1 The object of taking an oath by the Qur'an is to impress this fact: "We are the Author of this Book and not Muhammad (upon whom be Allah's peace)," and the attribute of the Qur'an chosen for the oath is that it is a "lucid Book". To swear by the Qur'an itself with its this attribute in order to impress that the Qur'an is Divine Word by itself implies this: "O people, this is an open Book before you. Read it intelligently. Its clear and un-ambiguous themes, its language and literary style, its teaching which distinguishes the truth from falsehood, all arc testifying to the fact that none but the Lord of the Universe could be its Author. " Then the sentence: '"We have made it an Arabic Qur'an so that you may understand it." has two meanings:(1) "It is not in any foreign tongue but in your own language; therefore, you can have no difficulty in assessing its value and worth. Had it been in a non-Arabic language, you could have offered the excuse that you could not determine its being Divine, or otherwise, for you did not understand it. But you cannot offer this excuse about this Arabic Qur'an. Its each word is clear to you: its each passage and discourse, both in language and in theme, is plain for you. Now you may see it for yourself whether this could be the word of Muhammad (upon whom be Allah's peace) or of some other Arab." (2) "We have sent this Book in Arabic because We are addressing the Arabs, who can only understand an Arabic Qur'an. The person who disregards this expressly rational ground for sending down the Qur'an in Arabic and regards it as the word of Muhammad (upon whom be Allah's peace) instead of Divine Word only because Muhammad's mother tongue is also Arabic, commits a grave injustice. " (To understand this second meaning, please see Surah Ha-Mim As-Sajdah: 44 and its E.N.'s).
سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :1
قرآن مجید کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف ہم ہیں نہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اور قسم کھانے کے لیے قرآن کی جس صفت کا انتخاب کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ کتاب مبین ہے ۔ اس صفت کے ساتھ قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر خود قرآن کی قسم کھانا آپ سے آپ یہ معنی دے رہا ہے کہ لوگو ، یہ کھلی کتاب تمہارے سامنے موجود ہے ، اسے آنکھیں کھول کر دیکھو ، اس کے صاف صاف غیر مبہم مضامین ، اس کی زبان ، اس کا ادب ، اس کی حق و باطل کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچ دینے والی تعلیم ، یہ ساری چیزیں اس حقیقت کی صریح شہادت دے رہی ہیں کہ اس کا مصنف خداوند عالم کے سوا کوئی دوسرا ہو نہیں سکتا ۔
پھر یہ جو فرمایا کہ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اسے سمجھو ، اس کے دو مطلب ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ کسی غیر زبان میں نہیں ہے ، بلکہ تمہاری اپنی زبان میں ہے ، اس لیے اسے جانچنے پرکھنے اور اس کی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے میں تمہیں کوئی دقت پیش نہیں آ سکتی ۔ یہ کسی عجمی زبان میں ہوتا تو تم یہ عذر کر سکتے تھے کہ ہم اس کے کلام الٰہی ہونے یا نہ ہونے کی جانچ کیسے کریں جبکہ ہماری سمجھ ہی میں یہ نہیں آ رہا ہے ۔ لیکن اس عربی قرآن کے متعلق تم یہ عذر کیسے کر سکتے ہو ۔ اس کا ایک ایک لفظ تمہارے لیے واضح ہے ۔ اس کی ہر عبارت اپنی زبان اور اپنے مضمون ، دونوں کے لحاظ سے تم پر روشن ہے ۔ خود دیکھ لو کہ کیا یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یا کسی دوسرے عرب کا کلام ہو سکتا ہے ۔ دوسرا مطلب اس ارشاد کا یہ ہے کہ اس کتاب کی زبان ہم نے عربی اس لیے رکھی ہے کہ ہم عرب قوم کو مخاطب کر رہے ہیں اور وہ عربی زبان کے قرآن ہی کو سمجھ سکتی ہے ۔ عربی میں قرآن نازل کرنے کی اس صریح وجہ کو نظر انداز کر کے جو شخص صرف اس بنا پر اسے کلام الٰہی کے بجائے کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرار دیتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مادری زبان بھی عربی ہے تو وہ بڑی زیادتی کرتا ہے ۔ ( اس دوسرے مطلب کو سمجھنے کے لیے تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، سورہ حٰم السجدہ ، آیت 44 مع حاشیہ نمبر 54 ملاحظہ فرمائیں )