Surat Muahammad

Surah: 47

Verse: 38

سورة محمد

ہٰۤاَنۡتُمۡ ہٰۤؤُلَآءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ فَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یَّبۡخَلُ ۚ وَ مَنۡ یَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا یَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ الۡغَنِیُّ وَ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ ۚ وَ اِنۡ تَتَوَلَّوۡا یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَکُمۡ ﴿٪۳۸﴾  8

Here you are - those invited to spend in the cause of Allah - but among you are those who withhold [out of greed]. And whoever withholds only withholds [benefit] from himself; and Allah is the Free of need, while you are the needy. And if you turn away, He will replace you with another people; then they will not be the likes of you.

خبردار! تم وہ لوگ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو تو تم میں سے بعض بخیلی کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وہ تو دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتا ہے اللہ تعالٰی غنی ہے اور تم فقیر ( اور محتاج ) ہو اور اگر تم روگردان ہو جاؤ تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو لائے گا جو پھر تم جیسے نہ ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

هَاأَنتُمْ هَوُلاَاء تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنكُم مَّن ... Here you are now invited to spend in Allah's cause; but among you are those who withhold (stingily). meaning, they refuse to spend. Allah continues, ... يَبْخَلُ وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ ... And whoever acts stingily is but stingy toward himself. meaning, he only reduces his own rewards, and the bad outcome of that will come back to him. ... وَاللَّهُ الْغَنِيُّ ... For Allah is indeed Al-Ghani, Allah is in need of nothing else, whereas everything is ever in need of Him. Thus, Allah says, ... وَأَنتُمُ الْفُقَرَاء ... while you are the needy. meaning, specifically of Him. The description of Allah as Al-Ghani (in no need) is a necessary description of Allah; on the other hand, the description of the creation as Faqr (needy) is a necessary description for them that they cannot avoid. Allah then says, ... وَإِن تَتَوَلَّوْا ... And if you turn away, which means, if you turn away from obeying Him and adhering to His Laws. ... يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ He will replace you with other people; then they will not be like you. meaning, rather, they will be people who will listen to Him and obey His commands. This concludes the Tafsir of Surah Muhammad. And Allah is worthy of all praise and gratitude.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 یعنی کچھ حصہ زکوٰۃ کے طور پر اور کچھ اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ 38۔ 2 یعنی اپنے ہی نفس کو انفاق فی سبیل اللہ کے اجر سے محروم رکھتا ہے۔ 38۔ 3 یعنی اللہ تمہیں خرچ کرنے کی ترغیب اس لیے نہیں دیتا کہ وہ تمہارے مال کا ضرورت مند ہے نہیں وہ تو غنی ہے بےنیاز ہے وہ تو تمہارے ہی فائدے کے لیے تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ اس سے ایک تو تمہارے اپنے نفسوں کا تزکیہ ہو دوسرے تمہارے ضرورت مندوں کی حاجتیں پوری ہوں تیسرے تم دشمن پر غالب اور برتر رہو اس لیے اللہ کی رحمت اور مدد کے محتاج تم ہو نہ کہ اللہ تمہارا محتاج ہے۔ 38۔ 4 یعنی اسلام سے کفر کی طرف پھر جاؤ۔ 35۔ 5 بلکہ تم سے زیادہ اللہ اور رسول کے اطاعت گزار اور اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرنے والے ہوں گے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی بابت پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلمان فارسی (رض) کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اس سے مراد یہ اور اس کی قوم ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا ستارے کے ساتھ بھی لٹکا ہوا ہو تو اس کو فارس کے کچھ لوگ حاصل کرلیں گے۔ الترمذی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٣] دوسروں سے مراد اہل فارس ہیں :۔ اللہ اگر تمہیں جہاد میں یا دوسرے نیکی کے کاموں پر خرچ کرنے کو کہتا ہے تو اس میں تمہارا فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی وہ تمہیں اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا اور آخرت میں تو ایک ایک کا ہزار ہزار ملے گا اور اگر تم بخل کرو گے اور جہاد کی ضرورتوں پر خرچ نہ کرو گے تو اس کا سخت نقصان اٹھاؤ گے۔ اور کافروں کے سامنے تمہیں ذلیل و رسوا ہونا پڑے گا۔ اللہ کے نافرمان الگ بنو گے۔ اللہ کو اپنے لئے تمہارے پیسے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو بےنیاز ہے اور محتاج تم ہی ہو۔ اور اگر تم جان و مال کے خرچ کرنے میں بخل کرنے سے کام لو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسرے لوگ لے آئے گا جو جان اور مال خرچ کرنے کے سلسلہ میں بخیل نہ ہوں گے۔ اللہ کو تو بہرحال اپنے دین کو سربلند کرنا ہے وہ اگر تمہارے ہاتھوں ہوجائے تو اسے اپنے لئے غنیمت سمجھو۔ اور دوسرے لوگوں سے مراد اہل فارس ہیں چناچہ سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ یہ کون لوگ ہیں۔ آپ نے کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے تین بار یہی سوال کیا۔ اس وقت ہم لوگوں میں سلمان فارسی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنا ہاتھ ان پر رکھ کر فرمایا : اگر ایمان ثریا پر ہوتا تب بھی ان لوگوں میں سے کئی وہاں تک پہنچ جاتے && (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورة جمعہ) خ اہل فارس کی شاندار دینی خدمات :۔ الحمدللہ صحابہ کرام نے جہاد کے سلسلہ میں ایسی بےنظیر قربانیاں پیش کیں کہ ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لانے کی نوبت نہ آئی۔ تاہم اہل فارس نے اسلام میں داخل ہو کر علم و ایمان کا وہ شاندار مظاہرہ کیا اور ایسی لاجواب دینی خدمات سرانجام دیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ کی پیشین گوئی کے عین مطابق یہی لوگ تھے۔ جو بوقت ضرورت عرب کی جگہ پُر کرسکتے تھے۔ نامور محدثین اور ائمہ فقہا کی اکثریت اسی علاقہ سے تعلق رکھتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ھانتم ھولآء تدعون لتنفقوا…:” ھا “ حرف تنبیہ ہے، خبردار یاد رکھو، سن لو۔” انتم “ مبتدا اور ” ھولآئ “ اس کی خبر ہے جو ” الذین “ کے معنی میں ہے اور ” تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ ” ھولآئ “ کا صلہ ہے۔ یعنی یاد رکھو تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرو تو تم میں سے کچھ وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں۔ (٢) ومن یبخل فلما یبخل عن نفسہ : یعنی جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے بخل کرتا ہے وہ اپنے خیال میں سمجھتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے بخل کیا ہے اور اسے مال نہیں دیا، حالانکہ درحقیقت وہ اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے اور اپنے آپ پر وہ مال خرچ نہیں کر رہا، کیونکہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کہنے پر خرچ کرتا تو اس کا سارا فائدہ اسی کو ہونا تھا۔ اب اس نے بخل کیا تو اپنی ذات سے بخل کیا اور خود ہی محروم رہا۔ (٣) واللہ الغنی وانتم الفقرآئ :” الغنی “ اور ” الفقرآئ “ پر الف لام آنے سے حصر پیدا ہوگیا ، یعنی اللہ ہی غنی ہے اور کوئی غنی نہیں اور تم ہی محتاج ہو اللہ تعالیٰ کو کوئی محتاجی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خرچ کرنے کا حکم اپنی کسی ضرورت کے لئے نہیں دیا، وہ تو غنی ہے، محتاج تم ہی ہو اور تم جو کچھ خرچ کرو گے وہ بےحساب اضافے کے ساتھ تمہی کو لوٹا دے گا، جیسا کہ فرمایا :(من ذا الذی یقرض اللہ قرضاً حسناً فیضعفہ لہ اضعافاً کثیرۃ واللہ یقبض و یبصط والیہ ترجعون) (البقرۃ : ٢٣٥)” کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، پس وہ اسے اس کے لئے بہت زیادہ گنا بڑھا دے اور اللہ بند کرتا اور کھولتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹا جاؤ گے۔ “ (٤) وان تتولوا یستبدل قوماً غیر کم، ثم لایکونوا امثالکم : اس کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة مائدہ کی آیت (٥٤) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَمِنكُم مَّن يَبْخَلُ |"... you are called upon to spend in Allah&s way, but some of you withhold in miserliness|". Further the verse reads: وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ (and he who withholds in miserliness withholds against himself - 47:38) it means that any person practising miserliness will himself suffer loss or detriment because he will have to carry the burden of failing to fulfill his obligation and thus will be deprived of reward in the Hereafter. This point is made even more clear by saying |"_ and Allah is the Need-Free, and you are the needy.|" In other words, Allah is free of want and beyond any need but man is in need of means of comfortable subsistence. So spending in the way of Allah is for man&s own good and to fulfill his own needs. وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَ‌كُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم (...And if you turn away, He will replace you by some other people, then they will not be like you. - 47:38) This verse has explained that Allah is the most need-free of all. This attribute is described so lucidly that it brings to our mind the fact that let alone people&s wealth, He does not even need their existence. If they stop acting upon His injunctions, He will bring another people who will not turn away from the sacred injunctions, but will obey Him completely as long as Allah wants to maintain the religion of truth, Islam. Sayyidna Hasan Basri (رح) says that the reference in this verse is to non-Arabs and Sayyidna ` Ikramah (رض) says that the reference is to Persians and Romans. Sayyidna Abu Hurairah (رض) reports that when Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited this verse in the presence of the Companions (رض) they asked him: |"Who are those people that will be brought instead of us if we, God forbid, turn away from Allah&s injunctions and those people will not turn away like us?|" Sayyidna Salman Farisi (رض) عنہ was sitting among the Companions (رض) ، the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) slapped on his thigh and said: |"If Faith [ i.e. the religion of truth ] were to go up to the Pleiades [ accessibility to which is difficult ], a man of Persian descent will acquire it from there and act upon it”. Shaikh Jalal-ud-Din Suyuti wrote a book on the biography of Abu Hanifah (رح) where he identifies him and his disciples as being the people referred to in the Hadith quoted earlier, because no group among the Persians reached that high point of knowledge where Abu Hanifah (رح) and his disciples reached.

(آیت) تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ يَّبْخَلُ ۚ، اس آیت میں حق تعالیٰ کے غنی الاغنیا ہونے کو اس طرح واضح کیا ہے کہ اللہ کو تمہارے اموال کی تو کیا خود تمہارے وجود کی بھی کوئی ضرورت نہیں، اگر تم سب کے سب ہمارے احکام کی تعمیل چھوڑ دو تو جب تک ہمیں دنیا کو اور اس میں اسلام کو باقی رکھنا ہے ہم اپنے دین حق کی حفاظت اور اپنے احکام کی تعمیل کیلئے دوسری ایسی قوم پیدا کردیں گے جو تمہاری طرح احکام شرعیہ سے گریز اور اعراض نہ کرے گی بلکہ ہماری مکمل اطاعت کرے گی۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ مراد اس سے عجمی لوگ ہیں، اور حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ اس سے مراد فارس اور روم ہیں اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت صحابہ کرام کے سامنے فرمائی تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ ایسی کونسی قوم ہے کہ اگر ہم (خدانخواستہ) احکام دین سے روگردانی کرنے لگیں تو وہ ہمارے بدلے میں لائی جائے گی اور پھر وہ ہماری طرح احکام سے روگردانی نہیں کرے گی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلمان فارسی (جو مجلس میں موجود تھے) کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ اور اس کی قوم، اور اگر (بالفرض) دین حق ثریا ستارے پر بھی ہوتا (جہاں لوگوں کی رسائی مشکل ہوتی) تو فارس کے کچھ لوگ وہاں بھی پہنچ کر دین کو حاصل کرتے اور اس پر عمل کرتے (رواہ الترمذی و الحاکم و صححاہ و ابن حبان مظہری) شیخ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب جو ابوحنیفہ (رح) کے مناقب میں لکھی ہے اس میں فرمایا ہے کہ اس سے مراد ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں کیونکہ ابناء فارس میں کوئی جماعت علم کے اس مرتبہ پر نہیں پہنچی جس پر ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب پہنچے ہیں (حاشیہ تفسیر مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَاۗءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ۝ ٠ ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ يَّبْخَلُ۝ ٠ ۚ وَمَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ۝ ٠ ۭ وَاللہُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ۝ ٠ ۚ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ۝ ٠ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ۝ ٣٨ ۧ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ بھی آجاتا ہے ) قرآن میں ہے :۔ { هَا أَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ } ( سورة آل عمران 119) دیکھو ! تم ایسے لوگ ہو کچھ ان سے دوستی رکھتے ہواولائک علیٰ ھدی (2 ۔ 5) یہی لوگ ہدایت پر ہیں اور کبھی اس میں تصرف ( یعنی بحذف ہمزہ آخر ) بھی کرلیا جاتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع (22) ھؤلا ثم ھؤلاء کلا اعطیتہ ت نوالا محذوۃ بمشال ( ان سب لوگوں کو میں نے بڑے بڑے گرانقدر عطیئے دیئے ہیں دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] ( ن ف ق ) نفق ( ن ) س الشئی کے منعی کسی چیز کے ختم ہونے یا چلے جانے کے ہیں ۔ اور چلے جانے کی مختلف صورتیں ہیں ( 1 ) خوب فروخت ہونے سے جیسے نفق البیع ( سامان کا ) خوب فروخت ہونا اسی سے نفاق الایتیم ہے جس کے معنی بیوہ عورت سے نکاح کے طلب گاروں کا بکثرت ہونا کے ہیں ۔ نفق القوم بازار کا پر رونق ہونا ۔ ( 2 ) بذیعہ مرجانے کے جیسے نفقت الدابۃ نفوقا جانور کا مرجانا ۔ ( 3 ) بذریعہ فنا ہوجانے کے جیسے نفقت الدراھم درواہم خرچ ہوگئے ۔ انفق تھا ان کو خرچ کردیا ۔ الا نفاق کے معنی مال وغیرہ صرف کرنا کے ہیں اور یہ کبھی واجب ہوتا ہے ۔ اور کبھی مستحب اور مال اور غیر مال یعنی علم وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ۔ وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] اور خدا کی راہ میں مال خرچ کرو ۔ وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] اور جو مال ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرلو ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ بخل البُخْلُ : إمساک المقتنیات عمّا لا يحق حبسها عنه، ويقابله الجود، يقال : بَخِلَ فهو بَاخِلٌ ، وأمّا البَخِيل فالذي يكثر منه البخل، کالرحیم من الراحم . والبُخْلُ ضربان : بخل بقنیات نفسه، وبخل بقنیات غيره، وهو أكثرها ذمّا، دلیلنا علی ذلک قوله تعالی: الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ [ النساء/ 37] . ( ب خ ل ) البخل ( دس ) اپنے جمع کردہ ذخائر کو ان جگہوں سے روک لینا جہاں پر خرچ کرنے سے اسے روکنا نہیں چاہیئے ۔ اس کے بالمقابل الجواد ہے بخل اس نے بخیل کیا باخل ۔ بخل کرنے والا ۔ البخیل ( صیغہ مبالغہ ) جو بہت زیادہ بخل سے کام لیتا ہو جیسا کہ الراحم ( مہربان ) سے الرحیم مبالغہ کے لئے آتا جاتا ہے ۔ البخیل ۔ دو قسم پر ہے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی چیزوں کو خرچ کرنے سے روک لے اور دوم یہ کہ دوسروں کو بھی خرچ کرنے سے منع کرے یہ پہلی قسم سے بدتر ہے جیسے فرمایا : { الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ } ( سورة النساء 37) یعنی جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل کی تعلیم دیں ۔ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے غنی الغِنَى يقال علی ضروب : أحدها : عدم الحاجات، ولیس ذلک إلا لله تعالی، وهو المذکور في قوله : إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ [ الحج/ 64] ، الثاني : قلّة الحاجات، وهو المشار إليه بقوله : وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغْنى[ الضحی/ 8] ، وذلک هو المذکور في قوله عليه السلام : «الغِنَى غِنَى النّفس» والثالث : كثرة القنيّات بحسب ضروب الناس کقوله : وَمَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ [ النساء/ 6] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ ( تو نگری ) بےنیازی یہ کئی قسم پر ہے کلی طور پر بےنیاز ہوجانا اس قسم کی غناء سوائے اللہ کے کسی کو حاصل نہیں ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ [ الحج/ 64] اور بیشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے ۔ 2 قدرے محتاج ہونا اور یا تیسر پر قانع رہنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغْنى[ الضحی/ 8] اور تنگ دست پا یا تو غنی کردیا ۔ میں اغنیٰ سے اس قسم کی غنا مراد ہے اور اس قسم کی غنا ( یعنی قناعت ) کے متعلق آنحضرت نے فرمایا ( 26 ) الغنٰی غنی النفس ۔ کہ غنی درحقیقت قناعت نفس کا نام اور غنیٰ کے تیسرے معنی کثرت ذخائر کے ہیں اور لوگوں کی ضروریات کئے لحاظ سے اس کے مختلف درجات ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَمَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ [ النساء/ 6] جو شخص آسودہ حال ہو اس کو ایسے مال سے قطعی طور پر پرہیز رکھنا چاہئے ۔ فقر الفَقْرُ يستعمل علی أربعة أوجه : الأوّل : وجود الحاجة الضّرورية، وذلک عامّ للإنسان ما دام في دار الدّنيا بل عامّ للموجودات کلّها، وعلی هذا قوله تعالی: يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ [ فاطر/ 15] ، وإلى هذا الفَقْرِ أشار بقوله في وصف الإنسان : وَما جَعَلْناهُمْ جَسَداً لا يَأْكُلُونَ الطَّعامَ [ الأنبیاء/ 8] . والثاني : عدم المقتنیات، وهو المذکور في قوله : لِلْفُقَراءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا [ البقرة/ 273] ، إلى قوله : مِنَ التَّعَفُّفِ [ البقرة/ 273] ، إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النور/ 32] . وقوله : إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ وَالْمَساكِينِ [ التوبة/ 60] . الثالث : فَقْرُ النّفس، وهو الشّره المعنيّ بقوله عليه الصلاة والسلام : «كاد الفَقْرُ أن يكون کفرا» «1» وهو المقابل بقوله : «الغنی غنی النّفس» «1» والمعنيّ بقولهم : من عدم القناعة لم يفده المال غنی. الرابع : الفَقْرُ إلى اللہ المشار إليه بقوله عليه الصلاة والسلام : ( اللهمّ أغنني بِالافْتِقَارِ إليك، ولا تُفْقِرْنِي بالاستغناء عنك) «2» ، وإيّاه عني بقوله تعالی: رَبِّ إِنِّي لِما أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ [ القصص/ 24] ، وبهذا ألمّ الشاعر فقال : 354- ويعجبني فقري إليك ولم يكن ... ليعجبني لولا محبّتک الفقر ويقال : افْتَقَرَ فهو مُفْتَقِرٌ وفَقِيرٌ ، ولا يكاد يقال : فَقَرَ ، وإن کان القیاس يقتضيه . وأصل الفَقِيرِ : هو المکسورُ الْفِقَارِ ، يقال : فَقَرَتْهُ فَاقِرَةٌ ، أي داهية تکسر الفِقَارَ ، وأَفْقَرَكَ الصّيدُ فارمه، أي : أمكنک من فِقَارِهِ ، وقیل : هو من الْفُقْرَةِ أي : الحفرة، ومنه قيل لكلّ حفیرة يجتمع فيها الماء : فَقِيرٌ ، وفَقَّرْتُ للفسیل : حفرت له حفیرة غرسته فيها، قال الشاعر : ما ليلة الفقیر إلّا شيطان فقیل : هو اسم بئر، وفَقَرْتُ الخَرَزَ : ثقبته، وأَفْقَرْتُ البعیر : ثقبت خطمه . ( ف ق ر ) الفقر کا لفظ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ زندگی کی بنیادی ضروریات کا نہ پایا جانا اس اعتبار سے انسان کیا کائنات کی ہر شے فقیر و محتاج ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ [ فاطر/ 15] لوگو ! تم سب خدا کے محتاج ہو ۔ اور الانسان میں اسی قسم کے احتیاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : وَما جَعَلْناهُمْ جَسَداً لا يَأْكُلُونَ الطَّعامَ [ الأنبیاء/ 8] اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں ۔ ضروریات زندگی کا کما حقہ پورا نہ ہونا چناچہ اس معنی میں فرمایا : لِلْفُقَراءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا [ البقرة/ 273] ، إلى قوله : مِنَ التَّعَفُّفِ [ البقرة/ 273] تو ان حاجت مندوں کے لئے جو خدا کے راہ میں رے بیٹھے ہیں ۔إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النور/ 32] اگر وہ مفلس ہونگے تو خدا ان گو اپنے فضل سے خوشحال کردے گا ۔ إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ وَالْمَساكِينِ [ التوبة/ 60] صدقات ( یعنی زکوۃ و خیرات ) تو مفلسوں اور محتاجوں ۔۔۔ کا حق ہے ۔ فقرالنفس : یعنی مال کی ہوس۔ چناچہ فقر کے اس معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت نے فرمایا : کا دالفقر ان یکون کفرا ۔ کچھ تعجب نہیں کہ فقر کفر کی حد تک پہنچادے اس کے بلمقابل غنی کے معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا الغنیٰ عنی النفس کو غنا تو نفس کی بےنیازی کا نام ہے ۔ اور اسی معنی میں حکماء نے کہا ہے ۔ من عدم القناعۃ لم یفدہ المال غنی جو شخص قیامت کی دولت سے محروم ہوا سے مالداری کچھ فائدہ نہیں دیتی ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف احتیاج جس کی طرف آنحضرت نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (73) اللھم اغننی بالافتقار الیک ولا تفتونی بالاستغناء عنک ( اے اللہ مجھے اپنا محتاج بناکر غنی کر اور اپنی ذات سے بےنیاز کرکے فقیر نہ بنا ) اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : رَبِّ إِنِّي لِما أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ [ القصص/ 24] کہ پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے (342) ویعجبنی فقری الیک ولم یکن لیعجبنی لولا محبتک الفقر مجھے تمہارا محتاج رہنا اچھا لگتا ہے اگر تمہاری محبت نہ ہوتی تو یہ بھلا معلوم نہ ہوتا ) اور اس معنی میں افتقر فھو منتقر و فقیر استعمال ہوتا ہے اور فقر کا لفظ ) اگر چہ قیاس کے مطابق ہے لیکن لغت میں مستعمل نہیں ہوتا ۔ الفقیر دراصل اس شخص کو کہتے ہیں جس کی ریڑھ ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو چناچہ محاورہ ہے ۔ فقرتہ فاقرہ : یعنی مصیبت نے اس کی کمر توڑدی افقرک الصید فارمہ : یعنیشکار نے تجھے اپنی کمر پر قدرت دی ہے لہذا تیر ماریئے بعض نے کہا ہے کہ یہ افقر سے ہے جس کے معنی حفرۃ یعنی گڑھے کے ہیں اور اسی سے فقیر ہر اس گڑھے کو کہتے ہیں جس میں بارش کا پانی جمع ہوجاتا ہے ۔ فقرت اللفسیل : میں نے پودا لگانے کے لئے گڑھا کھودا شاعر نے کہا ہے ( الرجز) (343) مالیلۃ الفقیر الاالشیطان کہ فقیر میں رات بھی شیطان کی مثل ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں الفقیر ایک کنویں کا نام ہے۔ فقرت الخرز : میں نے منکوں میں سوراخ کیا ۔ افقرت البیعر اونٹ کی ناک چھید کر اس میں مہار ڈالنا ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن سيئاتهم ويحتسب بحسناتهم «5» . وقال تعالی: فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] ، وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] ، وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ، ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] ، يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] أي : تغيّر عن حالها، أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] ، وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] ، وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] ، وقوله : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] أي : لا يغيّر ما سبق في اللوح المحفوظ، تنبيها علی أنّ ما علمه أن سيكون يكون علی ما قد علمه لا يتغيّرعن حاله . وقیل : لا يقع في قوله خلف . وعلی الوجهين قوله تعالی: تَبْدِيلَ لِكَلِماتِ اللَّهِ [يونس/ 64] ، لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ [ الروم/ 30] قيل : معناه أمر وهو نهي عن الخصاء . والأَبْدَال : قوم صالحون يجعلهم اللہ مکان آخرین مثلهم ماضین «1» . وحقیقته : هم الذین بدلوا أحوالهم الذمیمة بأحوالهم الحمیدة، وهم المشار إليهم بقوله تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] والبَأْدَلَة : ما بين العنق إلى الترقوة، والجمع : البَئَادِل «2» ، قال الشاعر : 41- ولا رهل لبّاته وبآدله ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا ۔ اور آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ ایسے نیک کام کریں جو ان کی سابقہ برائیوں کو مٹادیں اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمادیگا اور ان کے نیک عملوں کا انہیں ثواب عطا کریئگا فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] تو جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے ۔ وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] جب ہم گوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں ۔ وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] کے معنی یہ ہیں کہ زمین کی موجودہ حالت تبدیل کردی جائے گی ۔ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] کہ وہ ( کہیں گی ) تہمارے دین کو ( نہ ) بدل دے ۔ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] اور جس شخص نے ایمان ( چھوڑ کر اس کے بدلے کفر اختیار کیا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] 47 ۔ 38 ) اور اگر تم منہ پھروگے تو وہ تہماری جگہ اور لوگوں کو لے آئیگا ۔ اور آیت کریمہ : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی ۔ کا مفہوم یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا پس اس میں تنبیہ ہے کہ جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وقوع پذیر ہوگی وہ اس کے علم کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوگی اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس کے وعدہ میں خلف نہیں ہوتا ۔ اور فرمان بار ی تعالیٰ : { وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ } ( سورة الأَنعام 34) قوانین خدا وندی کو تبدیل کرنے والا نہیں ۔{ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ } ( سورة الروم 30) نیز : لا تبدیل لخلق اللہ فطرت الہیٰ میں تبدیل نہیں ہوسکتی ( 30 ۔ 30 ) بھی ہر دو معافی پر محمول ہوسکتے ہیں مگر بعض نے کہاں ہے کہ اس آخری آیت میں خبر بمعنی امر ہے اس میں اختصاء کی ممانعت ہے الا ابدال وہ پاکیزہ لوگ کہ جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے کو اس کا قائم مقام فرمادیتے ہیں ؟ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں ۔ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں جہنوں نے صفات ذمیمہ کی بجائے صفات حسنہ کو اختیار کرلیا ہو ۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جنکی طرف آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] میں ارشاد فرمایا ہے ۔ البادلۃ گردن اور ہنسلی کے درمیان کا حصہ اس کی جمع بادل ہے ع ( طویل ) ولارھل لباتہ وبآدلہ اس کے سینہ اور بغلوں کا گوشت ڈھیلا نہیں تھا ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ وہ ضرب المثل ہے ۔ چناچہ قرآن میں امثال بیان کرنے کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ فکر نہ کریں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو اس پر بھی بعض اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کنجوسی کرتے ہیں۔ اور جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں کنجوسی کرتا ہے تو وہ ثواب و عزت سے بخل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے وہ تمہارے اموال وغیرہ کا محتاج نہیں ہے تم ہی اس کی رحمت و مغفرت اور اس کی جنت کے محتاج ہو۔ اور اگر اللہ اور رسول کی اطاعت اور اس امر صدقہ سے منہ پھیرو گے تو وہ تمہیں ختم کر کے تمہاری جگہ تم سے بہترین اور اطاعت گزار دوسری قوم پیدا کردے گا پھر وہ تم جیسے نافرمان اور اطاعت خداوندی سے منہ موڑنے والے نہ ہوں گے۔ بلکہ تم سے بہتر اور زیادہ اطاعت گزار ہوں گے۔ اور کہا گیا ہے کہ یا ایھا الذین امنوا سے یہاں تک یہ آیت مبارکہ منافقین کے قبیلوں اسد و غطفان کے بارے میں نازل ہوئی ہے، پھر ان کے بدلے اللہ تعالیٰ نے جہینہ اور مزینہ کے لوگوں کو مشرف باسلام کردیا جو ان سے بہتر اور ان سے زیادہ فرمانبردار تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨ { ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآئِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } ” تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں بلایا جا رہا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ “ { فَمِنْکُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ وَمَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ } ” پس تم میں سے کوئی وہ بھی ہے جو بخل سے کام لیتا ہے ‘ اور جو کوئی بھی بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل ترغیب کے باوجود جو لوگ انفاق فی سبیل اللہ سے جی چراتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس معاملے میں بخل کر کے وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور نقصان بھی ایسا جس کی تلافی ممکن نہیں۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر آخرت کے دائمی اور ابدی اجر وثواب سے خود کو محروم کرلینا اور ایک کے بدلے سات سو ملنے کے وعدہ خداوندی کو لائق ِالتفات نہ سمجھنا کوئی معمولی نقصان تو نہیں ہے۔ { وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ } ” اور اللہ غنی ہے اور محتاج تو تم ہی ہو۔ “ اللہ تعالیٰ تو غنی اور بےنیاز ہے ‘ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ‘ وہ تو صرف تمہارے امتحان کے لیے تم سے کہتا ہے کہ مجھے قرض دو ۔ اور اگر وہ تمہارے صدقات کو شرف قبولیت بخشتا ہے { وَیَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ } (التوبہ : ١٠٤) تو ایسا وہ محض تمہارے اعزازو اکرام کے لیے کرتا ہے۔ { وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْ } ” اور اگر تم پیٹھ پھیر لو گے تو وہ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا ‘ پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔ “ یہ دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا۔ اس حکم کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوا ہوگا جنہوں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں رہتے ہوئے منافقت کی بنا پر پیٹھ موڑلی تھی۔ ظاہر ہے وہ لوگ جب اس آیت کے مصداق بنے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں راندئہ درگاہ کردیا اور ان کی جگہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سچے ” جاں نثار “ اہل ِ ایمان ساتھی فراہم کردیے۔ لیکن اس کے بعد اس آیت کے مخاطب و مصداق دراصل ” اہل عرب “ ہیں جو امت مسلمہ کے مرکزہ (nucleus) کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ِاصلی یا بعثت خصوصی ” امیین “ یعنی بنو اسماعیل اور ان کے تابع مشرکین عرب کے لیے تھی۔ بنیادی طور پر تو وہی لوگ تھے جن کے سپرد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشن اس واضح حکم کے ساتھ ہوا تھا : { وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًاط } (البقرۃ : ١٤٣) ” (اے مسلمانو ! ) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہوں “۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں براہ راست خطاب دراصل حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ” اہل عرب “ اُمتیوں سے ہے کہ اگر تم نے اس مشن سے منہ موڑ لیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو اس منصب پر فائز کر دے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مشیت کا ظہور بتمام و بکمال تیرہویں صدی عیسوی میں اس وقت ہوا جب ہلاکو خان کے ذریعے سلطنت ِعباسیہ کو تاخت و تاراج کردیا گیا۔ اس ہنگامے میں تاتاریوں کے ہاتھوں بلامبالغہ کروڑوں مسلمان قتل ہوئے۔ ١٢٥٨ ء میں سقوط بغداد کا سانحہ اس انداز میں روپذیر ہوا کہ شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ تاتاری سپاہیوں نے بنو عباس کے آخری خلیفہ مستعصم باللہ کو گھسیٹ کر محل سے باہر نکالا اور کسی جانور کی کھال میں لپیٹ کر اسے گھوڑوں کے سموں تلے روندڈالا۔ یوں انتہائی عبرتناک طریقے سے عربوں کو امت مسلمہ کی قیادت سے معزول کردیا گیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق معجزانہ طور پر ان ہی تاتاریوں کی اولاد میں سے ترکانِ تیموری ‘ ترکانِ صفوی ‘ ترکانِ سلجوقی اور ترکانِ عثمانی جیسی قومیں مسلمان ہو کر اسلام کی علمبردار بن گئیں۔ ؎ ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے (اقبالؔ) بالآخر امت مسلمہ کی قیادت کا سہرا سلطنت ِعثمانیہ (The Great Ottoman Empire) کے نام سے ترکانِ عثمانی کے سر باندھ دیا گیا اور اس طرح خلافت ِعثمانیہ کا جھنڈا عالم اسلام پر چار سو سال (١٩٢٤ ء) تک لہراتا رہا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: اس لیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق خرچ کرنے سے بخل کرو گے تو اس کا نقصان تم ہی کو پہنچے گا، اول تو اس لیے کہ اس کے نتیجے میں جہاد نہ ہوسکے گا، اور دشمن غالب آجائے گا، یا مثلاً زکوٰۃ نہ دینے کی صورت میں فقر و فاقہ عام رہے گا، اور دوسرے اس لیے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا وبال بھگتنا پڑے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(47:38) ھانتم ھولائ۔ ھا حرف تنبیہ ہے انتم مبتدا اور ھولاء خبر ہے ھا تنبیہ کو مکرر تاکید کے لئے لایا گیا ہے دیکھو تم وہ لوگ ہو۔ تدعون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر دعاء (باب نصر) مصدر تم پکارتے جاتے ہو، تم بلائے جاتے ہو یا بلائے جائو گے۔ لتنفقوا۔ لام تعلیل کے لئے ہے۔ تنفقوا مضارع منصوب (بوجہ لام تعلیل ) جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر۔ کہ تم (اپنے مال) خرچ کرو۔ فمنکم من یبخل میں من تبعیضیہ ہے۔ اور من موصولہ۔ یبخل اس کا صلہ۔ پس تم میں سے بعض وہ ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں (یعنی فرض کردہ مصارف از قسم زکوٰۃ وغیرہ میں بھی بخل کرتے ہیں) ۔ یبخل عن نفسہ ۔ ای یبخل علی نفسہ۔ بخل یبخل (باب سمع) فعل لازم۔ بخیل ہونا، کنجوس ہونا۔ بخل علیہ، بخل عنہ کسی سے بخل کرنا۔ (متعدی) ۔ ترجمہ :۔ جو شخص بخل کرتا ہے تو وہ اپنی جان سے بخل کر رہا ہوتا ہے۔ من یبخل جملہ شرط اور فانما یبخل عن نفسہ جواب شرط : واللہ الغنی وانتم الفقراء اور اللہ تعالیٰ تو غنی ہے (کسی کا محتاج نہیں) بلکہ تم (اس کے) محتاج ہو۔ وہ غنی ہے اسے اپنی ذات کے لئے کچھ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ اپنی راہ کچھ خرچ کرنے کے لئے تم سے کہتا ہے تو وہ اپنے لئے نہیں بلکہ تمہاری ہی بھلائی کے لئے کہتا ہے۔ وان تتولوا۔ وائو عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف وان تؤمنوا وتتقوا پر ہے ان شرطیہ ہے تتولوا مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان) جمع مذکر حاضر ہے، تولی (تفعیل) مصدر۔ تتولوا اصل میں تتولون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی حذف ہوگیا۔ تولی کا تعدیہ جب بنفسہ ہوتا ہے تو اس کے معنی دوستی رکھنے، امداد کرنے اور دوسرے کا کام سر انجام دینے کے ہوتے ہیں اور جب اس کا تعدیہ بواسطہ عن ہوتا ہے خواہ لفظا ہو یا تقدیرا تو روگردانی کرنے، منہ پھیرنے اور دور ہونے کے آتے ہیں جیسے قرآن مجید میں ہے ۔ یایھا الذین امنوا لا تتلوا قوما غضب اللہ علیہم (60:13) اے مؤمنوا ! ان لوگون سے دوستی نہ کروجن سے خدا تعالیٰ غصہ ہوا ہے، میں تعدیہ بنفسہ ہے۔ اس لئے یہاں دوستی اور امداد کرنے کے معنی ہوں گے اور باقی تین جگہ جہاں یہ صیغہ آیا ہے تعدیہ بذریعہ عن ہے جو لفظوں میں مذکور نہیں ہے۔ مقدر اور پوشیدہ ہے۔ ان تتولوا جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ یستبدل ۔۔ جواب شرط ہے۔ یستبدل مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط واحد مذکر غائب۔ استبدال (استفعال) مصدر وہ تمہاری جگہ لے آئے گا۔ تمہارے عوض بنا دے گا۔ ترجمہ :۔ وہ تمہارے عوض دوسری قوم لے آئے گا۔ ثم۔ یہ ما قبل کے مرتبہ سے بعد کے لئے آیا ہے للترا کی فی الرتبۃ ۔ ثم لا یکونوا امثالکم ۔ پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے : (یعنی وہ ایمان و تقویٰ سے روگردانی کرنے والے نہ ہوں گے : بلکہ ان کی طرف رغبت رکھنے والے ہوں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آخر میں ان کی واقعی صورت حالات ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے کہ ان حالات میں انفاق فی سبیل اللہ کی ضرورت ہے۔ قرآن اپنے خوبصورت انداز میں ان کے دلوں کے بخل کا علاج کرتا ہے ۔ جس طرح قرآن نے جانی قربانی کے سلسلے میں ان کی تربیت کی۔ ھانتم ھولاء ۔۔۔۔ یکونوا امثالکم (٤٧ : ٣٨) ” دیکھو ، تم لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو۔ اس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں ، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے۔ اللہ تو غنی ہے ، تم ہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے “۔ قرآن کریم اس وقت کے معاشرے کا نقشہ نہایت ہی خوبصورتی سے کھینچا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ ہر معاشرے میں مالی انفاق کی دعوت کے سلسلے میں بعض لوگوں کا طرز عمل دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ بعض مالی اعتبار سے بخل کرتے ہیں ، بعض ایسے ہوتے ہیں جو فیاض ہوتے ہیں۔ یہی صورت حالات ابتدائی اسلامی معاشرے کی تھی جس کو روایات میں اچھی طرح قلم بند کیا گیا ہے اور قرآن کریم نے بھی دوسرے مقامات پر تفصیلات دی ہیں۔ اسلام نے اس میدان میں معجزانہ مثالیں پیش کی ہیں۔ لوگوں نے جو دوستی اور جوانمردی میں بےپناہ قربانیاں دیں لیکن ان مثالوں کے باوجود مالی لحاظ سے بخل پایا جاتا ہوگا ، بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جو جان تو دیتے ہوں گے لیکن ان کے لئے مال دینا مشکل ہوگا۔ یہی وہ کنجوسی ہے جس کا علاج قرآن مجید اس آیت میں کر رہا ہے۔ ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ (٤٧ : ٣٨) ” حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے “۔ کیونکہ اللہ کی راہ میں جو لوگ خرچ کر رہے ہیں وہ دراصل خود انہی کے بینک میں جمع ہو رہا ہے۔ اور یہ بچت دراصل ان کو اس وقت کام آئے گی جہاں پر کچھ بھی آمدن نہ ہوگی۔ جب ان کو زمین سے اٹھایا جائے گا اور ان کے پاس ان کی مملوکات میں سے کچھ بھی نہ ہوگا۔ لہٰذا وہاں یہی کمائی اور بچت ان کے کام آئے گی۔ اس لیے آج اگر وہ اس مد میں خرچ کرنے سے بخل کرتے ہیں تو یہ بخل وہ خود اپنے خلاف کر رہے ہیں۔ وہ اپنی بچتوں میں کمی کر رہے ہیں اور خود اپنا مال کم کر رہے ہیں اور خود اپنے آپ کو محروم کر رہے ہیں۔ اور اللہ جو ان سے انفاق فی سبیل اللہ کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ بھی خود ان کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے ۔ یہ انہی کے لئے زیادہ بچت ہوتی ہے انہی کا خزانہ اور ذخیرہ بڑھتا ہے۔ اللہ کو اس مال سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور نہ اللہ کو ایسے کسی مال کی ضرورت ہے۔ اس لیے بخل اور کنجوسی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ تمہارے پاس جو دولت ہے وہ بھی اسی کی دی ہوئی ہے اور آخرت میں وہ جو اجر دے گا وہ بھی اس کا فضل ہوگا۔ اس لئے تم جو خرچ کرتے ہو وہ بھی اللہ ہی کا فضل ہے۔ اور آخر اور دو ٹوک بات کہ اللہ نے جو تمہیں اپنی دعوت کے لئے چنا ہے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور تمہارے لیے یہ بہت اعزاز ہے۔ اگر تم نے اپنے آپ کو اس کا اہل نہ بنایا اور اس کی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو اللہ تمہارے انتخاب کو واپس لے لے گا۔ اور کسی دوسری قوم کو اس کام کے لئے منتخب کردے گا۔ اور یہ اس قوم پر اللہ کا احسان ہوگا اور وہ اس انتخاب کی قدر کریں گے ! وان تتولوا یستبدل ۔۔۔۔۔۔ امثالکم (٤٧ : ٣٨) ” اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے “۔ جن لوگوں نے ایمان کا مزہ چکھا ہے ، ان کے لئے تو یہ بہت خوفناک دھمکی ہے کہ تمہیں ہٹا کر کسی دوسری قوم کے لئے آیا جائے گا۔ اس شخص کے لئے یہ بہت بڑی دھمکی ہے جس کو احساس ہو کہ دعوت اسلامی اور خیر امت کی ذمہ داری سپرد کر کے اللہ نے ان کو بہت بڑا اعزاز بخشا ہے کیونکہ جو شخص اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اسے اللہ نے عظیم امانت سپرد کی ہے۔ وہ اس زمین پر اللہ کی سند اور سہارے سے چلتا ہے۔ اس کے وجود میں اللہ کا نور ہے۔ وہ آتا ہے اور جاتا ہے اور اس پر اپنے آقا کی علامات ہیں۔ اگر کسی نے ایمان کی مٹھاس کو چکھ لیا ہو اور پھر اس سے سلب کرلیا جائے تو یہ خسارہ وہی محسوس کرسکتا ہے ، یہ بےعزتی وہی محسوس کرسکتا ہے جس نے دریار کبریائی میں باریابی پائی ہو ، اعزاز پایا ہو اور پھر اسے دھتکار دیا جائے اور اس کے پیچھے دروازے بند کر دئیے جائیں۔ بلکہ ایسے واصلین حق کی زندگی تو جہنم بن جاتی ہے جو حق تعالیٰ تک پہنچ چکے ہوں اور پھر دور ہوجائیں گے اور ان کے سامنے پردے حائل ہوجائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک بہت بڑی عطا ہے۔ اس کی قیمت کی کوئی چیز اس کائنات میں نہیں ہے۔ اور یہ پوری انسانی زندگی اور پوری زمین کی دولت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے جب ترازو کے ایک پلڑے میں ایمان ہو اور دوسرے میں یہ پوری کائنات ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک بہت بڑی عطا ہے۔ اس کی قیمت کی کوئی چیز اس کائنات میں نہیں ہے ۔ اور یہ پوری انسانی زندگی اور پوری زمین کی دولت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے جب ترازو کے ایک پلڑے میں ایمان ہو اور دوسرے میں یہ پوری کائنات ہو۔ اس لیے یہ دھمکی اتنی بڑی دھمکی ہے جو مومن کو دی جاسکتی ہے اور یہ دھمکی ، ذرا غور کیجئے ، اللہ کی طرف سے ہے !

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس مضمون کو بعد والی آیت میں بیان فرمایا ارشاد ہے ﴿ هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ يَّبْخَلُ ﴾ (خبردار تم ایسے لوگ ہو کہ تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض وہ ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں۔ ) ﴿وَ مَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ﴾ (اور جو شخص بخل اختیار کرے گا کنجوس بنے گا تو وہ خود اپنے ہی سے بخل کرتا ہے یعنی اپنی ہی جان کو خرچ کرنے کے منافع سے محروم رکھتا ہے خرچ نہ کرنے کا ضرر خود اسی کو پہنچتا ہے۔ ) ﴿وَ اللّٰهُ الْغَنِيُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ ﴾ (اور اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو) اللہ تعالیٰ تمہیں عطاء فرماتا ہے اسے نہ حاجت ہے نہ ضرورت ہے وہ بےنیاز ہے تم سب اس کے محتاج ہو اس غلط فہمی میں کوئی نہ رہے کہ شرعی قوانین کے مطابق جو اموال خرچ کرنے کا حکم ہے اللہ تعالیٰ کا اس میں کوئی نفع ہے (العیاذ باللہ) اگر تم دین سے پھر جاؤ تو اللہ دوسری قوم کو لے آئے گا آخر میں فرمایا ﴿وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ﴾ (اور اگر تم رو گردانی کرو دین اسلام کی طرف سے بےرخی اختیار کرلو تو اللہ تعالیٰ تمہارے بدلہ دوسری قوم کو لے آئے گا) ﴿ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ (رح) ٠٠٣٨﴾ (پھر وہ تمہارے جیسے نہ ہوں گے) اس میں ان مسلمانوں کو جو نزول آیت کے وقت موجود تھے خصوصاً اور تمام بعد میں آنے والے مسلمانوں کو عموماً تنبیہ فرما دی کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ دین اسلام کی نصرت اور اس کے اعمال، انفاق مال، اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ مجھ پر یا میری قوم پر موقوف ہے اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں ہے وہ خالق ہے اور مالک بھی ہے غنی بھی ہے قادر مطلق بھی ہے جس کو چاہے جس کام میں چاہے استعمال فرما سکتا ہے۔ عجمی اقوام کی دینی خدمات سنن ترمذی میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اگر ہم لوگ رو گردانی کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے بدلہ ان کو اختیار فرما لے گا پھر وہ ہمارے جیسے نہ ہوں گے، اس وقت حضرت سلمان فارسی (رض) موجود تھے آپ نے حضرت سلمان فارسی (رض) کے مونڈھے پر اور ایک روایت میں ہے کہ ان کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ شخص اور اس کی قوم، اور ایک روایت میں ہے کہ یہ اور ان کے اصحاب، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا (ستاروں) پر بھی لٹکا ہو تو فارس کے بہت سے لوگ اس کو حاصل کرلیں گے۔ (سنن ترمذی ابواب تفسیر سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) درحقیقت ایسا ہی ہوا جب اہل عرب کو اسلامی خدمات کی طرف توجہ نہ رہی تو اللہ جل شانہٗ نے فارس کے شہروں اور بستیوں سے ایسے افراد پیدا فرمائے جنہوں نے خوب بڑھ چڑھ کر علوم اسلامیہ کی خدمت کی۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رض) ہی کو لے لو جن کا علم اور تقویٰ اور شان تفقہ عوام اور خواص سب کو معلوم ہے پھر حضرت امام بخاری (رض) کی سیرت پڑھ لو، اور مکی بن ابراہیم بلخی (رح) کا ترجمہ بھی پڑھ لو جو امام ابوحنیفہ کے شاگرد تھے ان سے امام بخاری (رح) نے گیارہ ثلاثیات کی روایت کی ہے، ابو عبید اللہ قاسم بن سلام ہروی، نعیم بن حماد مروزی، اسحاق بن ابراہیم مروزی، زہیر بن حرب، قتیبہ بن سعید بلخی، ابو جعفر محمد بن مہران رازی، ابو زکریا یحییٰ بن موسیٰ البلخی السجستانی، حافظ زکریا بن یحییٰ ، امام ابو زرعہ رازی، امام ابو حاتم الرازی، امام ابوداؤد، (صاحب السنن) سلیمان بن اشعث السجستانی، صاحب السنن، امام ترمذی ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ، امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید القروینی ابن ماجہ، صاحب السنن، امام احمد بن شعیب النسائی، امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری، الحافظ الکبیر محمد بن اسحاق بن خزیمہ النیساپوری، الحافظ ابو عبد اللہ محمد بن یحییٰ بن مندہ الاصبہانی بلاد فارس (رحمہم اللہ علیہم) کے رہنے والے تھے، حضرت امام مسلم بن الحجاج (رح) (صاحب الصحیح) بھی نیشاپوری تھے ان کو قشیری بھی کہا جاتا ہے، تہذیب الاسماء واللغات میں لکھا ہے کہ یہ قبیلہ بنی قشیر کی طرف منسوب ہیں جو عرب کا ایک قبیلہ تھا اگر وطن کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اہل عجم کی فہرست میں ان کا اسم گرامی بھی ذکر کیا جاسکتا ہے۔ یہ چند اسماء محدثین کرام کے ہم نے حافظ ذہبی (رض) کی ” تذکرۃ الحفاظ “ سے منتخب کرکے لکھے ہیں مزید مطالعہ کیا جائے تو فارس کے محدثین کی بڑی تعداد سامنے آجائے گی حافظ جلال الدین سیوطی (رض) نے جو تذکرۃ کاملہ لحظ الحفاظ الالحاظ کے نام سے لکھا ہے اس سے بھی انتخاب کرلیا جائے، حافظ ابو القاسم طبرانی، صاحب المعاجم اور حافظ ابو حاتم محمد بن حبان ابستی اور ابن السنی، ابوبکر دینوری اور حافظ ابو نعیم اصبہانی اور صاحب السنن امام بیہقی رحمہم اللہ علیہم کا اضافہ تو کر ہی لیں۔ یہ ہم نے چند محدثین کرام کے اسماء گرامی لکھے ہیں جو بلاد فارس کے رہنے والے تھے دوسرے بلاد عجم کے محدثین ان کے علاوہ ہیں اہل مغرب کے جن حضرات نے کتاب و سنت کی خدمت کی ہے ان کو بھی فہرست میں لے لیا جائے، حضرت امام ابو عمر و دانی، امام شاطبی، امام ابن الجزری (رح) کے اسماء گرامی کو بھی فہرست میں لکھ لیں مفسرین عظام اور فقہائے کرام کا تذکرہ باقی ہے ان کی بھی فہرست بنالی جائے امام ابوحنیفہ (رض) کے فقہ کو آگے بڑھانے والے تو اہل فارس ہی تھے جنہیں علمائے ماوراء لنہر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد تاتاریوں نے جو اسلام کی خدمات انجام دی ہیں اور ترکوں نے جو صلیبی جنگیں لڑی ہیں ان کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔ ﴿يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ﴾ کے عموم میں تمام عجمی اقوام آجاتی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطور مثال فارس کا تذکرہ فرما دیا ہے۔ وَھذا آخر الکلام فِیْ تفسیر سورة محمد علیہ الصلٰوة والسلام وَعلیٰ آلہٖ وصَحبہ البررة الکرام والحمد للّٰہ تعالیٰ علی التمام !

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

31:۔ ” ھا انتم “ زجر برائے منافقین۔ تمہیں جب اللہ کی راہ میں کرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض بخل کرتے ہیں حالانکہ اپنے ہی فائدے کے کام میں کرچ کرنا ہے۔ اس لیے جو خرچ نہیں کرتا وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور خرچ نہ کر کے بہت سے دینی اور دنیوی فوائد سے محروم رہتا ہے۔ اور اللہ جو خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس سے یہ نہ سمجھو کہ وہ تمہارے مال کا محتاج ہے، وہ تو بےنیاز ہے اور تم سب محتاج اور ضرورتمند ہو اور وہ تمہاری حاجات و ضروریات ہی میں تمہیں خرچ نہ کرو، تو وہ تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو کھڑا کردے گا جو تمہاری طرح بخیل نہ ہوگی اور فرخدلی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے گی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ان مصالح کی تکمیل فرما لے گا، لیکن تم اس کار خیر میں حصہ لینے کی سعادت سے محروم ہوجاؤ گے۔ سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیات اور اس میں آیات توحید 1 ۔ مومنوں اور کافروں کی صفات کا تقابل۔ 2 ۔ ترغیب الی الجہاد اور اس کی علتیں۔ 3 ۔ فاعلم انہ لا الہ الا اللہ۔ نفی شرک ہم انواع و اثبات ہمہ صفات کارسازی برائے اللہ تعالیٰ جل شانہ و عز برہانہ۔ سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(38) آگاہ ہو تم لوگ ایسے ہو کہ جب تم کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے بعض وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو شخص بخل کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی ہی ذات سے بخل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں ہے ہاں ! تم سب اس کے محتاج ہو اور اگر روگردانی اختیار کروگے تو وہ تمہاری جگہ غیروں کو لے آئے گا پھر وہ تم جیسے بخیل و نافرمان نہ ہوں گے اور وہ تمہاری مانند اور تمہاری طرح نہ ہوں گے۔ یعنی تمام مال کا مطالبہ تو بہت بڑی بات ہے تمہاری حالت تو یہ ہے کہ زکوٰۃ جو محض چالیسواں حصہ ہے مال کا اسی کے لئے بھی بلائے جاتے ہو حالانکہ وہ چالیسواں حصہ تمہارے ہی غریب بھائیوں پر خرچ ہوتا ہے پھر بھی بعض لوگ تم میں بخل کرتے ہیں اور اگر کوئی بخل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی سے بخل کرتا ہے کیونکہ جو مال جمع کرکے قوم کی بہبود اور قوم نفع کے لئے خرچ کیا جائے اس میں کوتاہی کرنا یا اس سے بچنا یا چھپانا۔ یہ تو اپنے ہی کو نقصان پہنچانے کے مرادف ہے قوم کو نقصان پہنچنا ہر فرد قوی کا نقصان ہے۔ ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے یعنی محتاج نہیں ہے وہ تو تمام عالم کو کھلاتا ہے اور خود کچھ نہیں کھاتا اور تم سب محتاج اور فقیر ہو جب اللہ تعالیٰ محتاج نہیں تو کل مال طلب کرنا یا بعض مال طلب کرنا اس کی اپنی ضرورت کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ تمہارے لئے اور تمہاری ہی دینی مصلحتوں کے لئے طلب کرنا ہے اگر اس معاملے میں بخل کرو گے یعنی انفاق فی سبیل اللہ میں کمی اور کوتاہی کرو گے تو تمہارے ضرر کا موجب ہوگا۔ اگر جہاد میں زیادہ دینے سے جی چرائو گے تو سب ہلاکت میں پڑ جائو گے۔ ولا تلفو ا بایدیکم الی التھل کہ اور اگر زکوٰۃ میں کمی کرو گے یا دوسرے صدقات میں سیر چشمی سے کام نہ لوگے تو پوری قوم کو نقصان پہنچ جائے گا۔ بہرحال اگر ہمارے احکام سے روگردانی کرو گے اور مونہہ موڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے سوا کسی اور قوم سے تم کو بدل دے گا یعنی تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا اور وہ تم جیسی نہ ہوگی یعنی بخل کرنے والی یا نافرمنی کرنے والی نہ ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تاکید جو سنتے ہو مال خرچ کرنے کی نہ جانو کہ اللہ مانگتا ہے یارسول یہ تمہارے بھلے کو فرماتا ہے پھر ایک کے ہزار ہزار پائو گے اور اللہ کو کیا پرواہے اور اس کے رسول کو۔ تم لفسیر سورة محمد اللہ علیہ وسلم