Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 3

سورة الزخرف

اِنَّا جَعَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۚ﴿۳﴾

Indeed, We have made it an Arabic Qur'an that you might understand.

ہم نے اسکو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّا جَعَلْنَاهُ ... Verily, We have made it, (meaning, revealed it), ... قُرْانًا عَرَبِيًّا ... a Qur'an in Arabic, meaning, in the language of the Arabs, eloquent and clear; ... لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ that you may be able to understand. means, that you may understand it and ponder its meanings. This is like the Ayah: بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِينٍ In the plain Arabic language. (26:195) وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 جو دنیا کی فصیح ترین زبان ہے، دوسرے، اس کے اولین مخاطب بھی عرب تھے، انہی کی زبان میں قرآن اتارا تاکہ وہ سمجھنا چاہیں تو آسانی سے سمجھ سکیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تمہیں اس کے مضامین و مطالب سمجھنے میں آسانی ہو۔ تم عربی زبان بولتے ہو اور قرآن عربی زبان میں اس لیے اتارا گیا کہ تمہیں سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم تھوڑی سی بھی عقل و فکر سے کام لو & اس کے شیریں انداز بیان & اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی تاثیر، اس کے احکام کی حکمت میں غور کرو تو تمہیں از خود معلوم ہوجائے گا کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

انا جعلنہ قرانا عربینا…: اس آیت میں یہ یقین دلانے کے ساتھ کہ اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے، اسے عربی قرآن بنا کر نازل کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة یوسف کی آیت (٢) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۝ ٣ ۚ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ عَرَبيُّ : الفصیح البيّن من الکلام، قال تعالی: قُرْآناً عَرَبِيًّا[يوسف/ 2] ، وقوله : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، العربی واضح اور فصیح کلام کو کہتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ قُرْآناً عَرَبِيًّا[يوسف/ 2] واضح اور فصیح قرآن ( نازل کیا ) بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ { اِنَّا جَعَلْنٰـہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّـعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ } ” ہم نے اس کو بنا یا ہے قرآن عربی تاکہ تم سمجھ سکو۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 The object of taking an oath by the Qur'an is to impress this fact: "We are the Author of this Book and not Muhammad (upon whom be Allah's peace)," and the attribute of the Qur'an chosen for the oath is that it is a "lucid Book". To swear by the Qur'an itself with its this attribute in order to impress that the Qur'an is Divine Word by itself implies this: "O people, this is an open Book before you. Read it intelligently. Its clear and un-ambiguous themes, its language and literary style, its teaching which distinguishes the truth from falsehood, all arc testifying to the fact that none but the Lord of the Universe could be its Author. " Then the sentence: '"We have made it an Arabic Qur'an so that you may understand it." has two meanings:(1) "It is not in any foreign tongue but in your own language; therefore, you can have no difficulty in assessing its value and worth. Had it been in a non-Arabic language, you could have offered the excuse that you could not determine its being Divine, or otherwise, for you did not understand it. But you cannot offer this excuse about this Arabic Qur'an. Its each word is clear to you: its each passage and discourse, both in language and in theme, is plain for you. Now you may see it for yourself whether this could be the word of Muhammad (upon whom be Allah's peace) or of some other Arab." (2) "We have sent this Book in Arabic because We are addressing the Arabs, who can only understand an Arabic Qur'an. The person who disregards this expressly rational ground for sending down the Qur'an in Arabic and regards it as the word of Muhammad (upon whom be Allah's peace) instead of Divine Word only because Muhammad's mother tongue is also Arabic, commits a grave injustice. " (To understand this second meaning, please see Surah Ha-Mim As-Sajdah: 44 and its E.N.'s).

سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :1 قرآن مجید کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف ہم ہیں نہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اور قسم کھانے کے لیے قرآن کی جس صفت کا انتخاب کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ کتاب مبین ہے ۔ اس صفت کے ساتھ قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر خود قرآن کی قسم کھانا آپ سے آپ یہ معنی دے رہا ہے کہ لوگو ، یہ کھلی کتاب تمہارے سامنے موجود ہے ، اسے آنکھیں کھول کر دیکھو ، اس کے صاف صاف غیر مبہم مضامین ، اس کی زبان ، اس کا ادب ، اس کی حق و باطل کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچ دینے والی تعلیم ، یہ ساری چیزیں اس حقیقت کی صریح شہادت دے رہی ہیں کہ اس کا مصنف خداوند عالم کے سوا کوئی دوسرا ہو نہیں سکتا ۔ پھر یہ جو فرمایا کہ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اسے سمجھو ، اس کے دو مطلب ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ کسی غیر زبان میں نہیں ہے ، بلکہ تمہاری اپنی زبان میں ہے ، اس لیے اسے جانچنے پرکھنے اور اس کی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے میں تمہیں کوئی دقت پیش نہیں آ سکتی ۔ یہ کسی عجمی زبان میں ہوتا تو تم یہ عذر کر سکتے تھے کہ ہم اس کے کلام الٰہی ہونے یا نہ ہونے کی جانچ کیسے کریں جبکہ ہماری سمجھ ہی میں یہ نہیں آ رہا ہے ۔ لیکن اس عربی قرآن کے متعلق تم یہ عذر کیسے کر سکتے ہو ۔ اس کا ایک ایک لفظ تمہارے لیے واضح ہے ۔ اس کی ہر عبارت اپنی زبان اور اپنے مضمون ، دونوں کے لحاظ سے تم پر روشن ہے ۔ خود دیکھ لو کہ کیا یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یا کسی دوسرے عرب کا کلام ہو سکتا ہے ۔ دوسرا مطلب اس ارشاد کا یہ ہے کہ اس کتاب کی زبان ہم نے عربی اس لیے رکھی ہے کہ ہم عرب قوم کو مخاطب کر رہے ہیں اور وہ عربی زبان کے قرآن ہی کو سمجھ سکتی ہے ۔ عربی میں قرآن نازل کرنے کی اس صریح وجہ کو نظر انداز کر کے جو شخص صرف اس بنا پر اسے کلام الٰہی کے بجائے کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرار دیتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مادری زبان بھی عربی ہے تو وہ بڑی زیادتی کرتا ہے ۔ ( اس دوسرے مطلب کو سمجھنے کے لیے تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، سورہ حٰم السجدہ ، آیت 44 مع حاشیہ نمبر 54 ملاحظہ فرمائیں )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:3) جعلنہ : جعلنا ماضی کا سیغہ جمع متکلم جعل باب فتح مصدر۔ بمعنی کرنا ۔ بنانا۔ ٹھہرانا وغیرہ۔ یہ لفظ مندرجہ ذیل پانچ طرح پر استعمال ہوتا ہے :۔ (1) بمعنی صار ، طفق : اس صورت میں یہ بطور فعل لازم کے آتا ہے مثلا جعل زید یقول کذا زید یوں کہنے لگا۔ (2) بمعنی اوجد (یعنی ایجاد یا پیدا کرنا۔ اس صورت میں یہ فعل متعدی بیک مفعول استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً وجعل الظلمت والنور (6:1) اور اس نے اندھیرے اور روشنی بنائی۔ (3) ایک شے کو دوسری شے سے پیدا کرنا اور بنانا۔ مثلا وجعل لکم من انفسکم ازواجا (42:11) اس نے تمہارے لئے تمہار ہی جنس سے جوڑے بنائے ۔ (4) بمعنی تصییر۔ یعنی کسی شے کو ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کرنا۔ جیسے الذی جعل لکم الارض فراشا واسلامء بناء (2:22) جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور آسمان کو چھت۔ یا انا جعلنہ قرانا عربیا (آیت ہذا) بیشک ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا۔ (5) کسی چیز پر کسی چیز کے ساتھ حکم لگانا عام اس سے کہ وہ حکم حق ہو یا باطل۔ (ا) حق کی مثال :۔ انا رادوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین (28:7) ہم اس کو تمہارے پاس واپس پہنچا دیں گے اور (پھر) اسے پیغمبر بنادیں گے۔ (ب) باطل کی مثال :۔ وجعلوا للّٰہ مما زراء من الحرث والانعام نصیبا (6:36) اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے یعنی کھیتوں اور چوپائیوں سے خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں۔ (راغب) ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب اس کا مرجع الکتب ہے۔ قرنا عربیا موصوف و صفت مل کر جعلنا کا مفعول ۔ بمعنی قرآن بزبان عربی۔ لعلکم تاکہ تم۔ لعل اصل میں حرف ترجی ہے۔ بمعنی شاید کہ۔ امید ہے کہ :۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حاکمانہ و شاہانہ طرف کلام کے مطابق یہ لفظ تعلیل و تحقیق کے لئے استعمال فرمایا ہے ۔ بمعنی کی۔ جیسا کہ آیت ہذا میں آیا ہے کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ تعقلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ عقل (باب ضرب) مصدر سے (تاکہ) تم (اسکے مطالب کو) سمجھو۔ یہ آیت جواب قسم ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 کیونکہ عربی تمہاری مادری زبان ہے۔ پھر دوسری قومیں تمہارے ذریعہ میں قرآن کو سمجھیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن رکھا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔ یعنی یہ کتاب اپنے معنی اور مطالب میں واضح اور کھلی ہوئی ہے جس نے حق و باطل کی راہیں واضح اور جدا جدا کردی ہیں اور ہدایت و گمراہی کی راہوں کو الگ الگ کردیا ہے یا یہ کہ اس کتاب نے ان تمام چیزوں کو واضح کردیا ہے اور کھول کر بیان کردیا ہے جن چیزوں کی دین کے بارے میں امت کو احتیاج اور ضرورت ہے اور ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن رکھا ہے یعنی اس کا وصف یہ ہے کہ عربی زبان کا قرآن ہے یا یہ کہ اس کا نام رکھا قرآن عربی زبان کا تاکہ اے اہل عرب تم سمجھ سکو اور سمجھ کر دوسروں کو سمجھا سکو کیونکہ اول خطاب اہل عرب کو ہے۔ یہاں جعل بمعنی خلق نہیں ہے بلکہ بمعنی تیصیر ہے جیسا کہ عبداللہ ابن عباس (رض) نے ایک اعرابی کے ساتھ گفتگو میں تصریح فرمائی جس کو شبہ ہوگیا تھا کہ جعلی بمعنی خلق ہے (نقلہ ابن مردویہ مطلولا)