Commentary Superiority is not based upon wealth and property This is the second reply to the infidels of Makkah for their question why prophethood was not bestowed upon some very rich and wealthy person of Makkah or Ta&if? The gist of the answer is that some qualities and abilities are undoubtedly necessary for choosing someone as a prophet. But abundance of riches and wealth cannot be taken as the basis of this choice. Wealth and property are so worthless in Allah&s view that if there was no apprehension of all the people becoming disbelievers, He will have showered gold and silver upon all the infidels. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has stated, in a hadith reported by Tirmidhi, لو کانت الدّنیا تعدل عند اللہ جناح بعوضۃِ ما سقی کافراً منھاشربۃ مَاء |"If the worth of the whole world, in Allah&s sight, had been equal to that of one wing of a mosquito, Allah Ta` ala will not have given even one drop of water from this world to an infidel (kafir) |" This tells us that neither abundance of wealth and property owned by someone can be a cause of his superiority, nor can one&s poverty be taken as an indication of his being lower in rank. As for those excellent qualities which are necessary for prophethood, they are found in the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، to their perfection. Their objection is, therefore, false and baseless. The statement in these verses that if gold and silver had been showered upon all the infidels, all the people will have become disbelievers is meant for most of the people. Even today, there are people who are certain that if they become disbelievers, they will get abundance of riches and wealth, but they do not lose their faith for the sake of wealth and property; such people will have remained steadfast to their belief and faith, perhaps even at that time, but the number of such people will have been very little indeed.
خلاصہ تفسیر (اور یہ کافر لوگ مال و دولت کی زیادتی کو نبوت کی صلاحیت کی شرط سمجھتے ہیں حالانکہ نبوت ایک عظیم الشان چیز ہے اس لئے اس کی صلاحیت کی شرط بھی عظیم الشان ہونی چاہئے) اور (دنیا کی دولت و جاہ ہمارے نزدیک اس قدر حقیر ہے کہ) اگر یہ بات (متوقع) نہ ہوتی کہ (قریب قریب) تمام آدمی ایک ہی طریقے کے ہوجاویں گے (یعنی کافر ہوجائیں گے) تو جو لوگ خدا کے ساتھ کفر کرتے ہیں (اور خدا کے نزدیک سخت مبغوض ہیں) ہم ان (سب) کے لئے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے اور زینے بھی (چاندی کے کردیتے) جن پر چڑھا (اترا) کرتے اور ان کے گھروں کے کواڑ بھی (چاندی کے کردیتے) اور تخت بھی (چاندی کے کردیتے) جن پر تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں اور (یہی چیزیں) سونے کی بھی (کر دیتے، یعنی کچھ چاندی کی کچھ سونے کی۔ مگر یہ سامان سب کفار کو اس لئے نہیں دیا کہ اکثر انسانوں کی طبیعت میں مال و متاح کی حرص غالب ہے اور اس مفروضہ صورت میں کفر اس مال و متاع کے حصول کا یقینی سبب بن جاتا، پس چند تھوڑے سے آدمیوں کو چھوڑ کر قریب قریب سبھی کفر اختیار کرلیتے، اس لئے ہم نے تمام کافروں کو مال و دولت کی یہ وسعت نہیں دی، ورنہ اگر یہ مصلحت نہ ہوتی تو ہم ایسا ہی کرتے اور ظاہر ہے کہ دشمن کو قدر و وسعت کی چیز نہیں دیا کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیوی مال و متاع حقیقت میں کوئی عظیم الشان چیز نہیں، پس وہ نبوت جیسے منصب عظیم کے لئے صلاحیت کی شرط بھی نہیں ہو سکتی اس کے بجائے نبوت کی شرط وہ اعلیٰ درجہ کے ملکات ہیں جو اللہ کی طرف سے انبیاء کو عطا ہوتے ہیں اور یہ ملکات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں پوری طرح جمع ہیں، پس نبوت ان ہی کے لئے زیبا تھی نہ کہ مکہ اور طائف کے رئیسوں کے لئے) اور (حقارت دنیا کی ایک بالکل ظاہر وجہ بیان فرماتے ہیں کہ) یہ سب (ساز و سامان جس کا اوپر ذکر ہوا) کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کی چند روزہ کامرانی ہے (پھر فنا، آخر فنا) اور آخرت (جو ابدی ہے اور اس لئے اس سے بہتر ہے وہ) آپ کے پروردگار کے ہاں خدا ترسوں کے لئے ہے۔ معارف و مسائل مال و دولت کی زیادتی فضیلت کا سبب نہیں ہے : کفار نے جو یہ کہا تھا کہ مکہ اور طائف کے کسی بڑے مالدار کو نبی کیوں نہ بنادیا گیا ؟ ان آیات میں اس کا دوسرا جواب دیا گیا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک نبوت کے لئے کچھ شرائط صلاحیت کا پایا جانا ضروری ہے لیکن مال و دولت کی زیادتی کی بنا پر کسی کو نبوت نہیں دی جاسکتی، کیونکہ مال و دولت ہماری نگاہ میں اتنی حقیر چیز ہے کہ اگر تمام لوگوں کے کافر بن جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم سب کافروں پر سونے چاندی کی بارش کردیتے اور صحیح ترمذی کی ایک حدیث میں آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے لو کانت الدنیا تعدل عند اللہ جناح بعوضة ماسقی کافراً منھا شربة ماء (یعنی اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر بھی درجہ رکھتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا) اس سے معلوم ہوا کہ نہ مال و دولت کی زیادتی کوئی فضیلت کی چیز ہے نہ اس کی کمی انسان کے کم رتبہ ہونے کی علامت ہے۔ البتہ نبوت کے لئے کچھ اعلیٰ درجہ کے اوصاف ضروری ہیں وہ سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں، اس لئے یہ اعتراض بالکل لغو اور باطل ہے۔ اور مذکورہ آیات میں یہ جو کہا گیا ہے کہ اگر کافروں پر مال دولت کی اتنی فراوانی کردی جاتی تو سب لوگ کافر ہوجاتے، اس میں مراد لوگوں کی بھاری اکثریت ہے ورنہ اللہ کے کچھ نیک بندے آج بھی ایسے موجود ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ کفر اختیار کر کے وہ مال و دولت سے نہال ہو سکتے ہیں، لیکن وہ مال و دولت کی خاطر کفر کو اختیار نہیں کرتے ایسے کچھ لوگ شاید اس وقت بھی ایمان پر قائم رہ جاتے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی۔