Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 26

سورة الزخرف

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖۤ اِنَّنِیۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾

And [mention, O Muhammad], when Abraham said to his father and his people, "Indeed, I am disassociated from that which you worship

اور جبکہ ابراہیم ( علیہ السلام ) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ibrahim's Declaration of Tawhid Here Allah reminds, وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لاِإَبِيهِ وَقَوْمِهِ ... And (remember) when Ibrahim said to his father and his people: Allah tells us about His servant, Messenger and close Friend, the leader of the monotheists and the father of all subsequent Prophets, from whom Quraysh were descended and claimed to have taken their religion. He disowned his father's and his people's worship of idols and said: ... إِنَّنِي بَرَاء مِّمَّا تَعْبُدُونَ إِلاَّ الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ

امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت قریشی کفار نیکی اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہدیا کہ مجھ میں تم کوئی تعلق نہیں ۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بےتعلق ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرات حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں ہمیشہ کے لئے باقی رکھ لیا ناممکن ہے کہ آپ کی اولاد میں اس پاک کلمے کے قائل نہ ہوں انہی کی اولاد اس توحید کلمہ کی اشاعت کرے گی اور سعید روحیں اور نیک نصیب لوگ اسی گھرانے سے توحید سیکھیں گے ۔ غرض اسلام اور توحید کا معلم یہ گھرانہ قرار پا گیا ۔ پھر فرماتا ہے بات یہ ہے کہ یہ کفار کفر کرتے رہے اور میں انہیں متاع دنیا دیتا رہا یہ اور بہکتے گئے اور اس قدر بد مست بن گئے کہ جب ان کے پاس دین حق اور رسول حق آئے تو انہوں نے جلانا شروع کر دیا کہ کلام اللہ اور معجزات انبیاء جادو ہیں اور ہم ان کے منکر ہیں ۔ سرکشی اور ضد میں آکر کفر کر بیٹھے عناد اور بغض سے حق کے مقابلے پر اتر آئے اور باتیں بنانے لگے کہ کیوں صاحب اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کا کلام ہے تو پھر مکے اور طائف کے کسی رئیس پر کسی بڑے آدمی پر کسی دنیوی وجاہت والے پر کیوں نہ اترا ؟ اور بڑے آدمی سے ان کی مراد ولید بن مغیرہ ، عروہ بن مسعود ، عمیر بن عمرو ، عتبہ بن ربیعہ ، حبیب بن عمرو مابن عبطدیالیل ، کنانہ بن عمرو وغیرہ سے تھی ۔ غرض یہ تھی کہ ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے مرتبے کے آدمی پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الہٰی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں ؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہاراعلم ؟ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے ؟ یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تمام مخلوق سے زیادہ پاک دل ہو ۔ سب سے زیادہ پاک نفس ہو سب سے بڑھ کر اشرف گھر کا ہو اور سب سے زیادہ پاک اصل کا ہو پھر فرماتا ہے کہ یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہوگئے؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں ۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے ایک ایک کے ماتحت رہے پھر ارشاد ہوا کہ تم جو کچھ دنیا جمع کر رہے ہو اس کے مقابلہ میں رب کی رحمت بہت ہی بہتر اور افضل ہے زاں بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ مال کو میرا فضل اور میری رضامندی کی دلیل جان کر مالداروں کے مثل بن جائیں تو میں تو کفار کو یہ دنیائے دوں اتنی دیتا کہ ان کے گھر کی چھتیں بلکہ ان کے کوٹھوں کی سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں جن کے ذریعے یہ اپنے بالا خانوں پر پہنچتے ۔ اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے بیٹھنے کے تخت بھی چاندی کے ہوتے اور سونے کے بھی میرے نزدیک دنیا کوئی قدر کی چیز نہیں یہ فانی ہے زائل ہونے والی ہے اور ساری مل بھی جائے جب بھی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے ان لوگوں کی اچھائیوں کے بدلے انہیں یہیں مل جاتے ہیں ۔ کھانے پینے رہنے سہنے برتنے برتانے میں کچھ سہولتیں بہم پہنچ جاتی ہیں ۔ آخرت میں تو محض خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی باقی نہ ہو گی جو اللہ سے کچھ حاصل کر سکیں جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں صرف ان کے لئے نہیں جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا ۔ چنانچہ جب حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے بالا خانہ میں گئے اور آپ نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصرو کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے اے ابن خطاب کیا تو شک میں ہے ؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت ۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں کھاؤ پیو یہ دنیا میں ان کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں اور دنیا میں یہ ان کے لئے یوں ہیں کی رب کی نظروں میں دنیا ذلیل و خوار ہے ۔ ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمایا اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٤] سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور تقلید آباء کے دو پہلو :۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اسی نسبت سے آیا ہے۔ کہ کفار مکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا اور نبی مانتے تھے۔ لہذا انہیں سمجھایا جارہا ہے کہ اگر اسلاف کی تقلید ہی کرنا چاہتے ہو تو اپنے اس پیشوا کی کرو جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی بندگی سے سخت بیزار تھے۔ ان اسلاف کی کیوں پیروی کرتے ہو جنہوں نے خود سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تقلید کو چھوڑ دیا تھا۔ اور گمراہی کے راستوں پر چل کھڑے ہوئے تھے۔ بالفاظ نبی کی تقلید کرنا درست ہے لیکن شرعی اصطلاح میں اس کا نام تقلید نہیں بلکہ اتباع رسول ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) واذ قال ابراہیم لابیہ وقومہ…: یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت یہ ہے کہ قریش اور قوم عرب سے کہا جا رہا ہے کہ تمہارے پیشوا اور جد امجد نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تھی، تم بھی ایسا ہی کرو۔ (٢) اننی برآء مما تعبدون…:” برآئ “ مصدر ہے، واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر ر مونث کے لئے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے ، جو ” بری “ کے معنی میں ہے، مگر اس میں مبالغہ ہے، جیسے ” زید عادل “ میں وہ زور نہیں جو ” اتنا عادل ہے کہ سراپا عدل ہے) میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہارے تمام معبودوں سے سراپا برأت ہوں، دل ، زبان اور عمل کے ساتھ۔ غرض ہر طرح سے ان سے برأت کا اعلان کرتا ہوں، سوائے اس معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا۔ (٣) الا الذی فطرنی : اپنے اس کلام میں ابراہیم (علیہ السلام) نے صرف اللہ واحد کی عبادت کی دلیل بھی بیان فرمائی ہے۔ وہ ہے : (الا الذی فطرنی)” جس نے مجھے پیدا کیا۔ “ یعنی عبادت اسی کا حق ہے جو پیدا کرنے والا ہے۔ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے اللہ کے سوا تمام معبودوں سیا علن برأت کا ذکر ہے، دوسرے مقامات پر برأت کے علاوہ ان سے عداوت کا بھی اعلان ہے اور تقریباً ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے خلاق ہونے کی صفت کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔ (دیکھیے شعراء ٧٥ تا ٧٨۔ انعام : ٧٨۔ ٧٩) سورة ممتحنہ (٤) میں باطل معبودوں کے ساتھ ان کے پجاریوں سے بھی برأت و انکار کے علاوہ کھلم کھلا بغض و عداوت کا اعلان ہے، جب تک وہ اکیلے اللہ پر ایمان نہ لائیں۔ (٤) فانہ سیھدین : سورة شعراء میں ابراہیم (علیہ السلام) کا قول ہے :(الذی خلقنی فھو یھدین) (الشعراء :88)” وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا (اور اس پر چلاتا) ہے۔ “ یہاں فرمایا :(فانہ سیھدین) یعنی جس نے مجھے پیدا کیا آئندہ بھی وہی مجھے سیدھی راہ پر چلاتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچائے گا۔ یعنی ہدایت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے جس کے ہاتھ میں خلق ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (٧٧) ، شعراء (٧٩) اور سورة صافات (٩٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ (And [ recall ] when Ibrahim said to his father and to his people, 43:26) At the end of the previous verses, Allah Ta’ ala had stated that the &mushrikin& (polytheists) of Arabia had no argument in favour of their &shirk& (polytheism) except that they were carrying on the customs of their forefathers. Obviously, sticking to such customs against logical and historical arguments is far from truth and justice. Now the point made in the present verses is that, even if they are adamant on following their ancestors, why do they not follow Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) who is the most noble of their ancestors, and it is taken by themselves as a matter of pride to be among his offspring. He was not only a believer in &tauhid& (Oneness of Allah) who emphatically directed all his children to remain adherent to this belief, but his life-long behavior also indicates that following forefathers against logical and historical proofs is not permissible. When he was ordained prophethood in the world, all his people were polytheists in pursuit of the customs of their forefathers, but he, instead of blindly following his forefathers, announced his dissociation from his people, according to the dictates of positive proofs; hence his declaration: إِنَّنِي بَرَ‌اءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ |"I disown that which you worship|" (43:26). We find from this verse that if anyone lives among a group or people who are misguided or involved in bad deeds, and his silence about their attitude may be construed as being agreeable to them, then it is not enough for him to simply correct his own beliefs and deeds, rather he has to disown their beliefs and deeds as well. This is what Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) did - he not only made his belief and actions distinctly different in practice, but he also disowned their belief and deeds vocally.

خلاصہ تفسیر اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں (کی عبادت) سے بیزار (اور بےتعلق) ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو مگر ہاں (اس خدا سے تعلق رکھتا ہوں) جس نے مجھ کو پیدا کیا، پھر وہی مجھ کو (میرے دین و دنیا کی مصلحتوں تک) رہنمائی کرتا ہے (مطلب یہ کہ ان لوگوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کا حال یاد کرنا چاہئے کہ وہ خود بھی توحید کے معتقد تھے) اور (وصیت کے ذریعہ) وہ اس (عقیدہ) کو اپنی اولاد میں (بھی) ایک قائم رہنے والی بات کر گئے (یعنی اپنی اولاد کو بھی وصیت کی جس کا اثر کچھ کچھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک بھی برابر رہا، یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی عرب میں بعض لوگ شرک سے نفرت کرتے تھے اور یہ وصیت انہوں نے اس لئے کی تھی) تاکہ (ہر زمانے میں مشرک) لوگ (موحدین سے توحید کا عقیدہ سن سن کر شرک سے) باز آتے رہیں (مگر یہ لوگ پھر بھی باز نہیں آتے اور اس طرف توجہ نہیں کرتے) بلکہ میں نے (جو) ان کو اور ان کے باپ دادوں کو (دنیا کا) خوب سامان دیا ہے (اس میں منہمک اور غافل ہو رہے ہیں) یہاں تک کہ (اسی انہماک اور خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے) ان کے پاس سچا قرآن (جو معجز ہونے کی وجہ سے اپنی سچائی کی آپ ہی دلیل ہے) اور صاف صاف بتانے والا رسول (اللہ کی طرف سے) آیا اور جب ان کے پاس یہ سچا قرآن پہنچا (اور اس کا اعجاز ظاہر ہوا) تو کہنے لگے کہ یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔ معارف و مسائل (آیت) وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ الخ۔ گزشتہ آیات کے آخر میں باری تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ مشرکین عرب کے پاس اپنے شرک پر سوائے اپنے باپ دادوں کی رسوم کے کوئی دلیل نہیں ہے اور یہ ظاہر ہے کہ واضح عقلی اور نقلی دلائل کی موجودگی میں محض باپ دادوں کی تقلید پر اصرار کرنا حق و انصاف سے کس قدر بعید ہے۔ اب ان آیات میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اگر اپنے آباء و اجداد ہی کے راستے پر چلنا چاہتے ہو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے راستے پر کیوں نہیں چلتے جو تمہارے اشرف ترین جد اعلیٰ ہیں اور جن کے ساتھ نسبی وابستگی کو تم خود اپنے لئے سرمایہ فخر سمجھتے ہو۔ وہ نہ صرف توحید کے قائل تھے اور اپنی اولاد کو بھی اس کی وصیت کر گئے بلکہ خود ان کا طرز عمل یہ بتاتا ہے کہ کھلے ہوئے عقلی اور نقلی دلائل کی موجودگی میں محض اپنے باپ دادوں کی تقلید کرنا جائز نہیں، جب وہ دنیا میں مبعوث ہوئے تو ان کی ساری قوم اپنے آباؤ اجداد کی اتباع میں شرک میں مبتلا تھی، لیکن انہوں نے اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کے بجائے دلائل واضحہ کا اتباع کرتے ہوئے اپنی قوم سے بیزاری کا اظہار کیا اور فرمایا اِنَّنِيْ بَرَاۗءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ (جن چیزوں کی عبادت تم کرتے ہو میں ان سے بری ہوں) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی بد عمل یا بد عقیدہ گروہ یا جماعت کے درمیان رہتا ہے، اور خاموش رہنے کی صورت میں یہ اندیشہ ہے کہ اس کو بھی اس گروہ کا ہم خیال سمجھا جائے گا تو محض اپنے عقیدے اور عمل کا درست کرلینا ہی کافی نہیں، بلکہ اس گروہ کے عقائد و اعمال سے اپنی برات کا اظہار بھی ضروری ہے۔ چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ اپنے عقائد و اعمال کو مشرکین سے عملاً ممتاز کرلیا بلکہ زبان سے بھی برات کا برملا اظہار فرمایا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِيْمُ لِاَبِيْہِ وَقَوْمِہٖٓ اِنَّنِيْ بَرَاۗءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ۝ ٢٦ ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ أب الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] ( اب و ) الاب ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } [ الأحزاب : 6] میں آنحضرت کو مومنین کا باپ قرار دیا گیا ہے ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] برأ أصل البُرْءِ والبَرَاءِ والتَبَرِّي : التقصّي مما يكره مجاورته، ولذلک قيل : بَرَأْتُ من المرض وبَرِئْتُ من فلان وتَبَرَّأْتُ وأَبْرَأْتُهُ من کذا، وبَرَّأْتُهُ ، ورجل بَرِيءٌ ، وقوم بُرَآء وبَرِيئُون . قال عزّ وجلّ : بَراءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ التوبة/ 1] ، ( ب ر ء ) البرء والبراء والتبری کے اصل معنی کسی مکردہ امر سے نجات حاصل کرتا کے ہیں ۔ اس لئے کہا جاتا ہے ۔ برءت من المریض میں تندرست ہوا ۔ برءت من فلان وتبرءت میں فلاں سے بیزار ہوں ۔ ابررتہ من کذا وبرء تہ میں نے اس کو تہمت یا مرض سے بری کردیا ۔ رجل بریء پاک اور بےگناہ آدمی ج برآء بریئوں قرآن میں ہے ؛۔ { بَرَاءَةٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة التوبة 1) اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان ہے ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٦۔ ٢٧) اور جبکہ ابراہم نے اپنے باپ آزار اور اپنی قوم سے ان کے پاس آنے کے بعد کہا کہ میں اس سے اللہ سے تعلق رکھتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا وہی اپنے دین اور اپنی اطاعت کی طرف میری رنمائی کرے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٦ { وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖٓ اِنَّنِیْ بَرَآئٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ } ” اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا اپنے والد اور اپنی قوم سے کہ یقینا میں بیزار ہوں ان سے جنہیں تم پوجتے ہو۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

24 For details, sec AI-Baqarah 124-133, AI-An'am 74-84, Ibrahim: 3541, Maryam: 41-50, Al-Anbiya': 51-73, Ash-Shu'ara: 69-89, AI-'Ankabut: 1627, As-Saaffat: 83-100 and the corresponding E.N `s.

سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :24 تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول ، البقرہ ، حواشی ۱۲٤ تا ۱۳۳ ، الانعام ، ھواشی ۵۰ تا ۵۵ ، جلد دوم ، ابراہیم ، حواشی ٤٦ تا ۵۳ ، جلد سوم ، مریم ، حواشی ۲٦ ۔ ۲۷ ، الانبیاء ، حواشی ۵٤تا ٦٦ ، الشعراء ، حواشی ، ۵۰ تا ٦۲ ، العنکبوت ، حواشی ۲٦تا ٤٦ ، جلد چہارم ، الصافات ، آیات ۸۳ تا ۱۰۰ ، حواشی ٤٤تا ۵۵ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:26) واذ قال : ای واذکر الوقت اذقال۔ وہ وقت یاد کر جب کہا ابراہیم نے۔ براء بیزار۔ بیزاز ہونا۔ اصل میں اس کے معنی ہر اس چیز سے جس کا پاس رہنا برا لگتا ہو۔ اس سے چھٹکارا ڈھونڈھنے کے ہیں مصدر ہے جو صفت کے طور استعمال کیا گیا ہے ۔ اور جب صفت واقع ہو تو واحد تثنیہ، جمع، مذکر ، مؤنث۔ سب کے لئے برابر استعمال ہوتا ہے۔ ب ر ء مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یہاں یہ قصہ اس پر کہا کہ تمہارے پیشوا نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تو تم بھی وہی کرو۔ “ (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٢٦ تا ٣٥۔ اسرار ومعارف۔ اور انہیں باپ دادا ہی کی بات قبول تھی تو ابراہیم (علیہ السلام) کی بات قبول کرتے جنہوں نے باپ دادا کی رسومات قبول کرنے کے بجائے اللہ کی طرف سے عطا کردہ دین اپنایا اور انہیں صاف بتادیا کہ یہ جو کچھ رسومات تم کرتے ہو میں ان سے الگ اور بےزار ہوں بلکہ جس قادر مطلق نے مجھے پیدا فرمایا ہے وہ ہدایت کا راستہ بھی بتائے گا کہ وہ محض پیدا کرکے چھوڑ نہیں دے گا بلکہ انہوں نے نہ صرف پہلوں کے کفر وشرک کی تردید کی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی حق اور توحید کی اس قدر تاکید فرماگئے کہ ان کے بعد صدیوں تک لوگ عقیدہ توحید پر قائم رہے اور آج تک یعنی بعثت نبوی تک بعض عرب اس پر قائم تھے اور بت پرستی کو براجانتے تھے یہاں یہ ثابت ہے کہ صرف اپنے عقیدے کی اصلاح کرلینا کافی نہیں بلکہ کافرانہ رسومات کی تردید اور خود ان سے برات کا اعلان بھی ضروری ہے نیز ان سے مقابلہ اور احقاق حق کے لیے اس قدر کوشش کی جائے کہ آئندہ نسلوں تک حق بات پہنچے اور اپنی اولاد اور نسل پر خاص توجہ دے۔ عقیدے اور عمل کا اعلان اور اولاد میں اس کا اہتمام۔ شیخ عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں کہ اولاد کی اصلاح کے لیے بہت ہی موثر طریقہ یہ بھی ہے کہ ان کے لیے بطورخاص دعا کی جائے مگر ان کے آباؤ اجداد نے ان کی بات چھوڑ دی اور پھر سے رسومات ایجاد کرلیں اور ہم نے انہیں مہلت دی مال واولاد بخشی اور یہ بجائے شکر ادا کرنے کے اسی میں منہمک ہوگئے حتی کہ پھر اپنے کرم و احسان سے ان کے پاس کا حق کا پیغام پہنچایا قرآن کریم نازل فرمایا اور نبی برحق کو مبعوث فرمایا یہ کس قدر احسان عظیم تھا مگر جب ان کے پاس پہنچا تو کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ماننے سے انکار کرتے ہیں اور بطور دلیل یہ کہتے ہیں کہ اگر قرآن واقعی اللہ کی طرف سے نازل ہوا تھا تو مکہ اور طائف میں بڑے بڑے مالدار اور بااثر لوگ تھے جن کی بات مانی جاتی تھی اور ان پر کیوں نازل نہ ہوا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو مالدار بھی نہیں ہیں یہ بات اتنی بڑی جہالت ہے کہ وہ نبوت جیسی عظیم الشان نعمت کو اپنی رائے کے مطابق دینا چاہتے ہیں یعنی اللہ کی رحمت خاصہ کی تقسیم وہ کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اس سے بہت ہی کم تر درجہ کی نعمت جو مومن وکافر سب کو ملتی ہے یعنی معشیت وہ بھی ہم اپنی مرضی سے تقسیم کرتے ہیں اور دنیا میں مختلف اوصاف میں لوگ مختلف حالات کے حامل ہیں کسی کو کچھ عطا ہوتا ہے تو دوسرے کو کچھ اور یوں لوگ ایکد وسرے سے کام لیتے ہیں اور انسانی معاشرہ تشکیل پاتا ہے جب دنیا کی نعمتوں کا یہ حال ہے کہ از خود انسان تقسیم نہیں کرسکتا تو یہ رحمت خاصہ تو اس مال وزر سے جس کے جمع کرنے میں یہ پاگل ہو رہے ہیں بہت زیادہ اعلی وارفع ہے۔ اسلامی معیشت یا اسلام کا معاشی نظام۔ اسلام نے معاش کو انسانی اداروں کے سپرد نہیں کیا کہ وہ طے کریں کہ کس کی ضروریات کیا ہیں اور انہیں کیسے پورا کیا جائے یا وسائل پیداوار حکومت کے سپرد ہوں اور وہ سب کو برابر تقسیم کردے کہ عملا ایسا ممکن نہیں اسلام نے ہر آدمی کو اس کی استعداد کے مطابق اس کا حق دیا ہے اور جس کو جتنا حق دیا ہے اس پر اتنے فرائض بھی رکھے ہیں اس طرح انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے ایک ہنرمند مزدور کا محتاج ہے اور مزدور ہنر مند کا محتاج ہے کہ نقشہ توانجینئر نے ہی بنانا مگر اسے اینٹ گارے سے مکان کی شکل دینا مستری اور مزدور کا کام ہے پھر یہ سب مل کر اس مالدار یا مالک مکان کے محتاج ہیں جو سرمایہ مہیا کرے اب یہاں سب سے زیادہ بوجھ مزدور نے ڈھویا اس سے کم بوجھ مستری پر پڑا اور انجینئر نے محض کاغذ پہ لکیریں کھینچیں مگر اجرت انجیئنر کو زیادہ ملی مستری کو اس سے کم اور مزدور کو اس سے کم۔ اشتراکیت نے اسے غلط کہا مگر اسلام نے نجینئر کی عمر بھر کی تعلیم اور اس کی محنت کو شامل رکھ کر اس کی درجہ بندی کی ۔ مستری نے کام سیکھنے پہ جو مشقت اٹھائی وہ شمار کی اور ان کے مقابلے میں مزدور کی صرف وقتی قوت و محنت لگی لہذایہی حق ہے کہ جس پر جس قدر فرض اور ذمہ داری کا بوجھ ہے وہ اتنا پالے گا ، ہاں اگر اشتراکیت چاہے بھی تو تقسیم برابر نہیں کرسکتی کہ انسانی استعداد اس کی عقلی اور ذہنی رسائی اس کا کام کے ساتھ خلوص اور دیانت وامانت بھلا کیسے ماپاجاسکتا ہے ۔ نیز اس کے میلان طبعی کے خلاف اس سے کام لینا محال اور انسانی تقسیم ہر ایک کو اس کے میلان کے مطابق دینے سے قاصر جب کہ قدرتی تقسیم میں ہر فرد اپنی پسند سے اپنے میلان طبع کے مطابق کام اختیار کرتا ہے اور عجیب بات ہے کہ ہر کوئی خوش ہے سیاستدان اپنی جگہ دفتر کا بندہ اپنی جگہ اور کاشتکار اپنی مشقت پہ نازاں ہے اسی طرح اسلام نے سرمایہ دارانہ نظام کو بھی رد کردیا اور ناجائز وسائل سے دولت جمع کرنے کو منع کردیا ذخیرہ اندوزی ہی ، جوا ، سٹہ ، اور سود ، وغیرہ کو حرام قرار دے کر جائز آمدنی پر بھی زکوۃ وعشر جیسے واجبات اور صدقات پر ثواب کا وعدہ دے کر مال کے ایک جگہ جمع ہونے کو روکا یوں دونوں کے درمیان ایک معتدل راستہ قائم کیا۔ اسلامی مساوات۔ اسلامی مساوات سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ ہر آدمی کو برابر سرمایہ ملے اور نہ یہ عملا ممکن ہے بلکہ اسلامی مساوات یہ ہے کہ جس کے ذمہ جتنے فرائض ہیں اتنے ہی اس کے حقوق ہیں وہ اپنے فرائض بھی پورے کرے اور اپنے حقوق حاصل کرنے میں بھی کسی کو کوئی دشواری نہ ہو ، یہ نہ ہو کہ کوئی امیر یابااثر تو اپناحق حاصل کرلے اور غریب یا مزدور ٹھوکریں کھاتا رہے اور حقوق وفرائض میں برابری ممکن نہیں ہے۔ اور نہ ہی قدرت نے پیدا کی ہے۔ انسان کے علاوہ بھی مخلوق ہے جس کے فرائض کم تر ہیں تو حقوق بھی کم تر ہیں جیسے جانور کہ حرام حلال یا جائز ناجائز کے مکلف نہیں تو انسان ان سے استفادہ کرتا ہے سواری باربرداری یاذبح کرکے کھا بھی لیتا ہے تو یہ کوئی ظلم نہیں ہاں ان سے اگر خدمت لے گا توکھاناپینا بھی دے گا یا آزاد رہنے دے پھر اللہ کریم خود ان کا مالک ہے روزی دے گا ایسے ہی انسان کو استعداد بخشی تو اس پر فرائض کا بوجھ بھی رکھا اگر دیانت داری سے پورے نہ کرے تو آخرت کا محاسبہ بھی ہوگا اسی قدر ہر ایک کو حقوق بھی عطا فرمائے ج اور جس طرح فرائض کی ادائیگی میں سب برابر ہیں اسی طرح حقوق حاصل کرنے میں سب برابر ہیں۔ اور اس کا اہتمام حکومت کی ذمہ داری ٹھہرایا۔ ان نادانوں نے دولت دنیا کو اتنی اہمیت دی کہ اسے شرط نبوت ٹھہرایا حالانکہ ہمارے نزدیک وہ ایسی حقیر ہے کہ اگر انسانی مزاج میں حرص کے غلبہ کے باعث یہ بات نہ ہوتی کہ اکثر لوگوں کی گمراہی کا سبب بن جائے گا توہم کافروں کو اس قدر دولت دیتے کہ ان کے مکان چھتیں زینے دروازے کواڑ اور تخت سونے چاندی کے ہوتے اور پھر وہ حسرت سے اس سب دولت کو چھوڑ کرمرتے کہ یہ سب محض حیات دنیا کے لیے ہے اور آخرت تو تمہارے پروردگار کے پاس ہے ان لوگوں کے لیے جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور اللہ کے قرب کے طالب اور اس کے اطاعت گزار ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 35 : برائ (بیزار ہوتا) فطرنی ( اس نے مجھے پیدا کیا) کلمۃ باقیۃ (باقی رہنے والا پیغام) عقب (پیچھے) متعت ( میں نے سامان دیا) قریتین (دو بستیاں ( مکہ و طائف) یقسمون ( وہ تقسیم کرتے ہیں) معیشت (روزی) سخریا ( ذلیل ، ذلت) سقف ( چھتیں) فضۃ ( چاندی) معارج ( معراج) (سیڑھیاں) سرر ( سریر) تخت ، بیٹھنے کی جگہیں) زخرف (سونا) تشریح : آیت نمبر 26 تا 35 : اوپر کی آیات میں گمراہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلنے ، اللہ کے پیغمبروں کی تعلیمات سے منہ پھیر کر زندگی گزارنے ، حق و صداقت کا انکار کرنے والے کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ قریش مکہ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا جدا مجد مانتے اور ان کی نسبت پر فخر کرنے کے باوجود کفرو شرک کی گندگیوں میں ملوث تھے ان کو شرم دلاتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے جب اپنے ارد گرد مشرکانہ معاشرہ ، بت گرا اور بت پرست خاندان اور طرح طرح کی جاہلانہ رسموں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو دیکھا اور غور کیا تو انہوں نے ہمت و جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کفر و شرک کے ہر طریقے کا انکار کردیا ۔ انہوں نے کسی مصلحت کا سہارا لئے بغیر صاف صاف اعلان کردیا کہ جن لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے معبود گھڑ کر ان کی عبادت و بندگی کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے وہ قطعاً باطل ، جھوٹ اور ایک بےحقیقت اور بےبنیاد بات ہے۔ جب انہوں نے اس کلمہ حق کو بلند کیا تو ہر شخص ان کی جان کا دشمن بن گیا اور ان کو ہر طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان کو ایک زبردست آگ میں جھونک دیا گیا ، وطن سے بےوطن ہوئے ، گھر بار کی ہر راحت و آرام سے محروم کردیئے گئے عراق ، فلسطین ، حجاز اور دوسری جگہوں میں مسلسل گشت کر کے اس کلمہ حق کو بلند کرتے رہے جس میں ساری انسانیت کی فلاح اور بہبود کے راز پوشیدہ ہیں ۔ انہوں نے اس کلمہ حق کے لئے پوری زندگی ہجرت اور مشکلات میں گزار دی لیکن کفر و شرک سے سمجھوتہ نہیں کیا اور کلمہ حق کو آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بنا کر باقی رکھا ۔ کفار قریش سے کہا جا رہا ہے کہ حق و صداقت اور کلمہ باقیہ کی یہی وہ سیدھی سچی راہ ہے جس کو نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش فرما رہے ہیں ۔ اس میں یہ ارشارہ موجود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) اور ان کے راستے پر چلنے والوں کو کامیاب و بامراد کیا اسی طرح وہ اللہ حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان پر ایمان لانے والوں کو عظمت کی بلندیوں پر پہنچا کر رہے گا ۔ فرمایا کہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ ٔ حسنہ پر چلنے والے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کے بجائے وہ ان کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک بےحقیقت جادو ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیثیت کو لوگوں کی نظروں میں کم کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ مکہ اور طائف میں ایسے بڑے ، صاحب حیثیت اور مال دار لوگوں کی کمی نہیں تھی جن کو نبی بنایا جاتا تو بات سمجھ میں آجاتی لیکن ایک یتیم و نادار شخص کو نبی بنا کر بھیجنا ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا ان کی جہالت اس مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں وہ اللہ کی رحمت یعنی نبوت کو بھی اپنی مرضی کے مطابق اپنے تابع کرنا چاہتے ہیں کہ جس کو وہ چاہیں اس کو نبی بنا دیا جائے اور جس کو وہ نہ چاہیں اس کا وہ انکار کردیں ۔ فرمایا کہ ان کی تو نبوت ہی کیا دنیا کی معیشت اور دولت میں بھی یہی خواہش ہے کہ وہ ان کی مرضی کے تابع ہوجائے جس کو وہ چاہیں دیں اور جس کو نہ چاہیں اس کو بھوکا مار دیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگ اس بات کو یاد رکھیں کہ نبوت و رسالت ہو یا زندگی گزارنے کے اسباب کی تقسیم یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جب اور جہاں اور جس کو چاہتا ہے نبوت کے اعلیٰ مقام کے لئے منتخب کرلیتا ہے۔ اس طرح اس نے معیشت یعنی مال و دولت کی تقسیم کو بھی اپنے ہاتھ میں رکھا ہے ورنہ انسان تو اتنا خود غرض ہے کہ اگر اس کے ہاتھ میں دوسروں کا رزق دیدیدا جاتا تو وہ اپنے علاوہ سب کو ہر طرح کے رزق اور مال و دولت سے محروم کردیتا ۔ فرمایا کہ اللہ کا اپنا نظام ہے وہ جس کو جتنا دینا چاہتا ہے کم یا زیادہ عطاء فرما دیتا ہے لہٰذا وہ نبوت و رسالت کو مال و دولت کی ترازو میں تول کر نہیں دیتا بلکہ اپنی مرضی سے دیتا ہے۔ فرمایا کہ مال و دولت کی کثرت انسانی شرافت کا معیار نہیں ہے کہ جس کے پاس زیادہ مال و دولت ہے وہ زیادہ بڑا آدمی ہے اور وہ ہر چیز کا مستحق ہے بلکہ انسانی شرافت کا معیار تقویٰ اور پرہیز گاری ہے۔ مال و دولت جہاں خیر کا ذریعہ ہے وہیں وہ اللہ کے نزدیک ایک حقیر چیز بھی ہے۔ فرمایا کہ اگر عام لوگوں کے کفر میں مبتلا ہو کر بھٹک جانے اور ڈگمگانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو اللہ تمام کفار و مشرکین پر سونے چاندی اور مال و دولت کی بارش کردیتا۔ ان کے چاروں طرف مال و دولت کے ڈھیر لگا دیتا ان کی سونے چاندی کی چھتیں ، سونے چاندی کی سیڑھیاں ، دروازے اور تخت ہوتے لیکن کیا یہ سونے چاندی کے ڈھیر ان کو آخرت کے عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہوتے ، ہرگز نہیں ۔ لہٰذا کفار قریش کا یہ کہنا کہ مکہ اور طائف کے بڑے لوگوں پر اس قرآن کو نازل کیوں نہ کیا گیا تو وہ سن لیں کہ انسان مال و دولت سے بڑا آدمی نہیں ہوتا بلکہ اپنی ذات شرافت اور اخلاق سے بڑا بنتا ہے۔ یا وہ بڑا آدمی ہوتا ہے جس کو اللہ اپنے پیغام کے لئے منتخب کرلیتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح ہر قوم کے حکمران اور امیر لوگوں نے اپنے رسول کی مخالفت کی اور اپنے آباء و اجداد کے رسم و رواج پر قائم رہے۔ اسی طرح ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم باطل عقیدہ اور اپنے رسم و رواج پر قائم رہے۔ اہل مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کا وارث سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی طریقہ سے اپنے رب کی عبادت کرتے تھے جس انداز میں ہم عبادت کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ میں اس بات کی تردید کی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا شرکیہ عقیدہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی ان کا مشرکین کے ساتھ کوئی واسطہ تھا وہ صرف اور صرف زمین و آسمان کے رب کی عبادت کرنے والے اور اسی کی طرف لوگوں کو بلانے والے تھے اور اپنے عقیدہ میں یکسو تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے توحید کی دعوت اپنے والد کے سامنے پیش فرمائی اور اپنی قوم کو باربار سمجھایا کہ اے میری قوم ! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان سے لاتعلق ہوں۔ میں تو صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری راہنمائی کرتا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) یہی عقیدہ اور دعوت اپنی اولاد میں چھوڑ کرگئے تاکہ ان کی اولاد ہر حال میں اپنے رب کی عبادت کرے اور اس کی طرف رجوع کرتی رہے۔ اے اہل مکہ تم اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سمجھتے ہو اور ان کی ملت کے دعوے دار ہو۔ لہٰذا تمہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو قبول کرنا چاہیے کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی بات کی دعوت دیتے ہیں لیکن تم اس طرح ہی مخالفت کر رہے ہو جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ، اس کی قوم اور حکمران طبقہ نے کی تھی۔ (وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہٗ وَلَقَدِ اصْطَفَیْنٰہُ فِی الدُّنْیَا وَ اِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْن اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْن وَ وَصّٰی بِھَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِیْہِ وَ یَعْقُوْبُ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ اَمْ کُنْتُمْ شُھَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَ اِلٰہَ اٰبَآءِکَ اِبْرَھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰھًا وَّاحِدًا وَّ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ) [ البقرۃ : ١٣٠ تا ١٣٣] ” دین ابرہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جس نے اپنے آپ کو بیوقوف بنا لیا ہے۔ بلا شک ہم نے ابراہیم کو دنیا میں چن لیا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہوں گے۔ جب اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرمانبردار ہوجاؤ اس نے عرض کی میں نے اپنے اپ کو رب العالمین کے سامنے جھکا دیا ہے۔ ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرمایا لیا ہے تمہیں موت مسلمان ہونے کی حالت میں آنی چاہیے۔ کیا تم یعقوب کی موت کے وقت موجود تھے ؟ جب اس نے اپنی اولاد کو فرمایا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ سب نے جواب دیا کہ تیرے معبود کی اور تیرے آباء ابراہیم، اسماعیل، اور اسحاق کے معبود کی جو ایک ہی معبود ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔ “ مسائل ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کے عقیدے سے برأت کا اعلان کیا تھا۔ ٢۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرکوں کے طریقہ کے مطابق اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ ٣۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہمیشہ خالق حقیقی کی طرف لوگوں کو بلایا۔ ٤۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو توحید کی دعوت دی اور اسی عقیدے پر پکے رہنے کی تلقین فرمائی۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ اور دعوت : ١۔ حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ (العنکبوت : ١٦) ٢۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ اے میری قوم ! میں تمہارے شرک سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ (الانعام : ٧٩) ٣۔ مشرکین نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے آگ کا الاؤ جلایا اور انہیں آگ میں ڈال دیا۔ ( الصّٰفّٰت : ٩٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٢٣٢ ایک نظر میں قریش کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اور یہ دعویٰ برحق تھا۔ پھر ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہیں اور ان کی یہ بات غلط تھی۔ حضرت ابراہیم نے تو عقیدۂ توحید کا اعلان نہایت کھل کر کیا تھا۔ جس کے اندر کوئی التباس اور پیچیدگی نہ تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے باپ کو چھوڑا ، اپنی قوم کو چھوڑا ، اس سے پہلے ان کو قتل کرنے اور جلانے کی سعی کی گئی۔ اور ان کی شریعت بھی عقیدۂ توحید پر قائم تھی اور اسی کی انہوں نے اپنی اولاد کو تاکید کی تھی۔ اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور شریعت میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔ اس سبق میں قرآن اپنے مخاطبین کو خود ان کی تاریخ کی سیر کراتا ہے تا کہ ان کے دعوے کو تاریخ کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ اس کے بعد رسالت محمدی پر ان کے اعتراضات کو پرکھا جا رہا ہے۔ وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (٤٣ : ٣١) “ کہتے ہیں یہ قرآن دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں ہوا ”۔ ان کے اس قول کی تردید کی جاتی ہے کہ ان کی سوچ میں بہت بڑی کجی ہے۔ کیونکہ اسلام جن قدروں پر مبنی ہے ، ان کے اعتبار سے یہ سوچ ہی غلط ہے کہ دعوت اسلامی کی زمام کسی بڑے آدمی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ جھوٹی قدریں ہیں اور یہی اسلام کی طرف آنے میں ان کے لئے رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہی باطل سوچوں نے ان کو حق و ہدایت سے دور رکھا ہوا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان کو یہ اطلاع بھی کردی جاتی ہے کہ اس گمراہی کی اصل علت اور وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ اس درس کے آخر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آپ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ان سے منہ موڑ لیں ، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ، آپ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی اندھے کو بینا کردیں ، کسی بہرے کو شنوائی دے دیں۔ یہ اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں ۔ اور ان کو ضرور سزا ملے گی خواہ آپ کی زندگی میں اللہ ان سے انتقام لے یا آپ کے بعد وہ اس سے دو چار ہوں۔ آپ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ کو جو پیغام دیا گیا ہے ، آپ اس کو مضبوطی سے پکڑیں ۔ یہی پیغام تمام انبیاء کو دیا گیا تھا۔ سب کلمہ توحید لے کر آئے تھے۔ وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔ یعبدون (٤٣ : ٤٥) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ، ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ” ۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا ایک حلقہ پیش کیا جاتا ہے۔ فرعون کلیم کے قصے کا وہ حصہ جس میں وہی جھوٹی قدریں سامنے آتی ہیں جو اہل مکہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں پیش کیں گویا یہ ایک تیار استدلال ہے ، بنا بنایا اور تاریخ کے ہر مرحلے میں اسے دہرایا جاتا ہے۔ ٭٭٭٭ درس نمبر ٢٣٢ تشریح آیات ٢٦ ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ ٥٦ آیت نمبر ٢٦ تا ٢٨ دعوت توحید جسے یہ لوگ انوکھا سمجھتے ہیں ، یہ دراصل ان کے باپ کی دعوت ہے ، یہ وہ دعوت ہے جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے سامنے پیش کی اور ان کے باطل عقائد کی تردید کی۔ اور اس میں انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے موروثی عقائد کو ترک کیا اور موروثی راہ پر رسم نہ چلے۔ محض اس لیے کہ آباء و اجداد یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ، اس معاملے میں ان کے مقابلے میں برات کے اظہار میں کوئی لگی لپٹی بات نہیں کی بلکہ نہایت ہی صاف الفاظ اور شفاف عمل میں ان کی تردید کی ، جس طرح قرآن نقل کرتا ہے : اننی براء مما تعبدون (٤٣ : ٢٦) الا الذی فطرنی فانہ سیھدین (٤٣ : ٢٧) “ بیشک میں ان سے بری الذمہ ہوں جن کی تم بندگی کرتے ہو ، میرا تعلق اس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا وہی میری رہنمائی کرے گا ”۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اظہار برات اور پھر اس اعلان سے کہ میں صرف اس خدا کی بندگی کروں گا جو میرا خالق ہے ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمرودی معاشرہ بھی بالکل خدا کا منکر نہ تھا بلکہ وہ اللہ کے سوا اور الہٰوں کو اللہ کے ساتھ شریک قرار دیتے تھے۔ اور ان کی بندگی کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان سے برات کا اظہار کیا۔ اس لا تعلقی کے اظہار سے آپ نے خالق کائنات کو مستثنیٰ لیا۔ اور اللہ کی یہاں آپ نے وہ صفت بیان جو صرف اللہ کے لئے عبادت کا استحقاق ثابت کرتی ہے۔ یہ کہ وہ پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا بندگی اور حکم بھی اسی کا چلنا چاہئے اور آپ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اللہ انہیں ہدایات دے گا کہ وہ کیا کریں کیونکہ خالق اپنی مخلوق کی راہنمائی کا انتظام بھی کرتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس طرح ہدایت دے۔ یہ کلمہ جس کے اوپر زندگی قائم ہے جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے اور جس پر شہادت دے رہی ہے ، یہ حضرت ابراہیم نے کہا۔ وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون (٤٣ : ٢٨) “ اور ابراہیم یہی کلمہ پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تا کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں ”۔ اس کرۂ ارض پر کلمہ توحید کے اقرار اور رواج میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا بڑا حصہ ہے۔ آپ ہی کے بعد یہ کلمہ تمام نسلوں میں رائج ہوا۔ اور یہ رواج آپ کی اولاد کے ذریعے ہوا۔ آپ کی اولاد سے بیشمار رسول بھیجے گئے۔ تین رسول تو اولو العزم رسول تھے۔ حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ آج دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ ایسے پائے جاتے ہیں ، جو مختلف بڑے ادیان کے پیروکار ہیں جو اپنے باپ کے کلمہ توحید پر کاربند ہیں۔ اس نے اس کلمے کو اپنی اولاد میں باقی رکھا۔ اگرچہ ان میں سے بھی گمراہ ہونے والے گمراہ ہوئے لیکن یہ کلمہ باقی رہا۔ کبھی یہ بالکل نا پید نہیں ہوا ، اور اس کے قدم مضبوط رہے ، کبھی کسی نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا اور نہ اس کے ساتھ باطل کا امتزاج ہوا ہے تا کہ لوگ اللہ کی طرف لوٹیں اور اسے سینے سے لگائیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے بھی کلمہ توحید سے انسانیت واقف تھی لیکن زمین کے اوپر کلمہ توحید کو قرار و ثبات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نصیب ہوا۔ آپ سے پہلے حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت صالح اور شاید حضرت ادریس (علیہ السلام) نے کلمہ توحید پیش کیا لیکن ان رسولوں کو ایسے جانشین نہ ملے جو ان کے بعد کلمہ توحید کو باقی رکھتے اور اس کے مطابق زندگی گزارتے اور جو اس کے لئے زندہ رہتے۔ لیکن جب یہ کلمہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے پیش فرمایا تو آپ کے بعد اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اور رسولوں کا بھی ایک غیر منقطع سلسلہ چل نکلا۔ چناچہ آپ کی اولاد میں سے آخری بیٹے اور آپ کے ساتھ زیادہ مشابہ حضرت محمد خاتم النبین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے ، اور انہوں نے کلمہ توحید کو اس کی کامل اور شامل صورت میں پیش کیا جس نے پوری زندگی کو اس کلمے کے ارد گرد گمادیا۔ اور انسان کی ہر سرگرمی میں اس کو اثر انداز کردیا۔ یہ تھی توحید کی کہانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں وراثت میں باقی رکھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر یہ کلمہ نسلاً بعد نسل نقل ہوتا رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف نسبت کرنے والے اس کلمے کے مقابلے میں کیا رد عمل اختیار کرتے ہیں۔ زمانے گزر گئے۔ اللہ نے نسلاً بعد نسل ان کو زندگی کے خوب سازو سامان دئیے ، بہت زیادہ دور چلے جانے کے بعد انہوں نے ملت ابراہیمی کو بھلا دیا۔ اور ان عربوں کے اندر کلمہ توحید انوکھا ہوگیا۔ اب جبکہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے ہیں تو انہوں نے اس کا بہت ہی برا استقبال کیا اور اسے بھی اہل زمین اور دنیا پرستوں کی قدروں کے پیمانوں سے ناپنا شروع کردیا اور خود ان کے پیمانے بھی بدل گئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شرک سے برات کا اعلان فرمانا اور دعوت حق کا ان کی نسل میں باقی رہنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بابل کے قریب مشرکین کے علاقے میں پیدا ہوئے تھے ان کے علاقہ کے لوگ بت پرست بھی تھے اور ستارہ پرست بھی، ان کا باپ بھی مشرک بت پرست تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی لیکن ان لوگوں نے نہ مانا اور حق کو قبول نہ کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے واضح طور پر اعلان فرما دیا کہ میں تمہارے معبودوں سے بری اور بیزار ہوں، میں تو صرف اس ذات کی عبادت کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا اسی نے مجھے ہدایت دی اور مجھے ہدایت پر رکھے گا لفظ فَطَرَنِيْ میں تعریض ہے کہ تم لوگ حماقت کے کام میں لگے ہوئے ہو تمہیں بھی اسی نے پیدا کیا جس نے مجھے پیدا کیا لہٰذا پیدا کرنے والے کی عبادت کرو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شرک سے بیزاری کا اعلان کردیا اور اپنی بیوی کو لے کر فلسطین چلے گئے راستہ میں ایک اور بیوی بھی مل گئی (جس کی تفصیل سو رۃ الانبیاء میں بھی گزر چکی ہے) دونوں بیویوں سے اولاد ہوئی بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل ان کی اولاد ہیں وہ جو انہوں نے کلمہ توحید کی دعوت دی اور شرک سے بیزاری کا اعلان کیا ان کی یہ بات ان کی اولاد میں بھی باقی رہی ہے جسے یہاں ﴿ وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ ﴾ اور سورة بقرہ میں ﴿وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِيْهِ وَ يَعْقُوْبُ ﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کلمہ توحید کی دعوت دی اور اسے اپنی نسل میں باقی رکھا تاکہ ان کی نسل کے لوگ شرک سے باز آئیں ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ٠٠٢٨﴾ میں یہ بات بتائی ہے۔ قریش مکہ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور شرک اختیار کیے ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو توحید پر جمنے کی وصیت فرما کر اپنی ذمہ داری پوری فرما دی تھی لیکن اہل عرب اکثر مشرک ہوگئے تھے پھر جب نبی عربی سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے توحید کی دعوت دی تو برس ہابرس کی محنت کے بعد قریش مکہ نے شرک چھوڑا اور توحید پر آگئے۔ فصلی اللّٰہ علی خلیلہ وحبیبہ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18:۔ ؎” واذا قال ابراہیم “ پہلی دلیل نقلی تفصیلی از حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ ” الا الذی ‘ میں استثناء منقطع ہے (مدارک و بحر) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو جد الانبیاء اور مشرکین قریش کے جد اعلی تھے ان کی تعلیم یہ تھی کہ انہوں نے اپنے باپ آز اور اپنی قوم کے سامنے واشگاف الفاظ میں اعلان فرما دیا تھا کہ تم جن معبودان باطلہ کی عبادت و تعظیم بجالاتے ہو اور جنہیں حاجات و مشکلات میں غائبانہ پکارتے ہو، میں ان سب سے سخت بیزار ہوں۔ التہ وہ ذات پاک جس نے مجھے پیدا کیا ہے میں اسی کی عبادت کرتا ہوں اور اسی ہی کو حاجات میں پکارتا ہوں۔ وہی مجھے اس ہدایت پر قائم رکھے ہے۔ ” سیہدین “ میں سین تاکید کے لیے ہے، استقبال کے لیے نہیں (روح) ۔ یہدین ای یثبتنی علی الہدایۃ (مدارک) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(26) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو اور جن کی پرستش کرتے ہو میں ان سے بیزار ہوں اور ان چیزوں سے الگ ہوں۔