Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 59

سورة الدخان

فَارۡتَقِبۡ اِنَّہُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴿۵۹﴾٪  16

So watch, [O Muhammad]; indeed, they are watching [for your end].

اب تو منتظر رہ یہ بھی منتظر ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Wait then; verily, they (too) are waiting. meaning, `they will come to know who will be victorious and whose word will prevail in this world and in the Hereafter. For victory will be for you, O Muhammad, and for your brothers among the Prophets and Messengers, and for the believers who followed you,' as Allah says: كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." (58:21) إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth, -- the Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode. (40:51-52) This is the end of the Tafsir of Surah Ad-Dukhan. All praise and thanks are due to Allah and in Him is all strength and protection.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

59۔ 1 تو عذاب الٰہی کا انتظار کر، اگر یہ ایمان نہ لائے۔ یہ منتظر ہیں اس بات کے کہ اسلام کے غلبہ و نفوذ سے قبل ہی شاید آپ موت سے ہمکنار ہوجائیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٠] یعنی آپ تو اس بات کے منتظر ہیں کہ کب ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کی شامت آتی ہے۔ اور وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ آپ پر کب کوئی ناگہانی افتاد پڑتی ہے۔ جو آپ کو اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دے اور کام تو وہی ہوگا جو اللہ کو منظور ہے اور اسی وقت ہوگا جب اللہ کو منظور ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فار تقب انھم مرتقبون : یعنی اگر قرآن آسان ہونے کے باوجود یہ لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے تو آپ انتظار کیجیے کہ کب اللہ کی پکڑ ان پر آتی ہے۔ یہ لوگ بھی اتنظار کر رہے ہیں کہ آپ کب زمانے کی کسی گردش میں آتے ہیں اور کب ان کی جان چھوٹتی ہے، جیسا کہ فرمایا :(ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون قل تربصوا فانی معکم من المتربصین) (الطور : ٣٠، ٣١)” یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں ؟ کہہ دے انتظار کرو پس بیشک میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَارْتَقِبْ اِنَّہُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۝ ٥٩ ۧ رَّقِيبُ : الحافظ، وذلک إمّا لمراعاته رقبة المحفوظ، وإما لرفعه رقبته، قال تعالی: وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ [هود/ 93] ، وقال تعالی: إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ [ ق/ 18] ، وقال : لا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلا ذِمَّةً [ التوبة/ 10] ، والْمَرْقَبُ : المکان العالي الذي يشرف عليه الرقیب، وقیل لحافظ أصحاب المیسر الذین يشربون بالقداح رَقِيبٌ ، وللقدح الثالث رَقِيبٌ ، وتَرَقَّبَ : احترز راقبا، نحو قوله : فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، والرَّقُوبُ : المرأة التي تَرْقُبُ موت ولدها، لکثرة من مات لها من الأولاد، والناقة التي ترقب أن يشرب صواحبها، ثمّ تشرب، وأَرْقَبْتُ فلانا هذه الدار هو : أن تعطيه إيّاها لينتفع بها مدّة حياته، فكأنه يرقب موته، وقیل لتلک الهبة : الرُّقْبَى والعمری. اسی سے نگران کو رقیب کہا جاتا ہے یا تو اس لئے کہ وہ شخص کی گردن پر نظر رکھتا ہے جس کی نگرانی منظور ہوتی ہے اور یا اس لئے کہ وہ نگرانی کے لئے بار بار اپنی گردن اٹھا کر دیکھتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ [هود/ 93] تم بھی منتظر رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں ۔ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ [ ق/ 18] مگر ایک چوکیدار ( اس کے لکھنے کو ) تیار رہتا ہے ۔ المرقب ۔ بلند جگہ جہاں رقیب ( نگران ) بیٹھ کر چوکسی کرتا ہے اور قمار بازوں کے محافظ کو بھی رقیب کہا جاتا ہے ۔ جو قمار بازی کے بعد شراب نوشی کرتے ہیں ۔ اسی طرح قمار بازی کے تیسرے درجہ کے تیر کو بھی رقیب کہتے ہیں ۔ ترقب ( تفعل ) کے معنی ہیں انتظار کرتے ہوئے کسی چیز سے بچنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] چناچہ موسیٰ ٰ (علیہ السلام) شہر سے نکل بھاگے اور دوڑتے جاتے تھے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ رقوب اس عورت کو کہتے ہیں جو کثرت اولاد کی وجہ سے اپنے بچوں کی موت کی منتظر ہو ۔ نیز وہ اونٹنی جو پانی پینے کے لئے باری کے انتظار میں ہو اسے بھی رقوب کہا جا تا ہے ارقب ( افعال ) کے معنی رقبی ٰکرنے کے ہیں یعنی کسی کو اس کی زندگی بھر کے لئے مکان وغیرہ ہبہ کردینا اور اس کی موت کے بعد اس عطا کو واپس لے لینا ۔ اور اسے رقبی اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہبہ کے بعد گویا وہ اس کی موت کا انتظار کرتا ہے ۔ اور ایسے ہبہ کو عمریٰ بھی کہا جاتا ہے ۔ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات في أصل الشرع هو هذه المذکورات . وأَنْ علی أربعة أوجه : الداخلة علی المعدومین من الفعل الماضي أو المستقبل، ويكون ما بعده في تقدیر مصدر، وينصب المستقبل نحو : أعجبني أن تخرج وأن خرجت . والمخفّفة من الثقیلة نحو : أعجبني أن زيدا منطلق . والمؤكّدة ل «لمّا» نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] . والمفسّرة لما يكون بمعنی القول، نحو : وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا [ ص/ 6] أي : قالوا : امشوا . وكذلك «إِنْ» علی أربعة أوجه : للشرط نحو : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبادُكَ [ المائدة/ 118] ، والمخفّفة من الثقیلة ويلزمها اللام نحو : إِنْ كادَ لَيُضِلُّنا [ الفرقان/ 42] ، والنافية، وأكثر ما يجيء يتعقّبه «إلا» ، نحو : إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا [ الجاثية/ 32] ، إِنْ هذا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ [ المدثر/ 25] ، إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ آلِهَتِنا بِسُوءٍ [هود/ 54] . والمؤكّدة ل «ما» النافية، نحو : ما إن يخرج زيد ( ان حرف ) ان وان ( حرف ) یہ دونوں اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان جملہ مستقل پر آتا ہے اور ان کا مابعد ایسے مفرد کے حکم میں ہوتا ہے جو اسم مرفوع ، منصوب اور مجرور کی جگہ پر واقع ہوتا ہے جیسے اعجبنی انک تخرج وعجبت انک تخرج اور تعجب من انک تخرج جب ان کے بعد ما ( کافہ ) آجائے تو یہ عمل نہیں کرتا اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے ۔ فرمایا :۔ { إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ } ( سورة التوبة 28) ۔ مشرک تو پلید ہیں (9 ۔ 28) یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے ۔ نیز فرمایا :۔ { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ } ( سورة البقرة 173) اس نے تم امر ہوا جانور اور لہو حرام کردیا ہے (2 ۔ 173) یعنی مذکورہ اشیاء کے سوا اور کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا اس میں تنبیہ ہے کہ معلومات میں سے جو چیزیں اصول شریعت میں حرام ہیں ان میں سے یہ چیزیں سب سے بڑھ کر ہیں ۔ ( ان ) یہ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے (1) ان مصدریہ ۔ یہ ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے اور اس کا مابعد تاویل مصدر میں ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ مضارع کو نصب دیتا ہے جیسے :۔ اعجبنی ان تخرج وان خرجت ۔ ان المخففہ من المثقلۃ یعنی وہ ان جو ثقیلہ سے خفیفہ کرلیا گیا ہو ( یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے جیسے ۔ اعجبنی ان زید منطلق ان ( زائدہ ) جو لما کی توکید کے لئے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا { فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ } ( سورة يوسف 96) جب خوشخبری دینے والا آپہنچا (12 ۔ 92) ان مفسرہ ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنیٰ پر مشتمل ہو ( خواہ وہ لفظا ہو یا معنی جیسے فرمایا :۔ { وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ } ( سورة ص 6) ان امشوا اور ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے ( اور بولے ) کہ چلو (38 ۔ 6) یہاں ان امشوا ، قالوا کے معنی کو متضمن ہے ان ان کی طرح یہ بھی چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان شرطیہ جیسے فرمایا :۔ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ } ( سورة المائدة 118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں (5 ۔ 118) ان مخففہ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوتا ہے ( یہ تا کید کے معنی دیتا ہے اور ) اس کے بعد لام ( مفتوح ) کا آنا ضروری ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا } ( سورة الفرقان 42) ( تو ) یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا ہے (25 ۔ 42) ان نافیہ اس کے بعداکثر الا آتا ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا } ( سورة الجاثية 32) ۔۔ ،۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں (45 ۔ 32) { إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ } ( سورة المدثر 25) (ٌپھر بولا) یہ ( خدا کا کلام ) نہیں بلکہ ) بشر کا کلام سے (74 ۔ 25) { إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ } ( سورة هود 54) ۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا ( کر دیوانہ کر ) دیا ہے (11 ۔ 54) ان ( زائدہ ) جو ( ما) نافیہ کی تاکید کے لئے آتا ہے جیسے : مان یخرج زید ۔ زید باہر نہیں نکلے گا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٩ { فَارْتَقِبْ اِنَّہُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ } ” تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انتظار کیجیے ‘ یہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔ “ یہی لفظ (فَارْتَقِبْ ) قبل ازیں آیت ١٠ میں بھی آیا ہے ‘ جہاں دھویں کے عذاب کا ذکر ہے۔ گویا یہاں ایک دفعہ پھر اسی عذاب کے بارے میں پیشگی طور پر خبردار کردیا گیا ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے نزدیک اہل ِمکہ پر خشک سالی اور قحط کی صورت میں آنے والا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

45 That is, "If they do not accept the admonition even now, you should wait to see how they arc visited by their doom; and they also arc waiting to see what becomes of the message that you are giving them.

سورة الدُّخَان حاشیہ نمبر :45 یعنی اب اگر یہ لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے تو دیکھتے رہو کہ ان کی کس طرح شامت آتی ہے ، اور یہ بھی منتظر ہیں کہ دیکھیں تمہاری اس دعوت کا کیا انجام ہوتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

14: یہ لوگ تو جھٹلانے کے انداز میں قیامت کا انتظار کر رہے ہیں، اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تصدیق کے ساتھ اس کے انتظار کا حکم دیا گیا ہے کہ اس وقت ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی، اور ان کافروں کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:59) فارتقب : ف جواب شرط محذوف کے لئے ہے ای وان لم یتذکروا فارتقب : ای فانتظر۔ اور اگر وہ نصیحت نہ پکڑیں تو پھر انتظار کرو۔ اور یہ بھی منتظر ہیں۔ یعنی آپ انتظار کریں اس عذاب کا جو ان پر نازل ہوگا۔ اور وہ آپ کے مبتلائے مصیبت ہونے کے منتظر رہیں۔ ارتقب فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ارتقاب (افتعال) مصدر بمعنی انتظار کرنا۔ راہ دیکھنا۔ انھم مرتقبون : بیشک وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔ صیغہ جمع مذکر اسم فاعل۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی یہ نصیحت قبول نہیں کر رہے تو آپ دیکھتے رہیں کہ ان کی تباہی کیونکہ آتی ہے اور یہ بھی انتظار کر رہے ہیں کہ آپ جس دعوت کو لے کر اٹھے ہیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی آپ تبلیغ سے زیادہ فکر میں نہ پڑیئے نہ مخالفت پر رنج کیجئے، ان کا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیجئے وہ خود سمجھ لے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29:۔ ” فارتقب انہم مرتقبون “ یہ تخویف دنیوی ہے اور ابتداء سورت (فارتقب یوم تاتی الخ) سے متعلق ہے تاکہ سورت کا آخر ابتداء پر منطبق ہوجائے۔ آپ ان کے انجام اور اپنی کامیابی کا انتظار کریں اور وہ بھی انتظار میں ہیں کہ آپ کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کا حشر کیا ہوتا ہے۔ یہ ایک طرف مشرکین کے لیے تخویف دنیوی ہے اور دوسری طرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وعدہ نصرت ہے۔ قال اللہ تعالیٰ لرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلیا لہ وواعدا لہ بالنصر ومتوعدا لمن کذبہ بالعطب والھلاک فارتقب انھم مرتقبون (ابن کثیر ج 4 ص 147) ۔ سورة دخان میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” انہ ھو السمیع العلیم “ تا ” ربکم ورب اباء کم الالوین “۔ نفی شرک اعتقادی۔ 2 ۔ ” وما خلقنا السموات والارض “ تا ” انہ ھو العزیز الرحیم “ (رکوع 2) نفی شفاعت قہریہ و دلیل عقلی برائے اثبات توحید۔ سورة الدخان ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(59) غرض فی الحال آپ بھی انجام کا انتظار کیجئے یہ لوگ بھی انتظارکر رہے ہیں یعنی آپ کا کام صرف تبلیغ ہے آپ اپنے کام کو جاری رکھیے اور کسی قسم کا فکر نہ کیجئے ان کے معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیجئے یہ آپ کا نقصان اور آپ کے ضرر کا انتظار کررہے ہیں آپ بھی ان کے انجام اور ان پر نزول ضرر کا انتظار کرتے رہیے۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کس نتیجے کا ظہور ہوتا ہے۔ (والاھرکلہ بیدہ) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس شخص نے سورة حم الدخان کسی رات میں پڑھی تو اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لئے سترہزار فرشتے بخشش مانگتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے دوسری روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں ارشاد فرمایا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس نے سورة حم الدخان شب جمعہ میں پڑھی تو اس نے اس حال میں صبح کی کہ اس کے تمام گناہ بخشے ہوئے ہوتے ہیں۔ حضرت ابوامامہ کی روایت ہے کہ شب جمعہ میں جس نے سورة حم الدخان پڑھی اس کے لئے جنت میں ایک بہت بڑا مکان بناتا ہے اللہ تعالیٰ ۔ (تم سورة حم الدخان)