62 That is, "We made the reality plain to you, but you were fond of the imaginary, and you had an aversion to the truth. Now, why do you lament at the fate of your foolish choice?" It may be a part of the Hell-keeper's answer, and it may also be that his answer ended with: "Here you must remain ! " and this second sentence an addition by Allah. In the first case, the keeper's saying: "We had brought the Truth to you," is just like an official's using the word "we" nn behalf of his government, when he wants to say, "Our government did this or gave such and such an order. "
سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :62
یعنی ہم نے حقیقت تمہارے سامنے کھول کر رکھ دی ، مگر تم حقیقت کے بجائے افسانوں کے دلدادہ تھے اور سچائی تمہیں سخت ناگوار تھی ۔ اب اپنے اس احمقانہ انتخاب کا انجام دیکھ کر بلبلاتے کیوں ہو ؟ ہو سکتا ہے کہ یہ داروغہ جہنم ہی کے جواب کا ایک حصہ ہو ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا جواب تم یوں ہی پڑے رہو گے پر ختم ہو گیا ہو اور یہ دوسرا فقرہ اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہو ۔ پہلی صورت میں داروغہ جہنم کا یہ قول کہ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے ایسا ہی ہے جیسے حکومت نے یہ کام کیا یا یہ حکم دیا ۔