Surat ul Ehkaaf

Surah: 46

Verse: 11

سورة الأحقاف

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ کَانَ خَیۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ ؕ وَ اِذۡ لَمۡ یَہۡتَدُوۡا بِہٖ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَاۤ اِفۡکٌ قَدِیۡمٌ ﴿۱۱﴾

And those who disbelieve say of those who believe, "If it had [truly] been good, they would not have preceded us to it." And when they are not guided by it, they will say, "This is an ancient falsehood."

اور کافروں نے ایمانداروں کی نسبت کہا کہ اگر یہ ( دین ) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرنے نہ پاتے اور چونکہ انہوں نے اس قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس یہ کہہ دیں گے کہ قدیمی جھوٹ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ امَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ ... And those who disbelieve say of those who believe: "Had it been good, they (the weak and poor) would not have preceded us to it!" which means that those who disbelieve say of those who believe in the Qur'an: "Had it (the Qur'an) been any good, they (the weak and poor) would not have preceded us to it!" By that, they meant Bilal, `Ammar, Suhayb, Khabbab, may Allah be pleased with them, and others like them of the weak, the male servants, and female servants. The pagans said this only because they thought that they held a high status with Allah, and that He took special care of them. By that, they made a great and obvious error, as Allah says: وَكَذلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُولواْ أَهَـوُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَأ Thus have We tried some of them with others, that they might say: "Is it these whom Allah has favored from among us?" (6:53) meaning, they wonder how could those weaklings be the ones who were guided from among them. Thus, Allah says, لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ (Had it been good, they (the weak and poor) would not have preceded us to it!) Contrary to this is the position of Ahl us-Sunnah wal-Jama`ah: They say about any act or saying that has not been reported from the Companions: "It is an innovation. If there was any good in it, they would have preceded us in doing it, because they have not left off any of the good characteristics except that they hurried to perform them." Allah continues, ... وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ ... And when they have not been guided by it, (meaning, the Qur'an). ... فَسَيَقُولُونَ هَذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ they say: "This is an ancient falsehood!" meaning, an old lie. They mean by this that the Qur'an has been quoted and taken from the ancient people, thereby belittling the Qur'an and its followers. This is clear arrogance, as Allah's Messenger said: بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاس (Arrogance is) rejecting the truth and belittling the people. Allah then says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 کفار مکہ، حضرت بلال، عمار، صہیب اور خباب (رض) جیسے مسلمانوں کو، جو غریب و قلاش کے لوگ تھے لیکن اسلام قبول کرنے میں انہیں سب سے پہلے شرف حاصل ہوا، دیکھ کر کہتے کہ اگر اس دین میں بہتری ہوتی تو ہم جیسے ذی عزت و ذی مرتبہ لوگ سب سے پہلے اسے قبول کرتے نہ کہ یہ لوگ پہلے ایمان لاتے۔ یعنی اپنے طور پر انہوں نے اپنی بابت یہ فرض کرلیا کہ اللہ کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے۔ اس لیے اگر یہ دین بھی اللہ کی طرف سے ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے قبول کرنے میں پیچھے نہ چھوڑتا اور جب ہم نے اسے نہ اپنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک پرانا جھوٹ ہے یعنی قرآن کو انہوں نے پرانا جھوٹ قرار دیا ہے جیسے وہ اسے اساطیر الاولین بھی کہتے تھے حالانکہ دنیاوی مال ودولت میں ممتاز ہونا عند اللہ مقبولیت کی دلیل نہیں (جیسے ان کو مغالظہ ہوا یا شیطان نے مغالطے میں ڈالا) عند اللہ مقبولیت کے لیے تو ایمان و اخلاص کی ضرورت ہے اور اس دولت ایمان و اخلاص سے وہ جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ جیسے وہ مال ودولت آزمائش کے طور پر جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥] یہود کی اپنے متعلق غلط فہمی :۔ بایں ہمہ وہ یہ بھی سمجھے بیٹھے ہیں کہ کسی چیز کے حق ہونے کا معیار ہماری ذات والا صفات ہے۔ حق وہی ہوسکتا ہے جسے ہم حق قرار دے دیں۔ پھر جب ہم ہی اسے حق نہیں سمجھتے تو چند کمزور درجہ کے لوگوں کے اس کو حق سمجھنے سے وہ چیز حق کیسے بن سکتی ہے۔ اگر یہ دین کوئی اچھی چیز ہوتی تو ہم جیسے عقلمند اور معزز لوگ ان لونڈی غلاموں سے پیچھے کیسے رہ جاتے ؟ [١٦] جھوٹ تو وہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ اپنی ذات کو ہی حق کا معیار سمجھتے تھے اور قرآن ان کے معیار کے خلاف تھا۔ اور پرانا اس لیے کہتے تھے کہ سابقہ انبیائے کرام کی تعلیم بھی بعینہ وہی کچھ تھی جو اس نبی آخرالزمان کی تھی۔ وہ اسے نیا جھوٹ کہہ ہی نہیں سکتے تھے اور نہ انہیں یہ کہنا گوارا تھا کہ یہ پرانا سچ ہے۔ کیونکہ ابتدا سے انبیائے کرام یہی سچی تعلیم دیتے رہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وقال الذین کفروا للذین امنوا لو کان خیراً …:” للذین امنوا “ میں ” لام “ کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے مخاطب ہو کر کہا، بلکہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں کہا۔ پچھلی آیت میں مشرکین کے ایمان نہ لانے کا باعث ان کا تکبر ذکر فرمایا تھا، اب ان کے تکبر اور خود پسندی کی ایک مثال ذکر فرمائی جس کی بنا پر وہ ایمان کی نعمت سے محروم رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دنیا کی نعمتوں پر اس قدر مغرور ہیں کہ اس کی ہر نعمت کا مستحق صرف اپنے آپ ہی کو سمجھتے ہیں۔ بلال، عمار، عبداللہ بن مسعود، سمیہ اور زنیرہ (رض) جیسے مکسی ن اور ضعیف مسلمانوں کو وہ اللہ تعالیٰ کے کسی انعام کے قابل ہی نہیں سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے اسلام کے ہر خیر سے خالی ہونے کی دلیل یہ تصنیف کی کہ اگر اسلام میں کوئی خوبی ہوتی تو یہ لوگ ہم سے اس لئے انہوں نے اسلام کے ہر خیر سے خالی ہونے کی دلیل یہ تصنیف کی کہ اگر سالام میں کوئی خوبی ہوتی تو یہ لوگ ہم سے پہلے اس کی طرف نہ آتے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبر کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی :(الکبر بطر الحق و عمط الناس کا پہلے اس کی طرف نہ آتے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبر کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی :(الکبر بطر الحق و غمط الناس) (مسلم، الایمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : ٩١)” تکبر حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ “ مشرکین مسلمانوں کو کس قدر حقیر جانتے تھے، اس کا اندازہ اس آیت سے ہوتا ہے :(وذلک فتنا بعضھم ببعض لیقولوا اھولآء من اللہ علیھم من بینا) (الانعام : ٥٣)” اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کی بعض کے ساتھ آزمائش کی ہے، تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے ؟ “ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں کا انداز تحقیر ملاحظہ فرمائیں، انہوں نے نوح (علیہ السلام) سے کہا :(مانریک الا بشراً مثلنا وما نریک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الزای ، وما نری لکم علینا من فضل بل نظلکم کذبین) (ھود : ٢٨)” ہم تجھے نہیں دیکھتے مگر اپنے جیسا ایک بشر اور ہم تجھے نہیں دیکھتے کہ ان لوگوں کے سوا کسی نے تیری پیروی کی ہو جو ہمارے سب سے رذیل ہیں، سطحی رائے کے ساتھ اور تمہارے لئے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے، بلکہ ہم تمہیں جھوٹے گمان کرتے ہیں۔ “ (٢) وذا لم یھتدوابہ فسیقولون…: کفار کے جن اقوال کا یہاں ذکر ہوا ان سب کا مقصد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کو جھٹلاتا تھا، مثلاً یہ کہنا کہ یہ سحر ہے، افترا ہے، اس میں کوئی خیر نہیں وغیرہ۔ فرمایا، جب وہ اس قرآن کے ذریعے سے سیدھا راستہ حاصل نہ کرسکے تو وہ یہی کہتے رہیں گے کہ یہ قدیم جھوٹ ہے۔ یعنی اگر وہ ضد اور عناد پر اڑے رہے تو کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے اور نہ کوئی عقل یا نقلی دلیل تسلیم کریں گے، بلکہ ان کے سامنے پہلے انبیاء اور اہل علم کی شہادت پیش کی گئی تو وہ تمام پیغمبروں اور کتابوں کو بھی یہ کہہ کر رد کردیں گے کہ یہ قدیم جھوٹ ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ ان کے اس رویے کے باعث صرف ان کا کفر اور تکبر ہے، جب تک وہ اس پر قائم رہیں گے یہی بات کہتے رہیں گے، جیسا کہ فرمایا :(وقال الذین کفروا ان ھذا الا افک اقتربہ و اعانہ علیہ قوم اخرون ، فقد جآء و ظلماً و زوراً وقالوا اساطیر الاولین اکتبھا فھی تملی علیہ بکرۃ واصیلا (الفرقان : ٥٠٣) ” اور ان لوگوں نے کہا جنہوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر ایک جھوٹ، جو اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی مدد کی، سو بلاشبہ وہ بھاری ظلم اور سخت جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔ اور انہوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، جو اس نے لکھوالی ہیں، تو ووہ پہلے اور پچھلے پہر اس پر پڑھی جاتی ہیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary لَوْ كَانَ خَيْرً‌ا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ (Had it [ Islamic faith ] been a good thing, these [ weak and poor ] people would not have preceded us [ in proceeding ] towards it._ 46:11) Arrogance and pride pervert the human intellect also. An arrogant person considers his own opinions and deeds to be the criteria for determining right and wrong, good and bad. If he does not like anything, no matter how well it is believed to be by others, he considers all those people to be stupid, while he himself is stupid. The arrogance and pride of the infidels was of this very kind, and since they did not like Islamic faith, they used to say about it&s lovers that had it been a good thing, they themselves would have been the first to adopt it, and that one should not trust the choice of these poor people. Ibn Mundhir (رح) etc., have reproduced a narration according to which this verse was revealed about a slave-girl of Sayyidna ` Umar Ibn Khattab (رض) named Zunairah who had embraced Islam when he was still a disbeliever. She used to be beaten up and threatened by him, so that she might give up Islam somehow or the other, and the kuffar of Quraish used to say that had Islamic faith been a good thing, such a worthless woman as Zunairah would not have preceded us in embracing it. (Mazhari)

خلاصہ تفسیر اور یہ کافر ایمان والوں (کے ایمان لانے) کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن (جس پر یہ لوگ ایمان لائے ہیں) کوئی اچھی (یعنی سچی) چیز ہوتا تو یہ (کم درجہ کے) لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ کرتے (یعنی ہم لوگ بڑے عاقل ہیں اور یہ لوگ کم عقل ہیں اور حق بات کو عاقل پہلے قبول کرتا ہے اور اگر یہ حق ہوتا تو ہم پہلے مانتے جب ہم نے نہیں مانا تو یہ حق نہیں یہ لوگ بےعقلی سے ادھر دوڑنے لگے ہیں۔ کافروں کا یہ قول ان کے انتہائی تکبر کی دلیل ہے جس کا ذکر اوپر استکبرتم میں آیا ہے) اور جب (عناد وتکبر کے باعث) ان لوگوں کو قرآن سے ہدایت نصیب نہ ہوئی تو (اپنے عناد اور ضد کی بنا پر) یہیں کہیں گے کہ یہ (بھی مثل) قدیمی (جھوٹے مضامین کے ایک) جھوٹ (مضمون) ہے اور اس (قرآن) سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب (نازل ہوچکی) ہے جو ( موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کے لئے بالعموم) رہنما (تھی) اور (اہل ایمان کے لئے بالخصوص) رحمت تھی (اور جس طرح توریت میں اس کی پیشین گوئی ہے) یہ (اسی طرح کی) ایک کتاب ہے جو اس (کی پیشین گوئی) کو سچا کرتی ہے (اور) عربی زبان میں (ہے) ظالموں کو ڈرانے کے لئے اور نیک لوگوں کو بشارت دینے کے لئے (نازل ہوئی ہے۔ ) معارف و مسائل (آیت) لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ ، تکبر و غرور انسان کی عقل کو بھی مسخ کردیتا ہے۔ متکبر آدمی اپنی عقل اور اپنے عمل کو معیار حسن و قبح و خیر و شر سمجھنے لگتا ہے جو چیز اس کو پسند نہ ہو خواہ دوسرے لوگ اس کو کتنا ہی اچھا سمجھیں یہ ان سب کو بیوقوف سمجھتا ہے حالانکہ خود بیوقوف ہے کفار کے اسی درجہ غرور تکبر کا اس آیت میں بیان ہے کہ اسلام و ایمان چونکہ ان کو پسند نہیں تھا تو دوسرے لوگ جو ایمان کے دلدادہ تھے ان کو یہ کہتے تھے کہ اگر یہ ایمان کوئی اچھی چیز ہوتی تو سب سے پہلے ہمیں پسند آتی، ان دوسرے غریب فقیر لوگوں کی پسند کا کیا اعتبار۔ ابن منذر وغیرہ نے ایک روایت نقل کی ہے کہ عمر بن خطاب جب مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کی ایک کنیز جس کا نام زنیرہ تھا پہلے مسلمان ہوگئی تھی یہ اس کو اس کے اسلام پر مارتے اور دھمکاتے تھے کہ کسی طرح یہ اسلام کو چھوڑ دے اور کفار قریش کہا کرتے تھے کہ اسلام کوئی اچھی چیز ہوتی تو رنین جیسی حقیر عورت اس میں ہم سے آگے نہ ہوتی، اس کے متعلق آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْہِ۝ ٠ ۭ وَاِذْ لَمْ يَہْتَدُوْا بِہٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ۝ ١١ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 1 00] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ، ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] اور دونوں دوڑتے ہوئے دروز سے پر پہنچنے ۔ مجازا ہر شے میں آگے بڑ اجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] تو یہ ہم سے اس کیطرف سبقت نہ کرجاتے ۔ اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، وقال : فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] ، فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] ، فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . ويقال المُهْتَدِي لمن يقتدي بعالم نحو : أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] تنبيها أنهم لا يعلمون بأنفسهم ولا يقتدون بعالم، وقوله : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] فإن الِاهْتِدَاءَ هاهنا يتناول وجوه الاهتداء من طلب الهداية، ومن الاقتداء، ومن تحرّيها، وکذا قوله : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] وقوله : وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] فمعناه : ثم أدام طلب الهداية، ولم يفترّ عن تحرّيه، ولم يرجع إلى المعصية . وقوله : الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ [ البقرة/ 157] أي : الذین تحرّوا هدایته وقبلوها وعملوا بها، وقال مخبرا عنهم : وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] . الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو ۔ إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں ۔ لیکن کبھی اھتداء کے معنی طلب ہدایت بھی آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو ۔ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] سو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو ۔ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں ۔ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہوجائیں ۔ المھتدی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی عالم کی اقتدا کر رہا ہے ہو چناچہ آیت : ۔ أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ کسی کی پیروی کرتے ہوں ۔ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ نہ وہ خود عالم تھے اور نہ ہی کسی عالم کی اقتداء کرتے تھے ۔ اور آیت : ۔ فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] تو جو کوئی ہدایت حاصل کرے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے ۔ میں اھتداء کا لفظ طلب ہدایت اقتدا اور تحری ہدایت تینوں کو شامل ہے اس طرح آیت : ۔ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال انہین آراستہ کر کے دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آتے ۔ میں بھی سے تینوں قسم کی ہدایت کی نفی کی گئی ہے اور آیت : ۔ وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] اور جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے راستہ پر چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں ۔ میں اھتدی کے معنی لگاتار ہدایت طلب کرنے اور اس میں سستی نہ کرنے اور دوبارہ معصیت کی طرف رجوع نہ کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ«1» [ البقرة/ 157] اور یہی سیدھے راستے ہیں ۔ میں مھتدون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت الہیٰ کو قبول کیا اور اس کے حصول کے لئے کوشش کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا چناچہ انہی لوگوں کے متعلق فرمایا ۔ وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] اے جادو گر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بیشک أفك الإفك : كل مصروف عن وجهه الذي يحق أن يكون عليه، ومنه قيل للریاح العادلة عن المهابّ : مُؤْتَفِكَة . قال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكاتُ بِالْخاطِئَةِ [ الحاقة/ 9] ، وقال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] ، وقوله تعالی: قاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ [ التوبة/ 30] أي : يصرفون عن الحق في الاعتقاد إلى الباطل، ومن الصدق في المقال إلى الکذب، ومن الجمیل في الفعل إلى القبیح، ومنه قوله تعالی: يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ [ الذاریات/ 9] ، فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ [ الأنعام/ 95] ، وقوله تعالی: أَجِئْتَنا لِتَأْفِكَنا عَنْ آلِهَتِنا [ الأحقاف/ 22] ، فاستعملوا الإفک في ذلک لمّا اعتقدوا أنّ ذلک صرف من الحق إلى الباطل، فاستعمل ذلک في الکذب لما قلنا، وقال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ جاؤُ بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ [ النور/ 11] ، وقال : لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، وقوله : أَإِفْكاً آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ [ الصافات/ 86] فيصح أن يجعل تقدیره : أتریدون آلهة من الإفك «2» ، ويصح أن يجعل «إفكا» مفعول «تریدون» ، ويجعل آلهة بدل منه، ويكون قد سمّاهم إفكا . ورجل مَأْفُوك : مصروف عن الحق إلى الباطل، قال الشاعر : 20- فإن تک عن أحسن المروءة مأفو ... کا ففي آخرین قد أفكوا «1» وأُفِكَ يُؤْفَكُ : صرف عقله، ورجل مَأْفُوكُ العقل . ( ا ف ک ) الافک ۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیردی گئی ہو ۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤلفکۃ کہا جاتا ہے اور آیات کریمہ : ۔ { وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ } ( سورة الحاقة 9) اور وہ الٹنے والی بستیوں نے گناہ کے کام کئے تھے ۔ { وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى } ( سورة النجم 53) اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا ۔ ( میں موتفکات سے مراد وہ بستیاں جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں کے الٹ دیا تھا ) { قَاتَلَهُمُ اللهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ } ( سورة التوبة 30) خدا ان کو ہلاک کرے ۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں ۔ یعنی اعتقاد و حق باطل کی طرف اور سچائی سے جھوٹ کی طرف اور اچھے کاموں سے برے افعال کی طرف پھر رہے ہیں ۔ اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ { يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ } ( سورة الذاریات 9) اس سے وہی پھرتا ہے جو ( خدا کی طرف سے ) پھیرا جائے ۔ { فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ } ( سورة الأَنعام 95) پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ { أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ آلِهَتِنَا } ( سورة الأَحقاف 22) کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ ہمارے معبودوں سے پھیردو ۔ میں افک کا استعمال ان کے اعتقاد کے مطابق ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے اعتقاد میں الہتہ کی عبادت ترک کرنے کو حق سے برعمشتگی سمجھتے تھے ۔ جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوتا ہے اس لئے اس پر بھی افک کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : { إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ } ( سورة النور 11) جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تمہیں لوگوں میں سے ایک جماعت ہے ۔ { وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ } ( سورة الجاثية 7) ہر جھوٹے گنہگار کے لئے تباہی ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ { أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللهِ تُرِيدُونَ } ( سورة الصافات 86) کیوں جھوٹ ( بناکر ) خدا کے سوا اور معبودوں کے طالب ہو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افکا مفعول لہ ہو ای الھۃ من الافک اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افکا تریدون کا مفعول ہو اور الھۃ اس سے بدل ۔۔ ،۔ اور باطل معبودوں کو ( مبالغہ کے طور پر ) افکا کہدیا ہو ۔ اور جو شخص حق سے برگشتہ ہو اسے مافوک کہا جاتا ہے شاعر نے کہا ہے ع ( منسرح) (20) فان تک عن احسن المووءۃ مافوکا ففی اخرین قد افکوا اگر تو حسن مروت کے راستہ سے پھر گیا ہے تو تم ان لوگوں میں ہو جو برگشتہ آچکے ہیں ۔ افک الرجل یوفک کے معنی دیوانہ اور باؤلا ہونے کے ہیں اور باؤلے آدمی کو مافوک العقل کہا جاتا ہے ۔ قَدِيمُ ( پرانا) في وصف اللہ تعالی، والمتکلّمون يستعملونه، ويصفونه به وأكثر ما يستعمل القدیم باعتبار الزمان نحو : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] ، البتہ علماء متکلمین اسے بطور صفت الہی کے استعمال کرتے ہیں عموما القدیم کا لفظ قدم باعتبار زمانہ یعنی پرانی چیز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور یہ کافر قبیلہ یعنی اسد غطفان، حنظلہ مسلمان قبیلوں یعنی جہینہ، مزنیہ، اسلم کے متعلق یوں کہتے ہیں کہ محمد جو بات کہتے ہیں اگر وہ صحیح اور بہتر ہوتی تو یہ اسلم جہنیہ اور مزنیہ والے اس کو قبول کرنے میں پہل نہ کرتے۔ اور جب یہ لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لائے تو یوں کہیں گے کہ یہ قرآن بھی ایک قدیمی جھوٹ ہے۔ شان نزول : وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ (الخ) ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم اور فلاں عزت والے ہیں اور اگر یہ قرآن کریم حق ہوتا تو فلاں اور فلاں کے ماننے میں ہم سے پہل نہ کرتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن منذر نے عون بن شداد سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر کے پاس ایک زنین نامی باندھی تھی وہ حضرت عمر فاروق کی سختی کی وجہ سے بھاگ جاتی تھی اور کفار قریش کہا کرتے تھے اگر یہ قرآن کریم حق ہوتا تو یہ زنین اس کو قبول کرنے میں ہم سے پہل نہ کرتی۔ چناچہ حق تعالیٰ نے اس باندی کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی یعنی یہ کافر ایمان والوں کے متعلق یوں کہتے ہیں۔ اور ابن سعد نے اسی طرح ضحاک اور حسن سے روایت نقل کی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١ { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ کَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَیْہِ } ” اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ‘ ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے کہ اگر یہ (قرآن) کوئی خیر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے ۔ “ یہ سردارانِ قریش کے موقف کا حوالہ ہے کہ ہم بڑے ہیں ‘ دانشور ہیں اور ہر اعتبار سے معاشرے کے سرکردہ لوگ ہیں۔ جب ہم اس دین کی طرف مائل نہیں ہوئے اور ہمیں اس قرآن میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں بھلائی کی کوئی بات ہے ہی نہیں ‘ ورنہ یہ غریب غرباء اور گھٹیا لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ مکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے والوں میں اگرچہ حضرت عثمان بن عفان ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) جیسے لوگ بھی تھے ‘ جن کا تعلق اونچے گھرانوں سے تھا ‘ مگر ابتدا میں زیادہ تر نادار اور مزدور لوگ ہی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے تھے ‘ جن میں کوئی غلام بھی تھے ‘ اور شروع شروع میں یہی لوگ زیادہ تر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اردگرد موجود ہوتے تھے۔ چناچہ جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں کو اعتراض تھا کہ آپ ( علیہ السلام) کے پیروکار نچلے طبقے کے لوگ ہیں (ہود : ٢٢) اسی طرح مکہ کے سرداروں کو بھی نادار اور غلام اہل ایمان کی موجود گی میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل میں بیٹھنا گوارا نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مزدوروں ‘ غلاموں اور کمتر حیثیت کے لوگوں کے درمیان آکر بیٹھنا ہمارے شایانِ شان نہیں۔ ہاں ان لوگوں کو اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی محفل سے اٹھا دیں تو پھر ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات سننے پر غور کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے سورة الانعام میں اللہ تعالیٰ نے ان مومنین ِصادقین کے بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗط مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْہِمْ مِّنْ شَیْئٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ } ” اور مت دھتکارئیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے ربّ کو صبح وشام اور اس کی رضا کے طالب ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ نہیں ہے اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ ہے ‘ تو اگر (بالفرض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں دور کریں گے تو آپ ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔ “ { وَاِذْ لَمْ یَہْتَدُوْا بِہٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ ہٰذَآ اِفْکٌ قَدِیْمٌ} ” اور چونکہ انہوں نے اس (قرآن) کے ذریعے سے ہدایت نہیں پائی تو اب کہیں گے کہ یہ تو گھڑی ہوئی پرانی چیز ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

15 This is one of those arguments that the chiefs of the Quraish employed to beguile and mislead the common people against the Holy Prophet. They said: If the Qur'an were really based on the truth and Muhammad (upon whom be Allah's peace) were inviting towards a right thing, the chiefs and the elders and the noblemen of the community would have been in the forefront to accept it. How could it be that a few young boys and mean slaves only should accept a reasonable thing but the distinguished men of the nation, who are wise and experienced, and who have been held as reliable by others, would reject it? This was the deceptive reasoning by which they tried to make the common people believe that there was something wrong with the new message; that is why the ciders of the people were not believing it; therefore, they also should avoid it. 16 That is, "They regard themselves as a criterion of the truth and falsehood. They think that whatever (guidance) they reject must be falsehood. But accepting them since thousands of years also were devoid of wisdom and knowledge, and the whole wisdom has now become these people's monopoly."

سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :15 یہ ان دلائل میں سے ایک ہے جو قریش کے سردار عوام الناس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بہکانے کیے لیے استعمال کرتے تھے ۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر یہ قرآن برحق ہوتا اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک صحیح بات کی طرف دعوت دے رہے ہوتے تو قوم کے سردار اور شیوخ اور معززین آگے بڑھ کر اس کو قبول کرتے ۔ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چند ناتجربہ کار لڑکے اور چند ادنٰی درجہ کے غلام تو ایک معقول بات کو مان لیں اور قوم کے بڑے بڑے لوگ ، جو دانا اور جہاندیدہ ہیں ، اور جن کی عقل و تدبیر پر آج تک قوم اعتماد کرتی رہی ہے ، اس کو رد کر دیں ۔ اس پر فریب استدلال سے وہ عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ اس نئی دعوت میں خرابی ہے ، اسی لیے تو قوم کے اکابر اس کو نہیں مان رہے ہیں ، لہذا تم لو گ بھی اس سے دور بھاگو ۔ سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :16 یعنی ان لوگوں نے اپنے آپ کو حق و باطل کا معیار قرار دے رکھا ہے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ جس ہدایت کو یہ قبول نہ کریں وہ ضرور ضلالت ہی ہونی چاہیے ۔ لیکن یہ اسے نیا جھوٹ کہنے کی ہمت نہیں رکھتے ، کیونکہ اس سے پہلے بھی انبیاء علیہم السلام یہی تعلیمات پیش کرتے رہے ہیں ، اور تمام کتب آسمانی جو اہل کتاب کے پاس موجود ہیں ، ان ہی عقائد اور ان ہی ہدایات سے بھری ہوئی ہیں ۔ اس لیے یہ اسے پرانا جھوٹ کہتے ہیں ۔ گویا ان کے نزدیک وہ سب لوگ بھی دانائی سے محروم تھے جو ہزاروں برس سے ان حقائق کو پیش کرتے اور مانتے چلے آ رہے ہیں ، اور تمام دانائی صرف انکے حصے میں آ گئی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: یہ تھا ان کافروں کا گھمنڈ کہ ہر قسم کی خوبیاں ہم میں پائی جاتی ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ ہم سے کم حیثیت ہیں، اس لئے اگر اسلام کوئی اچھی بات ہوتی تو یہ لوگ ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(46:11) الذین کفروا۔ میں اشارہ سرداران قریش ، رؤسا، یہود اور کفار مکہ کی طرف ہے۔ للذین۔ ای فی شأنہم ان کے متعلق۔ ان کی بابت۔ لو کان خیرا۔ ای لوکان ھذا الدین او ھذا القران خیرا۔ اگر یہ دین یا قرآن حق ہوتا، بہتر چیز ہوتا۔ خیرا خبر ہے کان کی، جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ ما سبقونا الیہ : جواب شرط۔ (یہ) ہم پر اس دین کی طرف بڑھنے میں سبقت نہ لے جاتے۔ اذ : جب، اسم ظرف زمان ہے اذ کبھی مفاجات یعنی کسی بات کے اچانک واقع ہونے کے لئے بھی آتا ہے اور کبھی تعلیل یعنی کسی چیز کی علت اور سبب بیان کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم (43:39) اور کچھ فائدہ نہیں تم کو آج کے دن جبکہ تم ظالم ٹھہر چکے۔ یعنی تمہارے ظلم کے سبب آج تم کو نفع کچھ بھی نہیں ہوسکتا : آیت ہذا میں اذ تعلیل کے لئے آیا ہے اذ لم یھتدوا بہ : کیونکہ قرآن سے ان کو ہدایت نصیب ہوئی (تو اب یہ کہیں گے) ۔ لم یھتدوا بہ۔ لم یھتدوا مضارع منفی حجد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب اھتداء (افتعال) مصدر۔ انہوں نے ہدایت نہ پائی۔ بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع دین یا قرآن ہے۔ فسیقولون۔ ف سببیہ ہے ۔ تو یہ اب کہیں گے (یعنی پہلا کلام اس کلام کا سبب ہے اور یہ کلام ہدایت یاب نہ ہونے کا نتیجہ ہے ) ظہور عناد اور گمراہی اسی بات کے کہنے کا سبب ہے ۔ ھذا۔ ای القران۔ افک قدیم۔ موصوف صفت : پرانا جھوٹ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ’ بلکہ ہم اسے پہلے اختیار کرنے والے ہوتے۔ “ یہ بات سردارن قریش مسلمانوں کے بارے میں اس لئے کہا کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو معزز اور جہاں دیدہ اور مسلمانوں کو ذلیل و ناتجربہ کار سمجھتے تھے کیونکہ اس زمانہ میں آنحضرت کی پیروی اختیار کرنے والے یا تو غریب طبقہ کے لوگ تھے یا نوجوان 9 گویا ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ معیار حق ہم ہیں۔ اگر ہم کسی چیز کو قبول کرلیں تو وہ حق ہے ورنہ سراسر باطل جس میں پرانے زمانے سے لوگ اپنی بیوقوفی کی بدلوت پھنستے رہے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١١ تا ٢٠ اسرار ومعارف۔ اور اپنی بڑائی کا غرور اس بات میں مبتلا کردیتا ہے کہ انسان اپنی پسند ہی کو معیار قرار دے دیتا ہے جس طرح ان کفار کا حال ہے اگر دین اسلام حق ہوتا اور اس میں بھلائی ہوتی تو ہم اس کو قبول کرتے ان غریب لوگوں کو ہم سے پہلے ایمان لانے کا موقع نہ ملتا یعنی جیسے ہم دنیا کمانے میں ان سے بہتر ہیں گویا ہر بہتری ہمارے ہی لیے ہے اور جب خود انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ یہ قدیمی مضامین اور پرانی باتوں کی طرف ایک جھوٹ ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی حق ہی نازل ہوا تھا مثلا تورات کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تو قوم موسیٰ کے لیے ہدایت اور ہزار رحمتوں کا باعث تھی کہ آخرت کے ساتھ ان کی دنیا کی کامیابی بھی اللہ کی بہت بڑی رحمت تھی یہ کتاب جو واضح عربی زبان میں ہے بھی اس کی تصدیق کرتی ہے اور خود اس کا نزول اس کی پیش گوئی کو سچا ثابت کرتا ہے یہ کتاب ظالموں اور کفار کو کفر کے انجام بد سے خبردار کررہی ہے محسنین اور ان کی تعریف۔ اور خوش خبری ہے ان لوگوں کے لیے جو خلوص سے اللہ پر ایمان لاکر اس کی اطاعت کرتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب مانا اور پورے خلوص کے ساتھ اپنی تمام امیدیں اس کی ذات سے وابستہ کردیں پھر عمر بھر ایمان وعمل پر استقامت کا مظاہرہ کیا یعنی اس پر جمے رہے ایسے لوگوں کونہ عذاب کا ڈر اور خطرہ ہوگا اور نہ دنیا کے چھوٹنے کا افسوس بلکہ وہ تو خوش وخرم جنت میں داخل ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ ان کے ایمان وعمل پر اللہ کا احسان ہوگا۔ اور اس کی جزا ہوگی ہم نے حقوق اللہ کے ساتھ بنی آدم کو حقوق العباد کا حکم بھی دیا جس میں سب سے بڑھ کر والدین کے ساتھ حسن سلوک ہے بالخصوص ماں کہ اس نے حمل پیدائش اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے تکلیف برداشت کی ۔ حمل اور رضاعت کی مدت۔ یہاں سے استدلال کیا گیا ہے کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے تو دوسری جگہ دودھ چھڑانے کو دوسال پر متعین فرمایا گویا حمل کی کم ازکم مدت چھ ماہ ہوسکتی ہے اس سے کم مدت کا پھر پورا اور مکمل بچہ نہ ہوگا ، حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت کی تعیین نہیں کی گئی کئی کئی سال بھی ہوسکتی ہے اور دودھ پلانے کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال امام ابوحنیفہ نے مزید چھ مال فرمایا مگر اس وجہ سے کہ اگر دو سال کا بچہ بھی ماں کے دودھ کے علاوہ کچھ نہ لے سے اور کمزور وغیرہ ہو تب ورنہ رضاعت سب کے نزدیک دو سال کے اندرثابت ہے اگر اس عمر کے بعد کسی بچے نے کسی دوسری ماں کادودہ پی لیا تورضاعت ثابت نہ ہوگی۔ حتی کہ وہ بچہ بلوغت کو پہنچتا ہے (بلوغت کی عمومی عمراٹھارہ سال شمار کی گئی ہیی) اور عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے زندگی کے تجربات اسے سبق سکھاتے ہیں اور پھر چالیس کا ہوجاتا ہے جو عمر کی پختگی کا زمانہ کہ جوش جوانی کی جگہ سمجھ بوجھ سے کام لینے لگتا ہے تو اسے والدین کی عظمت اور اولاد کو پالنے کی مشقت کا احساس شدید ہوتا ہے کہ اے رب کریم مجھے توفیق ارزاں کر کہ تو نے جس قدر نعمتیں عطا کی ہیں اور ان کا شکر ادا کرسکوں اور جو انعامات میرے بزرگوں اور والدین پر فرمائے ان کا بھی اور مجھے ایسے اعمال کی توفیق عطا فرما کہ جن کے باعث تیری رضا نصیب ہو اور میرے لیے میری اولاد کو نیک اور صالح بنادے میں آپ کے حضور تمام خطاؤں سے توبہ کرتا ہوں اور میں آپ کا اطاعت گزار ہوں اور فرمانبردار ہوں۔ ابوبکرصدیق (رض) قرآن حکیم سب انسانوں کے لیے ہے مگر مفسرین کرام کے مطابق اس آیہ مبارکہ کے مصداق اول ابوبکر صدیق ہیں کہ اٹھارہ برس کی عمر میں آپ کے ہمرکاب تجارتی قافلے میں سفر کیا گرویدہ ہو کر ہمیشہ ساتھ رہے ، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوائے نبوت فرمایا تو عمر ٣٨ برس تھی سب سے پہلے ایمان لائے اور آپ کے والدین بھی ایمان لائے اور ساری اولاد بھی حتی کہ اولاد کی اولاد بھی آپ کی نسل میں چار پشت صحابیت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کی نیکیاں ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتے ہیں یہ لوگ جنت کے باسی ہیں یہ اس وعدے کی سچائی کو پائیں گے جو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ کیا جاتا تھا اور ایسے بدنصیب جو مسلمان والدین کے گھر پیدا ہو کر بھی گمراہ ہوجائیں ( اور یہ مصیبت آج کل پھر عرام ہے اللہ اس سے پناہ دے) اور والدین کے سمجھانے پر انہیں جھڑک دیں اور کہیں کہ ہمیں ایسی باتوں کو ماننے کے لیے کہتے ہو کہ ہم دوبارہ زندہ ہوں گے ۔ صدیاں گزرچکیں بھلا مرکر کوئی زندہ ہوا ہے کبھی۔ اور والدین فریادیں کر رہے ہوں کہ اللہ کے لیے مان لے اور جان لے کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور ضرور سچ ثابت ہوگا اور وہ کہے یہ کہنے کی باتیں ہیں اور پہلوں کی اڑائی کہانیاں اور محض قصے ہیں یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن پر عذاب کا وعدہ حق ثابت ہوگا پہلی امتوں میں بھی خود وہ انسانوں میں ہوں یاجنات میں سے یہ سب خسارے میں رہنے والے ہوں گے ہر ہرقوم اور ہر ہرفرد کے لیے اپنا اپنا درجہ ہوگا ، عذاب وثواب دونوں میں جس درجے کے اعمال وہ کرے گا ان کے مطابق بدلہ دیاجائے گا اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے گی۔ کافر کی نیکی کا اجر۔ اور جس روز کافروں کو جہنم میں لایاجائے گا تو وہ کہیں گے ہم نے نیکیاں بھی تو کی تھیں جیسے ضرورت مند کی مدد یاہسپتال اور کنویں وغیرہ بنوادیے تو ارشاد ہوگا کہ تمہیں تمہاری نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا گیا تھا کہ تم آخرت کے تو قائل ہی نہ تھے کہ آخرت کی نیت سے نیکی کرتے تم نے کی بھی دنیا ہی کے لیے تھیں دولت کی غرض یاشہرت یا کسی مصیبت سے بچنے کے لیے سو وہ تمہیں وہاں بدلہ مل چکا اور تم اس سے فائدہ اٹھاچکے اب تمہیں ذلت کے عذاب میں مبتلا رکھاجائے گا کہ تم دنیا میں تکبر کیا کرتے تھے اور اللہ کی زمین پر ناحق اکڑتے تھے اور اللہ کی نافرمانی کیا کرتے تھے لہذا نافرمانی کا عذاب اور تکبر کے بدلے ذلت مسلط کی جائے گی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی ہم لوگ بڑے عاقل ہیں اور یہ لوگ کم عقل ہیں اور حق بات کو عاقل پہلے قبول کرتا ہے تو اگر یہ حق ہوتا تو ہم پہلے مانتے، جب ہم نے نہیں مانا تو یہ حق نہیں۔ یہ لوگ بےعقلی سے ادھر دوڑنے لگے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور قرآن مجید کا انکار کرنے والے ظالموں کا ایک اور بہانہ۔ اہل مکہ کا یہ بھی پراپیگنڈہ تھا کہ اگر قرآن من جانب اللہ ہوتا اور اس دین میں خیر پائی جاتی تو ہم مسلمانوں سے سبقت لے جاتے کیونکہ ہمیں اس میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی اس لیے ہم حلقہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس بہانے کی بنیاد پر اہل مکہ ایمان لانے سے محروم ہوئے۔ اس محرومی کی بنا پر کہتے یہ تو بڑا قدیمی جھوٹ ہے۔ اس یا وہ گوئی کے ساتھ مکہ والے یہ بات بھی کہا کرتے تھے کہ اس نبی پر ایمان لانے والے سماجی اور معاشی اعتبار سے نہایت ہی کم درجہ کے لوگ ہیں۔ اہل مکہ غرور میں آکر یہ بھی کہتے تھے کہ یہ قدیمی جھوٹ ہے اور پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں اس لیے ہم قرآن مجید اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائیں گے۔ مسائل ١۔ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور قرآن کا انکار کرنے والے سمجھتے ہیں کہ ہم اسلام اور مسلمانوں سے بہتر ہیں۔ ٢۔ حقیقت کا انکار کرنے والے اپنی گمراہی کے سبب قرآن اور اس کی دعوت کو قدیمی جھوٹ قرار دیتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن اور نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہود، نصاریٰ اور کفار کی یا وہ گوئی : ١۔ جب قرآن سنایا جاتا تو منافقین ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے تھے۔ (التوبہ : ١٢٧) ( یونس : ١٥) (ص : ٤) ٢۔ منافقین قرآن مجید کے نزول کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں اس سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ہے ؟ (التوبہ : ١٢٤) ٣۔ جب قرآن میں قتال کا تذکرہ ہوتا ہے تو منافق آپ کی طرف ایسے دیکھتے جیسے ان پر موت کی بیہوشی طاری ہوگئی ہو۔ ( سورة محمد : ٢٠) ٤۔ جب قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا ہے تو یہ بہانے تراشنے لگتے ہیں۔ (التوبہ : ٨٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کی کٹ حجتی کی تردید، توریت شریف کا امام اور رحمت ہونا، اہل ایمان اور اہل استقامت کا انعام الٰہیہ سے سرفراز ہونا انسانوں میں چھوٹائی بڑائی کو دیکھنے کا مزاج ہے مالدار لوگ اپنے آپ کو غریبوں سے بہتر اور زیادہ سمجھدار سمجھتے ہیں اسی طرح بعض قبائل اپنے قبیلے کو دوسرے قبیلے سے برتر جانتے ہیں اسی سلسلہ کی ایک بات اللہ نے یہاں نقل فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت توحید پر جب کچھ لوگ ایمان لے آئے تو جو لوگ کفر پر جمے رہے، انہوں نے کہا کہ عقل و فہم اور احوال دنیاویہ کے اعتبار سے ہم ان لوگوں سے بہتر ہیں ہم ہر خیر کے مستحق ہیں اگر یہ دین اچھا ہوتا جو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش کرتے ہیں تو ہم اس کی طرف سے سبقت کرتے جب اس کی طرف آگے نہ بڑھے اور یہ لوگ آگے بڑھ گئے جو دنیاوی احوال کے اعتبار سے پھسڈی ہیں اور ہم سے پیچھے ہیں تو معلوم ہوا کہ جس دین کو ان لوگوں نے قبول کیا ہے وہ بہتر نہیں ہے کوئی شخص ہم سے خیر میں آگے بڑھ جائے اس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ جن کافروں نے یہ بات کہی انہوں نے اپنی جانوں کو بہت بڑا سمجھا، تکبر نے ان کا ناس کھودیا اور ہدایت پر نہ آنے دیا اپنی جہالت اور حماقت سے کفر پر ہی جمے رہے اور ایمان قبول کرنے والوں کو حقیر سمجھا۔ جب قرآن کے ذریعے ہدایت کا راستہ نہ پایا تو قرآن کے بارے میں کہہ دیا کہ یہ پرانا جھوٹ ہے وہ لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ پرانے لوگوں کی باتیں ہیں جو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوالی ہیں۔ یہ سب کچھ عناد کے طور پر تھا۔ قرآن کے چیلنج ﴿فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ﴾ کا جواب تو نہ دے سکے البتہ اسے ﴿اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ﴾ كہہ کر کفر میں مزید ترقی کرلی دوسری آیت میں توریت شریف کا تذکرہ فرمایا کہ قرآن سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی گئی تھی جسے اللہ تعالیٰ نے مخاطبین کے لیے امام یعنی پیشوا اور رحمت بنایا تھا یہ کتاب یعنی قرآن گذشتہ کتب الٰہیہ کی تصدیق کرنے والا ہے عربی زبان میں ہے تاکہ یہ قرآن ظالموں کو یعنی مکہ معظمہ کے مشرکوں کو ڈرائے، نیز اچھے کام کرنے والوں کے لیے بشارت ہے۔ صاحب روح المعانی نے اس آیت کریمہ کا مطلب لکھا ہے کہ تم جو کہتے ہو کہ یہ قرآن پرانا جھوٹ ہے تمہارا یہ قول کیسے صحیح ہوسکتا ہے جبکہ تم یہ مان چکے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب نازل ہوئی اور قرآن اس کی تصدیق کرنے والا ہے دونوں کے مضامین متحد ہیں جیسے توریت شریف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی قرآن بھی اللہ تعالیٰ نے نازل فرما دیا اللہ تعالیٰ کی کتاب تسلیم کرنے سے کیا چیز مانع ہے جبکہ وہ عربی زبان میں ہے اس کے مضامین کو سمجھتے ہو اس جیسا بنا کر لانے سے عاجز ہوچکے ہوں۔ انتھی مع زیادة شرح من ھذا العبد الفقیر یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی اور یہ مطلب ہو کہ اس کتاب سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی کتاب نازل ہوئی تھی وہ پیشوا تھی اور رحمت تھی اس کو ماننے والے بھی تھے اور عمل کرنے والے بھی تھے اور ان کے مخالفین بھی تھے اسی طرح آپ پر جو کتاب نازل کی گئی اس کے ماننے والے بھی ہیں اور منکرین بھی، پس منکرین و مکذبین کی طرف سے جو ایذا پہنچے مثلاً اس کتاب کو پرانا جھوٹ بتائیں تو آپ صبر کریں جیسے موسیٰ (علیہ السلام) نے صبر کیا۔ اس کے بعد اصحاب استقامت کے بارے میں فرمایا کہ جن لوگوں نے ﴿ رَبُّنَا اللّٰهُ ﴾ کہا اللہ تعالیٰ کو رب ماننے کا اقرار کیا اور یہ اقرار زبانی نہیں تھا دل سے تھا اور محض وقتی طور پر نہ تھا اس پر وہ استقامت کے ساتھ جمے رہے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرتے رہے ان لوگوں کے لیے وعدہ ہے کہ انہیں کوئی خوف لاحق نہ ہوگا اور رنجیدہ بھی نہ ہوں گے۔ درحقیقت استقامت بہت بڑی چیز ہے حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلام کے احکام تو بہت ہیں مجھے آپ ایک بتادیں جسے میں مضبوطی سے تھامے رہوں آپ نے فرمایا : قُلْ اٰمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ کہ تم اٰمَنْتُ باللّٰہِ (میں اللہ پر ایمان لایا) كہہ دو پھر اس پر جمے رہو۔ ان حضرات کو بشارت دیتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ جنت والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے دنیا میں جو نیک اعمال کرتے ہیں انہیں ان کا بدلہ دیا جائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” وقال الذین۔ الایۃ “ یہ بھی شکوی ہے۔ للذین امنوا ای فی شانہم (روح) ۔ مشرکین اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ دین برکات، دنیوی عزت وشان اور مال و دولت کے تابع ہوتی ہیں اسلیے وہ ایمان والے غرباء کے بارے میں کہتے تھے کہ اگر قرآن پر ایمان لانا کوئی خیر و برکت کا کام ہوتا تو یہ غرباء اسے قبول کرنے میں ہم پر سبقت نہ لیجاتے، بلکہ ہم ان سے پہلے اسے قبول کرتے۔ ” و اذ لم یھتدوا بہ الخ “ اور وہ چونکہ قرآن پر ایمان لانے کی توفیق سے محروم کردیتے گئے ہیں، اس لیے کہتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔ یعنی پہلے لوگوں کی بنائی ہوئی باتیں ہیں جنہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا لیا ہے۔ یعنی اختلق ھذا اھل الزمان السابق ثم تلقاہ منہم محمد (مظہری ج 8 ص 401) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) اور دین حق کے منکر اہل ایمان کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ دین یا یہ قرآن بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس قرآن یا دین کی طرف ہم سے سبقت نہ کرتے اور آگے نہ بڑھتے اور جب ان منکروں کو اس قرآن سے ہدایت میسر نہ ہوئی تو اب یہی کہیں گے کہ یہ قرآن ایک پرانا جھوٹ ہے۔ یعنی عناد اور تکبر کی راہ سے یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ دین اسلام یا یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو ہم لوگ جو اہل عقل و دانش ہیں اور رئیس اور بڑے لوگ ہیں ہم اسکو ان سے پہلے قبول کرتے اور یہ اس کے قبول کرنے میں ہم سے آگے نہیں بڑھتے ان کا قبول کرلینا اور ہمارا قبول نہ کرنا یہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دین اور یہ قرآن کوئی بہتر چیز نہیں ہے ورنہ بڑھیا لوگ کیوں چھوڑتے اور ذلیل اور گھٹیا درجے کے لوگ کیوں قبول کرتے اور جب ان کو اس قرآن سے ہدایت نصیب نہ ہوئی تو ان کا عناد ظاہر ہوگیا اور یہ کہنے لگے یہ قرآن تو پرانا جھوٹ ہے۔ کہتے ہیں جب عرب کے بعض قبیلے جہنیہ اور مزینہ وغیرہ مسلمان ہوئے تو بعض دوسرے قبائل بنو عامر اور غطفان وغیرہ نے ان پر یہ طعن کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ بعض یہودیوں کے مسلمان ہونے پر دوسرے کافر یہود نے یہ کا تھا بعض نے کہا یہ مکہ کے مشرکوں کا قول ہے وہ مسلمانوں کے مقابلے میں کہا کرتے تھے کہ ہم اشراف ہیں اچھی چیز کے اشراف مستحق ہیں اگر اچھی ہوتی تو ہم اس کے قبول کرنے میں آگے ہوتے نہ کہ یہ ذلیل کم درجہ کے لوگ آگے ہوتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لوگ ہمیشہ ایسی باتیں کہا کرتے ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ جس طرح یہ مکہ کے کفار اساطیرالاولین اور ھذا افک قدیم کہہ رہے ہیں اسی طرح پہلے کافر بھی آسمانی کتابوں کے متعلق ایسا ہی کہا کرتے تھے۔