Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 31

سورة الزخرف

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ ﴿۳۱﴾

And they said, "Why was this Qur'an not sent down upon a great man from [one of] the two cities?"

اور کہنے لگے ، یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سےکسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَقَالُوا ... And they say, means, objecting to that which Allah has revealed to him, ... لَوْلاَ نُزِّلَ هَذَا الْقُرْانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns? meaning, why was this Qur'an not revealed to some man who was great and prominent in their eyes, from the two towns, i.e., Makkah and At-Ta'if. This was the view of Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, Ikrimah, Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi, Qatadah, As-Suddi and Ibn Zayd. Several scholars of Tafsir stated that by this, the Quraysh meant Al-Walid bin Al-Mughirah and Urwah bin Mas`ud Ath-Thaqafi. The apparent meaning is that what they meant was a great man from either of the two towns. Allah responded to their rejection by saying:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31۔ 1 دونوں بستیوں سے مراد مکہ اور طائف ہے اور بڑے آدمی سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک مکہ کا ولید بن مغیرہ اور طائف کا عروہ بن ثقفی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠] قریش کے آپ کی ذات پر اعتراضات :۔ قریش مکہ کا پہلا اعتراض تو یہ تھا کہ ہم جیسا ایک بشر کیسے رسول ہوسکتا ہے پھر جب انہیں دلائل کے ساتھ سمجھایا گیا کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے انسان ہی رسول ہوسکتا ہے اور تم لوگوں کی ہدایت کے لیے تمہاری زبان جاننے والا ہی رسول ہوسکتا ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہ تھا۔ تو اب تیسرا اعتراض یہ جڑ دیا کہ مکہ اور طائف دو مرکزی شہر ہیں۔ مکہ کا رئیس ولید بن مغیرہ تھا اور طائف کا عروہ بن مسعود ثقفی ہے۔ ان شہروں کا کوئی بڑا آدمی رسول بن جاتا تو بھی کوئی بات تھی۔ بھلا اللہ تعالیٰ کو رسول بنانے کے لیے ایسا ہی آدمی ملا تھا جو یتیم پیدا ہوا تھا اور جس کے پاس نہ دولت ہے اور نہ کسی قبیلے یا خاندان کی سربراہی۔ اگلی آیت میں ان کے اسی اعتراض کے دو جواب دیئے جارہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وقالوا لو لا نزل ھذا القرآن…: پچھلی ایٓ میں ان کے قرآن پر طعن کا ذکر تھا تو اس آیت میں قرآن لانے والے پر اعتراض کا ذکر ہے۔ کفار پہلے تو کسی بشر کا رسول ہونا ہی ماننے کے لئے تیار نہ تھے، ان کا مطالبہ تھا کہ رسول فرشتہ ہونا چاہیے۔ جب ناقابل تردید دلائل سے انھیں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام رسول بشر ہی بھیجے ہیں، تمہارے جد امجد ابراہیم و اسماعیل (رض) اور دوسرے پیغمبر، مثلاً موسیٰ (علیہ السلام) سب بشر ہی تھے، تو فرشتہ رسول کا مطالبہ چھوڑ کر یہ مطالبہ داغ دیا کہ یہ قرآن دو بستیوں میں سے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ دو بستیوں سے مراد مکہ اور طائف ہیں ، کیونکہ ان کی مرکزی بستیاں یہ دو ہی تھیں۔ ” عظیم “ سے مراد دنیاوی مال و دولت اور جاہ مرتبہ کے لحاظ سے عظیم ہے۔ مفسرین مکہ کے ان عظیم آدمیوں میں سے ولید بن مغیرہ یا عتبہ بن ربیعہ کا اور طائف کے عظماء میں سے عروہ بن مسعود، حبیب بن عمر یا کنانہ بن عبد یالیل یا اس قبیل کے دوسرے لوگوں کا ذکر کرتے ہیں۔ کفار کے خیال میں مال کی کثرت اور قوم کے سردار ہونے کی وجہ سے یہ لوگ نبوت کے حق دار تھے ۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال و جاہ کی کمی کی وجہ سے اس کے اہل نہیں تھے، کیونکہ آپ کے پاس دولت کی کثرت تھی نہ کسی قبیلے کی سرداری۔ یہ کفار کی جہالت اور سخت نادانی تھی کہ انہوں نے نبوت کے منصب کے لئے مال و جاہ کو شرط قرار دیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Allah Ta ala has in these verses, has replied to an objection of the pagans of Arabia used to be raised against the Holy Prophet صلی اللہ علیہ . Actually, they were not prepared to accept, at the first place, that a man could be a messenger of Allah Ta’ ala. The Holy Qur&an has referred, at many places, to their objection that they could not accept Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as a messenger of Allah, while he eats and drinks and walks about in the market places like any ordinary man. When it was clarified through many verses of the Qur&an that not only the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، but all the prophets who came to this world, were human beings, they started advancing another argument that if prophethood had to be bestowed upon a human being, why was it not given to some wealthy man of a high rank and position from Makkah or &if instead of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who was not so wealthy? According to some narrations, they had proposed the names of Walid Ibn Mughirah and ` Utbah Ibn Rabi` ah from Makkah, and ` Urwah Ibn Masud Thaqafi, Habib Ibn ` Amr Thaqafi or Kinanah Ibn ` Abdiyalil from Ta&if. (Ruh-ul-Ma ani) Allah Almighty has given two answers to this objection. The second answer is found in the next verses which will be explained there, while the present verse (32) has provided the first answer in the words, |"Is it they who distribute the mercy of your Lord?|" |"Mercy of your Lord|" refers here to &prophethood& and the gist of the answer is that appointing someone as a prophet is a mercy from Allah which he bestows upon and allocates to human beings on the basis of His absolute wisdom, and according to His exclusive discretion for which He needs not to consult anyone, nor has anyone a right to interfere with it. You have no concern with distribution of prophethood so that your advice should be sought before anyone is made a prophet. Your intellect and understanding is too deficient to be entrusted with selecting suitable persons for the office of prophethood, or for the distribution of this divine mercy among people. How can you distribute among people an office as high as prophethood, while you have no ability to distribute something that is much lower and easier, that is, your economy. You are not good enough even to carry out the distribution of your wealth and means of sustenance. We know that if you are entrusted with this responsibility, you will not be able to manage it even for one day, and the whole system will simply collapse. That is why Allah Ta’ ala has not assigned the distribution of provisions in this world to you; rather He has kept it in His own hands. Since this comparatively ordinary work cannot be entrusted to you, how can a great job like distribution of prophethood be given in your hands? This is what the above verses mean, but in the context of replying to the &mushrikin&, many economic principles are laid down and indications are given by Allah Ta’ ala regarding the economic system of the world; their brief explanation is necessary here.

خلاصہ تفسیر (یہ تو کافروں نے قرآن کے بارے میں کہا) اور (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں) کہنے لگے کہ یہ قرآن (اگر کلام الٰہی ہے اور بحیثیت رسالت آیا ہے تو) ان دونوں بستیوں (یعنی مکہ اور طائف کے رہنے والوں) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا (یعنی رسول کیلئے عظیم الشان ہونا ضروری ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال اور ریاست نہیں رکھتے تو یہ پیغمبر نہیں ہو سکتے۔ باری تعالیٰ ان کے اس شبہ کی تردید فرماتے ہیں کہ) کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت (خاصہ یعنی نبوت) کو (خود) تقسیم کرنا چاہتے ہیں (یعنی یہ چاہتا کہ نبوت ہماری رائے کے مطابق لوگوں کو ملنی چاہئے گویا خود تقسیم کرنے کی ہوس کرنا ہے کہ یہ تقسیم ہمارے سپرد ہو حالانکہ یہ ہوس نری نادانی ہے کیونکہ) دنیوی زندگی میں (تو) ان کی روزی ہم (ہی) نے تقسیم کر رکھی ہے اور (اس تقسیم میں) ہم نے ایک کو دوسرے پر رفعت دے رکھی ہے تاکہ (اس سے یہ مصلحت حاصل ہو کہ) ایک دوسرے سے کام لیتا رہے (اور عالم کا انتظام قائم رہے) اور (ظاہر اور یقینی بات ہے کہ) آپ کے رب کی رحمت (خاصہ یعنی نبوت) بدرجہا اس (دنیوی مال و متاع اور جاہ و منصب) سے بہتر ہے کہ جس کو یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں (پس جب دنیوی معیشت کی تقسیم ہم نے ان کی رائے پر نہیں رکھی، حالانکہ وہ ادنیٰ درجہ کی چیز ہے، تو نبوت جو خود بھی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے اور اس کے مصالح بھی نہایت عظیم درجہ کے ہیں وہ کیونکر ان کی رائے پر تقسیم کی جاتی) ۔ معارف و مسائل ان آیات میں باری تعالیٰ نے مشرکین عرب کے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے جو وہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر کیا کرتے تھے۔ دراصل شروع میں تو وہ باور کرنے پر ہی تیار نہ تھے کہ اللہ کا کوئی رسول انسان ہوسکتا ہے، چناچہ ان کا یہ اعتراض قرآن کریم نے جا بجا ذکر فرمایا ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہم رسول کیسے مان لیں جبکہ وہ عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے اور بازاروں میں چلتے ہیں، لیکن جب متعدد آیات قرآنی کے ذریعہ یہ واضح کردیا گیا کہ یہ صرف آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی خصوصیت نہیں، بلکہ دنیا میں جس قدر انبیاء آئے ہیں وہ سب انسان ہی تھے، تو اب انہوں نے پینترا بدل کر یہ اعتراض کیا کہ اگر کسی انسان ہی کو نبوت سونپنی تھی تو حضور مالی اعتبار سے کوئی بڑے صاحب حیثیت نہیں ہیں، یہ منصب حضور کے بجائے مکہ اور طائف کے کسی بڑے دولت مند اور صاحب جاہ و منصب انسان کو کیوں نہیں دیا گیا، روایات میں ہے کہ اس سلسلہ میں انہوں نے مکہ مکرمہ سے ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ کے اور طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی حبیب بن عمرو ثقفی یا کنانہ بن عبد یا لیل کے نام پیش کئے تھے۔ (روح المعانی) مشرکین کے اس اعتراض کے باری تعالیٰ نے دو جواب دیئے ہیں۔ پہلا جواب مذکورہ آیتوں میں سے دوسری آیت میں اور دوسرا جواب اگلی آیات میں دیا گیا ہے اس کی تشریح بھی وہیں آئے گی۔ اس سے پہلے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ تمہیں اس معاملے میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نبوت کا منصب کس کو دے رہا ہے اور کس کو نہیں دے رہا ؟ نبوت کی تقسیم تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے کہ کسی کو نبی بنانے سے پہلے تم سے رائے لی جائے۔ یہ کام کلیتاً اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہی اپنی عظیم مصلحتوں کے مطابق اسے انجام دیتا ہے۔ تمہارا وجود اور عقل و شعور اس عظیم کام کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا کہ تقسیم نبوت کا کام تمہارے سپرد کردیا جاتا اور نبوت کی تقسیم تو بہت اونچے درجہ کی چیز ہے تمہاری حیثیت وجود و شعور تو اس کی بھی متحمل نہیں کہ خود تمہاری معیشت اور سامان معیشت کی تقسیم کا کام تمہارے سپرد کیا جاسکے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسا کیا گیا تو تم ایک دن بھی نظام عالم کو نہ چلا سکو گے اور سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے دنیوی زندگی میں تمہاری روزی کی تقسیم بھی تمہارے ذمہ نہیں رکھی بلکہ تقسیم معیشت کا کام خود اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ جب یہ ادنیٰ درجہ کا کام تمہارے حوالہ نہیں کیا جاسکتا تو نبوت کی تقسیم جیسا عظیم کام تمہارے حوالہ کیسے کردیا جائے۔ آیات کا مقصود کلام تو اتنا ہی ہے لیکن مشرکین کو جواب دینے کے ضمن میں باری تعالیٰ نے دنیا کے نظام معیشت سے متعلق جو اشارے کردیئے ہیں ان سے متعدد معاشی اصول مستنبط ہوتے ہیں، یہاں ان کی مختصر توضیح ضروری ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ۝ ٣١ «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] اگر تم نہ ہوتے تو ہمضرور مومن ہوجاتے ۔ دو م بمعنی ھلا کے آتا ہے ۔ اور اس کے بعد متصلا فعل کا آنا ضروری ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا ۔ وغیرہ ذالک من الا مثلۃ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں عظیم وعَظُمَ الشیء أصله : كبر عظمه، ثم استعیر لكلّ كبير، فأجري مجراه محسوسا کان أو معقولا، عينا کان أو معنی. قال : عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] ، قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] ، ( ع ظ م ) العظم عظم الشئی کے اصل معنی کسی چیز کی ہڈی کے بڑا ہونے کے ہیں مجازا ہر چیز کے بڑا ہونے پر بولا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق حس سے یو یا عقل سے اور عام اس سے کہ وہ مادی چیز ہو یا معنو ی قرآن میں ہے : ۔ عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] بڑے سخت دن کا عذاب ) تھا ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] کہہ دو کہ وہ ایک سخت حادثہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ان مکہ والوں میں سے ولید اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ یہ قرآن حکیم مکہ اور طائف میں سے کسی بڑے آدمی یعنی ولید بن مغیرہ اور ابی مسعود ثقفی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ شان نزول : وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ (الخ) اور ابن منذر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ولید بن مغیرہ نے کہا کہ محمد جو بات کہہ رہے ہیں اگر وہ صحیح ہوتی تو یہ قرآن حکیم مجھ پر یا مسعود ثقفی پر نازل کیا جاتا تب یہ آیت نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١ { وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ } ” اور کہنے لگے کہ کیوں نہیں اتارا گیا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم شخص پر ؟ “ یہاں اصل مرکب اضافی ” رَجُلٍ عَظِیْمٍ “ ہے ‘ لیکن ان دو الفاظ کے درمیان ” مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ “ آجانے سے ” رجل “ کی صفت (عظیم) آخر پر چلی گئی ہے۔ قرآن کے اسلوب کے مطابق الفاظ کی یہ تقدیم و تاخیر مخصوص صوتی آہنگ کے باعث ہوتی ہے جس کی مثالیں قرآن میں جا بجا ملتی ہیں۔ مکہ اور طائف نزولِ قرآن کے زمانے میں (پاکستان کے راولپنڈی اور اسلام آباد کی طرح) جڑواں شہر (twin cities) سمجھے جاتے تھے۔ دونوں شہروں کے لوگوں کے آپس میں گہرے مراسم تھے۔ مکہ کے اکثر سرداروں کی طائف میں بڑی بڑی جائیدادیں تھیں۔ ان میں ولید بن مغیرہ کا ذکر روایات میں خاص طور پر آتا ہے کہ طائف میں اس کے بہت سے باغات اور مکانات تھے۔ مذکورہ جملہ دراصل اس پس منظر میں کسا گیا تھا کہ ان دونوں شہروں کی بڑی شخصیات کو چھوڑ کر اللہ کو رسول بنانے اور اس پر اپنی کتاب نازل کرنے کے لیے آخر قریش کا ایک یتیم ہی کیوں پسند آیا ہے !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

30 "The two cities": Makkah and Ta`if. What the disbelievers meant was: "Had Allah really willed to send a messenger and intended to send down a book to him, He would have selected a great man from our these central, cities for the purpose. For Allah could not have selected for this great mission a person who was born an orphan, who did not inherit much property, who passed his youth by tending goats, who even at present earned his living through business with his wife's money, and who was neither the chief of a tribe nor the head of a family. Were not there well known chiefs like Walid bin Mughirah and 'Utbah bin Rabi'ah in Makkah, and nobles like `Urwah bin Mas'ud, Habib bin 'Amr, Kinanah bin 'Abd-i -'Amr and Ibn 'Abd Yalil in Ta'if? This was their reasoning. in the first instance, they were also not inclined to believe that a man could be a Messenger. But when the Qur'an refuted this misconception by argument and reason and they were told that in the past only men had come as Messengers and a man only could be a Messenger for the guidance of the people, and not another kind of being and the Messenger who came did not descend, suddenly from heavens, but were born in the same ordinary dwellings, walked about in the streets, had children and families and stood in need of food and drink (see AnNahl: 43, Bani Isra'il: 94-95, Yusuf: 109, Al-Furqan: 7, 20; Al-Anbiya: 7-8; Ar-Ra'd: 38), they took this stand, saying: "Well, even if a human being, he should be a big man, who should be wealthy, influential and awe-inspiring and having a large following. How could Muhammad bin `Abdullah (upon whom be Allah's peace) be fit for this appointment?"

سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :30 دونوں شہروں سے مراد مکہ اور طائف ہیں ۔ کفار کا یہ کہنا تھا کہ واقعی خدا کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا اور وہ اس پر اپنی کتاب نازل کرنے کا ارادہ کرتا تو ہمارے ان مرکزی شہروں میں سے کسی بڑے آدمی کو اس غرض کے لیے منتخب کرتا ۔ رسول بنانے کے لیے اللہ میاں کو ملا بھی تو وہ شخص جو یتیم پیدا ہوا ، جس کے حصے میں کوئی میراث نہ آئی ، جس نے بکریاں چرا کر جوانی گزار دی ، جو اب گزر اوقات بھی کرتا ہے تو بیوی کے مال سے تجارت کر کے ، اور جو کسی قبیلے کا شیخ یا کسی خانوادے کا سربراہ نہیں ہے ۔ کیا مکہ میں ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ جیسے نامی گرامی سردار موجود نہ تھے ؟ کیا طائف میں عروہ بن مسعود ، حبیب بن عمرہ ، کنانہ بن عبد عمرو ، اور ابن عبد یالیل جیسے رئیس موجود نہ تھے ؟ یہ تھا ان لوگوں کا استدلال ۔ پہلے تو وہ یہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ کوئی بشر بھی رسول ہو سکتا ہے ۔ مگر جب قرآن مجید میں پے در پے دلائل دے کر ان کے اس خیال کا پوری طرح ابطال کر دیا گیا ، اور ان سے کہا گیا کہ اس سے پہلے ہمیشہ بشر ہی رسول ہو کر آتے رہے ہیں ، اور انسانوں کی ہدایت کے لیے بشر ہی رسول ہو سکتا ہے نہ کہ غیر بشر ، اور جو رسول بھی دنیا میں آئے ہیں وہ یکایک آسمان سے نہیں اتر آئے تھے بلکہ انہی انسانی بستیوں میں پیدا ہوئے تھے ، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے ، بال بچوں والے تھے اور کھانے پینے سے مبرا نہ تھے ( ملاحظہ ہو النحل ، آیت ، 43 ۔ بنی اسرائیل ، 94 ۔ 95 ۔ یوسف ، 109 ۔ الفرقان ، 7 ۔ 20 ۔ الانبیاء ، 7 ۔ 8 ۔ الرعد ، 38 ) ، تو انہوں نے یہ دوسری پیترا بدلا کہ اچھا ، بشر ہی رسول سہی ، مگر وہ کوئی بڑا آدمی ہونا چاہیے ۔ مالدار ہو ، با اثر ہو ، بڑے جتھے والا ہو ، لوگوں میں اس کی شخصیت کی دھاک بیٹھی ہوئی ہو ۔ محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس مرتبے کے لیے کیسے موزوں ہو سکتے ہیں ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

7: دو بستیوں سے مراد مکہ مکرمہ اور طائف کے شہر ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں یہی دو بڑے شہر تھے، اس لیے مشرکین نے یہ کہا کہ ان شہروں کے دولت مند سرداروں پر قرآن نازل ہونا چاہئے تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣١۔ ٣٥۔ جب قریش ان باتوں میں بالکل لاجواب ہوگئے کہ جس طریقے پر وہ تھے وہ طریقہ ملت ابراہیمی کے سرتاپا مخالف ہے عمرو بن لحی کے زمانہ سے بت پرستی اور بتوں کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا یہ سب کفر کی رسمیں جاری ہو کر ملت ابراہیمی کی کوئی بات ان لوگوں میں باقی نہیں رہی تو لاجواب اور قائل ہونے کے بعد قریش نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ہم لوگ مالدار اور عزت دار ہیں اس واسطے کسی مالدار شخص کو جیسا کہ مثلاً مکہ میں ولید (رض) بن مغیرہ اور طائف میں عمروہ (رض) بن مسعود ہے ایسے لوگوں کو ہم اپنا سرگروہ بنانا چاہتے ہیں اس لئے یہ قرآن جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اترتا ہے ولید یا عروہ جیسے کسی مالدار شخص پر نازل ہوتا تو خوب ہوتا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کئی طرح دیا ہے ایک تو یہ کہ ان لوگوں کو کس نے مختار بنایا ہے جو یہ اللہ کی رحمت کے حصے اپنی غرض کے موافق لگا رہے ہیں۔ اللہ نے اپنی حکمت کے موافق جس شخص کو نبوت کے قابل پایا اس کو نبوت عطا کی ان لوگوں کو اللہ کی حکمت میں کیا دخل ہے جو یہ لوگ اپنی رائے لگاتے ہیں دوسرا جواب یہ کہ دنیا میں کسی کو مالدار کو کسی کو مفلس کردینا جس طرح خدا کے ہاتھ ہے انسان کی تدبیر کو اس میں کچھ دخل نہیں ہزاروں اہل تدبیر اور اہل ہنر روٹی سے محتاج ہیں اور ہزاروں بےعقل اور بےہنر مالدار ہیں اسی طرح یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے کہ جس کو چاہے وہ نبی قرار دے اور جس کو چاہے امت بندوں کو اللہ کی حکمت کا پورا علم ہے نہ ان کو اللہ کی حکمت میں کچھ دخل دینے کا حق حاصل ہے تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی مالداری کو بڑی چیز خیال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی مالداری ایسی حقیر چیز ہے کہ کافروں کو زیادہ حق مالدار دیکھ کر دین دار لوگوں کے بچل جانے کا نتیجہ پیش نظر نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کافروں کا گھر بار سونے چاندی سے بھر دیتا لیکن نہ دنیا کو قیام ہے نہ اس کی مالداری کو اس واسطے نافرمان لوگوں کو جو کچھ دیا گیا ہے چھوڑ جانے کے لئے وہی بہت ہے ‘ غرض محض دنیا کا انتظام چلنے کے لئے کسی کو اللہ نے روپیہ پیسہ دیا ہے اور کسی کو روپیہ پیسے کا حاجت مند کیا ہے تاکہ ایک کا کام دوسرے سے چلتا رہے ورنہ دنیا کی مالداری اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی عزت کی چیز نہیں ہے۔ دنیا کی حقارت کا ذکر جو ان آیتوں میں ہے اس کی تفسیر چند صحیح حدیثوں میں ہے چناچہ ترمذی ١ ؎ اور ابن ماجہ میں سہل (رض) بن سعد سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کی قدر و منزلت اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ ملتا ترمذی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ صحیح ٢ ؎ مسلم کی روایت سے جابر کی حدیث مشہور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک مری ہوئی بکری کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کوڑے پر پڑے ہوئے دیکھ کر صحابہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی قدر اور منزلت اس مری ہوئی بکری سے بھی کم ہے۔ صحیح ابن ٣ ؎ حبان طبرانی اور مستدرک حاکم میں ابو سعید (رض) خدری رافع بن خدریج اور ابی قتادہ سے معتبر روایتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ دین دار شخص کو دنیا سے ایسا بچاتا ہے جس طرح بیمار کو دنیا میں لوگ پانی اور کھانے کے استعمال سے بچاتے اور روکتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ جب دنیا کی چند روزہ مالداری اور تنگ دستی کے انتظام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے تو نبوت کے انتظام کو جو اللہ کی ایک خاص رحمت کا انتظام ہے ان لوگوں کے اختیار میں کیونکر رکھا جاسکتا ہے کیونکہ نبوت کی پیروی کے طفیل سے نیک لوگوں کو جنت جو ملنے والی ہے اس کی تھوڑی سی جگہ بھی تمام دنیا سے بہتر ہے۔ چناچہ صحیح ٤ ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس (رض) بن مالک کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جس قدر جگہ میں گھوڑے کا کوڑا رکھا جاتا ہے جنت کی اتیل جگہ بھی تمام دنیا سے بہتر ہے۔ (١ ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف کتاب الرقاق الفصل الثانی ص ٤٤١۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم کتاب الزھد ج ٢ ص ٤٠٧۔ ) (٣ ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب فضل الفقراء الخ الفصل الثانی ص ٤٤٨۔ ) (٤ ؎ صحیح بخاری باب صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ ص ٤٦١ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:31) لولا : کیوں نہ۔ رجل من القریتین عظیم : ای رجل عظیم من القریتین دونوں بستیوں میں سے کوئی بڑا آدمی۔ القریتین دو بستیاں۔ مراد مکہ و طائف۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی مکہ اور طائف کے کسی سردار پر۔ جس کی شخصیت اس کے شایان شان ہوتی۔ ایک ایسے شخص پر اس کا اترنا باور نہیں کیا جاسکتا جو ریاست و دولت کے اعتبار سے کسی امتیازی شان کا مالک نہیں ہے۔ گویا انہوں نے شرافت کا معیار مال و دولت کو ٹھہرایا۔ ( فتح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی رسول کے لئے عظیم الشان ہونا ضروری ہے، اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال اور ریاست نہیں رکھتے، تو یہ پیغمبر نہیں ہوسکتے مقصود انکار تھا پیغمبری کا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مکہ والوں کا جاہلانہ اعتراض کہ مکہ یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے نبی کیوں نہ آیا، اہل دنیا کو دنیا ہی محبوب ہے، سونے چاندی کے اموال دنیا میں کام آتے ہیں اور آخرت متقیوں کے لیے ہے دنیا دار دنیا ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں جس کے پاس دنیاوی مال و اسباب زیادہ ہوں یا چودھری قسم کا آدمی ہو کسی قسم کی سرداری اور بڑائی حاصل ہو اسی کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں، خواہ کیسا ہی بڑا ظالم، خائن، سودخور، کنجوس مکھی چوس ہو، جب کسی بستی یا محلہ میں داخل ہو اور دریافت کرو کہ یہاں کا بڑا آدمی کون ہے تو وہاں کے رہنے والے کسی ایسے ہی شخص کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مالدار اور صاحب اقتدار ہو، اخلاق فاضلہ والے انسان، اللہ کے عبادت گزار بندے، علوم و معارف کے حاملین کی بڑائی کی طرف لوگوں کا ذہن جاتا ہی نہیں، عموماً انسانوں کا یہی مزاج اور حال رہا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق فاضلہ اور خصائل حمیدہ کے سب معتقد اور معترف تھے لیکن جب آپ نے اپنی نبوت اور رسالت کا اعلان کیا تو جہاں تکذیب اور انکار کے لیے لوگوں نے بہت سے بہانے ڈھونڈے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ پیسے والے آدمی نہیں اور آپ کو دنیاوی اعتبار سے کوئی اقتدار بھی حاصل نہیں لہٰذا آپ کیسے نبی اور رسول ہوگئے ؟ اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہی تھا اور قرآن نازل کرنا ہی تھا تو شہر مکہ یا شہر طائف کے بڑے آدمیوں میں سے کسی شخص کو رسول بنانا چاہیے تھا وہی رسول ہوتا اسی پر قرآن نازل ہوتا اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو رسول بنایا جو پیسہ کوڑی کے اعتبار سے برتر نہیں اور جسے کوئی اختیار اور اقتدار کی برتری حاصل نہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ ان لوگوں کا اشارہ ولید بن مغیرہ اور عروہ بن مسعود ثقفی کی طرف تھا پہلا شخص اہل مکہ میں اور دوسرا شخص اہل طائف میں سے تھا یہ دونوں دنیاوی اعتبار سے بڑے سمجھے جاتے تھے ان ناموں کی تعیین میں اور بھی اقوال ہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان لوگوں کی بات کی تردید فرمائی اور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ١ؕ﴾ (کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت یعنی نبوت کو تقسیم کرتے ہیں) یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ انہیں کیا حق ہے کہ منصب نبوت کو اپنے طور پر کسی کے لیے تجویز کریں رسول بنانے کا اختیار انہیں کس نے دیا ہے کہ یہ جس کے لیے چاہیں عہدہ نبوت تجویز کریں اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے اللہ بندوں میں سے جسے چاہے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمائے وہ جسے منصب نبوت عطا فرماتا ہے اسے ان اوصاف سے متصف فرما دیتا ہے جن کا نبوت کے لیے ہونا ضروری ہے سورة انعام میں فرمایا ﴿اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ١ؕ﴾ (اللہ خوب جاننے والا ہے اپنے پیغام کو جہاں بھیجے) ان لوگوں کو نہ کسی کو نبی بنانے کا اختیار ہے نہ نبی کے اوصاف تجویز کرنے کا۔ پھر فرمایا ﴿ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا﴾ (ہم نے ان کے درمیان معیشت یعنی زندگی کا سامان دنیا والی زندگی میں بانٹ دیا) ﴿ وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ﴾ (اور درجات کے اعتبار سے ہم نے بعض کو بعض پر فوقیت دے دی) کسی کو غنی بنایا کسی کو فقیر کسی کو مالک اور کسی کو مملوک ﴿لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا ١ؕ﴾ تاکہ بعض لوگ بعض لوگوں کو اپنے کام میں لاتے رہیں) اگر سبھی برابر کے مالدار ہوتے تو کوئی کسی کا کام کیوں کرتا، اب صورت حال یہ ہے کہ کم پیسے والے مالداروں کے باغوں اور کھیتوں اور کارخانوں میں کام کرتے ہیں اور طرح طرح کے کاموں کی خدمت انجام دیتے ہیں اس طرح سے عالم کا نظام قائم ہے مالدار کام لیتے ہیں کم پیسے والے مزدوری لیتے ہیں دنیا اس طرح چل رہی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ شانہٗ نے دنیاوی معیشت کو انسانوں کی رائے پر نہیں رکھا جو ادنیٰ درجہ کی چیز ہے اور اپنی حکمت کے موافق بندوں کی مصلحتوں کی رعایت فرماتے ہوئے خود ہی مال تقسیم فرما دیا تو نبوت کا منصب کسی کو لوگوں کی رائے کے موافق کیسے دے دیا جاتا، جو بہت ہی بلند وبالا چیز ہے۔ قال القرطبی فاذا لم یکن امر الدنیا الیھم فیکف یفوض امرا لنبوةالیہ، ﴿وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ ٠٠٣٢﴾ (علامہ قرطبی (رض) فرماتے ہیں جب دنیا کا معاملہ ان کے سپرد نہیں تو نبوت اس کے اختیار میں کیسے دی جاسکتی ہے اور آپ کے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ لوگ جمع کرتے ہیں) یعنی جن لوگوں کو دنیاوی چیزیں دی گئی ہیں وہ انہیں جمع کرنے سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ پروردگار جل مجدہٗ کی رحمت یعنی جنت اور وہاں کی نعمتیں اس سے بہتر ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ ” وقالوا لولا نزل “ یہ شکوی ہے۔ یہ مشرکین کی جہالت اور ان کے عناد و انکار کی ایک اور طرح ہے۔ وہ اپنی جہالت و نادانی سے یہ سمجھتے تھے کہ اول تو کوئی بشر پیغمبر ہو ہی نہیں سکتا اور اگر اللہ کو یہی منظور تھا کہ وہ کسی انسان و بشر ہی کو یہ رتبہ عطاء فرمائے تو اس کے لیے کوئی ایسا آدمی منتخب ہونا چاہئے جو دنیاوی اعتبار سے بہت بڑا آدمی ہو یعنی اس کے پاس دولت زیادہ ہو اور وہ دنیوی شان و شوکت اور وجاہت میں سب پر فرائق ہو۔ اس لیے یہ قرآن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیوں نازل ہوا جس کے پاس دولت ہے نہ جائیداد اور مکہ و طائف دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ ہوا ؟ ” اھم یقسمون “۔ یہ جواب شکوی ہے ” لیتخذ “ میں لام برائے عاقبت ہے۔ یعنی دنیا میں ان کی روزی تو ہمارے ہاتھ میں ہے اور روزی کی یہ تقسیم ہم ہی نے کی کسی کو زیادہ اور کسی کو کم تاکہ ہم امتحان لیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر مالدار اس امتحان میں ناکام رہے اور بجائے اللہ کا شکر کرنے کے غریبوں اور مسکینوں کا مذاق اڑانے لگے۔ ان کی روزی تو میرے قبضے میں ہے، تو کیا میری رحمت جس کا فرد اعلی نبوت ہے ان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے تقسیم کریں اور جسے چاہیں دیدیں۔ استفہام انکار ہے ان کا یہ خیال باطل ہے جس طرح روزی اور تمام خزائن رحمت اس کے اپنے ہی قبضے میں ہیں اسی طرح نبوت بھی اس کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے محض اپنی رحمت سے نبوت کیلئے منتخب فرما لے۔ تائید : ” اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “ (انعام، رکوع 15) ۔ المراد بہا النبوۃ وھو الانسب کما قیل وعلیہ اکثر المفسرین (روح ج 25 ص 78) ۔ ” و رحمۃ ربک خیر مما یجمعون “ اور اللہ کی رحمت و برکت، ایمان اور توفیق ہدایت اور جنت دنیا کے مال و متاع سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(31) اور انہوں نے کہا کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ یعنی مکہ اور طائف دونوں بڑے شہروں کے کسی بڑے آدمی پر اترتا۔ مطلب یہ کہ کسی مالدار اور بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل ہوا بڑے آدمی سے شاید ولید بن مغیرہ اور عروہ بن مسعود ثقفی ہوں کیونکہ پہلا مکہ کا بڑا تھا اور دوسرا طائف کا سردار تھا۔ گویا نبوت بھی ایسی ہے جو ان کے مشورے اور ان کی رائے سے دی جاتی۔