Commentary The first two of the above verses are a complement to the previous verses which announce punishment for the unjust, and glad tidings of success and reward for the virtuous Muslims. In the first verse إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا |"Surely, those who said, &Our Lord is Allah& then stayed firm, (46:13) |" all the basic faith and virtuous deeds required by Islam have been comprehensively referred to with great eloquence. The admission that رَبُّنَا اللَّـهُ |"Our Lord is Allah.|" is the whole of faith, and staying firm in it includes holding on to it till death, as well as carrying out all its obligations. The meaning and importance of istiqamah (&Staying firm), have been explained in detail in the commentary of Sarah Ha Meem As-Sajdah (41:30). In this verse here, those who embrace faith and remain steadfast to it are being promised freedom from anxiety and suffering in future, and dispelling of their grief and sorrow over past sufferings. The following verse gives glad tidings of the permanence and continuity of this matchless comfort. In the four verses which follow, man is being directed to behave beautifully with his parents, and is being censured for ill-behaviour towards them; and in this context, the kindness of the parents to him and the parents& bearing hard labor and toiling for their children have been mentioned, and then man has been advised to repent and turn towards Allah Ta’ ala when he gets older. The connection between these verses and the earlier ones, according to Ibn Kathir, is that the usual style of the Holy Qur&an is to instruct man to behave beautifully, to serve and to obey his parents along with the call to obey and worship Allah Almighty. Many verses of the Holy Qur&an in various Surahs bear witness to this style. Here also, in the same way, mention has been made of beautiful behaviour for parents alongwith the call to believe in the Oneness of Allah Ta’ ala. And Qurtubi, with reference to Qushairi has stated the connection to be that there is a kind of solace in it for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he should continue calling people towards faith and &tauhid& (the Oneness of Allah) and should not be disheartened if some people do not accept his invitation, because men, by nature, are of diverse characteristics, and some of them do not refrain even from ill-treatment to their parents. (Allah knows best)
خلاصہ تفسیر جن لوگوں نے (صدق دل سے) کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے (یعنی توحید کو تعلیم رسول کے مطابق قبول کیا) پھر (اس پر متقیم رہے (یعنی اس کو چھوڑا نہیں) سو یقیناً (اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان لوگوں پر (آخرت میں) کوئی خوف (کی بات واقع ہونے والی) نہیں اور نہ وہ (وہاں غمگین ہوں گے (یہ تو ان کے مضرت سے بچنے کا بیان تھا، آگے اس منفعت کا ذکر ہے جو ان کو ملنے والی ہے کہ) یہ لوگ اہل جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے بعوض ان (نیک) کاموں کے جو کہ وہ کرتے تھے (جن میں سے ایمان لانے اور اس پر قائم رہنے کا اوپر ذکر ہے) اور (جس طرح ہم نے حقوق اللہ کو واجب کیا ہے جس کا ذکر ہوچکا اسی طرح حقوق العباد کو بھی واجب کیا ہے چناچہ ان میں سے ایک بہت بڑا حق والدین کا ہے اس لئے) ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے (اور بالخصوص ماں کے ساتھ اور زیادہ کیونکہ) اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور (پھر) بڑی مشقت کے ساتھ اس کو جنا اور اس کو پیٹ میں رکھنا اور اس کا دودھ چھڑانا (اکثر) تیس مہینہ (میں پورا ہوتا) ہے۔ (اتنے دنوں طرح طرح کی مصیبت اٹھاتی ہے اور کم و بیش ان مصیبتوں میں باپ کی بھی شرکت ہوتی ہے بلکہ اکثر امور کا انتظام عادتاً باپ ہی کو کرنا پڑتا ہے اور اپنے آرام میں خلل آجانا یہ دونوں کو مساوی طور پر پیش آتا ہے اس لئے بھی ماں باپ کا حق انسان پر زیادہ واجب کیا گیا ہے۔ غرض اس کے بعد نشو و نما پاتا ہے) یہاں تک کہ جب (نشو و نماپاتے پاتے) اپنی جوانی کو (یعنی بلوغ کو) پہنچ جاتا ہے اور (پھر بلوغ کے بعد ایک زمانہ میں) چالیس برس (کی عمر) کو پہنچتا ہے تو (جو سعادت مند ہوتا ہے وہ) کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھ کو اس پر مداومت دیجئے کہ میں آپ کی ان نعمتوں کا شکر کیا کروں جو آپ نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں (اگر ماں باپ مسلمان ہیں تب تو دین کی نعمت بھی، ورنہ دنیا کی نعمت تو ظاہر ہی ہے اور ماں باپ کی نعمت کا اثر اولاد پر بھی پہنچتا ہے۔ چناچہ ان کا وجود و بقا جو دنیاوی نعمت ہے اس کی بدولت تو خود اولاد کا وجود ہی ہوتا ہے اور دینی نعمت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت اس کے لئے علم و عمل کا ذریعہ بنتی ہے) اور (وہ یہ بھی کہتا ہے کہ مجھ کو اس کی بھی پابندی نصیب کیجئے کہ) میں نیک کام کیا کروں جس سے آپ خوش ہوں اور میری اولاد میں بھی میرے (نفع کے) لئے صلاحیت پیدا کر دیجئے (دنیاوی نفع یہ کہ دیکھ دیکھ کر راحت ہو اور دینی نفع یہ کہ اجر وثواب ہو اور) میں آپ کی جناب میں (گناہوں سے بھی) توبہ کرتا ہوں اور میں (آپ کا) فرمانبردار ہوں (مقصود اس سے اپنی غلامی کا اقرار ہے نہ کہ دعویٰ آگے ان اعمال کا نتیجہ فرماتے ہیں کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے نیک کاموں کو قبول کرلیں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر کردیں گے اس طور پر کہ یہ اہل جنت میں سے ہوں گے (اور یہ سب) اس وعدہ صادقہ کی وجہ سے (لہوا) جس کا ان سے (دنیا میں) وعدہ کیا جاتا تھا (یہاں تک تو محسنین اور خوش بخت لوگوں کا بیان ہوا۔ آگے ظالم اور بدبخت لوگوں کا ذکر ہے یعنی) اور جس نے (حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو پامال کردیا جیسا اس کے اس حال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے) اپنے ماں باپ سے کہا (جن کے حق کی حقوق العباد میں سب سے زیادہ تاکید ہے خصوصاً جبکہ وہ مسلمان بھی ہوں اور خصوصاً جبکہ وہ اس کو بھی اسلام کی دعوت دے رہے ہوں) کہ تف ہے تم پر کیا تم مجھ کو یہ وعدہ (یعنی خبر) دیتے ہو کہ میں (قیامت میں دوبارہ زندہ ہو کر) قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر گئیں (جن کو ہر زمانے میں ان کے پیغمبر یوں ہی خبریں دیتے چلے آئے مگر آج تک کسی بات کا ظہور نہ ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب باتیں ہی باتیں ہیں) اور وہ دونوں (غریب ماں باپ اس کے اس انکار سے کہ جو کفر عظیم ہے گھبرا کر) اللہ سے فریاد کر رہے ہیں (اور نہایت درد مندی سے اس سے کہہ رہے ہیں) کہ ارے تیرا ناس ہو ایمان لا (اور قیامت کو بھی برحق سمجھ) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو یہ (اس پر بھی) کہتا ہے کہ یہ بےسند باتیں اگلوں سے منقول چلی آرہی ہیں (مطلب یہ کہ ایسا بدنصیب ہے کہ کفر اور ماں باپ سے بدسلوکی دونوں کا مرتکب ہے، اور بدسلوکی بھی اس درجہ کی کہ ماں باپ کی مخالفت کے ساتھ ان سے کلام میں بھی بدتمیزی کرتا ہے۔ آگے ان اعمال کا نتیجہ فرماتے ہیں کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے حق میں بھی ان لوگوں کے ساتھ اللہ کا قول (یعنی وعدہ عذاب) پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے جن اور انسان (کفار) ہو گزرے ہیں بیشک یہ (سب) خسارہ میں رہے۔ اور (آگے مذکورہ بالا تفصیل کو خلاصہ و اجمال کے طور پر فرماتے ہیں کہ مذکورہ دونوں فریقوں میں سے) ہر ایک (فریق) کے لئے ان کے (مختلف درجے اس لئے ملیں گے) تاکہ اللہ تعالیٰ سب کو ان کے اعمال (کی جزا) پوری کردے اور ان پر (کسی طرح کا) ظلم نہ ہوگا اور (اوپر محسنین کی جزا میں تو جنت کو متعین طور پر سے بیان کردیا گیا تھا مگر ظالمین کا عذاب متعین کر کے نہیں بتایا گیا تھا اجمالاً فرما دیا تھا حق علیہم القول اور کانوا خسرین اس لئے آگے عذاب کی تعیین فرماتے ہیں کہ وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے جس روز کفار آگ کے سامنے لائے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا) کہ تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں حاصل کرچکے (یہاں کوئی لذت تم کو نصیب نہ ہوگی) اور ان کو خوب برت چکے (حتی کہ ان میں پڑ کر ہم کو بھی بھول گئے) سو آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی (چنانچہ سزا کے لئے آگ ہے اور ذلت میں سے یہ ملامت اور پھٹکار ہے) اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے (تکبر سے مراد ایسا تکبر ہے جو ایمان سے باز رکھے کیونکہ دائمی عذاب اسی کے ساتھ خاص ہے) اور اس وجہ سے کہ تم نافرمانیاں کیا کرتے تھے (اس میں کفر، فسق، ظلم اور ان کی تمام صورتیں داخل ہوگئیں۔ ) معارف و مسائل مذکورہ الصدر آیات میں پہلی دو آیتیں تو پچھلے ہی کلام کا تکملہ ہے جو اس سے پہلی آیات میں آیا ہے کہ ظالموں کے لئے وعید عذاب اور مؤمنین صالحین کے لئے فوز و فلاح کی خوشخبری تھی۔ پہلی آیت یعنی (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا میں بڑی بلاغت کے ساتھ پورے اسلام و ایمان اور اعمال صالحہ سب کو جمع کردیا گیا ہے۔ ربنا اللہ کا اقرار پورا ایمان ہے اور اس پر استقامت میں ایمان پر تادم مرگ قائم رہنا بھی شامل ہے اور اس کے مقتضیات پر پورا پورا عمل بھی۔ لفظ استقامت اور اس کی اہمیت کی تشریح و تفصیل سورة حم سجدہ میں بیان ہوچکی ہے۔ آیت مذکورہ میں ایمان و استقامت پر یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو نہ آئندہ اسکی تکلیف و پریشانی کا خوف ہوگا نہ ماضی کی تکلیف پر رنج و افسوس رہے گا۔ بعد کی آیت میں اس بےنظیر راحت کے دائمی اور غیر منقطع ہونے کی بشارت دی گئی ہے اس کے بعد کی چار آیتوں میں انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت اور اس کے خلاف کرنے کی مذمت اور ضمن میں انسان پر اسکے ماں باپ کے احسانات کا اور اولاد کے لئے سخت محنت و مشقت برداشت کرنے کا تذکرہ اور بڑی عمر کو پہنچنے کے ساتھ انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع وانابت کی خاص تلقین فرمائی گئی ہے۔ سابقہ آیات سے اس کی مناسبت اور ربط بقول ابن کثیر یہ ہے کہ قرآن کریم کا عام اسلوب یہ ہے کہ وہ جہاں انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے تو ساتھ ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسن سلوک اور خدمت و اطاعت کے احکام بھی دیتا ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات مختلف سورتوں میں اس پر شاہد ہیں۔ اسی سالوب کے مطابق یہاں بھی اللہ کی توحید کی دعوت کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر کیا گیا۔ اور قرطبی نے بحوالہ قشیری وجہ ربط یہ بیان کیا ہے کہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ایک تسلی کا پہلو ہے کہا آپ ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہیں کوئی قبول کرے گا کوئی نہ کرے گا اس سے مغموم نہ ہوں کیونکہ انسان کا حال یہی ہے کہ وہ سب اپنے والدین کے ساتھ بھی یکساں نہیں رہتے بعض اچھا سلوک کرتے ہیں اور بعض ان کے ساتھ بھی بدسلوکی کرتے ہیں۔ واللہ اعلم