Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 5

سورة الدخان

اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ؕ اِنَّا کُنَّا مُرۡسِلِیۡنَ ۚ﴿۵﴾

[Every] matter [proceeding] from Us. Indeed, We were to send [a messenger]

ہمارے پاس سے حکم ہو کر ، ہم ہی ہیں رسول بنا کر بھیجنے والے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا ... As a command from Us. meaning, everything that happens and is decreed by Allah and the revelation that He sends down -- it all happens by His command, by His leave and with His knowledge. ... إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ Verily, We are ever sending, means, to mankind, sending Messenger who will recite to them the clear signs of Allah. The need for this was urgent. رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 یعنی سارے فیصلے ہمارے حکم و اذن اور ہماری تقدیر و مشیت سے ہوتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) امراً من عندناً : یعنی یہ سارے فیصلے ہمارے حکم سے ہوتے ہیں۔ مراد ان فیصلوں کی اہمیت اور عظمت پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ فیصلے کسی معمولی ہستی کے نہیں ہوتے، بلکہ کائنات کے مالک کی طرف سے صادر ہوتے ہیں۔ (٢) انا کنا مرسلین : یعنی ہم یہ کتاب نازل کرتے وقت رسول کو بھیجنے والے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا۝ ٠ ۭ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ۝ ٥ ۚ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥۔ ٦) آپ کا پروردگار اپنی رحمت سے اپنے بندوں پر سولوں کو کتابوں کے ساتھ بھیج کر فرماتا ہے کہ آپ کو رسول بنانے والے تھے بیشک وہ قریش کی اس آہ وزاری کو سننے والا ہے کہ ہمارے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کردے اور ان سے اور ان کی سزا سے بھی واقف ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ { اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَاط اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ } ” طے شدہ احکام ہماری طرف سے۔ یقینا ہم ہی ہیں (رسولوں کو) بھیجنے والے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3 In Surah AI-Qadr, this same thing has been expressed thus: `The angels and the Spirit (Angel Gabriel) descend in it with every decree, by the leave of their Lord." This shows that it is such a Night in the Divine administration of Allah in which He decides the destinies of the individuals and nations and countries and entrusts His decisions to His angels, who then implement them accordingly. Some commentators among whom Hadrat `Ikrimah is most prominent, have been involved in the misunderstanding that this is the 15th night of Sha'ban, for in some traditions it has been said that the destinies of people are decided during that night. But Ibn 'Abbas, Ibn `Umar, Mujahid, Qatadah, Hasan Basri, Sa' id bin Jubair, Ibn Zaid, Abu Malik, Dahhak and many other commentators are agreed that this is the same night of Ramadan, which has been called lailat-ul-qadr, for the Qur'an itself has stated this, and where any Qur'anic statement exists, no other view can be formed on the basis of random reports. Ibn Kathir says, "The traditions that Imam Zuhri has related from 'Uthman bin Muhammad that destinies are decided from one Sha`ban to the next Sha`ban is an indirect tradition and such traditions cannot be cited as against the clear texts of the Qur'an. " Qadi Abu Bakr Ibn al-`Arabi says: "No Hadith in respect of the 15th of Sha'ban is reliable, either in respect of its merit, or about this that decisions with regard to the destinies are taken in it; therefore, they do not merit attention, (Ahkam ul-Qur'an).

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:5) امرا من عندنا۔ ہر حکم ہماری جانب سے جاری ہوتا ہے (ترجمہ ضیاء القرآن) یعنی یہ فیصلے میری بارگاہ جلالت و اقدس سے صادر ہوتے ہیں اور جو فیصلہ ہماری بارگاہ جلالت سے صادر ہوگا یقینا وہ خیر و برکت کا حامل ہوگا۔ عدل اور احسان کا آئینہ دار ہوگا۔ اس رات مبارک میں جو فیصلے کئے جاتے ہیں ان کی عظمت شان کے اظہار کے لئے امرا من عندنا کے الفاظ ذکر کئے گئے ہیں۔ امام رازی (رح) امرا کے منصوب ہونے کی دو وجہیں ذکر فرمائی ہیں۔ ان نصب علی الاختصاص کہ مخصوص ہونے کی وجہ سے منصوب ہوا۔ یا یہ حال ہے ذوالحال انزلنہ کی ضمیر فاعل ہوگی یا مفعول۔ فائدہ : لیلۃ مبارکۃ کو فیصل ہونے والے امور کو پہلے امر حکیم فرمایا کہ وہ پراز حکمت اور محکم اور تغیر و تبدل سے بالاتر ہیں پھر ان امور کی اہمیت و عظمت کو چند در چند زیادہ بتانے کے لئے فرمایا کہ وہ امور ہماری طرف سے صادر کئے جاتے ہیں۔ ہمارے علم اور تدبر کے مطابق ہوتے ہیں۔ انا کنا مرسلین : یہ بدل ہے جملہ انا کنا منذرین سے۔ انا کنا مرسلین بیشک ہم ہی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان سے قبل جملہ رسولوں کو بھیجنے والے ہیں۔ مرسلین اسم فاعل جمع مذکر ارسال (افعال) مصدر ۔ بھیجنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یعنی جبریل ( علیہ السلام) اللہ کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی سال بھر کے معاملات ہیں کہ سب ہی باحکمت ہیں جس طور پر اللہ تعالیٰ کو کرنا منظور ہے، اس طور کو متعین کر کے اور ان کی اطلاع کا رکن ملائکہ کو کر کے ان کے سپرد کردیئے جاتے ہیں، چونکہ وہ رات ایسی ہے اور قرآن سب سے زیادہ امر حکیم تھا اس لئے اس کا نزول بھی اسی شب میں ہوا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ١ؕ﴾ (یہ فیصلہ ہماری طرف سے امر کے طور پر صادر کیا جاتا ہے۔ ) قال الفراء : علی معنی ﴿فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍۙ٠٠٤﴾ فرقًا وامرًا ای نامرا مرًا ببیان ذلک (معالم التنزیل ج ٤: ص ١٤٩) ﴿اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَۚ٠٠٥﴾ بیشک ہم رسالت کے طور پر آپ کو اور دیگر انبیاء کرام بھیجنے والے تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” امرا من عندنا “ امرا منصوب علی الاختصاص ہے اور اس سے مقصود ان طے شدہ امور کی اہمیت و عظمت کا اظہار ہے۔ یعنی اس سے ہر عظیم اور اہم امر مراد ہے جو ہماری حکمت و تدبیر کے مطابق ہو۔ الزمخشری ” امر “ نصب علی الاختصاص جعل کل امر جزلا فخما بان وصفہ بالحکیم، ثم زادہ جزالۃ وکسبہ فخامۃ بان قال اعنی بھذا الامر امرا حاصلا من عندنا، کائنا من لدنا، وکما اقتضاہ علمنا وتدبیرنا (قرطبی ج 16 ص 129) ۔ 6:۔ ” انا کنا مرسلین “ اس کا تعلق یا تو ” والکتب المبین “ سے ہے بایں معنی کہ ہم ہی اس کتاب کے ساتھ اپنے پیغمبر کو بھیجنے والے ہیں جو تیرے پروردگار کی طرف سے محض رحمت ہے۔ یا یہ ” لیلۃ مبارکۃ “ سے متعلق ہے یعنی اس رات میں فرشتوں کو نئے فرائض سونپ کر اپنے اپنے کام پر بھیجتے ہیں یا ” مرسلین “ سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنے بندوں کے پاس انبیاء ورسل بھیجتے رہے ہیں بندوں پر رحمت کے لیے تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ رحمۃ مفعول بہ ہے۔ مرسلین کا یہ مفعول لہ یا مفعول مطلق ہے فعل محذوف کا مفعول لہ علی معنی انا انزلنا القران لان من شاننا وعادتنا ارسال الرسل بالکتب الی عبادنا لاجل الرحمۃ علیہم (مدارک ج 4 ص 97) ۔ وجوزوا فی رحمۃ ان یکون مصدرا ای رحمنا رحمۃ، وان یکون مفعولا بمرسلین والرحمۃ توصف بالارسال (بحر ج 7 ص 33) ۔ ایک قراءت میں ” رحمۃ “ بالرفع ہے اس صورت میں وہ مبتدا محذوف کی خبر ہوگی۔ وقرا الحسن رحمۃ علی تلکھی رحمۃ (قرطبی ج 16 ص 129) ۔ یعنی یہ کتاب تیرے رب کی طرف سے رحمت ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) فیصلہ کیا جاتا ہے اس حکم کے مطابق جو حکم ہماری جناب سے صادر ہوتا ہے بیشک ہم ہی پیغمبروں کو یا فرشتوں کو بھیجنے والے ہیں۔ یعنی یہ ککام جو جدا کئے جاتے ہیں اور ان کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ ہمارے اس روزی اچھی بری شہرت موت اور بیماری حج کو جانا، باغ لگانا، مکان بنانا وغیرہ کا اجمالی فیصلہ ملائکہ کے سپرد کردیاجاتا ہے اور وہ فرشتے اپنے اپنے مفوضہ کاموں کو حسب ہدایت انجام دیتے رہتے ہیں اور ان فیصلوں کا اجمالی علم ملائکہ کو حاصل رہتا ہے ہم بھیجنے والے ہیں یعنی رسولوں کو یا فرشتوں کو یا احکام کو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی فرشتوں کو ہر کام پر۔ آگے قرآن کے نازل کرنے اور آپ کو پیغمبر بناکر بھیجنے کیوجہ مذکور ہے۔