Surat ul Ehkaaf

Surah: 46

Verse: 24

سورة الأحقاف

فَلَمَّا رَاَوۡہُ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِیَتِہِمۡ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا ؕ بَلۡ ہُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِہٖ ؕ رِیۡحٌ فِیۡہَا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿ۙ۲۴﴾

And when they saw it as a cloud approaching their valleys, they said, "This is a cloud bringing us rain!" Rather, it is that for which you were impatient: a wind, within it a painful punishment,

پھر جب انہوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے یہ ابر ہم پر برسنے والا ہے ( نہیں ) بلکہ دراصل یہ ابر وہ ( عذاب ) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ ... Then, when they saw it as a dense cloud approaching their valleys, meaning, when they saw the punishment coming towards them, they thought it to be clouds full of rain. That made them happy and joyful, because they had a drought and needed rain. ... قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ... they said: "This is a cloud bringing us rain!" Allah then said, ... بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ Nay, but it is that which you were asking to be hastened -- a wind wherein is a painful torment! meaning, this is the torment that you called for saying, "Bring to us what you promise us if you should be of the truthful."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

24۔ 1 عرصہ دراز سے ان کے ہاں بارش نہیں ہوئی تھی امنڈتے بادل دیکھ کر خوش ہوئے کہ اب بارش ہوگی بادل کو عارض اس لیے کہا ہے کہ بادل عرض آسمان پر ظاہر ہوتا ہے۔ 24۔ 1 یہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں کہا کہ یہ محض بادل نہیں ہے جیسے تم سمجھ رہے ہو۔ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم جلدی لانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ 24۔ 3 یعنی وہ ہوا جس سے اس قوم کی ہلاکت ہوئی ان بادلوں سے ہی اٹھی اور نکلی اور اللہ کی مشیت سے ان کو اور ان کی ہر چیز کو تباہ کرگئی اسی لیے حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر اس کے برعکس تشویش کے آثار نظر آتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عائشہ (رض) اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس بادل میں عذاب نہیں ہوگا جب کہ ایک قوم ہوا کے عذاب سے ہی ہلاک کردی گئی اس قوم نے بھی بادل دیکھ کر کہا تھا یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ البخاری۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب باد تند چلتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا پڑھتے اللھم انی اسالک خیرھا وخیر ما فیھا وخیر ما ارسلت بہ واغوذبک من شرھا وشر ما ارسلت بہ اور جب آسمان پر بادل گہرے ہوجاتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رنگ متغیر ہوجاتا اور خوف کی سی ایک کیفیت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طاری ہوجاتی جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اطمینان کا سانس لیتے (صحیح مسلم)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٧] قوم عاد پر عذاب بادل کی شکل میں نمودار ہوا تھا :۔ یہ لوگ بڑی مدت سے بارش کو ترس رہے تھے۔ قحط سالی کا دور دورہ تھا۔ ایک کالی گھٹا اٹھتی اور اپنے علاقہ کی طرف آگے بڑھتی دیکھی تو خوشی سے جھوم اٹھے کئی طرح کی امنگیں انگڑائیاں لینے لگیں۔ بارش کے بعد سیرابی اور خوشحالی کی توقعات باندھنے لگے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ یہ گھٹا باران رحمت کی گھٹا تھی یا ان کو نیست و نابود کرنے کے لیے اللہ کا عذاب کالی گھٹا اور آندھی کی صورت میں ان کے سروں پر پہنچنے والا تھا۔ یہ آندھی انتہائی تیز رفتار، سخت ٹھنڈی تھی جو آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل ان پر چلتی رہی۔ اس واقعہ سے جو سبق ہمیں ملتا ہے کہ کسی چیز کی ظاہری شکل و صورت پر ہی تکیہ نہ کرلینا چاہئے۔ بلکہ ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ چناچہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ جب کبھی ابر یا آندھی دیکھتے تو آپ کے چہرے پر فکر معلوم ہوتی۔ میں نے پوچھا : یارسول اللہ لوگ تو جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش ہوگی۔ لیکن میں دیکھتی ہوں کہ جب بادل آئے تو آپ کے چہرہ پر ناگواری معلوم ہوتی ہے ؟ && آپ نے فرمایا : && عائشہ (رض) ! مجھے یہ خطرہ لاحق ہوجاتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو۔ ایک قوم (عاد) پر آندھی کا عذاب آیا۔ جب انہوں نے بادل دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) فلما راہ عارضاً …:” راہ “ کی ضمیر عذاب کی طرف لوٹ رہی ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے آتے تھے۔ ” عرض یعرض “ سامنے آنا۔” عارض ‘ عظیم بادل جو پہاڑوں کی طرح افق پر سامنے آیا ہوا ہے۔ قوم کے ہود (علیہ السلام) کو جھٹلانے اور ان پر عذاب کے درمیان کا لمبا قصہ مختصر کر کے نتیجہ بیان فرمایا ہے۔ اس ایٓت میں ان کے الفاظ ” ھذا عارض مبطرنا “ (یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے) سے ظاہر ہے کہ اس عذاب سے پہلے مدت تک بارش بند رہی ہود (علیہ السلام) نے کفر و شرک سے توبہ اور اللہ تعالیٰ سے استغفار پر انہیں بارش کی بشارتھی دی۔ چناچہ فرمایا :(ویقوم استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدراراً ویزدکم قوۃ الی قوتکم ولاتتولوا مجرمین) (ھود : ٥٢)” اور اے میری قوم ! اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، وہ تم پر بادل بھیجے گا، جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمہیں تمہاری قوت کے ساتھ اور قوت زیادہ دے گا اور مجرم بنتے ہوئے منہ نہ موڑو۔ “ اس سے ظاہر ہے کہ انہیں بارش کی شدید ضرورت تھی، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور یہ کہہ کر عذاب لانے کا مطالبہ کرتے رہے کہ اگر سچے ہو تو عذاب لے آؤ، یعنی اگر فوراً عذاب نہیں لاتے تو تم جھوٹے وہ۔ ہود (علیہ السلام) کا جواب پیچھے گزر چکا ہے۔ آخر عذاب کا وقت آپہنچا اور اس نے بادل کی صورت میں ان کی وادیوں کی طرف بڑھنا شروع کیا، جب انہوں نے اس عذاب کو بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو بہت خوش ہوئے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا۔ (٢) بل ھوما استعجلتم بہ : ممکن ہے کہ انہیں یہ جواب ہود (علیہ السلام) نے دیا ہو یا صورت حال انہیں پکار کر کہہ رہی ہو۔ (٣) ریح فیھا عذاب الیم :” ریح “ میں تنوین تہویل کے لئے ہے، بلکہ یہ وہ ہے جسے تم نے جلدی طلب کیا ہے، یہ خوفناک آندھی ہے جس میں عذاب الیم ہے۔ اس کی کیفیت سورة قمر (١٩، ٢٠) اور سورة حاقہ (٦ تا ٨) میں تفصیل سیب یان ہوئی ہے۔ قوم عاد آندھی والے بادلوں کو بارش برسانے والے سمجھتے رہے، حالانکہ وہ ان پر آنے والا عذاب تھا۔ اس لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بادل اٹھتے یا ہوا تیز چلتی تو پریشان ہوجاتے تھے۔ عائشہ (رض) نے فرمایا :(مارایت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضا احکا حتی اری منہ لھواتہ، انما کان یتبسم ، قالت وکان اذا رای غیماً اور یحاً عرف فی وجھہ، قالت یا رسول اللہ ! ان الناس اذا راؤ الغیم فرحوا، رجاء ان یکون فیہ المطر، واراک اذا زایتہ عرف فی وجھلک الکراھیۃ فقال یا عائشۃ ! ما یومنی ان یکون فی ہ عذاب ، عدت قوم بالریح وقدر ای قوم العذاب فقاوال :(ھذا عارض منطرنا) (بخاری، التفسیر، تفسیر سورة ۃالاحقاف :3828: 3829)” میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ مجھے آپ کا تالو میں لٹکا ہوا گوشت کا ٹکڑا نظر آجائے، آپ صرف مسکراتے تھے۔ “ فرماتی ہیں :” اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بادل یا ہوا دیکھتے تو وہ آپ کے چہرے میں پہچانی جاتی۔ “ انہوں نے کہاک : یا رسول اللہ ! لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوجاتے ہیں، اس امید پر کہ اس میں بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے میں ناگواری پہچانی جاتی ہے ؟ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اے عائشہ ! مجھے اس سے کیا چیز بےخوفی کرتی ہے کہ اس میں کوئی عذاب ہو ؟ ایک قوم کو آندھی کے ساتھ عذاب دیا گیا اور ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہنے لگے :” یہ بادل ہم پر بارش برسانے والا ہے۔ “ عائشہ (رض) ہی بیان کرتی ہیں : (کان رسول اللہ صلی اللہ لعیہ وسلم اذا کان یوم الریح والغیم عرف ذلک فی وجھہ واقبل واذبر، فاذا مطرت سربہ وذھب عنہ ذلک فالت غائشۃ فسالتہ فقال انی خشیت ان یکون عذاباً سلط علی امنی ویقول اذا رای المطر، رحمۃ) (مسلم ، صلاۃ الاستسقائ، باب التعوذ عند رویۃ الریح …: ٨٩٩)” جب ہوا اور بادل والا دن ہوتا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے میں پہچانا جاتا اور آپ (بےچینی کے عالم میں) کبھی اندر آتے کبھی باہر جاتے، جب بارش سے برسنے لگتی تو خوش ہوجاتے اور آپ کی وہ کیفیت ختم ہوجاتی۔ “ عائشہ (رض) نے فرمایا، میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” میں ڈرتا ہوں کہیں وہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کیا گیا ہو۔ “ اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بارش کو دیکھتے تو کہتے :”(یا اللہ ! اسے) رحمت (بنا) ۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَــتِہِمْ۝ ٠ ۙ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا۝ ٠ ۭ بَلْ ہُوَمَا اسْـتَعْــجَلْتُمْ بِہٖ۝ ٠ ۭ رِيْحٌ فِيْہَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ ٢٤ ۙ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ عرض أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ، ( ع ر ض ) العرض اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت الشئی علی فلان اولفلان میں نے فلاں کے سامنے وہ چیزیں پیش کی ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا ۔ وادي قال تعالی: إِنَّكَ بِالْوادِ الْمُقَدَّسِ [ طه/ 12] أصل الوَادِي : الموضع الذي يسيل فيه الماء، ومنه سُمِّيَ المَفْرَجُ بين الجبلین وَادِياً ، وجمعه : أَوْدِيَةٌ ، نحو : ناد وأندية، وناج وأنجية، ويستعار الوادِي للطّريقة کالمذهب والأسلوب، فيقال : فلان في وَادٍ غير وَادِيكَ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وادٍ يَهِيمُونَ [ الشعراء/ 225] فإنه يعني أسالیب الکلام من المدح والهجاء، والجدل والغزل «2» ، وغیر ذلک من الأنواع . قال الشاعر : 460- إذا ما قطعنا وَادِياً من حدیثنا ... إلى غيره زدنا الأحادیث وادیاً «3» وقال عليه الصلاة والسلام : «لو کان لابن آدم وَادِيَانِ من ذهب لابتغی إليهما ثالثا» «4» ، وقال تعالی: فَسالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِها[ الرعد/ 17] أي : بقَدْرِ مياهها . ( و د ی ) الوادی ۔ اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی بہتا ہو اسی سے دو پہاڑوں کے درمیان کشادہ زمین کو وادی کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّكَ بِالْوادِ الْمُقَدَّسِ [ طه/ 12] تم ( یہاں ) پاک میدان ( یعنی ) طوی میں ہو ۔ اس کی جمع اودیتہ اتی ہے جیسے ناد کی جمع اندیتہ اور ناج کی جمع انجیتہ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَسالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِها[ الرعد/ 17] پھر اس سے اپنے اپنے انداز کے مطابق نالے بہ نکلے ۔ اور حدیث میں ہے ۔ لوکان لابن ادم وادیان من ذھب لابتغی ثالثا کہ اگر ابن ادم کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کا خواہش مند ہوگا ۔ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ مطر المَطَر : الماء المنسکب، ويومٌ مَطِيرٌ وماطرٌ ، ومُمْطِرٌ ، ووادٍ مَطِيرٌ. أي : مَمْطُورٌ ، يقال : مَطَرَتْنَا السماءُ وأَمْطَرَتْنَا، وما مطرت منه بخیر، وقیل : إنّ «مطر» يقال في الخیر، و «أمطر» في العذاب، قال تعالی: وَأَمْطَرْنا عَلَيْهِمْ مَطَراً فَساءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ [ الشعراء/ 173] ( م ط ر ) المطر کے معنی بارش کے ہیں اور جس دن بارش بر سی ہوا سے ويومٌ مَطِيرٌ وماطرٌ ، ومُمْطِرٌ ، ووادٍ مَطِيرٌ. کہتے ہیں واد مطیر باراں رسیدہ وادی کے معنی بارش بر سنا کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ مطر اچھی اور خوشگوار بارش کے لئے بولتے ہیں اور امطر عذاب کی بارش کیلئے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَأَمْطَرْنا عَلَيْهِمْ مَطَراً فَساءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ [ الشعراء/ 173] اور ان پر ایک بارش بر سائی سو جو بارش ان ( لوگوں ) پر برسی جو ڈرائے گئے تھے بری تھی ۔ عجل العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ، ( ع ج ل ) العجلۃ کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا العجلۃ من الشیطان ( کہ جلد بازی شیطان سے ہے قرآن میں ہے : سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤ نگا لہذا اس کے لئے جلدی نہ کرو ۔ الرِّيحُ معروف، وهي فيما قيل الهواء المتحرّك . وعامّة المواضع الّتي ذکر اللہ تعالیٰ فيها إرسال الرّيح بلفظ الواحد فعبارة عن العذاب، وكلّ موضع ذکر فيه بلفظ الجمع فعبارة عن الرّحمة، فمن الرِّيحِ : إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً [ القمر/ 19] ، فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً وَجُنُوداً [ الأحزاب/ 9] ، مَثَلِ رِيحٍ فِيها صِرٌّ [ آل عمران/ 117] ، اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ [إبراهيم/ 18] . وقال في الجمع : وَأَرْسَلْنَا الرِّياحَ لَواقِحَ [ الحجر/ 22] ، أَنْ يُرْسِلَ الرِّياحَ مُبَشِّراتٍ [ الروم/ 46] ، يُرْسِلُ الرِّياحَ بُشْراً [ الأعراف/ 57] . وأمّا قوله : يرسل الرّيح فتثیر سحابا «3» فالأظهر فيه الرّحمة، وقرئ بلفظ الجمع «4» ، وهو أصحّ. وقد يستعار الرّيح للغلبة في قوله : وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ [ الأنفال/ 46] ، وقیل : أَرْوَحَ الماءُ : تغيّرت ريحه، واختصّ ذلک بالنّتن . ورِيحَ الغدیرُ يَرَاحُ : أصابته الرِّيحُ ، وأَرَاحُوا : دخلوا في الرَّوَاحِ ، ودهن مُرَوَّحٌ: مطيّب الرّيح . وروي :«لم يَرَحْ رَائِحَةَ الجنّة» «5» أي : لم يجد ريحها، والمَرْوَحَةُ : مهبّ الرّيح، والمِرْوَحَةُ : الآلة التي بها تستجلب الرّيح، والرَّائِحَةُ : تَرَوُّحُ هواء . ورَاحَ فلان إلى أهله إمّا أنه أتاهم في السّرعة کالرّيح، أو أنّه استفاد برجوعه إليهم روحا من المسرّة . والرَّاحةُ من الرَّوْح، ويقال : افعل ذلک في سراح ورَوَاحٍ ، أي : سهولة . والمُرَاوَحَةُ في العمل : أن يعمل هذا مرّة، وذلک مرّة، واستعیر الرَّوَاحُ للوقت الذي يراح الإنسان فيه من نصف النّهار، ومنه قيل : أَرَحْنَا إبلَنا، وأَرَحْتُ إليه حقّه مستعار من : أرحت الإبل، والْمُرَاحُ : حيث تُرَاحُ الإبل، وتَرَوَّحَ الشجر ورَاحَ يَراحُ : تفطّر . وتصوّر من الرّوح السّعة، فقیل : قصعة رَوْحَاءُ ، وقوله : لا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ [يوسف/ 87] ، أي : من فرجه ورحمته، وذلک بعض الرّوح . الریح کے معنی معروف ہیں ۔ یعنی ہوا متحرک کو کہتے ہیں عام طور پر جن مواضع میں ( رسال الریح صیغہ مفرد کے ساتھ مذکور ہے وہاں عذاب مراد ہے اور جہاں کہیں لفظ جمع کے ساتھ مذکور ہے وہاں رحمت مراد ہے ۔ چناچہ ریح کے متعلق فرمایا : إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً [ القمر/ 19] ہم نے ان پر ایک زنانے کی اندھی چلائی ۔ فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً وَجُنُوداً [ الأحزاب/ 9] تو ہم نے ان پر آندھی چلائی ۔ مَثَلِ رِيحٍ فِيها صِرٌّ [ آل عمران/ 117] مثال اس ہوا کی ہے ۔ جس میں بڑی ٹھر بھی ہوا۔ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ [إبراهيم/ 18] اس کو سخت ہوا لے اڑی ۔ اور ریاح ( جمع کا لفظ ) کے متعلق فرمایا : وَأَرْسَلْنَا الرِّياحَ لَواقِحَ [ الحجر/ 22] اور ہم ہی ہوا کو چلاتے ہیں جو بادلوں کو پانی بار وار کرتی ہے ۔ أَنْ يُرْسِلَ الرِّياحَ مُبَشِّراتٍ [ الروم/ 46] کہ وہ ہواؤں کو اس غرض سے بھیجتا ہے کہ لوگوں کو بارش کی خوشخبری پہنچائیں ۔ يُرْسِلُ الرِّياحَ بُشْراً [ الأعراف/ 57] باران رحمت کے آگے آگے ہواؤں کو بھیجتا ہے تاکہ لوگوں کو مینہ کی آمد کی خوشخبری پہنچادیں ۔ اور آیت ير سل الرّيح فتثیر سحابا «3»اور وہ قادرمطلق ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ ہوائیں بادلوں کو ان کی جگہ سے ابھارتی ہے ۔ میں بھی چونکہ معنی رحمت اغلب ہے اس لئے یہاں لفظ جمع کی قرات زیادہ صحیح ہے ۔ کبھی مجازا ریح بمعنی غلبہ بھی آجاتا ہے چناچہ فرمایا : وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ [ الأنفال/ 46] اور تمہاری وہوا اکھڑ جائے گی ۔ محاورہ : اروح الماء پانی متغیر ہوگیا خاص کر بدبو دار ہونے کے وقت بولتے ہیں ۔ ریح الغد یرییراح جوہڑ پر ہوا کا چلنا ۔ اور اراحوا کے معنی رواح یعنی شام کے وقت میں داخل ہونے کے ہیں اور خشبودار تیل کو دھن مروح کہا جاتا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے ۔ ( 163) لم یرح راحئتہ الجنتہ کہ وہ جنت کی کو شبوتک نہیں پائے گا ۔ المروحبتہ ہوا چلنے کی سمت المروحتہ ( آلہ ) پنکھا ۔ الرئحتہ مہکنے والی خوشبو ۔ محاورہ ہے ۔ راح فلان الیٰ اھلہ ( 1) فلاں اپنئ اہل کیطرف ہوا کی طرح تیزی کے ساتھ گیا ۔ ۔ ( 2) اس نے اپنے اہل و عیال میں پہنچ کر راحت حاصل کی ۔ الرحتہ آرام ۔ یہ بھی روح سے موخوذ ہے ۔ مشہور محاورہ ہے ۔ افعل ذالک فی مراح وراح کہ آرام سے یہ کام کرو ۔ المراوحتہ کے معنی ہیں دو کاموں کو باری باری کرنا ۔ اور استعارہ کے طور پر رواح سے دوپہر کو آرام کا وقت مراد لیا جاتا ہے اور اسی سے کہا جاتا ہے ۔ ارحنا ابلنا کہ ہم نے اونٹوں کو آرام دیا ( یعنی بازہ میں لے آئے ) اور پھر ارحت الابل سے بطور استعارہ کہا جاتا ہے ۔ کہ میں نے اس کا حق واپس لوٹا دیا اور مراح باڑے کو کہا جاتا ہے اور تروح الشجرہ وراح یراح کے معنی درخت کے شکوفہ دار ہونے اور نئے پتے نکالنے کے ہیں اور کبھی روح سے وسعت اور فراخی کے معنی بھی مراد لئے جاتے ہیں چناچہ کہا جاتا ہے ۔ قصعتہ روحاء فراخ پیالہ اور آیت کریمہ : لا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ [يوسف/ 87] اور خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ ۔ میں بھی وسعت رحمت مراد ہے جو لفظ روح سے مفہوم ہوتی ہے ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

چناچہ جب انہوں نے اس بادل کو اپنی وادیوں کے مقابل آتے دیکھا تو اس کی ہوا اور ہوا کے آثار دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ بادل ہماری کھیتیوں پر برسے گا، حضرت ہود نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے اس میں ایک دردناک عذاب ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤ { فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ } ” پھر جب انہوں نے اس ( عذاب ) کو دیکھا بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے “ { قَالُوْا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا } ” تو انہوں نے کہا : یہ تو بادل ہے جو ہم کو سیراب کرنے والا ہے۔ “ وہ اسے دیکھ کر خوشیاں منانے لگے کہ ابھی بارش ہوگی اور جل تھل ایک ہوجائیں گے۔ { بَلْ ہُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ } ” نہیں ! بلکہ یہ تو وہ شے ہے جس کے بارے میں تم نے جلدی مچارکھی تھی ! “ تم لوگ خود ہی کہتے تھے نا کہ لے آئو ہم پر عذاب اگر لاسکتے ہو ‘ تو دیکھ لو : { رِیْحٌ فِیْہَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ } ” یہ وہ جھکڑ ّہے جس میں بہت دردناک عذاب ہے۔ “ اس تیز ہوا کے جھکڑ کی کیفیت سورة الحاقہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے : { سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍلا حُسُوْمًا لا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعٰیلا کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ } ” اللہ نے مسلط کیے رکھا اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن ‘ نیست و نابود کردینے کے لیے ‘ پس تم دیکھتے اس قوم کو اس میں پچھڑے ہوئے جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28 Here, there is no indication as to who gave them this answer. However, the style shows explicitly that this was the answer they were given by the existing conditions. They thought it was a cloud which was coming to give rain to their valleys, but in reality it was a windstorm that was coming on to completely exterminate them.

سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :28 یہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ ان کو یہ جواب کس نے دیا ۔ کلام کے انداز سے خود بخود یہ مترشح ہوتا ہے کہ وہ جواب تھا جو اصل صورت حال نے عملاً ان کو دیا ۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ بادل ہے جو ان کی وادیوں کو سیراب کرنے آیا ہے اور حقیقت میں تھا وہ ہوا کا طوفان جو انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے چلا آ رہا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(46:24) فلما راوہ۔ فلما۔ پھر جب : راد ماضی جمع مذکر غائب، راوماضی جمع مذکر غائب، رؤیۃ (باب فتح) مصدر۔ رأو اصل میں رایوا تھا۔ ی متحرک ما قبل مفتوح یاء کو الف سے بدلا۔ اب الف اور وائو دو ساکن جمع ہوئے الف کو حذف کردیا۔ راوا ہوگیا۔ انہوں نے دیکھا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب بما تعدنا میں ما کی طرف راجع ہے۔ عارضا۔ ابر، بادل۔ عرض سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ عارض وہ بادل جو فضا کے عرض میں پھیلتا اور نمایاں ہوتا ہے۔ منصوب بوجہ حال ہونے کے یا بوجہ تمیز ہونے کے۔ مستقبل اودیتہم : مستقبل اسم فاعل واحد مذکر استقبال (استفعال) مصدر۔ سامنے آنے والا۔ مضاف۔ اودیتہم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ مستقبل کا۔ اودیۃ جمع ہے وادی کی۔ نالے۔ وادیاں۔ ان کی وادیوں کی طرف بڑھتا ہوا ۔ ان کی وادیوں کے مقابل آتا ہوا۔ دیکھا۔ ممطرنا۔ ممطر اسم فاعل واحد مذکر۔ امطار (افعال) مصدر۔ مطر مادہ۔ بارش کرنے والا۔ مینہ برسانے والا۔ مضاف ۔ نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ ہمارا مینہ برسانے والا۔ ہمارے لئے مینہ برسانے والا۔ قالوا ھذا عارض ممطرنا۔ کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے۔ مستقبل اودیتہم : اور ممطرنا ہر دو میں اضافت لفظیہ ہے (روح المعافی، بیضاوی) اضافت مجازیہ غیر معترفہ ہے (کشاف) بل ھو سے قبل کلام مقدرہ ہے ای قال ھود بل ھو : قال اللہ ردا علیہم (الخازن) بل حرف اضراب ہے ما قبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے۔ یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی سرکش قوم کے اس قول پر کہ یہ افق سے امنڈتا ہوا جو بادل ہماری وادیوں کی جانب بڑھتا آرہا ہے ہمارے لئے مینہ لایا ہے۔ فرمایا (نہیں نہیں ۔ ایسا نہیں بارش لانے والا بادل تو کہاں) بلکہ یہ تو وہی چیز ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے۔ ما استعجلتم بہ۔ ما موصولہ استعجلتم ماضی جمع مذکر حاضر ۔ استعجال (استفعال) مصدر بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما کی طرف راجع ہے۔ جس کے جلدی آنے کے لئے تم مصر تھے۔ عجلت چاہتے تھے۔ ریح۔ یہ ما یا ھو سے بدل ہے فیھا عذاب الیم صفت ہے ریح کی یہ وہ آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ یا یہ خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے۔ ایھی او ھو ریح۔۔ الخ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی بہت خوش ہوئے کہ بادل آیا جو ہمیں سیراب رے گا۔ ممکن ہے کہ انہیں یہ جواب حضرت ہود نے دیا ہو یا صورت حال انہیں پکار کر یہ کہہ دی ہو۔ 6 ممکن ہے کہ انہیں یہ جواب حضرت ہود نے دیا ہو یا صورت حال انہیں پکار کر یہ کہہ رہی ہو

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم کے مطالبہ پر عذاب نازل ہونا اور قوم عاد کا انجام۔ نامعلوم حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کس کس انداز میں اور کتنی مدت سمجھایا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کی کوشش فرمائی لیکن ناہنجار قوم نے بالآخر حضرت ھود (علیہ السلام) کو بدعا کرنے پر مجبور کردیا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے جب پوری طرح محسوس کیا کہ یہ قوم کسی طرح سدھرنے کے لیے تیار نہیں تو انہوں نے قوم کے اصرار پر اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کی کہ اب اس قوم کا فیصلہ ہوجانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی بدعا قبول کی اور قوم عاد پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ بڑی مدت کے بعد ایک دن قوم عاد پر کالے بادل اس طرح امڈ کر آئے کہ چند لمحوں میں قوم عاد کے پورے علاقے پر چھا گئے۔ قوم عادنے گھنے اور کالے بادل دیکھ کر انتہائی خوشی محسوس کی اور یہ امید لگا بیٹھے کہ ابھی موسلا دھار بارش ہونے والی ہے۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ کالے بادل ان پر پانی برسانے کی بجائے ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوں گے۔ کالے اور گھنے بادلوں کے ساتھ اس قدر تیز آندھی چلی کہ جو اپنے گھر سے باہر نکلتا تھا ہوا اسے کئی فٹ اوپر اٹھا کر زمین پر یوں دے مارتی کہ اس شخص کا کچونبر نکل جاتا۔ یہ زمین پر اس طرح گِر پڑے جیسے کھجور کے تنے زمین پر پڑے ہوتے ہیں۔ (وَاَمَّا عَادٌ فَاُہْلِکُوْا بِرِیحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمَانِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُومًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعَی کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ) (الحاقۃ : ٦، ٧) ” اور عاد ایک شدید آندھی سے تباہ کر دئیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آندھی کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط کیے رکھا آپ وہاں ہوتے تو دیکھتے کہ وہ اس طرح پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔ “ قوم عاد جن بادلوں کے بارے میں ابر رحمت کی امید لگائے ہوئے تھی وہی بادل ان کی تباہی کا سبب بنے۔ آندھی نے ان لوگوں کو اس طرح تباہ و برباد کیا کہ دیکھنے والا یوں محسوس کرتا تھا جیسے ان کے مکانوں میں کوئی بسا ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو اس طرح ہی سزا دیتا ہے۔ (عَنْ عَآءِشَۃَ (رض) قَالَتْ مَا رَاَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضَاحِکًا حَتّٰی اَرٰی مِنْہُ لَھَوَاتِہٖ اِنَّمَا کَانَ ےَتَبَسَّمُ فَکَانَ اِذَا رَاٰی غَےْمًا اَوْ رِےْحًا عُرِفَ فِیْ وَجْھِہٖ ) (رواہ البخاری : باب التبسّم والضحک) ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی کھل کھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر مسکرایا کرتے تھے۔ آندھی یا بارش کے وقت آپ کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوجاتے تھے۔ “ مسائل ١۔ قوم عاد نے جن بادلوں پر بارش کی امید لگائی تھی وہی بادل ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر سات راتیں اور آٹھ دن آندھی چلائی اور انہیں پٹک پٹک کر دے مارا۔ ٣۔ آندھی اور بادلوں کی کڑک نے قوم عاد کو اس طرح کردیا جیسے وہ اپنے گھروں میں کبھی بسے ہی نہیں تھے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن قوم عاد کے جرائم : ١۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : ١٣٩) ٢۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے مزین کردیا۔ (العنکبوت : ٣٨) ٣۔ قوم عاد نے زمین میں تکبر کیا اور کہا کہ ہم سے طاقتور کوئی نہیں۔ (حٰم السجدۃ : ١٥) ٤۔ قوم عاد کی تباہی کا سبب رسولوں کی نافرمانی تھی۔ (ھود : ٥٩) ٥۔ قوم عاد سفّاک اور بڑے ظالم لوگ تھے۔ ( النجم : ٥٢) ٦۔ قوم عاد نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاحقاف : ٢٢) ٧۔ قوم عاد نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا۔ قوم عاد کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٦٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَتِهِمْ ﴾ (الآیۃ) ان لوگوں پر عذاب آنے کی یہ صورت ہوئی کہ سخت گرمی کی وجہ سے گھروں کو چھوڑ کر باہر میدان میں آگئے اسی حال میں انہیں ایک بادل آتا ہوا نظر آیا اسے دیکھہ کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ بادل تو ہم پر پانی برسائے گا وہ پانی برسانے والا بادل کہاں تھا وہ تو وہی عذاب تھا جس کی جلدی مچا رہے تھے وہ عذاب ہوا کی صورت میں آگیا یہ ہوا بہت سخت تھی جو اپنے رب کے حم سے ہر چزد کو ہلاک کرتی جا رہی تھی۔ سورة ذاریات میں فرمایا ﴿ مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِؕ٠٠٤٢﴾ (وہ ہوا جس چیز پر پہنچتی تھی اسے ایسا بنا کر رکھ دیتی تھی جسے ْ چورا ہو) سورة الحاقہ میں ٍ فرمایا ﴿وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍۙ٠٠٦ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّ ثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ ١ۙ حُسُوْمًا ١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍۚ٠٠٧ فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ ٠٠٨﴾ (اور لن ص عاد سو ہلاک کےَ گئے تیز ہوا کے ذریعہ، اللہ نے ان پر اس ہوا کو سات دن آٹھ رات لگاتار مسخر فرما دیا، اے مخاطب ! تو دیکھے َ قوم کو اس ہوا میں پچھاڑے ہوئے پڑے ہیں ٦ گویا کہ وہ گری ہوئی کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں، کیا تو ان میں دیکھتا ہے کوئی باقی رہا۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ ” فلما راوہ “ جب عذاب کا وقت آگیا اور سیاہ بادل کی صورت میں اس کے آثار نمودار ہونے لگے اور بادل ان کی وادیوں پر منڈلانے لگے تو وہ بہت خوش ہوئے کیونکہ عرصہ سے بارش نہیں ہوئی تھی اس لیے بادلوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ بادل آگئے ہیں اور آج خوب بارش ہوگی۔ ” بل ھو ما استعجلتم بہ “ تو زبان حال نے ان سے کہا نہیں نہیں، یہ باران تحمت لے کر نہیں آئے، بلکہ ان بادلوں میں وہ عذاب ہے جس کے جلدی آنے کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔ یہ ایک ہولناک طوفان باد ہے جو اللہ کے قہر و عذاب کو لے کر آرہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہر چیز کو تہس نہس کرتا چلا جائیگا، چناچہ وہ اس طرح مٹ مٹا گئے کہ ان کے مکانوں کے سوا کوئی چیز وہاں نظر نہیں آتی تھی مجرموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ قوم ہود پر جب ہمارا عذاب آیا تو جن معبودانِ باطلہ کو وہ پکارا کرتے تھے ان میں سے کسی نے بھی ان کی مدد نہ کی اور اللہ کے عذاب سے ان کو نہ چھڑایا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(24) پھر جب انہوں نے اس عذاب موعودکو ایک سیاہ بادل کی شکل میں اپنے میدانوں کی طرف آتا ہوا دیکھا اور اپنی وادیوں کی طرف متوجہ دیکھا تو کہنے لگے یہ ابر ہے جو ہم پر برسے گا۔ ارشاد ہوا بات نہیں بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی کیا کرتے تھے یہ ایک تیز ہوا اور آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔