Surat ul Fatah

Surah: 48

Verse: 15

سورة الفتح

سَیَقُوۡلُ الۡمُخَلَّفُوۡنَ اِذَا انۡطَلَقۡتُمۡ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاۡخُذُوۡہَا ذَرُوۡنَا نَتَّبِعۡکُمۡ ۚ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّبَدِّلُوۡا کَلٰمَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا کَذٰلِکُمۡ قَالَ اللّٰہُ مِنۡ قَبۡلُ ۚ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ بَلۡ تَحۡسُدُوۡنَنَا ؕ بَلۡ کَانُوۡا لَا یَفۡقَہُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۵﴾

Those who remained behind will say when you set out toward the war booty to take it, "Let us follow you." They wish to change the words of Allah . Say, "Never will you follow us. Thus did Allah say before." So they will say, "Rather, you envy us." But [in fact] they were not understanding except a little.

جب تم غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیجئے ، وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کے کلام کو بدل دیں آپ کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالٰی پہلے ہی فرما چکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے وہ اس کا جواب دیں گے ( نہیں نہیں ) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو ( اصل بات یہ ہے ) کہ وہ لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says, سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَى مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ ... Those who lagged behind will say, when you set forth to take the spoils, "Allow us to follow you." Allah characterizes the Bedouins who lagged behind the Messenger of Allah during the Umrah of Hudaybiyyah, saying that when the Prophet and his Companions later went on to conquer Khyber, the Bedouins asked them to take them along. They were hoping to collect war booty, having been absent when it was time to fight the enemy and enduring with patience therein. Allah the Exalted ordered His Messenger to refuse to give them permission to accompany him, being a punishment that is similar to their error. Allah has promised those who were present at Al-Hudaybiyyah to earn Khyber's war spoils alone, not shared in that with the Bedouins who lagged behind. Therefore, the legislation that Allah gave in this regard was joined to the destiny that He decided, occurring just as He decided. Allah's statement, ... يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَمَ اللَّهِ ... They want to change Allah's Words, (which refers to the promise that Allah gave those who were present at Al-Hudaybiyyah), according to the explanation reported from Mujahid, Qatadah, Juwaybir and which Ibn Jarir preferred. Allah said, ... قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَلِكُمْ قَالَ اللَّهُ مِن قَبْلُ ... Say: "You shall not follow us; thus Allah has said beforehand." i.e. `when He promised the participants of Al-Hudaybiyyah before you asked to join them,' ... فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ... Then they will say: "Nay, you envy us." i.e. `you do not want us to share the war spoils with you,' ... بَلْ كَانُوا لاَ يَفْقَهُونَ إِلاَّ قَلِيلً Nay, but they understand not except a little. i.e. the truth is nothing close to what they claimed, but they understand not.

مال غنیمت کے طالب ارشاد الہٰی ہے کہ جن بدوی لوگوں نے حدیبیہ میں اللہ کے رسول اور صحابہ کا ساتھ نہ دیا وہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان صحا بہ کو خیبر کی فتح کے موقع پر مال غنیمت سمیٹنے کے لئے جاتے ہوئے دیکھیں گے تو آرزو کریں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے لو ، مصیبت کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے راحت کو دیکھ کر شامل ہونا چاہتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انہیں ہرگز ساتھ نہ لینا جب یہ جنگ سے جی چرائیں تو پھر غنیمت میں حصہ کیوں لیں ؟ اللہ تعالیٰ نے خیبر کی غنیمتوں کا وعدہ اہل حدیبیہ سے کیا ہے نہ کہ ان سے جو کٹھن وقت پر ساتھ نہ دیں اور آرام کے وقت مل جائیں ان کی چاہت ہے کہ کلام الٰہی کو بدل دیں یعنی اللہ نے تو صرف حدیبیہ کی حاضری والوں سے وعدہ کیا تو یہ چاہتے ہیں کہ باوجود اپنی غیر حاضری کے اللہ کے اس وعدے میں مل جائیں تاکہ وہ بھی بدلا ہوا ثابت ہو جائے ابن زید کہتے ہیں مراد اس سے یہ حکم الہی ہے ( فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَاۗىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا 83؀ ) 9- التوبہ:83 ) ، یعنی اے نبی اگر تمہیں اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کے لئے نکلنے کی اجازت مانگیں تو تم ان سے کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہ نکلو اور میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہ لڑو تم وہی ہو کہ پہلی مرتبہ ہم سے پیچھے رہ جانے میں ہی خوش رہے پس اب ہمیشہ بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو لیکن اس قول میں نظر ہے اس لئے کہ یہ آیت سورہ برات کی ہے جو غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور غزوہ تبوک غزوہ حدیبیہ کے بہت بعد کا ہے ابن جریج کا قول ہے کہ مراد اس سے ان منافقوں کا مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر جہاد سے باز رکھنا ہے فرماتا ہے کہ انہیں ان کی اس آرزو کا جواب دو کہ تم ہمارے ساتھ چلنا چاہو اس سے پہلے اللہ یہ وعدہ اہل حدیبیہ سے کر چکا ہے اس لئے تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے اب وہ طعنہ دیں گے کہ اچھا ہمیں معلوم ہو گیا تم ہم سے جلتے ہو تم نہیں چاہتے کہ غنیمت کا حصہ تمہارے سوا کسی اور کو ملے اللہ فرماتا ہے دراصل یہ ان کی ناسمجھی ہے اور اسی ایک پر کیا موقوف ہے یہ لوگ سراسر بےسمجھ ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

15۔ 1 اس میں غزوہ خیبر کا ذکر ہے جس کی فتح کی نوید اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں دی تھی نیز اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہاں سے جتنا بھی مال غنیمت حاصل ہوگا وہ صرف حدیبیہ میں شریک ہونے والوں کا حصہ ہے چناچہ حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں کی مسلسل عہد شکنی کی وجہ سے خیبر پر چڑھائی کا پروگرام بنایا تو مذکورہ متخلفین نے بھی محض مال غنیمت کے حصول کے لیے ساتھ جانے کا ارادہ ظاہر کیا جسے منظور نہیں کیا گیا آیت میں مغانم سے مراد مغانم خیبر ہی ہیں۔ 15۔ 2 اللہ کے کلام سے مراد، اللہ کا خیبر کی غنیمت کو اہل حدیبیہ کے لئے خاص کرنے کا وعدہ ہے، منافقین اس میں شریک ہو کر اللہ کے کلام یعنی اس کے وعدے کو بدلنا چاہتے تھے۔ 15۔ 3 یہ نفی بمعنی نہی ہے یعنی تمہیں ہمارے ساتھ چلنے کی اجازت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے۔ 15۔ 4 یعنی یہ متخلفین کہیں گے کہ تم ہمیں حسد کی بنا پر ساتھ لے جانے سے گریز کر رہے ہو تاکہ مال غنیمت میں ہم تمہارے ساتھ شریک نہ ہوں۔ 15۔ 5 یعنی بات یہ نہیں ہے جو وہ سمجھ رہے ہیں، بلکہ یہ پابندی ان کے پیچھے رہنے کی پا داش میں ہے۔ لیکن اصل بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] منافقوں کی غزوہ خیبر میں شمولیت کی خواہش کیوں تھی ؟ فتح خیبر کا واقعہ غزوہ حدیبیہ کے تین ماہ بعد محرم ٧ ھ بعد میں پیش آیا۔ جلاوطن شدہ یہود یہیں اکٹھے ہو کر مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ بنونضیر بھی مدینہ سے جلاوطن ہو کر یہیں مقیم ہوگئے تھے۔ انہی کے سردار حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کو ورغلا کر جنگ احزاب میں مسلمانوں کے خلاف عہد شکنی پر مجبور کردیا تھا۔ اور وہ اتحادی کافروں سے مل گئے تھے۔ حدیبیہ کی صلح کے بعد ان لوگوں کی سرکوبی ضروری تھی۔ یہ سفر نسبتاً آسان بھی تھا اور یہاں سے اموال غنیمت کی بھی بہت توقع تھی۔ غزوہ حدیبیہ میں پیچھے رہ جانے والے منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تین ماہ پہلے ہی بتادیا کہ جب تم اس سفر پر جانے لگو گے تو پھر یہ لوگ تمہارے ساتھ جانے کے لئے فوراً تیار ہوجائیں گے کیونکہ وہاں جان و مال کے ضیاع کا خطرہ کم اور بہت زیادہ اموال غنیمت مل جانے کی توقع ہوگی۔ [١٨] اللہ کا حکم یا فیصلہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کے بارے میں مخلص ہیں۔ اللہ انہیں فتح و نصرت سے ہمکنار کرے اور مالی فائدے بھی پہنچائے۔ مگر یہ منافق یہ چاہتے ہیں کہ جان و مال کے ضیاع کا خطرہ ہو تو یہ بہانے بنا کر اپنی جانیں اور مال بچا لیں اور مخلص مسلمان ہی ایسے مشکل اوقات میں آگے بڑھیں اور جب جان و مال کا کوئی خوف نہ ہو اور مال ملنے کی امید ہو تو یہ بھی ان میں شامل ہوجائیں۔ ان کی اس آرزو سے اللہ کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ [١٩] غزوہ خیبر میں صرف ان مسلمانوں کو ساتھ لیا گیا جو بیعت رضوان میں شامل تھے :۔ لہذا جب خیبر پر چڑھائی کا وقت آئے اور یہ مسلمانوں کے ہمراہ جانے کی آرزو کریں تو آپ انہیں دو ٹوک لفظوں میں بتا دیجئے کہ ہم تمہیں اپنے ہمراہ نہیں لے جاسکتے۔ کیونکہ اللہ ہمیں اس بات سے منع کرچکا ہے۔ چناچہ عملاً یہی کچھ ہوا & آپ صرف انہی صحابہ کرام (رض) کو غزوہ خیبر میں اپنے ساتھ لے گئے جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کے ہاتھ پر خون پر بیعت کی تھی۔ [٢٠] منافقوں کا جواب بھی ناانصافی پر مبنی ہے : یعنی جب تم بہانہ ساز منافقوں سے یہ کہو گے کہ تم غزوہ خیبر کے مجاہدین میں شامل نہیں ہوسکتے تو وہ فوراً تم لوگوں پر مزید یہ الزام لگا دیں گے۔ تم یہ چاہتے ہی نہیں کہ ہمیں بھی اموال غنیمت سے کچھ حصہ مل جائے اور تم ہمارا حسد کرتے ہو کہ کہیں ہم لوگ بھی آسودہ حال نہ بن جائیں۔ یعنی اس وقت تک بھی ان کا خیال اپنے قصور کی طرف نہیں جائے گا کہ جب ہم کوئی جانی و مالی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں تو ہمیں آسانی سے ہاتھ آنے والے مال غنیمت میں کیسے حصہ دار بنایا جاسکتا ہے۔ اس وقت بھی مسلمانوں کو ہی مورد الزام ٹھہرائینگے۔ یہ ان کے خبث باطن کی ایک اور دلیل ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) سیقول المخلفون اذا نطلقتم الی مغانم…: اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان میں شریک صحابہ پر اپنے بہت سے انعامات کے علاوہ، جن کا ذکر آیت (١٨، ١٩) میں آرہا ہے، انھیں ایک بہت جلدی حاصل ہونے والی فتح کا وعدہ بھی فرمایا جس میں انھیں بہت سی غنیمتیں حاصل ہوں گی۔ مقصد ان کی اس دل شکنی کا ازالہ تھا جو حدیبیہ کے موقع پر ہوئی، اس کے علاوہ اس اطاعت، وفا داری اور جاں فروشی کا انعام دینا بھی تھا جس کا مظاہرہ انہوں نے اس سارے زوہ کے دوران کیا۔ ان غنیمتوں سے مراد خیبر ہے جسکا فتح کرنا یہودیوں کی مسلسل شرارتوں اور عہد شکنیوں کی وجہ سے نہایت ضروری تھا، مگر قریش کی طرف سے بےفکری ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر پر چڑھئای کا ارادہ فرمایا۔ اس مہم میں مسلمانوں کی فتح اور بیشمار غنیمتوں کا حصول سب کو صاف نظر آرہا تھا اور ایسے ہی ہوا کہ صلح حدیبیہ کے تین ماہ بعد ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر پر چڑھئای کی اور بڑ آساین سے اسے فتح فرما لیا، بلکہ خیبر کے اردگرد کی یہودیوں کی بہت سی بستیاں بھی کسی خاص مزاحمت کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آگئیں۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی آگاہ فرما دیا کہ جب تم خیبر کی طرف غنیمتیں حاصل کرنے کے لئے روانہ ہوگے تو یہ پیچھے رہنے والے کہیں گے، ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دو ۔ (٢) یریدون ان یبدلوا کلم اللہ : یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان غنیمتوں کا وعدہ اس درخت کے لئے بیعت کرنے والوں سے کیا تھا اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ غنیمتیں ان لوگوں کو بھی مل جائیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جانے کے لئے گھر ہی سے نہیں نکل سکے، بیعت انہوں نے خاک کرنا تھی۔ اب ان کی بات مان لی جائے تو اللہ کی بات تو اپنی جگہ نہ رہی۔ (٣) قل لن تتبعونا : آپ ان سے کہیے، تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤ گے، کیونکہ یہ ان لوگوں کا حق ہے جنہوں نے ان وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا جب موت آنکھوں کے سامنے نظر آرہی تھی۔ (٤) کذلکم قال اللہ من قبل : یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ پہلے ہی کردیا ہے کہ فتح کے ثمرات کے حق دار بھی صرف وہ ہیں جنہوں نے اس وقت ساتھ دیا جب جان و مال کی بازی لنے کا وقت تھا۔ (٥) فسیقولون بل تحسدوننا : فرمایا : یہ لوگ ساتھ جانے کی اجازت نہ ملنے پر کہیں گے، بلکہ تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو کہ ان غنیمتوں کے حصول سے ہماری مالی حالت اچھی نہ ہوجائے۔ (٦) بل کانوا لایفقھون الا قلیلاً : فرمایا، مسلمانوں کو ان پر کوئی حسد نہیں اور نہ ان کی پاک فطرت میں اس کی گنجائش ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو خواہ مخواہ مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، اپنے قصور کی سمجھ نہ انھیں پہلے آئی نہ اب تک اسے سمجھ رہے ہیں، (کانوا میں استمرار ہے) کہ جب اس سے پہلے وہ کوئی جانی و مالی خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو اب آسانی سے ہاتھ آنے والے مال غنیمت میں انہیں کیسے حصے دار بنایا جاسکتا ہے اور جب پہلے ان کے اموال اور گھر والوں نے انہیں گھر سے نکلنے سے روکے رکھا تو اب وہ انہیں نکلنے سے کیوں نہیں روک رہے ؟ بہت کم سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل نہیں سمجھتے۔ قرآن مجید اور کلام عرب میں قلیل کا لفظ مطلق نفی کے لئے عام استعمال ہوا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Injunctions and Related Issues The reference in this passage is to the incident which took place in the 7th year of Hijrah after the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) returned from Hudaibiyah. When he intended to march on Khaibar, he took with him only those sincere Muslims who were with him at Hudaibiyah and participated in the Pledge of Ridwan. When Allah promised His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the conquest of Khaibar and great spoils, those Bedouin tribes who had contrived to remain behind when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went for ` Umrah, requested the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to be allowed to join the Muslim army, either because they guessed that Khaibar would be conquered and they would receive a good share of the booty, or because they perceived the divine blessings bestowed on the Muslims as a result of the expedition of Hudaibiyah& and being remorseful on their wrong decision, they intended to join the new expedition. In response to their request, the Qur&an says: يُرِ‌يدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّـهِ |"They wish to change the statement of Allah...[ 48:15] |" &Allah&s statement& refers to the injunction that the right to participate in the expedition of Khaibar and receiving a share in its spoils is reserved exclusively for those sincere Muslims who were with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at Hudaibiyah. The same injunction is again referred to by saying, كَذَٰلِكُمْ قَالَ اللَّـهُ مِن قَبْلُ |"Allah had said like this beforehand.... [ 48:15] |" It means that the injunction of restricting the right of participation in Khyber to the participants of Hudaibiyah had been revealed by Allah before the revelation of these verses. However, this injunction is not available in the Qur&an anywhere else. So the question is: how is it then correct to refer this injunction as a &statement of Allah& or as &Allah has said like this&? Answer to this question depends on understanding the different kinds of the divine revelation which follow: Divine Revelation is not restricted to the Qur’ an; Many injunctions are revealed without being a part of the Qur’ an, and Prophetic ahadith have also the status of being &Allah&s injunctions& Wahy [ revelation ] is divisible into two types: [ 1] Wahy Matluww or recited revelation; and [ 2] Wahy Ghayr-Matluww or unrecited revelation. Wahy Matluww refers to the Qur&an - the words and meanings of which are both from Allah. Wahy Ghayr-Matluww refers to the Hadith of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - the wordings of which are from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the meanings of which are from Allah (See Ma ariful Qur an: Vol. 2/570).Wally Ghayr-Matluww, like Wahy Matluww, is one of the fundamental sources of Islamic injunctions. With this juristic principle in mind, scholars have explained that the restrictive injunction made to the participants of Hudaibiyah is nowhere asserted explicitly in the Qur&an or Wahy Matluww. However, it was made for them to the Holy Prophet through Wahy Ghayr-Matluww on his way to Hudaibiyah to which the Qur&an refers by the phrases Kalamullah (the statement of Allah) and qalAllah (Allah said). From this a general juristic rule may be deduced that the injunctions entrenched in ahadith sahihah [ Authentic Prophetic Traditions ] have the status of being &Allah&s statement& and &Allah&s saying&. These verses are sufficient to unmask the deviation of those who turned aside from the truth by refusing to accept ahadith as a religious authority. Some people have tried to argue that the restrictive injunction is found in the Qur&an itself, that is in verses 18 and 19 of this very Surah |"so He sent down tranquility upon them, and rewarded them with a well-nigh victory, and many spoils that they would receive.|" This verse was revealed in the beginning of the journey to Hudaibiah, and |"well-nigh victory|" refers, according to consensus of Qur&anic scholars, to the victory of Khaibar. Thus the phrases Kalamullah (the statement of Allah) and qalallah (Allah said) could refer to verses 18 and 19, and it is not necessary that it is construed as an injunction conveyed through Wahy Ghayr-Matluww. But this argument is misconceived because verse 18 and 19 contain a promise that the participants of Hudaibiah would receive many spoils in the victory of Khaibar, but it is nowhere mentioned in these verses that these spoils will be restricted to the participants of Hudaibiah and no one else will participate in them. Therefore, No doubt, this restriction was made by Wahy Ghayr-Matluww or the Hadith of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which is meant by the Qur&anic phrases Kalamullah and qalallah. Some people have applied the words, &the statement of Allah& occurring in verse 15 to verse 83 of Surah At-Taubah: فَاسْتَأْذَنُوكَ لِلْخُرُ‌وجِ فَقُل لَّن تَخْرُ‌جُوا مَعِيَ أَبَدًا وَلَن تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا ۖ إِنَّكُمْ رَ‌ضِيتُم بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ They sought disorder even earlier and tried to upset matters for you, until the Truth arrived and the will of Allah prevailed, though they disliked it. [ Surah Taubah: 83] This is not true, because the verses of Surah At-Taubah pertain to the battle of Tabuk which took place in the 9th year of Hijrah whereas the expedition of Khaibar took place two years earlier in the 7th year of Hijrah (Qurtubi; and others). قُل لَّن تَتَّبِعُونَا (|"...say: &You shall not follow us& - 48:15|".) In this clause, the laggards who contrived to be left behind are emphatically told that they could not be allowed to march against the Jews of Khaibar and partake of the booty. However, this prohibition is restricted to the expedition of Khaibar, but in the near future they would be allowed to fight other battles. This is the reason why from among the laggards, the tribes of Muzainah and Juhainah later on fought in the company of the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم (a1-Ruh citing from al-Bahr; Bayan). Some of the Laggards Repent and Become Sincere Muslims All the laggards that did not march towards Hudaibiyah were prohibited from taking part in the expedition of Khaibar, whereas not all of them were hypocrites, some were sincere Muslims. And some at that particular time were hypocrites, but later on, through the Grace of Allah, they became sincere Muslims. Verse [ 16] consoles and comforts the laggards that though, because of Allah&s promise made to the participants of Hudaibiyah, they cannot be allowed to take part in the expedition of Khaibar, yet in the near future the sincere Muslims would be called upon to fight against much more powerful enemies. Thus the Qur&an predicts && سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ |"You will be called against a people possessed of strong fighting power; you will have to fight them, or they will submit|". (48:16) We need to bear in mind the verse foretells that they will be invited to take part in battles that will be fought against a formidable militant nation. Islamic history bears ample testimony to the fact that this prediction was not fulfilled during the lifetime of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . There are several reasons for this. First of all, though battles did take place during the lifetime of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) after the expedition of Khaibar, there is no proof that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called upon the Bedouins to fight. Secondly, after that no battle took place with such a nation whose fighters were so brave, chivalrous and formidable as the Qur&an describes. Although in the battle of Tabuk the encounter was with a formidable force, neither is there any evidence that the Bedouins were invited to fight, nor did any actual fighting take place in Tabuk, because Allah had infused terror in the minds of the opponents, and they did not turn up. As far as the battle of Hunain is concerned, there is no proof of their being invited, nor was the opponent so powerful. Therefore, some of the leading scholars of Tafsir express the view that the prediction in the verse refers to the fierce and protracted wars with the Byzantine and Iranian empires which took place during the reign of Sayyidna Al-Faruq ul-A` zam (رض) (Ibn ` Abba, &Ata, Mujahid, Ibn Abi Laila, and Hasan in Qurtubi& ). Sayyidna Rafi` Ibn Khadij (رض) says: |" We read this verse in the Qur&an in which the word &qawm& (people) occurs, but we did not know to which &qawm& reference is made, until after the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) when Abu Bakr (رض) took over the reign of Caliphate and invited us to take up arms against Banu Hanifah, the people of Yamamah, that is, Musailimah-Kadhdhab. So we thought the Qur&an refers to this &qawm& (people).|" However, there is no conflict or contradiction between these views. The word &qawm& (people) could comprehend all these nations. Having cited all these views, Imam Qurtubi asserts that this verse confirms the legitimacy of the Caliphate of Sayyidna Abu Bakr and Sayyidna ` Umar (رض) . The Qur&an itself asserts in the above-quoted verse their calling upon the people to fight. تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ (|"...you will have to fight them, or they will submit|" ) According to the gira’ ah (reading) of Sayyidna &Ubaiyy in the second disjunctive clause أَوْ يُسْلِمُوا au yuslimu the nun has been omitted. Therefore, Imam Qurtubi takes the disjunctive particle au originally standing for |"or|" in the sense of hatta (until). In other words, the fighting will carry on with that nation until they surrender - whether by embracing Islam or by submitting to the Islamic rule.

خلاصہ تفسیر جو لوگ (سفر حدیبیہ سے) پیچھے رہ گئے وہ عنقریب جب تم (خیبر کی) غنیمتیں لینے چلو گے (مطلب یہ ہے کہ خیبر فتح کرنے کے لئے چلو گے جہاں غنیمت ملنے والی ہے تو یہ لوگ تم سے) کہیں گے کہ ہم کو بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں (وجہ اس درخواست کی مال غنیمت کی طمع تھی جس کا حاصل ہونا قرائن سے ان کو معلوم اور متوقع تھا بخلاف سفر حدیبیہ کے کہ اس میں زحمت بلکہ ہلاکت زیادہ متوقع تھی، اس کے متعلق حق تعالیٰ نے فرمایا) کہ وہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو بدل ڈالیں (یعنی حکم اللہ کا یہ تھا کہ اس غزوہ میں صرف وہ لوگ جائیں جو حدیبیہ اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے ان کے سوا اور کوئی نہ جائے خصوصاً ان لوگوں میں جنہوں نے سفر حدیبیہ میں تخلف اختیار کیا اور بہانہ بازی کی) سو آپ کہہ دیجئے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے (یعنی تمہاری یہ درخواست ہم منظوری نہیں کرسکتے کیونکہ اس میں حکم خدا تعالیٰ کی تبدیلی کا گناہ ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یوں ہی فرما دیا ہے (یعنی حدیبیہ سے واپسی ہی میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے دیا تھا کہ غزوہ خیبر میں اہل حدیبیہ کے سوا کوئی نہ جائے گا اور یہ حکم خداوندی بظاہر قرآن میں مذکور نہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم وحی غیر متلو کے ذریعہ آپ کو ملا تھا جو احادیث کے ذریعہ بیان کی جاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ حدیبیہ سے واپسی میں جو سورت فتح نازل ہوئی اور اس میں یہ آیت آئی انافتحالک فتحا قریبا، اس فتح قریب سے مراد فتح خیبر ہی ہے تو اس آیت نے اشارہ کردیا کہ یہ فتح خیبر انہی اہل حدیبیہ کو نصیب ہوگی اور جب آپ ان کو یہ جواب دیں گے) تو وہ لوگ کہیں گے (ظاہر یہ ہے کہ آپ کے سامنے کہنا مراد نہیں بلکہ اوروں سے کہیں گے کہ ہمارے ساتھ نہ لینے کو جو خدا کا حکم بتلایا جاتا ہے بات یہ نہیں) بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو (اس لئے ہمارا شریک ہونا گوارا نہیں حالانکہ مسلمانوں میں حسد کا کوئی شائبہ نہیں) بلکہ خود یہ لوگ بہت کم بات سمجھتے ہیں (اگر سمجھ پری ہوتی تو اللہ کے اس حکم کی حکمت بآسانی سمجھ سکتے تھے کہ حدیبیہ میں ان حضرات نے ایک بہت بڑے خطرہ اور بڑے امتحان کا کام کیا منافقین نے اپنی دنیوی اغراض کو مقدم رکھا یہ وجہ ان کی تخصیص اور ان کی محرومی کی ہے۔ یہاں تک مضمون خیبر کے متعلق تھا آگے ایک دوسرے واقعہ کے متعلق گفتگو کے لئے ارشاد ہوتا ہے کہ) آپ ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (اگر ایک خیبر میں نہ گئے تو نہ سہی ثواب حاصل کرنے کے اور بھی مواقع آنے والے ہیں چنانچہ) عنقریب تم لوگ ایسے لوگوں (سے لڑنے) کی طرف بلائے جاؤ گے جو سخت لڑنے والے ہوں گے (مراد اس سے فارس و روم کے غزوات ہیں ( کذا فی الدر عن ابن عباس) کیونکہ ان کی فوجیں تربیت یافتہ اور باسامان تھیں کہ) یا تو ان سے لڑتے رہو یا وہ مطیع (اسلام) ہوجاویں (خواہ اسلام قبول کر کے یا اسلامی حکومت کی اطاعت اور جزیہ دینا قبول کر کے مطلب یہ کہ تم اس کام کے لئے بلائے جاؤ گے) سو (اس وقت) اگر تم اطاعت کرو گے (اور ان سے جہاد کرو گے) تو تم کو اللہ تعالیٰ نیک بدلہ دے گا اور اگر تم (اس وقت بھی) روگردانی کرو گے جیسا اس کے قبل (حدیبیہ وغیرہ میں) روگردانی کرچکے ہو تو وہ درد ناک عذاب کی سزا دے گا (البتہ دعوت جہاد سے معذور لوگ مستثنیٰ ہیں چنانچہ) نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے اور (اوپر جو مجاہدین کے لئے جنت و نعمت کے وعدے اور جہاد سے جان چرانے والوں کے لئے وعیدیں مذکور ہیں ان میں کچھ انہی لوگوں کی تخصیص نہیں بلکہ قاعدہ کلیہ ہے کہ) جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا مانے گا اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور جو شخص (حکم سے) ردگردانی کرے گا اس کو درد ناک عذاب کی سزا دے گا۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں اس واقعہ کا ذکر ہے جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد 7 ہجری میں پیش آیا کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خیبر کا ارادہ فرمایا تو صرف ان لوگوں کو ساتھ لیا جو سفر حدیبیہ اور بیعت رضوان میں شریک تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خیبر کی فتح اور وہاں سے اموال غنیمت ملنے کا وعدہ فرمایا تھا اس وقت دیہات کے وہ لوگ جو سفر حدیبیہ میں باوجود بلانے کے عذر کر کے پیچھے رہ گئے تھے ان لوگوں نے بھی جہاد خیبر میں ساتھ چلنے کا ارادہ کیا خواہ اس طرح سے کہ ان کو قرائن سے خیبر کا فتح ہونا اور وہاں مال غنیمت ملنے کی توقع تھی اور یا مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملات اور صلح حدیبیہ کے کچھ برکات دیکھ کر ان کو جہاد سے پیچھے رہنے پر ندامت ہوئی اور اب شرکت جہاد کا ارادہ کیا۔ ان کے جواب میں قرآن نے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے کلام یعنی اس کے حکم کو بدلنا چاہتے ہیں (آیت) یریدون ان یبدلوا کلم اللہ۔ اور مراد اس حکم سے غزوہ خیبر اور اس کے مغانم کا صرف اہل حدیبیہ کے ساتھ مخصوص ہونا ہے اور اس کے بعد (آیت) کذلکم قال اللہ من قبل میں بھی یہی تخصیص اہل حدیبیہ کا قول ہے مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں تو کہیں اس تخصیص کا ذکر ہے نہیں پھر اس تخصیص کے وعدہ کو کلام اللہ اور قال اللہ کہنا کیسے صحیح ہوا۔ وحی الٰہی صرف قرآن میں منحصر نہیں، قرآن کے علاوہ بھی بذریعہ وحی احکام آئے ہیں اور احادیث رسول بھی کلام اللہ کے حکم میں ہیں : علماء نے فرمایا کہ یہ تخصیص اہل حدیبیہ کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اس کا قرآن میں کہیں صراحتہ ذکر نہیں، بلکہ یہ تخصیص اہل حدیبیہ کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے وحی غیر متلو کے ذریعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سفر حدیبیہ میں فرمایا تھا، اسی کو اس جگہ کلام اللہ اور قال اللہ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ علاوہ احکام قرآن کے جو احکام احادیث صحیحہ میں مذکور ہیں وہ بھی حسب تصریح اس آیت کے کلام اللہ اور قول اللہ میں داخل ہیں۔ جو ملحدین احادیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حجت دین نہیں مانتے یہ آیتیں ان کے الحاد کو کھولنے کے لئے کافی ہیں، رہا یہ معاملہ کہ اسی سورت میں جو سفر حدیبیہ کے شروع میں نازل ہوئی ہے یہ الفاظ قرآن میں موجود ہیں (آیت) اثابھم فتحا قریبا، اور باتفاق مفسرین یہاں فتح قریب سے فتح خیبر مراد ہے تو اس طرح قرآن میں فتح خیبر کا اور اس کے غنائم اہل حدیبیہ کو ملنے کا وعدہ آ گیا وہی اس لفظ کلام اللہ اور قال اللہ کی مراد ہو سکتی ہے، تو حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں غنیمت کا وعدہ تو ہے مگر اس کا کہیں ذکر نہیں کہ یہ غنیمت اہل حدیبیہ کے ساتھ مخصوص ہوگی دوسرے اس میں شریک نہ ہو سکیں گے یہ تخصیص تو بلاشبہ حدیث رسول ہی سے معلوم ہوئی ہے وہی کلام اللہ اور قال اللہ کا مصداق ہے اور بعض حضرات نے جو سورة توبہ کی آیت کو اس کا مصداق قرار دیا ہے یعنی (آیت) فاستاذنوک للخروج فقل لن تخرجوا معی ابدا ولن تقاتلوا معی عدوا انکم رضیتم بالقعود اول مرة تو اس لئے صحیح نہیں کہ یہ آیات غروہ تبوک کے متعلق آئی ہیں اور وہ غزوہ خیبر کے بعد سن 9 ہجری میں ہوا ہے (قرطبی وغیرہ) قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا، اس میں جو تاکیدی طور پر متخلفین حدیبیہ سے یہ فرمایا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں ہو سکتے یہ صرف غزوہ خیبر کے ساتھ مخصوص ہے آگے کسی اور جہاد میں بھی شریک نہ ہو سکیں یہ اس سے لازم نہیں آتا، یہی وجہ ہے کہ ان متخلفین حدیبیہ میں سے قبائل مزنیہ اور جہلینہ بعد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے (کمافی الروح عن البحر۔ بیان) متخلفین حدیبیہ میں سے بعض لوگ بعد میں تائب ہو کر سچے مسلمان ہوگئے تھے : غزوہ خیبر کے وقت جتنے متخلفین حدیبیہ تھے سبھی کو اس جہاد کی شرکت سے روک دیا گیا تھا حالانکہ ان میں سب منافق نہیں، بعض مسلمان بھی تھے اور بعض گو اس وقت منافق تھے مگر بعد میں سچے ایمان کی ان کو توفیق ہوگئی تھی اس لئے ایسے لوگوں کی دل جوئی کے لئے اگلی آیات آئیں جن میں ان کو تسلی دی گئی ہے کہ اگرچہ غزوہ خیبر اللہ کے وعدے کے مطابق اہل حدیبیہ کے لئے مخصوص کردیا گیا مگر جو مخلص مسلمان ہیں اور دل سے شرکت جہاد چاہتے ہیں ان کے لئے دوسرے مواقع آنے والے ہیں ان مواقع کو قرآن کریم ایک خاص پیشین گوئی کی صورت میں بیان فرماتا ہے جس کا ظہور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ہونے والا ہے۔ ارشاد فرمایا، (آیت) سَـتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ ، یعنی ایک ایسا وقت آنے والا ہے جبکہ تمہیں جہاد کی دعوت دی جائے گی اور یہ جہاد ایک بڑی سخت جنگجو قوم کے ساتھ ہوگا اور تاریخ اسلام شاہد ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں پیش نہیں آیا، کیونکہ اولا تو آپ کا اس کے بعد اعراب کو کسی غزوہ میں دعوت شرکت دینا ثابت نہیں ثانیاً اس کے بعد کسی ایسی قوم سے مقابلہ بھی نہیں ہوا جس کے بہادر اور سخت ہونے کا قرآن نے ذکر فرمایا ہے کیونکہ غزوہ تبوک میں اگرچہ مقابلہ ایسی قوم سے تھا مگر نہ اس غزوہ میں اعراب کو دعوت دینا ثابت ہے اور نہ اس میں قتال کی نوبت آئی کیونکہ مقابل آدمیوں پر اللہ نے رعب ڈال دیا وہ مقابلہ پر نہیں آئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ بغیر قتال کے واپس آئے اور غزوہ حنین میں بھی نہ ان کو دعوت دینا ثابت ہے اور نہ اس وقت مقابل کوئی ایسی قوم تھی جو سخت اور ساز و سامان والی ہو، اس لئے ائمہ تفسیر میں سے بعض نے فرمایا ہے کہ مراد اس سے فارس اور روم یعنی کسریٰ و قیصر کی قومیں ہیں جن کے ساتھ جہاد حضرت فاروق اعظم کے عہد میں ہوا ہے (ہو قول ابن عباس وعطاء و مجاہد ابن ابی لیلیٰ و الحسن قرطبی) اور حضرت رافع بن خدیج نے فرمایا کہ ہم قرآن کی یہ آیت پڑھتے تھے اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ اس قوم سے کون سی قوم مراد ہے یہاں تک کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد صدیق اکبر نے اپنی خلافت کے زمانے میں ہمیں بنوحنیفہ اہل یمامہ یعنی مسیلمہ کذاب کی قوم کے ساتھ جہاد کرنے کی دعوت دی اس وقت ہم سمجھے کہ یہی قوم اس آیت میں مراد تھی مگر ان دونوں اقوال میں کوئی تضاد و تعارض نہیں ہوسکتا ہے کہ سبھی قومیں اس میں داخل ہوں۔ امام قرطبی نے اس کو نقل کر کے فرمایا کہ یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم کی خلافت حق کے مطابق تھی ان کی دعوت کا ذکر خود قرآن نے آیت مذکورہ میں فرمایا ہے۔ (آیت) تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ ، حضرت ابی کی قرات میں او یسلموا بغیر نون کے آیا ہے اس لئے قرطبی نے اس کے مطابق حرف او کو حتیٰ کے معنی میں لیا ہے یعنی اس قوم سے قتال اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک کہ وہ مطیع فرمانبردار نہ ہوجائیں خواہ اسلام قبول کر کے یا اسلامی حکومت کی اطاعت میں رہنا قبول کر کے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْہَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ۝ ٠ ۚ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللہِ۝ ٠ ۭ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللہُ مِنْ قَبْلُ۝ ٠ ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا۝ ٠ ۭ بَلْ كَانُوْا لَا يَفْقَہُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا۝ ١٥ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ خلف پیچھے رہنا وخَلَّفْتُهُ : تركته خلفي، قال فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلافَ رَسُولِ اللَّهِ [ التوبة/ 81] ، أي : مخالفین، وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا [ التوبة/ 118] ، قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ [ الفتح/ 16] ، والخالِفُ : المتأخّر لنقصان أو قصور کالمتخلف، قال : فَاقْعُدُوا مَعَ الْخالِفِينَ [ التوبة/ 83] ، والخَالِفةُ : عمود الخیمة المتأخّر، ويكنّى بها عن المرأة لتخلّفها عن المرتحلین، وجمعها خَوَالِف، قال : رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوالِفِ [ التوبة/ 87] ، ووجدت الحيّ خَلُوفاً ، أي : تخلّفت نساؤهم عن رجالهم، والخلف : حدّ الفأس الذي يكون إلى جهة الخلف، وما تخلّف من الأضلاع إلى ما يلي البطن، والخِلَافُ : شجر كأنّه سمّي بذلک لأنّه فيما يظنّ به، أو لأنّه يخلف مخبره منظره، ويقال للجمل بعد بزوله : مخلف عام، ومخلف عامین . وقال عمر رضي اللہ عنه : ( لولا الخِلِّيفَى لأذّنت) «1» أي : الخلافة، وهو مصدر خلف . قرآن میں ہے : ۔ فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلافَ رَسُولِ اللَّهِ [ التوبة/ 81] جو لوگ ( غزوہ تبوک ) میں پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا کی ( مرضی ) کے خلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے ۔ یعنی پیغمبر خدا کے مخالف ہوکر ۔ وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا[ التوبة/ 118] اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا کیا تھا ۔ قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ [ الفتح/ 16] پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہدو ۔ الخالف ۔ نقصان یا کوتاہی کی وجہ سے پیچھے رہنے ولا اور یہی متخلف کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَاقْعُدُوا مَعَ الْخالِفِينَ [ التوبة/ 83] پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو ۔ الخالفۃ خیمے کا پچھلا ستون بطور کنا یہ اس سے مراد عورت لی جاتی ہے کیونکہ یہ مجاہدین سے پیچھے رہ جاتی ہیں ۔ اس کی جمع خوالف ہے قرآن میں ہے : ۔ رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوالِفِ [ التوبة/ 87] یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں ( گھروں میں ) بیٹھ رہیں ۔ یعنی مرد گئے ہوئے ہیں صرف عورتیں موجود ہیں ۔ الخلف ( ایضا ) کلہاڑی کی دھار ۔ پہلو کی سب سے چھوٹی پسلی جو پیٹ کے جانب سب سے آخری ہوتی ہے ۔ الخلاف بید کی قسم کا ایک درخت کیونکہ وہ امید کے خلاف اگتا ہے یا اس کا باطن ظاہر کے خلاف ہوتا ہے : نہ سالگی یک یا دو سال گذستہ باشد ۔ الخلیفی ۔ خلافت ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کا قول ہے اگر بار خلافت نہ ہوتا تو میں خود ہی اذان دیا کرتا ( اذان کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے ) إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ طلق أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] ، الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] ، وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] ، فهذا عامّ في الرّجعيّة وغیر الرّجعيّة، وقوله : وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ [ البقرة/ 228] ، خاصّ في الرّجعيّة، وقوله : فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ [ البقرة/ 230] ، أي : بعد البین، فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا [ البقرة/ 230] ، يعني الزّوج الثّاني . وَانْطَلَقَ فلانٌ: إذا مرّ متخلّفا، وقال تعالی: فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخافَتُونَ [ القلم/ 23] ، انْطَلِقُوا إِلى ما كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ [ المرسلات/ 29] ، وقیل للحلال : طَلْقٌ ، أي : مُطْلَقٌ لا حَظْرَ عليه، وعدا الفرس طَلْقاً أو طَلْقَيْنِ اعتبارا بتخلية سبیله . والمُطْلَقُ في الأحكام : ما لا يقع منه استثناء «2» ، وطَلَقَ يَدَهُ ، وأَطْلَقَهَا عبارةٌ عن الجود، وطَلْقُ الوجهِ ، وطَلِيقُ الوجهِ : إذا لم يكن کالحا، وطَلَّقَ السّليمُ : خَلَّاهُ الوجعُ ، قال الشاعر : 302- تُطَلِّقُهُ طوراً وطورا تراجع«3» ولیلة طَلْقَةٌ: لتخلية الإبل للماء، وقد أَطْلَقَهَا . ( ط ل ق ) ا لطلاق دراصل اس کے معنی کسی بندھن سے آزاد کرنا کے ہیں ۔ محاورہ الطلقت البعر من عقالہ وطلقۃ میں نے اونٹ کا پائے بند کھول دیا طالق وطلق وہ اونٹ جو مقید نہ ہو اسی سے خلی تھا کی طرح طلقت المرءۃ کا محاورہ مستعار ہے یعنی میں نے اپنی عورت کو نکاح کے بندھن سے آزادکر دیا ایسی عورت کو طائق کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو ۔ الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] طلاق صرف دو بار ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے تئیں روکے کے رہیں ۔ میں طلاق کا لفظ عام ہے جو رجعی اور غیر رجعی دونوں کو شامل ہے ۔ لیکن آیت کریمہ : ۔ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ [ البقرة/ 228] اور ان کے خاوند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں ۔ میں واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہونے کا حکم رجعی طلاق کے ساتھ مخصوص ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ [ البقرة/ 230] پھر اگر شوہر ( دو طلاقوں کے بعد تیسری ) طلاق عورت کو دے دے تو ۔۔۔۔ اس پہلے شوہر پر حلال نہ ہوگی ۔ میں من بعد کے یہ معنی ہیں کہ اگر بینونت یعنی عدت گزرجانے کے بعد تیسری طلاق دے ۔ تو اس کے لئے حلال نہ ہوگی تا و قتیلہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا [ البقرة/ 230] میں طلقھا کے معنی یہ ہیں کہ اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے وہ پہلے خاوند کے نکاح میں آنا چاہیئے کے تو ان کے دوبارہ نکاح کرلینے میں کچھ گناہ نہیں ہے ۔ انطلق فلان کے معنی چل پڑنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخافَتُونَ ، [ القلم/ 23] تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے : ۔ انْطَلِقُوا إِلى ما كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ [ المرسلات/ 29] جس چیز کو تم جھٹلا یا کرتے تھے اب اسکی طرف چلو ۔ اور حلال چیز کو طلق کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے کھالینے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہوتی ۔ عد الفرس طلقا اوطلقین گھوڑے نے آزادی سے ایک دو دوڑیں لگائیں اور فقہ کی اصطلاحی میں مطلق اس حکم کو کہا جاتا ہے جس سے کوئی جزئی مخصوص نہ کی گئی ہو ۔ طلق یدہ واطلقھا اس نے اپنا ہاتھ کھول دیا ۔ طلق الوجہ اوطلیق الوجہ خندہ رو ۔ ہنس مکھ ، طلق السلیم ( مجہول ) مار گزیدہ کا صحت یاب ہونا ۔ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) تطلقہ طورا وطور الرجع کہ وہ کبھی در د سے آرام پالیتا ہے اور کبھی وہ دور دوبارہ لوٹ آتا ہے لیلۃ طلحۃ وہ رات جس میں اونٹوں کو پانی پر وارد ہونے کے لئے آزاد دیا جائے کہ وہ گھاس کھاتے ہوئے اپنی مرضی سے چلے جائیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ الطلق الابل یعنی اس نے پانی پر وار ہونے کے لئے اونٹوں کو آزاد چھوڑدیا ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں غنم الغَنَمُ معروف . قال تعالی: وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُما [ الأنعام/ 146] . والغُنْمُ : إصابته والظّفر به، ثم استعمل في كلّ مظفور به من جهة العدی وغیرهم . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ [ الأنفال/ 41] ، فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالًا طَيِّباً [ الأنفال/ 69] ، والمَغْنَمُ : ما يُغْنَمُ ، وجمعه مَغَانِمُ. قال : فَعِنْدَ اللَّهِ مَغانِمُ كَثِيرَةٌ [ النساء/ 94] . ( غ ن م ) الغنم بکریاں ۔ قرآن پاک میں ہے : وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُما [ الأنعام/ 146] اور گائیوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کردی تھی ۔ الغنم کے اصل معنی کہیں سے بکریوں کا ہاتھ لگنا ۔ اور ان کو حاصل کرنے کے ہیں پھر یہ لفظ ہر اس چیز پر بولا جانے لگا ہے ۔ جو دشمن یا غیر دشمن سے حاصل ہو ۔ قرآن میں ہے : وَاعْلَمُوا أَنَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ [ الأنفال/ 41] اور جان رکھو کہ جو چیز تم کفار سے لوٹ کر لاؤ ۔ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالًا طَيِّباً [ الأنفال/ 69] جو مال غنیمت تم کو ہے اسے کھاؤ کہ تمہارے لئے حلال طیب ہے ۔ المغنم مال غنیمت اس کی جمع مغانم آتی ہے ۔ قرآن پاک میں ہے ۔ فَعِنْدَ اللَّهِ مَغانِمُ كَثِيرَةٌ [ النساء/ 94] سو خدا کے پاس بہت سی غنیمتں ہیں ۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد بها نحو قولهم فيما لا يعتدّ به : هو لحم علی وضم ] «1» . ( و ذ ر ) یذر الشئی کے معنی کسی چیز کو قلت اعتداد کی وجہ سے پھینک دینے کے ہیں ( پھر صرف چھوڑ دینا کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ اس کا فعل ماضی استعمال نہیں ہوتا چناچہ فرمایا : ۔ قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں اور جن اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں ۔ ؟ ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور انکا جھوٹ ۔ وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] تو جتنا سو د باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور آیت : ۔ وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] اور عورتیں چھوڑ جائیں ۔ میں یترکون یا یخلفون کی بجائے یذرون کا صیغہ اختیار میں جو خوبی ہے وہ اس کے بعد دوسری کتاب میں بیان کریں گے ۔ الو ذرۃ : گوشت کی چھوٹی سی بوٹی کو کہتے ہیں اور قلت اعتناء کے سبب اسے اس نام سے پکارتے ہیں جیسا کہ حقیر شخص کے متعلق ھو لحم علیٰ وضمی ( یعنی وہ ذلیل ہے ) کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن سيئاتهم ويحتسب بحسناتهم «5» . وقال تعالی: فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] ، وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] ، وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ، ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] ، يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] أي : تغيّر عن حالها، أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] ، وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] ، وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] ، وقوله : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] أي : لا يغيّر ما سبق في اللوح المحفوظ، تنبيها علی أنّ ما علمه أن سيكون يكون علی ما قد علمه لا يتغيّرعن حاله . وقیل : لا يقع في قوله خلف . وعلی الوجهين قوله تعالی: تَبْدِيلَ لِكَلِماتِ اللَّهِ [يونس/ 64] ، لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ [ الروم/ 30] قيل : معناه أمر وهو نهي عن الخصاء . والأَبْدَال : قوم صالحون يجعلهم اللہ مکان آخرین مثلهم ماضین «1» . وحقیقته : هم الذین بدلوا أحوالهم الذمیمة بأحوالهم الحمیدة، وهم المشار إليهم بقوله تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] والبَأْدَلَة : ما بين العنق إلى الترقوة، والجمع : البَئَادِل «2» ، قال الشاعر : 41- ولا رهل لبّاته وبآدله ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا ۔ اور آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ ایسے نیک کام کریں جو ان کی سابقہ برائیوں کو مٹادیں اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمادیگا اور ان کے نیک عملوں کا انہیں ثواب عطا کریئگا فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] تو جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے ۔ وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] جب ہم گوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں ۔ وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] کے معنی یہ ہیں کہ زمین کی موجودہ حالت تبدیل کردی جائے گی ۔ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] کہ وہ ( کہیں گی ) تہمارے دین کو ( نہ ) بدل دے ۔ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] اور جس شخص نے ایمان ( چھوڑ کر اس کے بدلے کفر اختیار کیا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] 47 ۔ 38 ) اور اگر تم منہ پھروگے تو وہ تہماری جگہ اور لوگوں کو لے آئیگا ۔ اور آیت کریمہ : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی ۔ کا مفہوم یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا پس اس میں تنبیہ ہے کہ جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وقوع پذیر ہوگی وہ اس کے علم کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوگی اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس کے وعدہ میں خلف نہیں ہوتا ۔ اور فرمان بار ی تعالیٰ : { وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ } ( سورة الأَنعام 34) قوانین خدا وندی کو تبدیل کرنے والا نہیں ۔{ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ } ( سورة الروم 30) نیز : لا تبدیل لخلق اللہ فطرت الہیٰ میں تبدیل نہیں ہوسکتی ( 30 ۔ 30 ) بھی ہر دو معافی پر محمول ہوسکتے ہیں مگر بعض نے کہاں ہے کہ اس آخری آیت میں خبر بمعنی امر ہے اس میں اختصاء کی ممانعت ہے الا ابدال وہ پاکیزہ لوگ کہ جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے کو اس کا قائم مقام فرمادیتے ہیں ؟ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں ۔ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں جہنوں نے صفات ذمیمہ کی بجائے صفات حسنہ کو اختیار کرلیا ہو ۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جنکی طرف آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] میں ارشاد فرمایا ہے ۔ البادلۃ گردن اور ہنسلی کے درمیان کا حصہ اس کی جمع بادل ہے ع ( طویل ) ولارھل لباتہ وبآدلہ اس کے سینہ اور بغلوں کا گوشت ڈھیلا نہیں تھا ۔ كلم الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها، ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ حسد الحسد : تمنّي زوال نعمة من مستحق لها، وربما کان مع ذلک سعي في إزالتها، وروي : «المؤمن يغبط والمنافق يحسد» وقال تعالی: حَسَداً مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ [ البقرة/ 109] ، وَمِنْ شَرِّ حاسِدٍ إِذا حَسَدَ [ الفلق/ 5] . ( ح س د ) الحسد ( ن ) کسی مستحق نعمت سے اس نعمت سے اس نعمت کے زائل ہونے کی تمنا کرنے کا نام حسد ہے بسا اوقات اس میں اسی مقصد کے لئے کوشش کرنا بھی شامل ہوتا ہے ایک روایت میں ہے : ۔ کہ مومن رشک کرتا ہے اور منافق حسد کرتا ہے قرآن میں ہے : ۔ حَسَداً مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ [ البقرة/ 109] اپنے دل کی جلن سے ۔ وَمِنْ شَرِّ حاسِدٍ إِذا حَسَدَ [ الفلق/ 5] اور حسد کرنے والے کی برانی سے جب حسد کرنے لگے ۔ فقه الفِقْهُ : هو التّوصل إلى علم غائب بعلم شاهد، فهو أخصّ من العلم . قال تعالی: فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً [ النساء/ 78] ( ف ق ہ ) الفقہ کے معنی علم حاضر سے علم غائب تک پہچنچنے کے ہیں اور یہ علم سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً [ النساء/ 78] ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے ۔ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ بھی آجاتا ہے ) قرآن میں ہے :۔ { هَا أَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ } ( سورة آل عمران 119) دیکھو ! تم ایسے لوگ ہو کچھ ان سے دوستی رکھتے ہواولائک علیٰ ھدی (2 ۔ 5) یہی لوگ ہدایت پر ہیں اور کبھی اس میں تصرف ( یعنی بحذف ہمزہ آخر ) بھی کرلیا جاتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع (22) ھؤلا ثم ھؤلاء کلا اعطیتہ ت نوالا محذوۃ بمشال ( ان سب لوگوں کو میں نے بڑے بڑے گرانقدر عطیئے دیئے ہیں قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جو لوگ غزوہ حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے تھے یعنی غفار اسلم اشجع مزنیہ اور جہینہ والے عنقریب جب خیبر کی غنیمتیں لینے چلو گے تو کہیں گے کہ ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ خیبر کو چلیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو جو اس نے اپنے نبی کو دیا ہے کہ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والوں کو خیبر چلنے کی اجازت نہ دی جائے اس کو تبدیل کر ڈالیں آپ ان قبیلہ والوں سے فرما دیجیے کہ تم ہرگز خیبر کو ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے اور اگر ساتھ ہو بھی لو گے تو تمہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا جیسا کہ ہم نے تمہیں کہہ دیا ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے فرما دیا ہے کہ اوروں کو مت لے جانا۔ چناچہ سورة توبہ میں یہ آیت گزر گئی قل لن تخرجوا معنی ابدا، الخ۔ یہ حکم سن کر ان لوگوں نے مومنین سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم نہیں دیا بلکہ تم مال غنیمت کی وجہ سے حسد کر رہے ہو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کا ہی قول روایت کردیا وہ لوگ کہیں گے بلکہ تم لوگ ہم سے مال غنیمت پر حسد کرتے ہو بلکہ یہ لوگ خود ہی بات نہیں سمجھتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥ { سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْہَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْکُمْ } ” (اے مسلمانو ! ) عنقریب یہی پیچھے رہنے والے کہیں گے ‘ جب تم لوگغنیمتیں حاصل کرنے کے لیے جائو گے ‘ کہ ہمیں بھی اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں۔ “ اس آیت میں فتح خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ خیبر یہودیوں کا بہت بڑا گڑھ تھا۔ مسلمانوں سے بد عہدی کی بنا پر جن دو یہودی قبائل (بنو قینقاع اور بنو نضیر) کو مدینہ سے نکالا گیا تھا وہ بھی خیبر میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ اس علاقے میں انہوں نے بڑے بڑے قلعے بنا کر عسکری اعتبار سے خود کو بہت مضبوط کرلیا تھا۔ یہ لوگ ہر وقت مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشوں کی منصوبہ بندیاں کرتے رہتے تھے۔ چناچہ صلح حدیبیہ کے بعد جب قریش کی طرف سے جنگ وغیرہ کا کوئی خطرہ نہ رہا تو اگلے ہی سال یعنی ٧ ہجری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی سرکوبی کے لیے پوری طاقت کے ساتھ خیبر پر چڑھائی کا فیصلہ کیا۔ یہاں ان آیات کے ذریعے مسلمانوں کو پیشگی (٦ ہجری میں) مطلع کیا جا رہا ہے کہ جب اگلے سال تم لوگ خیبر کی طرف پیش قدمی کرو گے تو اس کی فتح کو یقینی سمجھتے ہوئے اور وہاں سے بہت بڑے اموالِ غنیمت کی توقع کرتے ہوئے یہ منافقین بھی اس مہم پر تمہارے ساتھ جانے کے لیے تم سے اجازت مانگیں گے۔ { یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا کَلٰمَ اللّٰہِ } ” یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو تبدیل کردیں ! “ گویا یہ لوگ اللہ کے اس حکم کو خلافِ واقعہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خیبر کی مہم پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف انہی لوگوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی جو حدیبیہ کی مہم پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گئے تھے اور بیعت ِرضوان میں شریک ہوئے تھے ‘ جیسا کہ آگے آیات ١٨ ‘ ١٩ میں بصراحت ارشاد ہوا ہے۔ { قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا کَذٰلِکُمْ قَالَ اللّٰہُ مِنْ قَبْلُ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں جائو گے ‘ یہ بات اللہ پہلے ہی فرما چکا ہے۔ “ ان الفاظ کا اشارہ اسی سورت کی آیات ١٨ ‘ ١٩ کی طرف ہے ‘ جو اس سے پہلے نازل ہوچکی تھیں۔ { فَسَیَـقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا } ” اس پر وہ کہیں گے : بلکہ آپ لوگ ہم سے حسد کر رہے ہیں۔ “ اس پر وہ آپ لوگوں پر الزام دھریں گے کہ آپ لوگ حسد کی بنا پر ہمیں اپنے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے کہ ہم بھی کہیں تمہیں حاصل ہونے والے اموالِ غنیمت میں حصہ دار نہ بن جائیں۔ { بَلْ کَانُوْا لَا یَفْقَہُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا } ” بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ فہم ہی نہیں رکھتے مگر بہت کم۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

27 That is, `The time is approaching when these very people who were shirking accompanying you on the dangerous journey, would see you going on an expedition in which there would be the possibility of attaining easy victory and much booty. Then they would come running and request you to take them also along." Such a time came just three months after the truce of Hudaibiyah, when the Holy Prophet invaded Khaiber and took it easily. At that time everyone could see that after the truce with the Quraish not only Khaiber but the Jewish settlements of Taima, Fadak, Wadi-al-Qura' and others also of northern Arabia would not be able to withstand the might of the Muslims and would easily fall to the Islamic State. Therefore, Allah in these verses forewarned the Holy Prophet that the opportunists of the suburbs of Madinah would come up to take part in and receive their share when they would see easy victories being attained, and that he should tell them plainly: "You will never be allowed to take part in these, because only those who had gone forth to offer their lives in the conflict at Hudaibiyah regardless of every danger would be entitled o them. " 28 "Allah's decree" implies the decree that only those people would be allowed to accompany the Holy Prophet in the expedition to Khaiber, who had taken part in the expedition to Hudaibiyah and sworn the pledge there for AIIah has reserved the spoils of Khaiber cxclusively for them; as has been stated clearly in verse 18 blow. 29 The words "Allah has already said this before" caused the people the misunderstanding that this refers to some other command bearing upon the same subject that might have been sent down before this verse, and since no such command is found in this Surah before this verse, they started looking for it at other places in the Qur'an till they found verse 84 of Surah At-Taubah, in which this very subject has been dealt with for another occasion. But that verse, in fact, does not apply to this, for it was sent down in connection with the Battle of Tabuk, and its period of revelation is three years after the period of revelation of Surah AI-Fat-h. The fact of the matter is that this verse refers to vv. 18-19 of this Surah itself, and Allah's already having said this does not mean its having been said before this verse but its having boon said to the laggards before this conversation. This conversation with the laggards about which advance instructions are being given to the Holy Prophet was to take place at the time of the expedition to Khaiber, and this whole Surah, including vv. 18-19, had been sent down three months earlier on return from Hudaibiyah on the way. A careful study of the context shows that Allah here is giving this instruction to His Messenger: "When after your return at Madinah the laggards come to you with their excuses, you should give them this reply, and when they express their desire to accompany you in the expedition to Khaiber, you should tell them this. "

سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :27 یعنی عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب یہی لوگ ، جو آج خطرے کی مہم پر تمہارے ساتھ جانے سے جی چرا گئے تھے ، تمہیں ایک ایسی مہم پر جاتے دیکھیں گے جس میں ان کو آسان فتح اور بہت سے اموال غنیمت کے حصول کا امکان نظر آئے گا ، اور اس وقت یہ خود دوڑے آئیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلو ۔ یہ وقت صلح حدیبیہ کے تین ہی مہینے بعد آگیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی اور بڑی آسانی کے ساتھ اسے فتح کر لیا ۔ اس وقت ہر شخص کو یہ بات صاف نظر آ رہی تھی کہ قریش سے صلح ہو جانے کے بعد اب خیبر ہی کے نہیں ، بلکہ تَیما ، فَدَک ، وادی القریٰ ، اور شمالی حجاز کے دوسرے یہودی بھی مسلمانوں کی طاقت کا مقابلہ نہ کر سکیں گے اور یہ ساری بستیاں پکے پھل کی طرح اسلامی حکومت کی گود میں آ گریں گی ۔ اس لیے اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان آیات میں پیشگی خبردار کر دیا کہ اطراف مدینہ کے یہ موقع پرست لوگ ان آسان فتوحات کو حاصل ہوتے دیکھ کر ان میں حصہ بٹا لینے کے لیے آ کھڑے ہوں گے ، مگر تم انہیں صاف جواب دے دینا کہ ان میں حصہ لینے کا موقع تمہیں ہرگز نہ دیا جائے گا ، بلکہ یہ ان لوگوں کا حق ہے جو خطرات کے مقابلے میں سرفروشی کے لیے آگے بڑھے تھے ۔ سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :28 اللہ کے فرمان سے مراد یہ فرمان ہے کہ خیبر کی مہم پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف انہی لوگوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی جو حدیبیہ کی مہم پر آپ کے ساتھ گئے تھے اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے ۔ اللہ تعالی نے خیبر کے اموال غنیمت ان ہی کے لیے مخصوص فرما دیے تھے جیسا کہ آگے آیت 18 میں بصراحت ارشاد ہوا ہے ۔ سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :29 اللہ پہلے یہ فرما چکا ہے کے الفاظ سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ اس آیت سے پہلے کوئی حکم اس مضمون کا آیا ہوا ہوگا جس کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے ، اور چونکہ اس سورہ میں اس مضمون کا کوئی حکم اس آیت سے پہلے نہیں ملتا اس لیے انہوں نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اسے تلاش کرنا شروع کیا ، یہاں تک کہ سورہ توبہ کی آیت 84 انہیں مل گئی جس میں یہی مضمون ایک اور موقع پر ارشاد ہوا ہے ۔ لیکن درحقیقت وہ آیت اس کی مصداق نہیں ہے ، کیونکہ وہ غزوہ تبوک کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی جس کا زمانہ نزول سورہ فتح کے زمانہ نزول سے تین سال بعد کا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ اس آیت کا اشارہ خود اسی سورہ کی آیات 18 ۔ 19 کی طرف ہے ، اور اللہ کے پہلے فرما چکنے کا مطلب اس آیت سے پہلے فرمانا نہیں ہے بلکہ مخلَّفین کے ساتھ اس گفتگو سے پہلے فرمانا ہے ۔ مخلَّفین کے ساتھ یہ گفتگو ، جس کے متعلق یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشگی ہدایات دی جا رہی ہیں ، خیبر کی مہم پر جانے کے وقت ہونے والی تھی ، اور یہ پوری سورۃ ، جس میں آیات 18 ۔ 19 بھی شامل ہیں ، اس سے تین مہینے پہلے حدیبیہ سے پلٹتے وقت راستے میں نازل ہو چکی تھیں ۔ سلسلہ کلام کو غور سےدیکھیے تو معلوم ہو جائے گا کہ یہاں اللہ تعالی اپنے رسول کو یہ ہدایت دے رہا ہے کہ جب تمہارے مدینہ واپس ہونے کے بعد یہ پیچھے رہ جانے والے لوگ آ کر تم سے یہ عذرات بیان کریں تو ان کو یہ جواب دینا ، اور خیبر کی مہم پر جاتے وقت جب وہ تمہارے ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کریں تو ان سے یہ کہنا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

10: صحابہ کرام نے حدیبیہ کے سفر میں جس جاں نثاری اور اطاعت کے جذبے سے کام لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے صلے میں یہ وعدہ فرمایا تھا کہ مکہ مکرمہ کی فتح سے پہلے انہیں ایک اور فتح حاصل ہوگی، جس میں بہت سا مال غنیمت بھی حصے میں آئے گا، اس سے مراد خیبر کی فتح تھی، چنانچہ سن ٧ ہجری میں جب آپ خیبر کے لئے روانہ ہورہے تھے تو صحابہ کرام کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق خیبر ضرور فتح ہوگا اور وہاں سے مال غنیمت بھی حاصل ہوگا، اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ جب یہ موقع آئے گا تو جو منافق حدیبیہ کے سفر میں حیلے بہانے کرکے پیچھے رہ گئے تھے، وہ خیبر کے سفر میں تمہارے ساتھ چلنا چاہیں گے کیونکہ انہیں یقین ہوگا کہ اس سفر میں فتح ہوگی اور مال غنیمت بھی ملے گا، لیکن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جارہا ہے کہ ان کی یہ خواہش پوری نہ کریں اور انہیں ساتھ لے جانے سے انکار کردیں۔ 11: اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلے ہی یہ حکم دیا تھا کہ خیبر کے سفر میں صرف ان حضرات کو شرکت کی اجازت دیں جو حدیبیہ کے سفر میں آپ کے ساتھ تھے، اسی حکم کی طرف اس آیت میں اللہ کی بات فرماکر اشارہ کیا گیا ہے۔ 12: یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اس سے پہلے قرآن کریم میں کہیں مذکور نہیں ہے کہ خیبر کی جنگ میں صرف وہ لوگ شریک ہوں جو حدیبیہ میں شامل تھے، بلکہ یہ حکم اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا تھا، اور آپ نے لوگوں تک پہنچایا، اس سے صاف واضح ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن کریم کے علاوہ بھی وحی کے ذریعے احکام آیا کرتے تھے، اور وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے احکام ہوتے تھے، لہذا منکرین حدیث جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے علاوہ کسی اور وحی کا کوئی ثبوت نہیں ہے یہ آیت اس کی واضح تردید کررہی ہے۔ 13: یعنی ہمیں مال غنیمت میں حصہ دار بنانا نہیں چاہتے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(48:15) سیقول۔ مضارع واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے معنی میں آیا ہے) ۔ س مستقبل قریب کے لئے ہے۔ المخلفون : ملاحظہ ہو 48:11 ۔ مراد وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی بہانے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ قافلہ کے ساتھ عمرہ کے لئے نہیں نکلے تھے۔ جو سفر بعد میں صلح حدیبیہ پر منتج ہوا۔ اذا جب۔ انطلقتم ماضی (بمعنی مستقبل) جمع مذکر حاضر۔ انطلاق (افتعال) مصدر۔ جب تم روانہ ہوگے۔ جب تم چلو گے۔ مغانم۔ جمع مغنم واحد ، وہ چیزیں جو مفت حاصل کی جائیں دشمن سے ہوں یا کسی اور سے۔ الغنم بمعنی بکریاں ۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے ومن البقر والغنم حرمنا علیہم سحومھما (6:6) اور گائیوں اور بکریوں سے ان دونوں کی چربی ہم نے ان پر حرام کردی تھی۔ الغنم کے اصل معنی ہیں کہیں سے بکریوں کا ہاتھ لگنا اور ان کا حاصل کرنا۔ پھر یہ لفظ ہر اس چیز پر بولا جانے لگا جو دشمن یا غیر دشمن سے حاصل ہو۔ مال غنیمت۔ قرآن مجید میں ہے :۔ فکلوا مما غنمتم حلالا طیبا (8:69) جو مال غنیمت تم کو ملا ہے اسے کھاؤ کہ تمہارے لئے حلال طیب ہے۔ مغانم جمع مغنم کی۔ قرآن مجید میں ہے فعند اللّٰہ مغانم کثیرۃ (4:94) سو خدا کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں۔ الی مغانم : الی حرف جار مغانم مجرور۔ بوجہ غیر منصرف ہونے کے اس کے آخر میں کسری نہیں آتا۔ بجائے کسرہ کے فتح آتا ہے۔ (سبب منع صرف جمع جو منتہی الجموع کے وزن پر ہے جیسے مساجد و مقاصد وغیرہ) لتاخذوھا۔ لام تعلیل کا ہے مضارع جمع مذکر حاضر (نون اعرابی عمل لام سے گرگیا ہے) اخذ (باب نصر) مصدر۔ بمعنی لینا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع مغانم ہے۔ تاکید تم ان کو حاصل کرو۔ ان پر قبضہ کرلو۔ ذرونا نتبعکم : یہ مقولہ سیقول المخلفون کا۔ ذرونا۔ ذروا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر وذر (باب سمع، فتح) مصدر۔ بمعنی چھوڑ دینا۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ تم ہم کو چھوڑو۔ نتبعکم : مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ صیغہ جمع متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر اتباع (افتعال) مصدر ۔ ہم تمہارے پیچھے چلیں۔ ہم تمہارے ساتھ چلیں۔ یریدون ان یبدلوا کلام اللّٰہ۔ یہ جملہ حال ہے المخلفون سے یہ چاہتے ہوئے کہ وہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ ان مصدریہ ہے یبدلوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ جمع مذکر غائب یبدیل (تفعیل) مصدر کہ وہ بدل ڈالیں کہ وہ بدل دیں فائدہ : جہنیہ، مزنیہ اور دیگر قبائل دیہاتی جو مدینہ شریف کے مضافات میں آباد تھے اور جنہوں نے سفر حدیبیہ میں مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا تھا گزشتہ آیت میں اصل وجہ اس کی بتادی گئی ہے (آیت 2) اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایک اور ہونے والے واقعہ سے اپنے رسول مکرم کو مطلع فرما رہے ہیں۔ اے حبیب ! عنقریب جب تم ایک دوسرے سفر جہاد پر روانہ ہونے لگو گے جہاں کامیابی کے امکانات بالکل روشن ہیں خطرات کم اور مال غنیمت کے حصول کی توقع بہت زیادہ ہے یہ موقع پرست لوگ اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہونگے اور اپنے ایمانی جوش اور جذبہ جہاد کا روز و شور سے کریں گے اور اس جہاد میں شمولیت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں گے ان کا مقصد تلفی مافات نہیں ہوگا بلکہ محض اموال غنیمت کے حصول کے لئے اپنے جذبات جاں نثاری کا مظاہرہ کریں گے ۔ چناچہ حکم ہوتا ہے قل لمن تتبعونا ۔۔ از ضیاء القرآن) اللہ کے فرمان سے مراد یہ فرمان ہے کہ خیبر کی مہم پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف انہیں لوگوں کو اجازت دی جائے گی جو حدیبیہ کی مہم پر آپ کے ساتھ گئے تھے اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے خیبر کے اموال کی غنیمت انہی کے لئے مخصوص فرما دئیے تھے جیسا کہ اگلی آیت 18 میں بصراحت ارشاد ہے (تفہیم القرآن) قل : ای قل یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لن تتبعونا : مضارع نفی بتاکید لن صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ضمیر مفعول جمع متکلم ای لا تتبعونا فانہ نفی فی معنی النہی للمبالغۃ مبالغہ کے لئے نفی کو نہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے یعنی تم ہمارے ساتھ نہیں جاؤگے ، یا نہیں جاسکتے۔ کذلکم : کاف تشبیہ کا ذا اسم اشارہ ۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ خطاب کے لئے ہے۔ یہ ۔ یہی۔ جملہ کا مطلب ہے : یوں ہی اللہ تعالیٰ نے پہلے سے فرما دیا ہے۔ من قبل : قبل ظرف زمان بھی ہے اور ظرف مکان بھی لیکن یہاں تقدم زبانی کے لئے ہی قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔ یہ بعد کی ضد ہے اضافت اس کو لازمی ہے جب بغیر اجافت کے آئے گا تو ضمہ پر مبنی ہوگا۔ جیسے من بعد من قبل۔ جب مضاف الیہ موجود ہو تو پھر کسرہ کے ساتھ آسکتا ہے مثلاً وما ارسلنا من قبلک من رسول ۔۔ (21:25) فائدہ : کذلک قال اللّٰہ من قبل : کی تشریح میں علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ ” یعنی جیسا میں نے تم سے کہا ہے کہ تم لوگ ہمارے ساتھ نہیں جاؤ گے ایسا ہی وحی غیر متلو (یعنی الہام نبوت) کے ذریعے اللہ نے پہلے ہی فرما دیا ہے کہ خیبر کا مال غنیمت صرف شرکاء حدیبیہ کے لئے ہے دوسروں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے “۔ مولانا مودودی فرماتے ہیں :۔ ” ہر شخص کوئی بات صاف نظر آرہی تھی کہ قریش سے صلح ہوجانے کے بعد اب ضیبر کے ہی نہیں بلکہ تیما اور فدک اور وادی القریٰ اور شمالی حجاز کے دوسرے یہودی بھی مسلمانوں کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے اور یہ ساری بستیاں پکے پھل کی طرح اسلامی حکومت کی گود میں آگریں گی اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان آیات میں پیشگی مطلع فرما دیا کہ اطراف مدینہ کے یہ موقع پرست لوگ ان آسان فتوحات کو دیکھ کر ان میں حصہ بٹا لینے آکھڑے ہوں گے مگر تم ان کو صاف جواب دیدینا کہ تمہیں ان میں حصہ لینے کا موقعہ ہرگز نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ یہ ان لوگوں کا حق ہے جو خطرات کے مقابلے میں سرفروشی کے لئے آگے بڑھے تھے “۔ (تفہیم القرآن) ۔ فسیقولون بل تحسدوننا : ف تعقیب کا ہے س مستقبل قریب کے لئے۔ پھر وہ کہیں گے۔ بل تحسدوننا بل حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے یعنی بات یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ساتھ لیجانے سے منع کر رکھا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو۔ بل۔ حرف اضراب، یہ مخلفین کے قول بل تحسدوننا سے اعراض ہے مطلب یہ کہ ان کا یہ کہنا کہ مسلمان ہم سے حسد کرتے ہیں درست نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ (مخلفین) لوگ اصل بات کو سمجھتے ہی کم ہیں۔ کانوا لا یفقھون ماضی استمراری کا صیغہ ہے لیکن یہاں حال کے معنی میں مستعمل ہے لایفقھون مضارع منفی جمع مذکر غائب فقہ (باب سمع) مصدر سے۔ الفقہ کے معنی علم حاضر سے علم غائب تک پہنچنے کے ہیں۔ اور یہ علم سے اخص ہے۔ علم فقہ حکام شریعت کے جاننے کا نام ہے۔ بل کانوا لا یفقھون۔ یعنی بات یہ نہیں جو اعراب کہتے ہیں (بل تحسدوننا) کہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے کیا مفید ہے اور کیا ضرر رسان ؟ (تفسیر مظہری) الاقلیلا۔ مگر تھوڑی سی سمجھ، یعنی دنیوی امور کی۔ مستثنیٰ منہ فقہ ہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 جب آنحضرت اور صحابہ کرام حدیبیہ سے واپس آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ خیبر فتح ہوگا اور اس کا مال غنیمت صرف ان لوگوں کو ملے گا جو صلح حدیبیہ میں آنحضرت کے ساتھ گئے تھے چناچہ جب مسلمانوں نے خیبر کا رخ کیا تو یہ گنوار منافق بھی آپہنچے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ 10 اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی یہ بات ہے کہ خیبر کے سفر میں صرف ان لوگوں کو ساتھ لیا جائے جو حدیبیہ گئیت ہے اور بیعت رضوان میں ش ریک ہوئیت ہے یا آیت فاستاذنوا اللخروج نقل لن تخرجوا معنی ابدا ولن تقابلو معنی عدوا (توبہ 83) کی طرف اشارہ ہے مگر علمائے تفسیر نے پہلی تاویل کو زیادہ پسند فرمایا ہے۔ (قرطبی) 11 یعنی حسد کرتے ہو یکہ غنیمت کے اموال میں ہمارا حصہ کیوں ہو۔ 12 جو مخلص مسملانوں کو حسد کا طعنہ دیتے ہیں۔ حالانکہ جانتے ہیں کہ انہیں ہرگز دنیا کی طمع نہیں ہے اور یہ کہ خیبر کی طرف انہیں ان کا جذبہ جہاد لے جا رہا ہے نہ کہ محض مال غنیمت کا حصول

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (15 تا 17 ) ۔ انطلقتم (تم چلے) ۔ مغانم (مال غنیمت ) ۔ ذروا (چھوڑدو) ۔ تحسدون (تم حسد کرتے ہو) ۔ لا یفقھون (وہ نہیں سمجھتے ہیں) ۔ ستدعون (تم بہت جلد بلائے جائو گے ) ۔ اولی (والے) ۔ باس شدید (سخت لڑائی۔ بڑی جنگ) ۔ تقاتلون (تم جنگ کرو گے) ۔ یسلمون (وہ اسلام لاتے ہیں) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے ۔ تم نے منہ پھیرا) ۔ الاعمی (اندھا ) ۔ حرج (گناہ۔ تنگی ) ۔ الاعرج (لنگڑا ) ۔ تشریح : آیت نمبر (15 تا 17) ۔ ” صلح حدیبیہ کے بعد جب اہل ایمان جنوب کی طرف سے مطمئن اور صلح کی شرائط کے مطابق کفار قریش کے حملے سے محفوظ ہوگئے تو آپ نے خیبر کے اس علاقے کی طرف توجہفرمائی جو یہودی سازشوں کا مرکز بن چکا تھا اور ان سے اہل ایمان کو شدید خطرات تھے۔ یہ خیبر کے یہودی تھے جنہوں نے کفار قریش کو مدینہ منورہ پر حملہ کے لئے اکسایا تھا اور ان کی ہر طرح مدد کی تھہ۔ صلح حدیبیہ کے بعد زی الحجہ میں آپ تمام صحابہ کرام کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آگئے۔ ابھی کچھ زیادہ دن نہ گذرے تھے کہ آپ نے یہودی سازشوں کے مرکز خیبر پر حملہ کا منصوبہ بنا لیا اور محرم میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تمام صحابہ کے ساتھ جو بیعت رضوان اور صلح حدیبیہ میں شریک تھے ان کو ساتھ لیا اور اللہ کے حکم سے پیش قدمی شروع کردی اور بہت تھوڑے عرصے میں خیبر، فدک اور تیما کے علاقے فتح کرلئے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر جانے کا ارادہ کیا تو وہ لوگ جو عمرہ کے لئے ساتھ نہیں گئے تھے وہ سب کے سب دیہاتی کچھ شرمندگی کی وجہ سے اور کچھ مال غنیمت کے لالچ میں غزوہ خیبر میں ساتھ جانا چاہتے تھے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس غزوہ میں صرف ان ہی صحابہ کرام کو چلنے کی اجازت دی جو صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان کے وقت موجود تھے۔ جب ان دیہاتیوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے مسلمانوں سے کہنا شروع کیا کہ تم ہمیں اس لئے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے کہ تم ہم سے جلتے ہو اور تمہیں اندیشہ ہے کہ ہم مال غنیمت میں سے کچھ لے لیں گے تو تمہارے حصے میں کمی آجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب اہل ایمان مال غنیمت کے لئے نہیں بلکہ اللہ و رسول کی فرماں برداری میں جارہے ہیإ۔ اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے لڑیں گے اور مال غنیمت کے بھی مستحق ہوں گے۔ دراصل یہ دیہاتی اللہ کے فیصلے کو بدلنا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کے فیصلے بدلے نہیں جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ اگر انہیں جنگ میں حصہ لینے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ ذرا صبر سے کام لیں۔ کیونکہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب ان کو زبردست اور سخت قوم سے جنگ کے لئے بلایا جائے گا۔ ان سے جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ دین اسلام کے سامنے اپنے ہتھیار نہ ڈال دیں۔ وہی ان کے امتحان کا وقت ہوگا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس شدید جنگ سے مراد قیصرو کسری جو دنیا کی عظیم سلطنتیں تھیں اور سادی دنیا پر ان کا قبضہ تھا ان سے جنگ کئے جانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ قیصر و کسری کی طاقتوں سے ٹکرانے اور جنگ کرنے کا واقعہ حضرت عمر فاروق (رض) کے دور میں پیش آیا اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب دنیا کی ساری طاقت ور قومیں اور سلطنتیں ان کے قدموں کے نیچے ہوں گی۔ چناچہ خلفاء راشدین کے دور میں تقریباً ساتی دنیا پر صرف اسلام ہی کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی واضح کر کے بتادیا کہ جن لوگوں کو واقعی عذر تھا ان کے لئے معافی ہے جیسے نابینا، لنگڑا، مریض اور بیمار وغیرہ۔ فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں ان کے لئے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور جو منہ پھیرے گا اس کے لئے دردناک عذاب تیار ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو جو کہ اس واقعہ کے متعلق ہوا ہے کہ بجز اہل حدیبیہ کے خیبر اور کوئی نہ جائے، بالخصوص متخلفین بدل ڈالیں، یعنی مسلمانوں سے اس کی درخواست کرنا گویا یہ درخواست ہے کہ مسلمان خدا کے حکم کے خلاف کریں جو ان کے لئے شرعا ممتنع ہے اور باین معنی تبدیل کا فاعل مسلمان ہوں گے، لیکن چونکہ وہ لوگ بوجہ اس درخواست کے اس تبدیل کا سبب ہیں۔ لہذا ان کی طرف اس کی نسبت کی گئی، اور تبدیلی بالمعنی المذکور کے وقوع سے افعال وصفات الہیہ میں کوئی نقص نہیں آتا کیونکہ وہ حکم تشریعی تھا لیکن مومنین کا آثم ہونا لازم آتا ہے۔ حاصل مطلب یہ ہوا کہ وہ اس کی درخواست کرتے ہیں کہ تم گناہ کے مرتکب ہو۔ 5۔ پہلے سے اس لئے کہا کہ حدیبیہ سے واپسی پر یہ حکم ہوگیا تھا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منافق اور بہانہ ساز لوگ مشکل وقت میں پیچھے رہتے ہیں اور مفاد کے وقت آگے آگے ہوتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور کے منافقین کا یہی کردار تھا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ اسی سورت کی آیت ١٠ کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ دنیا میں اجر عظیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجاہدین کو فتح سے سرفراز فرمائے گا اور مال غنیمت سے ہمکنار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے مقام پر بیعت کرنے والوں کو مال غنیمت کی خوشخبری دینے کے ساتھ اس موقعہ پر پیچھے رہنے والوں کا کردار بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے چلو گے تو جو لوگ اس سے پیچھے رہ گئے ہیں وہ کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت عنایت فرمائیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کے فرمان کو تبدیل کردیں جو ہرگز تبدیل نہیں ہوگا۔ لہٰذا ان سے فرما دیں کہ تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں جاسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہلے ہی تمہیں اپنے ساتھ لے جانے سے منع کردیا ہے۔ اس پر یا وہ گوئی کریں گے کہ تم تو ہمارے ساتھ حسد کرتے ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ بہت کم حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے دیہاتیوں کو یہ بھی فرما دیں کہ عنقریب تمہیں اپنی قوم سے جہاد کرنے کے لیے بلایا جائے گا جو بڑی جنگجو قوم ہے۔ تم ان کے ساتھ شدید جنگ کرو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے۔ اگر تم اس جنگ میں شریک ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین اجر دے گا۔ اگر تم پہلے کی طرح منہ پھیر جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔ جن غنائم کی اس موقعہ پر مسلمانوں کو خوشخبری دی گئی ہے ان کے بارے میں تمام مفسرین کا خیال ہے کہ یہ خیبر کے غنائم ہیں۔ خیبر کا معرکہ صلح حدیبیہ کے ٹھیک تین ماہ بعد پیش آیا۔ یہاں یہودیوں کے بڑے بڑے نو قلعے تھے۔ یہاں وہ یہودی بھی آباد تھے جنہیں بار بار بدعہدی کرنے اور گھناؤنی سازشوں کی وجہ سے مدینہ سے نکال دیا گیا تھا یہ لوگ خیبر میں رہائش پذیر ہوکراسلامی ریاست کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کرتے رہتے تھے۔ صلح حدیبیہ کے بعد اہل مکہ اور اس کے گردو پیش کے قبائل سے قدرے اطمینان حاصل ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ضروری سمجھا کہ خیبر کے یہودیوں کی سرکوبی کی جائے۔ آپ نے چند مسلمانوں کو چھوڑ کر انہی لوگوں کو شریک سفر کیا جنہوں نے صلح حدیبیہ کے وقت آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ میں بیعت کرنے والوں کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے تو مدینہ اور اس کے ارد گرد رہنے والے منافق اور کچھ دوسرے لوگوں نے آپ سے درخواست کی کہ ہمیں بھی اس سفر میں شریک کیا جائے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ جب اہل مکہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں تو یہودی کس طرح مسلمانوں کا مقابلہ کرسکیں گے اس لیے خیبر کی فتح یقینی ہے۔ اس یقین کی بنا پر صلح حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے باربار التجا کرتے رہے کہ ہمیں بھی اس جنگ میں شریک کیا جائے لیکن آپ نے انہیں اجازت نہ دی۔ آپ نے اس تیز رفتاری کے ساتھ خیبر کی طرف پیش قدمی کی اور اس کا محاصرہ کیا کہ خیبر والوں کو آپ کی آمد کی خبر نہ ہوسکی۔ خیبر کے لوگ صبح کے وقت کھیتی باڑی کے لیے نکلے تو آپ کا لشکر دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ اس موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی اور ارشاد فرمایا۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَتَی خَیْبَرَ لَیْلاً وَکَانَ إِذَا أَتَی قَوْمًا بِلَیْلٍ لَمْ یُغِرْ بِہِمْ حَتَّی یُصْبِحَ فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتِ الْیَہُودُ بِمَسَاحِیہِمْ وَمَکَاتِلِہِمْ فَلَمَّا رَأَوْہُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّہِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَرِبَتْ خَیْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِین) (رواہ البخاری : باب غزوۃ خیبر) ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے وقت خیبر میں داخل ہوئے۔ آپ کا معمول تھا کہ جب بھی کسی قوم کی طرف رات کے وقت پیش قدمی کرتے تو صبح تک حملہ نہ کرتے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی اپنے اپنے بیلچے اور کلہاڑے لے کر نکلے۔ انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ اللہ کی قسم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکر سمیت آچکے ہیں۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خیبر والے تباہ و برباد ہوگئے۔ جب بھی ہم کسی قوم پر داخل ہوتے ہیں تو ڈرائے جانے والوں کی صبح بری ہوتی ہے۔ “ یہودی خوف زدہ ہو کر اپنے قلعوں میں بند ہوگئے۔ اور ان کے پاس بیس ہزار جنگجو فوج کا لشکر تھا لیکن مسلمانوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔ مسلمانوں نے قلعہ قموص کے سوا باقی قلعے یکے بعد دیگرے فتح کرلیے۔ قلعہ قموص کا نگران خیبرکا مشہور پہلوان اور جنگجو مرحب تھا جس کی کمان میں یہودیوں نے بیس دن تک اپنا دفاع کیا جس وجہ سے باربار مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا۔ قریب تھا کہ مسلمانوں میں مایوسی پیدا ہوجائے لیکن نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کا حوصلہ بلند رکھنے کے لیے اعلان فرمایا کہ کل صبح ایسے شخص کو پرچم دیا جائے گا جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کو پسند کرتا ہے۔ (رواہ مسلم : باب مِنْ فَضَاءِلِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ) بالآخر قلعہ قموص فتح ہوا اور یہودیوں کی زمین، باغات اور بہت سامال مسلمانوں کے ہاتھ آیا جسے مجاہدین اور حبشہ کے مہاجرین میں تقسیم کیا گیا۔ جنگجو قوم کے ساتھ مقابلہ : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے : (قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ فَاِِنْ تُطِیعُوْا یُؤْتِکُمُ اللّٰہُ اَجْرًا حَسَنًا وَّاِِنْ تَتَوَلَّوْا کَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا) (الفتح : ١٦) ” ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں تم کو ان سے جنگ کرنا ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم پھر اسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا۔ “ مفسرین نے جنگجو قوم سے مراد ہوازن قبیلہ کے لوگ لیے ہیں۔ ان کے ساتھ جو معرکہ ہوا وہ غزوہ حنین کے نام سے مشہور ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ الصَّاءِمِ الْقَاءِمِ الْقَانِتِ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَا یَفْتُرُ مِنْ صِیَامٍ وَّلَا صَلٰوۃٍ حَتّٰی یَرْجِعَ الْمُجَاہِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب فضل الشہادۃ فی سبیل اللّٰہ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا اس شخص کی طرح ہے، جو مسلسل روزے رکھتا ہے اور اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا اور قیام کرتا ہے۔ نفلی روزے اور نماز میں کوتاہی نہیں کرتا۔ حتی کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا مجاہد واپس لوٹ آئے۔ “ مسائل ١۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بہترین اجرعطا فرمائے گا۔ ٢۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ پھیرلیا اللہ تعالیٰ اسے اذّیت ناک سزا دے گا۔ ٣۔ منافق غنیمت حاصل کرنے کے لیے جہاد میں شریک ہوتے ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ تفسیر بالقرآن جو لگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے انہیں بہترین اجر دیا جائے گا : ١۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ایمان کی نشانی ہے۔ (الانفال : ١) ٢۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت باعث رحمت ہے۔ (التوبہ : ٧١) ٣۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ (النور : ٥٢) ٤۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والے کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ (النساء : ١٣) ٥۔ اطاعت رسول سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ( آل عمران : ٣١) ٦۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ہدایت کا منبع ہے۔ (النور : ٥٤) ٧۔ جنت میں داخلے کا معیار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ہے۔ ( الفتح : ١٧) ٨۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی رسول اللہ کی اطاعت میں ہے۔ (آل عمران : ١٣٢) ٩۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے انبیاء، صلحاء شہداء، اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ (النساء : ٦٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سیقول المخلفون ۔۔۔۔۔۔ یفقھون الا قلیلا (٤٨ : ١٥) “ جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لئے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔ ان سے صاف کہہ دینا کہ “ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے ”۔ یہ کہیں گے کہ “ نہیں ، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو ”۔ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں ”۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد فتح خیبر ہے۔ ممکن ہے فتح خیبر ہی ہو۔ اگر مراد خیبر نہ بھی ہو لیکن مراد یہی ہے کہ عنقریب مسلمان کسی مہم پر جائیں گے اور یہ لوگ کہیں گے کہ ہمیں بھی جانے دو ۔ مفسرین نے خیبر کا نام اس لئے لیا ہے کہ خیبر کا واقعہ صلح حدیبیہ کے متصلا بعد میں ہوا۔ کیونکہ فتح خیبر محرم ٧ ہجری میں ہوا۔ یعنی صلح حدیبیہ کے دو ماہ بعد۔ اور اس میں اموال غنیمت بھی بہت ملے تھے اور خیبر کے قلعے جزیرۃ العرب میں سے خارج کردیا گیا تھا۔ مفسرین نے یہ بات تواتر سے کہی ہے کہ حدیبیہ کی مہم پر جانے والوں کے ساتھ اللہ کا عہد تھا کہ خیبر کے اموال غنیمت میں ان کے ساتھ کوئی شریک نہ ہوگا۔ لیکن اس بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہے۔ شاید وہ عملی واقعات سے یہ اصول اخذ کررہے ہیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اہل حدیبیہ کے لئے مخصوص کردیا تھا۔ اور اس مہم میں آپ نے کسی اور کو ساتھ نہ لیا تھا۔ بہرحال اللہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہہ دیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیچھے رہنے والے اعراب کی اس پیشکش کو رد کردیں جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قریب کے آسان اموال غنیمت کے لئے جانا چاہیں۔ اور یہ فیصلہ دے دیا کہ ان کا نکلنا اللہ کے حکم کے خلاف ہے اور پیشگی اطلاع دے دی کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی پیشکش کو رد کریں گے تو وہ الزام لگائیں گے کہ تم ہمارے ساتھ حسد کرتے ہو۔ بل تحسدوننا “ بلکہ تم حسد کرتے ہو ”۔ تم اس مہم میں اس لیے نہیں لے جاتے کہ تم ہمیں اموال غنیمت نہیں دینا چاہتے۔ ساتھ ہی پھر فوراً یہ کہہ دیا کہ یہ لوگ اللہ کی حکمت کو نہیں جانتے ، یہ کم فہم ہیں ۔ اللہ کی حکمت یہ ہے کہ پیچھے رہنے والوں کو ذرا محرومیت سے دوچار کیا جائے اور مطیع فرمان بندوں کو ذرا انعامات دئیے جائیں تا کہ ان کی اطاعت شعاری کا انعام انہیں ملے۔ کیونکہ انہوں نے ایسے حالات میں اطاعت کی جب سامنے موت ہی موت نظر آرہی تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے کہتا ہے کہ ان پیچھے رہ جانے والوں سے کہہ دیں کہ تمہارے لئے ایک اور امتحان کا مقام ابھی باقی ہے۔ عنقریب ایک مہم ایک زبردست قوم کے خلاف بھیجی جائے گی اور تمہیں اس میں بلایا جائے گا۔ اور یہ لوگ اسلام کی وجہ سے تمہارے ساتھ لڑیں گے۔ اگر اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تو تمہارے لیے بھی اجر ہوگا۔ اگر اس آخری امتحان میں بھی تم معصیت پر جمے رہے تو پھر تم ہمیشہ کے لئے عذاب الیم کے مستحق ہوجاؤ گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جو لوگ حدیبیہ والے سفر میں ساتھ نہ گئے تھے ان کی مزید بدحالی کا بیان ! صلح حدیبیہ کے بعد تھوڑی ہی سی مدت کے بعد خیبر فتح ہوگیا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ عنقریب شرکاء حدیبیہ کو اموال غنیمت ملیں گے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے اموال غنیمت شرکاء حدیبیہ کے لیے مخصوص فرما دئیے تھے تاکہ اموال کی محرومی کی تلافی ہوجائے جو انہیں اہل مکہ سے جنگ کرکے بطور غنیمت حاصل ہوسکتے تھے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے پہلے سے خبر دی کہ جب تم لوگ مغانم خیبر کے لیے چلو گے یعنی جنگ خیبر کے لیے روانہ ہونے لگو گے جس کا نتیجہ فتح اور اموال غنیمت حاصل ہونے کی صورت میں کچھ قتال ظاہر ہوگا تو یہ لوگ جو صلح حدیبیہ کی شرکت سے قصداً رہ گئے تھے یوں کہیں گے کہ ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں گے کچھ قتال میں حصہ لے لیں گے اور اموال غنیمت میں بھی شریک ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے فرما دیں تم ہرگز ہمارے ساتھ نہ جاؤ گے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ حکم فرما دیا ہے درمیان میں یہ بھی فرمایا ﴿ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ ﴾ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے کہ متخلفین کو ساتھ نہ لیں اس کو بدلنا چاہتے ہیں اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ مغانم خیبر جو صرف اہل حدیبیہ کے لیے مخصوص کردئیے گئے تھے اس حکم کو بدلنا چاہتے ہیں۔ چونکہ ان لوگوں کا مقصد مال حاصل کرنا تھا اور یہ سمجھ رہے تھے کہ ذرا سی محنت سے اموال غنیمت حاصل ہوجائیں گے اس لیے سفر خیبر میں ساتھ لگنے کی خواہش ظاہر کر رہے تھے۔ ﴿ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا ﴾ یہ خبر بمعنی النھی ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم لوگ سفر خیبر میں ہرگز ہمارے ساتھ نہ جاؤ گے یعنی ہم تمہیں ساتھ نہ لیں گے۔ ( ) پھر فرمایا ﴿ فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا ﴾ کہ جب تم ان سے یوں کہو گے کہ تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے تو یوں کہیں گے کہ اللہ کی طرف سے کوئی حکم نہیں ہے بلکہ تم یہ نہیں چاہتے کہ ہمیں اموال غنیمت میں شریک کرو تمہارا یہ جذبہ اور قول و فعل حسد پر مبنی ہے تم ہم سے حسد کرتے ہو اسی لیے یہ بات کر رہے ہو۔ ﴿بَلْ كَانُوْا لَا يَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا ٠٠١٥﴾ (اے مسلمانوں بات یہ نہیں ہے کہ تم حسد کر رہے ہو بلکہ بات یہ ہے کہ وہ بس تھوڑی سی سمجھ رکھتے ہیں صرف دنیاوی امور کو سمجھتے ہیں نصرت دین اور فکر آخرت سے ان کے قلوب خالی ہیں۔ ) یہاں یہ جو اشکال پید ہوتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے اموال غنیمت میں سے بعض مہاجرین حبشہ کو بھی اموال عطاء فرمائے تھے پھر اہل حدیبیہ کے استحقاق اور اختصاص کہاں رہا ؟ حضرات مفسرین کرام نے اس کے دو جواب دئیے ہیں اول یہ کہ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں خمس یعنی ٥؍١ میں سے دیا تھا جس میں مجاہدین غانمین کا حق نہیں ہوتا وہ ٥/٤ کے مستحق ہوتے ہیں اور دوسرا جواب یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غانمین سے اجازت لے کر ان حضرات کو اپنی صوابدید کے مطابق کچھ مال عطاء فرما دیا۔ (راجع معالم التنزیل ١٩٢ ج ٤ و روح المعانی ص ١٠١ ج ٢٦)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ ” سیقول المخلفون “ یہ بھی منافقین کے لیے زجر ہے۔ ” مغانم “ سے غنائم خیبر مراد ہیں جن کا اللہ تعالیٰ بیعۃ الرضوان میں شریک ہونے والوں سے وعدہ فرمایا تھا جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ ” واثابہم فتحا قریبا ومغانم کثیرۃ یاخذونہا “ اور کلام اللہ سے یہی وعدہ الٰہی مراد ہے۔ معناہ ان یغیروا وعدہ لاھل الحدیبیۃ بغنیمۃ خیبر وذلک انہ وعدہم ان یعوضہم من مغانم مکۃ خیبر اذا قفلوا مراد عین لا یصیبون منہا شیئا۔ قالہ مجاھد وقتادۃ وعلیہ علمۃ اھل التاویل (بحر ج 8 ص 93) ۔ یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی غیر متلو کے ذریعے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی ہو کہ غنائم خیبر خالصۃً اہل حدیبیہ کے لیے ہیں اور مخلفین کا ان میں کوئی حصہ نہیں۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یعنی جب آپ غزوہ خیبر کے لیے روانہ ہوں گے تو منافقین اہل خیبر کی کمزوری کے پیش نظر آپ کے ساتھ اس غزوے میں شریک ہونے کی درخوست کریں گے کہ حضرت ! ہمیں بھی اس مہم میں اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت مرحمت فرمائیے اصل میں یہ درخواست اخلاص پر مبنی نہیں ہوگی بلکہ اس سے ان کا مقصد محنت و مشقت کے بغیر مال غنیمت حاصل کرنا ہوگا وہ اللہ کے اس فیصلے کو بدلنا چاہتے ہیں کہ غنائم خیبر صرف اہل حدیبیہ کے لیے ہیں۔ جب وہ درخواست کریں، تو آپ ان سے فرما دیں کہ تم اس غزوے میں ہمارے ساتھ ہرگز نہیں جاسکو گے یعنی تمہیں ہمارے ساتھ جانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائیگی کیونکہ الہ تعالیٰ ہماری حدیبیہ سے واپسی سے پہلے ہی یہ فیصلہ فرما چکا ہے کہ غنائم خیبر اہل حدیبیہ کے ساتھ مختص ہیں۔ ای من قبل رجوعنا من الحدیبیۃ ان غنیمۃ خیبر لمن شہد الحدیبیۃ خاصۃ (قرطبی ج 16 ص 271) ۔ ” فسیقولون الخ “ جب آپ ان کو ساتھ جانے کی اجازت نہیں دیں گے تو وہ ازراہ جہالت تم پر حسد کا طعن دھریں گے کہ اصل میں تم ہمارا حسد کرتے ہو کہ مبادا یہ لوگ مال غنیمت میں ہمارے ساتھ حصہ دار بن جائیں۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ منافقین محض جہل و نادانی کی وجہ سے تمہیں حسد کا طعن دیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں شریک نہ کرنے کا خود ہی فیصلہ فرما چکا ہے۔ مگر یہ کم فہم اسے سمجھتے نہیں۔ سوائے دنیوی حرص و لالچ کے انہیں سوجھتا ہی کچھ نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(15) یہی لوگ جو حدیبیہ میں پیچھے رہ گئے تھے عنقریب تم سے جب تم خیبر کی غنیمتیں حاصل کرتے چلو گے تو کہیں گے ہم کو چھوڑ یعنی ہم کو اجازت دو ہم بھی تمہارے ہمراہ چلیں یہ لوگ چاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اس کا کہا بدل دیں آپ کہہ دیجئے تم اس سفر میں ہرگز ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے اسی طرح فرمادیا ہے اس پر یہ لوگ کہیں گے یہ بات نہیں بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو اور تم ہمارے بھلے سے جلتے ہو بلکہ یہ لوگ بات کو نہیں سمجھتے مگر بہت کم۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب مکہ سے پھرے وہاں سے حکم ہوا کہ خیبر پر چلو اور ان لوگوں کے سوا کوئی ساتھ نہ چلے۔ مدینے میں تین دن رہ کر ارادہ کیا جو لوگ پہلے سفر میں ڈر کر رہ گئے تھے اس سفر میں لالچ کو ت یار ہوئے ان کو اللہ نے منع سنادیا۔ خیبر میں جو یہوذد تھے وہ جنگ احزاب میں قوموں کو چڑھا لائے تھے۔ یعنی جب خیبر کو فتح کرنے جائو گے خیبر کی فتح کو غنائم سے تعبیر کیا چونکہ فتح اور غنائم یقینی تھے یہ خیبر کے یہودوہی ہیں جن کا ذکر سورة احزاب میں ہوچکا ہے۔ یہ بڑے شریر تھے انہوں نے عرب کی تمام قوموں کو ابھار کر مدینے پر حملہ کیا تھا اب ان سے انتقام کا وقت آگیا۔ چنانچہ آپ ذی الحجہ 6 ھ میں حدیبیہ سے واپس تشریف لائے اور محرم 7 ھ میں خیبر کی جانب متوجہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے خیبر فتح ہوگیا چونکہ حکم یہ تھا کہ خیبر کی لڑائی میں متخلفین میں سے کوئی شریک نہ ہو لہٰذا اسی کا ان آیتوں میں اظہار ہے۔ یعنی جب تم چلو گے تو یہ دیہاتی بھی اس کی خواہش کریں گے یہ اللہ تعالیٰ کی بات کو بدلنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کا حکم ہے کہ اور کوئی ہمراہ نہ جائے اور وہ پہلے ہی سے یہ حکم دے چکا ہے اور چونکہ یہ حکم تابیدی نہ تھا اس لئے ہم نے اس سفر میں قید بڑھا دی ہے کہ یہ حکم صرف خیبر کے لئے تھا آگے کیا ہو وہ ان کے حسب حال ہوگا۔ جیسا کہ سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ متخلفین میں سے بعض قبائل آئندہ لڑائیوں میں شریک ہوئے اور یہ جو فرمایا کہ بہت کم سمجھتے ہیں اس لئے کہ وحی کی بات کو مسلمانوں کے حسب پر محمول کرتے ہیں ہیو قوفی سے اگر سمجھدار ہوتے تو وحی کی بات کا انکار نہ کرتے۔