NounPersonal Pronoun

أَشْرَاطُهَا

its indications

اس کی علامات

Verb Form
Perfect Tense Imperfect Tense Imperative Active Participle Passive Participle Noun Form
---
---
---
---
---
---
Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلشَّرْطُ: وہ معین حکم جس کا وقوع کسی دوسرے امر پر معلق ہو اسے شرط کہتے ہیں۔ وہ دوسرا امر اس کے لئے بمنزلہ علامت کے ہوتا ہے اور شَرِیْطگ بمعنی شرط آتا ہے۔ اس کی جمع شرائط ہے۔ اِشْتَرْطْتُّ کَذَا: کوئی شرط لگانا۔ اور اسی سے شَرطٌ بمعنیٰ علامت ہے۔ اور اَشْرَاطُ السَّاعَۃِ کے معنیٰ علامت قیامت کے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے: (فَقَدۡ جَآءَ اَشۡرَاطُہَا) (۴۷:۱۸) سو اس کی نشانیوں (وقوع میں) آچکی ہیں۔ اور پولیس کو شُرَط کہا جاتا ہے اس لئے کہ وہ بھی ایسی علامت لگالیتے ہیں جس سے ان کی پہچان ہوسکتی ہو۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ اشراط الابل سے مشتق ہے جس کے معنیٰ رذیل اونٹوں کے ہیں۔ اور پولیس میں بھی چونکہ (عام طور پر) رذیل لوگ ہوتے تھے اس لئے انہیں شُرَطٌ کہہ دیا گیا ہے۔ اَشْرَطَ نَفْسَہٗ لِلْھَلَکَۃِ: اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا یا کسی کام میں ہلاکت کی بازی لگانا۔(1)

Lemma/Derivative

1 Results
أَشْراط
Surah:47
Verse:18
اس کی علامات
its indications