Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 38

سورة الدخان

وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۳۸﴾

And We did not create the heavens and earth and that between them in play.

ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

This World was created for a Wisdom Allah says: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لاَعِبِينَ مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَا يَعْلَمُونَ

صور پھونکنے کے بعد یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بےفائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور ارشاد ہے آیت ( افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون ) الخ ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں ؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی ۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہوگا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے آیت ( فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ ١٠١؁ ) 23- المؤمنون:101 ) یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ ۔ اور آیت میں ہے کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 یہی مضمون اس سے قبل (وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاۗءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۭ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ فَوَيْلٌ لِّــلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِ 27؀ۭ ) 38 ۔ ص :27) (اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ 115؁ فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ 116؁) 23 ۔ المؤمنون :116-115) (وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ ۭ وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيْلَ 85؀) 15 ۔ الحجر :85) و غیرہا میں بیان کیا گیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وما خلقنا السموت والارض …: یہ منکرین قیامت کے اعتراض کا عقلی جواب ہے کہ اگر سب لوگوں کو زندہ کر کے ان سے باز پرس کا اور نیک و بد کی جزا و سزا کا کوئی دن نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنی عظیم کائنات محض کھیلنے کیلئے بنائی ہے، اس کا کوئی مقصد نہیں، اس کے ہاں نیک و بد اور ظالم و مظلوم برابر ہیں، نہ اس کے ہاں عدل ہے نہ حکمت۔ فرمایا ایسا نہیں ہے، ہم نے آسمان و زمین کو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور قیامت قائم کرنا ہماری حکمت اور عدل کا تقاضا ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے، اس لئے آخرت کی تیاری سے غافل ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے، دیکھیے سورة انبیاء (16 تا 18) مومنوں (١١٥، ١١٦) اور سورة قیامہ (٣٦ تا ٤٠)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَہُمَا لٰعِبِيْنَ۝ ٣٨ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لعب أصل الکلمة اللُّعَابُ ، وهو البزاق السائل، وقد لَعَبَ يَلْعَبُ لَعْباً «1» : سال لُعَابُهُ ، ولَعِبَ فلان : إذا کان فعله غير قاصد به مقصدا صحیحا، يَلْعَبُ لَعِباً. قال : وَما هذِهِ الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ [ العنکبوت/ 64] ، ( ل ع ب ) اللعب ۔ اس مادہ کی اصل لعاب ہے جس کے معنی منہ سے بہنے والی رال کے ہیں اور ننعب ( ف) یلعب لعبا کے معنی لعاب بہنے کے ہیں لیکن لعب ( س ) فلان یلعب لعبا کے معنی بغیر صحیح مقصد کے کوئی کام کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَما هذِهِ الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ [ العنکبوت/ 64]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٨۔ ٤٠) تو پھر آپ کی قوم ان کی ہلاکت اور ان کے عذاب سے بھی نہیں ڈرتی اور ہم نے تمام مخلوقات کو بےکار نہیں بنایا ہم نے حق قبول کرنے کے لیے بنایا ہے باطل قبول کرنے کے لیے نہیں، مگر مکہ والے نہ اس چیز کو جانتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں بیشک مخلوق کے درمیان فیصلہ کے دن ان سب کا وقت مقرر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨ { وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ } ” اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے محض کھیل کے طور پر تو تخلیق نہیں فرمایا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:38) وما خلقنا میں ما نافیہ ہے اور وما بینھما میں ما موصولہ ہے۔ لعبین۔ اسم فاعل جمع مذکر لعب ولعب (باب سمع) مصدر۔ کھیلنے والے۔ بےفائدہ کام کرنے والے۔ ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اسے فضول کھیل کے طور پر نہیں بنایا۔ محض بیکار و عبت پیدا نہیں کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 بلکہ اپنی حکمت کاملہ اور صحیح مقصد کے تحت پیدا کئے ہیں۔ دیکھیے سورة انبیاء آیت 16

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جرائم میں وہی شخص آگے بڑھتا ہے جو زبانی یا عملی طور پر آخرت کا انکار کرتا ہے۔ جو آخرت کا انکار کرتا ہے وہ قولاً یا فعلاً سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو محض شغل کے طور پر پیدا کیا ہے۔ آخرت کا انکار کرنے اور کائنات کو شغل قرار دینے والوں کو سمجھانے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے انہیں شغل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان جو کچھ پیدا کیا گیا ہے یا آئندہ پیدا کیا جائے گا اس کا ایک مقصد ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس مقصد کی طرف متوجہ نہیں ہوتی۔ سورة الانبیاء آیت ١٦ میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے زمین و آسمانوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے شغل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اگر ہم انہیں شغل کے طور پر پیدا کرتے تو پھر یہ شغل اور کھیل تماشہ ہمیں اپنے پاس ہی کرنا چاہیے تھا۔ ہم حق کو باطل پر غلبہ دیتے ہیں۔ باطل مٹ جاتا ہے اور جو لوگ زمین و آسمانوں کی تخلیق کو شغل اور کھیل تماشا سمجھتے ہیں ان کے لیے ہلاکت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں میں جو کچھ پیدا کیا ہے اس کے پیدا کرنے کے دو مقصد ہیں۔ ایک طرف وہ اپنے خالق اور مالک کی عبادت اور تابعداری کریں اور دوسری طرف وہ انسان کی خدمت میں لگے رہیں۔ یہی انسان کی تخلیق کا مقصد ہے کہ ایک طرف اپنے رب کی عبادت کرئے اور دوسری طرف اپنے بھائیوں کی خدمت بجا لائے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت اپنے مقصد حیات کو جاننے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے لوگ عملاً یا قولاً آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے جس دن لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور ان کے درمیان فیصلے کیے جائیں گے۔ اس دن کا ایک وقت مقرر ہے جو کسی کے انکار یا اقرار سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ اس دن کوئی جگری دوست بھی اپنے دوست کی مدد نہیں کرسکے گا سوائے اس کے جس پر اس کا رب مہربانی فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی سے نیک لوگ موحد گناہگاروں کے لیے سفارش کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ العزیز اور الحکیم ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے انسان کو پیدا کیا ہے لوگوں کی اکثریت اس مقصد کو جاننے کے لیے تیار نہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے ایک دن مقرر کر رکھا ہے۔ ٤۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی خیر خواہی اور مدد نہیں کرسکے گا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور بڑا مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن قیامت ہر صورت برپا ہوگی : ١۔ قیامت قریب ہے۔ (الحج : ١) ٢۔ قیامت کے دن کوئی کسی کو فائدہ نہیں دے سکے گا۔ (الانفطار : ١٩) ٣۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ آج کس کی بادشاہی ہے ؟۔ (المومن : ١٦) ٤۔ قیامت کے دن صرف ایک اللہ کی بادشاہی ہوگی۔ (الفرقان : ٢٦) ٥۔ قیامت کے دن اللہ ہی فیصلے صادر فرمائے گا۔ (الحج : ٥٦) ٦۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی اجازت کوئی سفارش نہیں کرسکے گا۔ ( البقرۃ : ٢٥٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا ﴿ وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا لٰعِبِيْنَ ٠٠٣٨﴾ اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس طور پر پیدا نہیں کیا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

23:۔ ” وما خلقنا السموات “ یہ توحید پر دلیل عقلی ہے۔ ہم نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو محض کھیل کے طور پر بےمقصد نہیں پیدا کیا، بلکہ اس ساری کائنات کو ایک نہایت اہم مقصد کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ مقصد اظہار حق ہے تاکہ اس کائنات کے ذرے ذرے سے اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کاملہ پر استدلال کی اجائے لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں اور اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ بالحق ای لاظہار الحق۔ تائید : (1) ھل من خالق غیر اللہ (فاطر رکوع 1) ۔ 2 ۔ ” لو اردنا ان نتخذ لھوا لا تخذناہ من لدنا ان کنا فاعلین۔ بل نقذف بالحق علی الباطل، فیدمغہ فاذا ھو زاھق “ (انبیاء رکوع 2) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(38) اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس کو اس طور پر نہیں بنایا کہ ہم کوئی فعل عبث کرنے والے اور کھیلنے والے تھے۔ یعنی ان چیزوں کو ہم نے عبث اور بیکار نہیں پیدا کیا اور ہم کو کوئی کھیل اور تماشا کرنا مقصود نہ تھا۔