور آیت : ۔ فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] تو جو کوئی ہدایت حاصل کرے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے ۔ میں اھتداء کا لفظ طلب ہدایت اقتدا اور تحری ہدایت تینوں کو شامل ہے اس طرح آیت : ۔ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال انہین آراستہ کر کے دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آتے ۔ میں بھی سے تینوں قسم کی ہدایت کی نفی کی گئی ہے اور آیت : ۔ وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] اور جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے راستہ پر چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں ۔ میں اھتدی کے معنی لگاتار ہدایت طلب کرنے اور اس میں سستی نہ کرنے اور دوبارہ معصیت کی طرف رجوع نہ کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ«1» [ البقرة/ 157] اور یہی سیدھے راستے ہیں ۔ میں مھتدون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت الہیٰ کو قبول کیا اور اس کے حصول کے لئے کوشش کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا چناچہ انہی لوگوں کے متعلق فرمایا ۔ وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] اے جادو گر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بیشک

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ تعالیٰ فرماتے ہے بیشک یہ اس ذات نے پیدا کیا ہے جس نے زمین کو تمہارے آرام کے لیے فرش بنایا اور اس میں رستے بنائے تاکہ تم ان رستوں کے ذریعے سے اپنی مطلوبہ جگہوں تک پہنچ جاؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠{ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَہْدًا وَّجَعَلَ لَکُمْ فِیْہَا سُبُلًا لَّعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْن } ” جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا اور پھر اس میں تمہارے لیے راستے بنا دیے تاکہ تم منزل تک پہنچ سکو۔ “ تاکہ تم ان قدرتی راستوں کی مدد سے اپنی منزلوں تک پہنچ سکو۔ مزید یہ کہ اللہ کی ان نعمتوں پر غور کر کے ہدایت کی منزل مقصود پانے میں کامیاب ہو جائو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7 At other places the earth has been described as a bed, but here as a cradle. That is, just as a child lies resting in its cradle, so is this great globe meant to be a place of rest for you, which is suspended in space, which is spinning on its axis at a speed of 1,000 miles an hour, which is revolving around the sun at a speed of 66,000 miles an hour. Its interior is so intensely hot that it can melt the stones and it manifests its power sometimes in the form of volcano eruptions. But, in spite of that, the Creator has made it so tranquil that one sleeps on it. in fill peace and there is no jerk whatever. One lives on it and does not at all feel that this globe is suspended and one is hanging from it with one's head pointing downward. One moves about on it with satisfaction and never thinks that one is riding on a vehicle moving faster than a bullet. You dig it at will and turn it inside out and beat it as you like to obtain your sustenance, whereas a little shaking of it in an earthquake makes you feel what a terrible giant it is, which Allah has subdued for you. (For further explanation, sec AI-Naml: 61 and E.N. 74 on it). 8 The passes in the mountains and the rivers in the hill and plain regions are the natural paths, which Allah has provided on the surface of the earth. Man has spread on, the earth by means of these. If the mountainous ranges had been created erect, without a crevice, and there had been no rivers and streams, man would have been confined to the same areas where he was born. Then, Allah through another grace has not made the whole surface of the earth uniform in nature, but has created different marks of distinction by means of which man recognizes different lands and feels the difference between one land and another. This is the second important means by which man became able to move about on the earth. This blessing can be appreciated by the one who has had a chance of going on a vast desert, where for thousands of milts the earth is without any landmarks and one does not know where one has reached and where one has to go. 9 This sentence gives two meanings simultaneously: (1) "That by means of these natural paths and land-marks you may fmd your way and reach the place you want to reach: " and (2) "that you may obtain guidance from the observation of this craftsmanship of Allah Almighty: may reach the underlying reality and understand that this sysum of the earth is not functioning haphazardly, nor has been devised by many gods jointly, but there is one All-Wise Creator, Who has made these paths in the hills and on the plains in view of the needs and requirements of His creatures, and has given each region of the earth a different form in countless different ways by means of which man can distinguish one region from the other.

سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :7 دوسرے مقامات پر تو زمین کو فرش سے تعبیر کیا گیا ہے مگر یہاں اس کے لیے گہوارے کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے ۔ یعنی جس طرح ایک بچہ اپنے پنگھوڑے میں آرام سے لیٹا ہوتا ہے ، ایسے آرام کی جگہ تمہارے لیے اس عظیم الشان کرے کو بنا دیا جو فضا میں معلق ہے ۔ جو ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے محور پر گھوم رہا ہے ۔ جو 66600 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے ۔ جسکے پیٹ میں وہ آگ بھری ہے کہ پتھروں کو پگھلا دیتی ہے اور آتش فشانوں کی شکل میں لاوا اگل کر کبھی کبھی تمہیں بھی اپنی شان دکھا دیتی ہے ۔ مگر اس کے باوجود تمہارے خالق نے اسے اتنا پر سکون بنا دیا ہے کہ تم آرام سے اس پر سوتے ہو اور تمہیں ذرا جھٹکا تک نہیں لگتا ۔ تم اس پر رہتے ہو اور تمہیں یہ محسوس تک نہیں ہوتا کہ یہ کرہ معلق ہے اور تم اس پر سر کے بل لٹکے ہوئے ہو ۔ تم اطمینان سے اس پر چلتے پھرتے ہو اور تمہیں یہ خیال تک نہیں آ تا کہ تم بندوق کی گولی سے بھی زیادہ تیز رفتار گاڑی پر سوار ہو ، حالانکہ اس کی ایک معمولی سی جھر جھری کبھی زلزلے کی شکل میں آ کر تمہیں خبر دے دیتی ہے کہ یہ کس بلا کا خوفناک دیو ہے جسے اللہ نے تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم ، النمل ، حواشی ۷٤ ۔ ۷۵ ) سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :8 پہاڑوں کے بیچ بیچ میں درے ، اور پھر کوہستانی اور میدانی علاقوں میں دریا وہ قدرتی راستے ہیں جو اللہ نے زمین کی پشت پر بنا دیے ہیں ۔ انسان ان ہی کی مدد سے کرہ زمین پر پھیلا ہے ۔ اگر پہاڑی سلسلوں کو کسی شگاف کے بغیر بالکل ٹھوس دیوار کی شکل میں کھڑا کر دیا جاتا اور زمین میں کہیں دریا ، ندیاں ، نالے نہ ہوتے تو آدمی جہاں پیدا ہوا تھا اسی علاقے میں مقید ہو کر رہ جاتا ۔ پھر اللہ نے مزید فضل یہ فرمایا کہ تمام روئے زمین کو یکساں بنا کر نہیں رکھ دیا ، بلکہ اس میں قسم قسم کے ایسے امتیازی نشانات ( Land marks ) قائم کر دیے جن کی مدد سے انسان مختلف علاقوں کو پہچانتا ہے اور ایک علاقے اور دوسرے علاقے کا فرق محسوس کرتا ہے ۔ یہ دوسرا اہم ذریعہ ہے جس کی بدولت انسان کے لیے زمین میں نقل و حرکت آسان ہوئی ۔ اس نعمت کی قدر آدمی کو اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اسے کسی لق و دق صحرا میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے ، جہاں سینکڑوں میل تک زمین ہر قسم کے امتیازی نشانات سے خالی ہوتی ہے اور آدمی کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچا ہے اور آگے کدھر جائے ۔ سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :9 یہ فقرہ بیک وقت دو معنی دے رہا ہے ۔ ایک معنی یہ کہ تم ان قدرتی راستوں اور ان نشانات راہ کی مدد سے اپنا راستہ معلوم کر سکو اور اس جگہ تک پہنچ سکو جہاں جانا چاہتے ہو ۔ دوسرے معنی یہ کہ اللہ جل شانہ کی اس کاری گری کو دیکھ کر تم ہدایت حاصل کر سکو ، حقیقت نفس الامری کو پاسکو ، اور یہ سمجھ سکو کہ زمین میں یہ انتظام اَلل ٹپ نہیں ہو گیا ہے ، نہ بہت سے خداؤں نے مل کر یہ تدبیر کی ہے بلکہ ایک رب حکیم ہے جس نے اپنی مخلوق کی ضروریات کو ملحوظ رکھ کر پہاڑوں اور میدانوں میں یہ راستے بنائے ہیں اور زمین کے ایک ایک خطے کو بے شمار طریقوں سے ایک الگ شکل دی ہے جس کی بدولت انسان ہر خطے کو دوسرے سے ممیز کر سکتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:10) فائدہ : آگے آیات 101112 ۔ میں اس ذات العزیز العلیم کی صفات بیان فرمائی ہیں۔ مھدا مصدر ہے (باب فتح) بستر بچھانا۔ ٹھکانا بنانا۔ مھاد جمع امھدۃ و مھد : بستر، ہموار زمین۔ فرش، جیسا کہ فرمایا : وجعل لکم الارض فراشا (2:22) جس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا بنایا۔ لکم میں ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مفعول لہ جعل کا۔ الارض مفعول ثانی۔ سبلا۔ راستے سبیل کی جمع جعل کا مفعول ثالث۔ فیہا میں ضمیر واحد مؤنث غائب مفعول فیہ الارض کی طرف راجع ہے۔ لعلکم تھتدون : تاکہ ان راستوں پر چل کر اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ فائدہ : (2) زمین کے سارے جغرافیائی تغیرات جن سے انسان کو مدد مل سکتی ہے اس کے تحت میں آگئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٩ تا ١٤ عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور طاقتور ہونا چاہئے لیکن وہ یہاں آکر رک جاتے تھے اور خود اپنے عقیدے کے لازمی تقاضوں کو تسلیم نہ کرتے تھے۔ ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (٤٣ : ٩) “ اگر تم ان سے پوچھو کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے ” ۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ دو صفات عزیز و زبردست اور علیم یہ کفار کا قول نہ تھا۔ وہ تو صرف اسی قدر مانتے تھے کہ وہ اللہ ہے وہ اللہ وہ صفات نہ مانتے تھے جو اسلام اور قرآن نے پیش کیں۔ ایسی صفات جو ان کی زندگی پر مثبت اثر ڈالیں۔ جو ان کی زندگی اور اس کائنات کو بیک وقت عملاً چلائیں۔ وہ اللہ کو بس اس کائنات کا خالق مانتے تھے۔ خود اپنا خالق بھی اللہ کو مانتے تھے لیکن زندگی کو عملاً چلانے کے لئے پھر انہوں نے کچھ دوسری ہستیاں بنا رکھی تھیں۔ کیونکہ اللہ کی ایسی صفات سے متعارف نہ تھے جن کے بعد پھر انہیں شرک کی ضرورت نہ پڑے ۔ اور عقیدہ شرک انہیں پوچ اور بےوقعت نظر آئے۔ قرآن مجید یہاں ان کو یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس خدا کو تم خالق السموات والارض سمجھتے ہو۔ وہ العزیز بھی ہے اور العلیم بھی ہے۔ وہ قادر بھی ہے ، وہ علیم و عارف بھی ہے۔ چناچہ اللہ ان کے اس اعتراف کو بنیاد بنا کر ان کو درج ذیل اعترافات پر مجبور کرتا ہے۔ غرض ان کو ایک قدم آگے بڑھا کر ان کو یہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بعد اللہ نے تم پر یہ فضل کیا : الذی جعل لکم ۔۔۔۔۔۔ لعلکم تھتدون (٤٣ : ١٠) “ وہی نا جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دئیے تا کہ تم اپنی منزل کی راہ پاسکو ”۔ یہ حقیقت کہ اللہ نے انسان کے لئے اس زمین کو گہوارہ بنایا اسے ہر دور کے انسان نے اپنے حدود علم کے مطابق سمجھا ہے اور اس کی تصویر بنائی ہے۔ جن لوگوں نے پہلی مرتبہ اس کو سنا ہوگا ، انہوں نے بھی یہ سمجھا ہوگا کہ اللہ نے زمین کو اس قابل بنایا کہ وہ ان کے قدموں کے نیچے چلنے کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زراعت کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زندگی اور نباتات کے لئے موزوں ہے لیکن آج ہم اس بات کو کہ زمین تمہارے لیے گہوارہ بنا دی گئی ذرا زیادہ وسعت اور گہرائی کے ساتھ سمجھ رہے ہیں۔ جس حد تک ہم نے اس زمین کے بارے میں معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اس کی بعید و قریب تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کرلی ہیں بشرطیکہ ہمارے اپنے علوم کے بارے میں جو نظریات قائم ہوتے ہیں وہ ہوں بھی درست اور ہم جو اندازے اور تخمینے لگاتے ہیں وہ صحیح ثابت ہوجائیں۔ ہم سے بعد میں آنے والی نسلیں ان کے بارے میں ہم سے بھی زیادہ سمجھیں گی۔ یوں اس آیت کا مفہوم وسعت اختیار کرتا جائے گا۔ جس قدر ہم علم میں آگے بڑھیں گے ، علم و معرفت کی فتوحات کی وسعت کے ساتھ ساتھ اس آیت کے معانی بھی وسیع ہوتے جائیں گے اور یوں انسانی جہالت کا پردہ دور تر جاتا رہے گا۔ ہم آج جانتے ہیں کہ یہ زمین انسان کے لئے کس قدر اچھا گہوارہ بنائی گئی ہے اور اس کے اندر انسان اپنے لیے زندگی کی کس قدر مختلف راہیں تلاش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کرۂ ارض مختلف مراحل سے گزر کر یہاں تک یعنی اپنی موجودہ حالت تک پہنچی ہے اور انسان کے لئے گہوارہ بنائی گئی ہے۔ ان مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ تھا کہ اس پوری زمین کی سطح ایک سخت چٹان تھی۔ اس کے بعد اس پر جگہ جگہ مٹی جمع ہوئی اور اس میں نباتات اگنا شروع ہوئے اور اس کی سطح پر جو ہائیڈروجن گیس اور آکسیجن گیس موجود تھی ، ان کے ملاپ سے پانی وجود میں آگیا۔ پھر اپنی گردش محوری کے نتیجے میں اس کے دن کے اندر اس قدر معتدل حرارت پیدا ہوئی کہ وہ حیوانات کی زندگی کے لئے مناسب ہوگئی۔ اور اس کی رفتار گردش محوری کو یوں رکھا گیا کہ اس کی سطح پر چیزوں کا کھڑا رہنا ممکن ہوا۔ انسان مکانات اور دوسری چیزیں بکھر کر ہوا میں نہیں اڑ گئیں۔ پھر اللہ نے اس زمین کے اندر کشش ثقل پیدا کی ۔ یوں ہوا کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا جس کے اندر زندگی ممکن ہوئی۔ اگر اس زمین کے اردگرد پائی جانے والی ہوا زمین کی جاذبیت سے چھوٹ جائے تو زمین پر کسی چیز کا زندہ رہنا ممکن نہ ہو ، دوسرے اجرام فلکی کی سطح پر چونکہ جاذبیت نہیں ہے یا اس سے کمزور ہے تو وہاں حیات ممکن نہیں ہوسکی۔ ان کر ات سے ہوا چلی گئی۔ مثلاً چاند کے اوپر کوئی ہوا نہیں ہے۔ یہ جاذبیت اس قدر متوازن ہے کہ حرکت زمین کی وجہ سے اشیاء کو دور پھینکنے کا جو عمل پیدا ہوتا ہے اس کے اندر یہ توازن پیدا کردیتی ہے۔ یوں تمام اشیاء اور زندہ چیزیں بکھرنے اور اڑ جانے کے عمل سے محفوظ ہیں۔ اور یہاں زمین کی سطح پر ان کا ٹھہرنا اور چلنا بالکل ممکن ہے۔ اگر یہ جاذبیت موجودہ مقدار سے بڑھ جائے تو تمام زندہ اور مردہ چیزیں زمین کے ساتھ لیٹ جائیں۔ انسانوں کے لئے قدم اٹھانا ممکن نہ ہو ، یا بہت مشکل ہو اور اس کے لئے بہت ہی قوت صرف کرنی پڑے اور دوسری جانب سے انسان پر ہوا کا دباؤ بڑھ جائے تو انسان کو زمین کے ساتھ چپکا دے ۔ جس طرح ہم مچھروں اور مکھیوں کو پریشر کے ارتکاذ سے ہاتھ لگائے بغیر ہلاک کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ دباؤ اس سے کم ہوجائے جو ہے تو ہمارا سینہ اور ہماری شریانیں خون کے دباؤ کی وجہ سے پھٹ جائیں۔ اور زمین کو گہوارہ بنانے اور اس کے اوپر راستوں کو ہموار کرنے کے سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خالق ارض و سمانے اس زمین کے اندر ایسی موافق قوتیں و دیعت فرمائی ہیں جو سب کی سب مل کر اس زمین پر زندگی کو سہل بناتی ہیں۔ اگر ان موافق حیات یا ممد حیات قوتوں میں سے ایک قوت بھی ناپید ہوجائے یا اس میں خلل واقع ہوجائے تو اس کرۂ ارض پر زندگی محال ہوجائے۔ بعض تو وہ ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ اور بعض اور ہیں۔ مثلاً اللہ نے اس کرۂ ارض پر پانیوں کی مقدار کو اس قدر رکھا ہے جو سمندروں ، دریاؤں کی شکل میں زمین کی سطح کے اوپر ہونے والے تمام مسموم گیسوں کو چوس لیتے ہیں اور زمین کی فضا کو آلودگی سے اس قدر صاف رکھا جاتا ہے کہ یہاں زندگی کا وجود ممکن ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے نباتات کو آکسیجن کے درمیان توازن کے قیام کا ذریعہ بنایا۔ وہ آکسیجن جس کو انسان سانس کے ذریعہ لیتا ہے اور اس آکسیجن کے درمیان جس کو نباتات چھوڑتے ہیں۔ اگر یہ توازن نہ ہوتا تو ایک عرصہ کے بعد انسان دم گھٹ کر مرجاتا۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے مفہوم و معانی اس آیت میں شامل ہیں۔ الذی جعل ۔۔۔۔۔۔ فیھا سبلا (٤٣ : ١٠) “ جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنائے ”۔ ہر دم اور ہر روز اس کے نئے نئے معانی منکشف ہو رہے ہیں اور یہ معانی اور مدلولات ان معانی پر اضافہ ہوتے جاتے ہیں جو اس آیت سے اس کے اول مخاطبین کرام سمجھتے تھے ۔ اور یہ سب اللہ حاکم سموات والارض کے علم کو بھی ظاہر کرتے ہیں اور اس کی قدرت کے بھی مظاہر ہیں۔ جو زبردست ہے اور نہایت حکمت والا ہے۔ یہ سب معانی ایک شعور رکھنے والے دل کو یہ دکھاتے ہیں کہ ایک خالق اور مدبر قوت موجود ہے جس قدر انسان کی نظر آگے بڑھتی ہے اور اس کی سوچ گہرائی تک جاتی ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ کوئی ایسی مخلوق نہیں جو آوارہ چھوڑ دی گئی ہو ، اور یہ کہ اس نے کسی کے آگے جواب نہیں دینا ہے بلکہ انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ ایک زبردست قوت والے مدبر نے ان کو پکڑ رکھا ہے اور وہ اس کے تمام امور کا والی ہے ، زندگی میں بھی ، زندگی کے بعد بھی۔ لعلکم تھتدون (٤٣ : ١٠) “ تا کہ تم اپنی منزل مقصود پا سکو ”۔ اس کائنات پر اس طرح گہرائی کے ساتھ غور کرنا ، اور اس کے اندر پائے جانے والے نوامیس فطرت کا گہرا مطالعہ اس بات کا ضامن ہے کہ انسان کا دل و دماغ خالق کائنات کی طرف راہ لے۔ جس نے اس کائنات کے اندر اس قدر گہری تنظیم اور توازن رکھا ہے۔ زندگی کی نشوونما اور اس میں زندوں کے لئے سہولیات اور زمین کو ان کے لئے گہوارہ بنانے اور اس میں انسانوں کے لئے راستے بنانے کے بعد اب ایک قدم اور آگے : والذی نزل ۔۔۔۔۔۔ کذلک تخرجون (٤٣ : ١١) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ مردہ کو جلا اٹھایا اسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ وہ پانی جو آسمانوں سے نازل کیا جاتا ہے اسے تو ہر انسان دیکھتا ہے اور جانتا ہے لیکن اس منظر کو اکثر لوگ یونہی دیکھ کر گزر جاتے ہیں اور اس پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہوتا اور اس کے احساس و شعور میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ ہر وقت اور بسا اوقات نزول باران رحمت دیکھتے رہے ہیں لیکن حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بارش کے قطروں کو نہایت ہی محبت ، نہایت ہی دلچسپی اور نہایت مسرت سے دیکھتے تھے ، اس لیے کہ آپ کو یہ پختہ شعور حاصل تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے آرہے ہیں اس لیے کہ آپ کا زندہ و بیدار قلب اچھ طرح دیکھ رہا تھا کہ یہ قطرے اللہ کی صفت کے اعلیٰ نمونے ہیں۔ آپ ان میں دست قدرت کی کاریگری دیکھ رہے تھے۔ ان قطروں پر اس دل کو اسی طرح دیکھنا چاہئے جو اللہ تک پہنچا ہوا ہو اور اس کائنات کے اندر اللہ کے جاری کردہ نوامیس فطرت کو جانتا ہو۔ کیونکہ بارش کے یہ قطرے انہی قوانین قدرت کے نتائج ہیں۔ یہ نوامیس فطرت اس کائنات میں اللہ کی نظروں کے تحت اور اللہ کے دست قدرت کے ذریعہ ایک ایک قطرہ ہو کر گرتے ہیں۔ اس حقیقت کی ضرورت اور اس کے اثرات میں یہ سوچ کمی نہیں لا سکتی کہ یہ پانی دراصل بخارات تھے جو زمین سے اوپر فضا میں جا کر ٹھنڈے ہوگئے اور فضاؤں میں ان کے اندر اس قدر کثافت پیدا ہوگئی کہ بارش ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر زمین کو کس نے پیدا کیا۔ یہاں پانی کس نے بنایا۔ پھر ان پر حرارت کس نے مسلط کی اور اپنی کی ساخت کس نے اس طرح بنائی کہ وہ حرارت سے بخار بن جائے۔ پھر بخارات کے اندر یہ خاصیت کس نے رکھی کہ وہ اوپر جائیں ؟ اور اوپر پھر کثیف ہوجائیں۔ پھر یہ خصائص کس نے رکھے۔ یہ بخارات بجلیوں سے بھی بھر جائیں جو آپس میں ملیں تو پانی نیچے گرجائے اور پھر بجلی کیا چیز ہے ؟ غرض وہ تمام خصائص طبیعت کیا ہیں جن سے مل کر بارش بنتی ہے۔ سائنسی پڑھ کر دراصل ہم اپنے احساس کے پردوں کو اس قدر کثیف بنا دیتے ہیں کہ اس کائنات کے عجائبات کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا حالانکہ ہمیں چاہئے تو یہ ہے کہ سائنس کے ذریعہ ہم اپنے احساسات کو مزید تیز کردیں ، اس قدر تیز کہ دل خوف خدا سے کانپ اٹھیں۔ والذی ۔۔۔۔ ماء بقدر (٤٣ : ١١) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا ”۔ یہ پانی ایک اندازے کے اندر مقدر اور موزوں ہے ، نہ زیادہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو غرق کر دے ، نہ اس قدر کم ہوتا ہے کہ زمین خشک ہو کر زندگی کے قابل ہی نہ رہے۔ ہم یہ عجیب توازن اور مقدار دیکھ رہے ہیں۔ اور آج اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ توازن زندگی کی ضروریات کے لئے ضروری ہے اور یہ ارادۂ الٰہیہ سے قائم ہوا۔ فانشرنا بہ بلدۃ میتا (٤٣ : ١١) “ اور اس کے ذریعہ مردہ زمین کو جلا اٹھایا ”۔ انشا سے مراد احیاء ہے اور ہر قسم کی زندگی پانی کے بعد آتی ہے کیونکہ اللہ نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا۔ کذلک تخرجون (٤٣ : ١١) “ اس طرح تم ایک روز زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ جس نے پہلی مرتبہ زندہ کیا وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے۔ جس نے زندہ چیزوں کو پہلی مرتبہ مردہ زمین سے نکالا ، اس طرح وہی قیامت کے دن میدان حشر میں سب زندہ انسانوں کو اگا کر نکال لائے گا۔ جب ابتداء ہوگئی تو اعادہ اور تکرار مشکل نہیں رہتا۔ اس میں اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ پھر یہ جانور جن کو یہ لوگ تقسیم کر کے کچھ اللہ کو دیتے ہیں اور کچھ اللہ کے سوا دوسرے شریکوں کو ، وہ تو اللہ نے اس لیے نہیں پیدا کئے کہ تم اس طرح کی تقسیم کرو ، یہ تو اس لیے تخلیق کیے گئے ہیں کہ یہ لوگوں کے لئے نعمت خداوندی کا کام کریں۔ لوگ ان پر اس طرح سوار ہوں جس طرح کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں اور ان کی اس تسخیر پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ اور اللہ کے انعامات کے مقابلے میں شکریہ ادا کریں۔ والذی خلق الازواج ۔۔۔۔۔ ما ترکبون (٤٣ : ١٢) لتستوا علی ۔۔۔۔۔ لہ مقرنین (٤٣ : ١٣) وانا الی ربنا لمنقلبون (٤٣ : ١٤) “ وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا۔ تا کہ تم ان کی پشت پر چڑھو اور ۔۔۔۔ پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ۔۔۔۔۔ قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی پلٹنا ہے ”۔ اللہ نے زندگی کے تسلسل کو زوجیت کے اصول پر رکھا ہے۔ تمام زندہ اشیاء جوڑے جوڑے ہیں۔ یہاں تک کہ پہلا خلیہ بھی اپنے ساتھ تذکیر زمانیت کے خصائص لیے ہوئے ہوتا ہے ، بلکہ سائنسی تحقیقات نے یہ بتا دیا ہے کہ پوری کائنات کا دارومدار ازواج پر ہے۔ اور ہم پر یہ تسلیم کریں کہ کائنات کی پہلی اکائی ذرہ ہے۔ جو منفی الیکٹرون اور مثبت پروٹون سے مرکب ہے تو یہ بھی جوڑا ہے اور طبیعی تحقیقات اسی نہج پر آگے جاری ہیں۔ بہرحال زندگی میں زوجیت کا نظام بالکل ظاہر ہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمام جوڑے پیدا کئے خواہ انسانوں کے ہوں یا حیوانوں کے : وجعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون (٤٣ : ١٢) “ اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا ”۔ یہاں اشارہ اسی طرف ہے کہ تمہیں خلیفۃ اللہ فی الارض بنایا اور اس زمین کی تمام قوتیں اور طاقتیں تمہارے لیے مسخر کیں۔ اس کے بعد ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ ان نعمتوں کا شکر لازم ہے۔ اس مرتبے کے آداب بجا لانا لازم ہے۔ اور جب بھی نعمت سامنے آئے ، منعم کو یاد کرو ، تا کہ دل خالق سے جڑے رہیں۔ زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں۔ لتستوا علی ظھورہ۔۔۔۔ لہ مقرنین (٤٣ : ١٣) “ اور جب ان پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے ”۔ ہم تو اللہ کی نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کے مقابلے میں نعمت کا بدلہ نعمت سے نہیں دے سکتے۔ ہم تو نعمتوں کے مقابلے میں صرف شکر کرسکتے ہیں پھر وہ یاد کریں کہ زمین پر سے اپنی خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد انہوں نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور وہ ان کو ان کے تمام اعمال پر جزا دے گا جو انہوں نے فریضہ خلافت سر انجام دینے کے سلسلے میں کئے اور یہاں ان پر انعامات کئے اور پوری دنیا کو ان کے لئے مسخر کیا۔ وانا الی ربنا لمنقلبون (٤٣ : ١٤) “ اور ایک روز ہم نے اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ” ۔ یہ ہے منعم حقیقی کے حوالے سے ایک مسلمان کا رویہ اور طرز عمل۔ اللہ اس کے بارے میں ہمیں یاد دہانی فرماتا ہے کہ جب بھی کسی نعمت سے لطف اندوز ہوجاؤ تو رب کا شکر ادا کرو۔ کیونکہ تم ہر وقت اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہو لیکن نعمت اور شکر نعمت بھول جاتے ہو۔ یہ اسلامی آداب جو اللہ کی نعمتوں کے استعمال کے وقت سکھائے گئے ہیں ، یہ محض رسومات نہیں کہ رسماً یہ دعا پڑھ لی جائے جب بھی کوئی کسی سواری پر سوار ہو یا کشتی پر سوار ہو ، یا محض منتر کی طرح عبارات نہیں کہ ان کو پڑھ لیا جائے بلکہ ان عبارات کے معانی کو سمجھ کر ان کا شعور اپنے دل میں پیدا کرنا چاہیے۔ اللہ کی ذات کا تصور ، بندے اور خدا کے تعلق کا تصور اور اللہ کی ان تمام نعمتوں کا تصور جو ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں اور جن قوتوں کو اللہ نے ہمارے لیے مسخر کیا ہے ان کے بارے میں یہ زندہ تصور کہ یہ تو اللہ کے بہت بڑے انعامات ہیں جو انسان پر ہوئے ہیں۔ جن کا کوئی بدلہ انسان اللہ کو نہیں دے سکتا وہ اللہ کے فضل و کرم کا بدلہ دینے پر تو قادر ہی نہیں۔ اس لیے وہ نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ کے ہاں حاضر ہونے سے ہر وقت ڈرتے رہیں کہ حساب و کتاب میں مارے نہ جائیں۔ یہ سب احساسات اس بات کے ضامن ہیں کہ انسان کا دل ہر وقت بیدار رہے ، حساس رہے اور اللہ کی نگرانی کا ہر وقت خیال کرے۔ اور کسی بھی وقت اس پر غفلت اور نسیان کی حالت طاری نہ ہو۔ ٭٭٭ اور اس کے بعد یہ بات کہ فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ یہ ان کا زعم تھا اور حقیقت کے مطابق ان کا افسانوی عقیدہ تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا ﴾ جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا جس پر آرام سے رہتے ہو اور بستے ہو ﴿وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِيْهَا سُبُلًا ﴾ (اور اس نے تمہارے لیے اس میں راستے بنائے) ﴿لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ٠٠١٠﴾ (تاکہ تم ہدایت پاؤ) یعنی تم اپنے اسفار میں جاؤ تو ان راستوں سے گزرو اور اپنے مقاصد پورے کرو اور یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ تم فکر کرو اور ہدایت پاؤ اور توحید پر آؤ کہ جس ذات پاک نے یہ زمین پیدا فرمائی اور اس میں راستے بنائے وہ وحدہ لا شریک ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” الذی جعل لکم “ تا ” ماترکبون “ یہ پہلی عقلی دلیل پر تنویر ہے۔ یعنی یہ تمام اوصاف اسی خالق کائنات کے ساتھ مختص ہیں اور یہ سب کام وہی کرسکتا ہے، اس کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا۔ ” الذی جعل لکم الرض مہدا الخ “ اس نے زمین کو ہمارے لیے آرام و راحت کی جگہ بنادیا جس سے ہمیں ہر ضرورت اور ہر آسائش آسانی سے میسر ہوسکتی ہے۔ اس پر چلنا پھرنا، مکانات عمیر کرنا، کھیتی باڑی کرنا، نہریں کھودنا سب کچھ آسان ہے اور پھر زمین میں راستے بنا دئیے جن کے ذریعے سے ہم بآسانی سفر طے کرسکتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے۔ ” والذی نزل من السماء ماء الخ “ وہی آسمان سے باران رحمت نازل فرم اکر بےکار اور خش زمین کو زرخیز بنا کر اسے حیات نو بخشتا ہے اس لیے کون ہے جو یہ کام کرسکتا ہے ؟ ” کذلک تخرجون “ یہ جملہ معترضہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو زرخیز کرسکتا ہے، اسی طرح وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ گویا یہ دلیل جس طرح اللہ کے متصرف و کارساز اور قدیر و حکیم ہونے پر دلالت کرتی ہے اسی طرح اس دلیل سے حشر و نشر بھی ثابت ہوتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور بچھونا بنایا اور اس نے زمین میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ زمین کو پھیلانا اور بچھانا پھر اس میں راستے اور بٹیا میں قائم کرنا یہ اس کا کام ہے تاکہ تم راہ پائو اور منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ یہ ہر مسافر جانتا ہے کہ سفر طے کرنے اور منزل پر پہنچنے کے لئے شاہراہ سڑک اور بٹیا کس قدر ضروری ہے۔