Surat ul Ehkaaf

Surah: 46

Verse: 5

سورة الأحقاف

وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾

And who is more astray than he who invokes besides Allah those who will not respond to him until the Day of Resurrection, and they, of their invocation, are unaware.

اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And who is more astray than those who invokes besides Allah others who will not answer them until the Day of Resurrection, and who are unaware of their invocations to them! meaning, no one is more misguided than those who invoke idols instead of Allah, asking them for things that they cannot give -- until the Day of Judgment. They (the idols) are unaware of what he asks, they can neither hear, see, or act. This is because they are inanimate, senseless stones. Allah then says, وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاء وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 یعنی یہی سب سے بڑے گمراہ ہیں جو پتھر کی مورتیوں کو مدد کے لئے پکارتے ہیں جو قیامت تک جواب دینے سے قاصر۔ ہیں اور قاصر ہی نہیں بلکہ بالکل بیخبر ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] استجاب کے دو معنی اور مشرکوں کا رد :۔ یہاں استجاب کا لفظ دو قسم کے معنی دے رہا ہے اور دونوں ہی اس لفظ کے مفہوم میں شامل ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ جو سن ہی نہیں سکتا وہ جواب کیا دے گا ؟ جیسے کسی پتھر یا درخت سے یہ پوچھا جائے کہ مثلاً لاہور کس طرف ہے ؟ تو جب وہ سنتا ہی نہیں تو جواب کیا دے سکتا ہے۔ اور اس لفظ کا دوسرا معنی کسی کی دعا یا پکار کو سن کر اس کو قبول کرنا اور اس پر عمل درآمد کرنا ہے۔ مثلاً میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس بیماری سے شفا دے اور اللہ تعالیٰ واقعی میری پکار کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور میری بیماری دور کردیتا ہے تو میں کہوں گا میری دعا مستجاب ہوگئی۔ اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ یہاں معبودوں سے مراد بےجان قسم کے معبود بھی ہیں۔ جو سن ہی نہیں سکتے اور جاندار بھی مثلاً فرشتے، جن اور زندہ بزرگ وغیرہ جو سن تو سکتے ہیں مگر اس دعا یا درخواست پر عمل درآمد کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اور مشرکوں کی گمراہی اور انتہائی گمراہی یہ ہے کہ وہ اپنی درخواست اس چیز یا ہستی کے سامنے پیش کرتے ہیں جن پر عملدرآمد اس کے دائرہ اختیار میں ہے ہی نہیں۔ اس کی معمولی سی مثال یہ سمجھئے کہ ایک شخص اپنے گھر میں ٹیلیفون لگوانا چاہتا ہے لیکن وہ اپنی درخواست محکمہ پولیس کو بھیج دیتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس بیوقوف کی درخواست پر کبھی عملدرآمد نہ ہوسکے گا۔ بالکل یہ مثال ان مشرکوں کی ہے جو اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ …: یہ استفہام انکار کے لئے ہے، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کو پکارے جو قیامت کے دن تک ان کی دعا قبول نہیں کرسکتے، کیونکہ ان کے پاس یہ اختیار ہی نہیں، بلکہ انھیں ان کے پکارنے کی خبر ہی نہیں۔ عام طور پر ان سے مراد پتھر اور بت لئے جاتے ہیں، مگر لفظ ” من “ ذوی العقول کے لئے آتا ہے، اس لئے اس سے مراد وہ سب ہستیاں ہیں جنہیں لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، جن میں انسان، جن، فرشتے، نبی، ولی نیک، بد، زندہ، مردہ سب شامل ہیں۔ رہے پتھر، بت اور قبریں وغیرہ تو انہیں پکارتے اور پوجتے وقت بھی مشرکین دراصل ان بتوں یا قبروں کے بجائے ان ہستیوں ہی کو پکار رہے ہوتے ہیں جن کے وہ بت یا قبریں ہیں، ورنہ انھیں بت بنانے کی ضرورت کیا تھی، کسی بھی پتھر کی پوجا کرلیتے۔ چناچہ مشرکین عرب نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل علیہا اسلام کی صورتیں بنا کر رکھی ہوئی تھیں، جنھیں فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے کعبہ سے نکالا گیا۔ (دیکھیے بخاری :4288) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کئیو بھی کسی کی پکار نہ سننا ہے نہ اس کی مدد کو پہنچ سکتا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات بار بار دہرائی ہے، فرمایا :(والذین تدعون من دونہ مایملکون من قطمیر ان تدعوھم لایسمعوا دعآء کم ولو سمعوا ما استجابوا لکم ، ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم، ولاینبتک مثل خبیر) (فاطر : ١٣، ١٣)” اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں۔ اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمہاری درخواست قبول نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کردیں گے اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔ “ اور فرمایا :(ان الذین تدعون من دون اللہ عبادا مثالکم فاد عوھم فلیتجیوا الکم ان کنتم صدقین) (الاعراف : ١٩٣)” بیشک جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔ “ اور فرمایا :(لہ دعوہ الحق والذین یدعون من دونہ لایستجییبون لھم بشیء الا کباسط کفیہ الی المآء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغہ، وما دعآء الکفرین الا فی ضلل) (الرعد : ١٣)” برحق پکارنا صرف اسی کے لئے ہے اور نج کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی دعا کچھ بھی قبول نہیں کرتے، مگر اس شخص کی طرح جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلانے والا ہے، تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ اس تک ہرگز پہنچنے والا نہیں اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر ہے بےسود۔ ” قارئین ” لایستجیب “ کا مفہوم سمجھنے کیلئے تھوڑی زحمت کر کے ان مذکورہ بالا مقامات کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَہٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕہِمْ غٰفِلُوْنَ۝ ٥ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ استجاب والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] ، وقال : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] ، فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] ، فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] ، وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ الشوری/ 26] وَالَّذِينَ اسْتَجابُوا لِرَبِّهِمْ [ الشوری/ 38] ، وقال تعالی: وَإِذا سَأَلَكَ عِبادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي[ البقرة/ 186] ، الَّذِينَ اسْتَجابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ ما أَصابَهُمُ الْقَرْحُ [ آل عمران/ 172] . ( ج و ب ) الجوب الاستحابتہ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی اجابتہ ( افعال ) کے ہے اصل میں اس کے معنی جواب کے لئے تحری کرنے اور اس کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن اسے اجابتہ سے تعبیر کرلیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے ۔ قرآن میں ہے : اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو ۔ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری ( دعا ) قبول کرونگا ۔ فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] تو ان کے پرور گار نے ان کی دعا قبول کرلی ۔ وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ الشوری/ 26] اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کی ( دعا) قبول فرماتا وَالَّذِينَ اسْتَجابُوا لِرَبِّهِمْ [ الشوری/ 38] اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں وَإِذا سَأَلَكَ عِبادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] اور اے پیغمبر جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو ( کہہ دو کہ ) میں تو ( تمہارے پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں ۔ الَّذِينَ اسْتَجابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ ما أَصابَهُمُ الْقَرْحُ [ آل عمران/ 172] جنوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول کے حکم کو قبول کیا ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں قِيامَةُ والقِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ، القیامتہ سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ المقام یہ قیام سے کبھی بطور مصدر میمی اور کبھی بطور ظرف مکان اور ظرف زمان کے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] اگر تم کو میرا رہنا اور ۔ نصیحت کرنا ناگوار ہو ۔ غفل الغَفْلَةُ : سهو يعتري الإنسان من قلّة التّحفّظ والتّيقّظ، قال تعالی: لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] ( غ ف ل ) الغفلتہ ۔ اس سہو کو کہتے ہیں جو قلت تحفظ اور احتیاط کی بنا پر انسان کو عارض ہوجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] بیشک تو اس سے غافل ہو رہا تھا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥۔ ٦) اور اس کافر سے زیادہ کون حق و ہدایت سے گمراہ ہوگا جو ایسے معبودوں کو پوجے کہ جو اس کی پکار تک نہ سنیں۔ اور ان بتوں کو تو ان پجاریوں کے پکارنے تک کی بھی خبر نہیں اور قیامت کے دن یہ بت اپنے پجاریوں کے دشمن اور بلکہ ان کی عبادت ہی کے منکر ہوجائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ { وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہٗٓ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ } ” اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کے سوا اسے پکارتا ہے جو اس کو جواب ہی نہیں دے سکتا قیامت کے دن تک “ وہ نہ تو ان کی دعائوں کو سن سکتے ہیں اور نہ قبول کرسکتے ہیں۔ { وَہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوْنَ } ” اور وہ ان کی دعا سے غافل ہیں۔ “ وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔ انہیں تو پتا ہی نہیں کہ کوئی ان سے دعا مانگ رہا ہے۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان میں کچھ تو بےجان اور بےعقل مخلوقات ہیں۔ ان کا تو اپنے پکارنے والوں کی دعائوں سے بیخبر ہونا ظاہر ہی ہے۔ ان کے علاوہ کچھ بزرگ انسانوں کو بھی پکارا جاتا ہے۔ وہ اللہ کے ہاں اس عالم َمیں ہیں کہ جہاں انسانی آوازیں ان تک نہیں پہنچتیں۔ فرض کیجیے ایک شخص کسی بڑے ولی اللہ کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے تو عِلیِّیْن میں موجود اس کی روح کو کیا معلوم کہ دنیا میں اس کا کوئی معتقد اسے پکار رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 "Cannot answer him": Cannot answer the supplications of any one. That is, these gods do not possess the powers by virtue of which they could give decisions on the prayers and petitions of their devotees. (For further explanation, see E.N. 33 of Az-Zumar). "Till the Day of Resurrection" means that as long as the world lasts they will get no answer to their supplications and prayers from their deities, but when Resurrection will have taken place, the deities will turn hostile to their worshippers themselves, as becomes explicit from the next verse. 6 That is, "they do not even hear the supplications of the supplicants, neither through their own ears nor through any other means. " This thing can be elaborated like this: The being whom the polytheists the world over have been invoking are divided into three categories: (1) Lifeless and inanimate creation; (2) the pious men who have passed away; and (3) the wicked men who had themselves gone astray, and who misled others and passed away. As for the first category of the deities they will naturally remain unaware of the supplications of their worshippers. As for the deities of the second kind, who were favourites with their God, there arc two reasons of their remaining unaware: (a) They are in the presence of AIIah in a state where human voices cannot reach them directly; and (b) even Allah and His angels do not inform them that the people whom they had been teaching to invoke Allah alone in the world, were invoking them instead, for no information could cause them a greater shock than this, and Allah does not at alI like to vex the souls of His righteous servants. Now if we consider the case of the third kind of the deities, we shall sec that there are two reasons also of their remaining unaware: (a) That they have been placed in confinement as the accused, and no voice from the world can reach them; and (b) that even Allah and His angels do not convey to them the news that their mission is flourishing in the world, and the people have set them up as deities, for this news would be a happy news for them, and Allah does not like to make the wicked people happy. In this connection, one should also understand that Allah conveys to His righteous servants the greetings of peace and prayers of mercy from the people of the world, for these things arc a source of joy and pleasure for them; likewise, He informs the culprits of the curses, censures and condemnations of the people of the world, as the disbelievers killed in the Battle of Badr were made to hear the curse of the Holy Prophet according to a Hadith, for it is a cause of anguish for them. But anything which might cause distress to the righteous people and joy to the culprits is not conveyed to them. This explanation makes the truth about the,. question of hearing by the dead plain and easy to understand.

سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :5 جواب دینے سے مراد جوابی کاروائی کرنا ہے نہ کہ الفاظ میں بآواز جواب دینا یا تحریر کی شکل میں لکھ کر بھیج دینا ۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اگر ان معبودوں سے فریاد یا استغاثہ کرے ، یا ان سے کوئی دعا مانگے ، تو چونکہ ان کے ہاتھ میں کوئی طاقت اور کوئی اختیار نہیں ہے ، اس لیے وہ اس کی درخواست پر کوئی کارروائی نفی یا اثبات کی شکل میں نہیں کر سکتے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم ، الزمر ، حاشیہ نمبر33 ) قیامت تک جواب نہ دے سکنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ دنیا باقی ہے اس وقت تک تو معاملہ صرف اسی حد پر رہے گا کہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب ان کی طرف سے نہ ملے گا ، لیکن جب قیامت آ جائے گی تو اس سے آگے بڑھ کر معاملہ یہ پیش آئے گا کہ وہ معبود اپنے ان عابدوں کے الٹے دشمن ہوں گے ، جیسا کہ آگے کی آیت میں آ رہا ہے ۔ سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :6 یعنی ان تک ان پکارنے والوں کی پکار سرے سے پہنچتی ہی نہیں ۔ نہ وہ خود اپنے کانوں سے اس کو سنتے ہیں ، نہ کسی ذریعہ سے ان تک یہ اطلاع پہنچتی ہے کہ دنیا میں کوئی انہیں پکار رہا ہے ۔ اس ارشاد الٰہی کو تفصیلاً یوں سمجھیے کہ دنیا بھر کے مشرکین خدا کے سوا جن ہستیوں سے دعائیں مانگتے رہے ہیں وہ تین اقسام پر منقسم ہیں ۔ ایک ، بے روح اور بے عقل مخلوقات دوسرے ، وہ بزرگ انسان جو گزر چکے ہیں ۔ تیسرے ، وہ گمراہ انسان جو خود بگڑے ہوئے تھے اور دوسروں کو بگاڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے ۔ پہلی قسم کے معبودوں کا تو اپنے عابدوں کی دعاؤں سے بے خبر رہنا ظاہر ہی ہے ۔ رہے دوسری قسم کے معبود ، جو اللہ کے مقرب انسان تھے ، تو ان کے بے خبر رہنے کے دو وجوہ ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ الہ کے ہاں اس عالم میں ہیں جہاں انسانی آوازیں راہ راست تک نہیں پہنچتیں ۔ دوسرے یہ کہ اللہ اور اس کے فرشتے بھی ان تک یہ اطلاع نہیں پہنچاتے کہ جن لوگوں کو آپ ساری عمر اللہ سے دعا مانگنا سکھاتے رہے تھے وہ اب الٹی آپ سے دعائیں مانگ رہے ہیں ، اس لیے کہ اس اطلاع سے بڑھ کر ان کو صدمہ پہنچانے والی کوئی چیز نہیں ہو سکتی ، اور اللہ اپنے ان نیک بندوں کی ارواح کو اذیت دینا ہرگز پسند نہیں کرتا ۔ اس کے بعد تیسری قسم کے معبودوں کے معاملہ میں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کے بے خبر رہنے کے بھی دو ہی وجوہ ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ ملزموں کی حیثیت سے اللہ کے ہاں حوالات میں بند ہیں جہان دنیا کی کوئی آواز انہیں نہیں پہنچتی ۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی انہیں یہ اطلاع نہیں پہنچاتے کہ تمہارا مشن دنیا میں خوب کامیاب ہو رہا ہے اور لوگ تمہارے پیچھے تمہیں معبود بنائے بیٹھے ہیں ، اس لیے کہ یہ خبریں ان کے لیے مسرت کی موجب ہوں گی ، اور خدا ان ظالموں کو ہرگز خوش نہیں کرنا چاہتا ۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کو دنیا والوں کے سلام اور ان کی دعائے رحمت پہنچا دیتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے فرحت کے موجب ہیں ، اور اسی طرح وہ مجرموں کو دنیا والوں کی لعنت اور پھٹکار اور زجر و توبیخ سے مطلع فرما دیتا ہے جیسے جنگ بدر میں مارے جانے والے کفار کو ایک حدیث کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توبیخ سنوا دی گئی ، کیونکہ یہ ان کے لیے اذیت کی موجب ہے ۔ لیکن کوئی ایسی بات جو صالحین کے لیے رنج کی موجب ، یا مجرمین کے لیے فرحت کی موجب ہو وہ ان تک نہیں پہنچائی جاتی ۔ اس تشریح سے سماع موتیٰ کے مسئلے کی حقیقت بخوبی واضح ہو جاتی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(46:5) من : استفہامیہ ہے کون ؟ اضل افعل التفصیل کا صیغہ ہے : زیادہ بےراہ۔ زیادہ گمراہ۔ من استفہام انکاری ہے یعنی اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں ہے۔ ممن :۔ من حرف جار اور من موصولہ سے مرکب ہے۔ یدعو مضارع واحد مذکر غائب : دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ وہ پکارتا ہے۔ وہ پوجا کرتا ہے۔ یدعو من دون اللہ صلہ ہے اپنے موصول کا اور ضمیر فاعل عائد ہے من موصولہ کی طرف۔ اور یدعوا کا مفعول محذوف ہے ای یدعو معبودا من دون اللہ ترجمہ ہوگا۔ اور کون زیادہ گمراہ ہوسکتا ہے اس (بدبخت) سے جو اللہ کو چھوڑ کر (دوسروں) کی پوجا کرتا ہے۔ من لا یستجیب لہ : من موصولہ ۔ لا یستجیب لہ اس کا صلہ۔ اور اس میں ضمیر فاعل من اسم موصول کی طرف راجع ہے۔ لا یستجیب۔ مضارع منفی واحد مذکرغائب استجابۃ مصدر (باب استفعال) وہ جواب نہ دے سکے گا۔ الی یوم القیامۃ۔ ای ما داست الدنیا جب تک دنیا باقی ہے۔ قیامت تک ۔ وہم عن دعائہم میں ہم معبود ان باطل کی طرف راجع ہے اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب معبودان باطل کی پوجا کرنے والوں کی طرف راجع ہے۔ وہم عن دعائہم غفلون جملہ حالیہ ہے : اس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں :۔ ای اضل ممن یدعوا من دون اللہ اصناما ویطلب منھا مالا تستیعہ الی یوم القیمۃ وھی غافلۃ عما یقول لا تسمع ولا تبصرو لا تبطش لانھا جماد حجارۃ صم۔ یعنی اس آدمی سے زیادہ گمراہ اور کوئی نہیں جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتا ہے اور ان سے ایسی چیز مانگتا ہے جو وہ قیامت تک نہیں دے سکتے۔ اور جو وہ کہہ رہا ہے اس سے وہ غافل ہیں۔ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ پکڑتے ہیں کیونکہ وہ بےجان پتھر ہیں جو بالکل بہرے ہیں ۔ معبودان باطل میں جمادات، نباتات، جانور، ستارے یا سیارے بھی ہوسکتے ہیں جو اپنے پوجنے والوں کی پکار نہ سن سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ اور اس میں وہ انسان اور فرشتے بھی شامل ہیں جو کہ اپنے اپنے فرائض منصبی میں مشغول و مصروف ہیں اور ان کو ان باطل پرستوں کی پوجا اور پکار کی خبر ہی نہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 کیونکہ وہ محض بےجان ہیں۔ مراد بت ہیں اور اگر ان سے مراد انسان ہوں جو مرچکے ہیں اور مشرکین نہیں پکارتے ہیں۔ تو ان کا مشرکین کی پکارے غافل ہونا بھی بظاہر ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کے پاس باطل عقیدہ کی کوئی دلیل نہیں مگر پھر بھی ” اللہ “ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے اور ان سے مانگتے ہیں یہ لوگ پرلے درجے کے گمراہ ہیں۔ قرآن مجید نے مِن دون اللہ سے مراد صرف بت نہیں لیے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا جسے بھی پکارا جائے اور جس کی بھی عبادت کی جائے گی وہ ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ میں شامل ہوگا۔ یہاں تفسیر بالقرآن میں ان آیات کے حوالے پیش کیے گئے ہیں جن میں بتوں کے علاوہ ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ افسوس ! اتنی واضح آیات ہونے کے باوجود شرک کی حمایت کرنے والے ایک مفسر نے جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ شرک کے بچاری لوگ کس قدر شرک کی حمایت میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ موصوف اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ مشرکین جو بڑے زور شور سے اپنے بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور اگر اس پر انہیں ٹوکا جاتا تو وہ بہت برہم ہوتے۔ ان سے پوچھا جارہا ہے کہ جن کو تم نے معبود بنا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر تم نے ان کی پوجا شروع کر رکھی ہے۔ کیا اس کی کوئی معقول وجہ بھی تم بتاسکتے ہو ؟ کیا کرّہ زمین کی کسی چیز کے وہ خالق ہیں، آسمان کی آفرینش میں کیا ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر تمہارے پاس کو تحریری ثبوت ہے تو پیش کرو اور اگر تم خود اس بات کا اعتراف کرتے ہو کہ اس وسیع و عریض کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تم پھر اس خالق و حکیم کو چھوڑ کر کسی پتھر، کسی بےروح یا ذی روح شے کی پوجا کرنا کتنی بڑی حماقت ہے۔ (ضیاء القرآن جلد چہارم، ص : ٤٧٢) غور فرمائیں کہ اس پہرہ کی آخری سطر میں من دون اللہ کا ترجمہ کرتے ہیں کہ تم پھر خالق و حکیم کو چھوڑ کر کسی پتھر یا کسی بےروح یا ذی روح شے کی پوجا کرنا کتنی بڑی حماقت ہے، لیکن اس کے باوجود صحیح عقیدہ لوگوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔ بعض مہم جو لوگ جو ملت کے اتحاد کو انتشار کا شکار بنانا چاہتے ہیں، رات دن اس دھن میں لگے رہتے ہیں کہ ملت میں نئی ملت تخلیق کریں وہ یہ آیت اہل سنت پر چسپاں کرتے ہیں۔ (معاذ اللہ) بحمدہٖ تعالیٰ اہل سنت میں سے کوئی اَن پڑھ سے اَن پڑھ بھی اللہ جلَّ مجدہٗ کے سوا کسی کی خدائی اور الوہیت کا عقیدۂ فاسدہ نہیں رکھتا۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب، تمام نبیوں کے سردار، تمام رسولوں کے تاج، اپنے آقا و مولیٰ اور دونوں جہانوں کے سردار محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ” اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ “ اور نماز میں کئی کئی بار اس شہادت کا اعادہ کرتا ہے تو وہ کسی اور کو کیونکر خدا یا خدا کا ہمسر اور شریک تصور کرسکتا ہے۔ یہ محض بہتان اور افترائے عظیم ہے کہ اہل سنت کو خدا کا شریک بناتے ہیں۔” ھذا افک مبین و بہتان عظیم “ مزید لکھتے ہیں۔ خارجیوں (جدید اور قدیم) کے علاوہ تمام امت اس بات پر متفق ہے کہ حضور سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ بکیس پناہ میں جب کوئی غلام صلوٰۃ وسلام عرض کرتا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو سلام کا جواب دیتے ہیں جس کو خواص اپنے کانوں سے سنتے ہیں اور لذّتِ جواب سے سرشار ہوتے ہیں۔ مصر کے مشہور ولئ کامل حضرت سید احمد رفاعی (رح) جب روضۂ اقدس پر حاضر ہوئے تو بصد ادب و نیاز عرض کی ” الصلوٰۃ والسلام علیک یا جدّی “ اے میرے نانا پاک آپ پر صلوٰۃ وسلام ہو۔ روضۂ اقدس سے جواب آیا ” وعلیک السلام یا ولدی “ اے میرے بچے تجھ پر بھی سلام ہو۔ یہ سن کر آپ پر وجد کی 3 طاری ہوگئی اور فی البدیہہ یہ رباعی عرض کی : (ضیاء القرآن) فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی وھی نائبتی ” جب میرا جسد خاکی یہاں سے دور تھا تو میں آستانہ بوسی کے لیے اپنی روح کو بھیجا کرتا تھا۔ “ وھذہ دولۃ الاشباح قد حضرت فامدد یمینک کی تحظٰی بھا شفتی اب تو میں خود بارگاہ اقدس میں حاضر ہوں۔ دست پاک نکالیے تاکہ میں بوسہ دے کر دل کی حسرت پوری کرسکوں۔ دست مبارک باہر آیا جس کو آپ نے بوسہ دیا۔ ہزارہا آدمیوں نے اس کو دیکھا۔ (ضیاء القرآن) بالفرض صحیح سند کے ساتھ ثابت ہوجائے کہ کسی بزرگ نے روضۃ الرّسول یا کسی قبر کے پاس جاکر فوت شدہ بزرگ سے مدد مانگی ہو تو کیا اس کا عمل امت کے لیے دلیل اور اللہ کے ہاں قابل قبول ہوگا ؟ جبکہ قرآن مجید من دون اللہ کو پکارنے سے بار بار منع کرتا ہے۔ من دون اللہ کا معنی ہے۔” اللہ “ کے سوا۔ اس میں حجر و شجر، شمس و قمر، اولیاء اور انبیاء شامل ہیں، لہٰذا قرآن مجید کی تاویلات کرنے کی بجائے سیدھے طریقے سے اس کا فرمان قبول کرنا چاہیے یہی ہدایت کا راستہ ہے۔ عقل و انصاف کا تقاضا : عقل کے ساتھ انصاف فرمائیں کہ جو لوگ دنیا سے چل بسے اور زندگی بھر لوگوں کو من دون اللہ سے روکتے رہے اور اپنے مریدوں کو صرف ” اللہ “ کے حضور دعائیں کرنے کی تلقین اور تبلیغ کرتے رہے۔ ان کے رخصت ہونے کے بعد لوگوں نے ان کی قبروں پر مزار بنائے اور شرک کے اڈے قائم کیے۔ اگر وہ لوگوں کی فریاد سنتے ہوں اور اپنی قبروں پر سجدے، رکوع کرتے ہوئے دیکھتے ہوں تو کیا ان کو خوشی ہوگی یا پریشانی ؟ ظاہر بات ہے ان کو پریشانی ہوگی۔ کیا اللہ تعالیٰ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور صالح حضرات کو موت کے بعد کوئی پریشانی آنے دیتا ہے ؟ بالکل نہیں اس لیے عقل و انصاف کا تقاضا ہے کہ نہ وہ سنتے ہیں اور نہ کسی کو دیکھتے ہیں، اور نہ کسی کی مدد کرتے ہیں۔ من دون اللہ میں شامل بت ہوں یا فوت شدگان نہ وہ سنتے ہیں اور نہ ہی پکارنے والے کی فریاد کا جواب دیتے ہیں : 1 ۔ کوئی برا ہو یا نیک موت کے بعد اس کی روح ایسے مقام پر پہنچا دی جاتی ہے جہاں پکارنے والے کی پکار ان تک نہیں پہنچ سکتی۔ 2 ۔ اللہ تعالیٰ نے فوت شدگان کو یہ صلاحیت اور اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی پکارنے والے کی فریاد سنیں اور ان کی مدد کرسکیں۔ جو لوگ فوت شدگان کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں ان کے پاس بےسند کہانیوں کے سوا کوئی ثبوت نہیں۔ اوپر دی ہوئی ضیاء القرآن کی عبارت آپ ایک دفعہ پھر پڑھیں اور غور فرمائیں کہ قرآن و سنت سے دلیل پیش کرنے کی بجائے صرف کمزوراسناد پر مبنی بزرگوں کے واقعات لکھ کر شرک کی حمایت کی گئی ہے۔ (اعانت و استعانت کی شرعی حقیقت از قلم حضرت پیر سید نصیر الدین صاحب آف گولڑہ) مسائل ١۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے صرف ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے نہ کوئی چیز پیدا کی ہے اور نہ کرسکتا ہے۔ ٣۔ کسی آسمانی کتاب، کسی نبی کی شریعت اور علمی ثبوت کے ذریعے من دون اللہ سے مانگنے کا ثبوت نہیں ملتا۔ تفسیر بالقرآن من دون اللہ سے مراد زندہ اور مردہ، بت اور جاندار سب شامل ہیں : ١۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (یونس : ١٠٤) ٢۔ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (الانعام : ٥٦) ٣۔ کیا میں اللہ کے سوا ان کو پکاروں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (الانعام : ٧١) ٤۔ جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انھوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : ٢٠) ٥۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں۔ (الاعراف : ١٩٤) ٦۔ انھوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا۔ (التوبہ : ٢١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” ومن اضل “ یہ سابقہ آیت میں مذکور مطالبہ پورا کرنے میں ناکامی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے جب کسی عقلی یا نقلی دلیل سے یہ ثابت نہیں کہ جن کو مشرکین اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ پکاریں سنتے اور حاجات برابری کرسکتے ہیں۔ تو اس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ وہ شخص سب سے بڑٓ گمراہ ہے جو ایسوں کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کی حاجت برآری نہ کرسکیں، بلکہ اسکی دعا اور پکار سے سراسر ہوں ہی ببے خبر۔ ” واذا خشر الناس۔ الایۃ “ پکارنے والوں کی پکار سے مزعومہ معبودوں کی بیخبر ی اور اس فعل پر ان کی ناراضی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن میدان حشر میں جب سب لوگ جمع ہوں گے تو جن مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کو دنیا میں پکارا گیا، وہ پکارنے والوں کے سخت خلاف ہوں گے اور پکارنے والوں کو جھٹلائیں گے اور ان کی عبادت سے بیزاری اور براءت کا اعلان کریں گے۔ مکذبین قائلین تبرانا الیک ماکانوا یانا یعبدون (مظہری ج 8 ص 394) ۔ تائید : 1 فکفی باللہ شہیدا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغفلین (یونس رکوع 3) ۔ 2 ۔ یوم یحشرہم جمیعا ثم یقول للملئکۃ اھؤلاء ایاکم کانوا یعبدون قالوا سبحانک انت ولینا من دونہم بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بہم مؤمنون۔ (سبا رکوع 5) ۔ 3 ۔ ان تدعوہم لا یسمعوا دعاء کم ولو سمعوا ماستجابوا لکم۔ یوم القیمۃ یکفرون بشرککم (فاطر رکوع 2) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) اور اس سے بڑھ کر کون شخص گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ای سے معبود کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کی پکار کو قبول نہ کرسکے اور اس کی پکار کو نہ پہنچ سکے اور ان معبودوں کو ان مشرکوں کے پکارنے کی خبر تک نہ ہو۔ یعنی اول تو ان کو خبر ہی نہیں کہ ہم کو کون پکار رہا ہے اور اگر بالفرض محال کسی طرح خبر بھی ہوجائے تو پکارنے والی کی مدد کرنے یا اس تک پہنچنے کی صلاحیت اور قابلیت نہیں۔ ایسے اپاہج اور غافل معبود کو جو پکارے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ جیسے معبود حقیقی کو چھوڑ کر تو ایسے بدبخت سے زیادہ اور کون گمراہ ہوسکتا ہے۔