Surat ul Ehkaaf

Surah: 46

Verse: 13

سورة الأحقاف

اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۱۳﴾

Indeed, those who have said, "Our Lord is Allah ," and then remained on a right course - there will be no fear concerning them, nor will they grieve.

بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ توکوئی خوف ہوگا اورنہ غمگین ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا ... Verily, those who say: "Our Lord is (only) Allah," and thereafter stand firm, The explanation of this has been discussed earlier in Surah As-Sajdah. (41:30) Allah then says, ... فَلَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ ... on them shall be no fear, meaning, concerning their future. ... وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ nor shall they grieve. meaning, over what they have left behind. Allah continues, أُوْلَيِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨] اس آیت کی تفسیر کے لیے سورة حٰم السجدۃ کی آیت نمبر ٣٠ کے حواشی ملاحظہ فرمایئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا…: ان آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حم سجدہ (٣٠، ٣١) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The first two of the above verses are a complement to the previous verses which announce punishment for the unjust, and glad tidings of success and reward for the virtuous Muslims. In the first verse إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَ‌بُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا |"Surely, those who said, &Our Lord is Allah& then stayed firm, (46:13) |" all the basic faith and virtuous deeds required by Islam have been comprehensively referred to with great eloquence. The admission that رَ‌بُّنَا اللَّـهُ |"Our Lord is Allah.|" is the whole of faith, and staying firm in it includes holding on to it till death, as well as carrying out all its obligations. The meaning and importance of istiqamah (&Staying firm), have been explained in detail in the commentary of Sarah Ha Meem As-Sajdah (41:30). In this verse here, those who embrace faith and remain steadfast to it are being promised freedom from anxiety and suffering in future, and dispelling of their grief and sorrow over past sufferings. The following verse gives glad tidings of the permanence and continuity of this matchless comfort. In the four verses which follow, man is being directed to behave beautifully with his parents, and is being censured for ill-behaviour towards them; and in this context, the kindness of the parents to him and the parents& bearing hard labor and toiling for their children have been mentioned, and then man has been advised to repent and turn towards Allah Ta’ ala when he gets older. The connection between these verses and the earlier ones, according to Ibn Kathir, is that the usual style of the Holy Qur&an is to instruct man to behave beautifully, to serve and to obey his parents along with the call to obey and worship Allah Almighty. Many verses of the Holy Qur&an in various Surahs bear witness to this style. Here also, in the same way, mention has been made of beautiful behaviour for parents alongwith the call to believe in the Oneness of Allah Ta’ ala. And Qurtubi, with reference to Qushairi has stated the connection to be that there is a kind of solace in it for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he should continue calling people towards faith and &tauhid& (the Oneness of Allah) and should not be disheartened if some people do not accept his invitation, because men, by nature, are of diverse characteristics, and some of them do not refrain even from ill-treatment to their parents. (Allah knows best)

خلاصہ تفسیر جن لوگوں نے (صدق دل سے) کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے (یعنی توحید کو تعلیم رسول کے مطابق قبول کیا) پھر (اس پر متقیم رہے (یعنی اس کو چھوڑا نہیں) سو یقیناً (اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان لوگوں پر (آخرت میں) کوئی خوف (کی بات واقع ہونے والی) نہیں اور نہ وہ (وہاں غمگین ہوں گے (یہ تو ان کے مضرت سے بچنے کا بیان تھا، آگے اس منفعت کا ذکر ہے جو ان کو ملنے والی ہے کہ) یہ لوگ اہل جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے بعوض ان (نیک) کاموں کے جو کہ وہ کرتے تھے (جن میں سے ایمان لانے اور اس پر قائم رہنے کا اوپر ذکر ہے) اور (جس طرح ہم نے حقوق اللہ کو واجب کیا ہے جس کا ذکر ہوچکا اسی طرح حقوق العباد کو بھی واجب کیا ہے چناچہ ان میں سے ایک بہت بڑا حق والدین کا ہے اس لئے) ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے (اور بالخصوص ماں کے ساتھ اور زیادہ کیونکہ) اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور (پھر) بڑی مشقت کے ساتھ اس کو جنا اور اس کو پیٹ میں رکھنا اور اس کا دودھ چھڑانا (اکثر) تیس مہینہ (میں پورا ہوتا) ہے۔ (اتنے دنوں طرح طرح کی مصیبت اٹھاتی ہے اور کم و بیش ان مصیبتوں میں باپ کی بھی شرکت ہوتی ہے بلکہ اکثر امور کا انتظام عادتاً باپ ہی کو کرنا پڑتا ہے اور اپنے آرام میں خلل آجانا یہ دونوں کو مساوی طور پر پیش آتا ہے اس لئے بھی ماں باپ کا حق انسان پر زیادہ واجب کیا گیا ہے۔ غرض اس کے بعد نشو و نما پاتا ہے) یہاں تک کہ جب (نشو و نماپاتے پاتے) اپنی جوانی کو (یعنی بلوغ کو) پہنچ جاتا ہے اور (پھر بلوغ کے بعد ایک زمانہ میں) چالیس برس (کی عمر) کو پہنچتا ہے تو (جو سعادت مند ہوتا ہے وہ) کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھ کو اس پر مداومت دیجئے کہ میں آپ کی ان نعمتوں کا شکر کیا کروں جو آپ نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں (اگر ماں باپ مسلمان ہیں تب تو دین کی نعمت بھی، ورنہ دنیا کی نعمت تو ظاہر ہی ہے اور ماں باپ کی نعمت کا اثر اولاد پر بھی پہنچتا ہے۔ چناچہ ان کا وجود و بقا جو دنیاوی نعمت ہے اس کی بدولت تو خود اولاد کا وجود ہی ہوتا ہے اور دینی نعمت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت اس کے لئے علم و عمل کا ذریعہ بنتی ہے) اور (وہ یہ بھی کہتا ہے کہ مجھ کو اس کی بھی پابندی نصیب کیجئے کہ) میں نیک کام کیا کروں جس سے آپ خوش ہوں اور میری اولاد میں بھی میرے (نفع کے) لئے صلاحیت پیدا کر دیجئے (دنیاوی نفع یہ کہ دیکھ دیکھ کر راحت ہو اور دینی نفع یہ کہ اجر وثواب ہو اور) میں آپ کی جناب میں (گناہوں سے بھی) توبہ کرتا ہوں اور میں (آپ کا) فرمانبردار ہوں (مقصود اس سے اپنی غلامی کا اقرار ہے نہ کہ دعویٰ آگے ان اعمال کا نتیجہ فرماتے ہیں کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے نیک کاموں کو قبول کرلیں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر کردیں گے اس طور پر کہ یہ اہل جنت میں سے ہوں گے (اور یہ سب) اس وعدہ صادقہ کی وجہ سے (لہوا) جس کا ان سے (دنیا میں) وعدہ کیا جاتا تھا (یہاں تک تو محسنین اور خوش بخت لوگوں کا بیان ہوا۔ آگے ظالم اور بدبخت لوگوں کا ذکر ہے یعنی) اور جس نے (حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو پامال کردیا جیسا اس کے اس حال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے) اپنے ماں باپ سے کہا (جن کے حق کی حقوق العباد میں سب سے زیادہ تاکید ہے خصوصاً جبکہ وہ مسلمان بھی ہوں اور خصوصاً جبکہ وہ اس کو بھی اسلام کی دعوت دے رہے ہوں) کہ تف ہے تم پر کیا تم مجھ کو یہ وعدہ (یعنی خبر) دیتے ہو کہ میں (قیامت میں دوبارہ زندہ ہو کر) قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر گئیں (جن کو ہر زمانے میں ان کے پیغمبر یوں ہی خبریں دیتے چلے آئے مگر آج تک کسی بات کا ظہور نہ ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب باتیں ہی باتیں ہیں) اور وہ دونوں (غریب ماں باپ اس کے اس انکار سے کہ جو کفر عظیم ہے گھبرا کر) اللہ سے فریاد کر رہے ہیں (اور نہایت درد مندی سے اس سے کہہ رہے ہیں) کہ ارے تیرا ناس ہو ایمان لا (اور قیامت کو بھی برحق سمجھ) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو یہ (اس پر بھی) کہتا ہے کہ یہ بےسند باتیں اگلوں سے منقول چلی آرہی ہیں (مطلب یہ کہ ایسا بدنصیب ہے کہ کفر اور ماں باپ سے بدسلوکی دونوں کا مرتکب ہے، اور بدسلوکی بھی اس درجہ کی کہ ماں باپ کی مخالفت کے ساتھ ان سے کلام میں بھی بدتمیزی کرتا ہے۔ آگے ان اعمال کا نتیجہ فرماتے ہیں کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے حق میں بھی ان لوگوں کے ساتھ اللہ کا قول (یعنی وعدہ عذاب) پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے جن اور انسان (کفار) ہو گزرے ہیں بیشک یہ (سب) خسارہ میں رہے۔ اور (آگے مذکورہ بالا تفصیل کو خلاصہ و اجمال کے طور پر فرماتے ہیں کہ مذکورہ دونوں فریقوں میں سے) ہر ایک (فریق) کے لئے ان کے (مختلف درجے اس لئے ملیں گے) تاکہ اللہ تعالیٰ سب کو ان کے اعمال (کی جزا) پوری کردے اور ان پر (کسی طرح کا) ظلم نہ ہوگا اور (اوپر محسنین کی جزا میں تو جنت کو متعین طور پر سے بیان کردیا گیا تھا مگر ظالمین کا عذاب متعین کر کے نہیں بتایا گیا تھا اجمالاً فرما دیا تھا حق علیہم القول اور کانوا خسرین اس لئے آگے عذاب کی تعیین فرماتے ہیں کہ وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے جس روز کفار آگ کے سامنے لائے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا) کہ تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں حاصل کرچکے (یہاں کوئی لذت تم کو نصیب نہ ہوگی) اور ان کو خوب برت چکے (حتی کہ ان میں پڑ کر ہم کو بھی بھول گئے) سو آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی (چنانچہ سزا کے لئے آگ ہے اور ذلت میں سے یہ ملامت اور پھٹکار ہے) اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے (تکبر سے مراد ایسا تکبر ہے جو ایمان سے باز رکھے کیونکہ دائمی عذاب اسی کے ساتھ خاص ہے) اور اس وجہ سے کہ تم نافرمانیاں کیا کرتے تھے (اس میں کفر، فسق، ظلم اور ان کی تمام صورتیں داخل ہوگئیں۔ ) معارف و مسائل مذکورہ الصدر آیات میں پہلی دو آیتیں تو پچھلے ہی کلام کا تکملہ ہے جو اس سے پہلی آیات میں آیا ہے کہ ظالموں کے لئے وعید عذاب اور مؤمنین صالحین کے لئے فوز و فلاح کی خوشخبری تھی۔ پہلی آیت یعنی (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا میں بڑی بلاغت کے ساتھ پورے اسلام و ایمان اور اعمال صالحہ سب کو جمع کردیا گیا ہے۔ ربنا اللہ کا اقرار پورا ایمان ہے اور اس پر استقامت میں ایمان پر تادم مرگ قائم رہنا بھی شامل ہے اور اس کے مقتضیات پر پورا پورا عمل بھی۔ لفظ استقامت اور اس کی اہمیت کی تشریح و تفصیل سورة حم سجدہ میں بیان ہوچکی ہے۔ آیت مذکورہ میں ایمان و استقامت پر یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو نہ آئندہ اسکی تکلیف و پریشانی کا خوف ہوگا نہ ماضی کی تکلیف پر رنج و افسوس رہے گا۔ بعد کی آیت میں اس بےنظیر راحت کے دائمی اور غیر منقطع ہونے کی بشارت دی گئی ہے اس کے بعد کی چار آیتوں میں انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت اور اس کے خلاف کرنے کی مذمت اور ضمن میں انسان پر اسکے ماں باپ کے احسانات کا اور اولاد کے لئے سخت محنت و مشقت برداشت کرنے کا تذکرہ اور بڑی عمر کو پہنچنے کے ساتھ انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع وانابت کی خاص تلقین فرمائی گئی ہے۔ سابقہ آیات سے اس کی مناسبت اور ربط بقول ابن کثیر یہ ہے کہ قرآن کریم کا عام اسلوب یہ ہے کہ وہ جہاں انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے تو ساتھ ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسن سلوک اور خدمت و اطاعت کے احکام بھی دیتا ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات مختلف سورتوں میں اس پر شاہد ہیں۔ اسی سالوب کے مطابق یہاں بھی اللہ کی توحید کی دعوت کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر کیا گیا۔ اور قرطبی نے بحوالہ قشیری وجہ ربط یہ بیان کیا ہے کہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ایک تسلی کا پہلو ہے کہا آپ ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہیں کوئی قبول کرے گا کوئی نہ کرے گا اس سے مغموم نہ ہوں کیونکہ انسان کا حال یہی ہے کہ وہ سب اپنے والدین کے ساتھ بھی یکساں نہیں رہتے بعض اچھا سلوک کرتے ہیں اور بعض ان کے ساتھ بھی بدسلوکی کرتے ہیں۔ واللہ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ۝ ١٣ ۚ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) الاسْتِقَامَةُ يقال في الطریق الذي يكون علی خطّ مستو، وبه شبّه طریق المحقّ. نحو : اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] واسْتِقَامَةُ الإنسان : لزومه المنهج المستقیم . نحو قوله :إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] الاستقامۃ ( استفعال ) کے معنی راستہ خط مستقیم کی طرح سیدھا ہونے کے ہیں اور تشبیہ کے طور پر راہ حق کو بھی صراط مستقیم کہا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] ہم کو سدفھے راستے پر چلا ۔ اور کسی انسان کی استقامت کے معنی سیدھی راہ پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] جس لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا پے پھر وہ اس پر قائم رہے خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جو لوگ توحید خداوندی کے قائل ہوگئے اور پھر فرائض کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنے میں قائم رہے لومڑی کی طرح مکرو فریب نہیں کیا تو ان لوگوں کو عذاب کے آنے کا کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ پچھلی باتوں پر غمگین ہوں گے یا یہ مطلب کہ جس وقت دوزخی خوف زدہ ہوں گے انہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا اور جس وقت دوسرے لوگ غمگین ہوں گے انہیں کوئی غم نہیں ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣ { اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا } ” بیشک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے “ نوٹ کیجیے یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے پہلے ہم سورة حٰمٓ السجدۃ کی آیت ٣٠ میں پڑھ آئے ہیں۔ وہاں بھی میں نے عرض کیا تھا اور اب پھر دہرا رہا ہوں کہ اس ” استقامت “ کو صرف ایک لفظ مت سمجھئے ‘ غور کریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ اس ” استقامت “ میں ایک ” قیامت “ مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مان کر ہر حال میں اس کی رضا پر راضی رہنا ‘ اس کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لینا ‘ اسی پر توکل ّکرنا ‘ اس کے احکامات کی پابندی کرنا اور اس کی طرف سے عائد کردہ جملہ ذمہ داریوں کو نبھانے میں اپنا تن من دھن دائو پر لگا دینا وغیرہ سب اس استقامت میں شامل ہے۔ سورة حٰمٓ السجدۃ (آیت ٣٠) کے مطالعہ کے دوران ہم حضرت سفیان بن عبداللہ (رض) کی حدیث پڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی تھی کہ مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایک بات ایسی بتادیجیے جسے میں پلے ّباندھ لوں اور میرے لیے وہ کافی ہوجائے۔ اس کے جواب میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) ” کہو کہ میں ایمان لایا اللہ پر ‘ پھر اس پر جم جائو ! “ بہر حال اللہ پر ایمان لانے کے بعد استقامت یہی ہے کہ انسان کا دل اس سوچ پر جم جائے کہ اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور وہی حاجت روا ‘ وہی مشکل کشا ہے اور وہی میری دعائوں کا سننے والا ہے ‘ اور پھر انسان خود کو اللہ کے لیے وقف کر دے۔ ایک بندہ مومن کی اسی کیفیت کا نقشہ سورة الانعام کی اس آیت میں دکھایا گیا ہے : { قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے : میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ “ { فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ } ” تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔ “ ملاحظہ کیجیے سورة یونس کی آیت ٦٢ میں ” اولیاء اللہ “ کے مخصوص مقام و مرتبہ کے حوالے سے بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں : { اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ ” آگاہ ہو جائو ! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے “۔ گویا جو لوگ ایمان لائے اور پھر ایمان پر مستقیم ہوگئے وہ اولیاء اللہ ہیں اور آخرت میں انہیں کسی قسم کے خوف اور حزن و ملال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

18 For explanation, see E.N.'s 33 to 35 of Ha-Mim As-Sajdah.

سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :18 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، حٰم السجدہ ، حاشیہ نمبر 33 تا 35 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: ثابت قدم رہنے میں یہ بات بھی داخل ہے کہ مرتے دم تک اس ایمان پر قائم رہے، اور یہ بھی کہ اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

46:13) استقاموا ماضی جمع مذکر غائب، استقامۃ (استفعال) مصدر۔ وہ قائم رہے۔ وہ ثابت قدم رہے ۔ استقامۃ کے معنی راستہ کے خط مستقیم کی طرح سیدھا ہونے کے ہیں۔ بالکل سیدھا راستہ ، تشبیہ کے طور پر راہ حق کو بھی صراط مستقیم کہا گیا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے اھدنا الصراط المستقیم۔ (1:5) ہم کو سیدھے راستہ پر چلا۔ فلا خوف علیہم۔ یعنی مرنے کے بعد ان کو کوئی خوف نہ ہوگا۔ ولا ہم یحزنون۔ اور نہ کسی مرغوب شے کے فوت ہونے کا ان کو غم ہوگا۔ لا یحزنون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب حزن (باب سمع) مصدر، نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ۔ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا الخ (41:30) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تشریح ـ: آیات نمبر 13 تا 20 قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ نے اپنی اطاعت و عبادت اور فرماں برداری کا حکم دیتے ہوئے ہر شخص کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بہترین سلوک ، حسن معاملہ ، ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت و اطاعت کا حکم بھی دیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے بعد دنیا میں سب سے بڑا حق ماں اور باپ کا ہے۔ بلکہ ہر طرح کی ذہنی اذیتوں اور رنج و غم سے دور رہنے کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اپنے ماں بات کے ساتھ محبت و اطاعت کا حق ادا کردیاجائے۔ زیر مطالعہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک آدمی اللہ کے ایک ہونے کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کردے تو پھر زندگی کے آخری سانس تک اسی پر جما رہے اور اس راہ میں آنے والی ہر مصیبت کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ ایک مرتبہ حضرت سفیان ابن عبداللہ ثقفی (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے دین اسلام کی ایک ایسی جامع اور مکمل بات بتادیجئی کہ پھر اس کے بعد مجھے اس سلسلہ میں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ نے جواب فرمایا ” قل امنت باللہ ثم استقم “ یعنی تم یہ کہو کہ میں اللہ پر ایمان لے آیا اور پھر اس عقیدہ پر قائم رہو اور ڈٹے رہو۔ استقامت کیا ہے اس کی وضاحت حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے اس طرح فرمائی ہے کہ استقامت یہ ہے کہ اس پر جو بھی فرائض عائد ہوتے ہیں ان کو پوری طرح ادا کرنا اور اس پر قائم رہنا (ابن کثیر ) خلاصہ یہ ہے کہ ایمان قبول کرلینے کے بعد حالات کتنے بھی مخالف کیوں نہ وہوں آدمی کو ان حالات کا اس طرح ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے کہ عقیدے اور عمل میں ذرا بھی ڈگمگاہٹ آنے نہ پائے۔ اللہ نے اور اس کے رسول نے جس کام کے کرنے کا حکم دیا ہو اس کو اسی طرح کرنا اور جس چیز سے منع کردیا ہو اس سے رک جانا۔ یہ انسان کی اتنی بڑی کامیابی ہے کہ پھر نہ تو ماضی پر کوئی شرمندگی، پچھتاوا اور خوف ہوگا اور نہ اخرت کا رنج ہوگا۔ اس بات کو سورة حم المسجد میں ذرا سی تفصیل سے اسی طرح ارشاد فرمایا گیا ہے “ بیشک جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ڈٹے رہے تو ان پر اللہ کے فرشتے (رحمتیں لے کر ) نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم کسی طرح کا نہ تو خوف کرو اور رنج و غم ۔ اور اس جنت کے ملنے پر خوش ہوجائو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ہم دنیا اور آخرت (دونوں زندگیوں میں) تمہارے ساتھ ہوں گے۔ تمہیں ان جنتوں میں ہر وہ چیز دی جائے گی جو تمہارا دل چاہے گا اور جو مانگو گے وہ تمہیں ملے گا۔ یہ رحمٰن و رحیم اللہ کی طرف سے مہمان نوازی ہوگی۔ (حم السجدہ آیت نمبر 30 تا 32 ) (1) ۔ ان آیات میں ایمان پر استقامت کے ساتھ والدین اور خاص طور پر ماں کے ساتھ حسن سلوک، اور ان کی تعظیم و تکریم کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس بات کی وضاحت فر مادی گئی ہے کہ اگر والدین کا فرد مشرک ہوں تب بھی ان کی خدمت، حسن سلوک اور احترام میں کمی نہ لائی جائے۔ البتہ اگر والدین کفر و شرک یا گناہ کی زندگی اختیار کرنے کا حکم دیں تو اس سے انکار کردینا فرض ہے کیونکہ گناہ اور معیصت میں کسی کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ لیکن والدین کے کفر و شرک کی وجہ سے ان کے ساتھ بد سلوکی کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ (2) بیشک کائنات میں صرف ایک اللہ ہی ہے جو سب کی پرورش کر رہا ہے لیکن دنیا کے ظاہری اسباب میں ماں باپ کے دل میں اللہ نے اپنی اولاد کی ایسی محبت و شفقت ڈال دی ہے کہ ہر بچہ والدین کی شفقت و محبت کے سائے میں پل بڑھ کر جو ان ہوتا ہے۔ اس محبت و شفقت اور اولاد کے لئے تکلیفیں برداشت کرنے میں ماں اور باپ دونوں کا برابر کا درجہ ہوتا ہے لیکن اللہ نے مرد کو زیادہ طاقت ور اور حوصلہ مند بنایا ہے لیکن ماں تو صنف نازک ہونے کے باوجود بچے کی پیدائش سے لے کر اس کو جوان ہونے تک مشقت پر مشقت اٹھاتی ہے ۔ ایک ماں اپنے بچے کو نو مہینے یا اس کم یا زیادہ عرصے تک پیٹ میں رکھتی ہے۔ بوجھ پر بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے مگر ماں اس بوجھ کو اٹھائے پھرتی ہے، چلنے پھرنے ، سونے جاگنے اور ہر قدم اٹھانے میں انتہائی احتیاط کرتی ہے ، اس کو خون جگر پلاتی ہے، پھر زندگی اور موت کی جیسی تکلیف برداشت کرکے اس کو دنیا میں جیتے جاگتے انسان کی شکل میں لانے کا سبب بنتی ہے۔ کم از کم چھ مہینے یا اس سے کچھ زیادہ اپنے پیٹ میں رکھنے کے بعد دو سال تک اس کو دودھ پلاتی ہے ۔ وہ دودھ جو اس کی بہترین غذا ہوتی ہے۔ اگر بچہ کمزور یا بیمار ہے تو اس کو ڈھائی سال تک بھی دودھ پلاتی ہے۔ اگر بچہ بیمار ہوجائے تو ماں رات بھر بےچین و بےقرار رہتی ہے۔ یہ اور اسی طرح کی ہزاروں تکلیفیں ایک ماں ہی اٹھاسکتی ہے لہذا باپ سے زیادہ ماں اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی جائے۔ اسی لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ (ایک مومن کو) اپنی والدہ کے ساتھ بہترین معاملہ کرنا چاہیے۔ اپنی والدہ کی پھر اپنی والدہ کی پھر والدہ کی اس کے بعد والد کی اور اس کے بعد جو قریب ترشتہ دار ہوں ان کے ساتھ خدمت اور صلہ رحمی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ (بصری) ۔ (3) ان آیات میں تیسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ یوں تو زندگی میں ہوش سنبھالنے کے بعد سے اللہ کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کرنا فرض اور عین سعادت ہے لیکن جو ان ہونے کے بعد جب ایک آدمی چالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے جب زندگی میں ایک پختگی اور عقل آجاتی ہے تب اس کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ اب اس نے بڑھاپے کی طرف قدم رکھنا شروع کردیا ہے۔ ایسے شخص کو اس بات کا شدت سے احساس ہونا چاہیے کہ اگر اس نے اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا تو اس کے بڑھاپے میں اس کی اپنی اولاد ، اس کی بیوی اور رشتہ دار بھی اس کا لحاظ نہ کریں ۔ (4) ۔ چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اولاد دو طرح کی ہوتی ہے فرماں بردار اور نافرمان۔ فرماں بردار اور اطاعت گذار نیک اولاد کا انداز تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کرتی ہے اور اس کی زبان پر یہ بات ہوتی ہے کہ الہٰی ! آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر جو انعامات اور کرم کئے ہیں میں نہ صرف اس کا شکر ادا کرتا ہوں بلکہ مزید شکر ادا کرنے کی توفیق کی درخواست کرتا ہوں تاکہ میں حسن عمل میں سب سے آگے نکل جاؤں ۔ وہ اس بات کی بھی دعا کرتا ہے کہ الہٰی ! میری اولاد کی بھی اصلاح فرمادیجئے تاکہ وہ بھی آپ کے دین کی خدمت میں کام آسکے۔ وہ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے اس کی فرماں برداری کا اقرار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کی دعاؤں کو قبول کر کے ان کو بھول چوک سے درگذر کرتا ہوں اور ان سے یہ سچاوعدہ کرتا ہوں کہ میں ان کو جنت کی راحتیں ضرورعطا کروں گا۔ اس کے خلاف ایک اولاد ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اپنے والدین کے احسانات کو ماننے کے بجائے ان کے سامنے بےادبی اور گستاخی کا انداز اختیار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ مجھے تمہارے طریقے پسند نہیں ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ بھلا یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ جب میں مر جائو گا دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا۔ کیا مجھ سے پہلے بیشمار وہ لوگ جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی زندہ ہو کر واپس آیا ہے ؟ جب والدین اس کی جاہلانہ باتوں سے اس کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے بدنصیب ان حرکتوں سے باز آجا۔ اللہ پر ایمان لے آتو وہ اس کے جواب میں کہتا ہے یہ سب تو پرانے زمانے کے وہ قصے ہیں جن کو نجانے کب سے ہم سنتے آرہے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی نالائقیوں کی وجہ سے نجات کا سامان کرنے کے بجائے ہر طرح کے گناہ سمیٹتے رہتے ہیں۔ اس کے والدین اس کا کافرانہ باتوں کو سن کر اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں ۔ اور اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کم بخت تو اب بھی اپنی حرکتوں سے باز آجا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے جو پورا ہو کر رہے گا اس وقت تیرا کیا حال ہوگا۔ وہ یہی کہتا ہے کہ یہ سب پرانے زمانے کی باتیں ہیں یعنی ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح بہت سے جنات اور انسانوں میں سے انکار کرنے والوں کا انجام ہو اس کا بھی وہی برا انجام ہوگا ۔ وہ سخت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا اور اس کو سوائے بد نصیبی کے اور کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ آخر میں فرمایا کہ وہ لوگ جو سعادت مند ، نیک ، اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے والے ہیں اور ان کے برخلاف وہ لوگ جو اللہ کے نافرمان اور گستاخ ہیں ان کے اپنے اعمال کے مطابق درجات ہوں گے۔ کوئی جنت کی راحتوں سے لطف اٹھارہا ہوگا اور کوئی اپنے برے اعمال کی وجہ سے جہنم کی آگ میں جھلس رہا ہوگا اور اس طرح ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ حاصل کرسکے گا اور کسی پر کسی طرح کا ظلم اور زیادتی نہ ہوگی۔ کافروں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ جب جہنم کو ان کے سامنے لایا جائے گا کہ تم نے آخرت کی زندگی اور اس کی راحتوں کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی اور اس کی راحتیں حاصل کرنے میں اپنی ساری صلاحیتوں کا لگا کر خوب عیش و آرام سے زندگی گذارلی اور خوب شہرت اور عزت کمائی اب آخرت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ آج تمہارے اعمال کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے اس کو بھگتو۔ چونکہ تم دنیا کی ذرا سی دولت کی وجہ سے غرور وتکبر کا پیکر بنے ہوئے تھے آج تمہیں ایسا عذاب دیا جائے گا جو تمہیں رسوا اور ذلیل و خوار کر کے رکھ دے گا اور تم پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار برسے گی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی توحید کو حسب تعلیم رسول کے قبول کیا۔ 3۔ یعنی اس کو چھوڑا نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید جن لوگوں کو خوشخبری سناتا ہے ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب پر ایمان لاتے ہیں اور تادم آخر اس پر پکے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی تیسری آیت میں اپنی توحید کی یہ دلیل دی ہے کہ جو لوگ ” اللہ “ کے سوا دوسروں کو مانتے اور پکارتے ہیں۔ اے نبی ! ان سے فرمائیں کہ یہ زمینوں اور آسمانوں میں کسی ایسی چیز کی نشاندہی کریں جو ان کے معبودوں نے پیدا کی ہو یا اللہ کی کسی تخلیق میں وہ شریک کار ہوں۔ پھر فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب دی گئی اسی کی ہدایت اور دعوت یہ تھی کہ ” اللہ “ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور قرآن مجید بھی یہی دعوت دیتا ہے۔ دعوت توحید کا پہلا اور آخری تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ اس بات کا اقرار اور اظہار کریں وہ تادم آخر اس پر پکے رہیں ان کے لیے خوشخبری ہے کہ ان کی موت کے وقت سے لے کر 3 میں داخلے تک اور پھر جنت میں داخل ہونے کے بعد ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ ہی یہ حزن و ملال سے دوچار ہوں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ 3 میں بسیرا کریں گے جو ان کے اعمال کا صلہ ہوگا۔ اسی بات کو دوسرے مقام پر قدرے تفصیل کے ساتھ یوں بیان کیا گیا ہے۔ ” جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب ” اللہ “ ہے اور اس پر ثابت قدم رہے یقیناً ان پر ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو، اور نہ غم کرو، بلکہ اس 3 کے بارے میں خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے، وہاں جو چاہو گے تمہیں ملے گا اور جس کی خواہش کرو گے اسے پاؤ گے۔ یہ اس ” ب “ کی طرف سے مہمان نوازی ہے جو غفور ورحیم ہے۔ “ (حٰم السجدۃ ٣٠ تا ٣٢) (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ کَانَ آخِرُ کَلَامِہِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ) ( رواہ ابوداؤد : کتاب الجنائز، باب فی التلقین، قال الشیخ البانی صحیح) ” حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کا آخری کلام ” لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ “ ہو وہ 3 میں داخل ہوگا۔ “ (وَعَنْ سُفْےَانَ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ (رض) قَالَ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قُلْ لِّیْ فِی الْاِسْلَامِ قَوْلًا لَّا اَسْاَلُ عَنْہُ اَحَدًا بَعْدَکَ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ غَےْرَکَ قَالَ قُلْ اٰمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) (رواہ مسلم : باب جامِعِ أَوْصَافِ الإِسْلاَمِ ) ” حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کی مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کسی سے سوال کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے دوسری روایت میں ہے کہ ” آپ کے علاوہ “ کسی سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔ فرمایا ” اللہ “ پر ایمان لانے کے بعد اس پر قائم رہو۔ “ مسائل ١۔ جو لوگ اقرار کریں کہ ہمارا رب ” اللہ “ ہے پھر اس پر استقامت اختیار کریں انہیں کوئی خوف و خطر اور حزن و ملال نہیں ہوگا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی توحید پر قائم رہنے والوں کا صلہ 3 ہے۔ ٣۔ اللہ کی توحید کا اقرار کرنے اور تقاضے پورے کرنے والوں کو ہمیشہ ہمیش 3 میں بسایا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن توحید کی اہمیت اور اس کے فائدے : ١۔ توحید سب سے بڑی سچائی ہے۔ (المائدۃ : ١١٩، النساء : ٨٧، ١٢٢) ٢۔ توحید سب سے بڑی گواہی ہے۔ (آل عمران : ١٨) ٣۔ توحید عدل ہے۔ (آل عمران : ١٨) ٤۔ توحید دانائی ہے۔ (بنی اسرائیل : ٣٩) ٥۔ توحید سب سے بڑی نیکی ہے۔ (البقرۃ : ١٧٧) ٦۔ توحید فرمانبرداری کا نام ہے۔ (النحل : ٤٨، الرعد : ١٥) ٧۔ اللہ کی توحید پر استقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور وہ انہیں خوشخبری دیتے ہوئے کہتے ہیں غم وحزن میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں تمہارے لیے 3 ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( حٰم السجدۃ : ٣٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ١٣ تا ١٤ یہ کہ انہوں نے ربنا اللہ کہہ دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جو انہوں نے کہہ دی۔ یہ محض ایک عقیدہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی کا اقرار ہے۔ زندگی کی تمام سرگرمیوں کا نام ہے ربنا اللہ۔ اللہ ہی ہمارا رب ، ہماری سوچ میں بھی ، ہمارے نظریات میں بھی ، ہمارے اعمال میں بھی اور اس دنیا میں ہمارے پورے تعلقات میں بھی۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہم اسی کی بندگی کریں گے ، اسی سے ڈریں گے ، اسی پر بھروسہ کریں گے اور اسی کا رخ کریں گے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا تمام وسائل و ذرائع اسی کے ہیں اور اس کے سوا کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ کسی اور سے کوئی طمع و لالچ جائز ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہر سرگرمی ، ہر سوچ اور ہر تقدیر اسی کی طرف ہے ، اور ہر چیز میں اسی کی رضا مطلوب ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا فیصلے بھی وہی کرے گا ، شریعت اور قانون بھی اسی کا ہوگا اور ہدایت اور رہنمائی بھی اسی کی ہوگی۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا اس کائنات میں جو لوگ ہیں جو اشیاء ہیں وہ ہمارے ساتھ مربوط ہیں اور ان کے ساتھ ہمارا رابطہ ہے۔ کیونکہ ان کا رب بھی اللہ ہی ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے تو نظام زندگی بھی اسی سے اخذ کریں گے۔ یہ محض الفاظ ہی نہ ہوں گے محض عقیدہ ہی نہ ہوگا ، بلکہ ایک ربانی نظام ہوگا۔ ثم استقاموا (٤٦ : ١٣) “ اور پھر اس پر جم گئے ”۔ یہ دوسری شرط ہے۔ یہ اس طرح کہ وہ اسلامی نظام کو قبول کرنے کے بعد اس پر جم گئے۔ ان کا دل اور ان کا نفس اس پر مطمئن ہوگیا ، ان کے خیالات اور تصورات اس پر جم گئے ، ہر قسم کا اضطراب اور شک ختم ہوگیا ، تمام دوسری دلچسپیاں اور تمام ۔۔۔۔۔۔ ختم ہوگئیں ، تمام میلانات اور رحجانات ختم ہوگئے۔ یہ بات یاد رہے کہ دنیا کی دلچسپیاں متنوع اور جاذب ہوتی ہے اور کسی نظام اور طریق کار پر جم جانا بڑا ہی مشکل کام ہے ، جگہ جگہ انسانوں کے لئے پھسلنے کے مقامات ہوتے ہیں اور رکاوٹیں ہوتی ہیں اور ہر طرف سے اپنی طرف کھینچنے کے لئے آوازیں اٹھتی ہیں۔ ربنا اللہ (٤٦ : ١٣) “ اللہ ہی ہمارا رب ہے ” کہنے کے بعد پورا نظام زندگی اپنانا ہوتا ہے اور اس پر جم جانا جاتا ہے اور جن لوگوں کو اللہ نے معرفت حق اور استقامت علی الحق عطا کردی وہ بہت ہی بڑے اور مختار لوگ ہوتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے حق یہ فیصلہ صادر ہوا۔ فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون (٤٦ : ١٣) “ ان کے لئے نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ”۔ وہ کیوں ڈریں اور کیوں پریشان ہوں۔ جس نظام کو انہوں نے اپنایا ہے وہ اللہ تک پہنچانے والا ہے اور پر جم جانا اللہ کی طرف سے ضمانت ہے۔ اولئک اصحب ۔۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (٤٦ : ١٤) “ ایسے لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ” ۔ اپنے ان اعمال کے بدلے جو دنیا میں وہ کرتے رہے ”۔ یہاں یعملون کا لفظ ربنا اللہ کی توضیح کرتا ہے۔ اور ۔۔۔۔۔ منہاج پر استقامت کے معنی متعین کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا تمہارے اعمال اور تمہاری استقامت کی وجہ سے ہے۔ یعنی “ اللہ ہی ہمارا ہے ” کے منہاج اور اس پر استقامت سے عمل اور مسلسل عمل سامنے آئے اور وہ اس پر جم جائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین میں اعتقادات اور تصورات محض الفاظ ہی نہیں ہوتے کہ کوئی صرف کلمہ طیبہ کے الفاظ کہہ دے ، بلکہ کلمہ طیبہ ایک طریق زندگی ہے۔ اگر کلمہ محض الفاظ ہی ہوں ایک طرز زندگی نہ بنے تو وہ ارکان اسلام والا کلمہ نہ ہوگا۔ آج لاکھوں لوگ کلمہ طیبہ کی شہادت محض زبانی تو دیتے ہیں مگر یہ کلمہ ان کے ہونٹوں سے آگے نہیں بڑھتا اور یہ کلمہ ان کی زندگی کے اوپر کوئی اثر نہیں ڈالتا ، نہ اس کے اندر کوئی تغیر پیدا کرتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد وہ اسی طرح جاہلانہ زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح دوست بت برست کرتے ہیں ، جبکہ اپنے ہونٹوں سے وہ دن رات یہ کلمہ پڑھتے رہتے ہیں ، یہ الفاظ ہی ہوتے ہیں ، ان کی زندگیوں میں اس کا مفہوم نہیں ہوتا۔ لا الٰہ الا اللہ ، یا ربنا اللہ ، اللہ ہی ہمارا رب ہے ، یا اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ یہ تو دراصل زندگی گزارنے کا ایک طریقہ اور منہاج ہے۔ یہ مفہوم ہر مسلمان کو اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینا چاہئے تا کہ وہ پھر اس نظام کو تلاش کرے جس کی طرف ان کلمات میں اشارہ کیا گیا ہے اور وہ اس نظام پر غور کرے اور اسے قائم کرنے کی فکر کرے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:۔ ” ان الذین۔ الایۃ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا اور زندگی بھر اس پر قائم رہے اور اس کے عملی تقاضے پورے کرتے رہے قیامت کے دن وہ ہر قسم کے خوف وہراس اور اندوہ و غم سے محفوظ رہیں گے، ان کا ٹھکانہ جنت میں ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ انعام و اکرام انہیں ایمان و عمل کی جزا کے طور پر حاصل ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) بلا شبہ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر اس کہنے پر مضبوطی کے ساتھ قائم اور ثابت رہے سو نہ ان پر کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یعنی آخرت میں ہر قسم کے خوف اور غم سے محفوظ رہیں گے بشرطیکہ ربنا اللہ کا اقرار صدق دلی کے ساتھ ہو۔