Commentary Allah Ta ala has in these verses, has replied to an objection of the pagans of Arabia used to be raised against the Holy Prophet صلی اللہ علیہ . Actually, they were not prepared to accept, at the first place, that a man could be a messenger of Allah Ta’ ala. The Holy Qur&an has referred, at many places, to their objection that they could not accept Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as a messenger of Allah, while he eats and drinks and walks about in the market places like any ordinary man. When it was clarified through many verses of the Qur&an that not only the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، but all the prophets who came to this world, were human beings, they started advancing another argument that if prophethood had to be bestowed upon a human being, why was it not given to some wealthy man of a high rank and position from Makkah or &if instead of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who was not so wealthy? According to some narrations, they had proposed the names of Walid Ibn Mughirah and ` Utbah Ibn Rabi` ah from Makkah, and ` Urwah Ibn Masud Thaqafi, Habib Ibn ` Amr Thaqafi or Kinanah Ibn ` Abdiyalil from Ta&if. (Ruh-ul-Ma ani) Allah Almighty has given two answers to this objection. The second answer is found in the next verses which will be explained there, while the present verse (32) has provided the first answer in the words, |"Is it they who distribute the mercy of your Lord?|" |"Mercy of your Lord|" refers here to &prophethood& and the gist of the answer is that appointing someone as a prophet is a mercy from Allah which he bestows upon and allocates to human beings on the basis of His absolute wisdom, and according to His exclusive discretion for which He needs not to consult anyone, nor has anyone a right to interfere with it. You have no concern with distribution of prophethood so that your advice should be sought before anyone is made a prophet. Your intellect and understanding is too deficient to be entrusted with selecting suitable persons for the office of prophethood, or for the distribution of this divine mercy among people. How can you distribute among people an office as high as prophethood, while you have no ability to distribute something that is much lower and easier, that is, your economy. You are not good enough even to carry out the distribution of your wealth and means of sustenance. We know that if you are entrusted with this responsibility, you will not be able to manage it even for one day, and the whole system will simply collapse. That is why Allah Ta’ ala has not assigned the distribution of provisions in this world to you; rather He has kept it in His own hands. Since this comparatively ordinary work cannot be entrusted to you, how can a great job like distribution of prophethood be given in your hands? This is what the above verses mean, but in the context of replying to the &mushrikin&, many economic principles are laid down and indications are given by Allah Ta’ ala regarding the economic system of the world; their brief explanation is necessary here.
خلاصہ تفسیر (یہ تو کافروں نے قرآن کے بارے میں کہا) اور (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں) کہنے لگے کہ یہ قرآن (اگر کلام الٰہی ہے اور بحیثیت رسالت آیا ہے تو) ان دونوں بستیوں (یعنی مکہ اور طائف کے رہنے والوں) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا (یعنی رسول کیلئے عظیم الشان ہونا ضروری ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال اور ریاست نہیں رکھتے تو یہ پیغمبر نہیں ہو سکتے۔ باری تعالیٰ ان کے اس شبہ کی تردید فرماتے ہیں کہ) کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت (خاصہ یعنی نبوت) کو (خود) تقسیم کرنا چاہتے ہیں (یعنی یہ چاہتا کہ نبوت ہماری رائے کے مطابق لوگوں کو ملنی چاہئے گویا خود تقسیم کرنے کی ہوس کرنا ہے کہ یہ تقسیم ہمارے سپرد ہو حالانکہ یہ ہوس نری نادانی ہے کیونکہ) دنیوی زندگی میں (تو) ان کی روزی ہم (ہی) نے تقسیم کر رکھی ہے اور (اس تقسیم میں) ہم نے ایک کو دوسرے پر رفعت دے رکھی ہے تاکہ (اس سے یہ مصلحت حاصل ہو کہ) ایک دوسرے سے کام لیتا رہے (اور عالم کا انتظام قائم رہے) اور (ظاہر اور یقینی بات ہے کہ) آپ کے رب کی رحمت (خاصہ یعنی نبوت) بدرجہا اس (دنیوی مال و متاع اور جاہ و منصب) سے بہتر ہے کہ جس کو یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں (پس جب دنیوی معیشت کی تقسیم ہم نے ان کی رائے پر نہیں رکھی، حالانکہ وہ ادنیٰ درجہ کی چیز ہے، تو نبوت جو خود بھی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے اور اس کے مصالح بھی نہایت عظیم درجہ کے ہیں وہ کیونکر ان کی رائے پر تقسیم کی جاتی) ۔ معارف و مسائل ان آیات میں باری تعالیٰ نے مشرکین عرب کے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے جو وہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر کیا کرتے تھے۔ دراصل شروع میں تو وہ باور کرنے پر ہی تیار نہ تھے کہ اللہ کا کوئی رسول انسان ہوسکتا ہے، چناچہ ان کا یہ اعتراض قرآن کریم نے جا بجا ذکر فرمایا ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہم رسول کیسے مان لیں جبکہ وہ عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے اور بازاروں میں چلتے ہیں، لیکن جب متعدد آیات قرآنی کے ذریعہ یہ واضح کردیا گیا کہ یہ صرف آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی خصوصیت نہیں، بلکہ دنیا میں جس قدر انبیاء آئے ہیں وہ سب انسان ہی تھے، تو اب انہوں نے پینترا بدل کر یہ اعتراض کیا کہ اگر کسی انسان ہی کو نبوت سونپنی تھی تو حضور مالی اعتبار سے کوئی بڑے صاحب حیثیت نہیں ہیں، یہ منصب حضور کے بجائے مکہ اور طائف کے کسی بڑے دولت مند اور صاحب جاہ و منصب انسان کو کیوں نہیں دیا گیا، روایات میں ہے کہ اس سلسلہ میں انہوں نے مکہ مکرمہ سے ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ کے اور طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی حبیب بن عمرو ثقفی یا کنانہ بن عبد یا لیل کے نام پیش کئے تھے۔ (روح المعانی) مشرکین کے اس اعتراض کے باری تعالیٰ نے دو جواب دیئے ہیں۔ پہلا جواب مذکورہ آیتوں میں سے دوسری آیت میں اور دوسرا جواب اگلی آیات میں دیا گیا ہے اس کی تشریح بھی وہیں آئے گی۔ اس سے پہلے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ تمہیں اس معاملے میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نبوت کا منصب کس کو دے رہا ہے اور کس کو نہیں دے رہا ؟ نبوت کی تقسیم تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے کہ کسی کو نبی بنانے سے پہلے تم سے رائے لی جائے۔ یہ کام کلیتاً اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہی اپنی عظیم مصلحتوں کے مطابق اسے انجام دیتا ہے۔ تمہارا وجود اور عقل و شعور اس عظیم کام کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا کہ تقسیم نبوت کا کام تمہارے سپرد کردیا جاتا اور نبوت کی تقسیم تو بہت اونچے درجہ کی چیز ہے تمہاری حیثیت وجود و شعور تو اس کی بھی متحمل نہیں کہ خود تمہاری معیشت اور سامان معیشت کی تقسیم کا کام تمہارے سپرد کیا جاسکے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسا کیا گیا تو تم ایک دن بھی نظام عالم کو نہ چلا سکو گے اور سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے دنیوی زندگی میں تمہاری روزی کی تقسیم بھی تمہارے ذمہ نہیں رکھی بلکہ تقسیم معیشت کا کام خود اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ جب یہ ادنیٰ درجہ کا کام تمہارے حوالہ نہیں کیا جاسکتا تو نبوت کی تقسیم جیسا عظیم کام تمہارے حوالہ کیسے کردیا جائے۔ آیات کا مقصود کلام تو اتنا ہی ہے لیکن مشرکین کو جواب دینے کے ضمن میں باری تعالیٰ نے دنیا کے نظام معیشت سے متعلق جو اشارے کردیئے ہیں ان سے متعدد معاشی اصول مستنبط ہوتے ہیں، یہاں ان کی مختصر توضیح ضروری ہے۔