Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 73

سورة الزخرف

لَکُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیۡرَۃٌ مِّنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۷۳﴾

For you therein is much fruit from which you will eat.

یہاں تمہارے لئے بکثرت میوے ہیں جنہیں تم کھاتے رہو گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَكُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ ... Therein for you will be fruits in plenty, means, of all kinds. ... مِنْهَا تَأْكُلُونَ of which you will eat. means, whatever you choose and desire. When food and drink are mentioned, fruit is also mentioned to complete the picture of blessing and joy. And Allah knows best.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون، انسان کی مطلوبہ چیزوں یعنی کھانے پینے، نکاح اور آرام و آسئاش لذت میں انھیں بہت برتری حاصل ہے۔ ” فاکھۃ “ کے لفظ ہی میں لذت کا مفہوم شامل ہے۔ دنیا میں فواکہ جتنے بھی ہوں کم ہیں جبکہ آخرت میں مسلمانوں کے لئے فوا کہ کثیر تعداد میں ہوں گے، جو اتنے وافر ہوں گے کہ وہ ان میں سے کچھ ہی کھا سکیں گے، یعنی ” منھا تاکلون “ ن اور وہ کبھی ختم نہیں ہوں گے، فرمایا :(لامقطوعۃ ولاممنوعۃ) (الواقعہ : ٣ و)” جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہوگی۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَكُمْ فِيْہَا فَاكِہَۃٌ كَثِيْرَۃٌ مِّنْہَا تَاْكُلُوْنَ۝ ٧٣ فكه الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ [ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ : حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل : تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ رَبُّهُمْ [ الطور/ 18] . ( ف ک ہ ) الفاکھۃ ۔ بعض نے کہا ہے کہ فاکھۃ کا لفظ ہر قسم کے میوہ جات پر بولا جاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ انگور اور انار کے علاوہ باقی میوہ جات کو فاکھۃ کہاجاتا ہے ۔ اور انہوں نے ان دونوں کو اس لئے مستثنی ٰ کیا ہے کہ ( قرآن پاک میں ) ان دونوں کی فاکہیہ پر عطف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فاکہہ کے غیر ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ [ الواقعة/ 20] اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں ۔ وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/اور میوہ ہائے کثیر ( کے باغوں ) میں ۔ وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] اور میوے اور چارہ ۔ فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ( یعنی میوے اور ان اعزاز کیا جائیگا ۔ وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] اور میووں میں جوان کو مرغوب ہوں ۔ الفکاھۃ خوش طبعی کی باتیں خوش گئی ۔ اور آیت کریمہ : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1»اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ گے ۔ میں بعض نے تفکھونکے معنی خوش طبعی کی باتیں بنانا لکھے ہیں اور بعض نے فروٹ تناول کرنا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ رَبُّهُمْ [ الطور/ 18] جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس کی وجہ سے خوش حال ۔۔۔ میں فاکھین کی تفسیر میں بھی دونوں قول منقول ہیں ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٣ { لَـکُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْہَا تَاْکُلُوْنَ } ” اس میں تمہارے لیے بکثرت پھل موجود ہیں جن میں سے تم کھاتے ہو۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:73) فیہا ای فی الجنۃ : منھا میں من تبعیضیہ ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع الجنۃ ہے۔ یعنی جن میں سے تمہارا جی چاہے گا کھاؤ گے۔ فائدہ : آیات 67 تا 73 میں التفات ضمائر ہے بعض جگہ صیغہ جمع مذکر غائب لایا گیا ہے اور بعض جگہ جمع مذکر حاضر کا صیغہ استعمال ہوا ہے اس کی وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے۔ قیامت کے روز دنیاوی دوست جن کی دوستی دنیاوی نفع و نقصان کی خاطر تھی ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے ۔ اور ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے۔ کہ یہ ہمارے انجام بد کے ذمہ دار میں لیکن جن کی روشنی محض تقویٰ اور اللہ کے ڈر کی بنا پر تھی ان کی حالت ایسی نہ ہوگی۔ ان متقیوں سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! (آج) تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمزدہ ہوگے (صیغہ جمع مذکر حاضر لایا گیا ہے) متقی لوگوں کی تعریف یہ ہوگی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پکے فرمانبردار تھے (صیغہ جمع مذکر غائب استعمال ہوا) ان سے یعنی متقین سے کہا جائے گا تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی جنت میں داخل ہوجاؤ (صیغہ جمع مذکر حاضر لایا گیا) (وہاں جنت میں) سونے کی رکابیاں اور کوزے ان پر دور میں لائے جائیں گے (علیہم صیغہ جمع مذکر غائب آگیا) اور ان سے یعنی متقیوں سے جن کو بمعہ بیویوں کے جنت میں داخل ہونے کا فرمان ہوا تھا۔ اب ان کو تسلی دی جائے گی۔ کہ یہ نعمتوں کا ملنا وقتی نہیں ہے دائمی ہے لہٰذا ان سے کہا جائے گا کہ تم اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہو گے (صیغہ جمع مذکر حاضر آگیا) اسی خطاب کو جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ جنت تمہیں تمہارے دنیا کے اعمال صالح کے سبب تم کو وراثت میں دی گئی ہے اس میں کثیر التعداد و کثیر الانواع میوے ہیں ان میں سے جو تمہارا جی چاہے کھاؤ پئو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا ﴿ لَكُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌ ﴾ (تمہارے لیے جنت میں بہت سارے میوے ہیں) ﴿ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ ٠٠٧٣﴾ (جن میں سے تم کھا رہے ہو)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(73) اس جنت میں تمہارے لئے بکثرت میوے ہیں جن میں سے تم کھاتے رہو گے۔ آگے اہل جہنم کا ذکر فرمایا حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی چن چن کر۔ خلاصہ : یہ ہے کہ جو میوے پسندیدہ ہوں وہ کھاتے رہو گے ۔