Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 33

سورة الدخان

وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنَ الۡاٰیٰتِ مَا فِیۡہِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِیۡنٌ ﴿۳۳﴾

And We gave them of signs that in which there was a clear trial.

اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَاتَيْنَاهُم مِّنَ الاْايَاتِ ... And granted them signs, means clear proofs and extraordinary evidence. ... مَا فِيهِ بَلَاء مُّبِينٌ in which there was a plain trial. means, an obvious test to show who would be guided by it.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٥] بلاء کا لغوی مفہوم & قوم موسیٰ پر اللہ تعالیٰ کے احسانات :۔ بلاء کا بنیادی معنی ایسی آزمائش ہے جو ایسے حادثات اور واقعات سے تعلق رکھتی ہو جسے دوسرے لوگ بھی دیکھ سکتے ہوں۔ اور یہ آزمائش خیر اور شر دونوں صورتوں میں ہوسکتی ہے۔ یعنی احسانات سے نواز کر بھی اور تنگی یا تکلیف پہنچا کر بھی اس مقام پر یہ آزمائش خیر کی صورت میں ہوئی۔ اسی لیے بعض مترجمین نے اس لفظ کا ترجمہ احسان سے کیا ہے بعض نے مدد سے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل پر ایسے احسانات کیے جن میں ان کی مدد بھی تھی اور آزمائش بھی اور اس سے مراد اللہ کے وہ احسانات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میدان تیہ میں بنی اسرائیل پر کئے تھے جن کے بغیر ان کا زندہ رہنا بھی محال تھا اور یہ سب احسانات معجزات کی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسے من وسلویٰ کا نزول۔ بارہ چشموں کا پھوٹنا اور بادل کا ان پر سایہ کئے رہنا وغیرہ وغیرہ۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

واتینھم من الایت …:” بلوٓئ “ کا معنی آزمائش ہے، یہ لفظ مصیبت اور انعام دونوں معنوں میں آتا ہے کیونکہ آزمائش دونوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہاں مراد ان پر کئے جانے والے احسانات ہیں، جن میں آزادی صحرا میں کھانے پینے اور دھوپ سے بچنے کی تمام ضرورتوں کا انتظام اور پھر ارض مقدس کی تولیت کا شرف سب چیزیں شامل ہیں۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (٤٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَآتَيْنَاهُم مِّنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُّبِينٌ And We gave them the clear signs in which there was a manifest blessing. (44:33) |" The word &signs& refers to the miracles of the staff, the shining hand and others. The word 1 bala& has two senses: (1) blessing; and (2) trial. Here both senses are possible. (Qurtubi).

(آیت) وَاٰتَيْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰيٰتِ مَا فِيْهِ بَلٰۗــــــؤٌا مُّبِيْنٌ (اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں، جن میں صریح انعام تھا) نشانیوں سے مراد عصا اور ید بیضاء وغیرہ کے معجزات ہیں۔ اور بلو کے دو معنی آتے ہیں، ایک انعام اور دوسرے آزمائش، یہاں دونوں معنی بلاتکلف ممکن ہیں۔ (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاٰتَيْنٰہُمْ مِّنَ الْاٰيٰتِ مَا فِيْہِ بَلٰۗــؤٌا مُّبِيْنٌ۝ ٣٣ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ( ب ل ی ) بلی الثوب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے بلاہ السفرہ ای ابلاہ ۔ کا تج اور ہ ہے ۔ یعنی سفر نے لا غر کردیا ہے اور بلو تہ کے معنی ہیں میں نے اسے آزمایا ۔ گویا کثرت آزمائش سے میں نے اسے کہنہ کردیا اور آیت کریمہ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص ( اپنے اعمال کی ) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت نبلوا ( بصیغہ جمع متکلم ) بھی ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہاں ہم ہر نفس کے اعمال کی حقیقت کو پہنچان لیں گے اور اسی سے ابلیت فلان کے معنی کسی کا امتحان کرنا بھی آتے ہیں ۔ اور غم کو بلاء کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جسم کو کھلا کر لاغر کردیتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی دسخت آزمائش تھی ۔ مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے ان کو ایسی بڑی بڑی نشانیاں دیں جن میں عظیم الشان انعام تھا یا یہ کہ صریح انتخاب تھا وہ یہ کہ فرعون سے اور غرق سے نجات دی اور وادی تیہ میں ان پر من وسلوی اتارا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣ { وَاٰتَیْنٰہُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْہِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ } ” اور ہم نے انہیں بہت سی ایسی نشانیاں دیں جن میں بہت واضح آزمائش تھی۔ “ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کو بار بار ایسی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا جو ان کے لیے ” بَلَآئً حَسَنًا “ ( الانفال : ١٧) کا درجہ رکھتی تھیں۔ یعنی ایسی آزمائشیں جو انسان کی بھلائیوں کو بڑھانے اور اچھائیوں کو نکھارنے کا باعث بنتی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

29 For explanation, sec Al-Baqarah :49-74, An-Nisa: 153-160, AlMa'idah: 20-26, Al-A'raf: 138-171, Ta-Ha: 80-97 and the corresponding E.N.'s

سورة الدُّخَان حاشیہ نمبر :29 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول ، البقرہ ، حواشی ٦٤ تا ۸۵ ، النساء ، حواشی ۱۸۲ تا ۱۹۹ ، المائدہ ، حواشی ٤۲ تا ٤۷ ، جلد دوم الاعراف ، حواشی ۹۷ تا ۱۳۲ ، جلد سوم ، طہ ، حواشی ۵٦ تا ۷٤ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: اس سے مراد وہ انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل پر فرمائے، مثلاً من و سلوی نازل کرنا، پتھر سے چشمے نکال دینا وغیرہ، جن کا ذکر سورۃ بقرہ : 47 تا 58 میں فرمایا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:33) اتینھم : اتینا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم نے ان کو دیا۔ ہم نے ان کو بخشا۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ الایت۔ نشانیاں ۔ ایۃ کی جمع۔ یہ لفظ مادہ ای ی سے تای (تفعل) مصدر سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز پر ٹھہرنے اور تثبت حاصل کرنے کے ہیں۔ اور ایۃ کا لفظ بلند عمارت پر بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے فرمایا۔ اتبنون بکل ریع ایۃ تعبثون (26:128) کہ تم پر فضا مقام پر بےکار نشان تعمیر کرتے ہو۔ اور قرآن کے ہر اس حصہ کو جو کسی حکم پر دال ہو ایۃ کہا جاتا ہے۔ عام اس سے کہ وہ سورة ہو یا اس کی ایک فصل یا کئی فصلیں۔ اور ہر اس کلام کو جو لفظی اعتبار سے دوسرے سے الگ ہو ایۃ ۔ کہہ دیا جاتا ہے اسی کے اعتبار سے سورتوں کی آیات کو آیات کہا جاتا ہے جن کے ذریعہ سورة شمار کی جاتی ہے۔ آیات سے فکری دلائل بھی مراد لئے جاتے ہیں کہ لوگ اپنے مراتب علمیہ کے اعتبار سے ان کی معرفت میں مختلف درجات رکھتے ہیں۔ اسی معنی میں فرمایا :۔ بل ھو ایت بینت فی صدور الذین اوتوا العلم وما یجحد بایتنا الا الظلمون (29:49) بلکہ یہ اہل علم کے نزدیک واضح دلائل ہیں اور ہمارے ان دلائل سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں۔ (ایۃ کی مزید وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو المفردات للراغب اصفہانی (رح)) آیت ہذا میں آیات سے مراد وہ معجزات اور نشانیاں ہیں جو وقتا فوقتا بنی اسرائیل کو عطا ہوئیں۔ مثلا دریا کے پانی کو ان کے گذرنے کے لئے پھاڑ دینا اور الگ الگ بارہ راستے بنادینا۔ میدان تیہ میں ان پر ابر کا سایہ کردینا۔ من وسلوی کا نازل فرمانا ۔ وغیرہ وغیرہ۔ مافیہ : ما موصولہ ہے ہ ضمیر واحد مذکر ما موصولہ کی طرف راجع ہے ۔ جس میں ۔ جن میں۔ بلؤ مبین۔ موصوف و صفت۔ صریح آزمائش۔ اختیار ظاھر کھلی آزمائش (بیضاوی) تفسیر الماجدی میں ہے۔ بلاء کے عام متداول معنی یہی لئے جاسکتے ہیں کہ ان نشانات کے ذریعہ سے خوب آزمائش اور تجربہ ہوگیا۔ ایشکرون ام یکفرون۔ کہ وہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔ بلؤ: آزمائش نعمتوں کے ذریعے سے بھی کی جاسکتی ہے اور تکالیف کے ذریعے بھی نعمتوں کے ذریعہ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے اور تکالیف کے ذریعہ بھی۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے واذا نجینکم من ال فرعون یسومونکم سوء العذاب یذبحون ابناء کم ویستحیون نساء کم وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (2:49) (اور ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قوم فرعون سے نجات دی۔ (وہ لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی سخت آزمائش تھی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یا ” کھلی ہوئی آزمائش تھی

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی وہ امور جامع تھے درمیان دونوں وصف کے، نعمت ہونا اور دلیل قدرت ہونا، پھر بعض ان میں حسی نعمت تھی اور بعض ان میں معنوی نعمتیں تھیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(33) اور ہم نے ان بنی اسرائیل کو ایسی نشانیاں عطا فرمائیں جن میں کھلا ہوا انعام یا کھلا ہوا امتحان تھا یعنی بنی اسرائیل کو بڑی بڑی نشانیاں دیں۔ مثلاً فرعون کے مظالم سے نجات اور اسی قسم کی نشانیاں جو حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی رہیں جو معجزات بھی تھے اور دلائل توحید بھی۔ یہ نشانیاں انعامات اور اللہ تعالیٰ کی مدد تھیں اور ہوسکتا ہے بنی اسرائیل کا امتحان بھی مقصود ہو کہ ان انعامات پر شکر بجا لاتے ہیں یا کفران نعمت کرتے ہیں۔ اس لئے بلوء کے دونوں معنی کئے گئے ہیں انعامات اور امتحانات ہم نے سورة بقرہ میں مفصل بحث کی ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے۔ خلاصہ : یہ کہ یہ نشانیاں حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے ظاہر ہوتی تھیں۔