Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 22

سورة الدخان

فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴿ؓ۲۲﴾ الثلٰثۃ

And [finally] he called to his Lord that these were a criminal people.

پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ سب گنہگار لوگ ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals." Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said: فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًأ إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

22۔ 1 یعنی جب انہوں دیکھا کہ دعوت کا اثر قبول کرنے کی بجائے، اس کا کفر وعناد بڑھ گیا تو اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ پھیلا دیئے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] سیدناموسیٰ کی اپنے اللہ سے فریاد :۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ فریاد ویسی ہی فریاد ہے جو انبیائے کرام اپنی قوم کو سمجھانے اور ان کی طرف سے پوری طرح مایوس ہوجانے کے بعد کیا کرتے ہیں۔ گویا اس فریاد کا زمانہ ٹھیک وہی زمانہ ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل اور ایمانداروں کے ہمراہ ہجرت کرنے کا حکم ملا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فدعا ربہ ان ھولآ قوم مجرمون، یہاں ایک لمبا قصہ حذف کردیا گیا ہے جو کئی سال تک موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت، ہر طرح کی آزمائشوں کے باوجود فرعون کی سرکشی، بنی اسرائیل پر بےپناہ مظالم اور ان کے بےمثال صبر پر مشتمل ہے۔ ” فدعا ربہ “ کے ساتھ اس قصے کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ جب انہوں نے تمام معجزے دیکھنے، ہر بار ایمان لانے کا عہد کرنے اور اسے توڑ دینے کے بعد صاف لفظوں میں کہہ دیا :(مھما تاتنا بہ من ایۃ لتسحرنا بھا، فما نحن لک بمومنین) (الاعراف :132)” تو ہمارے پاس جو نشانی بھی لے آئے، تاکہ ہم پر اس کے ساتھ جادو کرے تو ہم تیری بات ہرگز ماننے والے نہیں۔ “ تو ان کے ایمان لانے سے پوری طرح مایوس ہونے کے بعد نوح (علیہ السلام) کی طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ان کے خلاف اپنے رب سے دعا کی کہ یہ لوگ مجرم ہیں، کسی طرح ماننے والے نہیں۔ سورة یونس میں ہے :(وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ و اموالا فی الحیوۃ الدنیا ، ربنا لیصلوا عن سبیلک ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم) (یونس : ٨٨) ” اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب ! بیشک تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں بہت سی زینت اور اموال عطا کئے ہیں، اے ہمارے رب ! تاکہ وہ تیرے راستے سے گمراہ کریں، اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ۝ ٢٢ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر ہے ـ( جو کہ ہر چیز کے روی حصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ) اجرم ( افعال ) جرم دلا ہونا جیسے اثمر واتمر والبن اور استعارہ کے طور پر اس کا استعمال اکتساب مکروہ پر ہوتا ہے ۔ اور پسندیدہ کسب پر بہت کم بولا جاتا ہے ۔ اس کا مصدر جرم ہے چناچہ اجرام کے متعلق فرمایا : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] جو گنہگار ( یعنی کفاب میں وہ دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٢۔ ٢٣) مگر جب انہوں نے اپنی ہلاکت خود ہی مول لے لی تب موسیٰ نے دعا کی کہ پروردگار یہ تو مشرکین ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ تم بنی اسرائیل کو رات ہی رات میں لے کر چلے جاؤ کیونکہ تم لوگوں کا دریا پر تعاقب ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢ { فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنَّ ہٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ } ” پھر اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم قوم ہے۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیاـ:

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20 This is the final report that the Prophet Moses presented before his Lord, saying: "These are criminals." That is, their being the criminals has been confirmed finally and absolutely. They have exhausted every chance of concession and respite for reformation. It is time that the final fatal decision be passed against them.

سورة الدُّخَان حاشیہ نمبر :20 یہ حضرت موسیٰ کی آخری رپورٹ ہے جو انہوں نے اپنے رب کے سامنے پیش کی ۔ یہ لوگ مجرم ہیں یعنی ان کا مجرم ہونا اب قطعی طور پر ثابت ہو چکا ہے ۔ کوئی گنجائش ان کے ساتھ رعایت برتنے اور ان کو اصلاح حال کا مزید موقع دینے کی باقی نہیں رہی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ حضور آخری فیصلہ فرمائیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:22) ان حرف مشبہ بالفعل ۔ خبر کی تاکید اور تحقیق مزید کے لئے آتا ہے اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ ھولائ۔ اسم ان۔ قوم مجرمون موصوف و صفت مل کر خبر۔ تحقیق یہ مجرم لوگ ہیں۔ مجرمون : اسم فاعل جمع مذکر۔ مجرم واحد۔ اجرام (افعال) مصدر سے۔ گنہگار۔ مجرم۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

16: فدعا ربہ۔ جب فرعون اور اس کی قوم تکذیب پر مصر ہوگئی اور عناد و سرکشی سے باز نہ آئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے ان کی شکایت کی یہ لوگ سخت مجرم ہیں اور اپنے جرم شرک سے باز آنے والے نہیں ہیں اس لیے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ مجرمون مشرکون (جلالین) ان ھؤلاء قوم مجرمون تناھی امرھم فی الکفر وانت اعلم بہم فافعل بھم مایستحقونہ (روح ج 25 ص 122) ۔ ” فاسر بعبادی الخ “ اس سے پہلے حذف ہے یہ قاعدہ ہے جب گذشتہ زمانے کے امر کی حکایت کی جائے تو اس سے پہلے قلنا یا کوئی اور مناسب فعل محذوف ہوتا ہے۔ ای فاجبنا دعاءہ واوحینا الیہ ان اسر بعبادی (قرطبی ج 16 ص 136) ۔ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے حکم دیا کہ میرے بندوں، مومنین بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات نکل جاؤ، تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔ فرعون لاؤ لشکر سمیت تمہارے پیچھے تمہیں پکڑنے کے لیے نکلے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(22) آخر کار موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ بڑے ہی گنہگار ہیں۔ یعنی اب ان کا فیصلہ فرمادیجئے۔