Surat ul Fatah
Surah: 48
Verse: 1
سورة الفتح
اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾
Indeed, We have given you, [O Muhammad], a clear conquest
بیشک ( اے نبی ) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے ۔
اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾
Indeed, We have given you, [O Muhammad], a clear conquest
بیشک ( اے نبی ) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے ۔
The Reason behind revealing Surat Al-Fath This honorable Surah was revealed after the Messenger of Allah returned from the area of Al-Hudaybiyyah, during the month of Dhul-Qadah, in the sixth year of Hijrah. This is when the idolators prevented him from reaching Al-Masjid Al-Haram to perform the Umrah he intended. They stopped the Prophet from reaching Makkah at that time, but then were prone to peace negotiations. A peace treaty was conducted stipulating that the Messenger would return this year and then come back for Umrah the following year. The Messenger agreed. However, some of the Companions disliked these terms, including Umar bin Al-Khattab, as we will mention in detail, Allah willing, while explaining this Surah. After the Prophet slaughtered his sacrificial animals in the area where he was stopped and headed back to Al-Madinah, Allah the Exalted and Most Honored revealed this Surah about what occurred between him and the idolators. Allah declared the Al-Hudaybiyyah peace treaty a manifest victory, because of the benefits peace would carry and the good results that did originate from it. Abdullah bin Mas`ud and other Companions said, "You consider the conquering of Makkah to be Al-Fath (the victory), while to us, Al-Fath is the treaty conducted at Al-Hلudaybiyyah." Jabir bin Abdullah said, "We only considered Al-Fath to be the day of Hudaybiyyah!" Al-Bukhari recorded that Al-Bara (bin Azib) said, "You consider Al-Fath to be the conquest of Makkah, which was indeed a victory. However, we consider Al-Fath to be the pledge of Ar-Ridwan on the Day of Al-Hudaybiyyah. Then, we were fourteen hundred with the Messenger of Allah. Al-Hudaybiyyah had a well, whose water we consumed, not leaving a drop of water in it. When the news of what happened reached the Messenger of Allah, he came towards us and sat on the edge of the well. Then he asked to be brought a bucket of water and used it for ablution. He next rinsed his mouth, invoked Allah and poured that water into the well. Soon after, that well provided us, as well as our animals, with sufficient water, in whatever amount of water we wished." Imam Ahmad recorded that Umar bin Al-Khattab said, "We were with the Messenger of Allah on a trip, and I asked him about a matter three times, but he did not answer me. So I said to myself, `May your mother lose you, O son of Al-Khattab! You were stubborn in repeating your question three times to the Messenger of Allah; each time he did not respond to you.' So I mounted my animal, my camel, and went ahead for fear that a part of the Qur'an might be revealed in my case. Suddenly, I heard a caller calling, `O Umar!' So, I went to the Messenger while fearing that part of the Qur'an was revealed about me. The Prophet said, نَزَلَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ سُورَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا Last night, a Surah was revealed to me that is dearer to me than this life and all that it contains: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ... Verily, We have given you a manifest victory. That Allah may forgive you your sins of the past and the future. Al-Bukhari, At-Tirmidhi and An-Nasa'i collected this Hadith from several chains of narration through Malik, may Allah grant him His mercy. Ali bin Al-Madini commented, "This is a good chain of narration consisting of the scholars of Al-Madinah." Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said, "This Ayah was revealed to the Prophet, لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ (That Allah may forgive you your sins of the past and the future), on his return from Al-Hudaybiyyah. The Prophet said, لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ ايَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَى الاَْرْض Tonight, an Ayah, that is dearer to me than all that the earth carries, was revealed to me. The Prophet recited the Ayah to them. They said, `Congratulations, O Allah's Messenger! Allah the Exalted and Most Honored has stated what He will do with you. So what will He do with us?' These Ayat were revealed to the Prophet, لِيُدْخِلَ الْمُوْمِنِينَ وَالْمُوْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الاَْنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّيَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِندَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا That He may admit the believing men and the believing women to Gardens under which rivers flow to abide therein forever. and He may expiate from them their sins; and that is with Allah supreme success. This Hadith is recorded in the Two Sahihs. Imam Ahmad recorded that Al-Mughirah bin Shubah said, "The Prophet used to pray until both his feet were swollen. He was asked, `Has not Allah forgiven you all your sins of the past and of future?' He said, أَفَلَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا Should I not be a thankful servant?" The two collectors of the Sahihs collected this Hadith, as well as, the rest of the Group, except Abu Dawud. Allah's statement, إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا Verily, We have given you a manifest victory. means, clear and apparent victory. This Ayah is about the treaty at Al-Hudaybiyyah, which resulted in great goodness, including people embracing Islam in large crowds and having the chance to meet each other openly. During that time, the believers preached to the idolators and thus beneficial knowledge and faith spread all around. Allah's statement,
ذی قعدہ سنہ ٦ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کر لی جسے صحابہ کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی جس میں خاص قابل ذکر ہستی حضرت عمر فاروق کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آرہا ہے ، انشاء اللہ ۔ پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا ۔ ابن مسعود وغیرہ سے مروی ہے کہ تم تو فتح فتح مکہ کو کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح جانتے تھے ۔ حضرت جابر سے بھی یہی مروی ہے ، صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت براء فرماتے ہیں تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کے واقعہ حدیبیہ کو فتح گنتے ہیں ۔ ہم چودہ سو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس موقعہ پر تھے حدیبیہ نامی ایک کنواں تھا ہم نے اس میں سے پانی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا تھوڑی دیر میں پانی بالکل ختم ہو گیا ایک قطرہ بھی نہ بچا آخر پانی نہ ہونے کی شکایت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں پہنچی آپ اس کنویں کے پاس آئے اس کے کنارے بیٹھ گئے اور پانی کا برتن منگوا کر وضو کیا جس میں کلی بھی کی پھر کچھ دعا کی اور وہ پانی اس کنویں میں ڈلوا دیا تھوڑی دیر بعد جو ہم نے دیکھا تو وہ تو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ہم نے پیا جانوروں نے بھی پیا اپنی حاجتیں پوری کیں اور سارے برتن بھر لئے ۔ مسند احمد میں حضرت عمر بن خطاب سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تین مرتبہ میں نے آپ سے کچھ پوچھا آپ نے کوئی جواب نہ دیا اب تو مجھے سخت ندامت ہوئی اس امر پر کہ افسوس میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی آپ جواب دینا نہیں چاہتے اور میں خوامخواہ سر ہوتا رہا ۔ پھر مجھے ڈر لگنے لگا کہ میری اس بے ادبی پر میرے بارے میں کوئی وحی آسمان سے نہ نازل ہو چنانچہ میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور آگے نکل گیا تھوڑی دیر گذری تھی کہ میں نے سنا کوئی منادی میرے نام کی ندا کر رہا ہے میں نے جواب دیا تو اس نے کہا چلو تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں اب تو میرے ہوش گم ہوگئے کہ ضرور کوئی وحی نازل ہوئی اور میں ہلاک ہوا جلدی جلدی حاضر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا گذشتہ شب مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ نے آیت ( اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا Ǻۙ ) 48- الفتح:1 ) ، تلاوت کی ۔ یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی ہے حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے آیت ( لیغفرک لک اللہ ) الخ ، نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر ایک آیت اتاری گئی ہے جو مجھے روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھ سنائی صحابہ آپ کو مبارکباد دینے لگے اور کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ہوئی آپ کے لئے ہمارے لئے کیا ہے ؟ اس پر یہ آیت ( لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا Ĉۙ ) 48- الفتح:5 ) نازل ہوئی ( بخاری و مسلم ) حضرت مجمع بن حارثہ انصاری جو قاری قرآن تھے فرماتے ہیں حدیبیہ سے ہم واپس آرہے تھے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ اونٹوں کو بھگائے لئے جا رہے ہیں پوچھا کیا بات ہے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو ہم لوگ بھی اپنے اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے سب کے ساتھ پہنچے آپ اس وقت کراع الغمیم میں تھے جب سب جمع ہوگئے تو آپ نے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی تھی ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ فتح ہے ، خیبر کی تقسیم صرف انہی پر کی گئی جو حدیبیہ میں موجود تھے اٹھارہ حصے بنائے گئے کل لشکر پندرہ سو کا تھا جس میں تین سو گھوڑے سوار تھے پس سوار کو دوہرا حصہ ملا اور پیدل کو اکہرا ۔ ( ابو داؤد وغیرہ ) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں حدیبیہ سے آتے ہوئے ایک جگہ رات گذارنے کیلئے ہم اتر کر سو گئے تو ایسے سوئے کہ سورج نکلنے کے بعد جاگے ، دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوئے ہوئے ہیں ہم نے کہا آپ کو جگانا چاہیے کہ آپ خود جاگ گئے اور فرمانے لگے جو کچھ کرتے تھے کرو اور اسی طرح کرے جو سو جائے یا بھول جائے ۔ اسی سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کہیں گم ہوگئی ہم ڈھونڈنے نکلے تو دیکھا کہ ایک درخت میں نکیل اٹک گئی ہے اور وہ رکی کھڑی ہے اسے کھول کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے آپ سوار ہوئے اور ہم نے کوچ کیا ناگہاں راستے میں ہی آپ پر وحی آنے لگی وحی کے وقت آپ پر بہت دشواری ہوتی تھی جب وحی ہٹ گئی تو آپ نے ہمیں بتایا کہ آپ پر سورہ ( اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا Ǻۙ ) 48- الفتح:1 ) ، اتری ہے ( ابو داؤد ، ترمذی مسندوغیرہ ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نوافل تہجد وغیرہ میں اس قدر وقت لگاتے کہ پیروں پر ورم چڑھ جاتا تو آپ سے کہا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں فرما دیئے؟ آپ نے جواب دیا کیا پھر میں اللہ کا شکر گذار غلام نہ بنوں ؟ ( بخاری ومسلم ) اور روایت میں ہے کہ یہ پوچھنے والی ام المومنین عائشہ تھیں ( مسلم ) پس مبین سے مراد کھلی صریح صاف ظاہر ہے اور فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کی وجہ سے بڑی خیرو برکت حاصل ہوئی لوگوں میں امن و امان ہوا مومن کافر میں بول چال شروع ہو گئی علم اور ایمان کے پھیلانے کا موقعہ ملا آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی یہ آپ کا خاصہ ہے جس میں کوئی آپ کا شریک نہیں ۔ ہاں بعض اعمال کے ثواب میں یہ الفاظ اوروں کے لئے بھی آئے ہیں ، اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی شرافت و عظمت ہے آپ اپنے تمام کاموں میں بھلائی استقامت اور فرمانبرداری الہٰی پر مستقیم تھے ایسے کہ اولین و آخرین میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا آپ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ اکمل انسان اور دنیا اور آخرت میں کم اولاد آدم کے سردار اور رہبر تھے ۔ اور چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ کے فرمانبردار اور سب سے زیادہ اللہ کے احکام کا لحاظ کرنے والے تھے اسی لئے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی تو آپ نے فرمایا اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آج یہ کفار مجھ سے جو مانگیں گے دوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمت کی ہتک نہ ہو پس جب آپ نے اللہ کی مان لی اور صلح کو قبول کر لیا تو اللہ عزوجل نے فتح سورت اتاری اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتیں آپ پر پوری کیں اور شرع عظیم اور دین قدیم کی طرف آپ کی رہبری کی اور آپ کے خشوع و خضوع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند و بالا کیا آپ کی تواضع ، فروتنی ، عاجزی اور انکساری کے بدلے آپ کو عز و جاہ مرتبہ منصب عطا فرمایا آپ کے دشمنوں پر آپ کو غلبہ دیا چنانچہ خود آپ کا فرمان ہے بندہ درگذر کرنے سے عزت میں بڑھ جاتا ہے اور عاجزی اور انکساری کرنے سے بلندی اور عالی رتبہ حاصل کر لیتا ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب کا قول ہے کہ تو نے کسی کو جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو ایسی سزا نہیں دی کہ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے ۔
1۔ 1 6 ہجری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور 14 سو کے قریب صحاب اکرام رضوان علیہم اجمعین عمرے کی نیت سے مکہ تشریف لے گئے، لیکن مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر کافروں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روک لیا عمرہ نہیں کرنے دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا تاکہ قریش کے سرداروں سے گفتگو کر کے انہیں مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت دینے پر آمادہ کریں کفار مکہ نے اجازت نہیں دی اور مسلمانوں نے آئندہ سال کے وعدے پر واپسی کا ارادہ کرلیا وہیں اپنے سر بھی منڈوا لئے اور قربانیاں کرلیں۔ نیز کفار سے بھی چند باتوں کا معاہدہ ہوا جنہیں صحابہ کرام کی اکثریت ناپسند کرتی تھی لیکن نگاہ رسالت نے اس کے دور رس اثرات کا اندازہ لگاتے ہوئے، کفار کی شرائط پر ہی صلح کو بہتر سمجھا۔ حدیبیہ سے مدینے کی طرف آتے ہوئے راستے میں یہ سورت اتری، جس میں صلح کو فتح مبین سے تعبیر فرمایا گیا کیونکہ یہ صلہ فتح مکہ کا ہی پیش خیمہ ثابت ہوئی اور اس کے دو سال بعد ہی مسلمان مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے۔ اسی لئے بعض صحابہ اکرام کہتے تھے کہ تم فتح مکہ کو شمار کرتے ہو لیکن ہم حدیبیہ کی صلح کو فتح شمار کرتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کی بابت فرمایا کہ آج کی رات مجھ پر وہ سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا ما فیہا سے زیادہ محبوب ہے (صحیح بخاری)
[١] آپ کو بیت اللہ کے طواف کا خوب میں آنا :۔ جنگ احزاب کے بعد قریش کی مسلمانوں پر بالا دستی کا تصور ختم ہوچکا تھا تاہم ابھی تک بیت اللہ پر قریش کا ہی قبضہ تھا۔ مسلمان جب سے ہجرت کرکے مدینہ گئے تھے ان میں سے کسی نے حج، عمرہ یا طواف کعبہ نہیں کیا تھا جس کے لئے ان کے دل ترستے رہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ کو خواب آیا کہ آپ بہت سے مسلمانوں کی معیت میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ نبی کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے۔ ١٤٠٠ صحابہ کے ساتھ مکہ کو روانگی :۔ لہذا آپ نے عمرہ کا اعلان فرما دیا۔ چونکہ اس سفر سے جنگی مقاصد یا غنائم کا کوئی تعلق نہ تھا۔ لہذا آپ کی معیت صرف ان صحابہ کرام (رض) نے ہی اختیار کی جو محض رضائے الٰہی کے لئے عمرہ کی نیت رکھتے تھے۔ جو صحابہ آپ کے ساتھ جانے پر تیار ہوئے ان کی تعداد چودہ سو کے لگ بھگ تھی۔ خ کافروں کا روکنا اور آمادہ جنگ ہونا : اہل مکہ کو پہلے ہی آپ کی آمد کی اطلاع ہوچکی تھی اور ان کی یہ انتہائی کوشش تھی کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ کیونکہ اس میں وہ اپنی توہین سمجھتے تھے۔ دستور کے مطابق اہل مکہ کسی بھی طواف اور عمرہ کرنے والے کو نہیں روک سکتے تھے۔ پھر یہ مہینہ بھی ذیقعد کا تھا جن میں اہل عرب کے دستور کے مطابق لڑائی منع تھی۔ ان دونوں باتوں کے باوجود قریش مکہ مسلمانوں کا مکہ میں داخلہ روکنے کے لئے لڑائی پر آمادہ ہوگئے۔ چناچہ خالد بن ولید ایک فوجی دستہ لے کر مقابلہ کے لئے نکل آئے۔ خ حدیبیہ کے مقام پر فروکشی :۔ آپ کو جب یہ صورت حال معلوم ہوئی تو آپ سیدھی راہ میں تھوڑی سی تبدیلی کرکے مکہ کے زیریں علاقہ حدیبیہ میں فروکش ہوگئے۔ آپ نے اہل مکہ کو بہتیرا سمجھایا کہ ہم لڑنے کی غرض سے نہیں آئے فقط عمرہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور قربانی کے جانور بھی دکھائے لیکن انہیں مسلمانوں کا مکہ میں داخل ہونا بھی گوارا نہ تھا۔ لہذا انہوں نے مسلمانوں کو واپس چلے جانے پر ہی اصرار کیا۔ سیدنا عثمان (رض) کی شہادت کی افواہ اور بیعت رضوان :۔ اسی دوران فریقین کی طرف سے کئی سفارتیں بھی آئیں اور گئیں۔ مسلمانوں کی طرف سے سیدنا عثمان (رض) کو سفیر بنا کر بھیجا گیا تو انہیں وہیں روک لیا گیا۔ اور افواہ یہ مشہور ہوگئی کہ سیدنا عثمان (رض) شہید کردیئے گئے۔ چناچہ قصاص عثمان کے سلسلہ میں آپ نے ایک کیکر کے درخت کے نیچے سب صحابہ کرام سے خون پر بیعت لی۔ جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔ سیدنا عثمان (رض) کی بیعت :۔ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر رسول اللہ کے نزدیک اہل مکہ کے لئے سیدنا عثمان (رض) سے کوئی زیادہ کوئی قابل احترام ہوتا تو آپ سفارت کے لئے اسے بھیجتے یہ بیعت سیدنا عثمان (رض) کی غیر موجودگی میں ہوئی۔ لہذا اپ نے یوں کیا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا یہ عثمان (رض) کا ہاتھ ہے اور اس کو بائیں ہاتھ پر مار کر فرمایا کہ یہ عثمان (رض) کی بیعت ہے۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب مناقب عثمان بن عفان۔۔ ) بعد میں معلوم ہوا کہ سیدنا عثمان (رض) کی شہادت کی خبر غلط تھی۔ خ سفارتوں کے تبادلے اور صلح حدیبیہ :۔ دو تین دفعہ سفارتوں کے تبادلہ کے بعد با لآخر صلح کی شرائط پر سمجھوتہ ہوگیا۔ یہ شرائط بظاہر مسلمانوں کے لئے توہین آمیز تھیں اور بیعت رضوان کے بعد بالخصوص ایسی شرائط پر رضا مند بھی نہیں ہوسکتے تھے۔ اس کے باوجود رسول اللہ نے ان شرائط کو منظور فرما لیا اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو فتح مبین قرار دیا۔ صلح کی شرائط یہ تھیں۔ ١۔ آئندہ دس سال تک مسلمان اور قریش ایک دوسرے پر چڑھائی نہ کریں گے اور صلح و آشتی سے رہیں گے۔ ٢۔ قبائل کو عام اجازت ہے کہ وہ جس فریق کے حلیف بننا چاہیں بن سکتے ہیں۔ ٣۔ اگر مکہ سے کوئی مسلمان اپنے ولی کی اجازت کے بغیر مدینہ پہنچ جائے تو مسلمان اسے واپس کردیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ آجائے تو وہ واپس نہ کیا جائے گا۔ ٤۔ مسلمان اس دفعہ عمرہ کئے بغیر واپس چلے جائیں۔ آئندہ سال وہ تلواریں نیام میں کئے ہوئے آئیں۔ تین دن تک ان کے لئے شہر خالی کردیا جائے گا اور انہیں مکہ میں رہنے اور عمرہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ خ شرائط قبول کرنے کی وجوہ :۔ مسلمانوں کو جب یہ سورة سنائی گئی تو وہ خود حیران ہو کر ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ ایسی توہین آمیز صلح فتح مبین کیسے ہوسکتی ہے ؟ یہ بحث بڑی تفصیل طلب ہے جس کا یہاں موقع نہیں۔ ہم یہاں ایسی وجوہ بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جن کی بنا پر آپ نے ایسی شرائط کو مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر بلکہ ان کی مرضی کے علی الرغم منظور فرما لیا تھا۔ البتہ یہ بات ملحوظ رکھنا چاہئے کہ یہ سب وحی الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق ہوا تھا۔ وہ وجوہ یہ ہیں : ١۔ جب سے آپ مدینہ گئے تھے آپ کے دشمنوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا اور مسلسل چھ سال سے ہنگامی حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔ ان دشمنوں میں سب سے بڑے دشمن یہی قریش تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ ان کی طرف سے اطمینان نصیب ہو تاکہ دوسرے دشمنوں سے بطریق احسن نمٹا جاسکے۔ چناچہ آپ نے یہاں سے واپسی پر سب سے پہلے بنونضیر کی سرکوبی کی اور خیبر فتح ہوا۔ ٢۔ انہی ہنگامی حالات کی وجہ سے آپ کے بہت سے تبلیغی پروگرام مؤخر ہوتے جارہے تھے۔ چناچہ اس صلح کے بعد آپ نے آس پاس کے بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط ارسال فرمائے۔ ٣۔ اس صلح نے تمام عرب پر یہ بات ثابت کردی کہ مسلمان فی الحقیقت امن پسند قوم ہے جو جنگ سے حتی الامکان گریز کرتی ہے اور مقابلہ کی قدرت رکھنے کے باوجود صلح و آشتی کو ترجیح دیتی ہے۔ اسی تاثر کے نتیجہ میں اس صلح کے بعد بعض بڑے بڑے سردار از خود اسلام لے آئے مثلاً خالد بن ولید سیف اللہ اور عمرو بن عاص فاتح مصر وغیرہم۔ ٤۔ جنگ کی صورت میں مکہ میں موجود مسلمانوں کی تباہی یقینی تھی۔ قرآن کریم نے یہ ایک ایسی وجہ بیان فرمائی جس کا مسلمانوں کو خیال تک نہ آیا تھا۔ خ جانوروں کی قربانی :۔ اس معاہدہ صلح کی تحریر کے بعد آپ نے صحابہ کرام (رض) کو اپنی اپنی قربانیاں ذبح کرنے کا حکم دیا۔ لیکن صحابہ کرام کو اس توہین آمیز صلح کا کچھ ایسا غم لاحق ہوگیا تھا کہ آپ کے اس حکم پر کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔ (شاید وہ اسی انتظار میں ہوں کہ ابھی اللہ کی طرف سے کوئی اور حکم آجائے گا) اس سفر میں سیدہ ام سلمہ (رض) آپ کے ہمراہ تھیں۔ آپ نے ان سے جب یہ صورت حال بیان کی تو انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ آپ اپنی قربانی ذبح کردیں پھر صحابہ اپنی قربانیاں خود بخود ذبح کردیں گے۔ چناچہ آپ نے اپنی قربانی ذبح کی۔ بال منڈائے تو صحابہ کرام نے آپ کی اتباع میں قربانیاں کیں۔ بال منڈائے اور احرام کھول کر واپس مدینہ آگئے۔ (بخاری۔ کتاب الشروط۔ باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ) خ عمرہ قضا :۔ پھر اگلے سال انہیں مسلمانوں نے عمرہ قضا ادا کیا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب عمرۃ القضائ) اب ہم یہاں چند احادیث درج کرتے ہیں جن سے اس سورة کا شان نزول اور صحابہ کرام بالخصوص سیدنا عمر کے اضطراب کا منظر سامنے آتا ہے : ١۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ ( اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا ۙ ) 48 ۔ الفتح :1) سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٢۔ شراط صلح پر سیدنا عمر (رض) کی بےقراری :۔ زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ایک سفر (حدیبیہ) میں تھے اور سیدنا عمر بھی آپ کے ساتھ تھے۔ رات کا وقت تھا۔ سیدنا عمر نے آپ سے کچھ پوچھا تو آپ نے جواب نہ دیا۔ سیدنا عمر نے پھر پوچھا تو بھی آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر (تیسری بار) پوچھا تب بھی آپ نے جواب نہ دیا۔ آخر سیدنا عمر اپنے تئیں کہنے لگے : && تیری ماں تجھ پر روئے تو نے تین بار عاجزی کے ساتھ رسول اللہ سے پوچھا لیکن آپ نے ایک بار بھی جواب نہ دیا && سیدنا عمر کہتے ہیں۔ پھر میں نے اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور لوگوں سے آگے نکل گیا۔ مجھے خطرہ تھا کہ اب میرے بارے میں قرآن نازل ہوگا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے ہی بلا رہا تھا۔ میں ڈر گیا کہ شاید میرے بارے میں قرآن اترا ہے۔ پھر میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ نے فرمایا : && آج رات مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن تک سورج کی روشنی پہنچتی ہے && پھر آپ نے یہ سورت پڑھی۔ (حوالہ ایضاً ) ٣۔ سیدنا سہل بن حنیف کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ کے ساتھ موجود تھے۔ جب آپ نے مشرکین مکہ سے صلح کی۔ اگر ہم لڑنا مناسب سمجھتے تو لڑ سکتے تھے۔ سیدنا عمر آئے اور آپ سے کہا : کیا ہم حق پر اور یہ (مشرک) باطل پر نہیں ؟ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول دوزخ میں نہ ہوں گے ؟ && آپ نے فرمایا : && کیوں نہیں && سیدنا عمر کہنے لگے : تو پھر ہم اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں ؟ اور ایسے ہی مدینہ کو چلے جائیں۔ جب تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہ کردے ؟ && آپ نے فرمایا : خطاب کے بیٹے ! رسول میں ہوں (تم نہیں) اللہ مجھے کبھی ضائع نہ کرے گا && چناچہ سیدنا عمر غصے کی حالت میں لوٹ گئے۔ مگر قرار نہ آیا تو سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آکر کہنے لگے۔ && کیا ہم حق پر اور یہ مشرک باطل پر نہیں ؟ && سیدنا ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : خطاب کے بیٹے ! اللہ کے رسول وہ ہیں (تم نہیں) اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا && اس وقت سورة فتح نازل ہوئی۔ (حوالہ ایضاً ) ٤۔ سیدنا عبداللہ بن مغفلص کہتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا اس وقت آپ یہ سورت دہرا دہرا کر خوش الحانی سے پڑھ رہے تھے۔ (حوالہ ایضاً ) خ صلح حدیبیہ کی توہین آمیز شرائط سے خیر کے پہلو کیسے پیدا ہوئے اور ابو جندل کی حالت زار اور فریاد :۔ صلح حدیبیہ کی انہی توہین آمیز شرائط سے اللہ تعالیٰ نے خیر کے بہت سے پہلو پیدا کردیئے۔ مکہ میں رکھے جانے والے مسلمانوں نے جب مکہ میں تبلیغ شروع کردی اور بعض لوگ اسلام بھی لے آئے تو یہی بات قریش مکہ کے لئے سوہان روح بن گئی، اور مسلمانوں کے ہاں مدینہ سے واپس کئے جانے والے مسلمانوں نے تجارتی شاہراہ پر اپنی الگ بستی بسا کر قریش کے تحارتی قافلوں کا ناک میں دم کردیا۔ ان میں ایک ابو جندل تھے۔ قریش مکہ کے تیسرے اور آخری سفیر سہیل بن عمرو کے بیٹے تھے اور مسلمان ہوچکے تھے جب شرائط صلح طے پارہی تھیں لیکن تاہنوز ضبط تحریر میں نہ آئی تھیں اس وقت یہ اہل مکہ کی قید سے بھاگ کر حدیبیہ میں مسلمانوں کے پاس پہنچ گئے اور انہیں اپنے زخم دکھا دکھا کر التجا کی کہ اب انہیں کفار کے حوالہ نہ کیا جائے۔ مسلمان ابو جندل کو پناہ دینے کے حق میں تھے کیونکہ شرائط تاحال ضبط تحریر میں نہ آئی تھیں مگر ابو جندل کا باپ سہیل اس بات پر اڑ گیا کہ اگر ابو جندل کو واپس نہ کیا گیا تو صلح نہیں ہوسکتی آخر رسول اللہ نے ابو جندل کو صبر کی تلقین فرمائی اور اسے واپس کردیا۔ اسی طرح سیدنا ابو بصیر اسلام لاکر مدینہ پہنچے تو کفار نے دو آدمی مدینہ بھیج دیئے کہ وہ انہیں واپس مکہ لائیں۔ آپ نے ابو بصیر کو ان کے ہمراہ کردیا۔ ابو بصیر نے راہ میں موقع پر ایک کو قتل کردیا اور دوسرا فرار ہو کر مدینہ آگیا اور رسول اللہ کو یہ ماجرا سنایا اتنے میں پیچھے پیچھے ابو بصیر بھی مدینہ آپ کے پاس پہنچ گیا اور عرض کیا یارسول اللہ آپ نے مجھے ان کے ہمراہ بھیج کر اپنا ذمہ پورا کردیا۔ اب تو اللہ نے مجھے ان سے نجات دی && رسول اللہ نے فرمایا : && جنگ کی آگ نہ بھڑکاؤ && سیدنا ابو بصیر کو جب معلوم ہوا کہ آپ انہیں مدینہ نہیں رہنے دیں گے تو وہاں سے چل کر سمندر کے کنارے پر آکر مقیم ہوگئے۔ بعد ازاں ابو جندل بھی یہاں پہنچ گئے اور دوسرے نومسلم بھی مدینہ کے بجائے ادھر کا رخ کرنے لگے۔ ان لوگوں نے قریش کو اس قدر تنگ کیا کہ انہوں نے مجبور ہو کر اس شرط کو کالعدم کردیا اور اجازت دے دی کہ جو شخص مسلمان ہو کر مدینہ جانا چاہے وہ جاسکتا ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ کفار نے رسول اللہ سے درخواست کی کہ ابو بصیر کو ان کاموں سے منع کریں اور جو شخص مسلمان ہو کر مدینہ جانا چاہے وہ جاسکتا ہے۔ چناچہ آپ نے ابو بصیر کو لوٹ مار کرنے سے منع فرما دیا۔ (کتاب الشروط نیز کتاب المغازی وغیرہ)
(انا فتحنالک فتحا مبیناً : لفظ ” فتحاً “ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ اور اس کے قریب ہونے والی فتوحات ہیں اور یقیناً یہ الفاظ فتح مکہ پر بھی صادق آتے ہیں، مگر صحابہ کرام اور محقق اہل علم نے اس کا سبب نزول صلح حدیبیہ بیان فرمایا ہے۔ چناچہ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ انس (رض) نے ” انا فتحنا لک فتحا مبیناً “ کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ (بخاری، التفسیر، سورة الفتح :3833) اور برئا بن عازب (رض) نے فرمایا :” تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور واقعی فتح مکہ فتح تھی مگر ہم حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کو فتح شمار کرتے ہیں۔ “ (بخاری، المغازی، باب غزوہ الحدیبۃ :3150) زید بن اسلم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ایک سفر میں چل رہے تھے، رات کو عمر بن خطاب (رض) بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔ عمر بن خطاب (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں جواب نہ دیا، انہوں نے پھر سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب نہ دیا، انہوں نے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب نہ دیا۔ عمر بن خطاب (رض) نے کہا :” عمر ! تیری ماں تجھے گم پائے، تو نے اصرار کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین مرتبہ سوال کیا، لیکن ہر بار آپ نے جواب نہیں دیا۔ “ عمر (رض) فرماتے ہیں، چناچہ میں اپنی اونٹنی کو حرکت دے کر مسلمانوں سے آگے نکل گیا، اس خوف سے کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نازل نہ ہوجائے۔ کچھ دیر بعد ہی میں یہی سمجھ رہا تھا کہ میرے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے۔ میں نے سلام کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(لقد انزلت علی اللیلۃ سورة لھی احب الی مما طلعت علیہ الشمس، ثم قراً :(انا فتحنا لک فتحاً مبینا) (بخاری، المغازی، باب غزوۃ الحدیبیۃ :3188)” رات مجھ پر وہ سورت اتری ہے جو مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا :(انا فتحنا لک فتحاً مبیناً )” بیشک ہم نے تجھے فتح دی، ایک کھلی فتح۔ “ سہل بن حنیف (رض) سے مروی ایک لمبی حدیث کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سورة فتح نازل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمر (رض) کی طرف پیغام بھیجا اور انہیں سورة فتح پڑھوائی۔ انہوں نے کہا :(یا رسول اللہ ! اوفتح ھو ؟ )” اے اللہ کے رسول ! کیا یہ فتح ہے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(نعم)” ہاں ! “ تو ان کا دل خوش ہوگیا اور وہ چلے گئے۔ (مسلم، الجھاد والسیر، باب صلح الحدیبیۃ…:1885) (٢) حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ اسلام اور مسلمانوں کی عظیم فتح تھی، کیونکہ اس کے ساتھ مسلمانوں کو بیشمار فوائد حاصل ہوئے۔ جن میں سے ایک یہ تھا کہ قریش نے مسلمانوں کا وجود تسلیم کرلیا، جو اس سے پہلے وہ کسی صورت تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ ایک یہ کہ دشمن کی حقیقی قوت کا اندازہ ہوگیا اور یہ کہ وہ کس حد تک مزاحمت کرسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں مخلص ایمان والوں اور منافقین کی پہچان ہوگئی، کیونکہ منافقین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلنے کی جرأت ہی نہیں کرسکے تھے، جیسا کہ آگے ” سیقول المخلفون “ میں آرہا ہے۔ ایک یہ کہ جزیرہ عرب میں امن قائم ہوجانے سے کفار اور مسلمانوں کا ایک دوسرے سے میل جول شروع ہوگیا ۔ کفار نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کی بات سنی، ان کے اخلاق دیکھے، آپ س میں بحث و مناظرہ ہوا اور دعوت کا دائرہ وسیع ہوا، جس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد نے اسلام قبول کرلیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس سے پہلے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چودہ صحابہ آئے تھے، لیکن صرف دو سال بعد فتح مکہ کے سال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دس ہزار صحابہ کیساتھ فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے۔ (٣) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی تاکید کے ساتھ اس فتح کی اہمیت بیان فرمائی، ایک اس کی عظمت کے اظہار کے لئے اس کی نسبت اپنی طرف دو دفعہ جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمائی، ایک ” انا “ اور دوسرا ” فتحنا “ اور دوسری یہ کہ ” فتحنا “ کی تاکید مفعول مطلق ” فتحا “ کے ساتھ فرمائی اور تیسری یہ کہ اسے ” فتح مبین “ قرار دیا، یعنی بیشک ہم نے تیرے لئے فتح دی، ایک کھلی فتح۔ (٤) ” انا فتحنالک “ میں ” لک ‘(تیرے لئے) کے الفاظ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکریم و تشریف کا اظہار ہو رہا ہے، جس سے امت کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قدر پہچاننے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور اتباع کی تعلیم دینا مقصود ہے۔
Preliminary Remarks According to the consensus of scholarly opinion of Sahabah (Companions (رض) of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)), Tabi` in (Pupils of Sahabah) and the leading authorities on Qur&anic commentary, the Surah was revealed when, after signing the Treaty of Hudaibiyah, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was on his way back to Madinah, in the 6th year of Hijrah in the month of Dhul-Qa` dah. In other words, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with a party of his Companions (رض) set out for Makkah with the intention of performing the ` Umrah. When he approached the sanctuary of Makkah he halted at a place called Hudaibiyah. The Quraish, however, debarred his entry into Makkah. Later they were willing to compromise that he must go back home that year and make up for the missed ` Umrah the following year. Many companions, especially Sayyidna ` Umar (رض) ، were greatly upset but the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) accepted it under Divine direction because he felt that this would pave the way to Muslim success. The details are set out later in the Surah. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) put off his Ihram, this Surah was revealed on his return journey from Hudaibiyah in which it is pointed out that his vision is true which will most certainly be fulfilled at the appropriate time. But this is not the right time for it. It will happen after the conquest of Makkah. The Treaty of Hudaibiyah in this Surah is described as |"an open victory|" because this Treaty was in fact the forerunner of the conquest of Makkah. Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud (رض) and some other Companions say |"you think the conquest of Makkah is &Victory& but we regard |"The very Treaty of Hudaibiyah as the real &Victory&. Likewise Sayyidna Jabir (رض) says |"We think the Treaty of Hudaibiyah is &Victory&. Bara& Ibn ` Azib says |"You think &Victory& refers to the conquest of Makkah. No doubt, it does, but we think the Pledge of Ridwan on the occasion of Hudaibiyah is the real &Victory& where the Companions (رض) [ some 1400] were asked by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) under an acacia tree to declare on solemn oath that they would stand by him at all costs and would fight under his banner to the bitter end. The Pledge of Jihad is referred to later on in this Surah. (Ibn Kathir) As mentioned earlier, this Surah was revealed on the occasion of Hudaibiyah, and since some parts of this incident are referred to in this Surah, it seems pertinent to first give details of this incident. Tafsir Ibn Kathir elaborates on the event and gives many small details. Tafsir Mazhari develops it even more elaborately. He has, on this occasion, written about fourteen pages, narrating the story from the beginning to the end with reference to authentic collections of Hadith. The narrative comprises many miracles, pieces of advice, and educational, religious and political points of wisdom. We intend to give the details of those parts of the narrative which are referred to in the Surah itself, or are profoundly relevant to the Surah, so that it may facilitate the understanding of those verses which are related to the incident. The details given below are mainly adopted from Tafsir Mazhari, and reference is made to other commentaries from where other details are taken. The Event of Hudaibiyah: Hudaibiyah is a plain situated outside Makkah on the way to Jeddah which is very close to the boundaries of Haram. It is now called Shumaisiyy. This is the site where the incident took place. Part [ 1]: The Prophet&s (علیہم السلام) Vision It is reported by Ibn Jarir, ` Abd Ibn Humaid, Baihaqi, and others that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw in a dream in Madinah that he had gone to Makkah with his Companions, entered it peacefully and performed the ` umrah (shorter pilgrimage). He and his Companions put off their pilgrim-garb and, according to the rule, some had their heads shaven and others had their hair cut short. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) then entered the House of Allah, and the key of the House fell into his hand. This part of the event is referred to later on in this Surah [ 48:27]. The dream of the Prophets (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is not a mere dream or fiction. It is a Divine revelation, acting upon which is necessary. Therefore, this vision of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was not merely a dream, but a Divine inspiration which he had to strictly obey and follow. However, no time or date was specified for this. In fact, this vision was to be fulfilled at the time of the conquest of Makkah. But when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) narrated this vision to his companions, they in their enthusiasm to visit Makkah and perform the tawaf (circumambulation) of the House, started preparations forthwith. When a party of the Companions was in full readiness to depart, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) too made up his mind to accomplish his vision, since no time or date was specified, it is possible, he thought, that this purpose could be achieved instantly (Bayan-ul-Q, citing from Rah-u1-Ma’ ani). Part [ 2]: The Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) invites his Companions and Bedouins to Join him: Some refused It is reported on the authority of Ibn Said and others that when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions made up their mind to perform ` umrah, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had the apprehension that the pagans of Makkah might hinder them from performing ` umrah, and it was possible also that an armed clash might ensue. Therefore, he invited people from the neighbouring villages to join him for the pilgrimage. Many of the village bedouins refused to join him claiming that Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions wanted to push them into the jaws of death. They said that Muhammad and his Companions wanted to get them into an armed clash with Makkans who were superior to them in terms of weapons and power. They felt that as a result of this superiority, the Muslims would not come back alive (Mazhari). Part [ 3]: Setting out for Makkah According to the versions of Imam Ahmad, Bukhari, Abu Dawud, Nasa&i رحمۃ اللہ علیہم and others the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) before setting out for the journey, took a bath, put on his new clothes and mounted his camel Qaswa&. He was accompanied by his blessed wife &Umm Salamah (رض) . A large number of the Muhajirin, Ansar and the village folks was with him. This constituted, according to most versions, 1400 people altogether. No one doubted that Makkah will be conquered on that day on account of the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) vision, whereas they did not have any weapons except swords. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions (رض) set out for this journey on Monday at the beginning of Dhul-Qa&dah. He reached Dhul-Hulaifah and donned the pilgrim-robe with the intention of ` Umrah (Shorterned from Mazhari). Part [ 4]: Preparing for Confrontation with Makkans When the people of Makkah received news about the Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) journey to Makkah with a large number of his Companions, they gathered together, and expressed their concern that if Muhammad was allowed entry into Makkah, the entire Arabia would be under the impression that the Makkans were subdued by him, while several battles had been fought between them and Muhammad. As such, they were not willing to allow him entry into the city. Thus they dispatched an advance cavalry towards Kura&-ul-Ghamim under the command of Khalid Ibn Walid [ who until then was not a Muslim ] to intercept him. The neighboring villagers were also attached to the cavalry, and the tribe of Banu Thaqif from Ta&if joined them as well. They pitched their tents in a place called Baldah. They pledged to debar the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) from entering into Makkah and to declare war against him. A Strange and Simple Network of Communication The enemies set up a network of communication from Baldah to the place where the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had reached. They placed a few men on the top of each mountain to observe the movement, activity and position of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and inform the people on the adjacent mountain in a loud voice, they in turn relayed the message to the people on the next mountain, they would then convey the information to the third mountain, and so on. In this way they communicated the details of the Holy prophet&s activities to the people of Baldah within a few minutes. The Informants of Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) dispatched Bishr Ibn Sufyan to Makkah in advance as a secret informer, so that he may secretly observe the activities and movements of the Quraish and keep him fully informed of their intentions and activities. When he returned from Makkah, he informed the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that the Makkans were preparing for an all-out war. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) expressed his regret that several wars had already weakened the strength of Quraish, and yet they would not give up fighting. The Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"This was an ideal opportunity for them to leave me, and the other Arabs alone. If these Arabs had vanquished me, they would have accomplished their objective without any pain; and if I had vanquished them, one of two things could have happened - either they would have embraced Islam or if they intended to fight me they would have braced themselves to face me. But nobody knows what is wrong with them! By Him who has sent me with His commands, I shall never cease to fight them until my neck is separated from the rest of my body.|" Part [ 5]: The Camel of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Refuses to Move After that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gathered the people and delivered a sermon in which he consulted them whether they should start the fight against the enemies then and there, or press forward and make forced entry into Makkah, and |"if they debar us we shall fight them.|" Sayyidna Abu Bakr and other companions (رض) said, |"You have come out on a peaceful mission with the intention of visiting the House of Allah, not with the belligerent intention of fighting. Therefore, adhere to your peaceful intention. However, if anyone bars us from entering Makkah, then we shall fight.|"Sayyidna Miqdad Ibn Aswad رضی اللہ تعالیٰ عنہ stood up and said: |"0 Allah&s Messenger! We are not like the children of Israel who would say فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ - { 5:24} &So go, you and your Lord, and fight. As for us, we are sitting here&. We shall fight with you at all costs.|" Having seen the Companions& (رض) determination, Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) responded that they should press forward in the direction of Makkah in the name of Allah. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) approached the Holy City, and Khalid Ibn Walid and his cavalry noticed them moving forward in the direction of qiblah, he arrayed his army into regiments and stood up there like adamantine walls. Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) appointed ` Abbad Ibn Bishr (رض) as the commander of a unit that was arrayed in opposition, to Khalid Ibn Walid. In the meanwhile it was time for Zuhr Salah. Sayyidna Bilal (رض) called the adhan, and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) led the congregation in prayer. Khalid and his cavalry looked on. Later on Khalid Ibn Walid said: |"We lost a golden opportunity to wipe them out whilst they were praying. It does not matter, wait for another time, because soon they will be praying again.|" But in the meantime Jibra&il (علیہ السلام) brought down the injunction of Salat-ul-Khawf. Having made Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) aware of their intentions, he was shown how the army should be divided into two groups in times of danger. Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) followed the direction of the Qur&an. Each group performed the prayer in alternation. (When one group prayed, it was guarded and protected by the armed regiment who remained on the alert for a possible attack by the enemy. It took its turn when the praying group had finished.) Part [ 6]: A Miracle at Hudaibiyah When Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، was nearing Hudaibiyah, the forelegs of his she-camel (named Qaswa) slipped and it sat down. The Companions (رض) tried to urge it up, but in vain. The Companions thought that Qaswa was enraged, but Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that it was no fault of Qaswa nor is it its usual habit to do this. In fact, it has been stopped by the same One who had blocked the men of elephant. [ Probably Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) by then had discerned that the time was not up for the fulfillment of his vision.] With this discernment, Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) declared: |"By Him in whose hand is Muhammad&s life, today I shall accept all the demands of the Quraish in which the Symbols sanctified by Allah are held in full esteem.|" Then he called out the she-camel and it stood up. Allah&s Messenger& (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) moved away from the spot where Khalid Ibn Walid was staying, and stationed himself on the other side of Hudaibiyah where there was very little water. Khalid Ibn Walid and the people of Baldah had occupied the places where water was available in abundance. Here a miracle of Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) shown by Allah Ta` ala. At this place there was a well in which very little water trickled. He rinsed his mouth in it, and got one of his arrows pitched therein. As soon as this happened, its water bubbled almost up to the brim of the well. People on the upper side of the well drew water and quenched their thirst. [ 7]: Negotiation with the Deputations of the People of Makkah In this way all the Companions were satisfied and settled there, and started negotiations with the people of Makkah through their deputations. First, Budail Ibn Warqa& [ who later on embraced Islam ] along with his companions paid a visit to Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and informed him, as a well-wisher, that the entire Makkah had come out in full force to confront him. They have occupied all the water spots. |"They will never allow you to enter into Makkah.|" He said. Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) replied, |"We have not come to fight anyone. However, if they block us from performing ` umrah, we will fight|". Then he repeated what he had said to his spy Bishr: |"Several wars have weakened the Quraish. If they wish, a peace treaty could be arranged for a specified period of time, so that they may peacefully prepare themselves. In the meantime they should leave us and the rest of the Arabs alone. If these Arabs vanquish me, they would have accomplished their objective without any pain; and if I vanquish them, and they started entering into the fold of Islam, then the Quraish will have two options: either they too will embrace Islam, or if they will intend to fight me, they will have braced themselves to face me. But if they refuse this, then I swear by Him who has sent me with His commands, I shall never cease to fight them until my neck is left separated from the rest of my body.|" Budail, saying that he will convey the message to the Quraish leaders, went back. When he returned to the Quraish and communicated the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) response, some of them did not want to even hear him, and were in a fit of war, while others, like ` Urwah Ibn Masud, the leader of his tribe, advised them to at least hear him. Then when Budail conveyed the message of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ` Urwah said to the leaders of Quraish that Muhammad&s suggestions were fair and satisfactory, and therefore, they should be accepted. He opted to negotiate and asked for their permission to confer with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with the aim of reaching an agreement of peace. Thus the second person to pay a visit to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in an attempt to negotiate was ` Urwah who said to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : |"If you wipe out your own people, the Quraish, will it be good for you? Have you ever heard anyone destroying his own people?|" Then there was a heated and protracted parleys between ` Urwah and the Companions (رض) ، and while this was going on, ` Urwah observed that when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) performed his ablutions, his companions would not allow the water to fall on the ground but would rub it on their bodies and clothes. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) spoke, they would lower their voices. ` Urwah went back to the Quraish leaders, and described the whole scenario to them, adding that |"I have been to the courts of the Caesar and Khosroes, and the Negus also, but by God, never have I seen any people so devoted to a king as are the Companions (رض) of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to him. He is suggesting a correct proposal, and I suggest that you accept it.|" But the people replied that they could not accept it; |"Muhammad must go back this year, and may come again the following year.|" When ` Urwah&s suggestion was not accepted, he returned with his people. After him a person by the name of Jails Ibn ` Alqamah, the leader of the bedouins, visited the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He saw the Companions in pilgrim-robes with sacrificial animals. He too returned and explained to his people that these people had come to perform their ` Umrah in the House of Allah. |"It is not proper in any way to debar them.|" The people did not pay heed to his suggestion either. He too went away back with his deputation. A fourth person arrived to confer with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and persuade him to give up his intention to enter Makkah. But the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) repeated the same reply to this deputation that he had made to Budail and ` Urwah. He went back to Quraish and communicated the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) reply to them. Part [ 8] : Sayyidna ` Uthman (رض) Despatched as a Special Envoy Imam Baihaqi reports on the authority of ` Urwah Ibn Zubair that when Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) settled in Hudaibiyah, it unnerved the Quraish. He decided to send an envoy with the message that he had not come to fight, but to perform ` Umrah. Therefore, they should not block his way. He called upon Sayyidna ` Umar (رض) for this task. He said, |"Quraish are my implacable enemy, because they are fully aware of my ardent support for Islam, and there is not a single member of my tribe in Makkah that will support me. As a result, I will not be able to change their mind. I propose the name of ` Uthman (رض) for this task. He is the most appropriate person who, because of his tribe, holds a special power and honour in the whole of Makkah.|" Allah&s Messenger صلی اللہ علیہ وسلم accepted the proposal and sent off Sayyidna ` Uthman (رض) for the task. He also advised him to visit the socially and economically disabled Muslim men and women who were not able to migrate from Makkah and were suffering hardships. He was to console them that they should not be distressed. Soon, Allah willing, Makkah will be conquered and their difficulties will end. First, Sayyidna Uthman (رض) went to those people who had gathered in Baldah to block the way of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and confront him. He communicated to them the same message that was conveyed to them by Budail and Urwah. They replied that they had heard the message and that it was not acceptable. Having received their reply, he attempted to get into Makkah. Aban Ibn Said [ who later on embraced Islam ] met him and welcomed him warmly. He took him into his refuge and allowed him to convey his message anywhere in Makkah without any fear of hindrance. Then he gave his mount to Sayyidna ` Uthman رضی اللہ تعالیٰ عنہ which he rode and entered Makkah, because his tribe Banu Said was eminently powerful. Sayyidna ` Uthman (رض) met each one of the Quraish leaders, and conveyed the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) message: |"We have not come to fight, but to perform ` umrah. After completing the rites of pilgrimage we shall return home. Indeed, if the road is blocked, we shall fight. Quraish themselves have been debilitated by several wars. Therefore it would be to their advantage to leave us and other Arabs alone. Then we shall see who overpowers the other. If the Arabs overpower us, then their objective would be accomplished. If we overpower them, then too they will have a choice to fight at that stage. During this time they will have the opportunity to improve and preserve their strength.|" But they rejected his proposal. Then ` Uthman (رض) visited the helpless Muslims and conveyed to them the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) message. This communication pleased them immensely, and they asked him to convey their salam to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Having communicated the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) message, the Makkans allowed Sayyidna ` Uthman (رض) to perform the tawaf of the House if he wished. But he refused saying he would not do that unless the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would have first performed it. ` Uthman (رض) stayed in Makkah for three nights, and continued to invite the Quraish leaders to accept the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) message. Part [ 9]: Tension between Quraish and Muslims: Seventy Makkans Captured In the meanwhile Quraish selected fifty men and asked them to be on the look-out for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . As soon as they find an opportunity, their task was to assassinate him. Whilst the men were on the look-out for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، Muhammad Ibn Maslamah, the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) body-guard, captured them and brought them to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . On the other hand, Sayyidna ` Uthman (رض) was already in Makkah and ten more Muslims joined him in the Holy City. When the Quraish heard that fifty of their men have been captured, they detained ` Uthman and other Muslims. A cavalry of Quraish marched towards the Muslim caravan and shot arrows and threw stones at them. One Companion - Ibn Zanim by name - was martyred. The Muslims captured ten of the Quraish horse-riders. In the meantime a rumour reached the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that ` Uthman (رض) has been assassinated. Part [ 10]: The Pledge of Ridwan Having received this rumour, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gathered his Companions (رض) under an acacia tree and took a solemn pledge from them that they would fight the Quraish to the last breath of their lives. This pledge came to be known as bai` at-ur-Ridwan, which signified those lucky people who had taken the oath had obtained Allah&s pleasure. This is referred to later on in the Surah. Authentic Prophetic Traditions speak eminently of the people who participated in this pledge. Since ` Uthman (رض) was on a mission to Makkah under the direction of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، he was absent at the time of the solemn pledge. So the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) placed one of his own hands on the other hand of his and said, |"This is ` Uthman&s pledge.|" This illustrates the distinction of Sayyidna ` Uthman (رض) . Part [ 11]: Peace Treaty at Hudaibiyah A distinct event or episode of the scenario of Hudaibiyah is that through, the grace of Allah, the Quraish were overawed and subdued by the Muslims. As a result, they themselves were then willing to make peace. Thus they sent three of their men as representatives, namely, Suhail Ibn ` Amr, Huwaitib Ibn ` Abdul ` Uzza and Mikraz Ibn Hafs. (Later the first two of the representatives embraced Islam.) They apologised to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on behalf of their people. Suhail Ibn ` Amr said to the Holy Prophet |"The report that ` Uthman and his companions have been killed is absolutely false. They are being sent to you. Set free our men you have captured.|" The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) set them free. It is recorded in Musnad of Ahmad and Sahih of Muslim on the authority of Sayyidna Anas (رض) that verse 24 of this Surah هُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ refers to this episode. Then Suhail and his deputation went to Quraish and described to them the amazing scene of bai&at-ur-Ridwan where the Sahabah showed their readiness to lay down their lives and willingness to make the supreme sacrifice. The opinion-makers of Quraish suggested that nothing would be better for them than they would compromise on Muslims& retiring that year without entering Makkah, but the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions (رض) may visit Makkah the following year only for three days to perform ` Umrah. On that occasion they may slaughter the sacrificial animals and put off their pilgrim-robes, otherwise the impression created would be that attempts were made to block the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) way, but he forced his entry into Makkah, which would be tantamount to a humiliating defeat for them. When Suhail arrived again with message, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"It seems that Quraish has decided to make peace. That is why they have sent Suhail again. |"The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sat up cross-legged. Two of his Companions, ` Abbd Ibn Bishr and Salamah, (رض) armed themselves with weapons and stood on his sides to guard him. Suhail came, whilst sitting courteously in front of him, delivered the message of Quraish. The Companions (رض) generally were not happy to put off the pilgrim-garb without performing ` Umrah. They spoke harshly to Suhail - the voices sometimes became loud and at other times low. ` Abbad Ibn Bishr reprimanded Suhail for raising his voice in the presence of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . After heated and protracted parleys, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) agreed to enter into Peace Treaty. Suhail wanted to have the Peace Treaty reduced to writing. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called Sayyidna ` Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ and dictated to him to write the words, بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ bismil- lahir-rahmanir-rahim. Suhail objected to this - saying that the words rahman and rahim do not exist in our idiom. He said they should write the words that used to be written before, that is, بِاسمِکَ اَللّٰھُمَّ bismika- allahumma. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) agreed to this and asked Sayyidna ` Ali (رض) to write |"This is the Peace Treaty into which Muhammad, the Messenger of Allah entered.|" Suhail objected to this as well, and argued that they did not recognise him as the &Messenger of Allah&. If they had, they would never have prevented him from visiting Allah&s House. There should be no such expression in the Treaty that would be in defiance of any party&s belief system. Therefore, it should read Muhammad, the son of ` Abdullh. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) granted this and dictated to Sayyidna ` Ali (رض) to erase the words, &the Messenger of Allah& and replace it with &the Son of ` Abdullah.& Sayyidna ` Ali (رض) ، despite being an embodiment of obedience, said he could not erase the attributive title rasul [ Messenger ] of Allah from his name. Sayyidna ` Usaid Ibn Hudair and Sa&d Ibn ` Ubadah (رض) withheld Sayyidna &Ali&s (رض) hand so that he might not rub the attributive title out. He should not write any appellation with his name other than the rasul [ Messenger ] of Allah. |"If they do not accept it, then the sword will decide the matter|" they said. Voices arose all around. Despite the fact that the Messenger of Allah was an Ummi who had never written before, took the document in his hand and wrote with his own pen the following preamble: ھٰذا ما قضی محمد بن عبداللہ وسھیل بن عمر و اصلحا علی وضع الحرب عن النّاس عشر سنین یأ من فیہ النّاس ویکف بعضھم عن بعض |"This is the Treaty into which Muhammad the Son of ` Abdull and Suhail Ibn ` Amr entered. They agree that war shall be suspended for ten years, during which time people would be able to live peacefully and no party would indulge in any hostility against the other.|" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) wanted that the treaty should have a clause to the effect that the Muslims would not be hindered from performing tawaf that year, but Suhail swore by God to say that it was not possible. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) conceded that to him. Suhail then inserted his own clause: if a Makkan [ even if he is a believer ] were to go over to Muhammad without his guardian&s permission, he shall be sent back to his guardian; but should any of Muhammad &s followers return to the Quraish, he shall not be sent back. At this, the common Muslims raised their voices and exclaimed that it was not tolerable to send one of their own Muslim brethren back to the pagans. However, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) accepted this clause as well, and explained that if any of the believers is gone over to the Quraish of his own accord, Allah has distanced him from the Muslims, and they should not bother about him. If any of their men comes over to the Muslims and they send him back to the pagans, Allah will pave the way for him. Sayyidna Bara& (رض) summarises that the Treaty contained three clauses: [ 1] If anyone during that period from among the Quraish went over to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، without his guardian&s permission, he would return him to them; [ 2] if a Companion of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came over to the Quraish, they would not return him; and [ 3] the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، together with his men, should retire that year, and visit Makkah the following year only for three days to perform ` Umrah, but they shall carry no arms save sheathed swords. Towards the end of the Treaty, the concluding statement was appended: |"This Agreement between the people of Makkah and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is a guarded document which none shall violate. Whosoever would like to join the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and make himself a party to the Treaty from his side, shall have the liberty to do so; and likewise whosoever would like to join the Quraish and make himself a party to the Treaty from their side, shall have the liberty to do so. As soon as this proclamation was made, Banu Khuza&ah jumped at the opportunity, and entered into alliance with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، but Banu Bakr, on the other hand, sided with the Quraish and allied themselves with them. Terms and Provisions of the Treaty Upset the Companions The Muslims were noticeably perturbed over the terms of the Treaty that were apparently tilted against their interests. Sayyidna ` Umar (رض) exclaimed in extreme grief and indignation: |"0 Messenger of Allah! are you not the True Prophet of Allah?|" He replied: |"Why not!|" Then Sayyidna ` Umar (رض) asked: |"Are we not on the right path and they on the wrong?|" He replied: |"Why not!|" Sayyidna ` Umar (رض) asked: |"Is it not a fact that our martyrs are in the Paradise and their slain ones in the Fire?|" He replied: |"Why not!|" Sayyidna ` Umar (رض) then said: |"Why should we submit to this humiliation and return without observing ` Umrah or Allah decides the matter through war?|" The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم replied: |"I am the servant of Allah and His Messenger. I can never violate His command. He will never destroy me. He is my Helper. Sayyidna ` Umar (رض) posed more questions to the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : |"0 Messenger of Allah! did you not promise us that we would visit Allah&s House and perform tawaf?|" He replied: |"Yes, indeed, I did promise, but did I promise that it will happen this year?|" Sayyidna ` Umar (رض) replied: |"No, you did not promise that.|" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) responded: |"The event will definitely happen as I promised. You will visit the House and perform the tawaf.|" Sayyidna ` Umar Ibn Khattab (رض) kept quiet, but his grief and indignation did not subside. After the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، he went to Sayyidna Abu Bakr (رض) and repeated his questions to him as he had posed them to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He replied that the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is the servant of Allah and His Messenger. He is not at liberty to violate any Divine decree. Allah is his Helper. Therefore, hold on to his stirrup until the last breath of your life. By Allah! he is on the path of Truth. In short, Sayyidna ` Umar (رض) was in intense grief and pain because of the seemingly unfavourable terms and provisions of the Treaty. In fact, he is reported to have said: |" I never gave way to doubt since I embraced Islam, but on this occasion I could not avoid it.|" (Transmitted by Bukhari) Sayyidna Abu ` Ubaidah (رض) allayed his misgivings and suggested to seek refuge with Allah from the evils of Shaitan. Sayyidna ` Umar (رض) said: |"I seek refuge in Allah from the evils of the Shaitan.|" He says that since he realised his misgivings, he continued to observe voluntary prayers, keep voluntary fasts, emancipate slaves and give alms, so that Allah may pardon his error. The Case of Abu Jandal: The Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Commitment to the Treaty The terms and provisions of the Treaty had just been concluded, and Companions (رض) were still grieving over them. Suhail Ibn ` Amr was the chief negotiator on behalf of Quraish. Abu Jandal was Suhail&s son. He embraced Islam and was imprisoned by his father. He used to persecute him harshly; fetters were put about his ankles; and there were signs of violence on his body. He could not bear the persecution, so somehow he managed to escape to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and sought asylum. Some of the Muslims went forward and granted him the asylum. Suhail yelled out: |"This is the first instance of the violation of a proviso of the Treaty. If he is not returned, I shall never accept any of the other provisions in the document|". The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had already entered into the Treaty and was bound by its terms and provisions, therefore he called Abu Jandal and asked him to be patient for a little while longer. Soon Allah will pave the way for him and other helpless Muslims, who are detained in Makkah, to live in easier circumstances and in a peaceful atmosphere. This case of Abu Jandal really rubbed salt into the wound or added fuel to the fire. The Companions (رض) were sure that Makkah will be conquered instantaneously, but when they experienced the apparently unfavourable situation, their grief and disappointment knew no bounds. They were on the brink of disaster and ruination. However, the Treaty was concluded, and on behalf of the Muslims Abu Bakr, ` Umar, ` Abdur-Rahman Ibn ` Awf, ` Abdullah Ibn Suhail Ibn ` Umar, Sa&d Ibn Abi Waqqas, Muhammad Ibn Maslamah, ` Ali Ibn Abi Talib and others رضی اللہ تعالیٰ عنہم had appended their signatures. Likewise on behalf of the idolaters, Suhail and a few others appended their signatures. Putting Off the Pilgrim-Garb and Slaughtering the Sacrificial Animals When the document was finalised, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) addressed the Companions (رض) ، and asked them to slaughter their sacrificial animals in that very place, shave their heads and put off the pilgrim-robes, but they were so overwhelmed by grief that no one moved from his position to comply. This depressed the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and he went up to his blessed wife Umm Salamah (رض) and expressed his grief to her. She gave him the most apt advice, saying: |"Do not reprimand them at this time, because they are acutely grieved by the terms of the Treaty and by returning without observing ` Umrah. Call the barber in the presence of all, and get your own head shaved, put off your pilgrim-garb and slaughter your own camel.|" He followed her advice. When the Companions (رض) saw this, they followed suit. They started shaving each other&s head, slaughtered their animals and put off their pilgrim-robes. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) earnestly supplicated for all. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stayed on the plain of Hudaibiyah for nineteen days and, according to other versions, twenty days. He then started his return journey. With his Companions (رض) he (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) first went to Marr Zahran, and then arrived in ` Usfan. When they reached here, their provisions were depleted: very little food and water had been left for them. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) spread a dining-sheet and asked everyone to put the little they had on the sheet. In this way the left-overs were collected on the sheet. There were 1400 people: they all sat around the sheet, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) supplicated and asked them to eat. The noble Companions (رض) report that 1400 people ate to the full and in addition they filled their bowls - yet nothing had diminished. This was the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) second miracle that appeared on this plain. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، seeing this, was highly delighted. The Noble Companions& Strength of Faith and Obedience of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Tested Once Again It was noticed in the foregoing sections that the Companions (رض) were extremely unhappy at the terms and provisions of the Treaty. They found it even more difficult and painful to return without performing ` Umrah or fighting a war. It was their strength of faith that despite all odds and the awkward situations they persisted in their faith in and obedience of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . On his way back from Hudaibiyah, at Kura&-ul-Ghamim Surah Al-Fath was revealed which the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited to the blessed Companions (رض) . Despite the terms and provisions of the Treaty and returning home without ` Umrah wounding their hearts, this Surah calls the trip |"a manifest Victory|". Sayyidna ` Umar (رض) could hardly contain himself and inquired: |"Messenger of Allah! is this &victory&?|" He replied: |"By Him in whose Hand is my life, this is indeed &a manifest Victory&!|" The noble Companions (رض) submitted to him and thus were assured that it was |"a manifest Victory|". The Effects and Advantages of the Treaty One immediate effect of this Treaty was that the misplaced obstinacy of Quraish and their followers became manifest, and a schism arose among themselves, and they were divided into different groups as a result of differences in thinking and attitudes. Budail Ibn Warqa& separated himself with his comrades from the Quraish. Following his example, ` Urwah Ibn Masud separated with his group. Secondly, the Quraish of Makkah were highly impressed by the unparalleled self-sacrifice of the noble Companions (رض) . They were also profoundly touched by the unwavering obedience of, and love and reverence for, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . This inclined them to make peace. This was an ideal opportunity for them to wipe out the Muslims, because they were at home with all its conveniences, and the Muslims were on a journey with all its inconveniences. The Quraish had captured all the water spots, whereas the Muslims had to occupy waterless spots - lacking in foodstuffs. They were in full force, whereas the Musims were ill-equipped in weaponry. Allah infused terror into their hearts. Many members of their group had the opportunity to meet and mingle with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، as a result the cheerfulness of Islamic faith was infused into their hearts. Later on they embraced it. Thirdly, the Peace Treaty made the road safe and secure. The way was opened for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the blessed Companions (رض) to call the people towards Islam. Arab delegations visited the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The blessed Companions (رض) ، together with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، spread Islam rapidly in every nook and corner. Letters were sent to the rulers of the world - inviting them to the call of Islam. Some of the prominent rulers were impressed. On the occasion of Hudaibiyah, there were not more than 1500 Muslims with him, despite the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) general invitation for all Muslims to join him to observe ` Umrah. But after the Treaty, people entered Allah&s religion in throngs. In the year 7 Hijri Khaibar was conquered, and considerable amount of booty fell into the hands of the Muslims. This strengthened their material power. Hardly two years had passed during which time an unprecedented large number of people joined the Islamic camp. When the Quraish violated the terms of the Treaty, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) secretly started preparing for the conquest of Makkah. The Quraish came to know about this, and were unnerved. They sent Abu Sufyan to apologise and to negotiate the renewal of the Treaty, but the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) refused. As a result of violation by the Quraish of the terms of the Treaty, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) within twenty-one months marched towards Makkah with ten thousand strong faithful soldiers of Allah. The Quraish were so overwhelmingly subdued that no fighting took place. There are differing views among the leading jurists whether Makkah was conquered by force of arms or by peaceful means. Nevertheless while in Makkah, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had the following announcement made: |"Whoever shuts his door shall be safe; whoever enters the mosque shall be safe; whoever enters Abu Sufyan&s house shall be safe.|" This announcement made them concerned about saving themselves. This, on the part of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، was a master-stroke of political sagacity, strategy and ingenuity. As a result, no fighting took place. In sum, Makkah was conquered easily and very comfortably. Thus the Holy Prophet&s|" (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) vision turned into a reality. The Companions (رض) fearlessly performed the tawaf of the House, then had their heads shaved or cut short, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، together with his Companions (رض) ، then entered the Ka&bah where he received its keys. At that moment, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) addressed Sayyidna ` Umar Ibn al-Khattab (رض) in particular and other Companions (رض) in general, saying: |"This is the incident that I have been narrating to you.|" On the occasion of the Farewell Pilgrimage, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) repeated his address to Sayyidna ` Umar Ibn Khattab (رض) who replied: |"Undoubtedly there is no better and greater &Victory& than the Treaty of Hudaibiyah.|" Sayyidna Abu Bakr (رض) believed from the very outset that the Treaty of Hudaibiyah was indeed the &Victory&, but people did not have the insight and foresight to discern the reality that was determined between Allah and His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Allah does not do anything because of people&s impatience. Instead, He does what His wisdom demands that everything should take place at the right moment. Therefore, &a manifest Victory& in this Surah refers to the Treaty of Hudaibiyah. These were the most important elements of the event of Hudaibiyah. This will facilitate the understanding of forthcoming verses of this Surah.
خلاصہ تفسیر بیشک ہم نے (اس صلح حدیبیہ سے) آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی (یعنی صلح حدیبیہ سے یہ فائدہ ہوا کہ وہ سبب ہوگئی ایک فتح مطلوب یعنی فتح مکہ کا، اس لحاظ سے یہ صلح ہی فتح ہوگئی، اور فتح مکہ فتح مبین اس لئے کہا گیا کہ فتح سے مقصود شریعت اسلام میں کوئی حکمرانی نہیں بلکہ دین اسلام کا غلبہ مقصود ہوتا ہے، اور فتح مکہ سے یہ مقصود بڑی حد تک حاصل ہوگیا، کیونکہ تمام قبائل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ اگر آپ اپنی قوم پر غالب آگئے تو ہم بھی اطاعت کرلیں گے، جب مکہ فتح ہوا تو چاروں طرف سے عرب کے قبائل امنڈ پڑے اور خود یا بواسطہ اپنے وفود کے اسلام لانا شروع کیا (رواہ البخاری عن عمر بن سلمہ) چونکہ غلبہ اسلام کے بڑے آثار فتح مکہ سے نمایاں ہوئے اس لئے اس کو فتح مبین فرمایا گیا، اور صلح حدیبیہ اس فتح مکہ کا سبب اور ذریعہ اس طرح ہوگئی کہ اہل مکہ سے آئے دن لڑائی رہا کرتی تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنی قوت اور سامان بڑھانے کی مہلت و فرصت نہ ملتی تھی۔ حدیبیہ کے واقعہ میں جو صلح ہوگئی تو اطمینان کے ساتھ مسلمانوں نے کوشش کی جس سے بہت سے نئے آدمی مسلمان ہوگئے اور مجمع مسلمانوں کا بڑھ گیا اور فتح خیبر وغیرہ سے سامان بھی درست ہوگیا اور ایسے ہوگئے کہ دوسروں پر دباؤ پڑ سکے، پھر قریش کی طرف سے عہد شکنی ہوئی تو آپ دس ہزار صحابہ کرام کے ساتھ مقابلے کے لئے چلے۔ اہل مکہ اس قدر مرعوب ہوئے کہ زیادہ لڑائی بھی نہیں ہوئی اور اطاعت قبول کرلی اور جو لڑائی ہوئی بھی تو اتنی کم اور خفیف کہ اہل علم کا اس میں اختلاف ہوگیا کہ مکہ مکرمہ صلح کے ساتھ فتح ہوا یا جنگ سے، غرض اس طرح یہ صلح سبب فتح ہوگئی اس لئے مجازی طور پر اس صلح کو بھی فتح فرما دیا گیا جس میں فتح مکہ کی پیشین گوئی بھی ہے۔ آگے اس فتح کے دینی اور دنیوی ثمرات و برکات کا بیان ہے کہ یہ فتح اس لئے میسر ہوئی) تاکہ (تبلیغ دین اور دعوت حق میں آپ کی کوششوں کا نتیجہ اس طرح ظاہر ہو کہ کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہوں اور اس سے آپ کا اجر بہت بڑھ جائے اور کثرت اجر و قرب کی برکت سے) اللہ تعالیٰ آپ کی سب اگلی پچھلی (صوری) خطائیں معاف فرما دے اور آپ پر (جو اللہ تعالیٰ ) اپنے احسانات (کرتا آتا ہے مثلاً آپ کو نبوت دی، قرآن دیا، بہت سے علوم دیئے بہت سے اعمال کا ثواب دیا ان احسانات) کی (اور زیادہ) تکمیل کر دے (اس طرح کہ آپ کے ہاتھ پر بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوں جس سے آپ کا اجر اور مقام قرب اور بلند ہو یہ دو نعمتیں تو آخرت سے متعلق ہیں) اور (دو نعمتیں دنیوی ہیں ایک یہ کہ) آپ کو بغیر کسی روک ٹوک کے دین کے) سیدھے راستہ پر لے چلے (اور اگرچہ آپ کا صراط مستقیم پر چلنا پہلے یقینی ہے مگر اس میں کفار کی مزاحمت ہوتی تھی اب یہ مزاحمت نہیں رہے گی) اور (دوسری دنیوی نعمت یہ ہے کہ) اللہ آپ کو ایسا غلبہ دے جس میں عزت ہی عزت ہو (یعنی جس کے بعد آپ کو کبھی کسی سے دبنا نہ پڑے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ تمام جزیرة العرب پر آپ کا تسلط ہوگیا ) معارف و مسائل جمہور صحابہ وتابعین اور ائمہ تفسیر کے نزدیک سورة فتح 2 ہجری میں اس وقت نازل ہوئی جبکہ آپ بقصد عمرہ مکہ مکرمہ مع جماعت صحابہ کے تشریف لے گئے اور حرم مکہ کے قریب مقام حدیبیہ تک پہنچ کر قیام فرمایا مگر قریش مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے منع کیا پھر اس پر صلح کرنے کے لئے تیار ہوئے کہ اس سال تو آپ واپس چلے جائیں اگلے سال اس عمرہ کی قضاء کرلیں، بہت سے صحابہ کرام خصوصاً فاروق اعظم اس طرح کی صلح سے ناراض تھے مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باشارات ربانی اس صلح کو انجام کار مسلمانوں کے لئے ذریعہ کامیابی سمجھ کر قبول فرما لیا جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا احرام عمرہ کھول دیا اور حدیبیہ سے واپس روانہ ہوئے تو راستہ میں یہ سورت پوری نازل ہوئی جس میں بتلا دیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خواب سچا ہے ضرور واقع ہوگا مگر اس کا یہ وقت نہیں بعد میں فتح کے وقت ہوگا اور اس صلح حدیبیہ کو فتح مبین سے تعبیر فرمایا کیونکہ یہ صلح ہی درحقیقت فتح مکہ کا سبب بنی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام نے فرمایا ہے کہ تم لوگ تو فتح مکہ کو فتح کہتے ہو اور ہم صلح حدیبیہ کو فتح سمجھتے ہیں۔ اسی طرح جابر نے فرمایا کہ ہم صلح حدیبیہ ہی کو فتح سمجھتے ہیں اور حضرت براء بن عازب نے فرمایا کہ تم لوگ تو فتح مکہ ہی کو فتح سمجھتے ہو اور کوئی شک نہیں کہ وہ فتح ہے لیکن ہم تو واقعہ حدیبیہ کے وقت بیعت رضوان کو اصلی فتح سمجھتے ہیں جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاضرین صحابہ سے جن کی تعداد چودہ سو تھی ایک درخت کے نیچے جہاد کرنے پر بیعت لی تھی جیسا کہ اسی سورت میں اس بیعت کا ذکر بھی آگے آ رہا ہے (ملحض از ابن کثیر) اور جبکہ یہ معلوم ہوگیا کہ یہ سورت واقعہ حدیبیہ میں نازل ہوئی ہے اور اس واقعہ کے بہت سے اجزاء کا خود اس صورت میں تذکرہ بھی ہے اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس واقعہ کو پہلے ذکر کردیا جائے۔ تفسیر ابن کثیر میں اس کی بڑی تفصیل ہے اور اس سے زیادہ تفسیر مظہری میں اس جگہ چودہ صفحات میں یہ قصہ اول سے آخر تک مفصل اور مرتب مستند کتب حدیث کے حوالہ سے بیان کیا ہے جو بہت سے معجزات اور نصائح اور علمی، دینی، سیاسی فوائد و حکم پر مشتمل ہے اس میں سے یہاں اس قصہ کے صرف وہ اجرا لکھے جاتے ہیں جن کا ذکر خود اس سورت میں کیا گیا ہے یا جن سے اس کا گہرا تعلق ہے تاکہ آگے ان آیتوں کی تفسیر سمجھنا آسان ہوجائے جو اس قصہ سے متعلق ہیں اور یہ سب بیان تفسیر مظہری سے لیا گیا ہے اور جو کسی دوسری تفسیر سے لیا ہے اس کا حوالہ دے دیا ہے۔ واقعہ حدیبیہ : حدیبیہ، ایک مقام مکہ مکرمہ سے باہر حدود حرام کے بالکل قریب ہے جس کو آج کل شمیسہ کہا جاتا ہے یہ واقعہ اس مقام پر پیش آیا ہے۔ جزو اول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خواب : اس واقعہ کا ایک جزو بروایت عبد بن حمید و ابن جریر و بیہقی وغیرہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ طیبہ میں یہ خواب دیکھا کہ آپ مکہ مکرمہ میں مع صحابہ کرام کے امن و اطمینان کے ساتھ داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہو کر کچھ لوگوں نے حسب قاعدہ سر کا حلق کرایا بعض نے بال کٹوا لئے اور یہ کہ آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کی چابی آپ کے ہاتھ آئی، یہ اس واقعہ کا ایک جزو ہے جس کا ذکر اسی سورت میں آنے والا ہے (انبیاء (علیہم السلام) کا خواب وحی ہوتا ہے اس لئے اس صورت کا واقع ہونا یقینی ہوگیا مگر خواب میں اس واقعہ کے لئے کوئی سال یا مہینہ متعین نہیں کیا گیا اور درحقیقت یہ خواب فتح مکہ کے وقت پورا ہونے والا تھا مگر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو خواب سنایا تو وہ سب کے سب مکہ مکرمہ جانے اور بیت اللہ کا طواف کرنے وغیرہ کے ایسے مشتاق تھے کہ ان حضرات نے فوراً ہی تیاری شروع کردی اور جب صحابہ کرام کا ایک مجمع تیار ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ارادہ فرما لیا کیونکہ خواب میں کوئی خاص سال یا مہینہ متعین نہیں تھا تو احتمال یہ بھی تھا کہ ابھی یہ مقصد حاصل ہوجائے) (کذافی بیان القرآن بحوالہ روح المعانی) جزو دوم، آپ کا صحابہ کرام اور دیہات کے مسلمانوں کے ساتھ چلنے کے لئے بلانا اور بعض کا انکار کرنا : ابن سعد وغیرہ کی روایت ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام نے عمرہ کا ارادہ فرما لیا تو آپ کو یہ خطرہ سامنے تھا کہ قریش مکہ ممکن ہے کہ ہمیں عمرہ کرنے سے روکیں اور ممکن ہے کہ مدافعت کے لئے جنگ کی صورت پیش آجائے اس لئے آپ نے مدینہ طیبہ کے قریبی دیہات میں اعلان کر کے ان لوگوں کے ساتھ چلنے کی دعوت دی، ان میں سے بہت سے اعراب (دیہات) نے ساتھ چلنے سے عذر کردیا اور کہنے لگے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اصحاب ہمیں قریش مکہ سے لڑوانا چاہتے ہیں جو سازو سامان والے اور طاقتور ہیں ان کا انجام تو یہ ہونا ہے کہ یہ اس سفر سے زندہ واپس نہ لوٹیں گے (مظھری) جزو سوم، مکہ کی طرف روانگی : امام احمد و بخاری، ابوداؤد و نسائی وغیرہ کی روایت کے مطابق روانگی سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل فرمایا اور نیا لباس زیب تن فرمایا اور اپنی ناقہ قصوٰی پر سوار ہوئے، ام المومنین حضرت ام سلمہ کو ساتھ لیا اور آپ کے ساتھ مہاجرین اور انصار اور دیہات کے آنے والوں کا بڑا مجمع تھا جن کی تعداد اکثر روایات میں چودہ سو بیان کی گئی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خواب کی وجہ سے ان میں کسی کو شک نہیں تھا کہ مکہ اس وقت فتح ہوجائے گا، حالانکہ بجز تلواروں کے ان کے ساتھ اور کچھ اسلحہ نہ تھا، آپ مع صحابہ کرام کے شروع ماہ ذیقعدہ میں پیر کے دن روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ میں پہنچ کر احرام باندھا (مظہری ملخصاً ) جزو چہارم، اہل مکہ کی مقابلے کیلئے تیاری : دوسری طرف جب اہل مکہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک بڑی جماعت صحابہ کے ساتھ مکہ کے لئے روانہ ہونے کی خبر ملی تو جمع ہو کر باہم مشورہ کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لئے آ رہے ہیں اگر ہم نے ان کو مکہ میں آنے دیا تو تمام عرب میں یہ شہرت ہوجائے گی کہ وہ ہم پر غلبہ پا کر مکہ مکرمہ پہنچ گئے حالانکہ ہمارے اور ان کے درمیان کئی جنگیں ہوچکی ہیں سب نے عہد کیا کہ ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے اور آپ کو روکنے کے لئے خالد بن ولید (جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) کی سر کردگی میں ایک جماعت کو مکہ سے باہر مقام کراع الغمیم پر بھیج دیا اور آس پاس کے دیہات والوں کو بھی ساتھ ملا لیا اور طائف کا قبیلہ بنو ثقیف بھی ان کے ساتھ لگ گیا، انہوں نے مقام بلدح پر اپنا پڑاؤ ڈال لیا، ان سب نے آپس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے اور آپ کے مقابلے میں جنگ کرنے کا عہد کرلیا۔ خبر رسانی کا ایک عجیب سادہ طریقہ : ان لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حالات سے باخبر رہنے کے لئے یہ انتظام کیا کہ مقام بلدح سے لے کر اس مقام تک جہاں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہنچ چکے تھے پہاڑوں کی چوٹیوں پر کچھ آدمی بٹھا دیئے تاکہ آپ کے پورے حالات دیکھ کر آپ کے متصل پہاڑ والا بآواز بلند دوسرے پہاڑ والے تک وہ تیسرے تک وہ چوتھے تک پہنچا دے اس طرح چند منٹوں میں آپ کی نقل و حرکت کا بلدح والوں کو علم ہوجاتا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خبر رساں : آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بشر ابن سفیان کو آگے مکہ مکرمہ بھیج دیا تھا کہ وہ خفیہ اہل مکہ کے حالات جا کر دیکھیں اور آپ کو اطلاع کریں۔ وہ مکہ سے واپس آئے تو اہل مکہ کی ان جنگی تیاریوں اور مکمل مزاحمت کے واقعات کی خبر دی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ افسوس ہے قریش پر کہ متعدد جنگوں نے ان کو کھالیا ہے پھر بھی وہ جنگ سے باز نہیں آتے، ان کے لئے تو اچھا موقع تھا کہ وہ مجھے اور دوسرے اہل عرب کو آزاد چھوڑ دیتے اگر یہ عرب لوگ مجھ پر غالب آجاتے تو ان کی مراد گھر بیٹھے حاصل تھی اور میں ان پر غالب آجاتا تو یا تو پھر وہ بھی اسلام میں داخل ہوجاتے اور اگر یہ نہ کرتے اور جنگ ہی کرنے کا ارادہ ہوتا تو وہ تازہ اور قوی ہوتے اور پھر وہ میرے مقابلے پر آجاتے، معلوم نہیں کہ یہ قریش کیا سمجھ رہے ہیں قسم ہے اللہ کی کہ میں اس حکم پر جو اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے ہمیشہ ان کے خلاف جہاد کرتا رہوں گا یہاں تک کہ تنہا میری گردن رہ جائے۔ جزو پنجم، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناقہ کا راستہ میں بیٹھ جانا : اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو جمع کر کے خطبہ دیا اور مشورہ لیا کہ اب ہمیں یہیں سے ان عربوں کے خلاف جہاد شروع کردینا چاہئے یا ہم بیت اللہ کی طرف بڑھیں، پھر جو ہمیں روکے اس سے قتال کریں۔ حضرت ابوبکر صدیق اور دوسرے صحابہ نے مشورہ دیا کہ آپ بیت اللہ کے قصد سے نکلے ہیں کسی سے جنگ کے لئے نہیں نکلے اس لئے آپ اپنے قصد پر رہیں ہاں اگر کوئی ہمیں مکہ سے روکے گا تو ہم اس سے قتال کریں گے، اس کے بعد حضرت مقداد بن اسودا اٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ، ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں کہ آپ سے یہ کہہ دیں (آیت) اذھب انت و ربک فقاتلا (یعنی جایئے آپ اور آپ کا رب لڑ بھڑ لیجئے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں) بلکہ ہم ہر حال میں آپ کے ساتھ قتال کریں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سن کر فرمایا، بس اب اللہ کے نام پر مکہ کی طرف چلو۔ جب آپ مکہ مکرمہ کے قریب پہنچے اور خالد بن ولید اور ان کے ساتھیوں نے آپ کو مکہ کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو اپنے لشکر کی صفوف جانب قبلہ کی طرف مستحکم کر کے کھڑا کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباد بن بشر کو ایک دستہ فوج کا امیر بنا کر آگے کیا، انہوں نے خالد بن ولید کے لشکر کے بالمقابل صفوف بنالیں، اسی حالت میں نماز ظہر کا وقت آ گیا حضرت بلال نے اذان کہی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام صحابہ کرام کو نماز پڑھائی۔ خالد بن ولید اور ان کے سپاہی دیکھتے رہے۔ بعد میں خالد بن ولید نے کہا کہ ہم نے بڑا اچھا موقع ضائع کردیا جب یہ لوگ سب نماز میں تھے اس وقت ہم پر ٹوٹ پڑتے مگر کچھ بات نہیں اب ان کی دوسری نماز کا وقت آنے والا ہے اس کا انتظار کرو مگر جبرائیل (علیہ السلام) صلوٰة الخوف کے احکام لے کر نازل ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے ارادوں سے باخبر کر کے نماز کے وقت لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا طریقہ بتلادیا اور ان کے شر سے محفوظ رہے۔ جزو ششم، مقام حدیبیہ میں ایک معجزہ : مگر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ کے قریب پہنچے تو آپ کی اونٹنی کا ہاتھ پھسل گیا وہ بیٹھ گئی صحابہ کرام نے اٹھانا چاہا تو نہ اٹھی لوگوں نے کہا کہ قصوٰی بگڑ گئی آپ نے فرمایا قصوٰی کا قصور نہیں نہ اس کی ایسی عادت ہے بلکہ اس کو تو اس ذات نے روک دیا ہے جس نے اصحاب فیل کو روک دیا تھا (غالباً اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اندازہ ہوگیا کہ جو واقعہ خواب میں دکھلایا گیا ہے اس کا یہ وقت نہیں ہے) آپ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے آج کے دن قریش مجھ سے جو بات بھی ایسی کہیں گے جس میں شعائر الٰہیہ کی تعظیم ہو تو میں اس کو ضرور مان لوں گا۔ پھر آپ نے اونٹنی پر ایک آواز لگائی تو اٹھ گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید کی جانب سے ہٹ کر حدیبیہ کی دوسری جانب قیام فرمایا جہاں پانی بہت ہی کم تھا۔ پانی کے موقع پر خالید بن ولید اور بلدح والے قابض ہوچکے تھے۔ یہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ معجزہ ظاہر ہوا کہ ایک کنواں جس میں پانی کچھ کچھ رستا تھا اس میں آپ نے کلی کردی اور اپنا ایک تیر دیا کہ اس کے اندر گاڑ دو ، یہ عمل ہوتے ہی اس کا پانی جوش مار کر کنویں کی من کے قریب پہنچ گیا کنویں کے اوپر والوں نے اپنے برتنوں سے پانی نکالا اور سیراب ہوگئے۔ جزو ہفتم، اہل مکہ کے ساتھ بواسطہ وفود بات چیت : اس طرح سب صحابہ مطمئن ہو کر یہاں مقیم ہوئے اور اہل مکہ سے بواسطہ وفود بات چیت شروع ہوئی۔ پہلے بدیل بن ورقاء (جو بعد میں مسلمان ہوگئے) اپنے ساتھیوں کے ساتھ حاضر ہوئے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خیر خواہانہ عرض کیا کہ قریش مکہ پوری قوت کے ساتھ مقابلے کے لئے نکل آئے ہیں اور پانی کی جگہوں پر انہوں نے قبضہ کرلیا ہے وہ ہرگز آپ کو نہ چھوڑیں گے کہ آپ مکہ میں داخل ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہم کسی سے جنگ کرنے نہیں آئے البتہ اگر کوئی ہمیں عمرہ کرنے سے روکے گا تو ہم قتال کریں گے پھر آپ نے اسی بات کا اعادہ فرمایا جو پہلے جاسوس بشر کے سامنے کہی تھی کہ قریش کو متعدد جنگوں نے کمزور کردیا ہے اگر وہ چاہیں تو کسی معین مدت تک کیلئے ہم سے صلح کرلیں تاکہ وہ بےفکر ہو کر اپنی تیاری میں لگ جائیں اور ہمیں اور باقی عرب کو چھوڑ دیں، اگر وہ مجھ پر غالب آگئے تو ان کی مراد گھر بیٹھے پری ہوجائے گی اور اگر ہم غالب آگئے اور وہ اسلام میں داخل ہونے لگے تو ان کو اختیار ہوگا کہ وہ بھی اسلام میں داخل ہوجاویں یا ہمارے خلاف جنگ کریں اور اس عرصہ میں وہ اپنی قوت محفوظ رکھ کر بڑھا چکے ہوں گے اور اگر قریش اس بات سے انکار کریں تو بخدا ہم اپنے معاملہ پر ان سے جہاد کرتے رہیں گے جب تک کہ میری تنہا گردن باقی ہے، بدیل یہ کہہ کر واپس ہوگئے کہ میں جا کر قریشی سرداروں سے آپ کی بات کہہ دیتا ہوں۔ وہاں پہنچے تو کچھ لوگوں نے تو ان کی بات ہی سننا نہ چاہا بلکہ جنگ کے جوش میں رہے پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ بات تو سن لیں، یہ کہنے والے عروہ بن مسعود اپنی قوم کے سردار تھے، جب بات سنی تو عروہ بن مسعود نے قریشی سرداروں سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو بات پیش کی ہے وہ درست ہے اس کو قبول کرلو اور مجھے اجازت دو کہ میں جا کر ان سے بات کروں، چناچہ دوسری مرتبہ عروہ بن مسعود گفتگو کے لئے حاضر ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ آپ اگر اپنی قوم قریش کا صفایا ہی کردیں تو یہ کونسی اچھی بات ہوگی، کبھی دنیا میں آپ نے سنا ہے کہ کوئی شخص اپنی ہی قوم کو ہلاک کر دے۔ پھر صحابہ کرام سے ان کی نرم و گرم باتیں ہوتی رہیں، اسی حال میں عروہ صحابہ کرام کے حالات کا مشاہدہ کرتے رہے کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تھوکا بھی تو صحابہ نے اس کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے چہروں سے مل لیا اور جب آپ نے وضو کیا تو وضو کے گرنے والے پانی پر صحابہ کرام ٹوٹ پڑتے اور اپنے چہروں کو ملتے تھے اور جب آپ گفتگو فرماتے تو سب اپنی آوازیں پست کرلیتے۔ عروہ نے واپس جا کر قریشی سرداروں سے یہ حال بیان کیا کہ میں بڑے بڑے شاہی درباروں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے پاس جا چکا ہوں، خدا کی قسم میں نے کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھا جس کی قوم اس پر اس طرح فدا ہو جیسے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر فدا ہیں اور وہ ایک صحیح بات کہہ رہے ہیں میرا مشورہ یہ ہے کہ تم ان کی بات مان لو، مگر لوگوں نے کہا ہم یہ بات نہیں مان سکتے بجز اس کے کہ اس سال تو آپ لوٹ جائیں پھر اگلے سال آجائیں۔ جب عروہ کی بات نہ مانی گئی تو وہ اپنی جماعت کو ساتھ لے کر واپس ہوگئے اس کے بعد ایک صاحب حلبیس بن علقمہ جو اعراب کے سردار تھے وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صحابہ کرام کو احرام کی حالت میں قربانی کے جانور ساتھ لئے دیکھا تو واپس ہو کر اس نے بھی اپنی قوم کو سمجھایا کہ یہ لوگ بیت اللہ کے عمرہ کیلئے آئے ہیں ان کو روکنا کسی طرح درست نہیں، لوگوں نے اس کا کہنا نہ سنا تو یہ بھی اپنی جماعت کو لے کر واپس ہوگیا۔ پھر ایک چوتھا آدمی آپ سے بات کرنے کے لئے آیا اور آپ سے گفتگو کی تو آپ نے اپنی وہی بات پیش کردی جو اس سے پہلے بدیل اور عروہ ابن مسعود کے سامنے پیش کی تھی اس نے جا کر آپ کا جواب قریش کو سنا دیا۔ جزو ہشتم، حضرت عثمان کو اہل مکہ کے لئے پیغام دے کر بھیجنا : امام بیہقی نے حضرت عروہ سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ میں پہنچ کر قیام فرمایا تو قریش گھبرا گئے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارادہ کیا کہ ان کے پاس اپنا کوئی آدمی بھیج کر بتلا دیں کہ ہم جنگ کرنے نہیں عمرہ کرنے آئے ہیں ہمارا راستہ نہ روکو، اس کام کے لئے حضرت عمر کو بلایا انہوں نے عرض کیا کہ یہ قریش میرے سخت دشمن ہیں کیونکہ ان کو میری عداوت و شدت کا حال معلوم ہے اور میرے قبیلہ کا کوئی آدمی ایسا مکہ میں نہیں جو میری حمایت کرے اس لئے میں آپ کے سامنے ایک ایسے شخص کا نام پیش کرتا ہوں جو مکہ مکرمہ میں اپنے قبیلہ وغیرہ کی وجہ سے خاص قوت و عزت رکھتے ہیں یعنی عثمان بن عفان، آپ نے حضرت عثمان کو اس کام کے لئے مامور فرما کر بھیج دیا اور یہ بھی فرمایا کہ جو ضعفاء مسلمین مرد اور عورتیں مکہ مکرمہ سے ہجرت نہیں کرسکے اور مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں ان کے پاس جا کر تسلی کردیں کہ پریشان نہ ہوں انشاء اللہ مکہ مکرمہ فتح ہو کر تمہاری مشکلات کے ختم ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ حضرت عثمان غنی پہلے ان لوگوں کے پاس پہنچے جو مقام بلدح میں حضور کا راستہ روکنے اور مقابلے کے لئے جمع ہوئے تھے ان سے جا کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہی بات سنا دی جو آپ نے بدیل و عروہ ابن مسعود وغیرہ کے سامنے کہی تھی، ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے پیغام سن لیا آپ جا کر اپنے بزرگ سے کہہ دو کہ یہ بات ہرگز نہیں ہوگی۔ ان لوگوں کا جواب سن کر آپ مکہ مکرمہ کے اندر جانے لگے تو ابان بن سعید کی (جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے) ان سے ملاقات ہوئی انہوں نے حضرت عثمان کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور اپنی پناہ میں لے کر ان سے کہا کہ مکہ میں اپنا پیغام لے کر جہاں چاہیں جاسکتے ہیں اس میں آپ کوئی فکر نہ کریں پھر اپنے گھوڑے پر حضرت عثمان کو سوار کر کے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے کیونکہ ان کا قبیلہ بنو سعید مکہ مکرمہ میں بہت قوی اور عزت دار تھا، یہاں تک کہ حضرت عثمان مکہ مکرمہ میں قریش کے ایک ایک سردار کے پاس پہنچے اور حضور کا پیغام پہنچایا کہ ہم کسی سے لڑنے کے لئے نہیں آئے عمرہ کر کے واپس جائیں گے ہاں کوئی ہمارا راستہ روکے گا تو لڑیں گے اور قریش خود جنگوں سے نیم جاں ہوچکے ہیں ان کے لئے مناسب یہ ہے کہ ہمیں اور دوسرے اہل عرب کو چھوڑ دیں قریش ہمارے مقابلہ پر نہ آئیں پھر دیکھیں اگر عرب ہم پر غالب آگئے تو ان کی مراد پوری ہوجائے گی اور ہم غالب آئے تو انہیں پھر بھی اختیار باقی ہوگا اس وقت قتال کرسکتے ہیں اور اس عرصہ میں ان کو اپنی طاقت بڑھانے اور محفوظ رکھنے کا موقع بھی مل جائے گا مگر ان سب نے آپ کی بات کو رد کردیا۔ پھر عثمان غنی ضعفاء مسلمین سے ملے ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام پہنچایا وہ بہت خوش ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام بھیجا۔ جب حضرت عثمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیغامات پہنچانے سے فارغ ہوئے تو اہل مکہ نے ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو طواف کرسکتے ہیں، عثمان غنی نے کہا کہ میں اس وقت تک طواف نہیں کروں گا جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات ماننے کی طرف دعوت دیتے رہے۔ جزو نہم، اہل مکہ اور مسلمانوں میں آویزش اور اہل مکہ کے ساٹھ آدمیوں کی گرفتاری : اسی عرصہ میں قریش نے اپنے پچاس آدمی اس کام پر لگائے کہ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب پہنچ کر موقع کا انتظار کریں اور موقع ملنے پر (معاذ اللہ) آپ کا قصہ ختم کردیں۔ یہ لوگ اسی تاک میں تھے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت و نگرانی پر مامور حضرت محمد بن مسلمہ نے ان سب کو گرفتار کرلیا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں قید کر کے حاضر کردیا، دوسری طرف حضرت عثمان جو مکہ میں تھے اور ان کے ساتھ تقریباً دس مسلمان اور مکہ مکرمہ میں پہنچ گئے تھے۔ قریش نے جب اپنے پچاس آدمیوں کی گرفتاری کا حال سنا تو حضرت عثمان سمیت ان سب مسلمانوں کو روک لیا اور قریش کی ایک جماعت مسلمانوں کے لشکر کی طرف نکلی اور مسلمانوں کی جماعت پر تیر اور پتھر پھینکے اس میں مسلمانوں میں سے ایک صحابی ابن زنیم شہید ہوگئے اور مسلمانوں نے ان قریشیوں کے دس سواروں کو گرفتار کرلیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی نے یہ خبر پہنچائی کہ حضرت عثمان قتل کردیئے گئے۔ جزو دہم، بیعت رضوان کا واقعہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ خبر سن کر صحابہ کرام کو ایک درخت کے نیچے جمع کیا کہ سب جمع ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر جہاد کیلئے بیعت کریں، سب صحابہ کرام نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا ذکر آگے اس سورت میں آنے والا ہے احادیث صحیحہ میں ان لوگوں کی بڑی فضیلت آئی ہے جو اس بیعت میں شریک تھے اور حضرت عثمان غنی چونکہ آپ کے حکم سے مکہ گئے ہوئے تھے اس لئے ان کی طرف سے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود آپ نے ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ عثمان کی بیعت ہے یہ خصوصی فضیلت حضرت عثمان کی تھی کہ آپ نے اپنے ہی ہاتھ کو عثمان کا ہاتھ قرار دے کر ان کی طرف سے بیعت کرلی۔ جزو یازدہم، حدیبیہ کا واقعہ : دوسری طرف اہل مکہ پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا رعب مسلط کردیا اور خود مصالحت پر آمادہ ہو کر انہوں نے اپنے تین آدمی سہیل بن عمرو اور حویطب بن عبدالعزی اور مکرز بن حفص کو غدر معذرت کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا، ان میں سے پہلے دو حضرات بعد میں مسلمان بھی ہوگئے۔ سہیل بن عمرو نے آ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ تک جو خبر پہنچی ہے کہ عثمان غنی اور ان کے ساتھی قتل کردیئے یہ بالکل غلط ہے ہم ان کو آپ کے پاس بھیجتے ہیں، ہمارے قیدیوں کو آزاد کر دیجئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آزاد کردیا، مسند احمد اور مسلم میں حضرت انس کی روایت ہے کہ اس سورت میں جو آگے آیت آنے والی ہے (اآیت) ھوالذی کف ایدیھم عنکم، یہ اسی واقعہ سے متعلق ہے اب سہیل اور ان کے ساتھیوں نے جا کر بیعت رضوان میں صحابہ کرام کی مسارعت اور جان نثاری کے عجیب و غریب منظر کا حال قریش کے سامنے بیان کیا تو قریش کے اصحاب رائے لوگوں نے آپس میں کہا کہ اس سے بہتر کوئی بات نہیں ہے کہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات پر صلح کرلیں کہ وہ اس سال تو واپس چلے جائیں تاکہ پورے عرب میں یہ شہرت نہ ہوجائے کہ ہم نے ان کو روکنا چاہا وہ زبردستی مکہ میں داخل ہوگئے اور اگلے سال عمرہ کے لئے آجائیں اور تین روز مکہ میں قیام کریں، اس وقت اپنے جانور قربانی کے ذبح کر ڈالیں اور احرام کھول دیں چناچہ یہی سہیل بن عمرو یہ پیغام لے کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کو دیکھتے ہی فرمایا کہ اب معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم نے صلح کا ارادہ کرلیا ہے کہ سہیل کو پھر بھیجا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چہار زانو بیٹھ گئے اور صحابہ میں سے عباد بن بشر اور سلمہ ہتھیاروں سے مسلح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حفاظت کے لئے کھڑے ہوگئے۔ سہیل حاضر ہوئے تو ادب کے ساتھ حضور کے سامنے بیٹھ گئے اور قریش کا پیغام آپ کو پہنچایا۔ صحابہ کرام عموماً اس پر راضی نہ تھے کہ اس وقت اپنے احرام بغیر عمرہ کئے کھول دیں، انہوں نے سہیل سے سخت گفتگو کی، آوازیں کبھی بلند ہوگئیں کبھی پست ہوئیں، عباد بن بشر نے سہیل کو ڈانٹا کہ حضور کے سامنے آواز بلند نہ کر، طویل گفتگو کے بعد آپ اس شرط کو قبول کر کے صلح کرلینے پر راضی ہوگئے، سہیل نے کہا کہ لائیے ہم اپنے اور آپ کے درمیان صلح نامہ لکھ لیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو بلایا اور فرمایا لکھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم، سہیل نے یہیں سے بحث شروع کردی اور کہا کہ لفظ رحمن اور رحیم ہمارے محاورات میں نہیں ہے آپ یہاں وہی لفظ لکھیں جو پہلے لکھا کرتے تھے یعنی باسمک اللھم آپ نے اس کو بھی مان لیا اور حضرت علی سے فرمایا کہ ایسا ہی لکھ دو ، اس کے بعد آپ نے حضرت علی کو فرمایا کہ یہ لکھو کہ یہ وہ عہد نامہ ہے جس کا فیصلہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا ہے۔ سہیل نے اس پر بھی ضد کی کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے تو آپ کو ہرگز بیت اللہ سے نہیں روکتے (صلح نامہ میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہونا چاہئے جو کسی فریق کے عقیدہ کیخلاف ہو) آپ صرف محمد بن عبداللہ لکھوائیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بھی منظور فرما کر حضرت علی سے فرمایا کہ جو لکھا ہے اس کو مٹا کر محمد بن عبداللہ لکھ دو ۔ حضرت علی نے باوجود سراپا اطاعت ہونے کے عرض کیا میں تو یہ نہیں کرسکتا کہ آپ کے نام کو مٹا دوں۔ حاضرین میں سے حضرت اسید بن حضیر اور سعد بن عبادہ نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ لیا کہ اس کو نہ مٹائیں اور بجز محمد رسول اللہ کے اور کچھ نہ لکھیں اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو ہمارے اور ان کے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی اور کچھ آوازیں ہر طرف سے بلند ہونے لگیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح نامہ کا کاغذ خود اپنے دست مبارک میں لے لیا اور باوجود اس کے کہ آپ امی تھے پہلے کبھی لکھا نہیں تھا مگر اس وقت خود اپنے قلم سے آپ نے یہ لکھ دیا ھذا ما قاضی محمد بن عبداللہ و سہیل بن عمر و اصلحا علی وضع الحرب عن الناس عشر سنبن یامن فیہ الناس و یکف بعضہم عن، یعنی وہ فیصلہ ہے جو محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو نے دس سال کے لئے باہم جنگ نہ کرنے کا کیا ہے جس میں سب لوگ مامون رہیں ایک دوسرے پر چڑھائی اور جنگ سے پرہیز کریں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہماری ایک شرط یہ ہے کہ اس وقت ہمیں طواف کرنے سے نہ روکا جائے، سہیل نے کہا کہ بخدا یہ نہیں ہوسکتا، آپ نے اس کو بھی قبول فرما لیا اس کے بعد سہیل نے اپنی ایک شرط یہ لکھی کہ جو شخص مکہ والوں میں سے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر آپ کے پاس جائے گا اس کو واپس کردیں گے اگرچہ وہ آپ ہی کے دین پر ہو اور مسلمانوں میں سے جو کوئی قریش کے پاس مکہ چلا آوے اس کو ہم واپس نہ کریں گے۔ اس پر عام مسلمانوں کی آواز اٹھی سبحان اللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائی کو مشرکین کی طرف لوٹا دیں، مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بھی قبول فرما لیا اور یہ فرمایا کہ ہم میں سے کوئی آدمی اگر ان کے پاس گیا تو اس کو اللہ ہی نے ہم سے دور کردیا اس کی ہم کیوں فکر کریں اور ان کا کوئی آدمی ہمارے پاس آیا اور ہم نے لوٹا بھی دیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ سہولت کا نکال دیں گے حضرت براء نے اس صلح نامہ کا خلاصہ تین شرطیں بیان کیا ہے، ایک یہ کہ ان کا کوئی آدمی ہمارے پاس آجائے گا تو ہم اس کو واپس کردیں گے، دوسرے یہ کہ ہمارا کوئی آدمی ان کے پاس چلا جائے گا تو وہ واپس نہ کریں گے۔ تیسرے یہ کہ اب آئندہ سال عمرہ کے لئے آئیں گے اور تین روز مکہ میں قیام کریں گے اور زیادہ ہتھیار لے کر نہیں آئیں گے اور آخر میں لکھا گیا کہ یہ عہد نامہ اہل مکہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان ایک محفوظ دستاویز ہے جس کی کوئی خلاف ورزی نہ کرے گا اور باقی سب عرب آزاد ہیں جس کا جی چاہے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں داخل ہوجائے اور جس کا جی چاہے قریش کے عہد میں داخل ہوجائے۔ یہ سن کر قبیلہ خزاعہ اچھل پڑا اور کہا کہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عقد میں داخل ہیں اور بنو بکر نے آگے بڑھ کر کہا کہ ہم قریش کے عقد و عہد میں داخل ہیں۔ شرائط صلح سے عام صحابہ کرام کی ناراضی اور رنج : جب یہ شرائط صلح طے ہوگئیں تو عمر بن خطاب سے نہ رہا گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا، یا رسول اللہ، کیا آپ اللہ کے نبی برحق نہیں ہیں، آپ نے فرمایا کیوں نہیں، پھر حضرت عمر نے کہا کہ کیا ہم حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں، آپ نے فرمایا کیوں نہیں، پھر حضرت عمر نے عرض کیا کہ کیا ہمارے مقتولین جنت اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا کیوں نہیں، اس پر حضرت عمر نے عرض کیا تو پھر ہم کیوں اس ذلت کو قبول کریں کہ بغیر عمرہ کئے واپس چلے جائیں جب تک جنگ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہ کردیں، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ہرگز اس کے حکم کے خلاف نہیں کروں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے ضائع نہ فرمائے گا وہ میرا مددگار ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا کہ ہم بیت اللہ کے پاس جائیں گے اور طواف کریں گے، آپ نے فرمایا کہ بیشک یہ کہا تھا مگر کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ کام اسی سال ہوگا تو حضرت عمر نے کہا کہ یہ تو آپ نے نہیں فرمایا تھا تو آپ نے فرمایا کہ بس یہ واقعہ جیسا کہ میں نے کہا تھا ہو کر رہے گا کہ آپ بیت اللہ کے پاس جائیں گے اور طواف کریں گے۔ حضرت عمر بن خطاب خاموش ہوگئے مگر غم و غصہ نہیں گیا، آپ کے پاس سے حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور اسی گفتگو کا اعادہ کیا جو حضور کے سامنے کی تھی، حضرت ابوبکر نے فرمایا خدا کے بندے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور وہ اللہ کے حکم کے خلاف کوئی کام نہ کریں گے اور اللہ ان کا مددگار ہے اس لئے تم مرتے دم تک آپ کی رکاب تھامے رہو، خدا کی قسم وہ حق پر ہیں، غرض حضرت فاروق اعظم کو ان شرائط صلح سے سخت رنج و غم پہنچا، خود انہوں نے فرمایا کہ واللہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا مجھے کبھی شک پیش نہیں آیا بجز اس واقعہ کے (رواہ البخاری) حضرت ابوعبیدہ نے سمجھایا اور فرمایا کہ شیطان کے شر سے پناہ مانگو، فاروق اعظم نے کہا میں شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو میں برابر صدقہ خیرات کرتا اور روزے رکھتا اور غلام آزاد کرتا رہا کہ میری یہ خطا معاف ہوجائے۔ ایک اور حادثہ اور معاہدہ کی پابندی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بےنظیر عمل : ابھی ابھی یہ شرائط صلح طے ہوئی تھیں اور صحابہ کرام کی ناگواری اس پر ہو رہی تھی کہ اچانک اسی سہیل بن عمرو کا جو صلح نامہ کا فریق منجانب قریش تھا بیٹا ابوجندل جو مسلمان ہوچکا تھا اور باپ نے اس کو قید کر رکھا تھا اور سخت ایذائیں ان کو دیتا تھا وہ کسی طرح بھاگ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ گیا اور آپ سے پناہ مانگی، کچھ مسلمان بڑھے اور اس کو اپنی پناہ میں لے لیا مگر سہیل چلا اٹھا کہ یہ پہلی عہد نامہ کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اگر اس کو واپس نہ کیا گیا تو میں صلح کی کسی شرط کو نہ مانوں گا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عہد کر کے پابند ہوچکے تھے اس لئے ابوجندل کو آواز دے کر فرمایا کہ اے ابوجندل تم چند روز اور صبر کرو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اور ضعفاء مسلمین کے لئے جو مکہ میں محبوس ہیں جلد رہائی اور فراخی کا انتظام کرنے والا ہے۔ مسلمانوں کے دلوں پر ابوجندل کے اس واقعہ نے اور زیادہ نمک پاشی کی وہ تو یقین کر کے آئے تھے کہ اسی وقت مکہ فتح ہوگا اور یہاں یہ حالات دیکھے تو ان کے رنج و غم کی انتہا نہ رہی قریب تھا کہ وہ ہلاکت میں پڑجاتے مگر معاہدہ صلح مکمل ہوچکا تھا اس صلح نامہ پر مسلمانوں کی طرف سے ابوبکر و عمر عبدالرحمن بن عوف اور عبداللہ بن سہیل بن عمر سعدبن ابی وقاص، محمد بن مسلمہ اور علی بن ابی طالب وغیرہ (رض) کے دستخط ہوئے اسی طرح مشرکین کی طرف سے سہیل کے ساتھ چند دوسرے لوگوں کے بھی دستخط ہوگئے۔ احرام کھولنا اور قربانی کے جانور ذبح کرنا : جب صلح نامہ کی کتابت سے فراغت ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ (قرار داد صلح کے مطابق اب ہمیں واپس جانا ہے) سب لوگ اپنی قربانی کے جانور جو ساتھ ہیں ان کی قربانی کردیں اور سر کے بال منڈوا کر احرام کھول دیں۔ صحابہ کرام کی مسلسل رنج و غم کی وجہ سے یہ حالت ہوگئی تھی کہ آپ کے فرمانے کے باوجود کوئی اس کام کے لئے نہیں اٹھا جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغموم ہوئے اور ام المومنین حضرت ام سلمہ کے پاس تشریف لے گئے اور اپنے اس رنج کا ذکر کیا، ام المومنین نے بہت مناسب اور اچھا مشورہ دیا کہ آپ صحابہ کرام کو اس پر کچھ نہ کہیں، ان کو اس وقت سخت صدمہ اور رنج شرائط صلح اور بغیر عمرہ کے واپسی کی وجہ سے پہنچا ہوا ہے، آپ سب کے سامنے حجام کو بلا کر خود اپنا حلق کر کے احرام کھول دیں اور اپنی قربانی کردیں۔ آپ نے مشورہ کے مطابق ایسا ہی کیا، صحابہ کرام نے جب یہ دیکھا تو سب کھڑے ہوگئے ایک دوسرے کا حلق کرنے لگے اور قربانی کے جانوروں کی قربانی کرنے لگے، آپ نے سب کے لئے دعا فرمائی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مقام حدیبیہ میں انیس اور بعض روایات کے اعتبار سے بیس دن قیام فرمایا تھا، اب یہاں سے واپسی شروع ہوئی اور آپ صحابہ کرام کے مجمع کے ساتھ پہلے مرظہران پھر عسفان پہنچے، یہاں پہنچ کر سب مسلمانوں کا زاد راہ تقریباً ختم ہوچکا تھا، کھانے کے لئے بہت کم سامان تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دستر خوان بچھایا اور سب کو حکم دیا کہ جس کے پاس جو کچھ ہے لا کر یہاں جمع کر دے اس طرح جو کچھ باقی ماندہ کھانے کا سامان تھا سب اس دستر خوان پر جمع ہوگیا۔ چودہ سو حضرات کا مجمع تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی اور سب کو کھانا شروع کرنے کا حکم دیا۔ صحابہ کرام کا بیان ہے کہ پورے چودہ سو حضرات نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا پھر اپنے برتنوں میں بھر لیا اس کے بعد بھی اتنا ہی کھانا باقی تھا، اس مقام پر یہ دوسرا معجزہ ظاہر ہوا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو دیکھ کر بہت مسرور ہوئے۔ صحابہ کرام کے ایمان اور اطاعت رسول کا ایک اور امتحان اور ان کی بےنظیر قوت ایمانی : اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ صحابہ کرام پر ان شرائط صلح اور بغیر عمرہ اور بغیر جنگ میں اپنے حوصلے نکالنے کے واپسی سخت بھاری اور ناگوار تھی، یہی انہی کا ایمان تھا کہ ان سب حالات میں ایمان اور اطاعت رسول پر جمے رہے۔ حدیبیہ سے واپسی پر جب آپ مقام کراع غمیم پر پہنچے تو آپ پر یہ سورة فتح نازل ہوئی آپ نے صحابہ کرام کو پڑھ کر سنایا، صحابہ کرام کے قلوب اس طرح کی شرائط صلح اور بغیر عمرہ کے واپسی سے زخم خوردہ پہلے ہی سے تھے اب اس سورت نے یہ بتلایا کہ فتح مبین حاصل ہوئی ہے حضرت عمر بن خطاب پھر سوال کر بیٹھے کہ یا رسول اللہ کیا یہ فتح ہے، آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ فتح مبین ہے۔ صحابہ کرام نے اس پر بھی سر تسلیم خم کیا اور ان سب چیزوں کو فتح مبین یقین کیا۔ صلح حدیبیہ کے ثمرات و برکات کا ظہور : سب سے پہلے بات تو اس واقعہ میں یہ ہوئی کہ قریش مکہ اور ان کے بہت سے متبعین پر ان کی ضد اور بےجاہٹ دھرمی واضح ہو کر خود ان میں پھوٹ پڑی بدیل ابن ورقاء اپنے ساتھیوں کو لے کر ان سے الگ ہوگئے، پھر عروہ ابن مسعود اپنی جماعت کو لے کر الگ ہوگئے۔ دوسرے صحابہ کرام کی بینظیر جان نثاری اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بےمثال اطاعت و محبت و عظمت دیکھ کر قریش مکہ کا مرعوب ہوجانا اور صلح کی طرف مائل ہونا حالانکہ ان کے لئے مسلمانوں کا صفایا کردینے کا اس سے بہتر کوئی موقع نہ تھا کیونکہ وہ اپنے گھروں میں مطمئن تھے، مسلمان مسافرت کی حالت میں تھے قریش نے پانی کی جگہوں پر قبضہ کیا ہوا تھا یہ بےآب و دانہ جنگل میں تھے، ان کی پوری قوت موجود تھی مسلمانوں کے پاس کچھ زیادہ اسلحہ بھی نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا اور ان کی جماعت کے بہت سے افراد کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات اور اختلاط کے مواقع مل کر ان میں سے بہت سے لوگوں کے دلوں میں اسلام و ایمان راسخ ہوگیا اور بعد میں مسلمان ہوگئے۔ تیسرے صلح وامان کی وجہ سے راستے مامون ہوگئے دعوت اسلام کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کے واسطے راستے کھل گئے، عرب کے وفود کو آپ کی خدمت میں حاضری کا موقع ملا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ نے گوشہ گوشہ میں دعوت اسلام کو پھیلایا، دنیا کے بادشاہوں کو دعوت اسلام دینے کے لئے خطوط بھیجے گئے ان میں سے چند بڑے بڑے بادشاہ متاثر ہوئے جس کا حاصل یہ نکلا کہ واقعہ حدیبیہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت عام اور سب کو عمرہ کے لئے نکلنے کی تاکید کے باوجود ڈیڑھ ہزار سے زیادہ مسلمان ساتھ نہیں تھے اور صلح حدیبیہ کے بعد جوق در جوق لوگ اسلام میں داخل ہوئے اسی عرصہ میں 7 ہجری میں خیبر فتح ہو کر مسلمانوں کو سامان بڑی مقدار میں مل گیا اور ان کی مادی قوت مستحکم ہوگئی اور اس صلح پر دو سال گزرنے نہ پائے تھے کہ مسلمانوں کی تعداد اتنی کثیر ہوگئی جو اس سے پہلے تمام پچھلی مدت میں نہیں تھی، اسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب قریش مکہ نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے معاہدہ توڑ ڈالا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کرنے کی خفیہ تیاری شروع کی تو اس صلح نامہ پر صرف بیس اکیس مہینے گزرے تھے کہ فتح مکہ کے لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جانے والے جان نثار سپاہی دس ہزار تھے قریش مکہ کو خبر لگی تو گھبرا کر ابوسفیان کو عذر معذرت کر کے تجدید معاہدہ پر آمادہ کرنے کے لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا آپ نے معاہدہ کی تجدید نہ کی اور بالآخر دس ہزار کے اس حزب اللہ کے ساتھ آپ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے کفار قریش ایسے مغلوب و مرعوب ہوچکے تھے کہ مکر مکرمہ میں کچھ زیادہ لڑائی کی بھی نوبت نہیں آئی، کچھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکیمانہ سیاست نے جنگ نہ ہونے کا یہ انتظام کردیا کہ آپ نے مکہ مکرمہ میں اعلان کرا دیا کہ جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ مامون ہے جو مسجد میں داخل ہوجائے وہ مامون جو ابوسفیان کے گھر میں چلا جائے وہ مامون ہے اس طرح سب لوگوں کو اپنی اپنی فکر پڑگئی اور قتل و قتال کی زیادہ نوبت نہیں آئی اسی لئے ائمہ فقہاء میں یہ اختلاف ہوگیا کہ مکہ مکرمہ صلح سے فتح ہوا یا جنگ سے۔ بہرحال بڑی سہولت کے ساتھ مکہ مکرمہ فتح ہوا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خواب واقعہ بن کر سب کے سامنے آ گیا، صحابہ کرام نے بےخطر ہو کر بیت اللہ کا طواف پھر حلق و قصر کیا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ بیت اللہ میں داخل ہوئے، بیت اللہ کی چابی آپ کے ہاتھ آئی اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب کو خصوصاً اور سب صحابہ کو عموماً خطاب کر کے فرمایا کہ یہ ہے وہ واقعہ جو میں نے آپ سے کہا تھا، پھر حجتہ الوداع کے موقع پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ تھا وہ واقعہ جو میں نے تم سے کہا تھا۔ حضرت فاروق اعظم نے فرمایا کہ بیشک کوئی فتح صلح حدیبیہ سے زیادہ بہتر اور اعظم نہیں ہے۔ صدیق اکبر تو پہلے سے فرماتے تھے کہ اسلام میں کوئی فتح صلح حدیبیہ کے برابر نہیں ہے لیکن لوگوں کی رائے اور بصیرت وہاں تک نہ پہنچی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان ایک طے شدہ حقیقت تھی یہ لوگ جلد بازی کرنا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی جلد بازی سے متاثر ہو کر جلدی نہیں کرتا بلکہ حکمت و مصلحت کے ساتھ ہر کام اپنے صحیح وقت پر انجام پاتا ہے اس لئے سورة فتح میں حق تعالیٰ نے واقعہ حدیبیہ کو فتح مبین فرمایا۔ یہ واقعہ حدیبیہ کے اہم اجزاء تھے جن سے اگلی آیات کے سمجھنے میں سہولت ملے گی اب آیات کی تفسیر دیکھئے۔
اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا ١ ۙ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات في أصل الشرع هو هذه المذکورات . وأَنْ علی أربعة أوجه : الداخلة علی المعدومین من الفعل الماضي أو المستقبل، ويكون ما بعده في تقدیر مصدر، وينصب المستقبل نحو : أعجبني أن تخرج وأن خرجت . والمخفّفة من الثقیلة نحو : أعجبني أن زيدا منطلق . والمؤكّدة ل «لمّا» نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] . والمفسّرة لما يكون بمعنی القول، نحو : وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا [ ص/ 6] أي : قالوا : امشوا . وكذلك «إِنْ» علی أربعة أوجه : للشرط نحو : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبادُكَ [ المائدة/ 118] ، والمخفّفة من الثقیلة ويلزمها اللام نحو : إِنْ كادَ لَيُضِلُّنا [ الفرقان/ 42] ، والنافية، وأكثر ما يجيء يتعقّبه «إلا» ، نحو : إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا [ الجاثية/ 32] ، إِنْ هذا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ [ المدثر/ 25] ، إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ آلِهَتِنا بِسُوءٍ [هود/ 54] . والمؤكّدة ل «ما» النافية، نحو : ما إن يخرج زيد ( ان حرف ) ان وان ( حرف ) یہ دونوں اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان جملہ مستقل پر آتا ہے اور ان کا مابعد ایسے مفرد کے حکم میں ہوتا ہے جو اسم مرفوع ، منصوب اور مجرور کی جگہ پر واقع ہوتا ہے جیسے اعجبنی انک تخرج وعجبت انک تخرج اور تعجب من انک تخرج جب ان کے بعد ما ( کافہ ) آجائے تو یہ عمل نہیں کرتا اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے ۔ فرمایا :۔ { إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ } ( سورة التوبة 28) ۔ مشرک تو پلید ہیں (9 ۔ 28) یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے ۔ نیز فرمایا :۔ { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ } ( سورة البقرة 173) اس نے تم امر ہوا جانور اور لہو حرام کردیا ہے (2 ۔ 173) یعنی مذکورہ اشیاء کے سوا اور کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا اس میں تنبیہ ہے کہ معلومات میں سے جو چیزیں اصول شریعت میں حرام ہیں ان میں سے یہ چیزیں سب سے بڑھ کر ہیں ۔ ( ان ) یہ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے (1) ان مصدریہ ۔ یہ ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے اور اس کا مابعد تاویل مصدر میں ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ مضارع کو نصب دیتا ہے جیسے :۔ اعجبنی ان تخرج وان خرجت ۔ ان المخففہ من المثقلۃ یعنی وہ ان جو ثقیلہ سے خفیفہ کرلیا گیا ہو ( یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے جیسے ۔ اعجبنی ان زید منطلق ان ( زائدہ ) جو لما کی توکید کے لئے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا { فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ } ( سورة يوسف 96) جب خوشخبری دینے والا آپہنچا (12 ۔ 92) ان مفسرہ ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنیٰ پر مشتمل ہو ( خواہ وہ لفظا ہو یا معنی جیسے فرمایا :۔ { وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ } ( سورة ص 6) ان امشوا اور ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے ( اور بولے ) کہ چلو (38 ۔ 6) یہاں ان امشوا ، قالوا کے معنی کو متضمن ہے ان ان کی طرح یہ بھی چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان شرطیہ جیسے فرمایا :۔ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ } ( سورة المائدة 118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں (5 ۔ 118) ان مخففہ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوتا ہے ( یہ تا کید کے معنی دیتا ہے اور ) اس کے بعد لام ( مفتوح ) کا آنا ضروری ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا } ( سورة الفرقان 42) ( تو ) یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا ہے (25 ۔ 42) ان نافیہ اس کے بعداکثر الا آتا ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا } ( سورة الجاثية 32) ۔۔ ،۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں (45 ۔ 32) { إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ } ( سورة المدثر 25) (ٌپھر بولا) یہ ( خدا کا کلام ) نہیں بلکہ ) بشر کا کلام سے (74 ۔ 25) { إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ } ( سورة هود 54) ۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا ( کر دیوانہ کر ) دیا ہے (11 ۔ 54) ان ( زائدہ ) جو ( ما) نافیہ کی تاکید کے لئے آتا ہے جیسے : مان یخرج زید ۔ زید باہر نہیں نکلے گا ۔ فتح الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، وذلک ضربان : أحدهما : يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] ، وَلَوْ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ باباً مِنَ السَّماءِ [ الحجر/ 14] . والثاني : يدرک بالبصیرة کفتح الهمّ ، وهو إزالة الغمّ ، وذلک ضروب : أحدها : في الأمور الدّنيويّة كغمّ يفرج، وفقر يزال بإعطاء المال ونحوه، نحو : فَلَمَّا نَسُوا ما ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ أَبْوابَ كُلِّ شَيْءٍ [ الأنعام/ 44] ، أي : وسعنا، وقال : لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ، أي : أقبل عليهم الخیرات . والثاني : فتح المستغلق من العلوم، نحو قولک : فلان فَتَحَ من العلم بابا مغلقا، وقوله : إِنَّا فَتَحْنا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً [ الفتح/ 1] ، قيل : عنی فتح مكّةوقیل : بل عنی ما فتح علی النّبيّ من العلوم والهدایات التي هي ذریعة إلى الثّواب، والمقامات المحمودة التي صارت سببا لغفران ذنوبه وفَاتِحَةُ كلّ شيء : مبدؤه الذي يفتح به ما بعده، وبه سمّي فاتحة الکتاب، وقیل : افْتَتَحَ فلان کذا : إذا ابتدأ به، وفَتَحَ عليه كذا : إذا أعلمه ووقّفه عليه، قال : أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِما فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ [ البقرة/ 76] ، ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ [ فاطر/ 2] ، وفَتَحَ الْقَضِيَّةَ فِتَاحاً : فصل الأمر فيها، وأزال الإغلاق عنها . قال تعالی: رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنا وَبَيْنَ قَوْمِنا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفاتِحِينَ [ الأعراف/ 89] ، ومنه الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ [ سبأ/ 26] ، قال الشاعر : بأني عن فَتَاحَتِكُمْ غنيّ وقیل : الفتَاحةُ بالضمّ والفتح، وقوله : إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [ النصر/ 1] ، فإنّه يحتمل النّصرة والظّفر والحکم، وما يفتح اللہ تعالیٰ من المعارف، وعلی ذلک قوله : نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] ، وَيَقُولُونَ مَتى هذَا الْفَتْحُ [ السجدة/ 28] ، قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ [ السجدة/ 29] ، أي : يوم الحکم . وقیل : يوم إزالة الشّبهة بإقامة القیامة، وقیل : ما کانوا يَسْتَفْتِحُونَ من العذاب ويطلبونه، ( ف ت ح ) الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں اور یہ ازالہ دوقسم پر ہے ایک وہ جس کا آنکھ سے ادراک ہو سکے جیسے ۔ فتح الباب ( دروازہ کھولنا ) اور فتح القفل ( قفل کھولنا ) اور فتح المتاع ( اسباب کھولنا قرآن میں ہے ؛وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔ وَلَوْ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ باباً مِنَ السَّماءِ [ الحجر/ 14] اور اگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ ان پر کھولتے ۔ دوم جس کا ادراک بصیرت سے ہو جیسے : فتح الھم ( یعنی ازالہ غم ) اس کی چند قسمیں ہیں (1) وہ جس کا تعلق دنیوی زندگی کے ساتھ ہوتا ہے جیسے مال وغیرہ دے کر غم وانددہ اور فقر و احتیاج کو زائل کردینا ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا نَسُوا ما ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ أَبْوابَ كُلِّ شَيْءٍ [ الأنعام/ 44] پھر جب انہوں ن اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی ۔ فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے ۔ یعنی ہر چیز کی فرادانی کردی ۔ نیز فرمایا : لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے ۔ یعنی انہیں ہر طرح سے آسودگی اور قارغ البالی کی نعمت سے نوازتے ۔ (2) علوم ومعارف کے دروازے کھولنا جیسے محاورہ ہے ۔ فلان فتح من العلم بابامغلقا فلاں نے طلم کا بندو دروازہ کھول دیا ۔ یعنی شہادت کو زائل کرکے ان کی وضاحت کردی ۔ اور آیت کریمہ :إِنَّا فَتَحْنا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً [ الفتح/ 1] ( اے محمد ) ہم نے تم کو فتح دی اور فتح صریح وصاف ۔ میں بعض نے کہا ہے یہ فتح کی طرف اشارہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ نہیں بلکہ اس سے علوم ومعارف ار ان ہدایات کے دروازے کھولنا مراد ہے جو کہ ثواب اور مقامات محمودہ تک پہچنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور آنحضرت کیلئے غفران ذنوب کا سبب ہے ۔ الفاتحۃ ہر چیز کے مبدء کو کہاجاتا ہے جس کے ذریعہ اس کے مابعد کو شروع کیا جائے اسی وجہ سے سورة فاتحہ کو فاتحۃ الکتاب کہاجاتا ہے ۔ افتح فلان کذ افلاں نے یہ کام شروع کیا فتح علیہ کذا کسی کو کوئی بات بتانا اور اس پر اسے ظاہر کردینا قرآن میں ہے : أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِما فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ [ البقرة/ 76] جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے وہ تم ان کو ۔۔۔ بتائے دیتے ہو ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ [ فاطر/ 2] جو لوگوں کیلئے ۔۔ کھولدے فتح القضیۃ فتاحا یعنی اس نے معاملے کا فیصلہ کردیا اور اس سے مشکل اور پیچیدگی کو دور کردیا ۔ قرآن میں ہے ؛ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنا وَبَيْنَ قَوْمِنا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفاتِحِينَ [ الأعراف/ 89] اے ہمارے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔ اسی سے الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ [ سبأ/ 26] ہے یعن خوب فیصلہ کرنے والا اور جاننے والا یہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ سے ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( الوافر) (335) وانی من فتاحتکم غنی اور میں تمہارے فیصلہ سے بےنیاز ہوں ۔ بعض نے نزدیک فتاحۃ فا کے ضمہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ صحیح ہے اور آیت کریمہ : إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچیں اور فتح حاصل ہوگئی ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الفتح سے نصرت ، کامیابی اور حکم مراد ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ علوم ومعارف کے دروازے کھول دینا مراد ہو ۔ اسی معنی ہیں میں فرمایا : نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( یعنی تمہیں ) خدا کی طرف سے مدد ( نصیب ہوگی ) اور فتح عنقریب ( ہوگی ) فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] تو قریب ہے خدا فتح بھیجے وَيَقُولُونَ مَتى هذَا الْفَتْحُ [ السجدة/ 28] اور کہتے ہیں ۔۔۔ یہ فیصلہ کب ہوگا ۔ قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ [ السجدة/ 29] کہدو کہ فیصلے کے دن ۔۔۔ یعنی حکم اور فیصلے کے دن بعض نے کہا ہے کہ الفتح سے قیامت بپا کرکے ان کے شک وشبہ کو زائل کرے کا دن مراد ہے اور بعض نے یوم عذاب مراد لیا ہے ۔ جسے وہ طلب کیا کرتے تھے مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] بلا شبہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔
فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟ قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔ اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔ اگر ایک شخص یہ کہتا ہے کہ ” فلاں شہر فتح ہوگیا۔ “ تو اس سے یہی مفہوم اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ فتح غلبہ اور بالادستی کی بنا پر حاصل ہوئی ہے۔ صلح کی بنا پر حاصل نہیں ہوئی۔ سلسلہ تلاوت میں قول باری (وینصرک اللہ نصرا عزیزا۔ اور تاکہ اللہ آپ کو زبردست غلبہ عطا کرے) بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ مکہ میں غلبہ اور بالا دستی کے تحت داخل ہوئے تھے اور آیت میں فتح مکہ ہی مراد ہے۔ اس پر قول باری (اذا جآء نصر اللہ والفتح جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے) بھی دلالت کرتا ہے ۔ اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ آیت میں فتح مکہ مراد ہے۔ بزور شمشیر فتح پر قول باری (انا فتحنالک فتحا مبینا) کے علاوہ قول باری (ھوالذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین۔ اس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکون نازل کیا) کا اس واقعہ کے سیاق میں ذکر ہونا بھی دال ہے۔ کیونکہ ایمان کے ذریعے نفس کو سکون حاصل ہونے کے معنی یہی ہیں کہ اہل ایمان کو جو بصیرتیں حاصل ہونی تھیں ان کے سہارے وہ دین کے دفاع میں لڑتے رہے یہاں تک کہ وہ وقت بھی آگیا جب انہوں نے مکہ فتح کرلیا۔
ہم نے آپ کو واضح فتح دی اور صلح حدیبیہ بھی اسی میں سے ہے یا یہ کہ ہم نے آپ کے لیے واضح فیصلہ کردیا یہ کہ ہم نے آپ کو اسلام اور نبوت کے ذریعہ سرفرازی عطا فرمائی اور مخلوق کو بھی اس طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔
آیت ١ { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا } ” یقینا ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔ “
1 When after the treaty of Hudaibiyah this good news of the victory was announced, the people wondered as to how the treaty could be called a victory. The Muslims did believe in this Divine Revelation as true on the basis of their Faith, but no one could understand what aspect of the victory it had. On hearing this verse, Hadrat 'Umar asked: "Is it a victory, O Messenger of Allah?" The Holy Prophet replied: "Yes." (lbn Jarir) Another Companion came before the Holy Prophet and he also put the same question; whereupon the Holy Prophet replied: "By Him in Whose hand is the life of Muhammad, this indeed is a victory." (Musnad Ahmad, Abu Da'ud) On arriving at Madinah still another person said to his companions: "What sort of a victory is it? We were debarred from the House of Allah; our sacrificial camels also could not go to their right places; the Holy Messenger of Allah had to halt at Hudaibiyah, and in consequence of this truce two of our oppressed brothers (Abu Jandal and Abu Basir) were handed over to their oppressors." When this thing reached the Holy Prophet, he said; "A vary wrong thing has been uttered: it indeed is a great victory. You reached the very home of the polytheists, and they had to persuade you to go back by soliciting you to perform 'Umrah the following year; they themselves expressed the desire to suspend hostilities and have peace with you, whereas-their malice and enmity against you is too well-known. Allah has granted you the upper hand over them. Have you forgotten the day when you were fleeing from Uhud and I was calling you back from behind? Have you forgotten the day when the enemy had descended on us from every side in the Battle of the Trench and the hearts were coming up to the throats?" (Baihaqi on the authority of 'Urwah bin Zubair) . But not long after this the truce's being a victory began to become manifest, and everyone realized that the triumph of Islam had begun with the treaty of Hudaibiyah. Almost one and the same thing has been related from Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud, Hadrat Jabir bin `Abdullah and Hadrat Bara' bin 'Azib. They are reported to have said: "The people look upon the Conquest of Makkah as the victory, but we regard the truce of Hudaibiyah as the real victory." (Bukhari, Muslim, Musnad Ahmad, Ibn Jarir).
سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :1 صلح حدیبیہ کے بعد جب فتح کا یہ مژدہ سنایا گیا تو لوگ حیران تھے کہ آخر اس صلح کو فتح کیسے کہا جاسکتا ہے ۔ ایمان کی بنا پر اللہ تعالی کے ارشاد کو مان لینے کی بات تو دوسری تھی ۔ مگر اس کے فتح ہونے کا پہلو کسی کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سن کر پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ فتح ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ( ابن جریر ) ۔ ایک اور صحابی حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی یہی سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا ای والذی نفس محمد بیدہ انہ لفتح ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، یقینا یہ فتح ہے ( مسند احمد ۔ ابوداؤد ) ۔ مدینہ پہنچ کر ایک اور صاحب نے اپنے ساتھیوں سے کہا یہ کیسی فتح ہے؟ ہم بیت اللہ جانے سےروک دیے گئے ، ہماری قربانی کے اونٹ بھی آگے نہ جا سکے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو حدیبیہ ہی میں رک جانا پڑا ، اور اس صلح کی بدولت ہمارے دو مظلوم بھائیوں ( ابو جندل اور ابو بصیر ) کو ظالموں کے حوالہ کر دیا گیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا بڑی غلط بات کہی گئی ہے یہ ۔ حقیقت میں تو یہ بہت بڑی فتح ہے ۔ تم مشرکوں کے عین گھر پر پہنچ گئے اور انہوں نے آئندہ سال عمرہ کرنے کی درخواست کر کے تمہیں واپس جانے پر راضی کیا ۔ انہوں نے تم سےخود جنگ بند کر دینے اور صلح کر لینے کی خواہش کی حالانکہ ان کے دلوں میں تمہارے لیے جیسا کچھ بغض ہے وہ معلوم ہے ۔ اللہ نے تم کو ان پر غلبہ عطا کر دیا ہے ۔ کیا وہ دن بھول گئے جب احد میں تم بھاگے جا رہے تھے اور میں تمہیں پیچھے سے پکار رہا تھا ؟ کیا وہ دن بھول گئے جب جنگ احزاب میں ہر طرف سے دشمن چڑھ آئے تھے اور کلیجے منہ کو آ رہے تھے ؟ ( بیہقی بروایت عروہ بن زبیر ) ۔ مگر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کی اس صلح کا فتح ہونا بالکل عیاں ہوتا چلا گیا اور ہر خاص و عام پر یہ بات پوری طرح کھل گئی کہ فی الواقع اسلام کی فتح کا آغاز صلح حدیبیہ ہی سے ہوا تھا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت جابر بن عبداللہ ، اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہم ، تینوں حضرات سے قریب قریب ایک ہی معنی میں یہ قول منقول ہوا ہے کہ لوگ فتح مکہ کو فتح کہتے ہیں ، حالانکہ ہم اصل فتح حدیبیہ کو سمجھتے ہیں ( بخاری ، مسلم ، مسند احمد ، ابن جریر ) ۔
1: صحیح روایات کے مطابق یہ آیت صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی تھی جس کا واقعہ سورت کے تعارف میں گذر چکا ہے۔ اگرچہ بظاہر صلح کی شرائط ایسی نظر نہیں آ رہی تھیں۔ جنہیں ’’ کھلی ہوئی فتح‘‘ کہا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ جن حالات میں یہ صلح ہوئی ہے، ان میں یہ ایک بڑی اور کھلی ہوئی فتح کا پیش خیمہ ہے، اور آخر کار اسی کے نتیجے میں مکہ مکرمہ فتح ہوگا۔
جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ ١ ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ پر قائم نہیں رہے تو آپ نے دس ہزار صحابہ کی جمعیت سے مکہ پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہوگیا حاصل کلام یہ ہے کہ یہ سورة اگرچہ صلح حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے نازل ہوئی ہے لیکن فتح مکہ سے دو برس پہلے اس سورة میں فتح مکہ کی خوش خبری ہے۔ اس واسطے صحیح بخاری ٢ ؎ و صحیح مسلم میں عبد اللہ بن مغفل وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح مکہ کے دن بڑی خوش آوازی سے اونٹنی پر سوار ہو کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورة کو پڑھا اور اس سورة کے نازل ہونے کے وقت صلح حدیبیہ کے باب میں جب حضرت عمر (علیہ السلام) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ کیا حضرت یہ صلح فتح ہے تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ ہاں ‘ اس صلح کے وقت ابوجندل صحابی کا قصہ ایسا پیش آیا کہ جس وقت یہ قصہ پیش آیا تھا اس وقت بھی مسلمانوں کے دل ہل گئے تھے اور اب بھی اس قصہ کے ذکر سے ہر مسلمان کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں پوری تفصیل اس قصہ کی تو حدیث کی کتابوں میں ہے مگر صاحل اس قصہ کا یہ ہے ١ ؎ کہ ابو جندل کے اسلام لانے اور ہجرت کا ارادہ کرنے کے سبب سے ابوجندل کے باپ سہل بن عمرو نے ابو جندل کے پیروں میں بیڑیاں ڈال کر ابو جندل کو قید کر رکھا تھا قریش کی طرف سے جب سہل بن عمرو ابو جندل کے باپ صلح نامہ لکھوانے کے لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حدیبیہ میں آئے تو ابو جندل نے بیڑیوں کی حالت میں ہی کسی طرح سے اپنے آپ کو مسلمانوں کے لشکر میں پہنچا کر مسلمانوں سے فریاد کی کہ مشرکوں کی ایذا سے ان کو چھوڑایا جائے لیکن صلح نامہ میں یہ شرط تھی کہ قریش میں کا جو شخص مسلمانوں میں آئے گا وہ واپس کیا جائے گا اس شرط کے موافق اسی حال میں آنحضرت نے ابو جندل کو ان کے باپ سہل کے حوالہ کیا اور اس وقت صحابہ پر جو حالت گزری وہ بیان سے باہر ہے اسی صلح کے سفر میں حدیبیہ کے سوکھے ہوئے کنویں کا پانی بڑھ جانے کا معجزہ ظہور میں آیا ہے ٢ ؎ اور اس بیعت الرضوان کا سبب یہی تھا کہ آنحضرت نے حضرت عثمان کو قریش نے شہید کر ڈالا اس خبر سے آنحضرت نے صحابہ سے قریش کی لڑائی پر بیعت لی اور حضرت عثمان (رض) کی طرف سے خود اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا یہ عثمان (رض) کی بیعت ٣ ؎ ہے جو سورتیں ہجرت کے وقت نازل ہوئی ہیں وہ مدنی کہلاتی ہیں اس واسطے حضرت عبد اللہ بن ٤ ؎ عباس سے اس سورة کے مدنی ہونے کی روایت بیہقی وغیرہ میں ہے۔ ورنہ صحیح ٥ ؎ مسلم کی انس (رض) بن مالک کی روایت کے موافق یہ سورة حدیبیہ کے واپس ہونے کے وقت راستہ میں نازل ہوئی ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے اس حدیبیہ کے معاملہ کی ظاہر صورت اگرچہ صلح کی ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک بہت بڑی فتح ہے جس کا نتیجہ تم کو اور تمہارے ساتھ کے مسلمانوں کو آئندہ معلوم ہوجائے گا ‘ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے اس صلح کے وقت مسلمانوں کی فوج ٦ ؎ چودہ ہزار کے قریب ہوگئی۔ جس کے مقابلہ سے اہل مکہ عاجز آگئے اور آسانی سے مکہ فتح ہوگیا جس طرح یہ صلح فتح مکہ کی نشانی تھی اسی طرح فتح مکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی نشانی تھے چناچہ اذا جاء نصر اللہ والفتح میں اس کا ذکر آئے گا اس لئے اس صلح کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خوش خبری سنا دی کہ فتح مکہ کے بعد بطور شکر یہ کے کثرت سے استغفار کرنے کا جو حکم تم کو ہونے والا ہے اس کے موافق عمل کرنے سے اے رسول اللہ کے تمہارے آخری حصہ عمر کے سب گناہ اور اس سے پہلے کے سب گناہ معاف کر دے گا تاکہ تم سے جو کچھ بھول چوک ہوئی ہے اس کو یاد کرکے قیامت کے دن شفاعت کبریٰ کو اپنے ذمہ لینے میں اور انبیا کی طرح تمہیں کچھ پس و پیش نہ ہو۔ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ میدان محشر میں گرمی اور پسینہ کی تکلیف سے جب لوگ گھبرائیں گے تو آدم (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب انبیاء سے یہ التجا کریں گے کہ وہ لوگوں کا حساب و کتاب جلدی شروع ہوجانے کی سفارش بارگاہ الٰہی میں کریں لیکن سب انبیاء اپنی اپنی بھول چوک کو یاد کرکے اس سفارش کی جرأت نہ کریں گے ‘ آخر یہ سب اہل محشر خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اور انبیاء تو اپنی اپنی بھول چوک یاد کرکے اس کی ندامت سے اللہ تعالیٰ کے رو برو جانے اور ہماری سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرتے آپ کے اگلی پچھلی سب بھول چوک اللہ تعالیٰ نے معاف کردی ہے آپ ہی ہماری سفارش کریئے یہ سن کر آپ سفارش کریں گے اور آپ کی سفارش مقبول ہو کر حساب و کتاب شروع ہوجائے گا ‘ یہ سفارش تمام اہل محشر کے حق میں ہوگی اور گناہ گاروں کو دوزخ سے نکالنے کی سفارش فقط امت محمدیہ (رض) کے گناہ گاروں کے حق میں ہوگی اس واسطے اس سفارش کو سفارش کبریٰ کہتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اگلے پچھلے گناہوں کے معاف کردینے کا جو احسان اللہ تعالیٰ نے جتلایا ہے اس کے سبب سے تمام اہل محشر میں جو عزت اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاصل ہوگی اس کا حال اس حدیث سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے۔ صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ (رض) بن شعبہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تہجد کی نماز میں یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم ہوجاتا تھا۔ صحیح ٣ ؎ بخاری وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر روز ستر دفعہ سے زیادہ توبہ استفغار کیا کرتے تھے ‘ کثرت عبادت اور کثرت استغفار کے حکم کی تعمیل جس کوشش سے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے اس کا حال ان حدیثوں سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے آگے فرمایا کہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ اور خیبر وغیرہ کا سامان اللہ تعالیٰ نے اپنی زبردست مدد سے اس لئے کردیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے احسان کو پورا کر دے اور ان فتوحات کے سبب سے مخالف لوگوں کی شرارت کم ہو کر اللہ کے دین پر تمہاری اور مسلمان کی ثابت قدمی بڑھ جائے پھر فرمایا اس صلح کی بعض شرطوں کو اگرچہ مسلمان مضر جان کر انہیں نہیں ماننا چاہتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسا تحمل پیدا کردیا جس سے ان شرطوں کو انہوں نے مان لیا اور جب اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ان شرطوں کی فائدے ان کو نظرآئے تو اللہ کی قدرت پر ان کا ایمان بڑھ گیا ‘ پھر فرمایا اللہ کے حکم میں تو آسمان اور زمین میں کے ایسے لشکر ہیں کہ پچھلی امتوں کی طرح ان مخالف اسلام لوگوں کو جس طرح چاہے ہلاک کر دے لیکن علم الٰہی میں یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ فرمانبردار لوگوں کو دین کی لڑائی کے سبب سے بڑا اجر ملنے والا ہے اس لئے اس نے اپنی حکمت کے موافق صلح کی جگہ اور لڑائی کی جگہ سب باتیں مقرر کردی ہیں جن کی ہدایت اللہ کے رسول کی معرفت فرمانبردار لوگوں کو پہنچتی ہے اور اس ہدایت پر چلنا عین فرمانبرداری ہے اور فرمانبردار مرد اور عورتوں کا بدلہ ان کے گناہوں کو معاف کرکے جنت میں داخل کردینا ہے جو نیک لوگوں کے دنیا میں پیدا ہونے کا بڑا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان لوگوں کے لئے یہی بڑی کامیابی ہے ‘ پھر فرمایا جس طرح فرمانبرداری نیک لوگوں کے جنت میں جانے کا سبب ہے اس طرح کفر اور نفاق اللہ کے غضہ اور اس کی رحمت سے دور ہونے اور دوزخ میں جانے کا سبب ہے جو بہت بڑا ٹھکانہ ہے اور یہ لوگ تو اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے حق میں برائی سوچتے تھے کہ یہ حدیبیہ کے سفر سے صحیح و سلامت الٹے نہ پھریں گے لیکن اس برائی نے ان ہی لوگوں کو دنیا اور عقبیٰ کے چکر میں ڈال دیا دنیا میں تو یہ لوگ مسلمانوں کی ترقی دیکھ کر جلتے رہیں گے اور عقبیٰ میں ان کا انجام وہی ہوگا جو بیان کیا گیا پھر اللہ تعالیٰ اپنے نافرمان بردار بندوں سے بدلہ لینے میں بڑا زبردست ہے اور اس کے لشکر بھی طرح طرح کے ہیں وہ چاہتا تو ان کافروں اور منافقوں سے اب تک بدلہ لے لیتا لیکن اس نے اپنی حکمت سے ہر کام کا وقت مقرر کر رکھا ہے وقت مقررہ پر یہ لوگ اپنی سزا کو پہنچ جائیں گے قیامت کے دن تمام رسولوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم نے جو اپنی امتوں کو اللہ کے احکام پہنچائے تو کتنے آدمیوں نے ان احکام کو مانا اور کتنے آدمیوں نے نہیں مانا چناچہ اس کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے اسی کو فرمایا انا ارسلنک شاھدا مبشرا کے معنی فرمانبردار لوگوں کو جنت کی خوشخبری سنانے والا نذیرا کے معنی نافرمان لوگوں کو دوزخ کے عذاب سے ڈرانے والا پھر فرمایا یہ خوش خبری اور ڈرانا اس لئے ہے کہ لوگ اللہ اور رسول کی باتوں کو دلی یقین سے مانیں اور رسول کی مدد اور توقیر میں اور اللہ کی عبادت میں لے رہیں جس بعیت رضوان کا اوپر ذکر تھا آگے اس بعیت کا ذکر فرمایا اور اللہ کے رسول جو کام کرتے تھے وہ اللہ کے حکم کے موافق ہوتا تھا اس واسطے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے رسول سے بیعت کر رہے ہیں ان کی بیعت گویا اللہ سے ہے پھر فرمایا جو کوئی اس بیعت کے معاہدہ کو توڑے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا تو اس کو اللہ تعالیٰ بڑا اجر دے گا ‘ جن مفسروں نے اپنی تفسیروں کی بنیاد سلف کے اقوال پر رکھی ہے ید اللہ کی تفسیر اللہ کے علم پر سونپتے ہیں اور بلامشابہت مخلوقات کے اس طرح کی آیتوں کے ظاہری معنوں پر ایمان لاتے ہیں۔ (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٧٦ ج ٦۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب ابن رکز النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الرایۃ یوم الفتح ص ٦١٤ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب صلح الحدیبیۃ ص ١٠٦ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری باب الشروط فی الجھاد ص ٣٧٧ ج ١۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب غزوۃ الحدیبیۃ ص ٥٩٨ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح بخاری باب مناقب عثمان (رض) ص ٥٢٣ ج ١۔ ) (٤ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٦٧ ج ٦۔ ) (٥ ؎ صحیح مسلم باب صلح الحدیبیۃ ص ١٠٦ ج ٢۔ ) (٦ ؎ صحیح بخاری باب غزوۃ الحدیبیۃ ص ٥٩٨ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة بنی اسرائیل ص ٦٨٤ ج ٢ و صحیح مسلم باب اثبات الشفاعۃ ص ١١١ ج ١۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة انا فتحنالک الایۃ ص ٧١٦ ج ٢ و مسلم باب اکثار الاعمال الخ ص ٣٧٧ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح بخاری باب استغفار النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی الیوم واللیلۃ ص ٩٣٣ ج ٢۔ )
(48:1) انا۔ بیشک ہم۔ حرف مشبہ بالفعل ہے۔ ان اور ضمری جمع متکلم نا سے مرکب ہے۔ تحقیق ہم۔ فتحنا : ماضی جمع متکلم فتح (باب فتح) مصدر۔ ہم نے کھولا۔ ہم نے فتح دی ۔ الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں اور یہ ازالہ دو قسم پر ہے :۔ (1) جس کا آنکھ سے ادراک ہوسکے۔ جیسے فتح الباب : اس نے دروازہ کھولا اور جیسے فلما فتحوا متاعھم (12:65) اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا۔ (2) جس کا ادراک بصیرت سے ہو۔ جیسے فتح الہم (یعنی ازالہ غم، اس کی بھی چند قسمیں ہیں :۔ (ا) ایک وہ جس کا تعلق دنیوی زندگی سے ہو۔ جیسے مال وغیرہ دے کر غم و اندوہ اور فقر و فاقہ و احتیاج کو زائل کرنا جیسے کہ قرآن مجید میں ہے فلما نسوا ما ذکروا بہ فتحنا علیہم ابواب کل شیء (6:44) پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو دی گئی تھی فراموش کردیا۔ تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے۔ یعنی ہر چیز کی فراوانی کردی۔ (ب) علوم و معارف کے دروازے کھولنا۔ جیسا کہ آیۃ زیر مطالعہ کہ بعض نے کہا ہے یہ فتح مکہ اور صلح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور بعض نے کہا کہ نہیں بلکہ اس سے علوم و معارف اور ان ہدایات کے دروازے کھولنا مراد ہے جو کہ ثواب اور مقامات محمود تک پہنچنے کا ذریعہ بنتے ہیں الفتح کا استعمال اور کئی معانی میں آتا ہے۔ یہاں اتنا ہی کافی ہے۔ فتحا مبینا : موصوف و صفت مل کر فتحنا کا مفعول۔ ایک ظاہر اور کھلی و صریح فتح۔
آیات ١ تا ١٠۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی مختصرواقعہ حدیبیہ۔ یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن ٦ ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ فتح مکہ کا دن وہ سمجھتے ہیں جب وہاں مسلمانوں کا قبضہ ہوا جب کہ ہم یوم حدیبیہ کو فتح مکہ کا دن سمجھتے ہیں آپ کے ہم رکاب اکثر روایات کے مطابق چودہ سو صحابہ کرام تھے اور تلواروں کے علاوہ کوئی اسلحہ وغیرہ نہ تھا قربانی کے جانور بھی تھے اور ذوالحلیفہ سے احرام باند لیے گئے وہاں آج کل ایک خوبصورت مسجد ہے جب اہل مکہ کو خبر ہوئی تو انہوں نے یہ مشورہ کیا کہ اگر آپ نے صحابہ کرام کے ہمراہ عمرہ ادا فرمایا تو اہل عرب می ہماری سبکی ہوگی اور لوگ جانیں گے وہ ہم پر غالب آگئے لہذا نہیں روکنا چاہیے ، انہوں نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور حد حرم سے باہر پڑاؤ ڈال دیے کہ حد حرم میں داخل نہیں ہونے دیں گے ۔ طائف کا قبیلہ بنوثقیف بھی ساتھ مل گیا اور اہل مکہ کے سالار حضرت خالد تھے جو اس وقت تک اسلام نہ لائے تھے چناچہ جب آپ مقام حدیبیہ پر پہنچے تو روکا گیا آپ نے عباد بن بشیر کو ایک دستہ دے کر کفار کے مقابلے میں صف بندی کا حکم دیا۔ صلوۃ الخوف۔ دریں اثنا ظہر کا وقت ہوگیا آپ نے امامت فرمائی اور تمام صحابہ نے ظہر ادا کی اہل مکہ دیکھتے رہے جب فارغ ہوگئے تو حضرت خالد نے کہا ہم نے موقع کھودیا مگر خیرا بھی ان کی دوسری نماز کا وقت ہوجائے گا جب یہ سارے سجدے میں ہوں تو ٹوٹ پڑنا چاہیے مگر اسی آن صلوۃ الخوف کا حکم نازل ہوگیا ایسی صورت میں لشکر کو دوحصوں میں بانٹ کرہرحصہ کو دودورکعت پڑھنے کو مل جایا کرے ۔ معجزہ۔ وہاں پر آپ کا یہ معجزہ بھی صادر ہوا کہ پانی پر کفار قابض تھے اور جہاں مسلمان تھے وہاں ایک ایسا کنواں تھا جس میں بہت معمولی ساپانی رستا تھا آپ نے اس میں کلی کرکے ڈال دی اور فرمایا میرایہ تیر اس میں گاڑ دو ۔ اس قدر پانی آیا کہ لبالب بھرگیا اور لوگوں نے اوپر بیٹھ کر برتن بھرے یہاں بات چیت شروع ہوئی اہل مکہ کا وفد بیل بن ورقاء جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے کی سرگردتی میں حاضر ہوا کہ قریش آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے لہذا آپ واپس ہوجائیں تو یہ جنگ ٹل سکتی ہے آپ نے فرمایا ہم جنگ کے ارادے سے تو نہیں آئے عمرہ ادا کرنے آئے ہیں اب اگر کوئی زبردستی روکے گا توجنگ ہوگی کہ حرم کا داخلہ تو سب کے لیے ہے اور قریش کو تو ان جنگوں نے کمزور کردیا ہے وہ چاہیں تو ایک مدت تک ہمارے ساتھ صلح کرلیں اور ہمیں اہل عرب کے لیے چھوڑ دیں اگر وہ ہم پر غالب آگئے تو ان کا مقصد پورا ہوا اور اگر ہم اہل عرب پر غالب آگئے تو انہیں تیاری کا وقت مل جائے گا پھر جو چا ہیں کریں اسلام لائیں یا جنگ کریں۔ انہوں نے واپس جاکر بات کی تو لوگ سننے کو تیار نہ تھے تب بنوثقیف کے سردار عمروہ بن مسعود ثقفی نے سنا توکہایہ بات درست ہے مجھے جانے دو میں بات کرکے آتا ہوں آپ بھی آئے اور عرض کیا کہ آپ نے قریش کو تباہ ہی کردیا تو یہ اچھی بات نہ ہوگی کبھی دنیا میں کسی نے اپنی قوم کو تباہ نہیں کیا ، صحابہ کرام سے گرمی سردی بھی ہوئی دریں اثنا وہ حالات کا مشاہدہ کرتے رہے کہ آپ تھوکیں تو بھی صحابہ ہاتھ پر لیتے اور منہ پر مل لیتے ہیں آپ نے وضو کیا تو لوگوں نے پانی نیچے گرنے نہ دیا اور پانی لے کرچہروں پر ملتے رہے آپ بولتے رہے تو سب خاموش ہوجاتے تو انہوں نے بھی پلٹ کر اہل مکہ سے کہا کہ میں نے روم اور زنجبار کے شاہنشاہوں کے دربار دیکھے مگر ایسی عزت محبت اور جان نثاری وہاں نظر نہیں آئی وہ لوگ احرام میں ہیں قربانی کے جانور ساتھ ہیں انہیں عمرہ کرلینے دو مگر قریش نہ مانے تو وہ الگ ہوکرچلے گئے اس طرح سے سفارت چلتی رہی دریں اثنا نبی (علیہ السلام) نے حضرت عثمان کو مکہ مکرمہ میں سرداروں کے پاس بات کرنے کو روانہ فرمایا اور ساتھ ان مسلمانوں کو تسلی دینے کا حکم دیا جو مجبوری ومعذوری کے باعث ہجرت نہ کرسکتے تھے آپ لشکر کفار کے پاس پہنچے توبنوسعید کے امان بن سعید نے جو بعد میں مسلمان ہوئے پناہ میں لے کر مکہ مکرمہ پہنچایا آپ ایک ایک سردار سے ملے اور وہی بات دہرائی مسلمان سے ملاقات کرکے تسلی آپ تین رات مکہ مکرمہ میں رہے قریش نے کہا آپ طواف کرسکتے ہیں مگر انہوں نے فرمایا رسول اللہ نہ کریں تو عثمان طواف نہ کرے گا۔ دریں اثنا قریش نے ستر کے قریب آدمی گھات لگانے کو بھیجے جنہیں صحابہ کرام نے گرفتار کرلیا اور اس کے بعد ایک چھوٹی سی جھڑپ بھی ہوئی اہل مکہ نے حضرت عثمان کو اور چند مسلمانوں کو جو وہاں پہنچ گئے تھے روک لیا اور مشہور ہوگیا کہ حضرت عثمان شہید کردیے گئے تو آپ نے صحابہ کرام کو جمع فرما کر موت پر بیعت لی کہ جنگ کی صورت میں موت تک سب لڑیں گے اگر ایک آدمی رہ گیا تو وہ بھی ہتھیار نہ ڈالے گا۔ اور حضرت عثمان کو اس میں شامل فرمایا کہ اپناہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے اہل مکہ مرعوب ہوگئے اور مشورہ کیا کہ اگر آپ اس حال میں واپس جائیں کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ ہمارے روکے نہ رکے تو اگلے سال تشریف لاکرعمرہ کریں اور تین روز مکہ میں گزار دیں چناچہ سہیل بن عمرویہ پیغام لے کر حاضر ہوئے اور کافی بات چیت کے بعد اپ نے معاہدہ منظور فرمالیا اور لکھاجانے لگا کہ حضرت علی لکھنے لگے آپ نے فرمایا لکھو ، بسم اللہ الرحمن الرحیم ، توسہیل نے عرض کیا کہ ہم ان کلمات کو نہیں جانتے آپ وہی لکھیں جو پہلے لکھاجاتا تھا ، باسمک اللھم۔ آپ نے مان لیا تو آپ نے فرمایا لکھو یہ وہ معاہدہ ہے جو محمدرسول اللہ نے کیا اس پر بھی وہ کہنے لگے آپ محمد بن عبداللہ لکھیں کہ ہم آپ کو رسول مان لیں تو جھگڑا کس بات کا آپ نے فرمایا مٹا کر اس طرح لکھ دو تو حضرت علی سراپا احتجاج بن گئے کہ میں آپ کا نام نامی کیسے مٹاسکتا ہوں۔ تو ایک اور معجزہ ظاہر ہوا۔ دوانصاری جوانوں نے بھی حضرت علی کا ہاتھ پکڑ لیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امی تھے ، کچھ لکھنا پڑھان نہ جانتے تھے مگر کاغذ لے لیا اور اس پر لکھ دیا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ معاہدہ محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان ہے دس سال باہم جنگ نہ کریں گے اور سب لوگ مامون رہیں گے اور ایک دوسرے پر چڑھائی اور جنگ سے رک جائیں گے ۔ پھر مزید شرائط رکھیں گئی کہ آپ یہاں سے واپس جائیں اگلے سال تشریف لائیں نیز ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر کوئی کفار میں سے ولی کی اجازت کے بغیر مسلمانوں کے پاس جائے خواہ مسلمان ہوکر بھی تو واپس کیا جائے گا جبکہ اگر کوئی مسلمان اہل مکہ کے پاس آگیا تو یہ واپس نہ کریں گے۔ نیز اہل مکہ کے علاوہ سب عرب آزاد ہیں جس کا جی چاہے اہل مکہ کے عہد میں داخل ہو اور جو چاہے وہ مسلمانوں اور نبی کریم کے عہد میں داخل ہو۔ شرائط صلح بظاہر ایسی تھی کہ جیسے مسلمانوں نے بہت دب کر صلح کی ہو صحابہ کرام اور خصوصا حضرت عمر کو بہت رنج ہوا آپ سے گذارش کی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے آپ نے خواب بھی دیکھا اور وہ پورا نہ ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک میں اللہ کا رسول ہوں میرا خواب بھی ضرور پورا ہوگا اس کا یہ وقت تو میں نے نہیں فرمایا تھا نیز اللہ مجھے ضائع نہیں فرمائے گا میں نے اسی کے حکم پر کیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے پابندی کا اظہار۔ دریں اثنا ابوجندل جو اسی سہیل کے بیٹے تھے اور مسلمان ہوچکے تھے مگر اس نے قید کر رکھے تھے اور ایذادیتا تھا بھاگ کر وہاں پہنچ گئے مسلمانوں نے پناہ میں لے لیے مگر آپ نے فرمایا ابوجندل چندے صبر کرو اللہ تمہارے لیے اور دوسرے مسلمانوں کے لیے بہت جلد راستہ کھولنے والے ہیں اور واپس کردیا۔ معاہدہ پر دستخط ہوگئے حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، عبدالرحمن بن عوف ، عبداللہ بن سہیل بن عمر ، سعد بن ابی وقاص ، محمد بن مسلمہ ، اور حضرت علی بن ابی طالب وغیرہ (رض) اجمعین نے دستخط کیے آپ نے اپناحلق کر ایاقربانی دی اور احرام کھول دیا چناچہ سب صحابہ نے ایسا ہی کیا اور واپسی شروع ہوئی راستے میں مسلمانوں کا کھانا ختم ہوگیا۔ ایک اور معجزے کا ظہور۔ مقام عسفان پر قیام ہوا آپ نے ایک دستر خوان بچھا کر حکم دیا کہ جو کچھ جس کے پاس بچا ہوا ہویہاں ڈال دے آپ نے دعا فرمائی اور سب کو کھانے کا حکم دیا تمام لشکر نے پیٹ بھر کر کھایا اور سارے برتن پھر سے بھرلیے مگر کھانا جوں کا توں موجود تھا ، اسی واپسی کے سفر میں سورة فتح نازل ہوئی ، آپ اس وقت کراع غمیم کے مقام پر تھے چناچہ صلح نامہ کی برکات کا ظہور ہوا آپ نے خیبر کے یہود سے نبٹ لیا جہاں سے غنیمت کے ساتھ بہترین اسلحہ بھی ہاتھ لگا اور کفر کی طاقت ٹوٹی ۔ بادشاہوں کو خطوط لکھے ۔ مسلمانوں کو کام کرنے کا موقع ملا اور لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہوئے اور دو سال کے اندراندر بہت زیادہ لوگ مسلمان ہوگئے نیز قریش سے اس کی خلاف ورزی ہوگئی جس کا واقعہ معروف ہے یہاں طوالت کے خوف سے نہیں دیاجارہا جو فتح مکہ کا سبب بن گئی اس روز آپ کے ہم رکاب دس ہزار کا لشکر جرار تھا جس کے ساتھ اہل مکہ لڑنے کا سوچ بھی نہ سکے اور یوں اس آیہ مبر کہ کی تعبیر پوری ہوئی کہ ارشاد ہوا ہم نے آپ کو بہت بڑی فتح سے سرفراز فرمایا اس لیے بھی کہ یہ صبر آزما لمحے آپ کے حوالہ سے مسلمانوں کی اگلی پچھلی لغزشوں کی معافی کا سبب بن گئے کہ انبیاء (علیہ السلام) تو معصوم ہوتے ہیں ہاں ترک اولی کو ان کی عظمت شان کے سبب خطا کہہ دیا جاتا ہے جس کی معافی کا اعلان فرمایا گیا۔ اتمام نعمت ریاست اسلامی کا قیام۔ نیز آپ کے طفیل یہ انعام مسلمانوں پر بھی ہوانیز تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی نعمت تمام کردے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت و رسالت تو پہلے سے عطا ہوئی اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابع اسلامی ریاست اور مضبوط ریاست جس میں آپ کی اور اسلام کی عزت ہی ہو قائم کردی جائے ۔ اور اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون و اطمینان نازل فرمایا تاکہ ان کے ایمانوں میں اور زیادتی ہو یعنی وہ اطاعت پیغمبر پر جم گئے۔ جنگ کا حکم ہوا تو بیعت کے لیے حاضر ہونے کا حکم ہواتوسرتسلیم خم کردیا اور یہ اطاعت ان کے لیے ایمان کی زیادتی کا سبب بن گئی ، ورنہ اللہ کو محض اہل مکہ کو تباہ کرنا ہی مقصود ہوتا تو آسمانوں اور زمینوں کے سب لشکر اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں کوئی عذاب بھی مسلط کردیتا مگر یہاں اہل ایمان پر کرم کرنا مطلوب تھا کہ اللہ ہر شے کا علم رکھنے والا ہے اور زبردست حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت تھی کہ اہل کفر خسارے میں رہے اور اہل ایمان پر جنت کے دروازے وا ہوئے تاکہ اہل ایمان مرد خواتین کو جنت میں داخل کرے جہاں نہریں جاری ہیں اور سدا بہار رہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان خطاؤں کو معاف فرما کر دور کردے درحقیقت اللہ کی بارگاہ میں یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور منافقین ومشرکین مردوزن کو رسوا کرے جو اللہ پر بری بری باتوں کا گمان رکھتے ہیں ان کی اس برائی کا عذاب ان ہی پر پڑے کہ ان پر اللہ کا غضب ہے اور انہیں اپنی رحمت سے محروم فرمادیا ہے اور ان کے لیے دوزخ کو بھڑکا رکھا ہے جو بہت ہی بری جگہ ہے۔ اللہ کے قبضہ قدرت میں تو آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں انہیں جب چاہے جیسے چاہے تباہ کردے مگر یہ اس کی حکمت ہے کہ مہلت دے رکھی ہے اور ہم نے آپ کو گواہ بناکربھیجا ہے کہ وہی عمل مقبول ہوگا جس کی آپ گواہی دیں گے یہ آپ ہی کا ارشاد تھا نیز آپ کی ذات خوش خبری سنانے والی ذات ہے۔ نیک اعمال پر نیک نتیجے کی اور گناہوں کے سخت نتائج سے بروقت آگاہ کرنے والی ہے۔ نیز آپ کا وجود باوجود اللہ کا وہ انعام ہے جس کے طفیل دوست ایمان تقسیم ہوتی ہے لہذا ایمان لاؤ اللہ پر کہ اللہ پر ایمان کا تقاضا رسول اللہ پر ایمان لانا ہے جو ایمان بااللہ کی بنیاد ہے کہ کسی نے اللہ کو کمانا بھی مگر رسول اللہ کو نہ مانا تو اس نے اللہ ہی کی بات کو جھٹلادیا تو پھر کیا مانا نیز خدمت میں کمربستہ رہو اور بہت زیادہ عظمت دو اللہ کو اس کے رسول کی خدمت وطاعت اور رسول اللہ کی عظمت ہی اس کی عظمت کا اظہار ہے۔ توفیق ذکر۔ نیز ہمہ وقت اس کا ذکر کرتے رہو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو ، ترتیب قرآن سے ظاہر ہے کہ مضبوط ایمان ویقین اور رسول اللہ کی خدمت میں جان ومال سے مدد کے لیے حاضر رہنا ، اور آپ کی عظمت کا دل میں موجود ہونا توفیق ذکر تسبیحات عطا کرتا ہے نیز جن لوگوں نے مقام حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی انہوں نے گویا اللہ سے بیعت کی اور ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے ۔ بیعت رضوان۔ یہ پہلے گذرچکا ہے کہ جہاں ذات باری تعالیٰ کے لیے ایسا وصف بیان ہو وہاں معنی بعید مراد ہوتا ہے یعنی جو اس کام کا نتیجہ ہو کہ ہاتھ میں ہاتھ ہونے سے واصل بااللہ ہونا اور ہمیشہ اللہ کی طرف سے مدد اور راہنمائی نصیب ہونا اور اس کی رضامندی کا حصول مراد ہے اسی لیے اس کو بیعت رضوان کا نام دیا گیا ہے ۔ بیعت ایک عہد ہے تعاون اور اتباع کا جس کے لیے ہاتھ میں ہاتھ دے کر عہد کیا جاتا ہے جو مسنون ہے مگر ضروری بھی نہیں کہ اس کے بغیر بھی عہد کرلیاجائے تو اس کی پاسداری ضروری ہے کہ اگر کوئی بیعت کرنے کے بعد اسے توڑے گا تو اس کا نقصان اس کی اپنی تباہی کی صورت میں ظاہر ہوگا رسول اللہ کا معاملہ میں توہرحال میں ظاہر ہے اور امیر یاشیخ سے بھی بیعت توڑنا آسان نہیں کوئی معقول شرعی وجہ چاہیے جو لوگ محض سنی سنائی باتوں پر بیعت توڑ لیتے ہیں یا دنیاوی لالچ یا اپنی بڑائی کی خاطر ایسا کرتے ہیں وہ ان کی روحانی تباہی کا سبب تو بن ہی جاتا ہے آخر دنیا میں بھی رسوا ہوتے ہیں اور جنہوں نے یہ عہد نبھایا اللہ انہیں بہت بڑے انعامات اور اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 3 : فتحنا (ہم نے فتح دی۔ ہم نے کھول دیا) ‘ فتحامبینا (کھلی فتح) یغفر ( وہ معاف کردیتا ہے) تقدم ( آگے بھیجا) ذنب (گناہ ۔ خطا) تاخر (پیچھے ہوا) ‘ یتم (وہ پورا کرتا ہے) ینصر ( وہ مدد کرتا ہے) ‘ نصرا عزیزا ( زبردست مدد ) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ میں یہ خواب دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام (رض) مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ آپ نے بیت اللہ کی کنجی لی اور صحابہ کرام (رض) سمیت آپ نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا یعنی عمرہ ادا کیا۔ پھر کچھ انہوں نے اپنے سرمنڈوائے اور کچھ نے تھوڑے سے با کٹوائے۔ صحابہ کرام (رض) جانتے تھے کہ انبیاکرام (علیہ السلام) کے خواب وحی کا درجہ رکھتے ہیں لہٰذا وہ اللہ کا اشارہ سمجھتے ہوئے بیت اللہ کی زیارت کے لئے بےتاب ہوگئے۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اسی سال عمرہ ادا کرنے کا فیصلہ فرمالیا۔ آس پاس کی بستیوں میں جب اہل ایمان کو اطلاع ہوئی تو وہ بھی اس سفر عبادت میں شرکت کیلئے تیارہو گئے۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام کی اس جماعت نے تیاریاں شروع کردیں۔ روانگی سے پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل فرمایا۔ احرام پہن کر اپنی جگہ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم (رض) کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ آپ ہر سفر میں کسی نہ کسی ام المومنین کو ساتھ لے لیا کرتے تھے چناچہ اس سفر میں حضرت ام سلمہ (رض) کو آپ نے ساتھ لے جانے کا فیصلہ فرمایا۔ اس طرح آ پمسافر انہ ہتھیار یعنی میان کے اندر بند تلواریں لے کر ” قصوائ “ اونٹنی پر سوار ہو کر یکم ذی قعدہ 6 ھ بروز پیر اپنے جان نثار صحابہ کرام (رض) کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے رخ پر چند میل کے فاصلے پر ذوالحلیفہ ہے وہاں آپ نے عرب کے اس وقت کے دستور کے مطابق ہدی (قربانی) کے جانوروں کو قلادے پہنائے۔ اونٹ کے کوہان چیر کر نشان بنائے اور عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوگئے جو اس بات کا عملی اعلان تھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام (رض) صرف بیت اللہ کی زیارت یعنی عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوگئے جو اس بات کا عملی اعلان تھا کہ آپ اور آپکے صحابہ کرام (رض) صرف بیت اللہ کی زیارت یعنی عمرہ کے لئے جارہے ہیں جنگ یا کسی پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں ہے ۔ مکہ مکرمہ چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا ایک شہر ہے۔ جب آپ نے اور صحابہ کرام (رض) نے حدود حرم کے بالکل قریب حدیبیہ کے مقام پر جس کو آج کل شمیسہ کہا جاتا ہے قیام فرمایا تو بعض روایات میں آتا ہے کہ کفار کو پتہ ہی نہیں چلا ۔ جب صبح کو کچھ چرواہوں نے مکہ مکرمہ کے قریب اتنے بڑے لشکر کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئے اور انہوں نے کفار کو پتہ ہی نہیں چلا۔ جب صبح کو کچھ چرواہوں نے مکہ مکرمہ کے قریب اتنے بڑے لشکر کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئے اور انہوں نے کفار مکہ کو اطلاع کی۔ کفار قریش اس صورتحال کو دیکھ کر بوکھلا گئے اور اس بدحواسی میں یہ سوچنے لگے کہ اب کیا کیا جائے کیونکہ کسی دوست یا دشمن کو بیت اللہ میں آنے سے روکنے کو گناہ سمجھا جاتا تھا۔ اگر روکتے تو ساری دنیا میں یہ بات پھیل جاتی کہ مکہ والوں نے مسلمانوں کو بیت اللہ کی زیارت سے روک کر ایک انتہائی غلط اور گناہ کی بات کی بات کی ہے اور اگر مسلمانوں کو اندر آنے دیتے ہیں تو اس سے کفار کا رعب ختم ہوجانے کا اندیشہ تھا اور دنیا بھر کے اور پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ جاتی کہ مسلمان مکہ میں داخل ہو کر واپس چلے گئے ہیں۔ اس کشمکش سے نکلنے کے لئے قریش مکہ نے ایک مجلس شوری منعقد کی۔ بعث و مباحثہ کے بعد یہ طے کیا گیا کہ جیسے بھی ممکن ہو مسلمانوں کو بیت اللہ سے دوررکھا جائے اور ایسے حالات پیدا کئے جائیں جن سے یہ ثابت ہوجائے کہ مسلمان چونکہ مکہ مکرمہ پر حملہ کی نیت سے آئے تھے اس لئے ان کو بیت اللہ کی زیارت سے روکا گیا۔ اس کے لئے انہوں نے متعدد حملے ‘ خفیہ سازشیں اور تدبیریں کیں لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بر وقت تدبیروں اور اقدامات نے ان کی ہر سازش کو ناکام کر کے رکھ دیا۔ جب کفار مکہ کی ہر تدبیر فیل ہوگئی اور انہوں نے حالات کی نزاکت کو اچھی طرح محسوس کرلیا تب انہوں نے یہ طے کیا کہ کسی طرح صلح کرلی جائے۔ چناچہ کفار قریش نے سہیل بن عمر و جو بہت تیز طرار اور ذہین آدمی تھے ان کو صلح کرنے پر مقرر کیا۔ کفار قریش نے سہیل بن عمرو کو اس بات کی تاکید کردی کہ صلح نامے میں ہر حال میں یے طے کیا جائے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ اس سال مدینہ منورہ واپس چلے جائیں اور آئندہ سال آکر عمرہ ادا کریں۔ اس وقت تین دین کے لئے مکہ کو خالی کردیا جائے گا تاکہ مسلمان سہولت سے عمرہ ادا کرسکیں۔ سہیل بن عمرو سے طویل گفتگو کے بعد آخر کار صلح کی شرائط کو طے کر لیا گیا۔ اس صلح کے معاہدے کی زیادہ ترشرائط وہ تھیں جو کفار قریش کی طرف سے پیش کی گئی تھیں آپ ان کی ہر شرظ کو مانتے چلے گئے۔ اس معاہدہ سے صحابہ کرام بہت حیران و پریشان اور دل برداشتہ ہوگئے۔ وہ اس تصور سے زیادہ پریشان تھے کہ جب ہم حق پر ہیں تو کفار سے اس قدر دب کر صلح کیوں کی جائے۔ اور بیت اللہ کے اس قدر قریب پہنچ کر بھی اس کی زیارت سے محروم کیوں رہیں لیکن صحابہ کرام جو مکمل اطاعت و فرماں برداری کا پیکر تھے وہ ان سب ناگواریوں کے باوجود خاموش تھے اور کوئی کسی قسم کا اجتماعی اختلاف نہ کیا البتہ انفرادی طور پر حضرت عمر فاروق (رض) کو خطاب کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ ” اے خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔ وہ میری مدد فرمائے گا اور مجھے ہرگز ضائع نہ کرے گا “۔ یہ سن کر حضرت عمر فاروق (رض) اور تمام صحابہ کرام (رض) سمجھ گئے کہ آپ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ اللہ کو منظور تھا۔ لیکن ہر ایک کے دل میں یہ حسرت ضرور تھی کہ ہم بیت اللہ کے قریب پہنچ کر بھی بیت اللہ کی زیارت سے محروم رہے اور صلح اگر آبرو مندانہ طریقے پر ہوتی تو ہمارے حق میں بہت اچھا ہوتا۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت کے دستور میں کے مطابق اپنے ہدی (قربانی) کے جانور ذبح کئے اور احرام کھول دیا تو صحابہ کرام (رض) نے بھی آپ کے عمل اور حکم کی تعمیل کی اور اس طرح بیت اللہ کی زیارت نہ کرنے کا غم لئے صحابہ کرام حدیبیہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ واپس جاتے ہوئے ابھی زیادہ فاصلہ طے نہ کیا تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سورة فتح کی یہ آیات نازل ہوئیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اس صلح اور معاہدہ کو فتح مبین یعنی ایسی کھلی فتح قرار دیا جس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہے ۔ اس رنج وغم کی حالت میں جب صحابہ کرام (رض) نے یہ سنا کہ اللہ نے اس کو فتح مبین قرار دیا ہے تو وہ یقین کے باوجود حیرت سے ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے کہ یہ کیسی فتح مبین ہے جس میں کفار کے حصے میں تو بہت کچھ آگیا ہے اور زبردست جنگوں کے فاتیح صحابہ کرام (رض) کے حصے میں ایک ایسی صلح کا پروانہ آیا ہے جو انکے نزدیک آبرو مندانہ معاہدہ نہ تھا۔ لیکن بعد کے حالات نے یہ ثابت کردکھایا کہ صلح حدیبیہ درحقیقت اسلام اور اہل ایمان کی زبردست فتح اور کامیابی تھی کیونکہ اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ دس سال تک مسلمانوں اور کفار قریش کے درمیان کوئی جنگ نہ ہوگی۔ اس ایک شرط سے دین اسلام کی تحریک کو زبردست فائدہ پہنچا اور اس جنگ بندی سے دین اسلام کے فروغ کے دروازے کھل گئے تھے کیونکہ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات ہونے کی وجہ سے دعوت کا عمل رک سا گیا تھا۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں فریقین کے درمیان تبادلہ خیال کی کھلی فضا میسر آگئی تھی۔ اس طرح اس معاہدہ نے مقابلے کے میدان کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ چونکہ دین اسلام ایک نظریاتی تحریک اور انقلاب کا نام ہے جس کے لئے امن و سلامتی کی فضا کا ہونا ضروری ہے اس لئے اس معاہدہ کی وجہ سے توحید کے نظریئے کو برتری حاصل ہوگئی تھی جس کو اللہ نے صراط مستقیم (سیدھاراستہ) فرمایا ہے۔ درحقیقت صلح حدیبیہ نے توحید کے علم برداروں کے لئے آئندہ کی فتوحات اور نظریاتی کامیابی کے دروازوں کو کھول دیا تھا اور یہی فتح مبین۔ اسی لئے صحابہ کرام (رض) نے فتح مکہ کے بجائے صلح حدیبیہ کو مسلمانوں کی زبردست فتح قراردیا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود (رض) اور بعض دوسرے جلیل القدر صحابہ کرام (رض) نے فرمایا ہے کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح سمجھتے ہیں۔ (ابن کثیر) صلح حدیبیہ دین اسلام کے فروغ اور ترقی کا سنگ میل ثابت ہوا چنانچہ (1) ۔ حضرت عمرو ابن العاص اور حضرت خالد بن ولید جیسے ماہر سپہ سالاروں کو ایمان لانے کی توفیق نصیب ہوئی جس سے اہل ایمان کے اندر زبردست اعتماد کی فضا پیداہوئی۔ (2) یہی وہ معاہدہ تھا جس کی برکت سے خیبر ‘ وادی القریٰ اور مکہ مکرمہ فتح ہوا۔ (3) اس معاہدہ کی وجہ سے کفار کی صفوں میں پھوٹ پڑگئی کیونکہ کفار قریش کے معاہدہ کی وجہ سے قبیلہ غطفان اور یہودیوں کے جذبات سرد پڑگئے اور اس طرح کفار کی طاقت بکھر کر رہ گئی۔ (4) مختصر سے عرصے میں نہ صرف مسلمان ریاست کی حدود مدینہ منورہ سے آگے بڑھ کر ملک شام تک پہنچ گئی تھیں بلکہ مسلمانوں کی تعداد اس قدر تیزی سے بڑھنا شروع ہوئی کہ اگر صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار تھی تو ڈیڑھ سال کے بعد فتح مکہ کے موقع پر صحابہ کرام (رض) کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ (5) آپ نے صلح حدیبیہ کے بعد دنیا بھرکے بادشاہوں ‘ امراء اور سربراہوں کو دین اسلام کی دعوت پیش کی جس کے عالمی سطح پر زبردست اثرات مرتب ہوئے۔ (6) اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کی تمام اگلی پچھلی کوتاہیوں کی معافی کا اعلان فرمادیا۔ نہ صرف اللہ نے ان کی کوتاہیوں اور لغزشوں سے در گذر فرمایا ہے بلکہ جو کچھ ظاہری ‘ باطنی ‘ جسمانی اور روحانی انعامات و احسانات ہیں ان کی تکمیل کا وعدہ فرمایا۔ (7) ساری دنیا کو بتادیا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہدایت و استقامت (صراط مستقیم) کے راستے پر گامزن ہیں۔ اب ہدایت و رہنمائی صرف آپ کے دامن سے وابستگی ہی میں مل سکتی ہے۔ (8) اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی طرف سے اہل ایمان کی ایسی مدد کی جائے گی جس کو نہ تو کوئی روک سکے گا اور نہ دباسکے گا۔ اللہ ان کو وہ طاقت و غلبہ عطا فرمائے گا جس سے ہر جگہ ان کو عزت ہی عزت ملے گی۔ یہ ہے وہ فتح مبین جو دین اسلام کے فروغ ‘ ترقی اور اہل ایمان کی عزت و سربلندی کا باعث بن گئی۔
8۔ آپ حدیبیہ سے مدینہ کو واپس تشریف لاتے تھے کہ راہ میں یہ سورت نازل ہوئی، کل یا اکثر علی اختلاف القولین اور سب واقعات (جن کی طرف اس سورة میں اشارہ ہے) ذیقعدہ 6 ھ میں واقع ہوئے۔ 9۔ یعنی صلح حدیبیہ سے یہ فائدہ ہوا کہ وہ سبب بن گئی ایک فتح مطلوب یعنی فتح مکہ کی، پس گویا یہ صلح ہی فتح تھیا ور فتح مکہ کو فتح مبین اس لئے کہا گیا کہ غایت فتح کی غلبہ ہوتا ہے اسلام کا لوگوں کے اسلام سے یا استسلام سے، اور یہی اس کا اثر مطلوب ہے اور فتح مکہ سے اسلام کو اس لئے نہایت غلبہ ہوا کہ تمام قبائل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ اگر آپ اپنی قوم پر غالب آگئے تو ہم بھی اطاعت کرلیں گے۔ چناچہ جب مکہ فتح ہوا تو چاروں طرف سے قبائل امڈ پڑے اور خود یا بالواسطہ وفد کے حاضر ہو کر اسلام لانا شروع کیا۔ پس چونکہ آثار غلبہ اسلام کے اس فتح پر زیادہ نمایاں ہوئے اس لئے اس کو فتح مبین فرمایا گیا۔
فہم القرآن ربط سورت : سورت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اختتام اس فرمان پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہاری جگہ دوسری قوم لاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک قوم کی جگہ دوسری قوم لانے کے کئی طریقے ہیں جن میں ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلی قوم کا سیاسی اقتدار اور سماجی اثر و رسوخ ختم کردیا جائے اور اس کی جگہ دوسری قوم کو موقع دیا جائے جس کی واضح مثال فتح مکہ میں پائی جاتی ہے۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات خواب دیکھا کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت اور اس کا طواف کررہا ہوں جس میں سال اور وقت کا تعین واضح نہیں تھا۔ بیت اللہ کی زیارت کا شوق اور حالات کے تقاضے کے پیش نظر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ میں اعلان فرمایا کہ تیاری کرو کہ ہم عمرہ کے لیے مکہ معظمہ کا سفر کرنے والے ہیں اور یہ بات مجھے خواب میں بتلائی گئی ہے۔ اس خواب کا اشارہ سورة بنی اسرائیل کی آیت ٦٠ میں موجود ہے۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چودہ سو صحابہ کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے جب آپ مکہ کے قریب پہنچے تو حضرت عباس (رض) جو اس وقت تک مکہ میں ہی مقیم تھے انہوں نے خفیہ ذرائع کے ذریعے آپ کو اطلاع دی کہ مکہ والے آپ کو کسی صورت عمرہ کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں۔ نہ صرف اجازت دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ آپ کے ساتھ پوری طرح جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس اطلاع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کی طرف جانے والا عام راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کیا اور حالات کے پیش نظر مکہ جانے کی بجائے حدیبیہ کے مقام پر قیام فرمایا تاکہ اہل مکہ کو اپنے سفر کا مقصد بتلانے کے ساتھ سمجھایا جائے کہ ہم عمرہ کے لیے آئے ہیں اس کے سوا ہمارے آنے کا کوئی اور مقصد نہیں۔ لیکن اہل مکہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے ان حالات میں آپ کو عمرہ کی اجازت دی تو لوگ سمجھیں گے کہ مکہ والے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے ساتھیوں سے ڈر گئے ہیں۔ اس لیے وہ کسی صورت میں آپ کو مکہ داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اپنی آمد کی حقیقت بتلانے کے لیے حضرت عثمان کو مکہ روانہ کیا۔ حضرت عثمان (رض) مذاکرات کرنے کے لیے مکہ پہنچے تو انہیں واپس آنے میں کچھ تاخیر ہوئی جس بنا پر صحابہ کرام (رض) میں بہ بات عام ہوگئی کہ اہل مکہ نے حضرت عثمان (رض) کو شہید کردیا ہے اس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے صحابہ کرام [ سے بیعت لی جس کا ذکر اسی سورت کی آیت ١٠ تا ١٨ میں موجود ہے۔ واقعہ کی تفصیلات جاننے کے لیے سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دونوں طرف سے مذاکرات کے نتیجے میں بالآخر ایک معاہدہ قرار پایا جس کی درجہ ذیل شرائط طے پائیں۔ ١۔ اس سال مسلمان عمرہ نہیں کرسکتے البتہ اگلے سال انہیں عمرہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ ٢۔ اگر مکہ والوں میں کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ پہنچے تو اسے واپس کرنا ہوگا اور اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص مکہ آئے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ ٣۔ مسلمان اگلے سال عمرہ کے لیے آئیں گے تو ان کے ساتھ کسی قسم کا اسلحہ نہیں ہونا چاہیے۔ مکہ والے تین دن کے لیے مکہ خالی کردیں گے۔ ٤۔ آپس میں دس سال تک جنگ نہیں کی جائے گی۔ ٥۔ اہل مکہ اور مسلمان جن قبائل کو چاہیں گے اپنا حلیف بنا سکیں گے۔ کچھ صحابہ نے ابتداً معمولی سا اختلاف کیا لیکن اس کے بعد فی الفور تمام صحابہ نے اس معاہدے کو تسلیم کیا جن کی تعداد چودہ سو تھی۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی طرف واپس ہوئے۔ راستے میں سورة الفتح کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں اللہ تعالیٰ نے پورے جلال کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ اے نبی ! ہم نے واضح طور پر آپ کو فتح عطا فرمادی ہے تاکہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں اور آپ پر اپنی نعمت کا اتمام فرمائے، آپ کو صراط مستقیم پر گامزن رکھے اور آپ کی زبردست مدد فرمائے۔ صلح حدیبیہ کو درج ذیل امور کی وجہ سے فتح مبین قرار دیا گیا ہے۔ ١۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کا سفر اختیار کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ جب چاہیں ہم مکہ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ ٢۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی ثابت کردیا کہ اسلام تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ اخلاق اور تبلیغ کے ذریعے پھیلتا ہے ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے نہتے ساتھیوں کو موت کے منہ سے بچا لیا کیونکہ صحابہ کرام (رض) کا فرمان ہے کہ اگر مکہ والوں کے ساتھ جنگ ہوجاتی تو اس میں بظاہر ہماری موت یقینی تھی۔ ٤۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ والوں پر اخلاقی فتح حاصل کی کیونکہ اس معاہدہ کے ذریعے یہ ثابت ہوگیا کہ مسلمان برابر کی چوٹ رکھتے ہیں بظاہر مکہ والے کرّو فر دکھا رہے تھے لیکن حقیقت میں مسلمانوں کی طاقت تسلیم کرچکے تھے۔ ٥۔ صلح حدیبیہ سے تعصبات کی دیواریں ٹوٹ گئیں اور اسلام کی تبلیغ کا راستہ ہموار ہوا۔ ٦۔ ٹھیک دو سال سے پہلے مکہ فتح ہوا اور مکہ کے بڑے بڑے سردار معافی کے خواستگار ہوئے جنہیں آپ نے معاف فرمادیا اور انہوں نے خوشدلی کے ساتھ اسلام قبول کرلیا۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرمایا۔ ٨۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہر میدان میں زبردست مدد فرمائی۔ ٩۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس موقع پر بر وقت اور ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے کی راہنمائی فرمائی۔ (لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ ) (الفتح : ٢) ” تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمائے۔ “ (تفصیل کے لیے سورة محمد کی آیت ١٩ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ) (عَنِ الْمُغِےْرَۃِ (رض) قَالَ قَام النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ فَقِےْلَ لَہُ لِمَ تَصْنَعُ ھٰذَا وَقَدْ غُفِرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا) (رواہ البخاری : باب قِیَام النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حَتَّی تَرِمَ قَدَمَاہُ ) ” حضرت مغیرہ (رض) ذکر کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو اس قدر قیام کرتے کہ آپ کے قدم سوج جایا کرتے تھے۔ جب آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ اس قدر کیوں قیام کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں ؟ فرمایا کیا مجھے اس کا شکرگزار بندہ نہیں بننا چاہیے۔ “ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرنے والا ہے : ١۔ اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ (البقرۃ : ١٠٧) ٢۔ اللہ نے یہ لکھ دیا کہ وہ اور اس کے رسول غالب آئیں گے۔ (المجادلہ : ٢١) ٣۔ ” اللہ “ نے حنین کے موقعہ پر اپنے بندوں کی مدد فرمائی۔ ( التوبہ : ٢٥) ٤۔ اللہ نے غار ثور میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد فرمائی۔ ( التوبہ : ٤٠) ٥۔ اللہ اپنے رسولوں اور مومنوں کی مدد فرماتا ہے۔ (الانفال : ٦٢) ٦۔ اللہ نے اپنا رسول اس لیے مبعوث فرمایا کہ اس کے دین کو تمام ادیان پر غالب کر دے۔ ( الفتح : ٢٨) ٧۔ نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور سفارشی پھر تم کیوں نصیحت نہیں حاصل کرتے۔ (السجدۃ : ٤)
اس سورت کا آغاز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوپر ایک فضل و کرم کے ذکر سے ہوتا ہے۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح مبین بھی عطا کردیا گیا ہے اور آپ کے اگلے اور پچھلے سب ذنوب معاف کر دئیے گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی نعمتیں تمام ہوگئیں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مستقل ہدایت نامہ دے دیا گیا اور ایک زبردست نصرت اور فتح بھی دے دی گئی۔ اور یہ ہے صلہ اس گہرے اطمینان اور صبر کا جن کے ساتھ آپ نے ہدایات الٰہیہ پر عمل کیا۔ اور اس بات کا کہ آپ نے اللہ کی جانب سے وحی اور الہامات و ہدایات پر پورا پورا عمل کیا۔ اپنی تمام خواہشات اور ارادوں کو ترک کردیا اور اللہ کی نگرانی پر پورا پورا بھروسہ کیا۔ آپ نے ایک خواب دیکھا ، اس کے مطابق آپ حرکت میں آگئے ۔ آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی اور لوگ چیخے کہ “ قصواء ” نے چلنے سے انکار کردیا۔ اڑ گئی۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کوئی اور اشارہ لیا۔ “ قصواء اڑ نہیں گئی اور نہ اس کی یہ عادت ہے لیکن اسے اس ذات نے روک لیا ہے جس نے مکہ سے ہاتھی کو روکا تھا ۔ اگر قریش آج کوئی بھی ایسا منصوبہ مجھے دیں جس میں صلہ رحمی کی درخواست ہو تو میں منظور کر دوں گا ”۔ حضرت عمر ابن الخطاب آپ سے نہایت ہی جوش میں پوچھتے ہیں “ کیا ہمیں اپنے دین میں ذلت نہیں دی جارہی ہے ؟” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جواب دیتے ہیں “ میں اللہ کا بندہ ہوں ، رسول ہوں ، میں اس کے حکم کی مخالفت نہیں کرسکتا اور انشاء اللہ وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا ”۔ یہ تو رہی صلح کی بات لیکن جب اطلاع آتی ہے کہ حضرت عثمان (رض) قتل ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں “ ہم اس وقت تک ڈٹے رہیں گے جب تک قوم سے انتقام نہ لے لیں ”۔ لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا جاتا ہے۔ یہ بیعت ، بیعت الرضوان قرار پاتی ہے اور اس سے ان لوگوں کو بھلائی نصیب ہوتی ہے اور یہ ان کے لئے رتبہ بلند تھا جنہوں نے اس میں حصہ لیا ۔ یہ سورت دراصل فتح عظیم تھی۔ اور صلح حدیبیہ بھی دراصل فتح عظیم تھی ، کیونکہ اس کے نتیجے میں بیشمار فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔ یہ دعوت اسلامی کے زاویہ بھی فتح تھی۔ امام زہری کہتے ہیں اس سے قبل اسلام کو جو فتوحات ملی تھیں یہ ان سے بڑی فتح تھی۔ اس سے قبل یہ تھا کہ لوگ جہاں بھی ملتے جنگ ہوتی۔ جب صلح ہوگئی اور حالت جنگ ختم ہوگئی اور لوگوں کو ایک دوسرے کی جانب سے امن نصیب ہوگیا ، ملنا جلنا آزاد ہوگیا تو انہوں نے اسلام کے موضوع پر بحث و مکالمہ شروع کردیا۔ اسلام کے بارے میں جس شخص نے معقول گفتگو کی وہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ صلح حدیبیہ اور فتح کے درمیان دو سالوں میں اس قدر لوگ مسلمان ہوگئے کہ ان کی تعداد سابقہ تمام عرصے کے مسلمانوں کے برابر تھی یا زیادہ تھی۔ ابن ہشام کہتے ہیں کہ زہری کی بات پر دلیل یہ ہے کہ جابر بن عبد اللہ کے قول کے مطابق حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ کی مہم پر چودہ سو افراد لے کر نکلے تھے لیکن ٹھیک دو سال بعد جب مکہ پر حملہ ہوا تو آپ کے ہم رکاب دس ہزار زائد افراد تھے۔ اور اس عرصہ میں خالد ابن ولید اور عمر ابن العاص (رض) مسلمان ہوئے۔ زمین پر یہ فتح یوں تھی کہ مسلمان قریش کے شر سے محفوظ ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موقعہ مل گیا کہ جزیرۃ العرب کو یہودیوں کے باقی خطرات سے پاک فرما دیں۔ بنی قینقاع ، بنی النضیر اور بنو قریظہ کو اس سے قبل ختم کردیا گیا تھا۔ یہ خطرہ اب خیبر کے محفوظ قلعوں میں موجود تھا۔ کیونکہ خیبر کے یہ قلعے شام کے راستے میں واقع تھے۔ چناچہ حدیبیہ کے بعد اللہ نے خیبر کا علاقہ بھی مسلمانوں کو دے دیا ۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے علاقے اور غنائم کو صرف ان لوگوں میں تقسیم کیا جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے ان کے علاوہ کسی کو کچھ نہ دیا۔ یہ مدینہ کے مسلمانوں اور مکہ کے قریش کی طویل جنگ میں مسلمانوں کی فتح تھی۔ استاذ محمد دروزہ اپنی کتاب سیرۃ الرسول میں فرماتے ہیں : “ اس میں شک نہیں کہ یہ صلح جسے قرآن کریم نے فتح قرار دیا اسے ہر مفہوم میں مسلمانوں کی فتح سمجھنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسے سیرۃ النبی کے فیصلہ کن واقعات میں شمار کرنا چاہئے۔ یہ واقعہ اسلام کی تاریخ میں اسلام کی قوت اور استحکام کا سبب بنا۔ ایک بڑا مفید واقعہ تو وہ بہرحال تھا ہی۔ اس صلح کے ذریعہ قریش نے پہلی مرتبہ اسلامی حکومت اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیثیت کو تسلیم کیا اور مسلمانوں کو انہوں نے اپنے برابر کی قوت تسلیم کیا بلکہ قریش نے اسلامی حکومت کا دفاع کیا۔ اس سے پہلے دو سالوں میں قریش نے دو مرتبہ مدینہ پر حملہ کیا اور جنگ احزاب تو حدیبیہ سے ایک سال قبل ہوتی تھی جس میں قریش بیشمار احزاب کو لے کر مدینہ پر چڑھ آئے تھے تا کہ مومنین اور اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اور غزوۂ احزاب کے درمیان اہل ایمان کی صفوں میں بےحد اضطراب پیدا ہوگیا تھا اور ایک عام بےچینی سی پیدا ہوگئی تھی کیونکہ مدینہ پر حملہ کرنے والوں کی تعداد بہت ہی زیادہ تھی اور جنگ احزاب کا پورے عالم عرب پر اثر تھا کیونکہ تمام عرب اہل قریش کی پیروی کرتے تھے اور وہ قریش کے سخت موقف سے متاثر ہوتے تھے۔ اگر یہ دیکھا جائے کہ مدینہ کے اردگرد کے دیہاتی اور منافق یہ پیشن گوئیاں کرتے تھے کہ اس جنگ سے مسلمان کسی صورت میں صحیح سالم اپس نہ آسکیں گے اور وہ ہر قسم کا سوئے ظن رکھتے تھے۔ تو اس صورت میں اس فتح کی اہمیت اور ظاہر ہوجاتی ہے اور اس کے اثرت دوررس ثابت ہوتے ہیں ”۔ “ بعد کے واقعات نے یہ ثابت کردیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جو الہام تھا ، وہ درست تھا اور یہ کہ قرآن کریم نے بھی اس کی تائید کردی۔ اور اس صلح کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت ہی عظیم مادی معنوی اور دعوتی فوائد حاصل ہوئے۔ نیز جنگی اور سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کی پوزیشن بہت ہی مضبوط ہوگئی۔ قبائل کی نظروں میں مسلمان ایک مضبوط قوت بن گئے اور واپس ہوتے ہی مدینہ کے گرد کے جو قبائل پیچھے رہ گئے تھے وہ آکر عذرات پیش کرنے لگے۔ مدینہ کے اندر منافقین کی آواز دبنے لگی اور وہ کمزور ہوگئے۔ اور ہر طرف سے عرب وفود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آنا شروع ہوگئے اور یہودیوں کی قوت کو خیبر اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے ہٹا دیا گیا۔ یہ لوگ شام کے راستے پر پھیلے ہوئے تھے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ممکن ہوگیا کہ آپ نجد ، یمن اور بلقا جیسے دور دراز علاقوں میں فوجی مہمات ارسال کریں۔ اور ٹھیک دو سال بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کو دس ہزار کے لشکر کے ساتھ فتح کیا۔ یہ فیصلہ کن فتح تھی کہ جب اللہ کی مدد آئی اور فتح مکمل ہوئی اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگے ”۔ میں یہ کہتا ہوں کہ ان تمام پہلوؤں کے سوا ایک دوسرا پہلو ہے جس کے زاویہ سے یہ فتح عظیم تھی۔ اس سے اسلام کے لئے لوگوں کے دل و دماغ فتح ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں بیعت الرضوان کا واقعہ پیش آیا جس میں مسلمانوں نے موت اور عدم فرار پر بیعت کی اور اللہ نے اعلان کردیا کہ درخت کے نیچے جن لوگوں نے بیعت کی ان سے اللہ راضی ہوگیا ہے۔ اور قرآن میں اس اعلان کا اندارج ہوگیا اور پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انقلابی لیڈر شپ اور انقلابی جماعت کے خدو خال اور اوصاف کو اس سورت میں اس فتح کے نتیجے میں قلم بند کردیا گیا۔ محمد رسول اللہ ۔۔۔۔۔ واجرا عظیماً (٤٨ : ٢٩) “ محمد ، اللہ کے رسول ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب میں پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں۔ جن سے الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی۔ پھر اس کو تقویت دی پھر وہ گدرائی پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ، اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ”۔ میں کہتا ہوں اسلامی دعوت کی تاریخ میں یہ بہت ہی بڑی فتح ہے جو کسی جماعت کو حاصل ہوئی۔ اس کے آثار کافی دیر تک اسلامی تاریخ میں نکلتے رہے۔ پھر اس کے نتیجے میں سورت فتح نازل ہوئی۔ جس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت ہی خوش تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ کی رحمتوں کی بارش یوں ہوئی کہ اگلے پچھلے قصور معاف ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی مومنین پر یہ فیض ہوا کہ اللہ ان سے راضی ہوا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکمل ہدایت دی گئی اور عظیم نصرت دی گئی اور پھر جماعت اہل ایمان کو تورات ، انجیل اور قرآن کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا “ گزشتہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی جو اس تمام دولت سے زیادہ قیمتی ہے جس پر کبھی سورج طلوع ہوا ہے ”۔ اور آپ نے رب تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان نعمتوں پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور طویل ترین نمازیں پڑھتے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو آپ کے پاؤں سوج جاتے۔ حضرت عائشہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیوں اس قدر تکلیف کرتے ہیں اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : “ اے عائشہ ! کیا میں گزار بندہ نہ بنوں ”۔ یہ افتتاح تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ تھا۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اس فتح کے ذریعے مسلمانوں پر کس قدر انعامات کئے گئے اور اللہ نے اپنے دست قدرت سے کس طرح ان کے دلوں پر سکینہ اتارا۔ اور آخرت میں ان کے لئے یہ بخشش اور فوز عظیم کے انعامات ہوں گے۔
فتح مبین کا تذکرہ، نصر عزیز اور غفران عظیم کا وعدہ یہ سورة الفتح کی ابتدائی آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے اس سورت میں فتح مبین کا اور صلح حدیبیہ کا اور فتح خیبر کا تذکرہ ہے اور آخر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) کی توصیف اور تعریف ہے اس سورت کا ابتدائی حصہ سفر میں نازل ہوا۔ حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح حدیبیہ کے بعد واپس مدینہ منورہ کے لیے تشریف لا رہے تھے اور حضرات صحابہ (رض) کے دلوں میں اس بات کا رنج تھا کہ عمرہ نہ کرسکے اس وقت سورة الفتح نازل ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ جب آپ نے ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًاۙ٠٠١ لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ ﴾ پڑھ کر سنائی تو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مبارک ہو اس میں تو آپ کے بارے میں فرمایا کہ ایسا ایسا ہوگا سوال یہ ہے کہ ہمارا کیا بنے گا اس کا بھی پتہ چلنا چاہیے اس پر آیت کریمہ ﴿ لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ﴾ نازل ہوئی۔ (ذكرہ البغوی فی معالم التنزیل ص ١٨٨ ج ٤ وھو فی صحیح البخاری مختصرا ص ٦٠٠ ج ٢) حضرت زید بن اسلم (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں تھے حضرت عمر بن خطاب (رض) بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے ایک روز رات کے وقت ایسا ہوا کہ حضرت عمر (رض) نے آپ سے کچھ سوال کیا آپ نے جواب نہ دیا پھر سوال کیا آپ نے پھر خاموشی اختیار فرمائی پھر تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا، حضرت عمر (رض) نے بیان کیا کہ میں نے اپنے نفس سے کہا تیری ماں تجھے گم کردے (پریشانی کے وقت اہل عرب اپنے بارے میں یہ کلمات بول دیا کرتے تھے) تو نے تین بار سوال کرکے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف میں ڈالا تین بار سوال کیا آپ نے جواب نہیں دیا یہ سوچتے ہوئے میں جلدی سے اپنے اونٹ کو حرکت دے کر سب مسلمانوں سے آگے بڑھ گیا اور میں اس بات سے ڈرنے لگا کہ میرے بارے میں قرآن مجید کی کوئی آیات نازل نہ ہوجائے تھوڑی دیر میں ایک آواز سنی ایک شخص زور سے پکار کر کہہ رہا ہے کہ اے عمر ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ میں ڈرا کہ واقعتاً میرے بارے میں قرآن مجید کی کوئی آیت نازل ہوئی ہے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا آپ نے فرمایا کہ اس رات میں مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے پھر آپ نے ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًاۙ٠٠١﴾ تلاوت فرمائی۔ (صحیح البخاری ص ٦٦٠، ٧١٦) صلح حدیبیہ کا مفصل واقعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش مکہ نے بہت زیادہ تکلیفیں دی تھیں حتیٰ کہ آپ کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ ذی قعدہ ٦ ہجری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کرنے کے لیے اپنے پیچھے نمیلہ بن عبد اللہ لیثی (رض) کو امیر بناکر روانہ ہوگئے، مدینہ منورہ کے رہنے والے اور آس پاس کے دیہات کے باشندوں کو بھی سفر میں ساتھ چلنے کے لیے فرمایا آپ نے عمرہ کا احرام باندھ لیا اور حضرات صحابہ (رض) نے بھی، تاکہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ آپ کا مقصد جنگ کرنا نہیں ہے صرف بیت اللہ کی زیارت کرنا مقصود ہے آپ اپنے ساتھ ہدی کے جانور بھی لے گئے تھے (جو حج وعمرہ میں حرم مکہ میں ذبح کیے جاتے تھے) جب آپ مقام عسفان میں پہنچے تو بشر بن سفیان کعبی سے ملاقات ہوئی اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ قریش مکہ کو آپ کی روانگی کا پتہ چل گیا ہے وہ مقام ذی طویٰ میں جمع ہوگئے ہیں اور قسمیں کھا کھا کر یہ عہد کر رہے ہیں کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے اور خالد بن ولید (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اپنے سواروں کو لے کر کراع الغمیم (ایک مقام کا نام ہے) میں پہنچ چکے ہیں آپ نے یہ سن کر راستہ بدل دیا اور داہنی ہاتھ کی طرف روانہ ہوگئے یہ باقاعدہ راستہ نہیں تھا گھاٹیاں تھیں دشوار گزار مقامات سے گزرنا پڑا یہاں تک کہ نرم زمین میں پہنچ گئے اور مقام حدیبیہ کے راستہ پر پڑگئے، حدیبیہ مکہ اور جدہ کے درمیان ہے حرم کے حدود وہاں ختم ہوجاتے ہیں (عسفان سے مکہ معظمہ جاتے ہوئے حدیبیہ واقع نہیں ہوتا لیکن چونکہ قریش کے آڑے آجانے کا امکان تھا اس لیے آپ راستہ بدل کر حدیبیہ پہنچ گئے۔ ) جب قریش کے سواروں کو پتہ چلا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے راستہ بدل دیا ہے تو واپس قریش کے پاس مکہ معظمہ چلے گئے ادھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے ساتھ مقام حدیبیہ میں پہنچ گئے وہاں پہنچے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی صحابہ نے کہا یہ تو آگے بڑھنے سے ہٹ کرنے لگی آپ نے فرمایا ہٹ کرنا اس کی عادت نہیں ہے اسے اسی ذات پاک نے روک دیا جس نے ہاتھی والوں کو مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا کیونکہ قریش مکہ کے آڑے آجانے اور مکہ معظمہ کے داخلہ میں رکاوٹ ڈالنے کا گمان تھا اس لیے آپ نے فرمایا کہ اگر آج قریش نے مجھ سے کسی ایسی بات کا سوال کیا جو صلہ رحمی کی بنیاد پر ہو تو میں اس میں اس کی موافقت کرلوں گا اور بعض روایات میں یوں بھی ہے کہ اگر مجھے کسی بات کی دعوت دیں گے جس میں ان چیزوں کی حرمت کا مطالبہ ہو جنہیں اللہ تعالیٰ نے معظم قرار دیا ہے تو ان کی بات مان لوں گا۔ حدیبیہ میں قیام تو فرمالیا لیکن وہاں پانی بہت ہی کم تھا حضرات صحابہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ یہاں تو پانی نہیں ہے نہ وضو کرسکتے ہیں نہ پینے کا انتظام ہے بس یہی تھوڑا سا پانی ہے جو آپ کے پیالہ میں ہے آپ نے اپنا دست مبارک اس پیالہ میں رکھ دیا آپ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہوگئے، راوی حدیث حضرت جابر (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے پانی پیا وضو کیا کسی نے دریافت کیا کہ آپ حضرات کی کتنی تعداد تھی تو حضرت جابر (رض) نے کہا کہ ہم لوگ پندرہ سو تھے اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی سب کے لیے کافی ہوجاتا۔ اور حضرت براء بن عازب (رض) نے فرمایا کہ آیت کریمہ میں جو فتح کا ذکر ہے آپ لوگ اس سے فتح مکہ مراد لیتے ہیں اور ہم بیعت رضوان کو فتح کا مصداق شمار کرتے تھے جو حدیبیہ کے موقعہ پر ہوئی ہم تعداد میں چودہ سو یا کچھ زیادہ تھے، حدیبیہ کے ایک کنوئیں میں تھوڑا سا پانی تھا ہم نے سارا پانی کھینچ کر استعمال کرلیا اور اس میں ایک قطرہ بھی نہ چھوڑا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا علم ہوا تو آپ تشریف لائے اور اس کنوئیں کے کنارے پر بیٹھ گئے پھر فرمایا کہ اس میں سے نکالا ہوا ایک ڈول پانی لاؤ وہ آپ کی خدمت میں پیش کردیا گیا آپ نے اس میں اپنا لعاب مبارک ڈال دیا اور ایک روایت میں ہے کہ وضو فرمایا اور کلی کی اور اس کنوئیں میں پانی ڈالا پھر فرمایا اسے کچھ دیر چھوڑ دو کچھ دیر کے بعد اس میں سے پانی لینا شروع کیا اور تمام حاضرین اپنی سواریوں سمیت سیراب ہوگئے) اس میں اختلاف کی بات نہیں ہے چودہ سو سے اوپر جو افراد تھے ان کو بعض صحابہ نے پندرہ سو بتادیا اور بعض نے چودہ سو بتادیا کسر کا اعتبار نہیں کیا اور اس میں بھی کوئی تعارض نہیں کہ پیالہ میں دست مبارک رکھنے سے چشمے جاری ہوگئے اور کنوئیں میں بھی آپ نے لعاب مبارک ڈال دیا۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ میں قیام فرمالیا تو قریش مکہ نے یکے بعد دیگرے بدیل بن ورقاء اور مکر زبن حفص اور حلیس بن علقمہ اور عروہ بن مسعود ثقفی کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا آپ نے ان لوگوں کو جواب دیا کہ ہم عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں لڑائی لڑنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ حضرات صحابہ (رض) کی محبت اور جانثاری عروہ بن مسعود (رض) حاضر خدمت ہوئے تو انہوں نے عجیب منظر دیکھا حضرات صحابہ (رض) کی محبت اور جانثاری دیکھ کر آنکھیں پھٹی رہ گئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو فرماتے تھے جو پانی آپ کے اعضاء سے جدا ہوتا حضرات صحابہ (رض) اسے گرنے نہ دیتے تھے اور فوراً ہی اپنے ہاتھوں میں لے لیتے تھے جب آپ ناک کی ریزش ڈالتے تھے اسے بھی جلدی سے اپنے ہاتھوں میں لے لیتے تھے اور آپ کا اگر کوئی بال گرتا تو اسے بھی گرنے سے پہلے ہی اچک لیتے تھے۔ عروہ بن مسعود ثقفی (رض) نے واپس ہوکر قریش مکہ سے کہا کہ دیکھو میں کئی بار کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کے پاس گیا ہوں (یہ تینوں بادشاہ تھے) میں نے کسی بادشاہ کے ایسے فرمانبردار نہیں دیکھے جیسے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ہیں اگر تم نے جنگ کی تو یہ لوگ کبھی بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے اب دیکھ لو تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے فرمایا کہ تم مکہ معظمہ جاؤ وہاں قریش کو بتادو کہ ہم جنگ کرنے کے لیے نہیں آئے حضرت عمر (رض) نے معذرت پیش کردی کہ قریش کو معلوم ہے کہ میں ان کا کتنا بڑا دشمن ہوں اور میرے قبیلہ بنی عدی میں سے وہاں ایسے افراد نہیں ہیں جو میری حفاظت کرسکیں میں آپ کو رائے دیتا ہوں کہ آپ عثمان بن عفان (رض) کو بھیج دیں قریش کے نزدیک وہ مجھ سے زیادہ معزز ہیں چناچہ آپ نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو ابو سفیان اور دیگر اشراف قریش کے پاس بطور نمائندہ بھیج دیا تاکہ وہ قریش کو بتادیں کہ آپ جنگ کے ارادہ سے تشریف نہیں لائے بلکہ صرف بیت اللہ کی زیارت کے لیے تشریف لائے ہیں۔ جب حضرت عثمان (رض) نے قریش مکہ کو پیغام دیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں البتہ تم چاہو تو طواف کرسکتے ہو انہوں نے جواب دیا کہ میں تنہا طواف نہیں کرسکتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طواف کریں گے تو میں بھی کروں گا حضرت عثمان (رض) کو قریش مکہ نے روک لیا اور ادھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر پہنچ گئی کہ عثمان کو قتل کردیا گیا ہے۔ بیت رضوان کا واقعہ جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اب ہم تو یہاں سے نہیں ہٹیں گے جب تک قریش سے جنگ نہ کرلی جائے چونکہ بظاہر جنگ لڑنے کی فضاء بن گئی تھی اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرات صحابہ (رض) سے بیعت لینا شروع کیا اور ایک شخص کے علاوہ آپ کے تمام اصحاب نے اس بات پر بیعت کرلی کہ ہم جم کر جنگ میں ساتھ دیں گے اور راہ فرار اختیار نہ کریں گے۔ حضرت عثمان (رض) چونکہ مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے اس لیے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) کی طرف سے خود بیعت کرلی اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے ملایا اور فرمایا کہ یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے یہ بیعت ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی جو مقام حدیبیہ میں تھا اور اس کے بارے میں آیت کریمہ ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ﴾ نازل ہوئی اس لیے اس بیعت کا نام بیعۃ الرضوان معروف ہوگیا اور بیعت کرنے والوں کو اصحاب الشجرہ کہا جانے لگا (شجرہ عربی میں درخت کو کہتے ہیں) اس کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت عثمان (رض) کی شہادت کی خبر غلط ہے لیکن اس خبر کی وجہ سے جو حضرات صحابہ (رض) نے بیعت کی اس کا ثواب مل گیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا تمغہ بھی نصیب ہوگیا جس کا قرآن مجید میں اعلان ہوگیا جو رہتی دنیا تک برابر پڑھا جاتا رہے گا۔ اس کے بعد قریش نے سہیل بن عمرو کو گفتگو کرنے کے لیے بھیجا اور یوں کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور ان سے صلح کی گفتگو کرو لیکن صلح میں اس سال عمرہ کرنے کی بات نہ آئے اگر ہم اس سال انہیں عمرہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو عرب میں ہماری بد نامی ہوگی اور اہل عرب یوں کہیں گے کہ دیکھ لو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قوت اور زور سے مکہ میں داخل ہوگئے۔ سہیل بن عمرو نے خدمت عالیہ میں حاضر ہوکر لمبی گفتگو کی پھر آپس میں صلح کی شرطیں طے ہوگئیں (صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد ص ٣٧٧ ج اور راجع معالم التنزیل ص ١٩٩ ج ٤ تا ص ٢٠٣) جو انشاء اللہ عنقریب ذکر کی جائیں گی۔ صلح حدیبیہ کا متن اور مندرجہ شرائط صحیح بخاری ٣٧١، ٣٨٢ اور صحیح مسلم ١٠٤ ج ٢ میں ہے کہ حضرت علی (رض) صلح نامہ لکھنے لگے تو اس میں انہوں نے بطور عنوان لکھ دیا ھذا ما قاضی علیہ محمد رسول اللہ، اس پر سہیل بن عمرو اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم تو آپ کے رسول اللہ ہونے کا اقرار ہی نہیں کرتے اگر ہم اس کو مانتے ہوتے تو آپ کو عمرہ کرنے سے کیوں روکتے ؟ آپ محمد بن عبد اللہ لکھیے آپ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ بھی ہوں محمد بن عبد اللہ بھی ہوں پھر حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ لفظ ” رسول اللہ “ کو مٹا دو حضرت علی (رض) نے عرض کیا کہ میں تو کبھی بھی آپ کی اس صفت کو نہیں مٹاؤں گا (یہ نافرمانی کی قسم نہیں ہے نازو انداز کی بات ہے) اس کے بعد صلح نامہ کے شروع میں ھذا ما قاضی علیہ محمد بن عبد اللّٰہ لکھا گیا۔ صحیح مسلم ١٠٥ ج ٢ یہ بھی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم اس پر سہل بن عمرو نے کہا کہ یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کیا ہے ہم اس کو نہیں جانتے بلکہ وہ لکھو جو ہم پہچانتے ہیں اور وہ باسْمِكَ اَللّٰھُمَّ ہے (آپ نے اس کو بھی منظور فرما لیا۔ ) (كما ذکر النوری) البدایہ والنہایہ ١٦٨ ج ٤ میں صلح نامہ کا متن جو نقل کیا ہے وہ ذیل میں درج ہے : ھذا ما صالح علیہ محمد بن عبد اللّٰہ سھیل بن عمرو، اصطلحا علی وضع الحرب عن الناس عشر سنین یامن فیھن الناس ویکف بعضھم عن بعض، وعلیٰ انہ من اتیٰ محمدًا من قریش بغیر اذن ولیہ ردہ علیھم، ومن جاء قریشًا ممن مع محمد لم یردوہ علیہ، وان بیننا عیبة مکفوفةٗ وانہ لا اسلال ولا اغلال، وانہ من احب ان یدخل فی عقد محمد وعھدہ دخل فیہٗ من احب ان یدخل فی عقد قریش وعھدھم دخل فیہٗ وانک ترجع عامک ھذا فلا تدخل علینا مكة، وانہ اذا کان عام قابل خرجنا عنک فدخل تھا باصحابک فاقمت بھا ثلاثاً معک سلاح الراکب، السیوف فی القرب لا تدخلھا لغیرھا۔ ترجمہ : یہ وہ صلح نامہ ہے جس کی محمد بن عبد اللہ نے سہیل بن عمرو سے صلح کی، ان باتوں پر صلح کی گئی۔ (١) دس سال تک آپس میں جنگ نہیں کریں گے، ان دس سالوں میں لوگ امن وامان سے رہیں گے اور ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے رکے رہیں گے۔ (٢) قریش میں سے جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آجائے گا اسے واپس کرنا ہوگا۔ (٣) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے جو شخص قریش کے پاس آجائے گا وہ اسے واپس نہیں کریں گے۔ (٤) اور ایک یہ بات ہے کہ ہمارے درمیان گٹھڑی بند رہے گی (یعنی آپس میں جنگ نہ کریں گے لڑائی والی بات کو گٹھڑی کی طرح باندھ کر ڈال دیں گے اور بعض حضرات نے گٹھڑی بند رکھنے کا یہ معنی بتایا ہے جو کچھ ہم نے صلح کی ہے یہ سچے دل سے ہے دل گٹھڑیوں کی طرح ہیں جن میں راز کی چیزیں رکھتی جاتی ہیں لہٰذا ہماری یہ گٹھڑی نہ کھلے گی) اور کوئی فریق دھوکہ یا خیانت کا کام نہ کرے گا۔ (٥) نہ کوئی ظاہری طور پر چوری کرے گا اور نہ خیانت کے طور پر کسی کو تکلیف دے گا (ظاہر اور باطن کے اعتبار سے ہر شرط کی پابندی کی جائے گی) (٦) اور جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کوئی معاہدہ اور معاقدہ کرنا چاہیے وہ کرسکتا ہے۔ (٧) اور جو جماعت قریش سے کوئی معاہدہ اور معاقدہ کرنا چاہیے اسے اس کا اختیار ہے۔ (٨) آپ اس سال واپس ہوجائیں مکہ معظمہ میں داخل نہ ہوں۔ (٩) اور آئندہ سال اپنے صحابہ (رض) کے ساتھ عمرہ کے لیے آئیں اس وقت مکہ معظمہ میں داخل ہوں اور صرف تین دن رہیں۔ (١٠) اس وقت جب عمرہ کے لیے آئیں تو آپ کے ساتھ مختصر سے ہتھیار ہوں جنہیں مسافر ساتھ لے کر چلتا ہے تلواریں نیاموں میں ہوں گی اس کا لحاظ کرتے ہوئے داخل ہوسکیں گے۔ جب یہ شرطیں لکھی گئیں تو شرط نمبر ٤ کے مطابق بنو خزاعہ نے اعلان کردیا کہ ہم محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں ہیں اور بنوبکر نے اعلان کردیا کہ ہم قریش کے عہد میں ہیں پھر یہی معاہدہ فتح مکہ کا سبب بن گیا کیونکہ قریش مکہ نے بنو بکر کی مدد کردی جب بنو خزاعہ سے ان کی جنگ چھڑی معاہدہ کی جو شرطیں اوپر مذکور ہوئیں ان میں سے بعض صحیح بخاری (صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد ص ٣٣٧ ج اور راجع معالم التنزیل ص ١٩٩ ص ٢٠٣ ج ٤) اور بعض صحیح مسلم میں مذکور ہیں اور بعض سنن ابی داؤد میں بھی مروی ہیں۔ حضرت عمر (رض) کا تردد اور سوال و جواب حضرت عمر (رض) کو بعض شرطوں کا قبول کرنا ناگوار ہوا وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور کیا قریش مکہ باطل پر نہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں ! پھر سوال کیا کیا ہمارے مقتولین جنت میں نہیں اور کیا ان کے مقتولین دوزخ میں نہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور ان کے مقتولین دوزخ میں ہیں، عرض کیا پھر کیوں ہم اپنے دین میں ذلت گوارا کریں اور ہم کیوں اللہ کے فیصلے کے بغیر جو ہمارے ان کے درمیان (قتال کے ذریعہ) ہو واپس ہوجائیں ؟ یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا ہوں وہ میری مدد فرمائے گا، حضرت عمر (رض) نے عرض کیا، کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور طواف کریں گے ؟ آپ نے فرمایا کیا میں نے اسی سال کے بارے میں کہا تھا ؟ اس کے بعد حضرت ابوبکر (رض) سے بھی ان کا یہی سوال و جواب ہوا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح کرلی اور پورا صلح نامہ لکھ دیا گیا ابو جندل نے مسلمانوں سے کہا کہ دیکھو میں مسلمان ہوکر آیا ہوں مشرکین کی طرف واپس کیا جا رہا ہوں مجھے بڑی بڑی تکلیفیں دی گئی ہیں مجھے اپنے ساتھ لے چلو لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کچھ نہیں کرسکتے تھے صلح کی جو شرطیں آپ نے منظور فرمالی تھیں سب کے مطابق عمل کرنا لازم تھا بالآخر ابو جندل کو وہیں چھوڑ دیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہمارا بن کر ہم کو چھوڑے گا اللہ تعالیٰ اس کو ہم سے دور فرما دے گا (اس کی ہمیں ضرورت نہیں) اور جو شخص ان میں سے ہوگا اور ہمارا بن کر آئے گا (پھر ہم شرط کے مطابق اسے واپس کردیں گے تو) اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی راستہ نکال دے گا۔ (صحیح مسلم ص ١٠٥ ج ١) حلق رؤس اور ذبح ہدایا جب صلح نامہ لکھا جاچکا تو آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے ہدایا کو ذبح کرو اور سر منڈالو یہ بات سن کر کوئی بھی کھڑا نہ ہوا کیونکہ حضرت صحابہ (رض) اس امید میں تھے کہ شاید کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ وقت سے پہلے احرام کھولنا نہ پڑے اور عمرہ کرنے کا موقع مل ہی جائے۔ آپ کے تین بار ارشاد فرمانے کے بعد بھی جب کوئی کھڑا نہ ہوا تو آپ اپنی اہلیہ حضرت ام سلمہ (رض) کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے پوری صورت حال بیان کی (کہ میں ہدایا کے ذبح کرنے کا اور سر مونڈنے کا حکم دے چکا ہوں لیکن صحابہ اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں) حضرت ام سلمہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ لوگ ذبح اور حلق والے کام کر گزریں تو آپ باہر تشریف لے جاکر کسی سے بات کیے بغیر اپنے اونٹوں کو ذبح فرما دیں اور بال مونڈنے والے کو بلا کر اپنے سر کے بال منڈوا دیں آپ باہر تشریف لائے اور ایسا ہی کیا جب آپ کو حضرات صحابہ نے دیکھا کہ آپ ہدایا ذبح فرما رہے ہیں اور حلق کروالیا ہے تو سب اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے ہدایا کو ذبح کردیا اور ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے۔ (صحیح بخاری ص ٣٨٠) حضرت ابو بصیر (رض) اور ان کے ساتھیوں کا واقعہ وہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ اہل مکہ میں سے جو شخص ہمارے پاس آئے گا اور اسے شرط کے مطابق واپس کردیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی راستہ نکال دے گا اس کے مطابق اس کا حل یہ نکلا ابو بصیر (رض) ایک صحابی مسلمان ہوکر مکہ سے مدینہ منورہ پہنچ گئے مکہ والوں نے ان کو واپس کرنے کے لیے دو آدمی بھیجے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرط کے مطابق ان کو واپس کردیا واپسی میں جب ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت ابو بصیر (رض) نے ان دو آدمیوں میں سے جو انہیں لینے آئے تھے ایک کو قتل کردیا اور دوسرا بھاگ کر مدینہ منورہ میں آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ ضرور اسے کوئی خوفناک بات پیش آئی ہے اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ میرا ساتھی تو قتل کیا جاچکا ہے اور میں بھی قتل ہونے والا ہوں پیچھے سے حضرت ابو بصیر (رض) بھی حاضر خدمت ہوگئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کی جو ذمہ داری تھی وہ تو اللہ تعالیٰ نے پوری کردی ہے آپ نے مجھے واپس کردیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے نجات دے دی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ لڑائی کو بھڑکانے والا ہے کاش اسے کوئی سمجھانے والا ہوتا یہ سن کر ابو بصیر (رض) نے سمجھ لیا کہ آپ مجھے پھر واپس کردیں گے لہٰذا وہ مدینہ منورہ سے نکل گئے اور سمندر کے کنارے پر پڑاؤ ڈال لیا۔ جب ابو جندل (رض) کو اس کا پتہ چلا تو وہ بھی ابو بصیر (رض) کے پاس پہنچ گئے اور اب جو بھی کوئی شخص قریش مکہ میں سے مسلمان ہوتا ابو بصیر (رض) کے پاس پہنچ جاتا یہاں تک کہ وہاں سمندر کے کنارے ایک جماعت اکٹھی ہوگئی قریش کا جو بھی قافلہ شام کی طرف جاتا تھا یہ لوگ اسے روک لیتے اور قافلے کے آدمیوں کو قتل کردیتے اور ان کے اموال چھین لیتے تھے جب یہ صورت حال سامنے آئی تو قریش مکہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ان لوگوں کو بلالیں اور اب ہم اس شرط کو واپس لیتے ہیں کہ ہمارا کوئی شخص آپ کے پاس جائے گا تو اسے واپس کرنا ہوگا جو بھی شخص ہم میں سے آپ کے پاس پہنچے گا تو اسے واپس کرنے کی ذمہ داری آپ پر نہ ہوگی اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو پیغام بھیج دیا کہ واپس آجائیں۔ (صحیح البخاری ص ٣٨٠، ٣٨١ ج ١) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو بصیر کے نام لکھ دیا کہ مدینہ منورہ آجائیں جب گرامی نامہ پہنچا تو وہ سکرات موت میں تھے ان کی موت اس حالت میں ہوئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکتوب گرامی ان کے ہاتھ میں تھا، حضرت ابو جندل (رض) نے انہیں دفن کردیا اور وہاں ایک مسجد بنا دی اور پھر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ منورہ میں حاضر ہوگئے اور برابر وہیں رہتے رہے حتی کہ حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں شام کی طرف چلے گئے اور وہیں جہاد میں شہید ہوگئے۔ (فتح الباری ص ٣٥١ ج ٥) صلح حدیبیہ کی مذکورہ تفصیل کے بعد اب آیات بالا کا ترجمہ دوبارہ پڑھ لیجیے ان میں فتح مبین کی خوشخبری ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اگلی پچھلی تمام لغزشوں کی معافی کا اور تکمیل نعمت کا اور صراط مستقیم پر چلانے کا اور نصر عزیز کا اعلان ہے۔ اہل ایمان پر انعام کا اعلان، اور اہل نفاق اور اہل شرک کی بدحالی اور تعذیب کا بیان اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دل میں سکون و اطمینان نازل فرما دیا تاکہ ان کا ایمان اور زیادہ بڑھ جائے اور یہ بھی فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ ایمان کی برکت سے اہل ایمان کو مرد ہوں یا عورت ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے گا ان کے بارے میں پانچ باتیں بتائیں۔ اول ﴿ الظَّآنِّيْنَ باللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ ﴾ (کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ برا گمان رکھتے ہیں) اس برے گمان میں یہ بھی داخل ہے یہ لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے ہیں اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے کہ مومنین مغلوب ہوں گے اور کافروں کے حملے سے محفوظ ہوکر واپس مدینہ نہ آئیں گے چونکہ اپنے قلبی جذبات میں اور اعتقادات میں منافق عورتیں اور مشرک عورتیں بھی اپنے مردوں کے ساتھ ہوتیں ہیں اس لیے انہیں بھی وعید میں شریک کرلیا گیا۔ دوسری بات یہ بتائی کہ ﴿ عَلَيْهِمْ دَآىِٕرَةُ السَّوْءِ ﴾ کہ ان پر برائی کی چکی گھومنے والی ہے یعنی دنیا میں مقتول اور ماخوذ ہوں گے اور اسلام کی ترقی ان کے قلبی احساسات کے لیے سوہان روح بنی رہے گی۔ تیسری اور چوتھی بات یہ بتائی ﴿ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ ﴾ اور اللہ ان پر غصہ ہوا اور ان پر لعنت کردی اور پانچویں بات بتائی ﴿ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ﴾ کہ ان کے لیے جہنم کو تیار کردیا اور آخر میں اس مضمون کو ﴿ وَ سَآءَتْ مَصِيْرًا ٠٠٦﴾ پر ختم فرمایا کہ جہنم برا ٹھکانہ ہے۔ پھر فرمایا ﴿ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ١ؕ﴾ اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں کے اور زمینوں کے لشکر۔ ان آیات میں یہ مضمون دو مرتبہ بیان فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے لشکر ہیں وہ جس سے چاہے کام لے سکتا ہے ان میں کافروں کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ مسلمان تھوڑے سے ہیں ہم انہیں دبالیں گے چونکہ ان کے علاوہ بھی اللہ کے لشکر ہیں اس لیے ان کی تعداد کو نہ دیکھیں اللہ اپنے دوسرے لشکروں سے بھی کام لے سکتا ہے اور اس میں مسلمانوں کے لیے بھی تذکیر ہے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ کے بہت سے لشکر ہیں وہ تمہاری تائید کے لیے اور کافروں کو زک دینے کے لیے اپنی دوسری مخلوق کو بھی استعمال فرما سکتا ہے۔ فائدہ 1 ان آیات میں ایک جگہ ﴿وَكان اللّٰہُ عَلِیْمًا حَكیْمًا﴾ اور ایک جگہ ﴿ وَ كَان اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا ٠٠٧﴾ فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا ہے کہ اللہ تعالیٰ علیم بھی ہے اسے اپنے دوستوں کا بھی علم ہے اور دشمنوں کا بھی وہ سب کے ظاہر و باطن کو جانتا ہے وہ عزیز بھی ہے یعنی وہ زبردست ہے اس کے فیصلے اور ارادے کوئی پلٹ نہیں سکتا اور وہ حکیم بھی ہے اپنی حکمت کے مطابق جسے چاہتا ہے انعام دیتا ہے جسے چاہتا ہے عقاب و عذاب میں مبتلا فرما دیتا ہے۔ فائدہ 2 آیت کریمہ میں جو ﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ ﴾ فرمایا ہے بہ اجماع امت اس سے گناہ حقیقی واقعی مراد نہیں ہے کیونکہ حضرات انبیاء ( علیہ السلام) سے گناہوں کا صدور نہیں ہوسکتا بلکہ بعض وہ امور مراد ہیں جن میں خطاء اجتہادی ہوگئی اور اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو متنبہ فرمایا جیسا کہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے میں آپ نے فدیہ لینے والوں کی رائے سے موافقت فرمائی اور جیسا کہ بعض منافقین نے جہاد میں نہ جانے کی اجازت مانگی تو آپ نے اجازت فرما دی جسے ﴿عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ ﴾ میں بیان فرمایا اور جیسا کہ حضرت ابن ام مکتوم (رض) نابینا صحابی کے آنے پر آپ کو خیال ہوا کہ اس وقت نہ آتے تو اچھا تھا اور اس کا اثر آپ کے چہرہ انور پر ظاہر ہوگیا کیونکہ آپ اس وقت کافروں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اس پر ﴿عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى﴾ نازل ہوئی اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آپ کا سب کچھ معاف فرمایا پھر بھی آپ بہت زیادہ عبادت کرتے تھے آپ رات کو نماز تہجد میں لمبا قیام کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے قدموں مبارک پر ورم آگیا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ پاؤں پھٹنے لگے تھے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ آپ یہ کیوں کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کا سب کچھ معاف فرما دیا ؟ آپ نے فرمایا کہ تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ (صحیح البخاری ص ١٥٠ ج ١ ص ٧١٦ جلد دوم) مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اتنا بڑا کرم فرمایا تو اس کا تقاضا یہ تو نہیں ہے کہ عبادت کم کردوں احسان مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ اور زیادہ عبادت میں لگ جاؤں۔
2:۔ پہلا حصہ : ” انا فتحنا “ سنہ 6 ہجری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب میں دیکھا کہ آپ صحابہ (رض) کی ایک جماعت کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے ہیں، کچھ لوگ سر منڈا رہے ہیں اور کچھ بال چھوٹے کرا رہے ہیں۔ آپ نے یہ خواب صحابہ (رض) کو سنایا تو وہ بہت خوش ہوئے اس کے بعد ماہ ذیقعدہ میں آپ صحابہ کرام (رض) کی ایک بہت بڑی جماعت کے ساتھ زیارت بیت اللہ کے ارادے سے روانہ ہوئے مقام حدیبیہ میں موجود صحابہ (رض) کی تعداد چودہ سو تھی۔ جب آپ یہاں پہنچے تو آپ نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو اپنا پیغام دے کر مکہ روانہ فرمایا تاکہ وہ آپ کا پیغام قریش کو پہنچائیں۔ پیغام یہ تھا کہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیت اللہ کی زیارت کے لیے آیات ہوں، لڑائی اور جنگ کی خاطر نہیں آیا ہوں، اس لیے تم مزاحمت نہ کرنا۔ قریش نے زیارت بیت اللہ کی اجازت نہ دی اور حضرت عثمان (رض) سے کہا اگر تم چاہو تو بیت اللہ کا طواف کرسکتے ہو، لیکن انہوں نے جواب دیا کہ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بغیر اکیلا طواف کرلوں۔ چناچہ حضرت عثمان طوف کے بغیر واپس چلے گئے۔ آخر قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کی شرطیں یہ تھیں۔ 1 ۔ مشرکین کا کوئی آدمی اگر مسلمانوں کے پاس چلا جائے تو اسے واپس کردیا جائے گا۔ 2:۔ اگر کوئی مسلمان مشرکین کے پاس پہنچ جائے تو وہ واپس نہیں کریں گے۔ 3 ۔ مسلمان امسال بیت اللہ کی زیارت نہیں کرسکیں گے، بلکہ آئندہ سال آئیں گے اور شرط یہ ہے کہ ہتھیاروں کے بغیر مکہ میں داخل ہوں۔ صلح کی شرائط بظاہر مسلمانوں کی کمزوری ظاہر کر رہی تھیں۔ اس لیے اکثر مسلمانوں کے چہرے اداس ہوگئے۔ صلح کے بعد جب آپ مقام حدیبیہ سے روانہ ہوئے تو راستے میں یہ سورت نازل ہوئی (روح، خازن، معالم وغیرہ) ۔ ” انا فتحنا “ یہ پہلی بشارت ہے ای حکمنا لک بالفتح۔ یعنی ہم نے آپ کو عظیم الشان فتح عطا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور فتح مبین سے فتح مکہ مراد ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو ایک شاندار فتح عطاء فرمائی ہے اور اس سے صلح حدیبیہ مراد ہے۔ صلح حدیبیہ حقیقت میں ایک عظیم الشان فتح تھی جو فتح مکہ کا سبب بنی اور جس کی بناء پر مشرکین کو مسلمانوں کے اندر رہ کر ان کے احوال واطوار کا مطالعہ و مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور اسلام کی خوبیاں ان کے دلوں میں جاگزیں ہوگئیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ سے لے کر فتح مکہ تک دو سالوں میں اس قدر لوگ اسلام میں داخل ہوئے کہ فتح مکہ میں آپ کے ہمراہیوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ تھی۔ قال الزھری لم یکن فتح اعظم من صلح الحدیبیۃ اختلط المشرکون بالمسلمین و سمعوا کلامہم وتمکن الاسلام فی قلوبھم واسلم فی ثلاث سنین خلق کثیر وکثر بہم سواد الاسلام (روح ج 26 ص 84) ۔ قال الزھری لقد کان الحدیبیۃ اعظم الفتوح وذلک ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جاء الیھا فی الف واربعمائۃ فلما وقع الصلح مشی الناس بعضہم فی بعض وعلموا وسمعوا عن اللہ، فما اراد احدا الاسلام الا تکن منہ، فما مضت تلک السنتا الا والمسلمون قد جاء وا الی مکۃ فی عشرۃ الاف (قرطبی ج 16 ص 261) ۔