Surat ul Ehkaaf

Surah: 46

Verse: 34

سورة الأحقاف

وَ یَوۡمَ یُعۡرَضُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَلَی النَّارِ ؕ اَلَیۡسَ ہٰذَا بِالۡحَقِّ ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَ رَبِّنَا ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۳۴﴾

And the Day those who disbelieved are exposed to the Fire [it will be said], "Is this not the truth?" They will say, "Yes, by our Lord." He will say, "Then taste the punishment because you used to disbelieve."

وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا جس دن جہنم کے سامنے لائے جائیں گے ( اور ان سے کہا جائے گا کہ ) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہاں قسم ہے ہمارے رب کی ( حق ہے ) ( اللہ ) فرمائے گا اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَلَيْسَ هَذَا بِالْحَقِّ ... And on the Day when those who disbelieve will be exposed to the Fire (it will be said to them): "Is this not the truth?" meaning, it will be said to them, "Isn't this the truth? Is this magic?, or do you not see?" ... قَالُوا بَلَى وَرَبِّنَا ... They will say: "Yes, by our Lord!" meaning, they will have no choice but to confess. ... قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ He will say: "Then taste the torment, because you used to disbelieve!" Commanding the Prophet to persevere Allah then commands His Messenger to observe patience with those who rejected him among his people. He says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

34۔ 1 وہاں اعتراف ہی نہیں کریں گے بلکہ اپنے اس اعتراف پر قسم کھا کر اسے مؤکد کریں گے لیکن اس وقت کا یہ اعتراف بےفائدہ ہے کیونکہ مشاہدے کے بعد اعتراف کی کیا حثیت ہوسکتی ہے آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد اعتراف نہیں تو کیا انکار کریں گے۔ 34۔ 2 اس لئے کہ جب ماننے کا وقت تھا، اس وقت مانا نہیں، یہ عذاب اسی کفر کا بدلہ ہے، جو اب تمہیں بھگتنا ہی بھگتنا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٧] کافر اور آخرت کے منکر آخرت کا انکار اس لیے کرتے ہیں کہ اگر وہ اس کا اقرار کرلیں تو اس سے ان کی آزادی میں خلل آتا ہے۔ اور اس کی مثال بالکل وہی ہے جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ حالانکہ کبوتر کے آنکھیں بند کرلینے کے باوجود بھی بلی وہاں موجود ہی رہتی ہے اور حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اسی طرح منکروں کے آخرت کے انکار کردینے سے حقیقت میں کچھ فرق نہیں پڑتا اور قیامت کے دن انہیں کہا جائے گا کہ اب ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کیا عذاب ایک ٹھوس حقیقت ہے یا نہیں جس سے تم آنکھیں بند کرکے اس کا انکار کردیا کرتے تھے ؟ اور اس دن انہیں اقرار کرنے کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ویوم یعرض الذین کفروا علی النار …: قیامت کے حق ہونے کو دلیل کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد اس دن کا ایک منظر پیش فرمایا، یعنی وہ دن یاد کرو جب ان لوگوں کو جو قیامت اور جہنم کا انکار کرتے تھے آگ پر پیش کیا جائے گا (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ؟ سوال کا مقصد پوچھنا نہیں ہوگا بلکہ انہیں ذلیل کرنا اور وہ دنیا میں جہنم اور قیامت کا جو مذاق اڑاتے رہے اس کے بدلے میں ان کا مذاق اڑانا ہوگا۔ جہنم کے عذاب کے ساتھ ملامت، ڈانٹ ڈپٹ اور طنز و تہکم کا یہ عذاب بجائے خود بہت بڑی سزا ہوگی، دوسری جگہ فرمایا :(یوم یدعون الی نار جھنم دغا ھذہ النار التی کنتم بھا تکبذون افسخر ھذا ام انتم لاتبصرون) (الطور :13 تا 15)” جس دن انہیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا ، سخت دھکیلا جانا۔ یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔ تو کیا یہ جادو ہے، یا تم نہیں دیکھ رہے ؟ “ (٢) قالوا بلی و ربنا : دنیا میں جس جہنم کا انکار کرتے تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے اب اس کا اقرار ہی نہیں کریں گے بلکہ اس کے حق ہونے پر قسم کھائیں گے، کیونکہ اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں ہوگا۔ (٣) فذرقوا العذاب بما کنتم تکفرون : مگر اس وقت کا اقرار و اعتراف انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا، بلکہ ان سے کہا جائے گا کہ اگر یہ حق ہے تو پھر اس حق کو نہ ماننے کی وجہ سے اس کی سزا کا مزہ چکھو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَلَي النَّارِ۝ ٠ ۭ اَلَيْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ۝ ٠ ۭ قَالُوْا بَلٰي وَرَبِّنَا۝ ٠ ۭ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۝ ٣٤ عرض أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ، ( ع ر ض ) العرض اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت الشئی علی فلان اولفلان میں نے فلاں کے سامنے وہ چیزیں پیش کی ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ ذوق الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له : الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] ( ذ و ق ) الذاق ( ن ) کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے اس لئے کہ عرف میں اگرچہ یہ قلیل چیز کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر لغوی معنی کے اعتبار سے اس میں معنی کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا معنی عموم کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا منعی عموم کے پیش نظر عذاب کے لئے یہ لفظ اختیار کیا ہے ۔ تاکہ قلیل وکثیر ہر قسم کے عذاب کو شامل ہوجائے قرآن میں بالعموم یہ لفظ عذاب کے ساتھ آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] تاکہ ( ہمیشہ ) عذاب کا مزہ چکھتے رہیں ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جس روز یہ کافر دوزخ میں داخل کرنے سے پہلے اس کے سامنے لائے جائیں گے تو ان سے دریافت کیا جائے گا کیا یہ عذاب امر واقعی نہیں ہے، تو یہ کہیں گے ضرور واقعی امر ہے، حق تعالیٰ ان سے فرمائے گا تو اچھا دنیا میں جو تم کفر و انکار کر رہے تھے اور اس کے بدلے میں اس دوزخ کا عذاب چکھو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٤ { وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِط اَلَیْسَ ہٰذَا بِالْحَقِّ } ” اور جس روز پیش کیے جائیں گے یہ کافر آگ پر ‘ (اور ان سے پوچھا جائے گا : ) کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ “ کہ دنیا میں تو تم لوگ بعث بعد الموت کی باتوں کو ڈھکو سلے سمجھتے تھے ‘ آخرت اور اس کی سزا و جزا کی خبروں کو فرضی کہانیاں قرار دیتے تھے جبکہ جہنم اور اس کے عذاب کی وعیدیں تمہیں محض جھوٹے ڈراوے لگتے تھے۔ آج تم دوبارہ زندہ ہو کر ” آخرت “ کے عالم میں پہنچ چکے ہو ‘ اب تم آخرت کے تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ دیکھو ! یہ ہے جہنم کی آگ تمہارے سامنے جس کے بارے میں تمہیں بار بار خبردار کیا گیا تھا۔ اب بتائو کیا یہ حقیقت ہے یا تمہارا وہم ؟ { قَالُوْا بَلٰی وَرَبِّنَا } ” وہ کہیں گے : کیوں نہیں ! ہمارے پروردگار کی قسم یہ (حق ہے) ! “ { قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ } ” اللہ فرمائے گا : تو اب چکھو عذاب کا مزہ اپنے اس کفر کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو۔ “ اب آخر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے خصوصی ہدایت دی جا رہی ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(46:34) یوم یعرض الذین کفروا علی النار (ملاحظہ ہو آیت 20: متذکرہ الصدر) ۔ الیس ھذا بالحق۔ اس جملہ سے قبل فیقال لہم مقدر ہے۔ یعنی جب کافر لوگ آگ کے سامنے لائے جائیں گے ۔ تو ان سے کہا جائے گا الیس ھذا بالحق (کیا یہ حق نہیں ہے) ھذا کا اشارہ عذاب دوزخ کی طرف ہے یعنی ان سے کہا جائے گا کیا یہ دوزخ کا عذاب حق نہیں ہے ؟ امر واقعی نہیں ہے ؟ قالوا بلی وربنا : وہ کہیں گے کہ ہمیں ہمارے رب کی قسم ضرور سچ اور حق ہے وائو قسمیہ ہے ربنا مضاف مضاف الیہ۔ ہمیں اپنے پروردگار کی قسم۔ قال۔ ای قال اللہ لہم۔ فذوقوا۔ ف سببیہ ہے یعنی ف سے پہلے کا مضمون ف کے بعد والے مضمون کا سبب ہے۔ دوزخ کا حق ہونا۔ باوجودیکہ وہ دنیا میں اس کا انکار کرتے رہے تھے عذاب کا مزہ چکھنے کا سبب ہوگا۔ ذوقوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ذوق (باب نصر) مصدر۔ ذوق و ذائقۃ مزہ۔ ذائق اسم فاعل واحد مذکر مزہ چکھنے والا۔ ذوقوا کا استعمال اہانت اور توبیخ کو ظاہر کر رہا ہے۔ بما میں ب سببیہ ہے اور ما موصولہ۔ کنتم تکفرون : ماضی استمراری جمع مذکر حاضر۔ تم کفر کیا کرتے تھے۔ پس چکھو عذاب کا مزہ اس کفر کے باعث جو تم کیا کرتے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تشریح ـ: آیت نمبر 34 تا 35 جو شخص بھی حق و صداقت کی بات کرتا اور لوگوں کو اس طرف دعوت دیتا ہے اس کو ہمیشہ قوم کی بےرخی ، مخالفت ، دشمنی ، مزاحمت اور طرح طرح کی اذیتوں سے عزم و حوصلہ اور صبر برداشت کے ساتھ گذرنا پڑتا ہے۔ جب سورت الاحقاف کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اس وقت مسلمانوں پر کفار کا ظلم و ستم ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا تھا ۔ بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثار صحابہ کرام (رض) بھی ان مسلسل اذیتوں اور تکلیفوں سے پریشان ہو کر رہ گئے تھے جن کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہ لینا تھا۔ یہ ایک بڑا نازک لمحہ تھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جس طرح آپ سے پہلے عزم و ہمت والے پیغمبروں نے اللہ کے نافرمانوں کے اذیتوں پر نہایت صبر، برداشت، عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا تھا آپ بھی حالات کی سختی پر صبر اور برداشت کا شیوہ اختیار کیجئے اور ان کفار کے لئے کسی عذاب کی جلدی نہ کیجئے کیونکہ اللہ نے جس عذاب کا وعدہ کیا ہے وہ ان پر مسلط ہو کر رہے گا۔ یہ اس کے برے انجام سے بچ نہ سکیں گے۔ آپ اپنے حق و صداقت کے مشن اور مقصد کو جاری رکھئے اسی میں ساری انسانیت کی فلاح اور کامیابی کا راز پوشیدہ ہے ۔ اصل میں جب حالات بےقابو اور نازک ہوجائیں اور ہر طرف سے سوائے پریشانیوں کے اور کچھ بھی نہ ملتا ہو تو حق و صداقت کے راستے پر چلنے ولے یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ وہ چاروں طرف سے گھر چکے ہیں اور ان حالات سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تو بشری تقاضوں کی وجہ سے بوکھلا جاتے ہیں اور یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اے ظالموں کے ظلم انتہا ہوچکی آپ ان کفار پر عذاب نازل کرکے ان کو تہس نہس کیوں نہیں کردیتے ؟ ۔ یہ ایک نازک اور جذباتی وقت ہوتا ہے اس وقت اللہ کی طرف سے صبر کی تلقین کی جاتی ہے اور ان کو بتا یا جاتا ہے کہ یہ کائنات اللہ کی ہے وہ اس کو جس طرح چاہتا ہے چلاتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ کس کے ساتھ کب کیا معاملہ کرنا چاہیے۔ اس کا یہ اٹل اور قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اہل ایمان کو ان کے نیک اعمال کے سبب ضرور کامیاب و با مر اد فرمائے گا اور وہ آخر کار کفار و مشرکین کو ذلیل و رسوا کر کے چھوڑے گا۔ اب وہ وقت کب آئے گا یہ اللہ کی مصلحت ہے وہ جب چاہے گا کفار کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لے گا جس کے سامنے دنیا کے تمام وسائل ، مال و دولت ، قوت و طاقت اور حکومت و سلطلنت سب ناکارہ ہو کر رہ جائیں گے۔ فرمایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے ذمے یہ ہے کہ آپ حق و صداقت کی بات اور اللہ کا پیغام پہنچانے کی جدو جہدنہایت صبر اور عذم و ہمت سے کیجئے ۔ ان کفار کے لئے عذاب کی جلدی نہ کیجئے۔ جب اس کی مصلحت ہوگی وہ ان کفار کو ہلاد کردے گا۔ جب ان پر عذاب آئے گا تو ان کو ایسامحسوس ہوگا جیسے وہ دن کی ایک ساعت تک ہی اس دنیا رہے ہیں ۔ فرمایا کہ جس طرح تمام پیغمبروں نے عزم و حوصلے کے ساتھ اللہ کا دین پہنچایا ہے آپ بھی ایسا ہی کیجئے اور کسی بات کی فکر نہ کیجئے۔ واخر دعو ان الحمد للہ رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تکفرون (٤٦ : ٣٤) ” جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے ، اس وقت ان سے پوچھا جائے گا ” کیا یہ حق نہیں ہے ؟ “ یہ کہیں گے ” ہاں ، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے) “۔ اللہ فرمائے گا ” اچھا تو اب عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے “۔ ویوم یعرض الذین کفروا علی النار (٤٦ : ٣٤) ” جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے “۔ یہ الفاظ آتے ہی قاری سوچتا ہے کہ اگلا لفظ کیا ہوگا ، کیا قصہ ہوگا ، قصہ نہیں آتا اور اسکرین پر مکالمہ آجا تا ہے۔ الیس ھذا بالحق (٤٦ : ٣٤) ” کیا یہ حق نہیں ؟ “ اچانک اس سوال سے گویا ان لوگوں پر برق ناگہانی گر جاتی ہے جو قیامت کا مذاق اڑاتے تھے اور قیامت کے جلدی لانے کا مطالبہ ہر پیغمبر سے کرتے تھے۔ آج ان کی گردن حق کے سامنے جھک گئی ہے جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ نہایت شرمندگی سے جواب دیتے ہیں۔ قالوا بلی وربنا (٤٦ : ٣٤) ” ہاں ، اور ہمارے رب کی قسم “ اب تو بڑی شرافت سے قسم ربی اٹھاتے ہیں۔ لیکن دنیا میں اللہ کو رب ہی تو نہ مانتے تھے۔ نبیوں کو نہ مانتے تھے۔ آج تو رب کے نام کو قسم کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس پر جواب نہیں دیا جاتا ، کوئی تبصرہ نہیں ہوتا ، حقارت آمیز انداز میں فیصلہ ان پر پھینک کر گفتگو ختم کردی جاتی ہے۔ قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون (٤٦ : ٣٤) اللہ فرمائے گا ” اچھا تو عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے تھے “۔ اختصار کے ساتھ۔ جیسا کہ کوئی عدالت مختصر سی آرڈر شیٹ لکھتی ہے۔ ” جرم ظاہر ہے ملزم معترف ہے ، جہنم میں جاوے “۔ یہاں اس منظر کو تیزی سے گزارنا بھی مقصود ہے ، کیونکہ بات فیصلہ کن ہے۔ بحث و مباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے منکر تھے اب معترف ہیں لہٰذا مزا چکھیں جہنم کا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد کافروں کو یاد دہانی فرمائی کہ قیامت کے دن جب اہل کفر آگ پر پیش کیے جائیں گے یعنی اس میں داخل ہونے لگیں گے تو ان سے کہا جائے گا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ دنیا میں جب تم سے کہا جاتا تھا کہ کفر کی سزا دوزخ ہے تو تم اسے نہیں مانتے تھے اور جو حضرات اس بات کی خبر دیتے تھے تم ان کا مذاق بناتے تھے اب بولو کیا کہتے ہو کیا یہ آگ جو تمہارے سامنے ہیں اس کا سامنا ہونا اور تمہارا اس میں داخل ہونا حق ہے یا نہیں ﴿ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا ١ؕ ﴾ وہ اس پر کہیں گے کہ ہاں واقعی یہ حق ہے ہم مانتے ہیں تصدیق کرتے ہیں وہ اس بات کو قسم کھا کر کہیں گے لیکن اس وقت اقرار اور قسم سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ﴿ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ٠٠٣٤﴾ ارشاد ربانی ہوگا کہ اپنے کفر کی وجہ سے عذاب چکھ لو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27:۔ ” ویوم یعرض “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن جب کافروں کو دوزخ میں داخل کیا جائیگا تو ان سے کہا جائیگا کہ دنیا میں تم اس عذاب کا انکار کیا کرتے تھے اور وعدہ عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے اب بتاؤ کیا یہ عذاب برحق نہیں ہے اور وہ وعدہ عذاب سچا نہیں تھا ؟ ” قالوا بلی وربنا “ اس کے جواب میں کافر کہیں گے کہ کیوں نہیں، ہمارے پروردگار کی قسم وہ سراپا حق ہے، پھر آواز آئیگی اچھا اب اپنے کفر و انکار کا مزہ چکھو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(34) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن یہ دین حق کے منکر نار دوزخ کے روبرو لائے جائیں گے اور آگ کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کیا یہ دوزخ ایک امر واقعی اور غیر مشتبہ حقیقت نہیں ہے وہ کہیں گے ہم کو اپنے پروردگار کی قسم بیشک یہ ایک امر حق اور غیر مشتبہ حقیقت ہے ارشاد ہوگا پس اب اس کفر کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے اس عذاب کا مزہ چکھو۔ دنیا میں جہنم کا انکار کرتے تھے اب دوزخ کے کنارے پر کھڑے ہوکر اور آنکھوں سے دیکھ کر اعتراف کریں گے آگے تسلی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے۔