Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 35

سورة الزخرف

وَ زُخۡرُفًا ؕ وَ اِنۡ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ رَبِّکَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۳۵﴾٪  9

And gold ornament. But all that is not but the enjoyment of worldly life. And the Hereafter with your Lord is for the righteous.

اور سونے کے بھی اور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک ( صرف ) پرہیزگاروں کے لئے ( ہی ) ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَزُخْرُفًا ... And adornments, means, and gold. This was the view of Ibn Abbas, Qatadah, As-Suddi and Ibn Zayd. ... وَإِن كُلُّ ذَلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ... Yet all this would have been nothing but an enjoyment of this world. means, all that belongs to this transient world which is insignificant before Allah. He hastens their reward for good deeds in the form of luxuries in this world, so that when they reach the Hereafter, they will have no good merits with Allah for which they may be rewarded, as was reported in the Sahih Hadith. It was reported in another Hadith: لَوْ أَنَّ الدُّنْيَا تَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى مِنْهَا كَافِرًا شَرْبَةَ مَاء If this world were worth a gnat's wing before Allah, He would not give a disbeliever a drink of water. Al-Baghawi narrated its chain of narration. ... وَالاْاخِرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ And the Hereafter with your Lord is (only) for those who have Taqwa. means, it is exclusively for them, and no one else will share it with them. When Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, visited the Messenger of Allah in seclusion, when he was keeping away from his wives, and he saw him resting on a rough mat which had left marks on his side, his eyes filled with tears and he said, "O Messenger of Allah, look at this Chosroes and this Caesar with all that they have, and you are the best of Allah's creation." The Messenger of Allah was reclining, but he sat up and said: أَوَ فِي شَكَ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ Are you in doubt, O son of Al-Khattab? Then he said: أُوليِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَـيِّـبَاتُهُمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا Those are people for whom the enjoyments are hastened in this world. According to another report: أَمَا تَرْضَى أَنْ تَــكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الاْخِرَة Does it not please you that this world is for them and the Hereafter is for us? In as the Two Sahihs and elsewhere, it is reported that the Messenger of Allah said: لاَا تَشْرَبُوا فِي انِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلاَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الاْاخِرَة Do not drink from vessels of gold and silver, and do not eat from plates of the same, for these things are for them in this world and for us in the Hereafter. Allah has granted these things to them in this world because it is insignificant, as was reported by At-Tirmidhi and Ibn Majah via Abu Hazim from Sahl bin Sa`d, who said, "The Messenger of Allah said: لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى مِنْهَا كَافِرًا شَرْبَةَ مَاءٍ أَبَدًا "If this world were worth a gnat's wing before Allah, He would never give a disbeliever a drink of water." At-Tirmidhi said: "Hasan Sahih."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

35۔ 1 جو شرک و معاصی سے اجتناب اور اللہ کی اطاعت کرتے رہے، ان کے لئے آخرت اور جنت کی نعمتیں ہیں جن کو زوال و فنا نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٤] یعنی دنیا کا مال و دولت، سازو سامان اور سیم و زر، جس کو یہ لوگ کسی انسان کی عظمت کا معیار قرار دے رہے ہیں۔ اللہ کی نگاہ میں اتنی حقیر چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام کافروں کے گھر، ان کے دروازے، مکانوں کی چھتیں، ان کے تخت اور چارپائیاں، ان کی سیڑھیاں غرضیکہ ان کی ایک ایک چیز سونے، چاندی کا بنا دیتا۔ لیکن اس میں یہ خطرہ ضرور تھا کہ تمام انسان ہی کفر کا راستہ اختیار کرلیتے، کیونکہ انسان فطرتاً مال و دولت کے لیے بہت حریص واقع ہوا ہے۔ جبکہ اللہ کی مشیئت یہ ہے کہ کسی کو مال و دولت زیادہ دے کر اور کسی کو کم دے کر ہر طرح سے لوگوں کی آزمائش کرے۔ نیز دنیا میں رزق کی اس کمی بیشی سے ہی اس دنیا کا نظام چل رہا ہے ورنہ مال و دولت تو ایسی حقیر چیز ہے جو حرام خوروں اور خبیث ترین قسم کے انسانوں کے پاس عام لوگوں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس مال و دولت کو تم نے بڑائی کا معیار سمجھ رکھا ہے۔ اور کہتے ہو کہ نبوت بھی اس طرح کے کسی بڑے رئیس کے حصہ میں آنا چاہئے تھی ؟ [٣٥] یعنی آخرت کی تمام تر نعمتیں صرف متقی لوگوں کے لیے مخصوص ہیں اور دنیا میں بھی انہیں اتنا حصہ مل ہی جاتا ہے جتنا ان کے مقدر میں ہے اور یہ حصہ زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔ مگر کافروں کا آخرت میں تو کوئی حصہ نہیں اگر دنیا میں انہیں کچھ زیادہ مال و دولت مل بھی جائے تو پھر بھی بہرحال خسارے میں کافر ہی رہتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَزُخْرُفًا۝ ٠ ۭ وَاِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝ ٠ ۭ وَالْاٰخِرَۃُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيْنَ۝ ٣٥ ۧ زخرف الزُّخْرُفُ : الزّينة المزوّقة، ومنه قيل للذّهب : زُخْرُفٌ ، وقال : أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَها [يونس/ 24] ، وقال : بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ [ الإسراء/ 93] ، أي : ذهب مزوّق، وقال : وَزُخْرُفاً [ الزخرف/ 35] ، وقال : زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] ، أي : المزوّقات من الکلام . ( زخ رف ) الزخرف اصل میں اس زینت کو کہتے ہیں جو ملمع سے حاصل ہو اسی سے سونے کو بھی زخرف کہا جاتا ہے ( کیونکہ یہ زیبائش کے کام آتا ہے ) ۔ قرآن میں ہے :۔ أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَها [يونس/ 24] ، یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی ۔ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ [ الإسراء/ 93] طلائی گھر ۔ وَزُخْرُفاً [ الزخرف/ 35] اور سونے کے ( دروازے ) اور زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] کے معنی ہیں |" ملمع کی ہوئی باتیں |" هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ متع ( سامان) وكلّ ما ينتفع به علی وجه ما فهو مَتَاعٌ ومُتْعَةٌ ، وعلی هذا قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] أي : طعامهم، فسمّاه مَتَاعاً ، وقیل : وعاء هم، وکلاهما متاع، وهما متلازمان، فإنّ الطّعام کان في الوعاء . ( م ت ع ) المتوع ہر وہ چیز جس سے کسی قسم کا نفع حاصل کیا جائے اسے متاع ومتعۃ کہا جاتا ہے اس معنی کے لحاظ آیت کریمہ : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔ میں غلہ کو متاع کہا ہے اور بعض نے غلہ کے تھیلے بابور یاں مراد لئے ہیں اور یہ دونوں متاع میں داخل اور باہم متلا زم ہیں کیونکہ غلہ ہمیشہ تھیلوں ہی میں ڈالا جاتا ہے حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و «أُخَر» معدول عن تقدیر ما فيه الألف واللام، ولیس له نظیر في کلامهم، فإنّ أفعل من کذا، - إمّا أن يذكر معه «من» لفظا أو تقدیرا، فلا يثنّى ولا يجمع ولا يؤنّث . - وإمّا أن يحذف منه «من» فيدخل عليه الألف واللام فيثنّى ويجمع . وهذه اللفظة من بين أخواتها جوّز فيها ذلک من غير الألف واللام . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ یہ اصل میں ولاجر دار الحیاۃ الاخرۃ ہے ( اور دار کا لفظ الحیاۃ الاخرۃ کی طرف مضاف ہے ) اور اخر ( جمع الاخریٰ ) کا لفظ الاخر ( معرف بلام ) سے معدول ہے اور کلام عرب میں اس کی دوسری نظیر نہیں ہے کیونکہ افعل من کذا ( یعنی صیغہ تفصیل ) کے ساتھ اگر لفظ من لفظا یا تقدیرا مذکورہ ہو تو نہ اس کا تثنیہ ہوتا اور نہ جمع اور نہ ہی تانیث آتی ہے اور اس کا تثنیہ جمع دونوں آسکتے ہیں لیکن لفظ آخر میں اس کے نظائر کے برعکس الف لام کے بغیر اس کے استعمال کو جائز سمجھا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ الاخر سے معدول ہے ۔ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] ولجعل التَّقْوَى منازل قال : وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] ، واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ [ النور/ 52] ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسائَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحامَ [ النساء/ 1] ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] . و تخصیص کلّ واحد من هذه الألفاظ له ما بعد هذا الکتاب . ويقال : اتَّقَى فلانٌ بکذا : إذا جعله وِقَايَةً لنفسه، وقوله : أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] تنبيه علی شدّة ما ينالهم، وأنّ أجدر شيء يَتَّقُونَ به من العذاب يوم القیامة هو وجوههم، فصار ذلک کقوله : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] ، يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] . التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ جس طرح کہ سبب بول کر مسبب اور مسبب بولکر سبب مراد لیا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں نفس کو ہر اس چیز سے بچا نیکا نام تقوی ہے جو گناہوں کا موجب ہو ۔ اور یہ بات محظو رات شرعیہ کے ترک کرنے سے حاصل ہوجاتی ہے مگر اس میں درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے بعض مباحات کو بھی ترک کرنا پڑتا ہے ۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے ۔ ( 149 ) الحلال بین واحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ کہ حلال بھی بین ہے اور حرام بھی بین ہے اور جو شخص چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے ( یعنی مشتبہ چیزیں اگرچہ درجہ اباحت میں ہوتی ہیں لیکن ورع کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں بھی چھوڑ دایا جائے ) قرآن پاک میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا[ النحل/ 128] کچھ شک نہیں کہ جو پرہیز گار ہیں اللہ ان کا مدد گار ہے ۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ بناکر بہشت کی طرف لے جائیں گے ۔ پھر تقویٰ کے چونکہ بہت سے مدارج ہیں اس لئے آیات وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے ۔ واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] اپنے پروردگار سے ڈرو ۔ اور اس سے ڈرے گا ۔ اور خدا سے جس کا نام کو تم اپنی حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو ۔ اور قطع مودت ارجام سے ۔ اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ میں ہر جگہ تقویٰ کا ایک خاص معنی مراد ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے اور بعد بیان ہوگی ۔ اتقٰی فلان بکذا کے معنی کسی چیز کے ذریعہ بچاؤ حاصل کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہوا ۔ میں اس عذاب شدید پر تنبیہ کی ہے جو قیامت کے دن ان پر نازل ہوگا اور یہ کہ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعہ وہ و عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ ان کے چہرے ہی ہوں گے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی ۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسٹیے جائیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

باقی یہ سازو سامان صرف دنیوی زندگی کی چند روزہ کامیابی ہے اور جنت جو کہ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے لیے ہے وہ اس دنیوی کامرانی سے بہتر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٥ { وَزُخْرُفًا } ” اور سونے کی بھی (بنا دیتے) ۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی ان چیزوں کی سرے سے کوئی وقعت ہے ہی نہیں۔ اس حوالے سے یہ حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبل ازیں متعدد بار دہرائی جا چکی ہے کہ اگر دنیا ومافیہا کی وقعت اللہ کی نگاہ میں مچھر کے َپر کے برابر بھی ہوتی تو دنیا میں وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی دولت اور زیب وزینت کی کوئی اہمیت ہے ہی نہیں ‘ اس لیے وہ تو اپنے سرکش اور نافرمان انسانوں کو بھی طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے ۔ { وَاِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ” اور یہ سب کچھ تو بس دنیا کی زندگی کا سازو سامان ہے۔ “ کسی کا محل سونے کا ہو یا چاندی کا ‘ وہ اسے اپنے ساتھ قبر میں تو نہیں لے جاسکتا۔ دنیا کا سازو سامان جو کچھ بھی ہو ‘ جتنا کچھ بھی ہو یہیں اسی دنیا میں چھوڑ کر انسان آخرت کو سدھار جائے گا۔ { وَالْاٰخِرَۃُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ } ” اور آخرت (کی کامیابی) آپ کے رب کے نزدیک صرف اہل ِتقویٰ کے لیے ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :33 یعنی یہ سیم و زر ، جس کا کسی کو مل جانا تمہاری نگاہ میں نعمت کی انتہا اور قدر و قیمت کی معراج ہے ، اللہ کی نگاہ میں اتنی حقیر چیز ہے کہ اگر تمام انسانوں کے کفر کی طرف ڈھلک پڑنے کا خطرہ نہ ہوتا تو وہ ہر کافر کا گھر سونے چاندی کا بنا دیا جاتا ۔ اس جنس فرومایہ کی فراوانی آخر کب سے انسان کی شرافت اور پاکیزگی نفس اور طہارت روح کی دلیل بن گئی ؟ یہ مال تو ان خبیث ترین انسانوں کے پاس بھی پایا جاتا ہے جن کے گھناؤنے کردار کی سڑاند سے سارا معاشرہ متعفن ہو کر رہ جاتا ہے ۔ اسے تم نے آدمی کی بڑائی کا معیار بنا رکھا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

10: بتلانا یہ مقصود ہے کہ دنیا کا مال ودولت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی بے حقیقت چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے ناراض ہونے کے باوجود ان کے آگے سونے چاندی کے ڈھیر لگاسکتا ہے، اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ مال ودولت کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے کافروں کی دولت دیکھ کر کافر ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کافروں کے گھر اور ان کے گھر کاسارا ساز وسامان سونے چاندی کا بنادیتا، کیونکہ وہ فنا ہونے والی چیزیں ہیں، اور اصل دولت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی ابدی زندگی کی خوش حالی ہے، جو پرہیزگاروں ہی کو نصیب ہوتی ہے، لہذا کسی دولت مند شخص پر نازل کرنے کا مطالبہ سراسر لغو مطالبہ ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:35) وزخرفا۔ واؤ عاطفہ ، زخرف کے متعلق لغات القرآن میں ہے ملمع۔ سنہری۔ سونا۔ آراستہ۔ زینت اور کسی شے کے کمال حسن کو زخرف کہتے ہیں لیکن جب قول ہوں گے ۔ جیسے ارشاد ہے زخرف القول غرورا (6:112) ملمع کی باتیں فریب کی۔ امام راغب (رح) لکھتے ہیں الزخرف اصل میں اس زینت کو کہتے ہیں جو کہ ملمع سے حاصل ہو۔ اسی سے سونے کو بھی زخرف کہا جاتا ہے کیونکہ یہ زیبائش کے کام آتا ہے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے واخذت الارض زخرفھا (10:24) یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی۔ اور سونے کے معنی میں :۔ بیت من زخرف (17:93) سونے کا گھر۔ بظاہر زخرفا کا عطف سقفا پر ہے اس صورت میں اس کا معنی نقش و نگار زیب و زینت ہوگا۔ اور اگر زخرف سے مراد سونا ہے تو پھر اس کا عطف ” من فضۃ “ پر ہوگا۔ اور اس کا نصب محل کی وجہ سے ہوگا۔ اور آیت کا معنی ہوگا کہ ان کی چھتیں، ان کے زینے ان کے دروازے۔ ان کے پلنگ بعض سونے کے بنے ہوتے ہیں اور بعض چاندی کے بنے ہوتے۔ (ضیاء القرآن) فائدہ : آیت 32 متذکرہ بالا میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے دنیا میں دنیاوی زندگی کے مال و متاع کی تقسیم میں بعض کو بعض پر فوقیت بخشی ہے تاکہ ایک دوسرے سے کام لیتا رہے ورنہ دنیاوی مال و دولت کی ہمارے نزدیک کوئی وقعت نہیں یہ ایک حقیر اور ادنی سی چیز ہے اگر ہم چاہتے تو اس بےبضاعت دولت سے منکروں اور کافروں کے گھروں کی چھتیں، دروازے۔ پلنگ، رینے وغیرہ سونے کے بنا دیتے ۔ لیکن اس حکمت کے پیش نظر کہ مبادا اس تجمل اور زینت کو دیکھ کر سارے یا اکثر لوگ کفر کی طرف راغب نہ ہوجاویں ایسا نہیں کیا گیا۔ وان کل ذلک ان نافیہ ہے کل ذلک مضاف مضاف الیہ ۔ یہ سب سنہری رو پہلی چیزیں (جن کا اوپر ذکر ہوا) لما متاع الحیوۃ الدنیا۔ میں لما استثنائیہ بمعنی الا ہے اور نہیں ہے یہ سب کچھ مگر دنیاوی زندگی کا سازوسامان۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس دنیوی مال و دولت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے بلکہ یہ اس کی نظر میں اس قدر حقیر چیز ہے کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ دنیا میں تمام لوگ کفر کی راہ اختیار کرلیں گے تو ہر کافر کا گھر سونے چاندی کا بنادیا جاتا اور اسے ہر قسم کا عیش و آرام فراہم کردیا جاتا۔ نہایت احمق ہے وہ شخص جو اس دنیوی مال و دولت کو عزت و شرافت کا معیار سمجھتا ہے۔ حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کافر کو ایک گھونٹ پانی نہ دیتا۔ ( شوکانی بحوالہ ترمذی، ابن ماجہ)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا واقع میں امر عظیم نہیں ہے، پس وہ منصب عظیم یعنی نبوت کی صلاحیت کی بنا پر بھی نہ ہوگی، بلکہ بناء اس کی صلاحیت کی ملکات فاضلہ موہوبہ من اللہ ہیں جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بدرجہ اکمل مجتمع ہیں، پس نبوت ان ہی کے لئے زیبا تھی نہ کہ مکہ و طائف کے رئیسوں کے لئے۔ 7۔ پس جو چیز فانی ہو نہ وہ قابل قدر ہے نہ قابل طلب، البتہ آخرت جو کہ باقی ہے وہ اور اس کے تحصیل کے ذرائع کہ اعمال و طاعات ہیں وہ بیشک قابل اعتبار ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ١ؕ﴾ (اور یہ سب دنیا والی زندگی کے سامان کے سوا کچھ نہیں دنیا حقیر ہے اور فانی ہے یہ چیزیں بھی حقیر ہیں اور فانی ہیں۔ ﴿وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيْنَ (رح) ٠٠٣٥﴾ (اور آخرت یعنی اس کی باقی رہنے والی نعمتیں آپ کے رب کے نزدیک متقین کے لیے ہیں) وہ وہاں ان سے متمتع ہوں گے اور وہ نعمتیں دائمی ہوں گی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

23:۔ ” وان کل ذلک۔ الایۃ “ یہ ماقبل کا ثمرہ ہے۔ ان نافیہ اور لما بمعنی الا ہے۔ (بحر ج 8 ص 15) یہ سب کچھ چند روزہ دنیوی زنگی کی فانی متاع اور ایک عارضی نفع ہے اور دار آخرت کی دائمی اور لازوال نعمتیں ان لوگوں کے لیے مکصوص ہیں جنہوں نے تقوی کو اپنا شعار بنایا۔ شرک اور تمام معاصی سے اجتناب کیا اور امر الٰہی کی تعمیل میں سرگرم رہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(35) اور نہ صرف چاندی کے بلکہ سونے کے بھی کردیتے اور سب مذکور مال و دولت کے کچھ نہیں مگر دنیوی زندگی کی چند روزہ بہرہ مندی اور کامرانی ہے اور آخرت آپ کے پروردگار کے ہاں انہی کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں اور متقی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کافر کو اللہ نے پیدا کیا کہیں تو اس کو آرام دے آخرت میں تو عذاب ہے دنیا ہی میں آرام ملتا مگر ایسا ہو تو سب وہی کفر پکڑلیں۔ مطلب صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی کوئی وقعت اور عزت نہیں اگر کافروں کو دنیا زیادہ دی گئی تو دنیا اور کافروں کی یہ عزت نہیں ہے منکروں کے پاس دنیا کی کثرت دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ منکروں پر بڑے مہربان ہیں۔ دنیا کی کثرت حق تعالیٰ کی مہربانی کی دلیل نہیں ہے تو تم اس تھوڑی سی دنیا پر یہ خیال کرتے ہو اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بعض مسلمانوں کے قدم ڈگمگا جائیں گے تو ہم منکرین رحمان یعنی اپنے منکروں کو چاندی کی چھتیں چاندی کی سیڑھیاں اور چاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت عطا کرتے، اور چاندی کے کیا بلکہ سونے کے بھی۔ بعض حضرات نے زخرف کا ترجمہ زینت کیا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ چاندی کے ساتھ ہر قسم کی زینت کا سامان رحمان کے منکروں کو دیاجاتا۔ سونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں چاندی کی بھی دیتے اور سونے کی بھی دیتے لیکن ہر منکر رحمان کو اگر چاندی اور سونے کے مکان دے دیئے جاتے تو کفر حصول مال ومتاع کا سبب یقینی ہوجاتا اور اکثر طبائع میں حرص میں مال ومتاع غالب ہے اس لئے چند مخصوص اور قلیل مسلمانوں کو چھوڑ کر سب لوگ کفر کی طرف مائل ہوجاتے اور اس طرح دنیا میں لوگ منکر رحمان بن جاتے لہٰذا رحمان کے منکروں کو دنیاوی مگر تھوڑی دی۔ یہ مضمون قرآن میں بہت جگہ آچکا ہے لیکن یہاں ایک اچھوتا اور نیا عنوان رکھا ہے بہرحال اگر ایسا ہوتا بھی تو یہ سب سازو سامان دنیا کے جیتے ہوتا اور آخرت کی کامیابی بہرحال متقیوں کے لئے ہے جو کم از کم شرک سے بچتے ہیں یعنی رحمان کے منکر نہیں بلکہ اس کے مومن ہیں۔ حدیث میں آتا ہے فرمایا رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں اخلاق کو بھی تقسیم کیا جس طرح تمہارے ارزاق کو تمہارے درمیان تقسیم کیا اللہ تعالیٰ نے دنیا ہر شخص کو دیتا ہے خواہ وہ اس کو دوست رکھے یادوست نہ رکھے مگر دین صرف اس کو دیتا ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے یعنی دنیا تو دوست دشمن سب کو ملتی ہے مگر دین سوائے دوست کے کسی کو نہیں ملتا۔ (درمنثور)