Surat ul Ehkaaf

Surah: 46

Verse: 9

سورة الأحقاف

قُلۡ مَا کُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدۡرِیۡ مَا یُفۡعَلُ بِیۡ وَ لَا بِکُمۡ ؕ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۹﴾

Say, "I am not something original among the messengers, nor do I know what will be done with me or with you. I only follow that which is revealed to me, and I am not but a clear warner."

آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انو کھا پیغمبر تونہیں نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا ۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علی الاعلا ن آگاہ کر دینے والا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنْ الرُّسُلِ ... Say: "I am not a new thing among the Messengers..." which means, `I am not the first Messenger who ever came to the world. Rather, Messengers came before me. Therefore, I am not an unprecedented incident that should cause you all to reject me and doubt my being sent to you. Indeed, Allah has sent before me all of the Prophets to various nations.' Allah then says, ... وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلاَ بِكُمْ ... nor do I know what will be done with me or with you. Ali bin Abi Talhah reported from Ibn Abbas that he said, "It (this Ayah) was followed in revelation by, لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ (That Allah may forgive for you your sins of the past and future). (48:2) Similarly, Ikrimah, Al-Hasan, and Qatadah all said that this Ayah was abrogated by the Ayah; لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ (That Allah may forgive for you your sins of the past and future). (48:2) They said that when the latter Ayah was revealed, one of the Muslims said to Allah's Messenger, "Allah has declared what He will do for you. But what will He do for us?' Then Allah revealed; لِيُدْخِلَ الْمُوْمِنِينَ وَالْمُوْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الاَْنْهَارُ (That He may admit the believing men and the believing women to Gardens under which rivers flow). (48:5) This is what they said. That which has been confirmed in the Sahih is that the believers said, "May you enjoy that, O Allah's Messenger! But what do we get" So Allah revealed this Ayah. Imam Ahmad recorded that Kharijah bin Zayd bin Thabit, reported that Umm Al-`Ala' -- a woman from the Ansar who had given her pledge of loyalty to Allah's Messenger -- said, "When the Ansar drew lots regarding taking in the Muhajirun to dwell with them, our lot was to have `Uthman bin Maz`un. Later, `Uthman fell sick in our house, so we nursed him until he died, and we wrapped him in his garments (for burial). Allah's Messenger then came in, and I said, `O Abu As-Sa'ib! May Allah have mercy on you. I bear witness that Allah has indeed honored you.' Allah's Messenger asked, وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللهَ تَعَالَى أَكْرَمَه How do you know that Allah has honored him? I said, `I do not know -- may my father and mother both be ransoms for you!' Allah's Messenger then said, أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ مِنْ رَبِّهِ وَإِنِّي لاََرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَاللهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللهِ مَا يُفْعَلُ بِي As for him, certainty (death) has reached him from his Lord, and I surely wish well for him. But by Allah, even though I am Allah's Messenger, I do not know what will happen to me (after death). I then said, `Never will I claim a person to be pious after this.' This incident caused me some distress, and I went to sleep thereafter. I saw in my dream that `Uthman owned a running water spring. I went to Allah's Messenger and told him about that. Allah's Messenger said, ذَاكِ عَمَلُه That was his (good) deeds." Al-Bukhari recorded this Hadith but Muslim did not. In one of the narrations, Allah's Messenger said, مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللهِ مَا يُفْعَلُ بِه Even though I am Allah's Messenger, I do not know what will happen to him. This and similar texts indicate that it is not allowed to declare that a specific person will enter Jannah except for those who were distinctly indicated by Allah or his Messenger. Examples of those are the Ten, Ibn Sallam, Al-Ghumaysa', Bilal, Suraqah, Abdullah bin `Amr bin Haram (Jabir's father), the Seventy Recitors (of Qur'an) who were assassinated near the Well of Ma`unah, Zayd bin Harithah, Ja`far, Ibn Rawahah, and other similar individuals, may Allah be pleased with them. Allah then says, ... إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ ... I only follow that which is revealed to me, which means, `I only follow what Allah has revealed to me of the revelation.' ... وَمَا أَنَا إِلاَّ نَذِيرٌ مُّبِينٌ and I am but a plain warner. meaning, `my warnings are obvious to every person with sound intellect and reason.' And Allah knows best.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

9۔ 1 یعنی پہلا اور انوکھا رسول تو نہیں ہوں، بلکہ مجھ سے پہلے بھی متعدد رسول آ چکے ہیں۔ 9۔ 2 یعنی دنیا میں، میں مکہ میں ہی رہوں گا یا یہاں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑے گا، مجھے موت طبعی آئے گی یا تمہارے ہاتھوں میرا قتل ہوگا ؟ تم جلدی ہی سزا سے دو چار ہونگیں یا لمبی مہلت تمہیں دی جائے گی ؟ ان تمام باتوں کا علم صرف اللہ کو ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ کل کیا ہوگا تاہم آخرت کے بارے میں یقینی علم ہے کہ اہل ایمن جنت میں اور کافر جہنم میں جائیں گے اور حدیث میں جو آتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات پر جب ان کے بارے میں حسن ظن کا اظہار کیا گیا تو فرمایا واللہ ما ادری وانا رسول اللہ ما یفعل بی ولا بکم۔ صحیح بخاری۔ اللہ کی قسم مجھے اللہ کا رسول ہونے کے باوجود علم نہیں کہ قیامت کو میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اس سے کسی ایک معین شخص کے قطعی انجام کے علم کی نفی ہے الا یہ کہ ان کی بابت بھی نص موجود ہو جیسے عشرہ مبشرہ اور اصحاب بدر وغیرہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] یعنی رسالت کا سلسلہ کچھ مجھ سے ہی شروع نہیں ہوا مجھ سے پہلے ہزاروں پیغمبر اور سینکڑوں رسول گزر چکے ہیں۔ سب کی تعلیم یہی تھی جو میں تمہیں بتارہا ہوں۔ میں کوئی نئی اور نرالی بات تم سے نہیں کہتا۔ جسے تم صریح جادو یا بناوٹی باتیں کہہ رہے ہو۔ [١٣] کسی کے انجام کی یقینی خبرصرف اللہ کو ہے :۔ اس جملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں اور تمہارے خیال کے مطابق اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کا نتیجہ میرے حق میں کیا نکلنے والا ہے اور تمہارے حق میں کیا ہوسکتا ہے۔ یہ مجھے نہیں معلوم نہ ہی کوئی بات میرے اختیار میں ہے۔ میرے اختیار میں تو صرف یہ بات ہے کہ جو کچھ میری طرف وحی کی جارہی ہے اس کی پیروی کرتا جاؤں اور جو پیغام مجھے اللہ کی طرف سے ملا ہے وہ تمہیں پہنچا دوں اور تمہیں تمہارے انجام سے مطلع کر دوں اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ قیامت کے دن مجھ سے یا تم سے کیا سلوک ہونے والا ہے۔ یہ میں نہیں جانتا میں صرف تمہیں یہ بتائے دیتا ہوں کہ برے اعمال کا انجام اچھا نہ ہوگا۔ اور اس پہلو کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے۔ خارجہ بن زید انصاری کہتے ہیں ام علاء انصار کی ایک عورت تھی جس نے رسول اللہ سے بیعت کی تھی اس نے کہا کہ جب انصار نے مہاجرین کی آباد کاری کے لیے قرعہ ڈالا تو عثمان بن مظعون (رض) کا قرعہ ہمارے نام نکلا۔ وہ ہمارے پاس رہنے لگے۔ وہ بیمار ہوگئے ہم نے ان کی تیمار داری کی۔ آخر ان کا انتقال ہوگیا۔ ہم نے انہیں کفن پہنایا تو رسول اللہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ اس وقت میں نے کہا :&& ابوالسائب ! یہ عثمان بن مظعون (رض) کی کنیت تھی) اللہ تم پر رحم کرے۔ میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے تمہیں عزت دی && رسول اللہ نے مجھ سے پوچھا :&& تجھے کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے اسے عزت دی ؟ && میں نے عرض کیا :&& یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان مجھے معلوم نہیں && تب آپ نے فرمایا۔ عثمان بن مظعون (رض) کی موت واقع ہوگئی اور مجھے اس کی بھلائی کی امید ہے۔ (لیکن یقین کے ساتھ میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتا) اللہ کی قسم ! میں اللہ کا رسول ہوں لیکن میں بھی نہیں جانتا کہ اس سے کیا سلوک کیا جانے والا ہے && ام علاء کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! اس کے بعد میں نے کبھی کسی کی ایسی تعریف نہیں کی۔ (بخاری۔ کتاب الشہادات۔ باب القرعۃ فی المشکلات)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١ ) قل ما کنت بداعً من الرسل :” یدع یبدع بدعا “ (ف) ” الشیء “ کسی چیز کو ایجاد کرنا، کسی پہلی مثال کے بغیر بنانا۔ سورة بقرہ (١١٧) اور سورة انعام (١٠١) میں ” بدیح السموت والارض “ اسی سے ہے۔ ” بدع یبدع یدعاً و بداعۃ وبدوعۃ “ (ک) نیا ہونا، جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو۔” بدعا “ صفت مشبہ فعل لازم سے بمعنی اسم فاعل ہے۔ جیسے ” خف “ بمعنی خفیف ہے، یا فعل متعدی سے بمعنی اسم مفعول ہے، جیسے ” حب “ بمعنی محبوب ہے۔ ” بدعا من الرسل “ نیا یا انوکھا رسول۔ کفار ایمان نہ لانے کے لئے جو بہانے اور اعتراض کرتے تھے ان میں سے چند کا ذکر اور ان کا جواب پچھلی وہ آیات میں گزرا۔ اس آیت میں ان کے بہت سے اعتراضات کا صرف جواب ذکر کیا گیا ہے، اعتراضات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کیونکہ وہ خود بخود جواب سے سمجھ میں آرہے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کا ذکر صراحت کے ساتھ بھی موجود ہے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ ہمارے جیسا ایک بشر رسول کیسے بن گیا، جو ہماری طرح کھاتا پیتا، باز اورں میں چلتا پھرتا اور بیوی بچے رکھتا ہے۔ ایک اعتراض یہ کرتے کہ توحید کی جو تعلیم یہ نبی پیش کرتا ہے ہم نے اپنے آباؤ اجداد میں نہیں سنی۔ (دیکھیے ص : ٤ تا ٨۔ فرقان : ٧) ایک یہ کہ اگر یہ رسول ہے تو ہمارے مطالبے کے مطابق معجزے کیوں پیش نہیں کرتا، مثلاً پہاڑ ہٹا دے، دریا بہا دے، سونے کا مکان بنا لے، آسمان پر چڑھ جائے اور وہاں سے کتاب لا کر دکھائے وغیرہ۔ (دیکھیے نبی اسرائیل : ٩٠ تا ٩٣) اور ایک یہ کہ غیب کی خبریں مہارے مطالبے کے مطابق کیوں نہیں بتاتا، کم از کم یہ ہی بتادے کہ قیامت کب ہوگی۔ دیکھیے اعراف : ١٨٧) اللہ تعالیٰ نے ان سب کے جواب میں یہ کہعنے کا حکم دیا کہ میں کوئی پہلا رسول نہیں جو بشر ہو، مجھ سے پہلے تمام رسول بشر ہی تھے، وہ کھاتے پیتے، باز اورں میں چلتے پھرتے اور بیوی بچوں والے تھے۔ ان پر انسانی عوارض آتے تھے، سب کی تعلیم توحید تھی، وہ خدائی اختیارات نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی وہ اپنی مرضی سے معجزے پیش کرسکتے تھے۔ پھر اگر وہ سب جن میں تمہارے جد امجد ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے بہت سے انبیاء شامل ہیں، رسول اور نبی ہوسکتے ہیں اور تم انھیں نبی مانتے ہو تو میرا رسول ہونا کون سی انوکھی بات ہے ؟ (٢) وما ادری مایفعل فی ولابکم : یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ یہ ہمیں ہمارے مطالبے کے مطابق غیب کی خبریں کیوں نہیں دیتا۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ میں خود کچھ بھی نہیں جانتا، نہ یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا، تو میں تمہیں اپنے پاس سے تمہاری طلب کردہ باتیں کیسے بتاسکتا ہوں ؟ “ ” مایفعل “ فعل مجہول اس لئے لایا گیا تاکہ فاعل عام رہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کیا کرے گا اور لوگ کیا کریں گے۔ پھر یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ کس وقت کیا جائے گا، تاکہ عام رہے کہ ہمارے ساتھ دنیا میں کیا کیا جائے گا اور آخرت میں کیا کیا جائے گا۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یقینا جانتے تھے کہ دنیا اور آخرت میں آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا اور آپ پر ایمان لانے والوں یا نہ لانے والوں کے ساتھ کیا کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے گئے اور صحابہ کرام کے تمام گناہ معاف کر کے انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا اور کفار وم نافقین کو جہنم کا عذاب دیا جائے گا۔ (دیکھیے فتح : ١ تا ٦) دنیا میں بھی آپ کو اور ایمان والوں کو عزت و غلبہ اور کفار کو لذت و رسوائی ملے گی اور آپ کا دین تمام دینوں پر غالب آئے گا۔ دیکھیے سورة مجادلہ (٢١) ، فتح (٢٨) صف (٨، ٩) اور دوسری متعدد آیات ۔ پھر یہ کہنے کا حکم کیوں دیا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اہل علم نے اس سوال کے مختلف جواب دیئے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اجمالی طور پر تو یہ جانتے تھے مگر تفصیلی طور پر آپ کو معلوم نہ تھا کہ آپ کے ساتھ یا آپ کے مخاطبین کے ساتھ دنیا یا آخرت میں کیا ہوگا۔ ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ پہلے آپ کو یہ معلوم نہ تھا بعد میں معلوم ہوگیا ، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب اس آیت کے جملہ ” وما ادری مایفعل، بی ولابکم “ میں اور اگلے جملے ” ان اتبع الا مایوحی الی “ میں موجود ہے۔ (٣) ان اتبع الا مایوحی الی : یعنی میں خود آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا، نہ یہ کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ یعنی میں صرف اتنا بتاسکتا ہوں جو تجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اور واقعی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آئندہ ہونے والی جو بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائی وہ آپ جان گئے اور جو نہیں بتائی وہ آپ کو معلوم نہیں ہوئی۔ اس کی دلیل سینکڑوں واقعات ہیں، مثلاً واقعہ افک ، بئر معونہ کے شہداء اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چند کفار کا نام لے کر ایک ماہ تک قنوت میں ان پر لعنت کرنا، مگر اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ یہ آپ کے اختیار میں نہیں اور پھر ان سب کا مسلمان ہوجانا وغیرہ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة نمل کی آیت (٦٥) (قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ) کی تفسیر۔ سورة اعراف میں فرمایا :(قل لا املک لنفسی نفعاً ولاضراً الا ما شآء اللہ ولوکنت اغلم الغیب لاستکثرت من الخیر، وما مسنی السوٓء ان انا الا نذیر و بشیر لقوم یومنون) (الاعراف : ١٨٨) ” کہہ دے میں اپنی جان کے لئے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔ “ اسی طرح آخرت کے متعلق جو بات بتائی وہ آپ جان گئے جو نہیں بتائی وہ نہیں جانتے تھے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے کہ میں عرش کے نیچے سجدے میں گر جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے وہ تعریفیں الہام کرے گا جو اب مجھے یاد نہیں۔ (دیکھیے بخاری، التوحید، باب کلام الرب، عزوجل یوم القیامۃ مع الانبیاء و غیر ھم :801) الغرض، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اوپر ہلے تمام انبیاء عہلیہ السلام کو آئندہ کی کسی بات کا نہ اجمالی علم تھا اور نہ تفصیلی، صرف ان باتوں کا علم تھا جو اللہ تعالیٰ نے انھیں بتائیں، خواہ اجمالاً بتائیں یا تفصیلاً ۔ یوسف اور یعقوب (علیہ السلام) کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ دیکھیے سورة یوسف کی آیت (٩٤) کی تفسیر۔ اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی کے تمام واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ پیغمبر کو آنے والے واقعات کا صرف اتنا علم ہوتا ہے جتنا اسے بتادیا جائے۔ اگر کہا جائے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوتے ہیں تو ابراہیم (علیہ السلام) کے آگے میں پھینکے جانے، بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم ہجرت میں بیوی کی عزت خطرے میں پڑنے، بیوی بچے کو بےآب وگیاہ وادی میں چھوڑنے، غرض کسی بھی امحتان میں سرخرو ہونے کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی۔ خلاصہ یہ کہ آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اے نبی ! کہہ دے نہ میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا، مجھے تو صرف اس بات کا پتا چلتا ہے اور میں اسی کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے، اس کے سوا میں اپنے یا تمہارے متعلق آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا۔ اس لئے مجھ سے قیامت کے وقت یا آئندہ کی دوسری کسی بات کے متعلق بتانے کا مطالبہ مت کرو، کیونکہ وہ یہ میرے دائرہ اختیار میں نہیں ہیں۔ (٤) وما انا الا نذیر مبین : یعنی میرا کام یہ نہیں کہ میں تمہیں بتاؤں کہ قیامت کب آئے گی، یا اپنے پاس سے تمہیں آئندہ کی خبریں بتاؤں۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ میں اللہ کا عذاب آنے سے پہلے تمہیں اس سے واضح طور پر ڈرا دوں۔ (٥) مفسر علی بن احمد مہائمی نے اپنی تفسیر ” تبصیر الرحمان “ میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے نہایت عمدہ الفاظ میں بحث کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے، وہ لکھتے ہیں :” قل ما کنت بدعا من الرسل) (اتیکم بالمواخذہ الاخروبۃ (٣) من ابن لی تعیین و فتھا مع انی (ما ادری ما یفعل بی ولابکم) فیما لم یوح الی والوحی ببعض الامور لایستلزم العلم بالبافی ولم بکن لی ان اضم الی الوحی کذباً من عندی (ان اتبع) فی تقریر الامور لایسلزم العلیم بالبافی ولم یکن لی ان اضم الی الوحی کذباً من عندی (ان اثبع) فی تقریر الامور الغیثۃ (الا ما یوحی الی و ) مع ذلک لا یفوض الی شیء مما یو، ی الی من تعذیب من لا یومن بی بل (ما انا الا نذیر) (عنہ (مبین) لہ بالدلائل القطعیۃ “”(کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں) کہ تم پر آخرت کا عذاب لے آؤں (اور) میں اس کے وقت کی تعیین کیسے کرسکتا ہوں جب کہ (میں جانتا ہی نہیں کہ میرے ساتھ کیا جئاے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا جائے گا) ان معاملات میں جن کی میری طرف وحی نہیں کی گئی اور بعض معاملات کے وحی کئے جانے سے لازم نہیں آتا کہ مجھے تمام معاملات کا بھی علم ہوگیا اور یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کہ باقی معاملات میں وحی کے ساتھ اپنے پاس سے جھوٹ ملا دوں۔ (میں پیروی نہیں کرتا) غیبی معاملات بیان کرنے میں (مگر اسی کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور) اس کے ساتھ یہ کہ مجھے جو وحی کی جاتی ہے اس میں مجھ پر ایمان نہ لانے والوں کو عذاب دینے میں کسی چیز کا معاملہ میرے سپرد نہیں کیا جاتا، بلکہ (میں نہیں ہوں مگر ڈرانے ولا) اس کی طرف سے (بالکل واضح) جو اپنے ڈرانے کو قطعی دلائل کے ساتھ واضح کر کے بیان کرنے والا ہوں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary وَمَا أَدْرِ‌ي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ (and I do not know what will be done to me or to you. I do not follow anything but what is revealed to me - 46:9) The sentence, |"I do not follow anything but what is revealed to me,|" has been used here as an &exception& to the previous sentence, meaning thereby that I do not know anything except what is revealed to me through wahy. The gist of the explanation given to this verse by Imam Dahhak (رح) is that the knowledge of some unseen things can be obtained by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) only through wahy, and he does not have any knowledge about those unseen things which were not revealed to him through wahy, be they about his own self, about the believers and disbelievers among his people, or about matters pertaining to this world or to the Hereafter. Whatever the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said about the unseen things is obtained through wahy. The noble Qur&an has declared that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was blessed by the knowledge of innumerable things from the Unseen (ghaib), but all this knowledge was given to him by the divine revelation. This is exactly what the Holy Qur&an means by saying, تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ |"These are some reports from the unseen (events) which We reveal to you.|" (11: 49) Details of matters relating to the Hereafter, Hell, Paradise, accountability, reward and punishment are given in the Holy Qur&an itself, and many details of certain future events that had to take place in this world are given in authentic ahadith reported from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Thus the substance of the present verse is simply that the knowledge of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about the Unseen is not all-encompassing as is that of Allah Almighty, nor is it independently obtained; he simply reproduces whatever Allah Almighty tells him through wahy. After having reproduced this explanation, the author of Ruh-ul-Ma’ ani says, |"It is my belief that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not leave this world until he was blessed by wahy with such a knowledge about Allah Ta’ ala, His attributes and about all those things the knowledge of which could be meritorious that no other in the whole universe has ever been blessed with. But I do not believe that unawareness about trivial worldly affairs like the acts of some particular individuals and what they do at their homes and what happens to them one day or the other can in any way reduce his excellence.|" Dictate of etiquette regarding the knowledge of the Holy Prophet t about unseen matters Respect for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) demands that one should not say that he did not know the Unseen; rather one should say that Allah Ta` a1a had given such vast knowledge of unseen matters to him as was not given to any other prophet. The explanation given by some exegetes that the negation in this verse is only about the unseen affairs pertaining to this world, and not about the Hereafter (as stated by Qurtubi) is probably because they have not taken the words, |"I do not follow anything but what is revealed to me,|" in the sense of an exception to the previous sentence; hence the negation of the knowledge of unseen things has been made specific to the affairs of this world, because the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has told very clearly about the Hereafter that the Mu&min would go to Paradise, and the &kafir& would go to Hell.

معارف ومسائل (آیت) وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ جملہ ان اتبع بمعنے استثناء کے ہے یعنی میں نہیں جانتا بجز اس کے جو مجھ پر وحی کی جائے۔ اسی بناء پر امام تفسیر ضحاک سے اس آیت کی تفسیر وہ منقول ہے جو خلاصہ تفسیر مذکور میں اختیار کی گئی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ امور غیبیہ کا علم مجھے صرف وحی کے ذریعہ ہوسکتا ہے جس معاملے کے متعلق وحی سے مجھے علم نہ ہو خواہ وہ میری ذات سے متعلق ہو یا امت کے مومن و کافر لوگوں سے اور خواہ وہ معاملہ دنیا کا ہو یا آخرت کا اس کی مجھے کچھ خبر نہیں۔ امور غیبیہ کے متعلق میں جو کچھ کہتا ہوں وہ سب وحی الٰہی سے کہتا ہوں چناچہ قرآن کریم میں خود مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیشمار علوم امور غیبیہ کے متعلق عطا فرماتے ہیں (آیت) تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک کا یہی مطلب ہے۔ امور آخرت، دوزخ، جنت، حساب کتاب، سزا و جزاء سے متعلق تو تفصیلات خود قرآن کریم میں بیشمار مذکور ہیں اور دنیا میں پیش آنے والے واقعات آئندہ کی بہت سی تفصیلات احادیث صحیحہ متواترہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہیں جس سے ثابت ہوا کہ آیت مذکورہ کا حاصل صرف اتنا ہے کہہ میں امور غیبیہ کے علم محیط میں خدا تعالیٰ کی طرح نہیں اور ان کے علم میں خود مختار نہیں بلکہ مجھے بواسطہ وحی خداوندی جو کچھ بتلا دیا جاتا ہے وہ میں ذکر کردیتا ہوں۔ تفسیر روح المعانی میں اس قول کو نقل کر کے لکھا ہے کہ میرا اعتقاد یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور آخرت اور دنیا میں پیش آنے والے اہم معاملات سے آپ کو بذریع وحی باخبر نہیں کردیا گیا۔ رہا اشخاص و افراد کے جزوی شخصی حالات و معاملات کا علم کہ زید کل کو کیا کام کرے گا اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ عمر بکر اپنے گھروں میں کیا کیا کام کر رہے ہیں یا کرے گا ان امور غیبیہ کا علم نہ کوئی کمال ہے نہ ان کے نہ ہونے سے کمال نبوت میں کوئی فرق آتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کے متعلق تقاضائے ادب : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کے متعلق تقاضائے ادب یہ ہے کہ یوں نہ کہا جائے کہ آپ غیب نہیں جانتے تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امور غیب کا بہت بڑا علم دیا تھا جو انبیاء میں سے کسی دوسرے کو نہیں ملا۔ اور بعض حضرات مفسرین نے جو یہ فرمایا کہ اس آیت میں نفی علم صرف امور دنیویہ سے متعلق ہے آخرت کے متعلق علم غیب کی نفی اس میں شامل نہیں (کما ذکرہ القرطبی) انہوں نے غالباً جملہ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ کو بمعنے استنثاء قرار نہیں دیا، اس لئے نفی علم غیب کو امور دنیا کے ساتھ مخصوص فرمایا کیونکہ آخرت کے متعلق تو کھلے طور پر آپ نے جو بتلا دیا کہ کافر دوزخ میں اور مومن جنت میں جائے گا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ۝ ٠ ۭ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۝ ٩ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ بدع الإِبْدَاع : إنشاء صنعة بلا احتذاء واقتداء، ومنه قيل : ركيّة بَدِيع أي : جدیدة الحفروإذا استعمل في اللہ تعالیٰ فهو إيجاد الشیء بغیر آلة ولا مادّة ولا زمان ولا مکان، ولیس ذلک إلا لله والبدیع يقال للمُبْدِعِ نحو قوله تعالی: بَدِيعُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ البقرة/ 117] ، ويقال للمبدع نحو : ركيّة بدیع، وکذلک البِدْعُ يقال لهما جمیعا بمعنی الفاعل والمفعول، وقوله تعالی: قُلْ ما كُنْتُ بِدْعاً مِنَ الرُّسُلِ [ الأحقاف/ 9] قيل : معناه : مبدعا لم يتقدّمني رسول، وقیل : مبدعا فيما أقوله . والبِدْعةُ في المذهب : إيراد قول لم يستنّ قائلها وفاعلها فيه بصاحب الشریعة وأماثلها المتقدمة وأصولها المتقنة، وروي : «كلّ محدثة بدعة، وكلّ بدعة ضلالة، وكلّ ضلالة في النّار» والإِبْدَاع بالرّجل : الانقطاع به لما ظهر من کلال راحلته وهزالها ( ب د ع ) الا بداع ۔ کسی کی تقلید اوراقتداء کے بغیر کسی چیز کو ایجاد کرنا ۔ اسی سے کھودے ہو ہوئے کنویں کو وکیہ بدیع کہا جاتا ہے ۔ جب ابداع کا لفظ اللہ عزوجل کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں بغیر آلہ بغیر مادہ اور بغیر زمان ومکان کے کسی شئے کو ایجاد کرنا اور یہ معنی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مختص ہے ۔ اور البدیع بمعنی مبدع بھی آیا ہے جیسے فرمایا : بَدِيعُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ البقرة/ 117] وہی آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے ( 2 ۔ 117 ) اور بمعنی مبدع ( اسم مفعول ) بھی آجاتا ہے جیسے زکیہ بدیع ( نیا کھودا ہوا کنواں ) اسی طرح بدعا کا لفظ بھی اسم فاعل اور اسم مفعول دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ آیت کریمہ : ما كُنْتُ بِدْعاً مِنَ الرُّسُلِ [ الأحقاف/ 9] کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں ہوں ( 942 ) میں بدعا بمعنی مبدع بھی ہوسکتا ہے یعنی پیغمبر ایسا کہ مجھ سے پہلے کوئی پیغمبر نہ آیا ہو اور بمعنی مدع کے بھی یعنی میں کوئی نئی بات نہیں کہتا ۔ البدعہ مزہب میں نئی بات داخل کرنا جس کا قائل یا فاعل صاحب شریعت کی اقتدا نہ کرے اور نہ ہی سلف صالحین اور اصول شریعت سے اس کا ثبوت ملتا ہو ایک روایت میں ہے 25 ) کل محدثہ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار کہ ہر نئی رسم بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں ۔ الابداع بالرجل سواری کے ماندہ اور دبلا ہونے کی وجہ سے رفقا د سے منقطع ہوجانا ؟ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ دری الدّراية : المعرفة المدرکة بضرب من الحیل، يقال : دَرَيْتُهُ ، ودَرَيْتُ به، دِرْيَةً ، نحو : فطنة، وشعرة، وادَّرَيْتُ قال الشاعر : وماذا يدّري الشّعراء منّي ... وقد جاوزت رأس الأربعین والدَّرِيَّة : لما يتعلّم عليه الطّعن، وللناقة التي ينصبها الصائد ليأنس بها الصّيد، فيستتر من ورائها فيرميه، والمِدْرَى: لقرن الشاة، لکونها دافعة به عن نفسها، وعنه استعیر المُدْرَى لما يصلح به الشّعر، قال تعالی: لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] ، وقال : وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 111] ، وقال : ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ [ الشوری/ 52] ، وكلّ موضع ذکر في القرآن وما أَدْراكَ ، فقد عقّب ببیانه «1» ، نحو وما أَدْراكَ ما هِيَهْ نارٌ حامِيَةٌ [ القارعة/ 10- 11] ، وَما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ [ القدر/ 2- 3] ، وَما أَدْراكَ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 3] ، ثُمَّ ما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ [ الانفطار/ 18] ، وقوله : قُلْ لَوْ شاءَ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْراكُمْ بِهِ [يونس/ 16] ، من قولهم : دریت، ولو کان من درأت لقیل : ولا أدرأتكموه . وكلّ موضع ذکر فيه : وَما يُدْرِيكَ لم يعقّبه بذلک، نحو : وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى [ عبس/ 30] ، وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ [ الشوری/ 17] ، والدّراية لا تستعمل في اللہ تعالی، وقول الشاعر : لا همّ لا أدري وأنت الدّاري فمن تعجرف أجلاف العرب ( د ر ی ) الدرایۃ اس معرفت کو کہتے ہیں جو کسی قسم کے حیلہ یا تدبیر سے حاصل کی جائے اور یہ دریتہ ودریت بہ دریۃ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ( یعنی اس کا تعدیہ باء کے ساتھ بھی ہوتا ہے ۔ اور باء کے بغیر بھی جیسا کہ فطنت وشعرت ہے اور ادریت بمعنی دریت آتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ع اور شعراء مجھے کیسے ہو کہ دے سکتے ہیں جب کہ میں چالیس سے تجاوز کرچکاہوں قرآن میں ہے ۔ لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے کے بعد کوئی ( رجعت کی سبیلی پیدا کردے ۔ وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 111] اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو ۔ ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ [ الشوری/ 52] تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے ۔ اور قرآن پاک میں جہاں کہیں وما ادراک آیا ہے وہاں بعد میں اس کا بیان بھی لایا گیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَما أَدْراكَ ما هِيَهْ نارٌ حامِيَةٌ [ القارعة/ 10- 11] اور تم کیا سمجھتے کہ ہاویہ ) کیا ہے ؟ ( وہ ) دھکتی ہوئی آگ ہے ۔ وَما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ [ القدر/ 2- 3] اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ۔ وَما أَدْراكَ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 3] اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا چیز ہے ؟ ثُمَّ ما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ [ الانفطار/ 18] اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ قُلْ لَوْ شاءَ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْراكُمْ بِهِ [يونس/ 16] یہ بھی ) کہہ و کہ اگر خدا چاہتا تو ( نہ تو ) میں ہی یہ کتاب ) تم کو پڑھکر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا ۔ میں سے ہے کیونکہ اگر درآت سے ہوتا تو کہا جاتا ۔ اور جہاں کہیں قران میں وما يُدْرِيكَآیا ہے اس کے بعد اس بیان مذکور نہیں ہے ( جیسے فرمایا ) وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى [ عبس/ 30] اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے ۔ وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ [ الشوری/ 17] اور تم کیا خبر شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو یہی وجہ ہے کہ درایۃ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال نہیں ہوتا اور شاعر کا قول ع اے اللہ ہی نہیں جانتا اور تو خوب جانتا ہے میں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوا ہے بےسمجھ اور اجڈ بدر دکا قول ہے ( لہذا حجت نہیں ہوسکتا ) الدریۃ ( 1 ) ایک قسم کا حلقہ جس پر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی ہے ۔ ( 2 ) وہ اونٹنی جسے شکار کو مانوس کرنے کے لئے کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ اور شکار اسکی اوٹ میں بیٹھ جاتا ہے تاکہ شکا کرسکے ۔ المدوی ( 1 ) بکری کا سینگ کیونکہ وہ اس کے ذریعہ مدافعت کرتی ہے اسی سے استعارہ کنگھی یا بار یک سینگ کو مدری کہا جاتا ہے جس سے عورتیں اپنے بال درست کرتی ہیں ۔ مطعن کی طرح مد سر کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی بہت بڑے نیزہ باز کے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے وہ ایک چیز ہے جسے سمندر کنارے پر پھینک دیتا ہے ۔ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، ( ف ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے النذیر والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذیر النذیر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔ مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں انسانوں میں کوئی پہلا رسول تو نہیں ہوں مجھ سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں اور میں نہیں جانتا کہ سختی و نرمی اور عافیت میں سے میرے ساتھ کس قسم کا معاملہ کیا جائے گا۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت صحابہ کرام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم مکہ سے کب نکلیں گے اور کفار کی سختیوں سے کب نجات ملے گی اس وقت رسول اکرم نے ان سے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ مجھے اور تمہیں ہجرت کا حکم ہوگا یا نہیں میں تو صرف اسی پر عمل کرتا ہوں جس کا مجھے بذریعہ قرآن کریم حکم دیا جاتا ہے اور میں تو ایسی زبان میں جسے تم سمجھو ڈرانے والا ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩ { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے یہ بھی) کہیے کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں ہوں “ بِدْعًا کے معنی نیا نویلا یا نرالاہونے کے ہیں۔ لفظ ” بدعت “ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ بدعت سے اصطلاحاً وہ چیز مراد ہے جو اصل میں دین کا حصہ نہ ہو بلکہ کسی وجہ سے دین میں رائج کردی گئی ہو۔ بہر حال یہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہلوایا جا رہا ہے کہ میرا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بن کر آنا کوئی نئی بات نہیں ہے ‘ بلکہ میں تو آخری رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں۔ بہت سے رسول (علیہ السلام) مجھ سے پہلے بھی دنیا میں آ چکے ہیں۔ سورة آلِ عمران میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تعارف اس طرح کرایا گیا ہے : { وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ } (آیت ١٤٤) ” اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ‘ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں “۔ سورة المائدۃ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں : { مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلاَّ رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ } (آیت ٧٥) ” مسیح ( علیہ السلام) ابن مریم اور کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ ایک رسول (علیہ السلام) تھے ‘ ان ( علیہ السلام) سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔ “ { وَمَآ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلَا بِکُمْ } ” اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ “ اس سے آخرت کا معاملہ مراد نہیں ہے ‘ کیونکہ آخرت کے بارے میں تو آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت واضح انداز میں بتادیا گیا تھا : { وَلَـلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی۔ (الضحیٰ ) یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے آخرت یقینا دنیا سے بہت بہتر ہوگی۔ بلکہ آیت زیر مطالعہ کا اشارہ اس کش مکش کی طرف ہے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مشرکین مکہ کے درمیان مسلسل جاری تھی۔ جیسے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک امیدلے کر طائف تشریف لے گئے تھے لیکن وہاں جو کچھ ہوا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ نبوت کے دسویں سال جب جناب ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اپنے قبیلے بنو ہاشم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اظہارِ براءت کردیا۔ اس کے بعد مکہ میں دنیوی اعتبار سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی حلیف یا حمایتی نہ رہا۔ ان حالات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف تشریف لے گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خیال تھا کہ اہل طائف میں سے اگر کوئی بڑا سردار ایمان لے آیا تو میں اپنی دعوت کا مرکز وہاں منتقل کرلوں گا۔ لیکن اہل طائف کا رویہ اہل ِمکہ ّسے بھی بدتر نکلا۔ لہٰذا مکہ کے ماحول میں جاری کشیدگی کے حوالے سے یہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہلوایا جا رہا ہے کہ اس چپقلش کے اندر آئندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے کیا پیش آنے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ { اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ} ” میں تو بس اسی کی پیروی کر رہا ہوں جو میری طرف وحی کی جا رہی ہے ‘ اور میں نہیں ہوں مگر ایک کھلا خبردار کردینے والا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

12 Its background is this: When the Holy Prophet presented himself as Allah's Messenger, the people of Makkah raised different kinds of objections against it. They said: "what kind of a Messenger he is who has a family, who moves about in the streets, eats and drinks and lives a common man's life. There is nothing special about him, which might distinguish him above the other people and therefore we may know that Allah has specially made this man His Messenger. " Then they said: "Had he ban appointed a Messenger by God, He would have sent an angel as an attendant with him who would have announced that he was God's Messenger, and would have punished with a scourge every such person who had behaved insolently Towards him. How strange that God should appoint a person as His Messenger and then should leave him alone to roam the streets of Makkah and suffer every kind of humiliation. If nothing else Allah should at Ieast have created a magnificent palace and a blooming garden for His Messenger. He should not have been left to depend on his wife's resources so that 'when they exhausted the Messenger should be forced to go without food and should not even afford a conveyance to Ta'if." Besides, these people demanded different kinds of miracles from him and asked news of the unseen. They thought that a person's being God's Mcsscngcr meant that he should possess supernatural powers so that mountains should move at his bidding and deserts at once turn into green fields; he should have the knowledge of the past and the future events and of everything hidden from others. An answer to the same has been given in these sentences, and each sentence contains a world of meaning. First, it is said: 'Tell them: I am not a novel Messenger. " That is, "My being appointed as a Messenger is not a novel event of its kind in the world so that you may have some confusion about the characteristics of a Messenger. Many Messengers have come to the world before me, and I am not any different from them. Never has a Messenger come, who did not have a family, who did not eat and drink, or who did not live a common man's life. Never has an angel descended as an attendant with a Mcsscngcr, heralding his prophethood and carrying a whip before him. Never have gardens and palaces been created for a Messenger and never has a Messenger ban spared of the hardships which I am suffering. Never has a Messenger shown a miracle by his own power, or known everything by his own knowledge. Then, how is it that you are bringing forth these strange criteria only to judge my Prophethood?" Then it is said: Tell them also : "I do not know what shall befall you tomorrow nor what shall befall me. I only follow that which is revealed to me." That is, "I am not a knower of the unseen so that everything of the past and present and future should be known to me, and I should have the knowledge of everything in the world. Not to speak of your future, I do not even know my own future. I only know that of which I am given knowledge by revelation. More than that I have never claimed to know, nor has there ever been a Messenger in the world, who made that claim. It is not a Messenger's job to tell the whereabouts of the lost articles, or tell whether a pregnant woman will deliver a boy or a girl, or whether a sick patient will live or die." In conclusion, it is said: "Say to them: I am no more than a plain warner." That is, "I do not possess Divine powers so that I may show you the wonderful miracles that you demand from me every next day. My only mission is that I should present the right way before the people, and should warn of an evil end those who do not accept it. "

سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :12 اس ارشاد کا پس منظر یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو خدا کے رسول کی حیثیت سے پیش کیا تو مکے کے لوگ اس پر طرح طرح کی باتیں بنانے لگے ۔ وہ کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو بال بچے رکھتا ہے ، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ، کھاتا پیتا ہے ، اور ہم جیسے انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے ۔ آخر اس میں وہ نرالی بات کیا ہے جس میں یہ عام انسانوں سے مختلف ہو اور ہم یہ سمجھیں کہ خاص طور پر اس شخص کو خدا نے اپنا رسول بنایا ہے ۔ پھر وہ کہتے تھے کہ اگر اس شخص کو خدا نے رسول بنایا ہوتا تو وہ اس کی اردلی میں کوئی فرشتہ بھیجتا جو اعلان کرتا کہ یہ خدا کا رسول ہے ، اور ہر اس شخص پر عذاب کا کوڑا برسا دیتا جو اس کی شان میں کوئی ذرا سی گستاخی کر بیٹھتا ۔ یہ آخر کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا کسی کو اپنا رسول مقرر کرے اور پھر اسے یونہی مکے کی گلیوں میں پھرنے اور ہر طرح کی زیادتیاں سہنے کے لیے بے سہارا چھوڑ دے ۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم یہی ہوتا کہ خدا اپنے رسول کے لیے ایک شاندار محل اور ایک لہلہاتا باغ ہی پیدا کر دیتا ۔ یہ تو نہ ہوتا کہ اس کے رسول کی بیوی کا مال جب ختم ہو جائے تو اسے فاقوں کی نوبت آجائے اور طائف جانے کے لیے اسے سواری تک میسر نہ ہو ۔ پھر وہ لوگ آپ سے طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ کرتے تھے اور غیب کی باتیں آپ سے پوچھتے تھے ۔ ان کے خیال میں کسی شخص کا رسول خدا ہونا یہ معنی رکھتا تھا کہ وہ فوق البشری طاقتوں کا مالک ہو ، اس کے ایک اشارے پر پہاڑ ٹل جائیں اور ریگ زار دیکھتے دیکھتے کشت زاروں میں تبدیل ہو جائیں ، اس کو تمام : ماکان و ما یکون کا علم ہو اور پردہ غیب میں چھپی ہوئی ہر چیز اس پر روشن ہو ۔ یہی باتیں ہیں جن کا جواب ان فقروں میں دیا گیا ہے ۔ ان میں سے ہر فقرے کے اندر معانی کی ایک دنیا پوشیدہ ہے ۔ فرمایا ، ان سے کہو ، میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ۔ یعنی میرا رسول بنایا جانا دنیا کی تاریخ میں کوئی پہلا واقعہ تو نہیں ہے کہ تمہیں یہ سمجھنے میں پریشانی لاحق ہو کہ رسول کیسا ہوتا ہے اور کیسا نہیں ہوتا ۔ مجھ سے پہلے بہت سے رسول آ چکے ہیں ، اور میں ان سے مختلف نہیں ہوں ۔ آخر دنیا میں کب کوئی رسول ایسا آیا ہے جو بال بچے نہ رکھتا ہو ، یا کھاتا پیتا نہ ہو ، یا عام انسانوں کی سی زندگی بسر نہ کرتا ہو؟ کس رسول کے ساتھ کوئی فرشتہ اترا ہے جو اس کی رسالت کا اعلان کرتا ہو اور اس کے آگے آگے ہاتھ میں کوڑا لیے پھرتا ہو؟ کس رسول کے لیے باغ اور محلات پیدا کیے گئے اور کس نے خدا کی طرف بلانے میں وہ سختیاں نہیں جھیلیں جو میں جھیل رہا ہوں؟ کون سا رسول ایسا گزرا ہے جو اپنے اختیار سے کوئی معجزہ دکھا سکتا ہو یا اپنے علم سے سب کچھ جانتا ہو؟ پھر یہ نرالے معیار میری ہی رسالت کو پرکھنے کے لیے تم کہاں سے لیے چلے آ رہے ہو ۔ اس کے بعد فرمایا کہ ان کے جواب میں یہ بھی کہو میں نہیں جانتا کہ کل میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے ۔ یعنی میں علم الغیب نہیں ہوں کہ ماضی ، حال ، مستقبل سب مجھ پر روشن ہوں اور دنیا کی ہر چیز کا مجھے علم ہو ۔ تمہارا مستقبل تو درکنار ، مجھے تو اپنا مستقبل بھی معلوم نہیں ہے ۔ جس چیز کا وحی کے ذریعہ سے مجھے علم دے دیا جاتا ہے بس اسی کو میں جانتا ہوں ۔ اس سے زائد کوئی علم رکھنے کا میں نے آخر کب دعویٰ کیا تھا ، اور کونسا رسول ایسے علم کا مالک کبھی دنیا میں گزرا ہے کہ تم میری رسالت کو جانچنے کے لیے میری غیب دانی کا امتحان لیتے پھرتے ہو ۔ رسول کا یہ کام کب سے ہو گیا کہ وہ کھوئی ہوئی چیزوں کے پتے بتائے ، یا یہ بتائے کہ حاملہ عورت لڑکا جنے گی یا لڑکی ، یا یہ بتائے کہ مریض اچھا ہو جائے گا یا مر جائے گا ۔ آخر میں فرمایا کہ ان سے کہہ دو میں ایک صاف صاف خبردار کر دینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ۔ یعنی میں خدائی اختیارات کا مالک نہیں ہوں کہ وہ عجیب و غریب معجزے تمہیں دکھاؤں جن کے مطالبے تم مجھ سے آئے دن کرتے رہتے ہو ۔ مجھے جس کام کے لیے بھیجا گیا ہے وہ تو صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے راہ راست پیش کروں اور جو لوگ اسے قبول نہ کریں انہیں برے انجام سے خبردار کر دوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: اس جملے کو اگلے جملے کے ساتھ ملاکر پڑھنا چاہئیے، اور مطلب یہ ہے کہ نہ میں کوئی انوکھا پیغمبر ہوں کہ مجھ سے پہلے دوسرے پیغمبر نہ آئے ہوں، اور نہ میں کوئی ایسا غیر معمولی دعوی کررہا ہوں کہ میں عالم الغیب ہوں، کیونکہ مجھے جو کچھ علم ملا ہے، وہ وحی کے ذریعے ملا ہے، یہاں تک کہ وحی کے بغیر مجھے ذاتی طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ دنیا اور آخرت میں میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩۔ ١٢۔ مشرکین مکہ ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول سمجھتے اور اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکین مکہ سے کہہ دو کہ میں کچھ نیا رسول نہیں ہوں جس طرح مثلاً ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے رسول تھے ویسا ہی میں بھی ہوں ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ باوجود اللہ کے رسول ہونے کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے قریش سے کہہ دو کہ اللہ میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا اس کا حال مجھ کو کچھ معلوم نہیں۔ صحیح تفسیر اس کی مفسرین نے یہی قرار دی ١ ؎ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا کا یہ آئندہ کا حال معلوم نہ تھا کہ مکہ میں رہنا ہوگا یا مکہ سے ہجرت کرنی ہوگی اور قریش لوگ ایمان لائیں گے یا ایمان نہ لانے کے سبب سے ان لوگوں پر کچھ عذاب الٰہی آئے گا رہا آخرت کا انجام وہ آپ کو یقینی معلوم تھا کہ آپ اعلیٰ درجہ کے جنت کے مقام میں ہوں گے اور آپ کی شفاعت سے امت میں کے بہت سے گناہ گار جنت میں جائیں گے اس صورت میں اس آیت کو آخرت کے انجام میں مان کر بعض مفسروں نے آیت لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذانبک سے اس آیت کو منسوخ جو کہا ہے اس کی اب ضرورت نہیں رہی اور ان آیتوں میں بنی اسرائیل میں ایک شخص کی آنحضرت کی نبوت پر اور قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے پر گواہی دینے کا جو ذکر ہے یہ تفصیل پورے طور پر طبرانی ٢ ؎ مستدرک حاکم اور مسندابی یعلی کی عوف (رض) بن مالک کی ایک صحیح روایت میں آچکی ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور یہ بنی اسرائیل میں کے شخص عبد (رض) اللہ بن سلام ہیں اور یہی شان نزول صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم اور نسائی میں مختصر طور پر سعد (رض) بن ابی وقاص کی روایت سے بھی آئی ہے اس لئے بعض مفسروں نے اس پر یہ جو اعتراض کیا ہے کہ اس مکی آیت میں حضرت عبد (رض) اللہ بن سلام کا ذکر کیونکر آسکتا ہے۔ کیونکہ حضرت عبد (رض) اللہ بن سلام کا اسلام تو صحیح بخاری کی ٢ ؎ حضرت انس کی روایت کی رو سے ہجرت کے بعد ہے یہ اعتراض صحیحین وغیرہ کی صحیح روایت کے مخالف ہے قریش کا خیال یہ تھا کہ جو لوگ مال داری یا قوم میں سر کردہ ہونے کے سبب سے دنیا میں کچھ عزت اور آبرو رکھتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک بھی عزت دار ہیں اسی واسطے حضرت بلال عمار صہیب خباب ایسے غریب لوگوں کو اہل اسلام میں دیکھ کر مال دار قریش لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر اسلام کوئی عزت کی چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہم کو دنیا کی عزت دی ہے اسی طرح دین کی عزت سے بھی اللہ تعالیٰ ہم کو کبھی محروم نہ رکھتا اور یہ غریب لوگ اسلام لانے میں ہم عزت دار لوگوں سے کبھی آگے قدم نہ بڑھاتے وہی قریش کا خیال اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کچھ عزت دار نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت اسی کی ہے جو اللہ کی فرمانبرداری کرے جب یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ کے ساتھ بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ لوگ کافر اور قابل سزا قرار پا چکے ہیں فقط دنیا کی عزت اور مال داری کے سبب سے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صاحب عزت نہیں قرار پاسکتے چناچہ عبس و تولی میں آگے آئے گا کہ حضرت عبد (رض) اللہ بن مکتوم ایک غریب صحابی کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے عزت دار قریش کو بالکل ذلیل قرار دیا آگے توراۃ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمایا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت کچھ ایک حضرت عبد (رض) اللہ بن سلام کی گواہی پر منحصر نہیں ہے بلکہ خود توراۃ میں آپ کی نبوت کی صداقت موجود ہے اور توراۃ میں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ذکر صراحت سے ہے اسی سبب سے حضرت عبد (رض) اللہ بن سلام کی طرح ان نبی آخر الزمان کو سب یہود کے عالم لوگ ایسا جانتے اور پہنچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر بغض اور عداوت کے سبب سے یہ لوگ ان نبی آخر الزمان کی نبوت کا اقرار زبان سے نہیں کرتے وہ عداوت یہی ہے کہ نبی آخر الزمان بنی اسمعیل میں کیوں ہوئے بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے یہ نہیں سمجھتے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق اور اسماعیل اپنے دونوں بیٹوں کی اولاد میں نبوت کے عطا ہونے کی دعا کی تھی وہ قبول ہوئی اور ایک مدت تک اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت رہ کر اب اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں آئی یہ کیا بےانصافی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اثر کو ایک بیٹے کی اولاد میں مانا جائے اور دوسرے بیٹے کی اولاد میں نہ مانا جائے آگے فرمایا کہ اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر توراۃ نازل فرمائی تھی جس نے بنی اسرائیل میں دین کی راہ ڈالی اور اس راہ پر چلنے سے ان کو اللہ کی رحمت کے قابل ٹھہرایا ‘ اسی طرح نافرمان لوگوں کو آخرت کے عذاب سے ڈرانے اور فرمان بردار لوگوں کو اللہ کی رحمت کی خوش خبری سنانے کے لئے اہل مکہ کی عربی زبان میں اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن نازل فرمایا جس طرح کسی کے ساتھ سلوک کرنے کو احسان کہتے ہیں اسی طرح دل لگا کر عبادت کرنے کو بھی حسن عبادت کے مطلب سے احسان کہتے ہیں۔ چناچہ صحیح ١ ؎ مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حسن عبادت کے معنی کے احسان کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ عبادت کے وقت آدمی یہ خیال کرے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اگر یہ مرتبہ آدمی کو نصیب نہ ہو تو یہ خیال کرے کہ اللہ اس کو دیکھ رہا ہے اس حدیث کو بشرا لمحسنین کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو ایماندار لوگ حدیث کے مضمون کے موافق دل لگا کر عبادت کرتے ہیں یہ قرآن ان کو اللہ کی رحمت کی خوش خبری دیتا ہے اوپرے دل سے عبادت کرنے والے کو اوپرے دل کی عبادت کی عادت کو چھوڑ کر اس خوش خبری کے حاصل کرنے کی عادت سیکھنی چاہئے۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٥٥ ج ٤۔ ) (٢ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٣٨ ج ٦۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری باب مناقب عبد (رض) بن سلام ص ٣٥٨ ج ١۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری ص ٥٦١ ج ١۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم کتاب الایمان ص ٢٧ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(46:9) قل۔ ای قل یا محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) ۔ ما کنت بدعا۔ بدعا کنت کی خبر ہے اس لئے منصوب ہے۔ بدعا نیا ۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے اسم فاعل اور اسم مفعول کے معنی میں آتا ہے ۔ چناچہ بعض نے اول معنی بمعنی مبدع لیا ہے یعنی نئی باتیں کہنے والا اور بعض نے دوسرے معنی میں بمعنی مبدع لیا ہے یعنی نیا بھیجا ہوا۔ کہ جس سے پہلے کوئی پیغمبر نہ آیا ہو۔ قل ما کنت بدعا من الرسل۔ ای قل لہم یا نبی اللہ : ما کنت اول رسول ارسل الی البشر بل قد ارسل اللہ قبلی جمیع الرسل الی البشر فلاوجہ لاستبعادکم رسالتی واستنکارکم ایاھا لان اللہ ارسل قبلی رسلا کثیرۃ۔ وما ادری۔ مضارع منفی واحد متکلم درایۃ (باب ضرب ) مصدر، میں نہیں جانتا ۔ ما یفعل بی۔ میں ما موصولہ بھی ہوسکتا ہے جو میرے ساتھ کیا جائے گا۔ اور ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے۔ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ یفعل مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ آیت وما ادری ما یفعل بی ولا بکم : اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ اس کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :۔ ابن جریر اور متعدد محققین کے مطابق یہ دنیا کے احوال کے متعلق ہے اور بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ آخرت کے متعلق ہے۔ ان اتبع۔ میں ان نافیہ ہے اتبع مضارع صیغہ واحد متکلم ہے اتباع (افتعال) مصدر۔ میں پیروی نہیں کرتا ہوں۔ میں اتباع نہیں کرتا ہوں۔ ما یوحی۔ ما موصولہ ۔ یوحی مضارع مجہول واحد مذکر غائب ایحاء (افعال) مصدر۔ (سوائے اس کے کہ ) جو (میری طرف) وحی کی جاتی ہے یعنی سوائے اس کے کہ جو پیغام بذریعہ وحی مجھے دیا جاتا ہے۔ نذیر مبین۔ موصوف وصفت۔ نذیر صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر، مبین۔ اسم فاعل واحد مذکر ابانۃ۔ ظاہر ۔ ظاہر کرنے والا۔ صاف صاف،

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 بلکہ مجھ سے پہلے ہزاروں پیغمبر دنیا میں آچکے ہیں اور ان کی دعوت وہی رہی ہے جو میری ہے۔ “ 4 آیا مکہ میں رہوں گا یا اس سے نکال دیا جائونگا اور کیا طبعی طریق پر وفات پائوں گا یا دشمنوں کے ہاتھوں شہید کردیا جائیگا 5 کیا تم پر عذاب ابھی آئیگا یا تمہیں مزید مہلت دی جائیگی ؟ “ یہ سب غیب کی باتیں ہیں جن کے متعلق آنحضرت کو بیخبر ہونے کا اعلان کردینے کا حکم دیا گیا۔ رہی آخرت ! تو آنحضرت کو معلوم تھا کہ اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ کے متعین کو جنت اور تکذیب کرنے والوں کو دوزخ نصیب ہوگی۔ ابن جریر وغیرہ نے آیت کے اسی مفہوم کو اختیار کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ مگر بعض نے آیت کے مفہوم کو عام رکھا ہے کہ آنحضرت کو آخرت کے بارے میں بھی معلوم نہ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا معاملہ درپیش آنیوالا ہے۔ اس کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضرت ام العلا بیان کرتی ہیں کہ عثمان بن مظعون کی وفات پر میں نے کہا۔” ابا السائب ! میں تمہارے متعلق شہادت دیتی ہوں کہ تم اللہ کے ہاں عزت دار ہو۔ “ اس پر آنحضرت نے فرمایا کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوگیا۔ میں اللہ کا پیغمبر ہوں لیکن مجھے معلوم نہیں کہ میر اور تمہارا حال کیا ہونیوالا ہے علما نے لکھا ہے کہ اس مفہوم کے اعتبار سے یہ آیت انا فتحنلک سے منسوخ ہوچکی ہے۔ مگر قرطبی لکھتے ہیں کہ صحیح بخاری میں دوسری روایت مایفعل بہ “ ہے کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ اس (عثمان) کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے۔ وھو الصحیح انشاء اللہ تعالیٰ نسخ کی ضرورت نہیں یا یہ کہ حسن تفسیر کو اختیار کیا جائے کہ دنیا میں جو عوارض پیش آنیوالے ہیں ان کا مجھے تفصیلی علم نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی خاص آدمی کے لئے قطعی ہونے کا حکم لگانا صحیح نہیں ہے بجز ان لوگوں کے جٹ کے جنتی ہونے کی شارع نے تصریح کی ہے جیسے عشرہ مبشرہ (قرطبی، ابن کثیر) 6 چاہے وہ حکم قرآن میں آیا ہو یا حدیث میں اس کی خبر دی گئی ہو کیونکہ وحی کا اطلاق کتاب اور سنت دونوں پر ہوتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کے پراپیگنڈہ کے جواب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ایک اور اعلان۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے یہ بھی فرمائیں کہ میں کوئی نیا رسول نہیں اور نہ ہی مجھے یہ علم ہے کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ میں تو صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں کھلے الفاظ میں برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانے والا ہوں۔ اہل مکہ ایک طرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھوٹا قرار دیتے اور آپ پر مختلف قسم کے الزام لگاتے تھے لیکن دوسری طرف آپ سے مطالبات کرتے کہ اگر آپ حقیقتاً اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کے پاس کم از کم یہ چیزیں ہونا ضروری ہیں۔ ان کے مطالبات کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ ان کے مطالبات پورے نہیں کرتیتو ہم لوگوں کے سامنے کہیں گے کہ یہ شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے اور اس میں کوئی خاص بات نہیں یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسانی حاجات کے حوالے سے ایک انسان تھے لیکن اپنے مقام، اوصاف اور دعوت کے حوالے سے بےمثال انسان اور رسول تھے۔ بلکہ تمام رسولوں کے سردار تھے۔ اس لیے آپ کی زبان اطہر سے اس موقع پر دو باتیں کہلوائیں گئیں کہ آپ اعلان فرمائیں کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں بلکہ اس طرح ہی اللہ کا رسول ہوں جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے حضرت نوح، ابراہیم اور دیگر انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا۔ پہلے انبیاء بھی رسول ہونے کے ساتھ انسان تھے اور میں بھی اللہ کا رسول ہونے کے ساتھ ایک انسان ہوں۔ نہ پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو اللہ کی خدائی میں کوئی اختیار حاصل تھا اور نہ ہی مجھے اس کی خدائی میں کسی قسم کا کوئی اختیار ملا ہے۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا کچھ ہونے والا ہے۔ میرا کام ” اللہ “ کے پیغامات کو لوگوں تک پہچانا اور انہیں کھلے الفاظ میں انتباہ کرنا ہے۔ اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ اعلان کروایا گیا ہے کہ آپ کہیں کہ میں کوئی انوکھا یعنی نیا رسول نہیں ہوں مجھ سے پہلے کئی رسول آئے اور وہ لوگوں کو ” اللہ “ کے احکام پہنچاتے رہے میں بھی تمہیں وحی کے مطابق تمہارے برے اعمال کے انجام سے ڈراتا ہوں لہٰذا وقت ہے سمجھ جاؤ ورنہ ایک دن آئے گا کہ تمہیں اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ (وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (سبا : ٢٨) ” اور اے نبی ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ مسائل ١۔ نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے رسولوں کی طرح ایک رسول تھے۔ ٢۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے اور آپ کے مخالفوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ٣۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” اللہ “ کی وحی کے پابند تھے۔ ٤۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو کھلے الفاظ میں انتباہ کرنے والے تھے۔ تفسیر بالقرآن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیب نہیں جانتے تھے : ١۔ ” اللہ “ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام : ٥٩) ٢۔ آپ فرما دیں کہ زمین اور آسمانوں کے غیب ” اللہ “ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : ٦٥) ٣۔ نہ ہی میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ (ھود : ٣١) ٤۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعلان اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت ساری بھلائیاں اکٹھی کرلیتا۔ (الاعراف : ١٨٨) ٥۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں آپ اس وقت موجود نہ تھے۔ (یوسف : ١٢) ٦۔ میں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔ (الانعام : ٥٠) ٧۔ فرما دیجیے غیب اللہ کے لیے ہے تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ (یونس : ٢٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ ﴾ (آپ فرما دیجیے کہ میں رسولوں میں سے انوکھا رسول نہیں ہوں) مجھ سے پہلے بھی رسول آئے جن کے بارے میں تمہیں علم ہے اور تواتر کے ساتھ ان کی خبریں پہنچی ہیں توحید کی جو دعوت انبیاء سابقین (علیہ السلام) نے دی ہے وہی دعوت میں تمہیں دیتا ہوں ان سے بھی معجزات ظاہر ہوئے تم نے بھی میرے معجزات دیکھ لیے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائے بندوں کے تجویز کردہ معجزات کا ظہور ہونا نہ ان کے نبی ہونے کے لیے ثبوت شرط تھا نہ میری نبوت کے لیے شرط ہے اگر تم غیب کی خبریں پوچھنا چاہتے ہو تو میں غیب دانی کا مدعی نہیں ہوں اور نہ غیب جاننا نبوت اور رسالت کے لیے شرط ہے ﴿ وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ ١ؕ﴾ اور چونکہ میں غیب نہیں جانتا اس لیے مجھے یہ علم نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہوگا یعنی دنیا میں کیا حالات پیش آئیں گے اور میں نہیں جانتا کہ میری تکذیب کرنے کی وجہ سے تمہارا کیا حال ہوگا گذشتہ امتیں مختلف عذابوں کے ذریعے ہلاک کی گئیں اگر تم میری مخالفت پر قائم رہے ایمان نہ لائے تو تمہیں دنیا میں کیا سزا ملے گی میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ﴿ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ﴾ (میں تو بس اسی کی اتباع کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے) ﴿ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ٠٠٩﴾ اور میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں میں نے حق واضح کردیا دلائل پیش کردئیے اب نہ مانو تو تم جانو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

ٖف 9:۔ ” قل ما کنت۔ الایۃ “ میں کوئی نئی بات لے کر نہیں آیا، نہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی تعلیمات کے خلاف کوئی چیز میں نے پیش کی۔ میں نے وہی دعوت توحید پیش کی ہے جو پہلے پیغمبروں کی دعوت تھی یعنی لست مبتدعا لامر یخالف امورھم بل جئت بما جاء وا بہ من الدعوۃ الی التوحید (روح ج 26 ص 8) ۔ ” وما ادری ما یفعل بی الخ “ یل دلیل وحی پر سوال کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ اگر تم پر وحی آتی ہے تو ہمیں بتاؤ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے، تو جواب دیا گیا کہ مجھے تو ابھی تک اپنے بارے میں بھی علم نہیں کہ دنیا میں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے، کیونکہ اس بارے میں ابھی تک کوئی وحی نہیں آئی۔ نمیدانم چہ کردہ شود بامن و شمادر دنیا (فتح الرحمن) ۔ عن الحسن، وما ادری ما یفعل بی ولا بکم فی الدنیا (قرطبی ج 16 ص 186) ۔ قال ابو جعفر وھذا اصح قول واحسنہ لا یدری (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ما یلحقہ وایاھم من مرض وصحۃ ورخص وغلاء وغنی وفقر (ابن جریر) ۔ آپ کو اپنا اخروی انجام تو بالیقین معلوم تھا اس لیے یہاں وہ مراد نہٰں۔ عن الحسن اما فی الاخرۃ فمعاذ اللہ تعالیٰ ، قد علم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ما یلحقہ الجنۃ (روح ج 26 ص 9) ۔ ” ان اتبع الخ “ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا، جو کچھ بھی کہتا یا کرتا ہوں وہ وحی ربانی کے اتباع ہی میں کرتا ہوں اور میرا کام یہ ہے کہ میں تمہیں اللہ کا پیغام پہنچاؤ اور نہ ماننے والوں کو اس کے عذاب سے ڈراؤ۔ اس تقریر سے معلوم ہوگیا کہ یہ یہ آیت محکم ہے اور اسے منسوخ ماننے کی ضرورت ہی نہیں۔ منسوخ ماننے کی ضرورت اس صورت میں پیش آسکتی ہے کہ آیت سے امور آخرت مراد ہوں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے ایک روایت ہے لیکن یہ قول اکثر محققین کے نزدیک روایت و درایت دونوں پہلوؤں سے ضعیف ہے (کبیر) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(9) آپ ان منکرین رسالت سے کہہ دیجئے کہ میں کوئی نیا رسول نہیں آیا ہوں اور میں کوئی انوکھا اور دنیا سے نرالا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہونا ہے اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے میں تو صرف اس حکم کی پیروی اور اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی کے ذریعہ سے آتا ہے میں تو صرف ایک کھلا اور صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ یعنی میں کوئی دنیا سے انوکھا اور نیا اور نرالا رسول نہیں آیا ہوں آخر مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آچکے ہیں ان کی تعلیم اور میری تعلیم کو ملا کر دیکھ لو۔ جس طرح وہ اپنے فرشتہ ہونے اور عالم الغیب ہونے کی نفی کیا کرتے تھے میں بھی اپنے عالم الغیب ہونے کی نفی کرتا ہوں مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہونا ہے اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے میں تو اپنے علم وعمل میں صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو وحی کی ذریعہ میرے پاس کوئی حکم آتا ہے میں تو ڈرانے والا ہوں صاف صاف بعض مفسرین نے اس آیت کو منسوخ بتابا ہے اور سور فتحنا کی ابتدائی آیتوں کو اس کا ناسخ قراردیا ہے مگر یہ قول راجح نہیں ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ سورة فتحنا کی آیتوں سے اتنا پتہ چلتا ہے کہ اجمالی طور پر سے یہ بتایا گیا کہ انبیاء اور صلحاء کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا سوروہ فتحنا کا یہ اجمالی علم اس آیت کے اطلاق کا ناسخ نہیں ہوسکتا۔ (واللہ اعلم)