Commentary وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ (And [ recall ] when Ibrahim said to his father and to his people, 43:26) At the end of the previous verses, Allah Ta’ ala had stated that the &mushrikin& (polytheists) of Arabia had no argument in favour of their &shirk& (polytheism) except that they were carrying on the customs of their forefathers. Obviously, sticking to such customs against logical and historical arguments is far from truth and justice. Now the point made in the present verses is that, even if they are adamant on following their ancestors, why do they not follow Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) who is the most noble of their ancestors, and it is taken by themselves as a matter of pride to be among his offspring. He was not only a believer in &tauhid& (Oneness of Allah) who emphatically directed all his children to remain adherent to this belief, but his life-long behavior also indicates that following forefathers against logical and historical proofs is not permissible. When he was ordained prophethood in the world, all his people were polytheists in pursuit of the customs of their forefathers, but he, instead of blindly following his forefathers, announced his dissociation from his people, according to the dictates of positive proofs; hence his declaration: إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ |"I disown that which you worship|" (43:26). We find from this verse that if anyone lives among a group or people who are misguided or involved in bad deeds, and his silence about their attitude may be construed as being agreeable to them, then it is not enough for him to simply correct his own beliefs and deeds, rather he has to disown their beliefs and deeds as well. This is what Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) did - he not only made his belief and actions distinctly different in practice, but he also disowned their belief and deeds vocally.
خلاصہ تفسیر اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں (کی عبادت) سے بیزار (اور بےتعلق) ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو مگر ہاں (اس خدا سے تعلق رکھتا ہوں) جس نے مجھ کو پیدا کیا، پھر وہی مجھ کو (میرے دین و دنیا کی مصلحتوں تک) رہنمائی کرتا ہے (مطلب یہ کہ ان لوگوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کا حال یاد کرنا چاہئے کہ وہ خود بھی توحید کے معتقد تھے) اور (وصیت کے ذریعہ) وہ اس (عقیدہ) کو اپنی اولاد میں (بھی) ایک قائم رہنے والی بات کر گئے (یعنی اپنی اولاد کو بھی وصیت کی جس کا اثر کچھ کچھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک بھی برابر رہا، یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی عرب میں بعض لوگ شرک سے نفرت کرتے تھے اور یہ وصیت انہوں نے اس لئے کی تھی) تاکہ (ہر زمانے میں مشرک) لوگ (موحدین سے توحید کا عقیدہ سن سن کر شرک سے) باز آتے رہیں (مگر یہ لوگ پھر بھی باز نہیں آتے اور اس طرف توجہ نہیں کرتے) بلکہ میں نے (جو) ان کو اور ان کے باپ دادوں کو (دنیا کا) خوب سامان دیا ہے (اس میں منہمک اور غافل ہو رہے ہیں) یہاں تک کہ (اسی انہماک اور خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے) ان کے پاس سچا قرآن (جو معجز ہونے کی وجہ سے اپنی سچائی کی آپ ہی دلیل ہے) اور صاف صاف بتانے والا رسول (اللہ کی طرف سے) آیا اور جب ان کے پاس یہ سچا قرآن پہنچا (اور اس کا اعجاز ظاہر ہوا) تو کہنے لگے کہ یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔ معارف و مسائل (آیت) وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ الخ۔ گزشتہ آیات کے آخر میں باری تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ مشرکین عرب کے پاس اپنے شرک پر سوائے اپنے باپ دادوں کی رسوم کے کوئی دلیل نہیں ہے اور یہ ظاہر ہے کہ واضح عقلی اور نقلی دلائل کی موجودگی میں محض باپ دادوں کی تقلید پر اصرار کرنا حق و انصاف سے کس قدر بعید ہے۔ اب ان آیات میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اگر اپنے آباء و اجداد ہی کے راستے پر چلنا چاہتے ہو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے راستے پر کیوں نہیں چلتے جو تمہارے اشرف ترین جد اعلیٰ ہیں اور جن کے ساتھ نسبی وابستگی کو تم خود اپنے لئے سرمایہ فخر سمجھتے ہو۔ وہ نہ صرف توحید کے قائل تھے اور اپنی اولاد کو بھی اس کی وصیت کر گئے بلکہ خود ان کا طرز عمل یہ بتاتا ہے کہ کھلے ہوئے عقلی اور نقلی دلائل کی موجودگی میں محض اپنے باپ دادوں کی تقلید کرنا جائز نہیں، جب وہ دنیا میں مبعوث ہوئے تو ان کی ساری قوم اپنے آباؤ اجداد کی اتباع میں شرک میں مبتلا تھی، لیکن انہوں نے اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کے بجائے دلائل واضحہ کا اتباع کرتے ہوئے اپنی قوم سے بیزاری کا اظہار کیا اور فرمایا اِنَّنِيْ بَرَاۗءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ (جن چیزوں کی عبادت تم کرتے ہو میں ان سے بری ہوں) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی بد عمل یا بد عقیدہ گروہ یا جماعت کے درمیان رہتا ہے، اور خاموش رہنے کی صورت میں یہ اندیشہ ہے کہ اس کو بھی اس گروہ کا ہم خیال سمجھا جائے گا تو محض اپنے عقیدے اور عمل کا درست کرلینا ہی کافی نہیں، بلکہ اس گروہ کے عقائد و اعمال سے اپنی برات کا اظہار بھی ضروری ہے۔ چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ اپنے عقائد و اعمال کو مشرکین سے عملاً ممتاز کرلیا بلکہ زبان سے بھی برات کا برملا اظہار فرمایا۔