Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 33

سورة الزخرف

وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلۡنَا لِمَنۡ یَّکۡفُرُ بِالرَّحۡمٰنِ لِبُیُوۡتِہِمۡ سُقُفًا مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیۡہَا یَظۡہَرُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾

And if it were not that the people would become one community [of disbelievers], We would have made for those who disbelieve in the Most Merciful - for their houses - ceilings and stairways of silver upon which to mount

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر ہوجائیں گے تو رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنا دیتے ۔ اور زینوں کو ( بھی ) جن پر چڑھا کرتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَوْلاَ أَن يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً ... And were it not that mankind would have become of one community, means, `were it not for the fact that many ignorant people would think that Our giving them wealth was a sign that We love the person to whom We give it, and thus they would have agreed upon disbelief for the sake of wealth.' This is the view of Ibn Abbas, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi and others. ... لَجَعَلْنَا لِمَن يَكْفُرُ بِالرَّحْمَنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِّن فَضَّةٍ وَمَعَارِجَ ... We would have provided for those who disbelieve in the Most Gracious, silver roofs for their houses, and elevators, means, ladders and staircases of silver. This was the view of Ibn Abbas, Mujahid, Qatadah, As-Suddi, Ibn Zayd and others. ... عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ whereby they ascend, (means, go up).

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 یعنی دنیا کے مال و اسباب میں رغبت کرنے کی وجہ سے طالب دنیا ہی ہوجائیں گے اور رضائے الٰہی اور آخرت کی طلب سب فراموش کردیں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ…:” سفاً “” سقف “ کی جمع ہے، چھتیں۔ ” معارج “ (سیڑھیاں)” معرج “ یا ” معراج “ کی جمع ہے، جیسے ” مقاتح “ اور مفاتیح “ ” مفتاح “ کی جمع ہیں۔ ” سرراً “ ” سریر “ کی جمع ہے، چار پائیاں ، تخت ۔ ” ازخرفاً “ کا معنی سونا ہے، جیسا کہ کفار نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا :(اویکون لک بیت من اخرف) (بنی اسرائیل : ٩٣)” یا تیرے لئے سونے ایک گھر ہو۔ “ اس کا معنی زینت و آرائش بھی ہے، جیسا کہ فرمایا :(حتی اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت ) (یونس : ٢٣)” یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی آرائش حاصل کرلی اور خوب مزین ہوگئی۔ “” زخرفاً “ منصوب ہونے کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ اصل میں ” سقفاً من فضۃ ومن زخرف “ ہے، حرف جار حذف ہونے کی وجہ سے منصبو ہوگیا ، یعنی ” ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سونے کی۔ “ دوسری وجہ یہ کہ یہ ” لجعلنا “ کے مفعول ” سقفاً “ پر عطف ہے، یعنی ” لجعلنا لبیوتھم سقفا من فضۃ و لجعلنا لھم زخرفاً “ کہ ” ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور ہم ان کے لئے سونا مہیا کردیتے۔ “ ” اوان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا “ میں ” ان “ نافیہ ہے اور ” لما “ بمعنی ’ الا ‘ ہے جیسے فرمایا :(ان کل نفس لما علیھا حافظ) (الطارق : و)” نہیں کوئی جان مگر اس کے اوپر ایک حفاظت کرنے والا ہے۔ “ (٢) آیات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب ” ورحمت ربک خیر مما یجمعون “ (اور تیرے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں) میں آخرت کی عظمت و شان اور دنیا کی حقارت بیان فرمائی تو ساتھ ہی بیان فرمایا کہ اس سے نزدیک دنیا و بالکل ہی حقیر اور بےقدر و قیمت ہے، اس کے ہاں کوئی قیمت ہے تو صرف آخرت کی، اس لئے اس نے آخرت کی نعمتیں صرف مسلمانوں کے لئے خاص کر رکھی ہیں، کفار کا ان میں کوئی حصہ نہیں۔ دنیا کی نعمتوں میں اس نے مومن و کافر سب کو شریک رکھا ہے اور دونوں کو ان نعمتوں میں شریک رکھنے کی حکمت بیان فرمائی کہ اگر ہمیں یہ بات ناپسند نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی امت یعنی سبھی کافر ہوجائیں گے تو ہم دنیا کی زیب و زینت کی تمام اشیاء کفار کو دے دیتے، لیکن چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں کے دلوں میں دنیوی زیب و زینت کی شدید رغبت اور محت موجود ہے، اگر ہم نے یہ سبھی کچھ کفار کو دے دیا تو دنیا کی رغبت کے نتیجے میں سبھی لوگ کافر ہوجائیں گے۔ (جب کہ یہ بات ہماری رحمت کو منظور نہیں) اس لئے ہم نے کافر و مومن دونوں میں غنی بھی رکھے ہیں، فقر بھی اور دنیا کی زندگی کے ساز و سامان میں دونوں کو شریک رکھا ہے۔ آیت کے آخری جملوں (وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا و الاخرۃ عند ربک للمتقین) (اور یہ سب کچھ دنیا کی زندگی کے سامان کے سوا کچھ نہیں اور آخرت تیرے رب کے ہاں متقی لوگوں کے لئے ہے) میں بیان فرمایا کہ آخرت صرف ایمان والوں کے لئے ہے۔ یہی مضمون سورة اعراف (٣٢) میں بیان ہوا ہے۔ سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (لو کانت الدنیا تعدل عند اللہ جناح یعوضۃ ماسقی کافرا منھا شربۃ مائ) (ترمذی، الزھد، باب ماجدء فی ھوان الدنیا علی اللہ مرد جل : ٢٣٢٠)” اگر دنیا اللہ کے ہاں مچھر کے ایک پر کے برابر ہوتی تو وہ اس میں سے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ پینے کو نہ دیتا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Superiority is not based upon wealth and property This is the second reply to the infidels of Makkah for their question why prophethood was not bestowed upon some very rich and wealthy person of Makkah or Ta&if? The gist of the answer is that some qualities and abilities are undoubtedly necessary for choosing someone as a prophet. But abundance of riches and wealth cannot be taken as the basis of this choice. Wealth and property are so worthless in Allah&s view that if there was no apprehension of all the people becoming disbelievers, He will have showered gold and silver upon all the infidels. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has stated, in a hadith reported by Tirmidhi, لو کانت الدّنیا تعدل عند اللہ جناح بعوضۃِ ما سقی کافراً منھاشربۃ مَاء |"If the worth of the whole world, in Allah&s sight, had been equal to that of one wing of a mosquito, Allah Ta` ala will not have given even one drop of water from this world to an infidel (kafir) |" This tells us that neither abundance of wealth and property owned by someone can be a cause of his superiority, nor can one&s poverty be taken as an indication of his being lower in rank. As for those excellent qualities which are necessary for prophethood, they are found in the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، to their perfection. Their objection is, therefore, false and baseless. The statement in these verses that if gold and silver had been showered upon all the infidels, all the people will have become disbelievers is meant for most of the people. Even today, there are people who are certain that if they become disbelievers, they will get abundance of riches and wealth, but they do not lose their faith for the sake of wealth and property; such people will have remained steadfast to their belief and faith, perhaps even at that time, but the number of such people will have been very little indeed.

خلاصہ تفسیر (اور یہ کافر لوگ مال و دولت کی زیادتی کو نبوت کی صلاحیت کی شرط سمجھتے ہیں حالانکہ نبوت ایک عظیم الشان چیز ہے اس لئے اس کی صلاحیت کی شرط بھی عظیم الشان ہونی چاہئے) اور (دنیا کی دولت و جاہ ہمارے نزدیک اس قدر حقیر ہے کہ) اگر یہ بات (متوقع) نہ ہوتی کہ (قریب قریب) تمام آدمی ایک ہی طریقے کے ہوجاویں گے (یعنی کافر ہوجائیں گے) تو جو لوگ خدا کے ساتھ کفر کرتے ہیں (اور خدا کے نزدیک سخت مبغوض ہیں) ہم ان (سب) کے لئے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے اور زینے بھی (چاندی کے کردیتے) جن پر چڑھا (اترا) کرتے اور ان کے گھروں کے کواڑ بھی (چاندی کے کردیتے) اور تخت بھی (چاندی کے کردیتے) جن پر تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں اور (یہی چیزیں) سونے کی بھی (کر دیتے، یعنی کچھ چاندی کی کچھ سونے کی۔ مگر یہ سامان سب کفار کو اس لئے نہیں دیا کہ اکثر انسانوں کی طبیعت میں مال و متاح کی حرص غالب ہے اور اس مفروضہ صورت میں کفر اس مال و متاع کے حصول کا یقینی سبب بن جاتا، پس چند تھوڑے سے آدمیوں کو چھوڑ کر قریب قریب سبھی کفر اختیار کرلیتے، اس لئے ہم نے تمام کافروں کو مال و دولت کی یہ وسعت نہیں دی، ورنہ اگر یہ مصلحت نہ ہوتی تو ہم ایسا ہی کرتے اور ظاہر ہے کہ دشمن کو قدر و وسعت کی چیز نہیں دیا کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیوی مال و متاع حقیقت میں کوئی عظیم الشان چیز نہیں، پس وہ نبوت جیسے منصب عظیم کے لئے صلاحیت کی شرط بھی نہیں ہو سکتی اس کے بجائے نبوت کی شرط وہ اعلیٰ درجہ کے ملکات ہیں جو اللہ کی طرف سے انبیاء کو عطا ہوتے ہیں اور یہ ملکات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں پوری طرح جمع ہیں، پس نبوت ان ہی کے لئے زیبا تھی نہ کہ مکہ اور طائف کے رئیسوں کے لئے) اور (حقارت دنیا کی ایک بالکل ظاہر وجہ بیان فرماتے ہیں کہ) یہ سب (ساز و سامان جس کا اوپر ذکر ہوا) کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کی چند روزہ کامرانی ہے (پھر فنا، آخر فنا) اور آخرت (جو ابدی ہے اور اس لئے اس سے بہتر ہے وہ) آپ کے پروردگار کے ہاں خدا ترسوں کے لئے ہے۔ معارف و مسائل مال و دولت کی زیادتی فضیلت کا سبب نہیں ہے : کفار نے جو یہ کہا تھا کہ مکہ اور طائف کے کسی بڑے مالدار کو نبی کیوں نہ بنادیا گیا ؟ ان آیات میں اس کا دوسرا جواب دیا گیا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک نبوت کے لئے کچھ شرائط صلاحیت کا پایا جانا ضروری ہے لیکن مال و دولت کی زیادتی کی بنا پر کسی کو نبوت نہیں دی جاسکتی، کیونکہ مال و دولت ہماری نگاہ میں اتنی حقیر چیز ہے کہ اگر تمام لوگوں کے کافر بن جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم سب کافروں پر سونے چاندی کی بارش کردیتے اور صحیح ترمذی کی ایک حدیث میں آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے لو کانت الدنیا تعدل عند اللہ جناح بعوضة ماسقی کافراً منھا شربة ماء (یعنی اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر بھی درجہ رکھتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا) اس سے معلوم ہوا کہ نہ مال و دولت کی زیادتی کوئی فضیلت کی چیز ہے نہ اس کی کمی انسان کے کم رتبہ ہونے کی علامت ہے۔ البتہ نبوت کے لئے کچھ اعلیٰ درجہ کے اوصاف ضروری ہیں وہ سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں، اس لئے یہ اعتراض بالکل لغو اور باطل ہے۔ اور مذکورہ آیات میں یہ جو کہا گیا ہے کہ اگر کافروں پر مال دولت کی اتنی فراوانی کردی جاتی تو سب لوگ کافر ہوجاتے، اس میں مراد لوگوں کی بھاری اکثریت ہے ورنہ اللہ کے کچھ نیک بندے آج بھی ایسے موجود ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ کفر اختیار کر کے وہ مال و دولت سے نہال ہو سکتے ہیں، لیکن وہ مال و دولت کی خاطر کفر کو اختیار نہیں کرتے ایسے کچھ لوگ شاید اس وقت بھی ایمان پر قائم رہ جاتے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْلَآ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِہِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّۃٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْہَا يَظْہَرُوْنَ۝ ٣٣ ۙ «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] اگر تم نہ ہوتے تو ہمضرور مومن ہوجاتے ۔ دو م بمعنی ھلا کے آتا ہے ۔ اور اس کے بعد متصلا فعل کا آنا ضروری ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا ۔ وغیرہ ذالک من الا مثلۃ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } ( سورة الأَنعام 38) اور زمین پر جو چلنے پھر نے والے ( حیوان ) دو پروں سے اڑنے والے پرند ہیں وہ بھی تمہاری طرح جماعتیں ہیں كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) بيت أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ، ( ب ی ت ) البیت اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔ سقف سَقْفُ البیت، جمعه : سُقُفٌ ، وجعل السماء سقفا في قوله تعالی: وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ [ الطور/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلْنَا السَّماءَ سَقْفاً مَحْفُوظاً [ الأنبیاء/ 32] ، وقال : لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ [ الزخرف/ 33] ، والسَّقِيفَةُ : كلّ مکان له سقف، کالصّفّة، والبیت، والسَّقَفُ : طول في انحناء تشبيها بالسّقف ( س ق ف ) سقف البیت مکان کی چھت کر کہتے ہیں اس کی جمع سقف ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ [ الزخرف/ 33]( ہم ) ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنادیتے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ [ الطور/ 5] اور اونچی چھت کی ۃ قسم میں مراد آسمان ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَجَعَلْنَا السَّماءَ سَقْفاً مَحْفُوظاً [ الأنبیاء/ 32] میں آسمان کو محفوظ چھت فرمایا ہے ۔ اور ہر وہ جگہ جو مسقف ہو اسے سقیفہ کہا جاتا ہے جیسے صفۃ ( چبوترہ ) مکان وغیرہ ۔ اور چھت کے ساتھ تشبیہ دے کر ہر اس لمبی چیز فض الفَضُّ : کسر الشیء والتّفریق بين بعضه وبعضه، كفَضِّ ختم الکتاب، وعنه استعیر : انْفَضَّ القومُ. قال اللہ تعالی: وَإِذا رَأَوْا تِجارَةً أَوْ لَهْواً انْفَضُّوا إِلَيْها [ الجمعة/ 11] ، لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ [ آل عمران/ 159] ، والفِضَّةُ اختصّت بأدون المتعامل بها من الجواهر، ودرع فَضْفَاضَةٌ ، وفَضْفَاضٌ: واسعة . ( ف ض ض ) الفض کے معنی کسی چیز کو توڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کے ہیں جیسے فض ختم الکتاب : خط کی مہر کو توڑ نا اسی سے انقض القوم کا محاورہ مستعار ہے جس کے معنی متفرق اور منتشر ہوجانے کے ہیں قرآن پاک میں : ۔ وَإِذا رَأَوْا تِجارَةً أَوْ لَهْواً انْفَضُّوا إِلَيْها[ الجمعة/ 11] اور جب یہ لوگ سودابکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو ادھر بھاگ جاتے ہیں ۔ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ [ آل عمران/ 159] تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھٹرے ہوتے ۔ والفِضَّةُچاندی یعنی وہ ادنی جو ہر جس کے ذریعہ لین دین کیا جاتا ہے ۔ درع فضفا ضۃ وفضفا ض فراخ زرہ ۔ عرج العُرُوجُ : ذهابٌ في صعود . قال تعالی: تَعْرُجُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ [ المعارج/ 4] ، فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ [ الحجر/ 14] ، والمَعَارِجُ : المصاعد . قال : ذِي الْمَعارِجِ [ المعارج/ 3] ، ولیلة المِعْرَاجُ سمّيت لصعود الدّعاء فيها إشارة إلى قوله : إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ [ فاطر/ 10] ، وعَرَجَ عُرُوجاً وعَرَجَاناً : مشی مشي العَارِجِ. أي : الذاهب في صعود، كما يقال : درج : إذا مشی مشي الصاعد في درجه، وعَرِجَ : صار ذلک خلقة له «4» ، ( ع ر ج ) العروج کے معنی اوپر چڑھنا کے ہیں قرآن میں ہے : تَعْرُجُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ [ المعارج/ 4] جس کی طرف روح ( الامین ) اور فرشتے چڑھتے ہیں ۔ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ [ الحجر/ 14] اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں ۔ اور معارج کے معنی سیڑھیوں کے ہیں اس کا مفرد معرج ( اور معراج ) ہے ۔ قرآن میں ہے : ذِي الْمَعارِجِ [ المعارج/ 3] سیڑھیوں والے خدا کی طرف سے ( نازل ہوگا ) ۔ اور شب معراج کو بھی لیلۃ المعراج اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں دعائیں اوپر چڑھتی ہیں جیسا کہ آیت کریمہ ؛ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ [ فاطر/ 10] اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ ظَاهَرَ ( مدد) وَظَهَرَ عليه : غلبه، وقال : إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ [ الكهف/ 20] ، وظاهَرْتُهُ : عاونته . قال تعالی: وَظاهَرُوا عَلى إِخْراجِكُمْ [ الممتحنة/ 9] ، وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ [ التحریم/ 4] ، أي : تعاونا، تَظاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ [ البقرة/ 85] ، وقرئ : ( تَظَّاهَرَا) الَّذِينَ ظاهَرُوهُمْ ظھر علیہ کے معنی ہیں وہ اس پر غالب آگیا قرآن پاک میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ [ الكهف/ 20] اگر وہ تم پر دسترس پالیں ۔ ظاھرتہ : میں نے اس کی مدد کی ( اور ظاھر علیہ کے معنی ہیں اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کی ) قرآن پاک میں ہے : ۔ وَظاهَرُوا عَلى إِخْراجِكُمْ [ الممتحنة/ 9] اور انہوں نے تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی ۔ وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ [ التحریم/ 4] اور اگر پیغمبر کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ۔ ایک قرات میں تظاھر ا ہے ( یعنی تاء کو ظاء میں ادغام کیسا تھ ) الَّذِينَ ظاهَرُوهُمْ [ الأحزاب/ 26] اور اہل کتاب میں سے جنهوں نے ان کی مدد کی ۔ تَظاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ [ البقرة/ 85] تم ان کے خلاف گناہ اور زیادتی سے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٣۔ ٣٤) اور اگر یہ بات متوقع نہ ہوتی کہ سب ایک ہی طریقہ یعنی کفر کے ہوجائیں گے تو ہم ان کافروں کے گھروں کی چھتیں تک چاندی کی کردیتے اور نیز زینے بھی چاندی کے کردیتے جن پر چڑھا اترا کرتے ہیں۔ اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر یہ آرام کرتے ہیں چاندی کے کردیتے اور یہی چیزیں سونے کی یعنی کہ ان کے گھروں میں سے ہر ایک چیز سونے چاندی کی کردیتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣ { وَلَوْلَآ اَنْ یَّکُوْنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً } ” اور اگر یہ (اندیشہ) نہ ہوتا کہ تمام لوگ ایک ہی امت بن جائیں گے “ یعنی اگر تمام لوگوں کے کافر اور منکر ہوجانے کا خدشہ نہ ہوتا : { لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّـکْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِہِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّۃٍ وَّمَعَارِجَ عَلَیْہَا یَظْہَرُوْنَ } ” تو جو لوگ رحمن کا کفر کرتے ہم ان کے لیے بنا دیتے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:33) ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ جملہ شرط ہے اور لجعلنا سے لے کر وزخرفا آیت 35 تک جواب شرط۔ لولا : اگر نہ۔ حرف شرط۔ ان مصدریہ یکون مضارع منصوب بوجہ عمل ان یکون فعل ناقص الناس اس کا اسم امۃ واحدۃ موصوف و صفت مل کر یکون کی خبر۔ لجعلنا : لام جواب شرط کے لئے ہے جعلنا ماضی جمع متکلم۔ ہم بنا دیتے ۔ لمن یکفر بالرحمن۔ لام اختصاص کا ہے من موصولہ ، یکفر بالرحمن اس کا صلہ لبیوتھم میں لام اختصاص کا بیوتھم مضاف مضاف الیہ۔ یہ بدل اشتمال ہے من یکفر سے سقفا۔ مفعول ہے جعلنا کا۔ سقف جمع سقف کی۔ چھتیں۔ ترجمہ : تو ہم بنا دیتے ان کے لئے جو انکار کرتے ہیں رحمن کا ان کے مکانوں کے لئے چاندی کی چھتیں۔ ومعارج علیہا یظھرون : واؤ عاطفہ۔ علیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب معارج کے لئے ہے۔ یظھرون مضارع جمع مذکر غائب ظھر و ظھور باب فتح مصدر۔ وہ چڑھتے ہیں۔ وہ چڑھ کر اوپر پہنچ جاتے ہیں ۔ وہ غالب آتے ہیں۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ای وجعلنا لمن یکفر بالرحمن لبیوتھم معارج علیہا یظھرون من فضۃ (اور ہم بنا دیتے ان کے لئے جو انکار کرتے ہیں رحمن کا ان کے گھروں کے لئے سیڑھیاں چاندی کی) ۔ معارج معراج کی جمع اسم آلہ۔ سیڑھیاں۔ عروج (باب ضرب) مصدر سے۔ بمعنی چڑھنا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس مال کو لوگ جمع کرتے ہیں اور جس کی محبت میں مرے جاتے ہیں اس کی حقیقت۔ قرآن مجید نے بار بار لوگوں کو یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز عارضی اور ناپائیدار ہے۔ ہمیشہ رہنے والی آخرت ہے اس دن سچا ایمان اور صالح اعمال کام آئیں گے۔ جہاں تک دنیا کے وسائل اور اس کی زیب وزینت کا معاملہ ہے۔ اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ دنیا کی خاطر سب کے سب لوگ کفر پر اکٹھے ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کفار کے گھر ہی نہیں ان کے مکانوں کی چھتیں، سیڑھیاں، گھروں کے دروازے اور جہاں وہ تکیہ لگائے اپنی مجالس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی سونے چاندی کے بنا دیتا۔ یعنی اس قدر انہیں مال کی فروانی سے ہمکنار کردیتا لیکن سب کچھ دینے کے باوجوددنیا کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ یہ آخرت کے مقابلے میں عارضی اور قلیل سامان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آخرت ہر حال میں متقین کے لیے بہتر ہے۔ آیت نمبر ٣٢ کے ابتدائی الفاظ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر لوگوں کے پھسل جانے کا خدشہ نہ ہوتا تو وہ کفار کو اس قدر دنیا کا مال و متاع عنایت کرتا کہ یہ اپنے مکانوں کی چھتیں اور دروازے بھی سونے، چاندی کے بنا لیتے۔ انسان آخر انسان ہے بیشک وہ کتنا ہی ایمان میں پختہ کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی وہ ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کو گمراہی سے بچانے کے لیے کفار کو ایک حد تک ہی وسائل عطا کیے ہیں۔ لیکن آخرت کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ (عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّہِ جَنَاحَ بَعُوضَۃٍ مَا سَقٰیکَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَاءٍ )[ رواہ الترمذی : کتاب الزہد وہو حدیث صحیح ] ” حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی وقعت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کافر کو ایک گھونٹ بھی پانی کا نہ دیتا۔ “ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَرَّ بالسُّوْقِ دَاخِلًا مِّنْ بَعْضِ الْعَالِیَۃِ وَالنَّاسُ کَنَفَتُہٗ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَکَّ مَیِّتٍ فَتَنَاوَلَہٗ فَأَخَذَ بِأُذُنِہٖ ثُمَّ قَالَ أَیُّکُمْ یُحِبُّ أَنَّ ھٰذَا لَہٗ بِدِرْھَمٍ فَقَالُوْا مَانُحِبُّ أَنَّہٗ لَنَا بِشَیْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِہٖ قَالَ أَتُحِبُّوْنَ أَنَّہٗ لَکُمْ قَالُوْا وَاللّٰہِ لَوْکَانَ حَیًّاکَانَ عَیْبًا فِیْہِ لِأَنَّہٗ أَسَکَّ فَکَیْفَ وَھُوَ مَیِّتٌ فَقَالَ فَوَاللّٰہِ لَلدُّنْیَا أَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا عَلَیْکُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزھد والرقائق، باب ] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بازار میں ایک جانب سے داخل ہوئے اور آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے آپ ایک مردہ بکری کے بچے کے پاس سے گزرے آپ نے اس کے ایک کان کو پکڑ کر پوچھا کون اسے ایک درہم کے بدلے لینا پسند کرے گا ؟ صحابہ نے کہا : ہم تو اسے کسی چیز کے بدلے بھی لینا نہیں چاہتے۔ ہم اس کا کیا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم اسے پسند کرتے ہو کہ یہ بکری کا بچہ تمہارا ہوتا ؟ صحابہ کرام (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو کان چھوٹے ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا جاتا۔ اب یہ مرا ہوا ہے تو ہم اسے کیسے پسند کریں۔ آپ نے فرمایا : جیسے تمہارے نزدیک یہ بکری کا مردہ بچہ بڑا حقیر ہے۔ اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کو بڑی آزمائش سے بچانے کے لیے کفار کو ایک حد تک وسائل عطا کیے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو کفار کو اس قدر دنیا عطا کرتا کہ ان کے مکانوں کی چھتیں اور دروازے بھی چاندی کے ہوتے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک متقین کے لیے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کوئی حیثیت نہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَ لَوْ لَاۤ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ ﴾ (الآیۃ الثلٰٓث) ان تینوں آیتوں میں دنیا کی حقارت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی طریقہ اختیار کرلیں گے اور ایک ہی جماعت بن جائیں گے یعنی دنیا کی رغبت رکھنے کی وجہ سے عام طور سے لوگ کفر ہی اختیار کرلیں گے تو ہم کافروں کو اتنا سونا چاندی دیتے کہ ان کے گھروں کی چھتیں اور ان کے زینے اور سیڑھیاں جن کے ذریعے وہ اوپر چڑھتے ہیں اور ان کے گھروں کے دروازے اور ان کے تخت جن پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہیں ان سب کو سونے چاندی کا بنا دیتے انسان کا مزاج چونکہ دنیا کی چیزوں کو ترجیح دیتا ہے اس لیے یہ دیکھ کر کہ کافر ہونے میں دولت ملتی ہے ایمان قبول نہ کرتے اور کفر کو اختیار کیے رہتے اس لیے ایسا نہیں کیا گیا کہ مال و دولت صرف کافروں ہی کو دیا جائے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام رکھا ہے کہ اہل ایمان بھی مالدار رکھے ہیں اور کافروں میں بھی اور دونوں جماعتوں میں تنگدست بھی ہیں اور فقیر بھی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا بہت ہی زیادہ حقیر ہے حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مرتبہ بھیڑ کے ایک بچہ کے پاس سے گزرے جو مرا ہوا تھا اور اس کے کان بھی کٹے ہوئے تھے اس کو دیکھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاضرین سے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص یہ پسند کرتا ہے کہ ایک درہم کے عوض اس کو لے لے ؟ حاضرین نے عرض کیا کہ اسے تو ہم مفت میں لینا بھی پسند نہیں کرتے ! آپ نے فرمایا اللہ کی قسم اللہ کے نزدیک پوری دنیا اس سے زیادہ ذلیل ہے جتنا یہ (بھیڑ کا مرا ہوا بچہ) تمہارے نزدیک ذلیل ہے۔ (رواہ مسلم) حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔ (رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ کما فی المشکوٰۃ ص ٤٤١) اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا اتنی زیادہ ذلیل ہے اگر وہ اسے اپنے دشمنوں کو بھی دیدے تو اس میں کیا تعجب کی بات ہے پھر کافر بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں انہیں آخرت میں کوئی نعمت نہیں ملتی لہٰذا انہیں دنیا میں بہت کچھ دے دیا جاتا ہے مومن بندوں کا کافروں کی دنیا دیکھ کر رال ٹپکانا مومنانہ سمجھداری کے خلاف ہے۔ حضرت شداد (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو ! یہ بات بلاشک و شبہ ہے کہ دنیا ایک سامان ہے جو سب کے سامنے حاضر ہے اس میں سے نیک و بد سب کھاتے ہیں اور بلاشبہ آخرت کا وعدہ سچا ہے اس میں وہ بادشاہ فیصلہ کرے گا جو عادل ہے قادر ہے وہ حق ثابت فرمائے گا اور باطل کو باطل کردے گا تم آخرت کے بیٹے بنو اور دنیا کے بیٹے مت بنو کیونکہ ہر ماں کا بچہ اس کے پیچھے پیچھے جاتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ٤٤٥) قولہ تعالیٰ ﴿وَ زُخْرُفًا﴾ قال القرطبی الزخرف ھنا الذھب والنتصب زُخْرُفًا علی معنی وجعلنا لھم مع ذلک زخرفًا : وقیل بنزع الخافض والمعنی فجعلنا لھم سُقُفًا وابوابا وسررًا من فضة ومن ذھب فلما حذف ” من “ قال ﴿وَ زُخْرُفًا﴾ فنصب (اللہ تعالیٰ کا قول زخرفًا کے بارے میں علامہ قرطبی (رض) فرماتے ہیں یہاں زخرف سے مراد سونا ہے اور زخرفًا اس لیے منصوب ہے کہ معنی یہ بنے گا اور ہم نے ان کے لیے اس کے علاوہ سونا بنایا ہے۔ بعض نے کہا حرف جر کے محذوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے معنی اس طرح ہے کہ ہم نے ان کے لیے چھتیں، دروازے اور تخت چاندی و سونے کے بنائے بھی (من ذھب) جب من حذف کیا تو زخرفًا کو نصب دے دی گئی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

22:۔ ” ولولا ان یکون “ یہ ” قالوا لولا نزل ھذا القران الخ “ (شکوی) سے متعلق ہے۔ ” امۃ واحدۃ “ سے امت کافرہ مراد ہے۔ لولا کراھۃ ان یجتمعوا علی الکفر و یطبقوا علیہ (مدارک ج 4 ص 90) ۔ ” سقفا “ چھتیں، یہ ” سقف “ کی جمع ہے۔ ” معاج “ سیڑھیاں۔ ” سررا “ سریر کی جمع ہے۔ بمعنی چارپائی، پلنگ، زخرف، سونا۔ الزخرف ھنا الذھب عن ابن عباس وغیرہ (قرطبی ج 16 ص 87) اور ” زخرفا “ فعل محذوف کا مفعول ہے۔ ای ولا عطیناھم زخرفا۔ قالہ الشیخ (رح) تالی۔ ان آیتوں میں دولت دنیا کی قلت و حقارت کا بیان ہے جس پر مغرور ہو کر مشرکین کہتے ہیں کہ وحی ان پر کیوں نازل نہ ہوئی، حالانکہ دنیا کی دولت اور زر و جواہر آخرت کے مقابلہ میں بالکل بےقدر اور ہیچ ہیں۔ سونا چاندی اور دنیوی زینت و آرائش ہمارے نزدیک اس قدر حقیر اور بےقدر ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ کافروں کو عیش و تنعم میں دیکھ کر سب کفر ہی پر جمع ہوجائیں گے، تو ہم کافروں پر سونا چاندی بارش کی طرح برسا دیتے، ان کے گھروں کی چھتیں، اور چھتوں پر چرھنے کی سیڑھیاں، ان کے گھروں کے دروازے اور ان کے پلنگ غرضیکہ ہر چیز چاند کی ہوتی اور انہیں ہم سونا بھی اس قدر عطا کردیتے کہ وہ چاہتے تو یہ تمام چیزیں سونے کی بنوا لیتے۔ حاصل یہ ہے کہ اگر سب لوگوں کے کفر پر جمع ہوجانے کا احتمال نہ ہوتا تو یہ حقیر اور ناچیز دولت دنیا بدترین مخلوق (کفار و مشرکین) پر ہر لحاظ سے مکمل طور پر وسیع کردیجاتی، لیکن اسی وجہ سے کفار پر کامل توسیع نہیں کی گئی۔ استیناف مبین لحقارۃ متاع الدنیا ودناءۃ قدرہ عنداللہ عزوجل، والمعنی ان حقارۃ شانہ بحیث لولا کراھۃ ان یجتمع الناس علی الکفر ویطبقوا علیہ لاعطیناہ علی اتم وجہ من ھو شر الخلائق وادناھم منزلۃ فکراھۃ الاجتامع علی الکفرھی المانعۃ من تمتیع کل کافر والبسط علیہ (روح ج 25 ص 79) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(33) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی طریقے اور ایک ہی دین پر ہوجاتے تو ہم ان لوگوں کے گھروں کی چھتیں جو رحمان کے منکر ہیں چاندی کردیتے اور ان کی وہ سیڑھیاں بھی چاندی کی کردیتے جن پر یہ چڑھا کرتے۔