Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 20

سورة الزخرف

وَ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ الرَّحۡمٰنُ مَا عَبَدۡنٰہُمۡ ؕ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ٭ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾

And they said, "If the Most Merciful had willed, we would not have worshipped them." They have of that no knowledge. They are not but falsifying.

اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے انہیں اس کی کچھ خبر نہیں یہ صرف اٹکل پچو ( جھوٹ باتیں ) کہتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَقَالُوا لَوْ شَاء الرَّحْمَنُ مَا عَبَدْنَاهُم ... And they said: "If it had been the will of the Most Gracious, we should not have worshipped them." means, (they said:) `if Allah had willed, He would have prevented us from worshipping these idols which are images of the angels who are the daughters of Allah; He knows about this and He approves of it.' By saying this, they combined several types of error: First: They attributed offspring to Allah -- exalted and sanctified be He far above that. Second: They claimed that He chose daughters rather than sons, and they made the angels, who are the servants of the Most Gracious, female. Third: They worshipped them with no proof, evidence or permission from Allah. This was based on mere opinion, whims and desires, imitation of their elders and forefathers, and pure ignorance. They used Allah's decree as an excuse, and this reasoning betrayed their ignorance. Fourth: Allah denounced them for this in the strongest terms, for from the time He first sent Messengers and revealed Books, the command was to worship Him Alone with no partner or associate, and it was forbidden to worship anything other than Him. Allah says: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَـلَةُ فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah, and avoid all false deities." Then of them were some whom Allah guided and of them were some upon whom the straying was justified. So travel through the land and see what was the end of those who denied. (16:36) وَاسْيلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَأ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ And ask those of Our Messengers whom We sent before you: "Did We ever appoint gods to be worshipped besides the Most Gracious" (43:45) And Allah says in this Ayah, after mentioning this argument of theirs: ... مَّا لَهُم بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ ... They have no knowledge whatsoever of that. meaning, of the truth of what they say and the arguments they put forward. ... إِنْ هُمْ إِلاَّ يَخْرُصُونَ They do nothing but lie! means, they tell lies and fabricate untruths. Mujahid said about مَّا لَهُم بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلاَّا يَخْرُصُونَ (They have no knowledge whatsoever of that. They do nothing but lie!), "They do not appreciate the power of Allah."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

20۔ 1 یعنی اپنے طور پر اللہ کی مشیت کا سہارا، یہ ان کی ایک بڑی دلیل ہے کیونکہ ظاہراً یہ بات صحیح ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا نہ ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ اس بات سے بیخبر ہیں کہ اس کی مشیت، اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔ ہر کام یقینا اس کی مشیت ہی سے ہوتا ہے لیکن راضی وہ انہی کاموں سے ہوتا ہے جن کا اس نے حکم دیا ہے نہ کہ ہر اس کام سے جو انسان اللہ کی مشیت سے کرتا ہے، انسان چوری، بدکاری، ظلم اور بڑے بڑے گناہ کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی کو یہ گناہ کرنے کی قدرت ہی نہ دے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لے، اور اس کے قدموں کو روک دے اس کی نظر سلب کرلے۔ لیکن یہ جبر کی صورتیں ہیں جب کہ اس نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اسے آزمایا جائے، تاہم یہ اختیار اللہ دنیا میں اس سے واپس نہیں لے گا، البتہ اس کی سزا قیامت والے دن دے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠] گناہوں پر مشیئت کی دلیل باطل ہے :۔ جاہلوں کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنے مذموم عقائد اور معصیت کے کاموں کے لیے مشیئت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ ان کی یہ جہالت ہے کہ وہ اللہ کی مشیئت اور اللہ کی رضا کے فرق کو نہیں سمجھتے، تبھی ایسی دلیل دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو ایک ظالم اور ڈاکو انسان بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں اس پر اللہ راضی ہے تبھی تو مجھے ایسے کام کرنے کے مواقع دیئے جاتا ہے۔ اور اس لحاظ سے دنیا میں کوئی کام شر رہتا ہی نہیں بلکہ سب کچھ خیر ہی خیر ہونا چاہئے۔ حالانکہ اس بات کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔ دنیا میں کفر و شرک اور فتنہ و فساد عام ہے۔ حالانکہ اللہ ان باتوں کو قطعاً پسند نہیں کرتا۔ لہذا جو کچھ بھی دنیا کے اندر ہو رہا ہے یہ تو فی الواقع مشیئت الٰہی کے تحت ہورہا ہے۔ لیکن جو کچھ ہونا چاہئے یا جو کچھ اللہ کی رضا ہے وہ اللہ کی کتاب میں مذکور ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وقالوا لوشآء الرحمٰن ماعبدنھم : یہ اپنی گمراہی اور مشرکانہ گستاخی پر کفار مکہ کا ایک اور استدلال تھا، یعنی وہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے کے بجائے سارا الزام تقدیر الٰہی پر دھرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی یہ مشیت تھی اور اس نے ہماری قسمت میں لکھ دیا تھا کہ ہم فرشتوں کو دیویاں سمجھ کر ان کی پرستش کریں۔ تقدیر لاٰہی سے اس قسم کا غلط استدلال باطل پرستوں کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی پسند دوسری چیز ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتا جیسے یہ مشرک کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر شرک سے روکنے کی کیا ضرورت تھی ۔ (ابن کثیر) مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة انعام (١٤٨) اور سورة نحل (٣٥) کی تفسیر۔ (٢) مالھم بذلک من علم : یعنی وہ تقدیر کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کو غلط معنی پہناتے ہیں۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :” یعنی یہ توچ ہے کہ بن چاہے خدا کے کوئی چیز نہیں، پر اس کا بہتر ہونا نہیں نکلتا۔ اس نے قوت (خوراک) بھی پیدا کیا ور زہر بھی، پر زہر کون کھاتا ہے۔ “ (موضح) (٣) ان ھو الا یخرصون : یعنی جہالت کی وجہ سے ایسی باتیں بناتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالُوْا لَوْ شَاۗءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰہُمْ۝ ٠ ۭ مَا لَہُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ۝ ٠ ۤ اِنْ ہُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۝ ٢٠ ۭ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو۔ ہلاک کردے ۔ خرص الخَرْص : حرز الثّمرة، والخَرْص : المحروز، کالنّقض للمنقوض، وقیل : الخَرْص الکذب في قوله تعالی: إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ [ الزخرف/ 20] ، قيل : معناه يکذبون . وقوله تعالی: قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ [ الذاریات/ 10] ، قيل : لعن الکذّابون، وحقیقة ذلك : أنّ كلّ قول مقول عن ظنّ وتخمین يقال : خَرْصٌ ، سواء کان مطابقا للشیء أو مخالفا له، من حيث إنّ صاحبه لم يقله عن علم ولا غلبة ظنّ ولا سماع، بل اعتمد فيه علی الظّنّ والتّخمین، کفعل الخارص في خرصه، وكلّ من قال قولا علی هذا النحو قد يسمّى کاذبا۔ وإن کان قوله مطابقا للمقول المخبر عنه۔ كما حكي عن المنافقین في قوله عزّ وجلّ : إِذا جاءَكَ الْمُنافِقُونَ قالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ ، وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنافِقِينَ لَكاذِبُونَ [ المنافقون/ 1] . ( خ ر ص ) الخرض پھلوں کا اندازہ کرنا اور اندازہ کئے ہوئے پھلوں کو خرص کہا جاتا ہے یہ بمعنی مخروص ہے ۔ جیسے نقض بمعنی منقوض بعض نے کہا ہے کہ خرص بمعنی کذب آجاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ ؛۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑار ہے ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ :۔ قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ [ الذاریات/ 10] اٹکل کرنے والے ہلاک ہوں ۔ کے معنی بقول بعض یہ ہیں کہ جھولوں پر خدا کی لعنت ہو ، اصل میں ہر وہ بات جو ظن وتخمین سے کہی جائے اسے خرص کہا جاتا ہے ۔ عام اس سے کہ وہ انداز غلط ہو یا صحیح ۔ کیونکہ تخمینہ کرنے والا نہ تو علم یا غلبہ ظن سے بات کرتا ہے اور نہ سماع کی بنا پر کہتا ہے ۔ بلکہ اس کا اعتماد محض گمان پر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ تخمینہ کرنیوالا پھلوں کا تخمینہ کرتا ہے اور اس قسم کی بات کہنے والے کو بھی جھوٹا کہا جاتا ہے ۔ خواہ وہ واقع کے مطابق ہی کیوں نہ بات کرے جیسا کہ منافقین کے بارے میں فرمایا :۔ إِذا جاءَكَ الْمُنافِقُونَ قالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ ، وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنافِقِينَ لَكاذِبُونَ [ المنافقون/ 1]( اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو ( ازراہ انفاق ) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بیشک خدا کے پیغمبر ہیں ۔ اور خدا جانتا ہے کہ درحقیقت تم اس کے پیغمبر ہو لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق ( دل سے نہ اعتقاد رکھنے کے لحاظ سے ) جھوٹے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

نظریہ جبر کی تردید قول باری ہے (وقالوا لو شآء الرحمن ما عبدنا ھم مالھم بذالک من علم ان ھم الا یخرصون۔ اور کہتے ہیں کہ اگر رحمن کو یہی منظور ہوتا تو ہم فرشتوں کی پرستش ہی نہ کرتے انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے یہ محض اٹکل سے کام لے رہے ہیں) یعنی کافر کہتے ہیں کہ اگر خدا کو منظور ہوتا تو ہم نہ بتوں کی اور نہ ہی فرشتوں کی پرستش کرتے۔ ہم نے ان کی پرستش صرف اس لئے کی ہے کہ خدا کو ہم سے یہی منظور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ محض اٹکل سے کام لے رہے ہیں۔ نیز اللہ کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔ اللہ نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ وہ کفر وشرک میں پڑجائیں۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (سیقول الذین اشرکوا لوشآء اللہ ما اشرکنا ولا ابائونا ولا حرمنا من شیء کذلک کذب الذین من قبلھم۔ جن لوگوں نے شرک کیا ہے وہ یہ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے نہ ہمارے آبائو اجداد اور نہ ہی ہم کوئی چیز حرام کرتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی جوان سے پہلے گزر چکے ہیں) اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ یہ لوگ اس قول سے اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کررہے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ اللہ نے یہ واضح کردیا کہ اس نے تو یہ چاہا تھا کہ یہ شرک نہ کریں۔ یہ تمام باتیں فرقہ جہمیہ کے جبر کے مذہب کو باطل کردیتی ہیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠ { وَقَالُوْا لَوْ شَآئَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰہُمْ } ” اور وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی بندگی نہ کرتے۔ “ { مَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍق اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ } ” ان کے پاس اس کے لیے کوئی علمی سند نہیں ہے ‘ وہ تو محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20 This was their reasoning from destiny to cover up their deviation and error, and this has been the argument of the wrong-doers in every age. They argued that their worshipping the angels became possible only because Allah allowed them to do so. Had He not willed so they could not have done it; and then it had been a practice with them for centuries and no torment from Allah had descended on them, which meant that Allah did not disapprove of their this practice.

سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :20 یہ اپنی گمراہی پر تقدیر سے ان کا استدلال تھا جو ہمیشہ سے غلط کار لوگوں کا شیوہ رہا ہے ۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ہمارا فرشتوں کی عبادت کرنا اسی لیے تو ممکن ہوا کہ اللہ نے ہمیں یہ کام کرنے دیا ۔ اگر وہ نہ چاہتا کہ ہم یہ فعل کریں تو ہم کیسے کر سکتے تھے پھر مدت ہائے دراز سے ہمارے ہاں یہ کام ہو رہا ہے اور اللہ کی طرف سے اس پر کوئی عذاب نازل نہ ہوا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کو ہمارا یہ کام ناپسند نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:20) ما عبدنھم : ما نافیہ ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الملئکۃ ہے ہم ان کو پوجا نہ کرتے۔ یا ہم سے مراد بت ہیں جن کی کافر پرستش کیا کرتے تھے۔ بذلک : ای بذلک القول۔ یعنی ان کا یہ قول لوشاء الرحمن ما عبد نھم۔ من علم : علم سے مراد یہاں سند ہے۔ یعنی اپنے اس قول کی تائید میں ان کے پاس کوئی سند نہ ہے۔ ان ہم میں ان نافیہ ہے۔ یخرصون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ خرص (باب نصر) مصدر۔ وہ قیاسی باتیں کرتے ہیں۔ الخوص پھلوں کا اندازہ کرنا۔ اندازہ کئے ہوئے پھلوں کو خرص کہا جاتا ہے۔ یہ بمعنی مخروص ہے ہر وہ بات جو ظن اور تخمین سے کہی جائے اسے خرص کہا جاتا ہے۔ عام اس سے کہ وہ اندازہ غلط ہو یا صحیح۔ کیونکہ تخمینہ کرنے والا نہ تو علم سے بات کرتا ہے اور نہ سماع کی بناء پر کہتا ہے بلکہ اس کا اعتماد محض گمان پر ہوتا ہے جیسا کہ تخمینہ کرنے والا پھلوں کا تخمینہ کرتا ہے اور اس قسم کی بات کہنے والے کو بھی جھوٹا کہا جاتا ہے۔ ان ہم الا یخرصون ۔ وہ محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں ۔ بعض کے نزدیک یخرصون بمعنی یکذبون ہے یعنی یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یہ اپنی گمراہی اور مشرکانہ گستاخی پر کفار مکہ کا ایک اور استدلال تھا یعنی وہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے کے بجائے سارا الزام تقدیر الٰہی پر دھرتے تھے کہ خدا ہی کی یہ مشیت تھی اور اسی نے ہماری قسمت میں یہ لکھ دیا تھا کہ ہم فرشتوں کو دیویاں سمجھ کر ان کی پرستش کریں، تقدیر الٰہی سے اس قسم کا غلط استدلال باطل پر شتوں کا ہمیشہ شیوہ رہا ہے اور آج بھی ہے حالانکہ خدا کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی پسند دوسری چیز ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتاجی سے یہ مشرک کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ کو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر شرک سے روکنے کی کیا ضرورت تھی۔ ( ابن کثیر) 8 یعنی وہ تقدیر کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور خدا کی مشیت کو غلط معنی پہناتے ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں ” یعنی یہ تو سچ ہے کہ بن چاہے خدا کے کوئی چیز نہیں پر اس کا بہتر ہونا نہیں نکلتا۔ اسی نے قوت بھی پیدا کیا اور زہر بھی پر زہرکون کھاتا ہے۔ ) (موضح) 9 یعنی جہالت کی بناء پر ایسی باتیں بناتے ہیں جن کا کوئی سر پر نہیں ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ کیونکہ قادر کردینا دلیل رضا کی نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن مشرک سے اس کے شرک کے بارے میں ہر صورت سوال ہوگا۔ دنیا میں اس سے اس کے شرک کے بارے میں سوال کیا جائے اور اس کو اس کے باطل عقیدہ کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ سمجھنے کی بجائے مختلف قسم کے بہانے پیش کرتا ہے۔ اس کے بہانوں میں سے ایک بہانہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرکیہ عقیدہ اختیار نہ کرتے۔ قرآن مجید نے ہر قسم کے دلائل کے ساتھ مشرکین کو یہ بات سمجھائی ہے کہ نہ تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے اور نہ ہی اس نے اپنی خدائی میں کسی کو اپنا شریک ٹھہرایا ہے۔ مشرکین مکہ کے پاس ان دلائل کا کوئی جواب نہ تھا اور نہ ہی آج کا مشرک اس کا جواب دے سکتا ہے اور نہ کوئی آئندہ اس کا جواب دے سکے گا۔ اس کے باوجود مشرکین دیگر بہانوں کے ساتھ یہ بہانے بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو تو ہم کس طرح شرک کرسکتے ہیں ؟ اس کے جواب میں فرمایا ہے کہ درحقیقت ان کے پاس علم نہیں جس وجہ سے یہ اٹکل پچو بیان کرتے ہیں۔ جو حقیقی معنوں میں شریعت کا علم جانتا ہے وہ اس قسم کی بےمعنٰی باتیں نہیں کرتا۔ مشرک کے پاس علم نہ ہونے کا دوسرامعنٰی یہ ہے کہ کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک آزادی دے رکھی ہے۔ چاہے تو ہدایت قبول کرے نہ چاہے تو گمراہی کے راستے پر چلتا رہے۔ علم نہ ہونے کا صاف معنٰی ہے کہ مشرک جاہل ہوتا ہے کیا ان کے پاس پہلی آسمانی کتابوں میں سے کوئی آسمانی کتاب ہے کہ جس کی بنیاد پر اپنے باطل عقیدہ کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ ان الفاظ کے مخاطب اہل مکہ ہیں کیونکہ ان کے پاس قرآن مجید سے پہلے کوئی کتاب نہیں آئی تھی۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ایمان کی بنیاد عقیدہ توحید پر ہے اور توحید کے دلائل آسمانی کتابوں میں دیئے گئے ہیں یہی حقیقی اور ٹھوس علم ہے اس کے علاوہ ایمان کی حقیقی تشریح کہیں اور جگہ نہیں ملتی اور نہ ہی وہ قابل قبول ہوگی۔ کیونکہ علم کی حقیقی بنیاد وحی ہے۔ مشرکین مکہ سے ان دلائل کا جواب نہ بن پڑا تو کہنے لگے کہ ہم تو اسی راستے پر چلتے رہیں گے جن پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو چلتے ہوئے پایا۔ قرآن مجید نے دوسرے موقع پر اس کا جواب یہ دیا ہے۔ کیا ان کے باپ دادا دین کی سمجھ اور ہدایت نہ رکھتے ہوں اس کے باوجودبھی یہ لوگ ان کا راستہ اختیار کریں گے اس سے بڑھ کرے بےعقلی اور گمراہی کی کیا دلیل ہوسکتی ہے ؟ (البقرۃ : ١٧٠) مسائل ١۔ مشرک بہانہ پیش کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ ٢۔ حق کے منکر اپنے آباء اجداد کی تقلید کو ہدایت کی دلیل سمجھتے ہیں۔ ٣۔ مشرک جہالت کی بنا پر گمراہی پر قائم رہتے ہیں۔ ٤۔ مشرک حقیقت سے ناواقف ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن علم کی حقیقت اور اس کا فائدہ : ١۔ صاحب علم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔ (الزمر : ٩) ٢۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔ (المجادلۃ : ١١) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان ( علیہ السلام) کو علم عطا کیا۔ (النمل : ١٥) ٤۔ یقیناً اللہ سے علماء ہی ڈرتے ہیں۔ (فاطر : ٢٨) ٥۔ ہم لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتے ہیں مگر ان کو عالم لوگ ہی سمجھتے ہیں۔ (العنکبوت : ٤٣) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ کچھ بتلایا جو یہ نہیں جانتا تھا۔ (العلق : ٥) ٧۔ انسان کو رحمٰن نے قرآن سکھایا۔ (الرحمن : ٢) ٨۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو لکھنا سکھایا۔ (العلق : ٤) ٩۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بولنا اور بیان کرنا سکھلایا۔ (الرحمن : ٤) ١٠۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا۔ (البقرۃ : ٣١) ١١۔ فرشتوں نے بھی سب کچھ اللہ تعالیٰ سے سیکھا۔ (البقرۃ : ٣٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین کی ایک جاہلانہ بات کی تردید، آباو اجداد کو پیشوا بنانے کی حماقت اور ضلالت جب مشرکین کو متنبہ کیا جاتا اور بتایا جاتا تھا کہ تم جو شرک میں پڑے ہوئے ہو یہ گمراہی ہے اور تمہارا خالق اور مالک جل مجدہٗ اس سے راضی نہیں ہے تو کٹ حجتی کے طور پر یوں کہتے تھے کہ اگر ہمارے اس عمل سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہے تو ہمیں اپنے علاوہ دوسروں کی عبادت کیوں کرنے دیتا ہے ان لوگوں کے نزدیک بت پرستی کا عمل صحیح ہونے کی یہ ایک بڑی دلیل تھی اللہ جل شانہٗ نے فرمایا ﴿مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ١ۗ﴾ (ان کو اس بات کی کچھ تحقیق نہیں) ﴿ اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَؕ٠٠٢٠﴾ (یہ لوگ صرف اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں) مشرکین کی یہ بات سورة انعام کی آیت ﴿ سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآء اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا﴾ (الآیۃ) اور سورة نحل کی آیت ﴿وَ قَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآء اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ ﴾ (الآیۃ) میں بھی گزر چکی ہے ان لوگوں کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا جب اس نے ہمیں غیر اللہ کی عبادت کا موقع دیا یعنی ہمیں جبراً اس عمل سے نہیں روکا تو معلوم ہوگیا کہ وہ ہمارے عمل سے راضی ہے یہ ان لوگوں کی جاہلانہ اور احمقانہ دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسانوں کو ابتلاء اور آزمائش کے لیے پیدا فرمایا ہے اور آزمائش جب ہی ہوسکتی ہے جب حق اور ناحق بیان کردیا جائے اور اچھے برے اعمال بتا دئیے جائیں اور کرنے نہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے اگر جبراً کوئی کام کروالیا جائے تو اس میں امتحان نہیں ہوتا لہٰذا ان لوگوں کا یہ کہنا کفر و شرک کے اعمال پر ہم کو قدرت اور اختیار دے دینا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے اس عمل سے اللہ تعالیٰ راضی ہے یہ ان لوگوں کی جہالت کی بات ہے کیونکہ امتحان کے لیے قدرت دے دینا راضی ہونے کی دلیل نہیں یہ لوگ اپنے کفر و شرک کو جائز کرنے کے لیے اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں ﴿اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ﴾ (کیا ہم نے انہیں اس قرآن سے پہلے کوئی کتاب دی ہے جس سے وہ اس پر استدلال کرتے ہیں) یعنی مشرکین عرب کے پاس ہم نے قرآن مجید سے پہلے کوئی کتاب نازل نہیں کی اگر اس سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل کی جاتی اور اس میں شرک کی اجازت ہوتی تو اس کی دلیل میں پیش کرتے، ان کے پاس باپ دادوں کی تقلید کے علاوہ کچھ نہیں ہے، جب انہیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ تم باطل پر ہو تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے ہم انہیں کے پیچھے چل رہے ہیں اور اسی کو ہدایت سمجھ رہے ہیں۔ دلائل صحیحہ قاہرہ کو نہ ماننا اور باپ دادوں کا اتباع کرنا دنیا میں پرانی رسم ہے اسی کو فرمایا ﴿ وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ ﴾ اور جس طرح یہ لوگ جواب دیتے ہیں یہی حال ان لوگوں کا تھا جن کی طرف ہم نے آپ سے پہلے ڈرانے والے بھیجے تھے ان کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے اور انہیں کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں وہ ہمارے امام تھے، اور ہم ان کے مقتدی ہیں۔ لوگوں کی یہ جاہلانہ بات سورة بقرہ اور سورة مائدہ اور سورة لقمان میں بھی ذکر فرمائی سورة بقرہ میں ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ﴿اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ ٠٠١٧٠﴾ (کیا اپنے باپ دادوں کا اتباع کریں گے اگرچہ وہ سمجھ نہ رکھتے ہوں اور ہدایت پر نہ ہوں) سورة لقمان میں فرمایا ﴿ اَوَ لَوْ كَان الشَّيْطٰنُ يَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَاب السَّعِيْرِ ٠٠٢١﴾ (کیا اپنے باپ دادوں کا اتباع کریں گے اگرچہ شیطان انہیں دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو) خلاصہ یہ کہ باپ دادوں کی تقلید کوئی چیز نہیں، ہاں اگر وہ ہدایت پر ہوں تو ان کا اتباع کیا جائے گمراہی میں کسی کا بھی اتباع کرنا گمراہی ہے، اتباع اس کا کرے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہو۔ كما قال تعالیٰ ﴿ اتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ ” وقالوا لوشاء “ یہ شکوی ہے۔ جب مشرکین لاجواب ہوجاتے ہیں تو مشیت خداوندی کی آڑ لیتے ہیں کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو ہم فرشتوں کی عبادت نہ کرتے اور انہیں خدا کے نائب نہ بناتے۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو ہمیں اس سے زبردستی روک دیتا جب وہ ہمارے اور ان کی عبادت کے درمیان حائل نہیں ہوا، تو معلوم ہوا کہ وہ اس پر خوش ہے۔ ” مالہم بذلک من علم الخ “ یہ جواب شکوی ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کا ارادہ کسی فعل کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ اس کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ حسن و قبح اور خیر و شر سب اس کے ارادے ہی سے ہو رہا ہے اس کے ارادے کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعے سے اور دلائل انفس و آفاق سے حق و باطل کو واضح کر کے ہر انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے دونوں میں سے ایک کو منتخب کرلے تاکہ امتحان و ابتلاء کا تقاضا پورا ہو، لیکن اس کی رضا اور خوشنودی صرف نیک کاموں ہی سے متلعق ہے۔ باقی رہا کسی فعل کے جواز کی دلیل کا سوا، تو دلیل، عقل و نقل اور وحی ہی سے پیش کی جاسکتی ہے۔ اور ان مشرکین کے پاس شرک کے حق میں ان تینوں دلیلوں میں سے کوئی بھی دلیل موجود نہیں۔ مالہم بذلک من علم الخ۔ اس میں دلیل عقلی کی نفی کی گئی ہے کہ ان کے پاس فرشتوں کے معبود اور نائب خدا ہونے پر کوئی عقلی دلیل موجود نہیں، وہ جو کچھ کہتے ہیں محض اٹکل اور تخمین ہی سے کہتے ہیں۔ ای یقولون قولا باطلا بالظن والتخمین (مظہری ج 8 ص 343) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(20) اور یہ منکر یوں کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان فرشتوں کی پوجا نہ کرتے ان لوگوں کو اس بات کا کوئی صحیح علم نہیں یہ صرف اٹکل سے تخمینے کیا کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ تو سچ ہے کہ بن چاہے خدا کے کوئی چیز نہیں پر اس کا بہتر ہونا نہیں نکلتا اسی نے قوت بھی پیدا کیا یعنی اشیائے خوردنی اور زہر بھی زہر کون کھاتا ہے …… خلاصہ : یہ کہ کفارکا یہ قاعدہ رہا ہے کہ وہ جواب دینے سے جب عاجز ہوتے تو مشیت کی آڑ پکڑتے قرآن میں اور بھی کئی جگہ کفار کا یہ قاعدہ رہا ہے کہ وہ جواب دینے سے جب عاجز ہوتے تو مشیت کی آڑ پکڑتے۔ قرآن میں اور بھی کئی جگہ کفار کا یہ قول ذکر فرمایا ہے چناچہ آٹھویں پارے میں قدرے تفصیل سے گزر چکا ہے اور پہلے پارے کی تسہیل میں ہم بہت مفصل عرض کرچکے ہیں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ قدرت علی الکسب کے ساتھ مشیت کا تعلق اس کو مستلزم نہیں کہ اس کسب اور فعل پر مشیت رضامند بھی ہے ظاہر ہے کہ کفر غیر پسندیدہ ہے لیکن اس کی قوت عطا فرمارکھی ہے قوت اگر سلب کرلیں توجبرہوجائے یہ طریقہ اسلام اور کفر کے بارے میں رائج نہیں اس لئے ہر فعل خواہ وہ نیک ہو یا بد فاعل کو موقعہ دیا جاتا ہے مطلب یہ نہیں کہ جس فعل کے کرنے کا موقعہ دیا جائے وہ پسندیدہ اور قابل قبول بھی ہو۔