Surat ul Jasiya

Surah: 45

Verse: 9

سورة الجاثية

وَ اِذَا عَلِمَ مِنۡ اٰیٰتِنَا شَیۡئَۨا اتَّخَذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ؕ﴿۹﴾

And when he knows anything of Our verses, he takes them in ridicule. Those will have a humiliating punishment.

وہ جب ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پا لیتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے یہی لوگ ہیں جن کے لئے رسوائی کی مار ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذَا عَلِمَ مِنْ ايَاتِنَا شَيْيًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا ... And when he learns something of Our Ayat, he makes them a jest. i.e. if he learns anything from the Qur'an, he disbelieves in it and takes it as the subject of jest and ridicule, ... أُوْلَيِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ For such there will be a humiliating torment. i.e. as recompense for ridiculing the Qur'an and jesting about it. In the Sahih, Muslim recorded from Abdullah bin Umar that; the Messenger of Allah prohibited traveling with the Qur'an to enemy lands for fear that the Qur'an might be desecrated by the enemy. Allah explained the type of torment that these people earn on the Day of Return;

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

9۔ 1 یعنی اول تو وہ قرآن کو غور سے سنتا ہی نہیں اور اگر کوئی بات اس کے کان میں پڑجاتی ہے یا کوئی بات اس کے علم میں آجاتی ہے تو اسے مذاق کا موضوع بنا لیتا ہے۔ اپنی کم عقلی اور نافہمی کی وجہ سے یا کفر و معصیت پر اصرار و استکبار کی وجہ سے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] مشرکین کن آیات کا تمسخر اڑاتے ہیں :۔ قریشی سردار نصیحت حاصل کرنے کے لیے تو قرآن کی ایک بھی آیت سننا گوارا نہیں کرتے تھے۔ مگر ایسی آیات کی ٹوہ ضرور لگائے رکھتے تھے جن میں انہیں کوئی ایسا نکتہ ہاتھ آجائے کہ وہ آیات الٰہی کا مذاق اڑا سکیں۔ ان کا نشانہ تضحیک پہلے نمبر پر تو وہ آیات تھیں جن میں دوبارہ جی اٹھنے اور روز آخرت اور حشر و نشر کا ذکر ہوتا۔ سیدنا خباب بن ارت نے عاص بن وائل سہمی سے اپنی کچھ مزدوری لینا تھی۔ انہوں نے مزدوری کا مطالبہ کیا تو کہنے لگا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین چھوڑ دو تو مزدوری مل جائے گی۔ سیدنا خباب کہنے لگے : && وہ تو میں تمہارے دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک بھی نہیں چھوڑ سکتا && عاص کہنے لگا : اچھا پھر جب میں دوبارہ جی اٹھوں گا تو تمہارا حساب بیباق کردوں گا && پھر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ && اللہ نے ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی && تو کفار نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور کہنے لگے بتاؤ اب اس کی دیوانگی میں کیا کسر رہ گئی۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اہل دوزخ کا کھانا زقوم کا درخت ہوگا تو بھی کفار نے مذاق اڑانا شروع کردیا۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جہنم پر انیس داروغے مقرر ہیں۔ تو ایک پہلوان صاحب اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ && اٹھارہ کو تو میں اکیلا سنبھال لوں گا، تم سب مل کر ایک کو بھی نہ سنبھال سکو گے && اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ مشرک اور ان کے معبود سب دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو عبداللہ بن الزبعریٰ کہنے لگا : پھر تو سیدنا عیسیٰ بھی جہنم میں جائیں گے۔ ان سے تو پھر ہمارے معبود ہی اچھے ہوئے && اور ایسی آیات اور بھی بہت ہیں اور کفار مکہ ایسی ہی آیات معلوم کرنے کے درپے رہتے تھے جن کا مذاق اڑایا جاسکے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) واذا علم من ایتنا شیئاً اتخذھا ھزوا :” اتخذھا “ میں ضمیر ” ھا “ ” شیئاً “ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے، کیونکہ ” شیئاً “ کا لفظ اگرچہ مذکر ہے مگر اس سے مراد کوئی ” آیۃ “ (آیت) ہے، اس لئے ضمیر مونث ” ھا “ استعمال فرمائی ہے اور ” ایتنا “ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی آیت معلوم کرلیتا ہے (جسے وہ صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا یا جس کا مطلب الٹا نکال لیتا ہے) تو اسے مذاق بنا لیتا ہے۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی آیت معلوم کرلیتا ہے تو صرف اس کا مذاق اڑانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ہماری تمام آیات کو مذاق بنا لیتا ہے۔ مثلاً جب اس کے ہاتھ قرآن مجید کی کوئی ایسی بات آتی ہے جس کا مطلب توڑ مروڑ کر اس کا مذاق اڑا سکتا ہے تو تمام آیات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے کہ قرآن کی سبھی آیات ایسی ہیں۔ یہ اس کے بدترین ” افاک “ و ” اثیم “ ہونے کا بیان ہے کہ آیات الٰہی سن کر وہ کفر پر اصرار ہی نہیں کرتا بلکہ ناحق ان کا مذاق بھی اڑاتا ہے اور اتنا کہ انھیں مذاق بنا لیتا ہے۔ (٢) اولئک لہم عذاب مھین : آیات الٰہی کی اہانت کے بدلے میں ان کے لئے ذل یل کرنے والا عذاب ہے۔ اس آیت میں آیات سے استہزاء اور ان کی توہین کی مناسبت سے ان کے لئے عذاب مہین کی خبر دی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰيٰتِنَا شَيْئَۨا اتَّخَذَہَا ہُزُوًا۝ ٠ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِيْنٌ۝ ٩ ۭ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ هزؤ والاسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ( ھ ز ء ) الھزء الا ستھزاء اصل میں طلب ھزع کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل منعی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا هين الْهَوَانُ علی وجهين : أحدهما : تذلّل الإنسان في نفسه لما لا يلحق به غضاضة، فيمدح به نحو قوله : وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ونحو ما روي عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم :«المؤمن هَيِّنٌ ليّن» الثاني : أن يكون من جهة متسلّط مستخفّ بهفيذمّ به . وعلی الثاني قوله تعالی: الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] ، فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] ، وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] ، وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] ، فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] ، وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] ويقال : هانَ الأمْرُ علی فلان : سهل . قال اللہ تعالی: هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] ، وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] ، وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] والْهَاوُونَ : فاعول من الهون، ولا يقال هارون، لأنه ليس في کلامهم فاعل . ( ھ و ن ) الھوان اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے انسان کا کسی ایسے موقعہ پر نر می کا اظہار کرتا جس میں اس کی سبکی نہ ہو قابل ستائش ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر متواضع ہوکر چلتے ہیں ۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے المؤمن هَيِّنٌ ليّن» کہ مومن متواضع اور نرم مزاج ہوتا ہے دوم ھان بمعنی ذلت اور رسوائی کے آتا ہے یعنی دوسرا انسان اس پر متسلط ہو کر اسے سبکسار کرے تو یہ قابل مذمت ہے چناچہ اس معنی میں فرمایا : ۔ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے ۔ فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] تو۔ کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] اور کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے ۔ وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] اور آخر کار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] انکے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] اور جس کو خدا ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے ولاا نہیں ۔ علی کے ساتھ کے معنی کسی معاملہ کے آسان ہو نیکے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] کہ یہ مجھے آسان ہے ۔ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] اور یہ اس پر بہت آسان ہے ۔ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے ہو ۔ ھاودن کمزور یہ ھون سے ہے اور چونکہ قاعل کا وزن کلام عرب میں نہیں پایا اسلئے ھاون کی بجائے ہارون بروزن فا عول کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور یہ جب قرآن کریم کو سنتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے اس نضر کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩ { وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَانِ اتَّخَذَہَا ہُزُوًا اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ} ” اور جب ہماری آیات میں سے کوئی بات اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اہانت آمیز عذاب ہوگا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 That is, "He dons not rest content with mocking any one particular Revelation, but mocks all the Revelations. For example, when he hears that a particular thing has been mentioned in the Qur'an, he does not take it in its straight-forward meaning, but first puts a crooked meaning on it in order to make it a subject of ridicule and mockery, then after making fun of it, says: "These arc strange things: one daily hears one or the other funny thing from them. "

سورة الْجَاثِیَة حاشیہ نمبر :10 یعنی اس ایک آیت کا مذاق اڑانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ تمام آیات کا مذاق اڑانے لگتا ہے ۔ مثلاً جب وہ سنتا ہے کہ قرآن میں فلاں بات بیان ہوئی ہے تو اسے سیدھے معنی میں لینے کے بجائے پہلے تو اسی میں کوئی ٹیڑھ تلاش کر کے نکال لاتا ہے تا کہ اسے مذاق کا موضوع بنائے ، پھر اس کا مذاق اڑانے کے بعد کہتا ہے : اجی ان کے کیا کہنے ہیں ، وہ تو روز ایک سے ایک نرالی بات سنا رہے ہیں ، دیکھو فلاں آیت میں انہوں نے یہ دلچسپ بات کہی ہے ، اور فلاں آیت کے لطائف کا تو جواب ہی نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(45:9) واذا۔ واؤ عاطفہ ہے اذا ظرف زمان ہے بمعنی جب۔ مفاجاتیہ بھی استعمال ہوتا ہے بمعنی ناگہاں۔ اچانک۔ یکایک۔ یہاں دونوں صورتیں ممکن ہیں۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کا مذاق بناتا ہے۔ دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جب وہہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو فورا مذاق بنانے لگتا ہے۔ اتخذھا : اتخذ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے بنا لیا۔ اس نے ٹھہرا لیا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب سیئا کی طرف راجع ہے (ہماری آیات میں سے کوئی حصہ) ۔ لیکن روح المعانی میں ہے :۔ بادرالی الاستھزاء بالایت کلہا ولم یقتصر علی الاستھزاء بما بلغہ۔ وہ اپنے استہزاء کو صرف انہیں آیات تک محدود نہیں رکھتا جن کی خبر اس تک پہنچتی ہے بلکہ تمام آیات کے استہزاء میں جلدی دکھاتا ہے ۔ یعنی ساری آیات کو تختہ استہزاء بناتا ہے۔ ھزوا۔ مصدر ، باب فتح۔ مادہ ھ ز ء ، ھ ز ی ئ۔ بمعنی اسم مفعول۔ وہ جس کا مذاق اڑایا جائے۔ اولئک لہم۔ یعنی ایسے تمام جھوٹوں کے لئے ۔ یہی ہیں وہ لوگ جن کے لئے۔ عذاب مھین۔ موصوف و صفت۔ مھین اسم فاعل واحد مذکر۔ اھانۃ (افعال) مصدر۔ اھانت آمیز، ذلیل و خوار کرنے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یا یہ مطلب ہے کہ جب اسے ہماری آیتوں میں کوئی بات معلوم ہوجاتی ہے۔ (جسے وہ صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا) تو ساری آیات اور شریعت کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے کہ اتخذھا میں ” ھا “ کی ضمیر آیات کے لئے قرار دی جائے اور اگر اسی ضمیر کو شیئاً کے لئے قرا دیا جائے تو پہلا مطلب صحیح ہوگا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ مطلب یہ کہ جن آیتوں کو تلاوت میں سنتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، اور جن آیتوں کی ویسے ہی خبر سن لیتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، غرض تکذیب آیات میں بہت بڑھا ہوا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ ” واذا علم “ یہ زجر ثانی ہے۔ ہماری آیتوں کو ماننا تو درکنار جب ہماری آیت میں سے کوئی آیت اس تک پہنچ جاتی ہے تو اس سے استہزاء کرتا ہے۔ ایسے بدبختوں کے لیے ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب تیار ہے۔ ” من ورائہم جہنم “ یہ لوگ دنیا کی عیش میں اور کفر و طغیان میں منہمک ہیں، لیکن اس سے غافل اور بیخبر ہیں کہ ان کے آگے ان کے لیے جہنم ہے جس کے عذاب سے ان کو نہ تو معبودان باطلہ کی پکار بچا سکے گی اور نہ ان کے خود ساختہ کارساز اور سفارشی ہی ان کو اس سے نجات دلا سکیں گے اور نہ دنیا میں کائی ہوئی دولت ہی وہاں کچھ کام آئیگی۔ ” ماکسبوا “ سے مال واولاد مراد ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک اس میں غیر اللہ کی پکار ماوی اللہ کی نذر و منت بھی داخل ہے۔ اور ” ماتخذوا من دون اللہ من اولیاء “ سے معبودان باطلہ مراد ہیں۔ ای ولا تغنی عنہم الاہۃ التی عبدوھا من دون اللہ شیئا (ابن کثیر ج 4 ص 1448، معالم و خازن ج 6 ص 151) ۔ یہ تخویف اخروی، مقصود سورت سے متعلق ہے یعنی تمہارے خود ساختہ معبود اور سفارشی آخرت میں تمہیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(9) اور جب وہ ہماری آیات میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے اور اس کو ٹھٹا ٹھہراتے ہے اور اس کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی آیت کے نزول کا لوگوں سے اس کو علم ہوجاتا ہے مثلاً کوئی اس سے کہہ دیتا ہے کہ آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فلاں آیت اتری ہے تو اس کو سن کر ہنسی اڑاتا ہے۔