Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 54

سورة الزخرف

فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَہٗ فَاَطَاعُوۡہُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۵۴﴾

So he bluffed his people, and they obeyed him. Indeed, they were [themselves] a people defiantly disobedient [of Allah ].

اس نے اپنی قوم کو بہلایا پھسلایا اور انہوں نے اسی کی مان لی یقیناً یہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ ... Thus he fooled his people, and they obeyed him. meaning, he confused them and invited them to misguidance, and they responded to him. ... إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ Verily, they were ever a people who were rebellious. Then Allah says: فَلَمَّا اسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٣] ایسی ہی باتیں کہہ کر فرعون نے اپنی قوم کو الو بنایا اور وہ الو بن گئے۔ اس لیے کہ وہ فاسق لوگ تھے۔ جن کو اپنے دنیوی مفادات کے علاوہ اور کسی بات سے غرض ہی نہ تھی۔ اور وہ انہیں فرعون کا غلام بنا رہنے میں ہی نظر آرہے تھے۔ فرعون پر اگرچہ حقیقت واضح ہوچکی تھی مگر وہ یہ سارے پاپڑ اس لیے بیل رہا تھا کہ اس کی حکومت میں کمزوری اور تزلزل واقع نہ ہو۔ وہ عام لوگوں کی ذہنیت کو بھی خوب جانتا تھا کہ ایسے بےضمیر، بےاصول اور بےعقل لوگوں سے کیسے کام نکالا اور انہیں اپنی باتوں پر لگایا جاسکتا ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) فاستخف قومہ فاطاعوہ : لفظی معنی ہے ” اس نے پانی قوم کو ہلکا (بےوزن) کردیا۔ “ یعنی اس نے اپنی قوم کے لوگوں کی رئاے کو کوئی وزن نہ دیا اور نہ ہی انہیں اپنی عقل سے سوچنے سمجھنے کا موقع دیا، بلکہ انھیں مجبور کیا کہ وہ اس کی ہاں میں ہاں ملا لیں۔ (دیکھیے مومن : ٢٩) چناچہ وہ انھیں پھسلانے اور الو بنانے میں کامیاب ہوگیا اور وہ سب اس کے پیچھے لگ گئے۔ (٢) انھم کانوا قوماً فسقین :” ان “ تعلیل کے لئے ہوتا ہے، یعنی انہوں نے اس کی اطاعت اس لئے اختیار کی کہ فسق و فجور ان کی سرشت بن چکا تھا۔ وہ گمراہی کے راستے پر ہی چل سکتے تھے، سیدھی راہ پر چلنا ان کے بس کی بات ہی نہ تھی، جیسا کہ فرمایا :(ساصرف عن ایتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق ، وان یروا کل ایۃ لایومنوا بھا و ان یرواسبیل الرشد لایتخذوہ سبیلاً ، وان یرواسبیل الغی یتخذوہ سبیلاً ذلک بانھم کذبوا بایتنا وکانوا عنھا غفلین) (الاعراف : ١٣٦)” عنقریب میں اپنی آیات سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں حق کے بغیر بڑے بنتے ہیں اور اگر ہر نشانی دیکھ لیں تو بھی اس پر ایمان نہیں لاتے اور اگر بھلائی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے راستہ نہیں بناتے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اسے راستہ بنا لیتے ہیں، یہ اس لئے کہا نہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ (Thus he made fool of his people - 43:54). According to the Arabic expression, this sentence may be translated in two ways; the translation adopted in the text above is based on one of them. The second one may be: |"He (Fir&aun) easily made his people to follow him|". (Ruh-u1-Ma’ ani)

(فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ ) ، اس کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ فرعون نے ” اپنی قوم کو آسانی سے اپنا تابع بنا لیا “ (طلب منھم الخفة فی مطاوعتہ) اور دوسرے یہ کہ ” اس نے اپنی قوم کو بیوقوف پایا “ (وجدھم خفیفة احلامہم) (روح المعانی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ۝ ٠ ۭ اِنَّہُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ۝ ٥٤ خفیف الخَفِيف : بإزاء الثّقيل، ويقال ذلک تارة باعتبار المضایفة بالوزن، و قیاس شيئين أحدهما بالآخر، نحو : درهم خفیف، ودرهم ثقیل . والثاني : يقال باعتبار مضایفة الزّمان، نحو : فرس خفیف، وفرس ثقیل : إذا عدا أحدهما أكثر من الآخر في زمان واحد . الثالث : يقال خفیف فيما يستحليه الناس، وثقیل فيما يستوخمه، فيكون الخفیف مدحا، والثقیل ذمّا، ومنه قوله تعالی: الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ [ الأنفال/ 66] ، فَلا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ [ البقرة/ 86] وأرى أنّ من هذا قوله : حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفاً [ الأعراف/ 189] . الرّابع : يقال خفیف فيمن يطيش، و ثقیل فيما فيه وقار، فيكون الخفیف ذمّا، والثقیل مدحا . الخامس : يقال خفیف في الأجسام التي من شأنها أن ترجحن إلى أسفل کالأرض والماء، يقال : خَفَّ يَخِفُّ خَفّاً وخِفَّةً ، وخَفَّفَه تَخْفِيفاً وتَخَفَّفَ تَخَفُّفاً ، واستخففته، وخَفَّ المتاع : الخفیف منه، و کلام خفیف علی اللسان، قال تعالی: فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطاعُوهُ [ الزخرف/ 54] ، أي : حملهم أن يخفّوا معه، أو وجدهم خفافا في أبدانهم وعزائمهم، وقیل : معناه وجدهم طائشين، وقوله تعالی: فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوازِينُهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوازِينُهُ فَأُولئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ [ المؤمنون/ 102- 103] ، فإشارة إلى كثرة الأعمال الصّالحة وقلّتها، وَلا يَسْتَخِفَّنَّكَ [ الروم/ 60] ، أي : لا يزعجنّك ويزيلنّك عن اعتقادک بما يوقعون من الشّبه، وخفّوا عن منازلهم : ارتحلوا منها في خفّة، والخُفُّ : الملبوس، وخُفُّ النّعامة والبعیر تشبيها بخفّ الإنسان . ( خ ف ف ) الخفیف ( ہلکا ) یہ ثقیل کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے ۔ اس کا استعمال کئی طرح پر ہوتا ہے ( 1) کبھی وزن میں مقابلہ کے طور یعنی دو چیزوں کے باہم مقابلہ میں ایک کو خفیف اور دوسری کو ثقیل کہہ دیا جاتا ہے جیسے درھم خفیف ودرھم ثقیل یعنی وہ درہم ہم ہلکا ہے ۔ اور یہ بھاری ہے ( 2) اور کبھی ثقابل زمانی کے اعتبار سے بولے جاتے ہیں ۔ مثلا ( ایک گھوڑا جو فی گھنٹہ دس میل کی مسافت طے کرتا ہوں اور دوسرا پانچ میل فی گھنٹہ دوڑتا ہو تو پہلے کو خفیف ( سبک رفتار ) اور دوسرے کو ثقل ( سست رفتار ) کہا جاتا ہے ( 3) جس چیز کو خوش آئندہ پایا جائے اسے خفیف اور جو طبیعت پر گراں ہو اسے ثقیل کہا جاتا ہے اس صورت میں خفیف کا لفظ بطور مدح اور ثقیل کا لفظ بطور ندمت استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ آیات کریمہ ؛ الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ [ الأنفال/ 66] اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کردیا ۔ فَلا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ [ البقرة/ 86] سو نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا ۔ اسی معنی پر محمول ہیں اسی معنی پر محمول ہیں بلکہ ہمارے نزدیک آیت : حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفاً [ الأعراف/ 189] اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ ( 4) جو شخص جلد طیش میں آجائے اسے خفیف اور جو پر وقار ہو اسے ثقیل کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کے اعتبار سے خفیف صفت ذم ہوگئی اور ثقیل سفت مدح ۔ ( 5 ) جو اجسام نیچے کی طرف جھکنے والے ہوں انہیں ثقلا اور جو اپر کی جاں ب چڑھنے والے ہوں انہیں خفیفہ کہا جاتا ہے اسی معنی کے لحاظ سے زمین پانی وگیرہ ہا کو اجسام ثقیلہ اور ہوا آگ وغیرہ ہا اجسام خفیفہ میں داخل ہوں گے ۔ خف ( ض ) خفا وخفتہ ویخفف ۔ ہلکا ہونا خففہ تخفیفا ۔ ہکا کرنا ۔ استخفہ ۔ ہلکا سمجھنا خف المتاع سامان کا ہلکا ہونا اسی سے کلام خفیف علی اللسان کا محاورہ مستعار ہے یعنی وہ کلام جو زبان پر ہلکا ہو ۔ اور آیت کریمہ : فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطاعُوهُ [ الزخرف/ 54] غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی اور انہوں نے اس کی بات مان لی ۔ کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اس نے اپنی قوم کو اکسایا کہ اس کے ساتھ تیزی سے چلیں اور یا یہ کہ انہیں اجسام وعزائم کے اعتبار سے ڈھیلا پایا اور بعض نے یہ معنی بھی کئے کہ انہیں جاہل اور کم عقل سمجھا ۔ اور آیت کریمہ : : فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوازِينُهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوازِينُهُ فَأُولئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ [ المؤمنون/ 102- 103] اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے ۔ میں اعمال صالحہ کی کمی کی طرف اشارہ ہی اور آیت کریمہ : وَلا يَسْتَخِفَّنَّكَ [ الروم/ 60] اور وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ شبہات پیدا کر کے تمہیں تمہارے عقائد سے منزل اور برگشتہ نہ کردیں ۔ خفوا عن منازھم ۔ وہ تیزی سے کوچ کر گئے الخف ۔ موزہ ۔ انسان کے موزہ سے تشبیہ دے کر خف النعامتہ والبعیر ۔ ( سپل شتر وسم شتر مرغ ) کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے فسق فَسَقَ فلان : خرج عن حجر الشّرع، وذلک من قولهم : فَسَقَ الرُّطَبُ ، إذا خرج عن قشره «3» ، وهو أعمّ من الکفر . والفِسْقُ يقع بالقلیل من الذّنوب وبالکثير، لکن تعورف فيما کان کثيرا، وأكثر ما يقال الفَاسِقُ لمن التزم حکم الشّرع وأقرّ به، ( ف س ق ) فسق فلان کے معنی کسی شخص کے دائر ہ شریعت سے نکل جانے کے ہیں یہ فسق الرطب کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گدری کھجور کے اپنے چھلکے سے باہر نکل آنا کے ہیں ( شرعا فسق کا مفہوم کفر سے اعم ہے کیونکہ فسق کا لفظ چھوٹے اور بڑے ہر قسم کے گناہ کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اگر چہ عرف میں بڑے گناہوں کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اور عام طور پر فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام اور اقرار کر نیکے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

غرض اس نے اپنی قوم کو بہکا دیا وہ اس کے کہنے میں آگئی اور وہ سب کافر ہی تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٤ { فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ } ” تو (اس طرح) اس نے اپنی قوم کی مت مار دی اور انہوں نے اسی کا کہنا مانا۔ “ یہاں پر لفظ اِسْتَخَفَّ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے ان کو بالکل ہی خفیف اور ہلکا سمجھا۔ مراد یہ ہے کہ اس نے ان کی عقل ہی گنوا دی ‘ ان کو بیوقوف بنا لیا۔ اسی طرح آج کے سیاسی شعبدہ باز (demagogs) اپنے عوام کو نت نئے طریقوں سے بیوقوف بناتے ہیں۔ کوئی ان کے سامنے روٹی کپڑا اور مکان کی ڈگڈگی بجاتا ہے تو کوئی اس مقصد کے لیے کسی دوسرے نعرے کا سہارا لیتا ہے۔ بقول اقبالؔ ابلیس کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ میں جب چاہوں ہر قسم کے انسانوں کو بیوقوف بنا سکتا ہوں : ؎ کیا امامانِ سیاست ‘ کیا کلیسا کے شیوخ سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ُ ہو ! چنانچہ جب ابلیس یا ابلیس کا کوئی چیلہ عوام الناس کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر وہ اندھوں کی طرح اپنے ” محبوب لیڈر “ کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔ پھر نہ تو وہ سامنے کے حقائق کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی کسی علمی و عقلی دلیل کو لائق توجہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنے اقتدار کے رعب و داب کی ڈگڈگی بجا کر اپنی قوم کو ایسا متاثر کیا کہ وہ آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے ہولیے۔ یہاں فَاَطَاعُوْہُ کے لفظ میں ان کے اسی رویے ّکی عکاسی کی گئی ہے۔ { اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ } ” یقینا وہ لوگ خود بھی نافرمان ہی تھے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

50 A tremendous reality has been expressed in this brief sentence. When a person wishes to become autocratic in a country, and contrives every plan openly to achieve his object-practices every deception and trick, buys and sells consciences, and persecutes and crushes ruthlessly those who cannot be purchased-he, in fact, shows by his actions, whatever he may say to the contrary, that he takes the people of the country to be light as regards their intellect, morals and manliness, and has formed the impression that he can drive the foolish, unscrupulous and cowardly people wherever he likes. Then, when he has succeeded in his designs and the people have become his obedient servants, they prove by their conduct and behavior that they are actually what the wicked man had taken them to be, and the main cause of their depravity is that they arc basically a "sinful people." They are not in the least concerned as to what is the truth and what is falsehood, what is justice and what is injustice, whether the noble traits of character are truthfulness and honesty or falsehood and dishonesty and meanness. Instead of this, only their personal interests are of real importance to them, for the sake of which they remain ever ready to cooperate with every wicked person, to yield to every tyrant, to accept every falsehood and to suppress every protest that is voiced in favor of the truth.

سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :50 اس مختصر سے فقرے میں ایک بہت بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے ۔ جب کوئی شخص کسی ملک میں اپنی مطلق العنانی چلانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے کھلم کھلا ہر طرح کی چالیں چلتا ہے ، ہر فریب اور مکر و دغا سے کام لیتا ہے ، کھلے بازار میں ضمیروں کی خرید و فروخت کا کاروبار چلاتا ہے ، اور جو بکتے نہیں انہیں بے دریغ کچلتا اور روندتا ہے ، تو خواہ زبان سے وہ یہ بات نہ کہے مگر اپنے عمل سے صاف ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ در حقیقت اس ملک کے باشندوں کو عقل اور اخلاق اور مردانگی کے لحاظ سے ہلکا سمجھتا ہے ، اور اس نے ان کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے کہ میں ان بے وقوف ، بے ضمیر اور بزدل لوگوں کو جدھر چاہوں ہانک کر لے جا سکتا ہوں ۔ پھر جب اس کی یہ تدبیریں کامیاب ہو جاتی ہیں اور ملک کے باشندے اس کے دست بستہ غلام بن جاتے ہیں تو وہ اپنے عمل سے ثابت کر دیتے ہیں کہ اس خبیث نے جو کچھ انہیں سمجھا تھا ، واقعی وہ وہی کچھ ہیں ۔ اور ان کے اس ذلیل حالت میں مبتلا ہونے کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ بنیادی طور پر فاسق ہوتے ہیں ۔ ان کو اس سے کچھ بحث نہیں ہوتی کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ۔ انصاف کیا ہے اور ظلم کیا ۔ سچائی اور دیانت اور شرافت قدر کے لائق ہے یا جھوٹ اور بے ایمانی اور رذالت ۔ ان مسائل کے بجائے ان کے لیے اصل اہمیت صرف اپنے ذاتی مفاد کی ہوتی ہے جس کے لیے وہ ہر ظالم کا ساتھ دینے ، ہر جبار کے آگے رہنے ، ہر باطل کو قبول کرنے ، اور ہر صدائے حق کو دبانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

15: اس میں فرعون کو بھی گنہگار کہا گیا ہے، اور اس کی قوم کو بھی۔ فرعون تو اس لیے گنہگار تھا کہ اس نے اپنی سلطنت کو خدائی کی علامت قرار دے کر خدائی کی علامت قرار دے کر خدائی کا دعوی کیا، اور اپنی قوم کو بے وقوف بنایا اور اس کی قوم اس لیے گنہگار تھی کہ اس نے ایسے گمراہ شخص کو اپنا حکمران تسلیم کیا، اور اس کی تمام گمراہیوں میں اس کی پیروی کی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی قوم پر کوئی گمراہ شخص مسلط ہوجائے، اور وہ اپنی طاقت کے مطابق اسے ہٹانے کی کوشش کرنے کے بجائے ہر غلط کام میں اس کی اطاعت کئے جائے تو وہ بھی مجرم قرار پاتی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:54) استخف۔ ماضی واحد مذکر غائب استخفاف (استفعال) مصدر۔ بمعنی بیوقوف اور جاہل بنانا۔ اور راہ حق سے ہٹانا۔ ای استجھل غرض اس نے (اپنی قوم کی) عقل مار دی اور لوگوں نے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا اس کو توڑنے پر ان کو آمادہ کرلیا۔ قومہ اس کی قوم یعنی فرعون کی قوم (قبطیوں) کو۔ اطاعوہ : اطاعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اطاعۃ (افعال) مصدر بمعنی حکم ماننا۔ فرمانبرداری کرنا۔ اطاعت کرنا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع فرعون ہے انہوں نے (فرعون کی قوم نے) اس کا کہا مان لیا (اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کئے گئے وعدوں سے پھر گئے انھم کانوا قوما فسقین : قوما فسقین موصوف و صفت مل کر کانوا کی خبر۔ در حقیقت وہ فاسق لوگ تھے۔ انھم کانوا قوما فسقین علت ہے اطاعوا کی۔ یعنی وہ فاسق لوگ تھے اسی لئے انہوں نے فاسق کی اطاعت کرلی۔ فلذلک سارعوا الی طاعۃ ذلک الفاسق۔ فسقین اسم فاعل جم عمذکر حالت نصب۔ فاسق واحد۔ فسق مصدر باب نصر، ضرب، بدکردار۔ راستی سے نکل جانے والا۔ ہمیشہ اللہ کی نافرمانی کرنے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” اس نے اپنی قوم کو ہلکا جانا “ یعنی اس نے اپنے ملک کے باشندوں کی عقل اور سمجھ کو بکائو مال سمجھا اس لئے وہ اپنی مکاریوں اور چال نازیوں سے انہیں پھسلانے اور الو بنانے میں کامیاب ہوگیا یا ان کو مجبور کیا کہ اس کا ساتھ دیں۔ ( قرطبی) ۔ 8 یعنی فسق و فجور ان کی سرشت بن چکا تھا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کے تشدد اور پراپیگنڈہ کے قوم پر منفی اثرات۔ فرعون نے قوم کو ہر اعتبار سے مرعوب اور اپنے تابع رکھنے کے لیے مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جس کے نتیجہ میں قوم نے فرعون کی ہر بات کو تسلیم کیا جس کا سبب یہ تھا کہ یہ قوم بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمان تھی۔ فرعون اور اس کی قوم نے جب اللہ تعالیٰ کو ناراض کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا اور سب کو سمندر میں غرق کرڈالا اور انہیں ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت بنادیا۔ فرعون کی قوم کے لیے ” فَاسْتَخَفَّ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مفسرین نے دو معانی بیان کیے ہیں۔ 1 فرعون نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا۔ 2 اس نے اپنی قوم کو ڈرا دھمکا کر اور مختلف قسم کے لالچ دے کر ہلکا کردیا۔ ہر ڈکٹیٹر اور ظالم حکمران کا یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ کچھ لوگوں کو مختلف قسم کے لالچ دے کر خرید لیتا ہے جس سے ان لوگوں کے ضمیر ہلکے ہوجاتے ہیں اور ڈکٹیٹرر کو خوش کرنے کے لیے وہ حق والوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ جو لوگ بکنے والے نہیں ہوتے ان پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کی اکثریت دب کر رہ جاتی ہے۔ یہی کچھ فرعون نے اپنی قوم کے ساتھ کیا۔ جس کے نتیجے میں لوگ اس کے سامنے جھک گئے اور ان کے ضمیر ہلکے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کا عذر قبول نہ کیا اور ان کو نافرمان قرار دیتے ہوئے فرعون کے ساتھ ہی غرق کردیا۔ فرعون کی قوم کے ساتھ یہ سلوک اس لیے ہوا کہ لوگوں کا اجتماعی طور پر فرض ہوتا ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ روکیں اور سچے لوگوں کا ساتھ دیں۔ لیکن انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بجائے فرعون اور اس کی پارٹی کا ساتھ دیا۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کیا۔ اس طرح انہیں آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنایا۔ لوگوں کا اجتماعی فرض (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ) [ التوبۃ : ١١٩] ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھی بن جاؤ۔ “ (مَثَلُ الْقَاءِمِ عَلٰی حُدُوْدِ اللّٰہِ وَالْوَاقِعِ فِیْھَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَھَمُّوْا عَلٰی سَفِیْنَۃٍ فَأَصَابَ بَعْضُھُمْ أَعْلَاھَا وَبَعْضُھُمْ أَسْفَلَھَا فَکَانَ الَّذِیْنَ فِيْ أَسْفَلِھَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاءِ مَرُّوْا عَلٰی مَنْ فَوْقَھُمْ فَقَالُوْا لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِيْ نَصِیْبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا فَإِنْ یَتْرُکُوْھُمْ وَمَا أَرَادُوْاھَلَکُوْا جَمِیْعًآ وَإِنْ أَخَذُوْا عَلٰی أَیْدِیْھِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِیْعًا) [ رواہ البخاری : کتاب الشرکۃ، ھل یقرع فی القسمۃ والإستھام فیہ ] ” اللہ تعالیٰ کی حدود پر قائم رہنے والے اور اس میں ملوث ہونے والوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے ایک بحری جہاز کے بارے میں قرعہ اندازی کی۔ بعض کو اوپر والے حصے میں اور کچھ کو نیچے والے حصے میں جگہ ملی۔ نیچے والوں کو جب پانی کی ضرورت پڑتی تو اوپر والوں کے پاس جاتے۔ نیچے والوں نے کہا کہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیتے ہیں اور اوپر والوں کو تکلیف نہیں دیتے۔ اگر اوپر والے انہیں اسی حالت پر چھوڑ دیں تو سب لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور اگر ان کے ہاتھوں کو روک لیں گے تو سب بچ جائیں گے۔ “ مسائل ١۔ فرعون نے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی قوم کو ہلکا کردیا۔ ٢۔ فرعون کی قوم بھی درحقیقت فاسق لوگ تھے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے فاسق قوم سے بدلہ لیا اور انہیں فرعون کے ساتھ غرقاب کردیا۔ ٤۔ فرعون اور اس کی قوم کو ان سے بعد آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے کن لوگوں سے انتقام لیا : ١۔ ان کے پاس انہی سے رسول آئے لیکن انہوں نے تکذیب کی جس بنا پر انہیں عذاب نے آلیا۔ (النحل : ١١٣) ٢۔ ان کے لیے کہا جائے گا تکذیب کرنے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا رہو۔ (السجدۃ : ٢٠) ٣۔ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ (الشعراء : ١٣٩) ٤۔ قوم نوح نے جب حضرت نوح کی تکذیب کی تو ہم نے انہیں غرق کردیا۔ (الفرقان : ٣٧) ٥۔ ہم نے آل فرعون سے انتقام لیا اور انہیں دریا میں غرق کردیا۔ (الاعراف : ١٣٦) ٦۔ ہم مجرموں سے انتقام لیا کرتے ہیں۔ ( سجدہ ٢٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٥٤ جمہور عوام کو ڈکٹیٹروں کی طرف سے خفیف و حقیر سمجھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے وہ پہلے تو عوام سے ہر بات کو چھپا کر رکھتے ہیں۔ ان سے حقائق کو چھپاتے ہیں تا کہ وہ بھول جائیں۔ اور ان کے بارے میں وہ دوبارہ کھوج ہی نہ لگائیں۔ ان کے دل و دماغ کو اس قدر متاثر کرتے ہیں کہ ان کی شخصیت عوام کے ذہنوں پر چھا جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر ان کے لئے عوام کو ہلکا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد وہ مطیع ہوجاتے اور جدھر چاہتے ہیں ، ادھر جاتے ہیں۔ لیکن کوئی ڈکٹیٹر عوام کو اس قدر ہلکا نہیں بنا سکتا جب تک وہ خود فاسق و فاجر نہ ہوں اور بےراہ روی نہ کرتے ہوں۔ انہوں نے اللہ کی رسی نہ پکڑی ہو۔ معاملات کو ایمان کے ترازو سے نہ تولتے ہوں ، رہے مومن تو نہ ان کو کوئی ہلکا سمجھ سکتا ہے ، نہ ان کو دھوکہ دے سکتا ہے ، اور نہ ان کو کھلونا بنایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید یہ بتاتا ہے کہ عوام الناس نے فسق وفجور کی وجہ سے فرعون کا ساتھ دیا۔ فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوما فسقین (٤٣ : ٥٤) “ اس نے اپنی قوم کو ہلکا بنا دیا ، پس انہوں نے اس کی اطاعت کرلی اور یہ لوگ ایک فاسق قوم کے فرد تھے ”۔ اب ان کی آزمائش ، ان کو ڈرانے اور سمجھانے کا مرحلہ ختم ہوتا ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ فتنہ عام ہوگیا ہے ، جمہور عوام فرعون کے پیچھے لگ گئے ہیں اور فرعون بہت ہی سر کش ، متکبر ، مغرور ہے اور عوام کے بین معجزات کے مقابلے میں بالکل اندھے ہوگئے ہیں ، ان کو یہ روشنی نظر ہی نہیں آتی۔ اب اللہ کے عذاب کا فیصلہ ان پر آجاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ ﴾ ابن الاعرابی کہتے ہیں اس کا معنی ہے اس کی قوم کم عقلی و بےوقوفی کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ناسمجھ سمجھتی رہی، بعض نے کہا معنی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے فرعونیوں کے ظلم کو ہلکا سمجھا اور اس کی اطاعت میں لگے رہے کہا جاتا ہے مخالفت نے اسے ہلکا کردیا، اور اس نے اس کی اہانت کی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

34:۔ ” فاستخف قومہ “ فرعون نے اپنی قوم کو جاہل اور خفیف العقل پایا اور انہیں گمراہی پر اکسایا، تو ساری قوم اس کے پیچھے چل پڑی وہ سب تھے ہی فاسق اور بدکردار اس لیے فورًا ہی انہوں نے اس کا طاعت قبول کرلی اور اس کے اشاروں پر ناچنے لگے۔ استکف عقولہم فدعا ہم الی الضلالۃ فاستجابوا لہ (ابن کثیر ج 4 ص 130) ۔ ” فلما اسفونا انتقمنا “ جب فرعون اور اس کی قوم نے عناد و مکابرہ اور غرور و استکبار سے دعوت توحید کو ٹھکرا کر، ہمارے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ایمان والوں کو ہولناک اذیتیں پہنچا کر اور حق والوں کا تمسخر اڑا کر ہمارے غیظ و غضب کو دعوت دی تو ہم نے ان سب کو دریا میں غرق کر کے ان سے انتقام لیا۔ ” فجعلنہم سلفا۔ الایۃ “ اور ان کو بعد میں آنیوالے کفار و مشرکین کے لیے قصہ پارینہ اور عبرت و موعظمت کا ایک نمونہ اور ضرب المثل بنا دیا۔ تاکہ بعد میں آنیوالے ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ یعنی جعلنا المتقدمین الماضین عبرۃ وموعظۃ لمن یجئ من بعدہم (خازن ج 6 ص 138) ۔ حدیثا عجیب الشان سائرا مسیر المثل یضرب بہم الامثال ویقال مثلکم مثل قوم فرعون (مدارک ج 4 ص 92) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(54) غرض ان باتوں سے فرعون نے اپنی قوم کو مغلوب اور متاثر کرلیا اور ان کی عقل کھودی پھر انہوں نے اسی کا کہا مانا اور اس کی اطاعت کی بیشک وہ پہلے ہی سے شرارت پسند لوگ تھے۔ یعنی فرعون نے اپنی باتوں سے قوم کو متاثر کرلیا اورر وہ اس کے ہاں میں ہاں ملانے لگے کیونکہ وہ حد سے نکل جانے والے اور شرارت پسند تو پہلے ہی سے تھے۔