Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 14

سورة الزخرف

وَ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾

And indeed we, to our Lord, will [surely] return."

اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And verily, to Our Lord we indeed are to return. means, `We will return to Him after our death, and our ultimate destination is with Him.' In this Ayah, mention of earthly journeys draws attention to the journey of the Hereafter, just as elsewhere, mention of earthly provision draws attention to the importance of ensuring provision for the Hereafter, as Allah says: وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى And take a provision (with you) for the journey, but the best provision is the Taqwa. (2:197) And mention of earthly garments is also used to draw attention to the raiment of the Hereafter: وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ and as an adornment; and the raiment of the Taqwa, that is better. (7:26)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣] یعنی اس دنیا میں ہماری ساری زندگی ہی مسافرانہ ہے اور ہماری منزل آخرت ہے۔ اب سوچئے اگر کوئی شخص سفر پر روانہ ہوتے وقت یا سواری پر بیٹھ کر سوچ سمجھ کر یہ دعا پڑھے تو کیا وہ کسی گناہ کے کام کے لیے سفر کرسکتا ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَإِنَّا إِلَىٰ رَ‌بِّنَا لَمُنقَلِبُونَ (and of course, towards our Lord we have to return - 14). These words teach us that every time a man embarks on a journey, he should think of his last arduous journey to the Hereafter also, which one has to undertake in all circumstances; - and the only way to make it easy is to have a vehicle of good deeds.

(آیت) وَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ (اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں) ان الفاظ کے ذریعہ تعلیم یہ دی گئی ہے کہ انسان کو اپنے ہر دنیوی سفر کے وقت آخرت کا وہ کٹھن سفر یاد کرنا چاہئے جو ہر حال میں پیش ہو کر رہے گا اور اسے سہولت کے ساتھ طے کرنے کے لئے اعمال صالحہ کے سوا کوئی سواری نہیں ہوگی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۝ ١٤ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ انقلاب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، والِانْقِلابُ : الانصراف، قال : انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] ، وقال : إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الأعراف/ 125] ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں الانقلاب کے معنی پھرجانے کے ہیں ارشاد ہے ۔ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ ( یعنی مرتد ہوجاؤ ) وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا ۔إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الأعراف/ 125] ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤{ وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ } ” اور یقینا ہم اپنے ربّ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

14 That is, "While embarking on every journey one should remember that there is ahead a longer and final journey also. Besides there is the possibility in the use of every conveyance that an accident may turn that very journey into one's last journey; therefore, every time one should remember one's return to one's Lord so that if something untoward happens, one does not die unawares. Let us pause here for a while and consider the moral results of this teaching. Can one imagine that a person who while sitting on a conveyance starts his journey consciously with Rill remembrance of Allah and his return and accountability before Him, would commit sins and injustices and tyrannies on the way? Can a person think or utter these words from his mouth when he intends to go to meet a prostitute, or to visit a club for the purpose of drinking and gambling? Can a ruler, or a government official, or a merchant who has stepped out of his house with such thoughts and such words at his lips, usurp the rights of others when he reaches his destination? Can a soldier utter these words while boarding his aircraft or tank when he goes out to shed blood of the innocent and deprive the weak of their freedom? If not, then this one thing alone is enough to bar every movement undertaken for the commission of a sin.

سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :14 مطلب یہ ہے کہ ہر سفر پر جاتے ہوئے یاد کر لو کہ آگے ایک بڑا اور آخری سفر بھی درپیش ہے ۔ اس کے علاوہ چونکہ ہر سواری کو استعمال کرنے میں یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ شاید کوئی حادثہ اسی سفر کو آدمی کا آخری سفر بنا دے ، اس لیے بہتر ہے کہ ہر مرتبہ وہ اپنے رب کی طرف واپسی کو یاد کر کے چلے تاکہ اگر مرنا ہی ہے تو بے خبر نہ مرے ۔ یہاں تھوڑی دیر ٹھہر کر ذرا اس تعلیم کے اخلاقی نتائج کا بھی اندازہ کر لیجیے ۔ کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ جو شخص کسی سواری پر بیٹھتے وقت سمجھ بوجھ کر پورے شعور کے ساتھ اس طرح اللہ کو اور اس کے حضور اپنی واپسی اور جواب دہی کو یاد کر کے چلا ہو وہ آگے جا کر کسی فسق و فجور یا کسی ظلم و ستم کا مرتکب ہوگا ؟ کیا کسی فاحشہ سے ملاقات کے لیے ، یا کسی کلب میں شراب خوری اور قمار بازی کے لیے جاتے وقت بھی کوئی شخص یہ کلمات زبان سے نکال سکتا ہے یا ان کا خیال کر سکتا ہے ؟ کیا کوئی حاکم یا سرکاری افسر ، یا تاجر ، جو یہ کچھ سوچ کر اور اپنے منہ سے کہہ کر گھر سے چلا ہو ، اپنی جائے عمل پر پہنچ کر لوگوں کے حق مار سکتا ہے ؟ کیا کوئی سپاہی بے گناہوں کا خون بہانے اور کمزوروں کی آزادی پر ڈاکہ مارنے کے لیے جاتے وقت بھی اپنے ہوائی جہاز یا ٹینک پر قدم رکھتے ہوئے یہ الفاظ زبان پر لا سکتا ہے ؟ اگر نہیں ، تو یہی ایک چیز ہر اس نقل و حرکت پر بند باندھ دینے کے لیے کافی ہے جو معصیت کے لیے ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: یہ وہ دعا ہے جو کسی سواری پر سوار ہونے کے وقت پڑھنی چاہئے۔ اس میں اول تو اس بات کا شکر اور اعتراف ہے کہ یہ سواری اللہ تعالیٰ کا انعام ہے، اور دوسرے اس کے آخری جملے میں انسان کو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی سفر کرتے وقت یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اسے ایک آخری سفر پیش آنے والا ہے جس میں وہ دنیا کو چھوڑ کر اپنے پروردگار کے پاس پہنچے گا، اور اس وقت اپنے سارے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔ اس لیے یہاں رہتے ہوئے کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہئے جس کے نتیجے میں وہاں شرمندگی اٹھانی پڑے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:14) منقلبون۔ اسم فاعل جمع مذکر ، منقلب واحد۔ انقلاب (انفعال) مصدر۔ قلب مادہ۔ لوٹنے والے۔ قلب الشیء کے معنی کسی چیز کو پھیرنے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں۔ انقلاب کے معنی پلٹنے۔ پھرجانے کے ہیں ۔ قرآن مجید میں ہے : ومن ینقلب علی عقبیہ (3:142) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا۔ بعض نے کہا کہ انسان کے دل کو بھی قلب اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ کثرت سے الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔ وانا الیہ لمنقلبون : اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر کے لئے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ ” اللہ اکبر “ کہہ کر (سبحان الذی سخر لنا ھذا) سے ( لمنقلبون) تک یہ دعا پڑھتے اور پھر فرماتے ( اللھم انی اسئلک فی سفری ھذا البروالتقوی ومن العمل ما ترضی اللھم ھون علینا السفروا طولنا البعد اللھم انت الصاحب فی السفر و الخلیفۃ فی الاھل اللھم اصحبنا فی سفرنا واخلقنا فی اھلنا اور جب سفر سے واپس آتے تو فرماتے ( ائبون تائبون انشاء اللہ عابد ون لربنا حامدون) (ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” وانا الی ربنا لمنقلبون “ یہ سب کچھ اللہ نے اس لیے پیدا کیا ہے، تاکہ تم ان کو دیکھو اور ان میں غور و فکر کرو اور سمجھ لو کہ سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اور آخر کار سب اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور قیامت کے دن اس کی عدالت میں حاضر ہونے والے ہیں۔ اس سورت میں دو دعوے مذکور ہیں۔ اول یہ کہ متصرف و کارساز اور خالق کائنات اللہ تعالیٰ ہی۔ دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نائب نہیں۔ یہاں تک ایک دعوی ثابت ہوگیا کہ سب کچھ پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پہلا جزء مشرکین کے اعتراف سے اور دوسرا جزء دلیل عقلی پر لائی گئی تنویر سے دوسرا دعوی آگے دلائل نقلیہ سے ثابت کیا جائے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) اور بیشک ہم اپنے پروردگار و کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ حضرت حق جل مجدہ نے دلائل توحید کے سلسلے میں ان احسانات کا تذکرہ فرمایا…ظاہر ہے کہ بحری اور بری میں سفروں کی سہولت اور آسانی کے لئے یہ چیزیں پیدا فرمائیں پھر ان چیزوں پر انسان کو قابو یافتہ فرمایا۔ وہ کشتیاں ہوں یا چوپائے ہوں انسان سب پر حکمرانی کرت ہے آخر میں آداب تعلیم فرمائے کہ جب کسی سواری پر بیٹھو تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اپنے دل میں اعتراف کیا کرو اور قلب میں اس کی نعمت ہائے بےکراں کو محسوس کیا کرو……اور زبان سے بھی اس کا اظہار کیا کرو سواری پر سوار ہوتے وقت مختلف دعائیں حدیث کی کتابوں میں منقول ہیں قرآن میں یہ الفاظ ہیں۔ سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ یہ واقعہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان چیزوں کو پیدا نہ فرماتا تو کوئی اور پیدا کرنے والا نہ تھا اور گر وہ پیدا کرنے کے بعد ان کو انسان کے لئے مسخر نہ فرماتا تو ان کے قابو میں میں کرنا اور ان حیوانات کو اپنا قرین بنانا انسان کے بس کی بات نہ تھی۔ دعا میں اپنی عاجزی، بےبسی اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اعتراف ہے اور ساتھ ہی سفر آخرت کا بھی اقرا رہے جو آخری اور حقیقی سفر ہے آگے بندوں کی نافرمانی اور حضرت حق کی شان میں غلط الزامات اور ان کے جوابات مذکور ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سفر سے آخرت کا سفر یاد کرو حضرت سوار ہوتے تو یہی تسبیح کہتے۔